Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Najamg

Darmat Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Najamg

  1. میرئ پوسٹ کیوں نہی ھو رہی۔
  2. جینی نے بہت ھی ذور کی سیُ۔۔۔۔ کی اور میرے لن کے اوپر پورا ھی لیٹ گی۔ کچھ دیر انتظار کر کے اپنے اپ کو ریلکس کیا اس کے بعد لن پر پھدی سے حملہ کر دیا ۔ جب جینی کو درد کا کوئی احساس نا رھا تو پھر تو جینی جنگلی بلی کی طرح پاگل ھو گی۔ اتنا ذور ذور سے اچھلنے لگی کے ۔ موموں کا ھلن اور ھی مزہ دے رھا تھا۔ کافی وقت جینی اپنی کنورای پھدی کی پیاس کو ٹھنڈا کرتی رھی۔ جب جینی کی پھدی نے اپنی پیاس کو بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اپنا سب سے پہلی چودائ کا پانی جو نکالا وہ میرے لن نے ہی نکالا ۔ جینی کے ساتھ ہی میں بہی ۔ او سوری کہنا تھا میرا لن بھی جینی کی پھدی کے ساتھ ہی فارغ ھو گیا۔ جب میں پھدی کے اندر سے لن نکالا تو اس پر میری اور جینی کی منی لگی ھوی تھی ۔ پھدی مرنے کے بعد مجھ کب سو گے کچھ یاد ہی نہی رھا۔ رات کو میری انکھ کھولی تو جینی بھی سو رھی تھی۔ بس جینی کا دیکھ کر میرا لن تو پھر سے کھڑا ھو گیا۔ جینی سوتی ھوئ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ میں نے جینی کے موموں کو پھر سے منہ میں لے لیے۔ کچھ وقت میں ھی جینی بھی اٹھ گی۔ لکن اس نے مجھ کو منا نہی کیا۔ اور کرتی بھی تو میں نے کون سا چھوڑنا تھا ۔ بس لن نے پھدی دیکھی ہی تھی کہ پاگل کر دیا مجھ کو اس بار میں نے اوپر جا کر جینی کی لگس کو کھولا اور لن کو اندر کر دیا۔
  3. شکریا سرکار
  4. اس کے بعد بھی جینی سے کافی بار ملنے کا موقع ملا نہیں ملا تو بس پھدی نہی ملی تھی ابھی تک ایک دن کام سے آف تھی تو ھم دونوں نے مل کر سیر کا پروگرام بنایا۔ سمندر کے کنارے جانے کا پروگرام سیٹ ھوا۔ ھم دونوں مکررا وقت پر بس اڈاے پر پونچھے ۔ ادھر سے ھم دونوں کا سفر شروع ھوا۔ میں بھی اب وقت ہی پاس کر رہا تھا کیوں کہ پھدی تو جینی دے نہی رھا تھی۔ 2یا3 گھنٹے لگے ۔ ھم اپنی منزل پر پونچھ گے۔ ھوٹل میں روم اوکے کرویا اور گھو منے چلے گے ۔ سارا دن ھم مختلف جگہ پر گھو متے رھے اور رات کا کھانے کھا کر روم میں واپس آ گے۔ میرا تو کوئی پلان نہی تھا بس ادھر بھی پہلے کی طرح صرف اوپر اوپر سے کرنا ھو اور اپنا پانی نکال کر سو جاوں گا صرف یہ سوچا تھا۔ پر آج تو قسمت میں کچھ اور ہی لکھ تھا۔ میں پہلے کی طرح صرف اوپر سے ہی کر رھا تھا جینی کو مکمل کپڑوں سے آزاد کیا اور میں بھی فل ننگا تھا۔ میں لن کو اپنے ھاتھ سے پکڑ کر جینی کی چھوٹے چھوٹے لپس والی پھدی پر آرام سے رگڑ رھا تھا ۔ اور جینی کے بوبس کو چوس رھا تھا۔ آج جینی نے مکمل ویکس کر کی آ تھی ۔ جینی کے جسم پر ایک بھی بال نہی تھی ۔ جس طرح شادی پر دلہن اپنی پھدی کے بال صاف کر کے تیاری کر کے آتی ھیں اس طرح جینی بھی تیاری کر کے آ تھی۔ جینی کے بوبس سے بڑی پیاری خوشبو آ رھی تھی۔ کوئ اچھی سے پرفیوم تھی ۔ اور خوشبو ایسی تھی کے دل کر رھا تھا کے جینی کو کھا جانوں۔ کافی وقت اس پیار بھرے کاموں میں گزرگیا۔ جینی کا جسم اس طرح گرم ھو گیا تھا جسے اس کو بہت تیز بخار ھو پر یہ بخار نہی تھا۔ یہ جسم کی وہ آگ تھی جو کبھی ختم نہی ھو سکتی۔ اس اگ کو جتنا بھی بجھو یہ اور بھڑتی ھے۔ اور آج اتنی اگ لگی ھو تھی کہ مجھ نھی لگتا تھا کے پھدی مرنے کے بغیر یہ بجھ پاے گی۔ جینی بھی کافی گرم تھی ۔ اور بار بار لن کو پھدی کے اوپر رگڑرھی تھی۔ لیکن پھدی کہ اندر نھی کر رہی تھی۔ اس طرح کرتے ھوے بہت وقت گزر گیا۔ اور اب جینی سے برداشت نہی ھو رھا تھا۔ جینی نے مجھ نیچھ آنے کا بولا۔ اور میرا اوپر آ گی جینی سے اب کچھ بھی نہیں ھو رھا تھا بس لن کے اوپر اپنی پھدی کو رگڑ رھی تھی۔ اچانک جینی نے لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور آدھ لن۔ پھدی کے اندر لیا۔ اور کافی ذور سے سہ۔۔؟ کیا۔ اور اور اس کے بعد اگلی اپڈیٹ میں۔ جاری ھے۔👋💋💋💋
  5. اچانک جینی نے اپنا ھاتھ پھدی پر رکھ دیا اور اندر کرنے سے روک دیا۔ میں نے وجہ جاننا ضرورع سمجھا اور بولا کیا ھوا جینی اندر کیوں نہی کرنے دیا۔ جینی۔ بولی یہ پھدی تمھاری ھی ھے ۔پر ابھی رک جاو۔ کوئ اچھا موقع انے دو پھر لے لینا ۔ ابھی اوپر اوپر سے کر لو پلیز میں ابھی اندر لینے کے لیے تیار نھی ھوں۔ جینی نے پیارسے بولا دل تو تھا کہ آج ھی اس کنواری پھدی کو کھول کر پھدا بنا دوں ۔ پر میری عادات ھے کہ عورت کو رازی کر کے لو ۔ ذیادہ مزہ اتا ھے۔ میں نے لن پھدی سے تھوڑا دور کر لیا لیکن جینی بھی گرم تھی۔ کہتی لن کو پھدی کے اوپر رگڑرو اندر نا کرنا۔ اور اپنے آپ ہی لن پکڑ کر پھدی کے لپس پر رکھ دیا۔ پھدی کے لپس اتنے چھوٹے تھا لن کی ٹوپی رگڑنے سے لال ھو گی تھی تھوڑا وقت اس طرح کرنے کے بعد میں نے لن کو دونوں موموں کے درمیان رکھ کر رگڑنا شروع کر دیا کیا کہ یہ کھیل بہت وقت سے چل رھا تھا اب میں فارغ ھونا چاہتا تھا اس لیے دونوں موموں کے سنڑ میں رگڑ کر فارغ کرنے کی کوشش کر رھا تھا۔ دو تین منٹ ایسے کرنے کہ بعد میری جان ہی نکل گی۔ مطلب میں فارغ ھو گیا۔ پھدی تو نھی ملی لیکن مزہ بہت آیا۔ اس کے بعد ھم دونوں نے شاور لیا ۔ شاور لیتے ھوے بھی بہت مستی کی اس کے بعد میں اپنے روم میں واپس آیا اور سو گیا۔
  6. جینی نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا ۔ کچھ وقت تک کافی ذور سے کس کرنے کے بعد جینی مجھ سے الگ ھوئ۔ اور میرے لیے پانی لے کر آئی پانی پیاکچھ وقت گزرنے کے بعد جینی کو پھر سے پکڑ لیا۔ اس بار میرا حملہ کافی جان دار تھا ۔ چند ہی منٹ میں ھم دونوں کپڑوں کی قید سے آزاد تھے۔ جینی بہت پیاری تھی۔ اور جسم بھی کافی سکسی تھا۔ ایک بھی نشان نہی تھا شیشہ کی طرح صاف جسم تھا جینی کے مامے بھی کمال کے تھے بلکل مناسب سے ۔ میں نے ایک مامہ پکڑا اور منہ میں لے لیا۔ پانچ سے دس منٹ تک میں صرف مامہ میرے منہ میں تھا اور کوئی بات یاد نہی تھی۔ اس کے بعد جینی میرے اوپر آئی اور میرے جسم پر کس کرنے لگی ایک ھاتھ سے لن کو پکڑ لیا اور دوسرے ھاتھ سے مجھ اتنی ذور سے پکڑ رکھا تھا کہ ۔ میں کدھر بھاگ نا جانوں۔ کافی وقت ھم ایسے ہی ایک دوسرے میں مزہ کرتے رھے۔ اس کے بعد میں اوپر آیا اور ٹانگوں کو اوپرکر کے لن پھدی کے اوپر رکھ کر اندر کرنے لگ ہی تھا کہ ۔ جاری ھے۔
  7. سوری جینی کا سایزٔ تھا۔ ۳۴-۲۷-۳۲ 34-27-32 فگر تھا جینی کا۔ اور قد بھی ٹھیک تھا۔ میں نے جینی کا کس کیا ۔ اس کا فرسٹ ٹامٔ تھا اور کس کرنے سے ہی اس بات کا پتا چلا رھا تھا۔ ۔کچھ وقت جینی کے ساتھ گزرا کس کی جسم پر ھاتھ لگایا۔ اس سے آگے جینی نے جانے نہی دیا ۔ اس کے روم میٹ کے آنے کا وقت ھو گیا تھا۔ اس لیے ھم دونوں باتیں کرنے لگے۔ جینی اپنے بار باتنے لگی۔ اس کا کام تھا کے ایف سی پروایڑ تھی۔ کچھ وقت گزرا ھو گا اس کی روم میٹ آ گی۔ اور ساتھ میں کھانا بھی لے کر آئی تھی۔ اس کی دوست بھی پیاری تھی ۔ لیکن جینی سے کم ہی تھی ۔ اس کے بعد میں اجاذات لے کر اپنے روم کی طرف واپس چل پڑا۔ جینی سے فرسٹ ملاقات اچھی رہی ۔ پھدی نھی ملی لیکن امید تو تھی کے جلد ہی جینی میرے نیچے ھو گی۔ پھر کچھ دن کچھ بھی نھی ھوا توبا سے بات ھوتی تھی ۔ مجھ کو بہت مس کرتی تھی میں بھی اس کو بہت مس کرتا تھا پردیس میں رہنا کون سا آسان ھے اپنا اپ کو مارنا پڑتا ھے کچھ دن بعد پھر سے جینی کے روم جانے کا پلان بنا ۔ آج جاتے ہی میں نے جینی کو پکڑ لیا۔ جینی کوبیڈ پر گرا کر اس کو کس کرنا شروع کر دیا۔
  8. لڑکی کا نام جینی تھا ۔ تھوڑا سا اس کا تعارف کر دو ۔ قد5:8 اور سلم اور سمارٹ تھی۔ میرا جینی کی طرف دوستی کر کی وجہ اس کی جسم کی بناوٹ اور قد تھا۔ کیوں کہ یہ میرا آڈیل تھا۔ میں پورے وقت پر اس کہ روم کے باہر کھڑا تھا۔ بیل دی اور اس کے دو یا تین منٹ تک کسی نہ گیٹ نہی کھولا۔ میں جانے کا سوج ہی رھا تھا کہ جینی نے دروازہ کھولا۔ سوری فار وایٹ آئ ایم گڈنگ شاور سوری فار وایٹ۔ اب میں ساری باتیں اردو میں لکھتا ھوں جینی مجھ روم میں لے گی۔ میرے لیے پانی لے کر آئ اور ہم دونوں ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ کیا کام کرتے ھو کسی ملک سے وغیرہ وغیرہ۔ کچھ وقت تک میں نے انتظار کیا۔ اس کے بعد جینی کا ھاتھ پکڑ لیا۔ جینی نے کچھ بھی نہی کہا بس ایک بات بولی ۔ میں نے آج تک کبھی سکس نہی کیا۔ میں کنواری ھوں جینی کی بات سن کر مجھ کچھ حیرنی ھوئ۔ لیکن میں نے کچھ ذیادہ شو نہی کروایا۔ بس اتنا بولا کوئی بات نہی کسی نا کسی دن تو سکس کرنا ہی ھیں نا جب دل ھو بتا دینا۔ جینی بولی میں تم سے پیار کرنے لگی ھوں اس لیے میراجسم سارا کا سارا تمھارا ھے جب دل ھو میرے ساتھ کر لینا۔ لیکن کچھ بھی ھو جاۓ میں شادی نہی کر سکتی ۔ میں نے بھی بولا ٹھیک ھے پھدی نا دو ابھی لیکن کچھ پیار تو کر دو۔ اس بات پر اس نے کہا ٹھیک ھے۔
  9. لڑکی سے ملنے کا پروگرام تو بن گیا لیکن میرا ایک دوست سے بات کر لی کے میں اس کام سے جا رہا ھوں کوئ مسلہ تو نہی ھو گا۔ فلپانی لڑکی کا سن کر وہ کچھ پریشان ھو گیا اور مجھ ادھر نا جانے کا بولا۔ وجہ بھی کوئی نہیں بتا رہا تھا۔ میرے کافی بار پوچھنے پر بولا ۔ تم کو ایک بات بولو گا لیکن تم نے اس بات پر یقین نہی کرنا ھے اس لیے تم بس ادھر نا جانا۔ میں نے بھی اب دل میں ارادہ کر لیا جو بھی ھو جاۓ ۔اب تو جانا ہی ھے۔ میرے دوست کا نام راشد تھا۔ راشد بولا۔ یار میں ادھر یہ باتیں کافی بار سن رکھا ھے کے فلپانی لڑکیاں انسانوں کا گوشت کھاتی ھیں۔ اس لیے تم کو جانے سے مانا کر رھا تھا راشد کی بات سن کر مجھ کچھ عجیب لگا لیکن میرا جانا کا ارادہ اور بھی پاکا ھو گیا۔ راشد کو میں نے گولی دی اور اس لڑکی سے ملنے اس کے روم میں چلا گیا۔ جاری ھے۔
  10. رات تو چلوجس طرح بھی گزری ۔ کیوں کہ مجھ انیلہ پربہت غصہ تھا۔ جلدی ہی مجھ اس بات کا اساس ھو گیا کہ عورت کو ھم سے بھاری ھے۔ میں کیا کیا سوج کر آیا تھا پر ادھر تو کچھ بھی ہاتھ نہی لگا۔ صبح میں اٹھ کر اپنے گھر چلا گیا۔ مجھ غصہ تھا اس کوئی بات نہی کی۔ کہانی کچھ شورٹ کرتا ھوں۔ کیوں کہ اس رات کہ بعد میری زندگی بدل گی۔ میں نے دل سے اب ارادہ . کر لیا تھا اب عورتوں سے دور ہی رہناھے اس میں کافی حد تک میں کامیاب بھی رھا۔ انیلہ کہ گھر میں پھر کبھی نہی گیا میرے غصہ کی وجہ سے ھاتھ آئ پھدی چلی گی۔ اس بات کے بعد دو تین سال تک کوئی پھدی نہی ملی توبا سے پیار جاری تھا لیکن صر ف پیار حوس نہی۔ میں نے میڑک تک ہی تعلیم حاصل کی اس کے بعد میں دوست کے ساتھ ملک سے باہر چلا گیا۔ ادھر بھی سیٹ ھونے میں کچھ وقت لگ گیا مسقط آنے کے دو سال بعد ایک بار ایک فلپانی لڑکی ملی۔ سٹور میں ملاقات ھوئ اور اس سے تھوڑی سے بات ھو گی۔ دوستی ھو گی اور ملنے کا وقت بھی سب منٹوں میں ھو گیا۔ میرا ارادہ تو کویئ نہی تھا لیکن وہ پیاری ہی بہت تھی اس لیے دل مچل گیا۔ اور میں اس سے ملنے اس کے روم میں چلا گیا۔ جاری ھے ۔ پلیز اپنی راۓ بھی دیا کرو۔
  11. غصہ کی وجہ سے سو بھی نہی پا رہا تھا ۔ لیکن ایک بار میں ہی سب ارمان مٹی میں ملا دیے۔ کچھ وقت ایسے ہی پڑا رھا۔ پھر میں اٹھ کر انیلہ کے پاس آ گیا۔ اس کے بعد میں نے انیلہ کو اٹھایا۔ اس سے بات کی کہ کیاوجہ ھے۔ مجھ اپنے پاس کیوں نہی آنے دیتی۔ مجھ وجہ بول دو ۔ اور کچھ بھی نہی چھاۓ۔ انیلہ بولی۔ دیکھو تم بہت اچھے لڑکے ھو اور تم مزہ بھی بہت دیتے ھو ۔ لیکن میری کچھ مجبوری ھے ۔ میں بھی تم کو بہت پسند کرتی ھوں۔ بس کچھ بات ایسی ھے۔ ابھی سو جاو۔ وقت انے پر سب کچھ ھو گا ابھی نہی۔ جاری ھے
  12. رات کو جب میں انیلہ کے گھر سونے کے لیے گیا۔ دل کر رھا تھا کہ آج کی رات کچھ ایسا کرنا ھے کہ انیلہ میری لن کی غلام بن جاۓ۔ لیکن یہ اتناایزی نہیں تھا۔ پھر بھی امید تو تھی۔ کچھ وقت تو صرف ھم دونوں کے درمیان باتوں کے علاوہ کچھ نہی ھوا۔ مجھ میں بھی اتنی ہمت نہی تھی۔ جب انیلہ نے لایٹا اوف کروا دی۔ اس کہ بعد مجھے کچھ امید تو تھی۔ لیکن آ ج بھی انیلہ کوئ لفٹ نہی کروا رہی تھی۔ کچھ وقت تو میں نے انتظار کیا۔ اس کہ بعد میں اٹھا اور انیلہ کہ پاس چلا گیا۔ انیلہ سونے کی تیاری کر رہی تھی۔ مجھ دیکھ کر بولی پلیز مجھ کچھ مت کہنا۔ میری کچھ مجبوری ھے اس لیے ۔ میں کچھ بھی کر نہی سکتی۔ مجھ آج غصہ تو آیا لیکن میں نے کوئ بات نہی کی اور میں اپنی چارپائ پر جا کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔اور آخر مجھ سوناہی پڑا۔
  13. جب تک آپ ساتھ والے کو نہیں سمجھو گے۔ سکس کا مزہ نہیں اتا۔ انیلہ سب کے سامنے بہت ہی اہتیات کرتی تھی انیلہ نے ایف۔اے کیا ھوا تھا۔ پھدی کے ساتھ ساتھ مجھ پڑھائی میں بھی کافی سہولت ھو گی۔ ایک بار کرنے کے بعد ایک ماہ تک مجھ اپنے قریب نہی آنے دیا۔ وجہ کوئی بھی نہیں تھی۔ بس انیلہ کی مرضی نہی تھی۔ ایک دن میں سبق یاد کر رہا تھا۔ انیلہ کاشوھر گھر آیا۔ کیوں کہ میں روز ہی آتا تھا اس لیے میراعلم تھا ان کہ میں گھر ٹیوشن کہ لیا آتا ھوں۔ مختصر یہ کہ ان کی کسی رشتہ دار کے ھاں فوتگی ھو گی تھی ۔ وہ ادھر جا رہے تھے۔ مجھ انیلہ نے اپنے شوھر کے سامنے بولا۔ بھائ۔ آپ آج کی رات ادھر رک جانے میرے شوھر کس دوسرے شہر جا رہے ھیں۔
  14. فارغ ھونے کے بعد کچھ وقت تو مجھ کو حوش ہی نا رہی میں کچھ دیر کے لیے سو ہی گیا تھا۔ اس کہ بعد مجھ انیلہ نے اٹھایا کہ اب تم اپنے گھر جاؤ۔ میں بھی جلدی سے اٹھا اور فریش ھو کر جانے کو تیار ھو گیا۔ جانے سے پہلے انیلہ سے بات کی۔ جی مزہ آیا کہ نہی۔ انیلہ۔۔۔جی بہت مزہ آیا مجھ اتنی ذیادہ کی توقو نہی تھی۔ پھر بھی بہت مزہ آیا۔ ایک بات یاد رکھنا ۔ میں نے اپنا جسم تم کو دیا مجھ غلط نا سمجھنامیں کوئی بھی ایسی لڑکی نہی ھوں اور میرے شوہر کے بعد تم دوسرے مرد ھو۔ بس اس دن ھم ایک دوسرے کے قریب آ گے۔ ھے تو غلط لیکن تم مجھ اچھے لگے ھو اس لیے میں نے یہ سب کر لیا۔ اب میری عزت کو کبھی بھی کسی کے سامنے نا کھولنا۔ اور جب دل کر میرے گھر آ جانا ۔ یہ ایسا کرو تم ڈویشن کا کہوں گھر پر اور اس طرح تم روز میرے گھر آ سکوں گے۔ اس طرح کی کچھ اور باتوں کرنے کے بعد میں اپنے گھر آ گیا۔ گھر پر بات کی اور مجھ اجازات بھی مل گی۔ اب میں ھر روز انیلہ کہ گھر جاتا۔ مستی تو روز کرتے تھے لیکن پھدی نہی مل رہی تھی۔ انیلہ نے یہ بات پہلے ہی کلیر کر دی تھی کہ ھر روز نہی کبھی کبھی کیا کرنے گے۔ مجھ اچھا تو نہی لگا لیکن بات مانے لی۔
  15. اچانک انیلہ میرے اوپر آئی اور میرے پیٹ پر بیٹھ گی۔ کچھ وقت تو انیلہ اوپر بیٹھی رہی اور اپنی پھدی کو میرے پیٹ پر رگڑتی رہی۔ اس کے بعد انیلہ نے لن کو ھاتھ سے پکڑ کر چیک کیا۔ کیوں کہ میری ابھی اتنی عمر نہی تھی اس لیے لن کا سایز نرمل ہی تھا۔ ۵ انچ تو ھو گا ۔ انیلہ کو شاید لن اچھا نہیں لگا کیوں کہ انیلہ کا کچھ چہرہ اتر گیا تھا ۔ لکن پھر اس نے کچھ بھی ایسا شو نہیں کروایا۔ لن پر تھوک لگا کر لن کے اوپر اپنی پھدی رگڑنی شروع کر دی۔ پھدی کے اوپر ہلکے ہلکے بال تھے ۔ جو کہ لن کی ٹوپی پر چوب رہے تھے۔ لیکن سواد بھی بہت آ رھا تھا۔ انیلہ بولی اب سکون ھے۔ یا کچھ اور بھی مزہ کرنا ھے۔ جی آج تو فل مزہ کرنا ھے۔ پھدی بھی لینی ھے اور تمھارے ممے بھی چوسنے ھیں۔ میری بات سن کر انیلہ مسکرا دی۔ اچھا جی پھدی لے لو گے؟ مجھ تو لگتا ھے کہ تم پھدی کے اوپر رکھتے ہی فارغ ھو جاو گے۔ انیلہ کی بات سے مجھ بھی اچھا تو نہیں لگی ۔ میں نے اس کا جواب کچھ ایسا دیا کہ پھدی پر جو لن رکھا کر مجھ تنگ کر رہی تھی۔۔ ایک ہی جھٹکے میں سارا لن پھدی کے اندر کر دیا۔ انیلہ بھی اس حملے کہ لیے تیار نہیں تھی۔ اس کی کافی ذور سے ایک اہ ہ ہ۔ نکلی ۔اور میرے لن اوپر ہی بیٹھ گی۔ اب مجھ فل جوش چڑا ھوا تھا۔ کیوں کہ انیلہ نے بات غلط کی تھی۔ اب وہ مجھ ھلنے بھی نہیں دے رہی تھی۔ کچھ وقت تو تڑپتی رہی اس کے بعد جب لن اور پھدی نے ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کر لیا۔ انیلہ لن کے اوپر نیچے ھونا شروع کر دیا۔پہلے آہستہ سے پھر کچھ ٹائم کے بعد فل سپیڈ سے شروع ھو گی۔ کافی وقت اس پوزیشن میں کرنے کہ بعد انیلہ کا پانی نکل گیا۔ اور ساتھ لیٹ کر اپنی سانس درست کرنے لگی۔ انیلہ تو فارغ ھو گی تھی۔ لیکن میں ابھی تک فارغ نہیں ھوا تھا۔ میں بھی انیلہ کے اوپر چڑھا گیا۔ ابھی لن پھدی پر رکھا ہی تھا کہ انیلہ نے پھدی پرھاتھ رکھا دیا۔ اور بولی مجھ تھوڑا سا گرم تو کر لو بس پھدی وچ لن پین دی جلدی اے۔ میں نے ایک طرف کا مما منہ میں لیا۔ چوسنا شروع کر دیا۔ سایز ۳۴کے ممے کافی نرم تھے۔ کافی وقت انیلہ کو گرم کرنے میں لگا۔ انیلہ کی پھدی کافی صاف تھی۔ گوری چٹی ۔ بال تھے لیکن پھر بھی کافی پیاری تھی۔ جب گرمی چڑ ھی گی۔ تو انیلہ نے اوپر انے کا اشارہ کیا۔ میں بھی اس انتظار میں تھا۔ پھدی پر اور لن پر تھوک لگا کر اندر کر دیا ۔ اور ارام سے جھٹکے لگنے شروع کر دیے۔ میری بھی بس ھو چکی تھی ۔ لن بھی اب کسی بھی وقت ہار مان سکتا تھا ۔ اس لیے میں نے بھی فل ذور لگاناشروع کر دیا اور پھدی کے اندر ہی فارغ ھو گیا۔
  16. اس نے مجھ گھر ملنا کا وقت بتایا۔ پہلے تو میرا دل کیا کے ان کے گھر نا جانا ہی بہتر ھے ۔ کیوں کہ وہ ملتی تو ھے نہی۔ پھر سوچا ایک بار دیکھ لیتاھوں ۔ شاید کچھ بات بن جاۓ۔ وقت پر انیلہ کے گھر گیا۔ اج انیلہ نے ہی دروازہ کھولا۔ مجھ اندر جانے کا بولا اور باہر کا دروازہ کو لاک لگا دیا۔ مجھ کو لے کر وہ اپنے کمرے میں أئ۔ اس کے بعد میرا حال پوچھا۔ اور اس بات کا شکوہ کیا کہ اتنے دن سے تم کدھر گے تھے۔ میں نے چھت پر بہت چکر لگاۓ۔ لیکن تم نہی أتے تھے چھت پر ۔ میں نے جواب دیا ۔ میں ادھر نہیں تھا۔ اپنے ماموں کی طرف گیا ھوا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی واپسی ہوئ ھے۔ اچھا یہ بات تھی میں سمجھی کہ شاید أپ ڈر کے میرے سامنے نہی أ رہے ہو۔ انیلہ کی بات سن کر میرے چہرہ پر مسکراہٹ آ گی۔ میں نے انیلہ کو جواب دیا ۔ دیکھ لو آپ کی بات سے میری ہنسی نہی روک رہی۔ انیلہ آپ سے ایک بات کرنی تھی اگر آپ کی اجازات ھو تو۔ جی بولوں اجازات ھے۔ میں آپ سے کیوں ڈرو گا اس بات کی سمجھ نہی آ رہی۔ انیلہ۔۔۔بس اتنے دن نظر نہی آۓ۔ میں سمجھی کہ مجھ سے ڈر رھا ھے اس لیے میرے سامنے نہی آ رھا۔ اور تو کوئی بات نہی۔ ہاہا ۔۔۔۔ انیلہ کی بات سن کر میں پھر سے ھنس پڑا۔ انیلہ کو مجھ پر غوثا چڑ گیا۔ اور انیلہ نے مجھ پکڑ کر گرا لیا۔ روکوں ابھی تمھارا حساب کرتی ھوں۔ اس دن والا بھی حساب رہتا ھے۔ انیلہ نے کچھ دیر تو مجھ پکڑے رکھا پھر میرے لن کو پکڑ لیا۔ آج تمھاری خبر لیتی ھوں۔ اور لن کو اور کس کے پکڑ لیا۔ اتنی ذور سے لن کو دبا کہ ایک بار میری جان ہی نکال دی۔ میں نے کچھ دیر تو برداشت کیا پھر میں نے بھی انیلہ پر حملہ کر دیا۔ اور ذور سے رایٹ والا مما پکڑ لیا اب انیلہ کی اہ اہ نکلی رہی تھی۔ اب لن کو کچھ سکون ھوا تھا۔ کیوں کہ میرے جوابی حملہ سے انیلہ کا ھاتھ کچھ سکون دینے لگا گیا۔ اور کچھ ھاتھ ہلکا کر دیا تھا۔ اب ہم ایک دوسرے کو مزہ بھی دے رھے تھے۔ کچھ دیر بعد میں نے ھاتھ قمیض کہ اندر کر لیا۔ برا کو بھی اوپر کر دیا۔ اور ممے باہر نکال لیے۔ ہلکے ھاتھ سے ممے دبنے شروع کر دیے۔ آج بھی انیلہ میرے سامنے کمزور ہی تھی۔ یا شاید وہ بھی لن کو اپنی پھدی میں لینا چاہتی تھی۔ اس لیے تو ھاتھ ڈالا ہی لن کو تھا۔ میں نے انیلہ کو نیچے گرا دیا اور ایک مما اپنے منہ میں لے لیا۔ اب انیلہ میرے لن کو مسل رہی تھی ۔ میں ممے چوس رھا تھا کبھی ایک کبھی دوسرا انیلہ گرم ھو گی ۔ میں نے ایک ھاتھ سے پھدی کو سہلنا شروع کر دیا۔ انیلہ کی پھدی فل گلٔی تھی شلوار کے اوپر سے کچھ دیر مسلنے کہ پعد شلوار اتار دی ۔ آج شلوار اتارنے میں میری مدد اپنی ہپ اٹھا کر کی۔ جب انیلہ کی شلوار اتر گی اس نے میری شلوار پہی اتارنی شروغ کر دی۔ جلد ہی ایک ایک کر کہ ہم دونوں کہ کپڑے اتر گے۔۔ اور ہم دونوں فل نگے ھو گے۔ ابھی ھم رومنس ھی کر رہے تھے کہ اچانک سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ھے۔۔۔۔
  17. اج توبا ہاتھ نہیں روک رہی تھی مجھ کو پوری أزادی تھی۔ لیکن أج میرا کچھ بھی کرنے کودل نہیں کر رہا تھا۔ میں بھی توبا کے پیار کو محسوس کر رہا تھا۔ لیکن تھوڑا بہت مزہ تو کر ہی رہا تھا۔ کافی دیر توبا کو اپنی بانہوں میں ہی رکھا۔ اتنی بار کس کیا کہ کوئی یاد نہیں اب۔ اس کے بعد میں أنٹی واپس أ گی۔ اور میں گھر واپس أ گیا۔ رات کو میں جب اپنی چارپائی پر تھا ۔ تب بھی میرے خیال میں توبا کا پیار ہی أ رہا تھا اس کہ بعد میں سو گیا ۔ کب سو گیا یہ نہی یاد۔ کیوں کہ جب انسان کسی کے پیار میں پڑتا ھے ۔ تو ساری دنیا بھول جاتی ھے۔ ایسا ہی حال تھا میرا بھی۔ پھر کچھ دن ایسا نہیں ھوا جس کا ذکر ادھر کیا جاۓ۔ توبا کہ گھر ڈیلی جاتا تھا ۔ لیکن کس سے ذیادہ کچھ نہی ھو رھاتھا۔ایک دن موقع۔ ملا ھوا کچھ یوں کہ چھت پر ہمسایٔ سے ملاقات ھو گی۔
  18. توبا کےگھر سے بھی کچھ حاصل نا ھوا۔ توبا سے ملاقات نا ھو سکی ۔ اس کے بعد ایک دو دن ایسے ہی گزر گے۔ سکول سے واپسی پر توبا کے گھر چلا گیا۔ اج توبا گھر پر تھی ساتھ اس کی امی بھی تھی اور کوئی انٹی بھی تھی ۔ سلام دعا کے بعد انٹی نے کچھ کام بولا کرنے کے لیے بازار سے کچھ گھر کا سامان لانا تھا۔ میں بھی فری تھا اس لیا بازار جانے کے لیے تیار ھو گیا۔ انٹی نے لسٹ اور پیسے توبا سے لینا کا بولا۔ توبا ساتھ والے روم تھی ۔ میں ادھر چلا گیا۔ توبا کو انٹی کا بولا اور لسٹ منگی ۔ توبا۔۔ کیالینے أ ھو ھمارے گھر اپ کا کوئی بھی ادھر نہی رہتا۔ گلہ تو بنتا تھا۔ کیوں کہ میں کافی دن بعد ایا تھا۔ اپ لسٹ دو اس موزو پر پھر کبھی بات کر لینا۔ توبا نے لسٹ دی میں سامان لینا چلا گیا۔ سامان لے کر جب گھر ایا ۔ تو انٹی گھر پر نہی تھی کسی کے گھر گیٔ ھویٔ تھی توبا کو سامان دیا۔ مافی منگی ۔👋 لیکن کچھ فرق نہی ھوا توبا کو وہ ناراض تھی مننے کو تیار نہی تھی ۔ جب مجھ لگا کہ یہ تو کافی ذیادہ ناراض ھے پھرمیں نے پیار کا سہارا لینے کا سوچا۔ میں نے توبا کو اپنے پیار کی قسم دی۔ پھر جا کر وہ کچھ نرم ھویٔ جب توبا کچھ نرم پڑ گی تو میں نے اس کو اپنے گلے سے لگایا۔ توبا بھی کٹی ھویٔ پتگ کی طرح مجھ سے لپٹ گی۔ کافی وقت اس طرح ہی گزر گیا۔ میں نے کافی بار کس کیا۔ سارا جسم پر ہاتھ گمایا۔
  19. شام کو میں نے توبا کہ گھر چکر لگایا۔کافی دونوں بعد انا ھوا تھا ۔ توبا گھر پر نہیں تھی اپنی کسی سہیلی کے گھر گی تھی۔
  20. Qانیلہ کے گھر پر گیا دروازہ نوک کیا لیکن کسی نے دروازہ نہی کھولا۔ دو بار نوک کرنے کہ . بعد بھی جب واپس جانے لگا تب دروازہ کھولا۔ لیکن ادھر انیلہ کا شوہر کھڑا تھا ۔ اس کے شوہر کو دیکھ کر ایک بار میں گبھرا گیا۔ لیکن پھر کنڑول کر گیا ۔ اور جلدی سے بولا جی میں اپ کے گھر کے ساتھ رہتا ھوں ۔ اپ کی چھت پر بول أ تھی۔ وہ لینی تھی اس لیا دروازہ نوک کیا۔ انیلہ کا شوہر ٹھیک ھے چھت پر جا کر لے لو۔ میں شکریہ ادا کرتے ھوں گھر میں داخل ھو گیا۔ انیلہ کا شوہر عمر میں کافی بڑا تھا ۔ جنرل سٹور تھا۔ان کا۔ میں چھت پر چلا گیا۔ اب بول تو تھی نہیں اس لیا ایسے ہی ٹامٔ پاس کر رہا تھا۔ کچھ ٹایمٔ بعد انیلہ کا شوہر کام پر چلا گیا۔ میں بھی پھر چھت سے نیچے أ گیا۔ نیچے أ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔ میں انیلہ کو ڈھونڈتے ھوے کچن میں چلا گیا۔ انیلہ نظر تو أیٔ لیکن اس کے ساتھ کوئ اور عورت بھی تھی ۔ بعد میں پاتا چالا ان کے ہناں مہمان أ گے تھے۔ انیلہ نے مجھ دیکھ کر بولا میرا ایک کام تو کر دو ۔ شاپ سے کچھ سامان لا دو۔ اور مجھ لے کر اس عورت سے کچھ دور ھو کربولا سوری گھر مہمان أ گے ھیں۔ تم دوکان سےکچھ سامان لا دو اج کے لیے سوری۔ میں بازار سے سامان لے کر انیلہ کے گھر دینے گیا تو انیلہ کچن میں اکیلی تھی۔ صرف ھاتھ ملایا اور پھر کسی دن ملنے کا کہا کر اپنے گھر واپس أ گیا۔
  21. اس طرح شہر میں پہلے والی روٹین بن گی۔ توبا کو میں نے جان کر یاد نہیں کیا تھا۔ باقی یاد تو أتی تھی۔ کچھ دن تو کچھ بھی ایسا نہیں ھوا جس کا ذکر کیا جا سکے۔ یہ اتوار کا دن تھا گرمیوں کی وجہ سے چھت پر سوتے تھے۔ میں ایسے ہی چھت پر کھڑا تھا۔ سب گھر والے نیچے تھے۔ میں بھی جانے لگا تھا۔ ساتھ والی پڑوسن چھت پر کسی کام سے أیٔ مجھ دیکھ کر ایک بار دیکھا۔ اور اپنا کام کرنے لگی۔میں بھی کھڑا ھو کر دیکھنے لگا۔ پڑوسن کا نام انیلہ تھا بعد میں پتا چلا تھا۔ انیلہ کپڑے دوھ کر أیٔ تھی۔ جب کپڑوں کا کام ختم ھو گیا۔ تو میں نے ہلکی سی اواز لگایٔ۔ کیا حال ھے ۔پھر تو کویٔ کوکرج نہی أیا۔ اور دیکھ کر مسکرا دیا۔انیلہ بھی میری بات سن کر ہنس دی۔ میرے پاس أیٔ اور بولی دو گھٹےبعد میرے گھر انا پھر کوکرج کو پکڑنا ھے۔ اتنی بات کر کہ انیلہ چلی گی۔ میں بھی انے والے وقت کو یاد کر کہ خوش ھو گیا۔ پھر وہ دو گھنٹے بھی گزر گیے میں ان کہ گھر چلا گیا۔
  22. اس طرح میں نے زندگی کی پہلی پھدی لی ۔ نازی بہت اچھی لڑکی تھی اور ھماری دوستی بھی بہت زیادہ ھو گی تھی۔دن کہ وقت ھم بہت اہتیات کرتے تھے۔کبھی کویٔ ایسی بات یا ھرکت نہی کرتے تھے جس سے کسی کو کویٔ شک ھو۔ رات کو حاشم کہ سونے کہ بعد ھمارا پیار شروع ھو جاتا تھا۔ جی پیار مجھ نازی سے پیار ھو گیا تھا۔ لکن یہ پیار صرف ہم دونوں کہ لیے ہی بنا تھا۔ ھم اس کو دنیا کہ سامنے نہی لے کر جا سکتے تھے۔ تقریبا میں کویٔ دو ہفتہ روکا موموں کہ ہاں ان دونوں نازی نے مجھ بہت پیار دیا ۔ بلکہ مجھ پھدی کا ایسا چسکا لگا دیا کہ کیا بولوں اب۔ جس دن واپس أنا تھا اس دن دل بہت اداس تھالکن واپس تو أنا تھا نا ۔ کیوں کہ سکول کھول گے تھے ۔ اور ھم کو ۱۰ کلاس کی تیاری شروع کرنا تھی۔ گھر واپس أ کر دل بہت اداس رہا لکن کیا ھو سکتا تھا۔ سکول جانے کی وجہ سے دن تو گزر رھا تھا پر رات کافی مشکل ھوتی تھی۔ نازی کی اور اس کی پھدی کی بہت یاد أتی تھی۔
  23. میرا لن پھٹنے والا ھو گیا تھا نازی کے ممے چوس کر بہت مزہ أ رھا تھا نازی کی ممے ھے بھی بہت نرم تھے جس طرح رویٔ ھو ۔ کافی ٹامٔ اس کھیل میں گزر گیا ۔ پھر جب نازی کی بس ھو گی تو مجھ کو اپنے اوپر انے کا بولا پھر اپنی دونوں ٹانگوں کو اوپر أٹھا کر ان کہ درمیان أنے کو بولا۔ پھر میرا لن پکڑ کر پھدی کے لبوں پر پھرنا شروع کر دیا۔ لن بھی فل ہارڈ تھا اور لن اپنی زندگی کی پہلی پھدی مرنے کے لیے فل تیار تھا۔ لکن مجھ سے اندر نہی جا رھا تھا۔ فرسٹ ٹامٔ تھا اس لیا ایسا ھو رہا تھا۔ نازی کو بھی لگا مجھ سے نہی ھو رھا تو اس نے اپنے ھاتھ سے لن پکڑ کر پھدی کی موری پر رکھا مجھ اندر کرنا کا بولا۔ لن پھدی کہ اوپر تھا اور میں نازی کہ اوپر تھا۔ نازی نے لن کو موری پر سیٹ کر کہ ہاتھ میری ہیپ پر رکھا اور پھر ایک زور کا جھٹکا لگیا ۔ سی کی اواز ہم دونوں کہ منہ سے نکلی۔ لن پھدی اندر چلا گیا تھا۔ پھر ایک اور جھٹکا لگیا اور لن سارے کا سارا اندر چلا گیا۔ کچھ منٹ أرام سے جھٹکے لگنے کہ بعد پھر زور سے جھٹکے لگنے شروع کر دیے۔ نازی کہ منہ سے سی۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔ اس طرح کی أواز أ رہی تھی۔ پھر ھم دونوں اپنی منزل پر پہچ گے اور میں نازی کہ پھدی میں فارغ ھو گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔ جاری ھے
  24. اس کہ بعد نازی نے مچھ کو اپنے ممے چوسنے کابولا۔ ۳۸ کہ موٹے ممے منہ میں نہی أ رہے کیوں کہ میرا فرسٹ ٹایمٔ تھا۔ نازی نے مجھ کو ممے منہ میں لے کر أہستہ اہستہ چوسنے کا بولا تھوڑی مشکل ہویئ۔ پر جو مزہ نرم نرم ممے میرے منہ میں گے تو میرے تو بہت بورا حال تھا ۔ کچھ منٹوں بعد نازی گرم ھونا شروع ھو گی۔ پھر نازی نے اپنی شلوار اتاری اور مجھ بھی شلوار اتارنے کا بولا۔ میں نے بھی جلدی سے شلوار اتاری اور اپنا چھوٹا سا لن نکال کر ھاتھ سے سہلانا شروع کر دیا۔ نازی نے مجھ کو بولا اس کو چھوڑو اور میرے ممے چوسو میں بھی ممے منہ میں لے کر ذور سےچوسے۔ نازی ایسے نہی پیار سے کرو۔ جتنا أپ اپنے پارٹنر کو مزہ دو گے وہ بھی أپ کو اتنا مزہ دے گا۔ پھر میں بھی أرام سے ممے چوسے اور پھدی پر انگلیاں پھرتا رھا۔ ایک ٹامٔ أ نازی اتنی . گرم ہو گی جسے اس کو بخار ھو۔ میرا اپنا بہت بورا حال تھا
  25. شام کو جب سو کر اٹھا تو جسم کافی ہلکا تھا۔ یہ بات تو سب کو پتا ہو گیٔ۔ انسان کے لیے سکس کہ سات اور بھی بہت کچھ ھے جو ضروری ھوتا ھے۔ رات تک میری نازی سے کو خاص بات نا ھو سکی۔ کیوں کہ حاشم میرے سات تھا اور کوئی موقع بھی نہیں ملا تھا۔ جس کا ذکر ادھر کیا جاۓ۔ رات کو جب حاشم سو گیا اس کہ بعد میں نے نازی سے بات کی۔ کیا بات ھے أج کا دن کچھ مصروفیت ذیادہ تھی۔ مجھ کویٔ لفٹ ہی نہی کروایٔ۔۔ نازی بولی ایسی بات نہی تھی۔ ادھر میرےپاس أ جاؤ۔ میں بھی جلدی سے نازی کے پاس اس کی چارپایٔ پر چلا گیا۔ جی اب بولو کیوں سارا دن مجھ سے دور رہی ھو۔ نازی ۔۔نہی دور رہنے والی بات نہی ھے۔ بس ایک ڈر تھا کہ کسی کو ہم پر شک نا ھو جاۓ۔ کسی بات کا ڈر میں نے کون سا أپ . کے کپڑے اتارنے تھے۔ نازی۔۔۔ کپڑے اب اتار لو سب کےسامنے میں نے اسی طرح رہنا ھے۔ ٹھیک ھے نازی اب مجھ اجازات ھے ۔ ?نازی۔۔ کس بات کی اجازت۔ أپ کو پیار کرنے کی اجازت۔ نازی۔۔۔ اگر اجازت نا دو تو ۔ میں زبردستی کر لوں گا۔ ناذی اچھا کرو پھر زبردستی میں جلدی سےنازی کے اوپر چڑھ گیا۔ کچھ ٹامٔ اس طرح کبھی میں اوپر کبھی نازی اوپر أ کر ایک دوسرے کو تنگ کرتے رہے اور لن صاحب اپنے مزہ میں تھے۔ لن فل کھڑا تھا نازی نے لن کو ھاتھ میں لیا۔ میں بھی کبھی ہاتھ پھدی پر لگاتا کبھی بوبس پر اور ایسی ہی ایک دوسرے سے مزہ کرتے رہے۔ پھر نازی نے پوچھا کبھی پھدی لی ھے۔ میں نہی یار أپ کو بولا تھا کہ کوئی بھی لڑکی سے کبھی دوستی دوستی نہی ہویٔ۔ پھدی کسی کو لوں گا۔ نازی نے بولا ٹھیک ھے میں تم کو سب کچھ کرنا سکھتا ہوں۔ اج سے میں تمھاری استاد تم میرے شاگرد اس طرح مجھ کو میری سکس کی استاد ملی۔ باقی بعد میں کس طرح میں نے پہلی بار پھدی ماری یہ اگلی اپڈیٹ میں۔ جاری ھے

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.