Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

Wah ji L4P bro lagta hai aap ny jis ko kaha hai "WO" yahi kahi hai heheheheheh.......... shayad aap jawab b dia ho heheheheh........

Beta Creamy! Achay Bachay Zyada Nahi Chehaktay! Jis Ke Liye Kaha Hay Woh Khud Samjh Gayee Hay. hehehehehehehe Aur Haan WOh Yahan Kahin Hay Ya Nahi Is Ko Discus Kar Ke Tum Do Lardkyon Main Fight Matt Karwaoo! hehehehee;)

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 301.9k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

اپنا دل تھام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

دیکھ آتے ہیں نظر تجھ کو مناظر کیسے

لے میرا نام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

اب تو ہر گام ضرورت ہے تیری یادوں کی

اب تُو ہر گام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

غمِ دنیا نہ کہیں چھین لے تجھ کو مجھ سے

چھوڑ سب کام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

آج کی شام منانا ہے تیرے غم کو مجھے

آج کی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا میرا دل

سفر نے ڈھونڈ لیا ہے رہا سہا میرا دل

کچھ اس طرح سے تعزیت کی آس میں تھا

کسی نے ہنس کے بھی دیکھا تو رو دیا میرا دل

ہے اپنی اپنی رسائی رہ محبت میں

ہے اپنا اپنا طریقہ ترا خدا میرا دل

نگر نے معجزہ مانگا تیری محبت کا

تو جھوم جھوم کے صحراؤں سے اٹھا میرا دل

کسی نے جب بھی یہ پوچھا کہ کون ہے فرحت

تو مسکرا کے ہمیشہ یہی کہا میرا دل

کتنی مدت بعد تمہاری یاد آئی ہے

یوں لگتا ہے جیسے دل یہ رک جائے گا

یوں لگتا ہے جیسے آنکھیں!

اپنے سارے آنسو رو کر!

بالکل بنجر ہو جائیں گی

یوں لگتا ہے جیسے پچھلے موسم پھر سے لوٹ آئے ہیں

جاناں! یہ دل خوش رہنے کے

طور طریقے بھول چکا ہے

اُس پر تیری یاد کی دستک

یوں لگتا ہے جیسے دل پر

ایک قیامت گزر رہی ہو

کوئی طوفاں آن کھڑا ہو

جیسے ایک اکیلی ناؤ

بیچ بھنور کے آن پھنسی ہو

یوں لگتا ہے جیسے سپنے

ایک حقیقت بن بیٹھے ہوں

اتنی مدت بعد تمہاری یاد آئی ہے

سوچ رہا ہوں کیا اُس کی تعظیم کروں میں

پلکوں پر اشکوں کے دیپ جلا لیتا ہوں

دل کے اُجڑے آنگن کو مہکا لیتا ہوں

دل کہتا ہے پھر خود کو تقسیم کروں میں

اتنی مدت بعد تمہاری یاد آئی ہے

یوں لگتا ہے جیسے پچھلے موسم پھر سے لوٹ آئے ہوں

تتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا ، ریت اس نگر کی ہےاور جانے کب سے ہے

دیکھ کر پرندوں کو باندھنا نشانوں کا ، ریت اس نگر کی ہےاور جانے کب سے ہے

تم ابھی نئے ہو ناں! اس لیے پریشاں ہو ، آسمان کی جانب اس طرح سے مت دیکھو

آفتیں جب آنی ہوں ، ٹوٹنا ستاروں کا ، ریت اس نگر کی ہےاور جانے کب سے ہے

شہر کے یہ باشندے بو کے بیج نفرت کے ، انتظار کرتے ہیں فصل ہو محبت کی

چھوڑ کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا ، ریت اس نگر کی ہےاور جانے کب سے ہے

اجنبی فضاؤں میں اجنبی مسافر سے ، اپنے ہر تعلق کو دائمی سمجھ لینا

اور جب بچھڑ جانا مانگنا دعاؤں کا ، ریت اس نگر کی ہےاور جانے کب سے ہے

خامشی مرا شیوہ گفتگو ہنر اُس کا، میری بے گناہی کو لوگ کیسے مانیں گے

بات بات پر جبکہ مانگنا حوالوں کا ، ریت اس نگر کی ہےاور جانے کب سے ہے

نہ کھاتے جو دھوکا اگر ہم تمہی سے

تو دھوکے میں تم کو مہارت نہ ہوتی

پھول کھل جائیں تو اس شخص سے کم کم ملنا فراز!

اکثر دسمبر میں محبت پہ زوال آتا ہے

رات کا سمندر ہے

رات بھی محبت کی

بات کا اجالا ہے

بات بھی محبت کی

گھات کی ضرورت ہے

گھات بھی محبت کی

نرم گرم خاموشی

سہج سہج سرگوشی

چور چور دروازے

کون چھپ کے آیا ہے

آرزو نے جنگل میں

راستہ بنایا ہے

جھینپتے ہوئے آنگن

نے درخت سے مل کر

کچھ نہ کچھ چھپایا ہے

آسماں کی کھڑکی میں

سکھ بھری شرارت سے

چاند مسکرایا ہے

چاند مسکرایا ہے

چاندنی نہائی ہے

خوشبوؤں نے موسم میں

آگ سی لگائی ہے

عشق نے محبت کی

آنکھ چومنا چاہی

اور ہوا کے حلقے میں

شوخ سی نزاکت سے

شاخ کمسائی ہے

رات کا سمندر ہے

رات بھی محبت کی

بات کا اجالا ہے

رات بھی محبت کی

بات کے سویرے میں

زندگی کے گھیرے میں

روح ٹمٹمائی ہے

وصل جھلملایا ہے

دل نے بند سینے میں

حشر سا اٹھایا ہے

کون چھپ کے آیا ہے

آنسوؤں کے ساتھ سب کچھ بہہ گیا

دل میں سناٹا سا باقی رہ گیا

چھوڑ آیا ہوں زمین و آسماں

فاصلہ اب اور کتنا باقی رہ گیا

رفتہ رفتہ بجھ گئے سارے چراغ

اک چہرہ جھلملاتا ' رہ گیا

بستیاں دھندلا گئیں؛ پھر کھو گئیں

روشنی کا چہرہ پیچھے رہ گیا

آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا

اچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا

دامنِ چاک چاک گلوں کو بہانہ تھا

دل کا جو رنگ تھا وہ نظر سے چھپا نہ تھا

رنگِ شفق کی دھوپ کھلی تھی قدم قدم

مقتل میں صبح و شام کا منظر جدا نہ تھا

کیا بوجھ تھا جس کو اٹھائے ہوئے تھے لوگ

مڑ کر کسی کو کوئی دیکھتا نہ تھا

کچھ اتنی روشنی میں تھے چہروں کے آئینے

دل اس کو ڈھونڈتا تھا جسے جانتا نہ تھا

کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئے

اپنے سوا ہمیں تو کسی سے گلہ نہ تھا

ہر اک قدم اٹھا تھا نئے موسموں کے ساتھ

وہ جو صنم تراش تھا بت پوجتا نہ تھا

جس در سے دل کو ذوقِ عبادت عطا ہوا

اس آستانِ شوق پہ سجدا روا نہ تھا

آندھی میں برگِ گل کی زباں سے ادا ہوا

وہ راز جو اب تک کسی سے کہا نہ تھا

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.