Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

مچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تک

میری آنکھوں میں ہے اُس سحرِ رنگین کا خمار اب تک

زمانہ ہو چکا اس اوّلیں مڈبھیڑ کو، لیکن

سنائی دے رہی ہے تیری نظروں کی پکار اب تک

غمِ دوراں کی تاریکی کے سیلِ بیکراں اُمڈے

مگر ٹوُٹا نہیں تیری تجلی کا حصار اب تک

شبستانوں کے در ہر چند مُجھ پر وا نہیں ہوتے

مگر اِک مست و بیخود رات کا ہے انتظار اب تک

کوئی آتا نہیں اب دل کی بستی میں، مگر پھر بھی

اُمیدوں کے چراغوں سے ہیں روشن رہگزار اب تک

ابھی تک نصف شب کو چاندنی گاتی ہے جھرنوں میں

نہیں بدلی شبابِ منتظر کی یاد گار اب تک

جلا رکھے ہیں شہراہوں پہ اشکوں کے دِیے کب سے

نہیں گزرا مگر اس سمت سے وہ شہسوار اب تک

جو حُسن و عشق کی پیکار میں آنکھوں سے ٹپکے تھے

انھیں تاروں سے ہے دامانِ ہستی زرنگار اب تک

شکستِ آرزو کو عِشق کا انجام کیوں سمجھوں

مقابل ہے میرے آئینۂ لیل و نہار اب تک

ندیم ان مشعلوں کی جگمگاہٹ بڑھتی جاتی ہے

کہ لہرایا نہیں اس بزم میں دامانِ یار اب تک

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 299k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

عشرتِ جاں میں مست تھے

کھوئے ہوئے تھے سارے لوگ

کیسی عجیب نیند تھی

سوئے ہوئے تھے سارے لوگ

کس کو خبر تھی، حشر کی

کیسی گھڑی ہے ہر طرف

جاگ کے دیکھتے ہیں کیا

آگ لگی ہے ہر طرف

ساری زمیں جلی ہوئی

سارا جہاں جلا ہوا

اُس کی گلی میں خوں ہی خوں

اِس کا مکاں جلا ہوا

سب کا یقیں لہو لہو

سب کا گماں جلا ہوا

محفل ِ دل لٹی ہوئی

قریہء جاں جلا ہوا

سود و زیاں کے عہد میں

سود و زیاں جلا ہوا

ایسا وہ حشر تھا بپا

ہوش سبھی کے کھو گئے

باغ تمام جل گئے

شہر تباہ ہو گئے

راکھ کے ڈھیر پر جنہیں

رونا تھا، وہ بھی رو گئے

جو خیال تھے نہ قیاس تھے، وہی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے

جو محبتوں کی اساس تھے ، وہی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے

جنہیں مانتا ہی نہی یہ دل، وہی لوگ میرے ہمسفر

مجھے ہر طرح س جو راس تھے، وہی لوگ مجھ سےبچھڑگئے

مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے

میری عمر بھر کی جوپیاس تھے ،وہی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے

یہ خیال سارے عارضی ، یہ گلاب سارے کاغزی

گل آرزو کی جوباس تھے ، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جنھیں کرسکا نہ قبول میں ، وہ شریک راہ سفر ہوئے

جومیری طلب میری آس تھے ، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

میری دھڑکنوں کے قریب تھے ، میری چاہ میرا خواب تھے

وہ جو روز و شب میرےساتھ تھےوہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

محبت آخرش ہے کیا؟

میں شاعر ہوں تو اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں

محبت آخرش ہے کیا؟

وصی میں ہنس کے کہتا ہوں

کسی پیاسے کو اپنے حصے کا پانی پلانا بھی محبت ہے

بھنور میں ڈوبتے کو ساحلوں تک لے کے جانا بھی محبت ہے

کہیں ہم، راز سارے کھول سکتے ہوں مگر پھر بھی

کسی کی بے بسی کو دیکھ کر خاموش رہ جانا محبت ہے

کسی کے واسطے جبراً ہی ہونٹوں پر ہنسی لانا محبت ہے

کہیں بارش میں میں سہمے، بھیگتے بلی کے بچے کو

ذرا سی دیر کو گھر لے کے آنا بھی محبت ہے

کوئی چڑیا جو کمرے میں بھٹکتی آن نکلی ہو تو اس چڑیا کو

پنکھے بند کر کے راستہ باہر کا دِکھلانا محبت ہے

محبت کے ہزاروں رنگ، لاکھوں استعارے ہیں

کسی بھی رنگ میں ہو یہ

مجھے اپنا بناتی ہے

یہ میرے دل کو بھاتی ہے

شجر تو وہ ہے

کہ جسکے باسی

بہار کے آتشیں دنوں

تمام شاخوں پر چہچہائیں

جنوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر

بہت ہی اونچے سروں میں گائیں

ڈھلے جو موسم تو یہ نہ دیکھیں

کہ جن ہواؤں کے سنگ وہ ہیں

وہ بے وطن ہیں

بھلا ہواؤں کا کیا بھروسہ

بھلا مسافر کا کیا ٹھکانہ

شجر تو وہ ہے

کہ جس کا آنچل

فلک سے بارش کی بھیک مانگے

کسے خبر ہے کہ پھر آسماں سے

سحاب اترے

کہ آگ برسے

کہ جسکو آندھی

فنا کے قصے سنا کے گزرے

یہ کون جانے کہ اس کے پاؤں میں

نہ جانے کس پل

زمین سے کٹ کر

ہوا کا رنگ عزاب دیکھں

نہیں نہیں اسے محبت مت کہو

مری محبت شجر نہیں ہے

کہ جس پہ موسم کے پھول آئیں

جسے خزاں کی زبان چاٹے

جو قحطـ باراں سے سوکھ جائے

جسے ہوائیں اکھاڑ پھینکیں

نہیں نہیں

ایسا مت کہو

میری محبت

شجر نہیں ہے

📢 Post Your Ad Here

اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا

جل جل کے راکھ ہوگئے پھر بھی دھواں نہیں دیا

کتنی تھی سنگ دل ہوا ، جس نے ہم اہلِ شوق کے

سارے دیے بجھا دئیے اذنِ فغاں نہیں دیا

ایسا نہیں ملا کوئی جس سے بیان حال ہو

ورنہ تو اشتہار دل ہم نے کہاں نہیں دیا

پنجرے کی جالیوں سے کچھ پھول دکھائی دے سکیں

اب کے بہار نے ہمیں ایسا سماں نہیں دیا

کیسے ہیں بد نصیب لوگ ، جن کو خدا نے دہر میں

نطق تو کر دیا عطا ، حسنِ بیاں نہیں دیا

تخت پہ بیٹھ کر بھی وہ رب سے گلہ گذار ہیں

رنج یہ ہے کہ کیوں انہیں تختِ رواں نہیں دیا

خدا جانےتمہارےذہن میں کیاہے؟

میرےبارےمیں تم کیاسوچتی ہوکہہ نہیں سکتا

مگرمیں اس لئےملنےسےکتراتاہوں تم سے

کہ وہ باتیں جوہم لکھتےہیں اپنےخط میں چاہت سے

وہ باتیں اورباتیں ہیں

وہ باتیں ایسی باتیں ہیں کہ بس باتیں ہی باتیں ہیں

حقیقت مختلف ہےایسی باتوں سے

حقیقت منکشف ہوتی نہی الفاظ لکھنےسے

زبانی گفتگوسےباہمی اظہاروعرض حال کرنےسے

بہت سی ایسی باتیں ہیں

جنہیں سنےکو کانوں کی نہی آنکھوں کی حاجت ہے

اگرتم مجھ سےملنےپربہت اصرارکرتی ہو

توپھراک شرط ہے

اک لفظ بھی کہنا نہ ہونٹوں سے

فقط آنکھوں سے آنکھیں گفتگوکرتی رہیں گی

خلاءاپنےسوالوں کا

ان آنکھوں کی صدائیں خودبخودبھرتی رہیں گی

اگرملناضروری ہے

توچھوٹی سی میری یہ شرط اپنے ذہن میں رکھنا!

نہ خط لکھوں نہ زبانی کلام تجھ سے رہے

خموشیوں کا یہی انتقام تجھ سے رہے

رہے بس اتنا شناسائی کا بھرم باقی

اشارتا ہی دعا و سلام تجھ سے رہے

نہ عہدِ ترکِ تعلق ، نہ قربتیں پیہم

بس ایک ربطِ مسلسل ، مدام تجھ سے رہے

یہی رہیں ترے نشتر ، ترا طریقِ علاج

اسی طرح غمِ دل کو دوام تجھ سے رہے

نظر میں عکس فشاں ہو ترے جمال کی دھوپ

دیارِ جاں میں سدا رنگِ شام تجھ سے رہے

اب اس سے بڑھ کے مجھے چاہئے بھی کیا آخر

دیارِ فن میں اگر میرا نام تجھ سے رہے

خوشبو کے ساتھ اس کی رفاقت عجیب تھی

لمس ہوائے شام کی راحت عجیب تھی

چشم شب فراق میں ٹھہری ہے آج تک

وہ ماہتاب عشق کی ساعت عجیب تھی

آساں نہیں تھا تجھ سے جدائی کا فیصلہ

پر مستقل وصال کی وحشت عجیب تھی

لپٹا ہوا تھا ذہن سے اک کاسنی خیال

اترا تو جان و جسم کی رنگت عجیب تھی

اک شہر آرزو سے کسی دشت غم تلک

دل جا چکا تھا اور یہ ہجرت عجیب تھی

ملنے کی آرزو، نہ بچھڑنے کا کچھ ملال

ہم کو اس آدمی سے محبت عجیب تھی

آنکھیں ستارہ ساز تھیں باتیں کرشمہ ساز

اس یار سادہ رو کی طبیعت عجیب تھی

گزرا تھا ایک بار،ہوائے خزاں کے بعد

اور موجہء وصال کی حدّت عجیب تھی

ششدر تھیں سب ذہانتیں اور گنگ سب جواب

اس بے سوال آنکھ کی وحشت عجیب تھی

اس بار دل کو خوب لگا موت کا خیال

اس بار درد ہجر کی شدّت عجیب تھی

بے سود ہمیں روزنِ دیوار سے مت دیکھ

ہم اجڑے ہوئے لوگ، ہمیں پیار سے مت دیکھ

پستی میں بھٹکنے کی ندامت نہ سوا کر

مڑ مڑ کے مجھے رفعتِ کہسار سے مت دیکھ

قیمت نہ لگا جذب ایثارِ طلب کی

ہر شے کو فقط چشمِ خریدار سے مت دیکھ

پھر تجرب مرگ سے مت کر مجھے دوچار

میں ہجر زدہ ہوں مجھے اس پیار سے مت دیکھ

میں اور کہیں صاف دکھائی نہیں دوں گا

ہٹ کر مجھے آئینہ اشعار سے مت دیکھ

گر دھوپ میں چلنا ہے تو اس شہر طلب کو

کاغذ پہ اگائے ہوئے اشجار سے مت دیکھ

اتنا تو بھرم رخمِ شناسائی کا رکھ لے

ہنس کر مری جانب صفِ اغیار سے مت دیکھ

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.