August 17, 201114 yr مچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تک میری آنکھوں میں ہے اُس سحرِ رنگین کا خمار اب تک زمانہ ہو چکا اس اوّلیں مڈبھیڑ کو، لیکن سنائی دے رہی ہے تیری نظروں کی پکار اب تک غمِ دوراں کی تاریکی کے سیلِ بیکراں اُمڈے مگر ٹوُٹا نہیں تیری تجلی کا حصار اب تک شبستانوں کے در ہر چند مُجھ پر وا نہیں ہوتے مگر اِک مست و بیخود رات کا ہے انتظار اب تک کوئی آتا نہیں اب دل کی بستی میں، مگر پھر بھی اُمیدوں کے چراغوں سے ہیں روشن رہگزار اب تک ابھی تک نصف شب کو چاندنی گاتی ہے جھرنوں میں نہیں بدلی شبابِ منتظر کی یاد گار اب تک جلا رکھے ہیں شہراہوں پہ اشکوں کے دِیے کب سے نہیں گزرا مگر اس سمت سے وہ شہسوار اب تک جو حُسن و عشق کی پیکار میں آنکھوں سے ٹپکے تھے انھیں تاروں سے ہے دامانِ ہستی زرنگار اب تک شکستِ آرزو کو عِشق کا انجام کیوں سمجھوں مقابل ہے میرے آئینۂ لیل و نہار اب تک ندیم ان مشعلوں کی جگمگاہٹ بڑھتی جاتی ہے کہ لہرایا نہیں اس بزم میں دامانِ یار اب تک
August 17, 201114 yr عشرتِ جاں میں مست تھے کھوئے ہوئے تھے سارے لوگ کیسی عجیب نیند تھی سوئے ہوئے تھے سارے لوگ کس کو خبر تھی، حشر کی کیسی گھڑی ہے ہر طرف جاگ کے دیکھتے ہیں کیا آگ لگی ہے ہر طرف ساری زمیں جلی ہوئی سارا جہاں جلا ہوا اُس کی گلی میں خوں ہی خوں اِس کا مکاں جلا ہوا سب کا یقیں لہو لہو سب کا گماں جلا ہوا محفل ِ دل لٹی ہوئی قریہء جاں جلا ہوا سود و زیاں کے عہد میں سود و زیاں جلا ہوا ایسا وہ حشر تھا بپا ہوش سبھی کے کھو گئے باغ تمام جل گئے شہر تباہ ہو گئے راکھ کے ڈھیر پر جنہیں رونا تھا، وہ بھی رو گئے
August 17, 201114 yr جو خیال تھے نہ قیاس تھے، وہی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے جو محبتوں کی اساس تھے ، وہی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہی یہ دل، وہی لوگ میرے ہمسفر مجھے ہر طرح س جو راس تھے، وہی لوگ مجھ سےبچھڑگئے مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے میری عمر بھر کی جوپیاس تھے ،وہی لوگ مجھ سےبچھڑ گئے یہ خیال سارے عارضی ، یہ گلاب سارے کاغزی گل آرزو کی جوباس تھے ، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنھیں کرسکا نہ قبول میں ، وہ شریک راہ سفر ہوئے جومیری طلب میری آس تھے ، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے میری دھڑکنوں کے قریب تھے ، میری چاہ میرا خواب تھے وہ جو روز و شب میرےساتھ تھےوہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
August 17, 201114 yr محبت آخرش ہے کیا؟ میں شاعر ہوں تو اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں محبت آخرش ہے کیا؟ وصی میں ہنس کے کہتا ہوں کسی پیاسے کو اپنے حصے کا پانی پلانا بھی محبت ہے بھنور میں ڈوبتے کو ساحلوں تک لے کے جانا بھی محبت ہے کہیں ہم، راز سارے کھول سکتے ہوں مگر پھر بھی کسی کی بے بسی کو دیکھ کر خاموش رہ جانا محبت ہے کسی کے واسطے جبراً ہی ہونٹوں پر ہنسی لانا محبت ہے کہیں بارش میں میں سہمے، بھیگتے بلی کے بچے کو ذرا سی دیر کو گھر لے کے آنا بھی محبت ہے کوئی چڑیا جو کمرے میں بھٹکتی آن نکلی ہو تو اس چڑیا کو پنکھے بند کر کے راستہ باہر کا دِکھلانا محبت ہے محبت کے ہزاروں رنگ، لاکھوں استعارے ہیں کسی بھی رنگ میں ہو یہ مجھے اپنا بناتی ہے یہ میرے دل کو بھاتی ہے
August 17, 201114 yr شجر تو وہ ہے کہ جسکے باسی بہار کے آتشیں دنوں تمام شاخوں پر چہچہائیں جنوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر بہت ہی اونچے سروں میں گائیں ڈھلے جو موسم تو یہ نہ دیکھیں کہ جن ہواؤں کے سنگ وہ ہیں وہ بے وطن ہیں بھلا ہواؤں کا کیا بھروسہ بھلا مسافر کا کیا ٹھکانہ شجر تو وہ ہے کہ جس کا آنچل فلک سے بارش کی بھیک مانگے کسے خبر ہے کہ پھر آسماں سے سحاب اترے کہ آگ برسے کہ جسکو آندھی فنا کے قصے سنا کے گزرے یہ کون جانے کہ اس کے پاؤں میں نہ جانے کس پل زمین سے کٹ کر ہوا کا رنگ عزاب دیکھں نہیں نہیں اسے محبت مت کہو مری محبت شجر نہیں ہے کہ جس پہ موسم کے پھول آئیں جسے خزاں کی زبان چاٹے جو قحطـ باراں سے سوکھ جائے جسے ہوائیں اکھاڑ پھینکیں نہیں نہیں ایسا مت کہو میری محبت شجر نہیں ہے
August 17, 201114 yr اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا جل جل کے راکھ ہوگئے پھر بھی دھواں نہیں دیا کتنی تھی سنگ دل ہوا ، جس نے ہم اہلِ شوق کے سارے دیے بجھا دئیے اذنِ فغاں نہیں دیا ایسا نہیں ملا کوئی جس سے بیان حال ہو ورنہ تو اشتہار دل ہم نے کہاں نہیں دیا پنجرے کی جالیوں سے کچھ پھول دکھائی دے سکیں اب کے بہار نے ہمیں ایسا سماں نہیں دیا کیسے ہیں بد نصیب لوگ ، جن کو خدا نے دہر میں نطق تو کر دیا عطا ، حسنِ بیاں نہیں دیا تخت پہ بیٹھ کر بھی وہ رب سے گلہ گذار ہیں رنج یہ ہے کہ کیوں انہیں تختِ رواں نہیں دیا
August 17, 201114 yr خدا جانےتمہارےذہن میں کیاہے؟ میرےبارےمیں تم کیاسوچتی ہوکہہ نہیں سکتا مگرمیں اس لئےملنےسےکتراتاہوں تم سے کہ وہ باتیں جوہم لکھتےہیں اپنےخط میں چاہت سے وہ باتیں اورباتیں ہیں وہ باتیں ایسی باتیں ہیں کہ بس باتیں ہی باتیں ہیں حقیقت مختلف ہےایسی باتوں سے حقیقت منکشف ہوتی نہی الفاظ لکھنےسے زبانی گفتگوسےباہمی اظہاروعرض حال کرنےسے بہت سی ایسی باتیں ہیں جنہیں سنےکو کانوں کی نہی آنکھوں کی حاجت ہے اگرتم مجھ سےملنےپربہت اصرارکرتی ہو توپھراک شرط ہے اک لفظ بھی کہنا نہ ہونٹوں سے فقط آنکھوں سے آنکھیں گفتگوکرتی رہیں گی خلاءاپنےسوالوں کا ان آنکھوں کی صدائیں خودبخودبھرتی رہیں گی اگرملناضروری ہے توچھوٹی سی میری یہ شرط اپنے ذہن میں رکھنا!
August 17, 201114 yr نہ خط لکھوں نہ زبانی کلام تجھ سے رہے خموشیوں کا یہی انتقام تجھ سے رہے رہے بس اتنا شناسائی کا بھرم باقی اشارتا ہی دعا و سلام تجھ سے رہے نہ عہدِ ترکِ تعلق ، نہ قربتیں پیہم بس ایک ربطِ مسلسل ، مدام تجھ سے رہے یہی رہیں ترے نشتر ، ترا طریقِ علاج اسی طرح غمِ دل کو دوام تجھ سے رہے نظر میں عکس فشاں ہو ترے جمال کی دھوپ دیارِ جاں میں سدا رنگِ شام تجھ سے رہے اب اس سے بڑھ کے مجھے چاہئے بھی کیا آخر دیارِ فن میں اگر میرا نام تجھ سے رہے
August 17, 201114 yr خوشبو کے ساتھ اس کی رفاقت عجیب تھی لمس ہوائے شام کی راحت عجیب تھی چشم شب فراق میں ٹھہری ہے آج تک وہ ماہتاب عشق کی ساعت عجیب تھی آساں نہیں تھا تجھ سے جدائی کا فیصلہ پر مستقل وصال کی وحشت عجیب تھی لپٹا ہوا تھا ذہن سے اک کاسنی خیال اترا تو جان و جسم کی رنگت عجیب تھی اک شہر آرزو سے کسی دشت غم تلک دل جا چکا تھا اور یہ ہجرت عجیب تھی ملنے کی آرزو، نہ بچھڑنے کا کچھ ملال ہم کو اس آدمی سے محبت عجیب تھی آنکھیں ستارہ ساز تھیں باتیں کرشمہ ساز اس یار سادہ رو کی طبیعت عجیب تھی گزرا تھا ایک بار،ہوائے خزاں کے بعد اور موجہء وصال کی حدّت عجیب تھی ششدر تھیں سب ذہانتیں اور گنگ سب جواب اس بے سوال آنکھ کی وحشت عجیب تھی اس بار دل کو خوب لگا موت کا خیال اس بار درد ہجر کی شدّت عجیب تھی
August 17, 201114 yr بے سود ہمیں روزنِ دیوار سے مت دیکھ ہم اجڑے ہوئے لوگ، ہمیں پیار سے مت دیکھ پستی میں بھٹکنے کی ندامت نہ سوا کر مڑ مڑ کے مجھے رفعتِ کہسار سے مت دیکھ قیمت نہ لگا جذب ایثارِ طلب کی ہر شے کو فقط چشمِ خریدار سے مت دیکھ پھر تجرب مرگ سے مت کر مجھے دوچار میں ہجر زدہ ہوں مجھے اس پیار سے مت دیکھ میں اور کہیں صاف دکھائی نہیں دوں گا ہٹ کر مجھے آئینہ اشعار سے مت دیکھ گر دھوپ میں چلنا ہے تو اس شہر طلب کو کاغذ پہ اگائے ہوئے اشجار سے مت دیکھ اتنا تو بھرم رخمِ شناسائی کا رکھ لے ہنس کر مری جانب صفِ اغیار سے مت دیکھ
Create an account or sign in to comment