Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں

میں خواب بہت دیکھتا ہوں

ایسے خواب

جن میں کوئی دکھ کوئی پریشانی نہیں ہوتی

جن میں وصل کے رستے ہجر کی وادی سے ہو کر نہیں گزرتے

جن میں محبت ہمیشہ ادھ کھلے پھول کی طرح خوبصورت

اور بچے کی مسکان کی طرح پاکیزہ ہوتی ہے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 305k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

یہ کیا ہے نام اُلجھن ہے

نجانے آگہی اور خواب کے مابین کیسا مسئلہ ہے

کے ہر تخلیق سے پہلے

عجب اِک خوف دل کو گھیر لیتا ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے

میں اپنی آخری تحریر لکھنے جارہی ہوں

سخن کی شب کے ماتھے پر

وہ میرے نام کے جتنے ستارے تھے

وفا کے اِستعارے تھے

سب اپنی عُمر پُوری کرچکے ہیں

یہی دھڑ کا سارہتا ہے

کہ جتنے شعر لکھے تھے

جنھیں میں

اپنے ہونے کی گواہی کی طرح محسوس کرتی تھی

یہ اب لکھے نہ جائیں گے

یہ اب سوچے نہ جائیں گے

مری نظمیں

جو اب تک آرزوؤں کا سُنہرا عکس بن کر جھلملاتی تھیں

محبّت کی زمینوں پر اُترتے

ہجر کے اور وصل کے سب موسموں کی بات کرتی تھیں

انھیں تحریر کرنے کاہُنر بھی بُھول جاؤں گی

گُماں یہ بے ثباتی کا

یقیں بن بن کے ہر لمحہ

بڑی شدت سے میرے ذہن کادامن ہلاتا ہے

یہی باور کراتا ہے

کہ حرف و لفظ کا جتنا اثاثہ تھا

فنا کی سرحدوں پر ہے

سخن سچائی کا سارا تفاخر ٹوٹنے کو ہے

محبت رُوٹھنے کو ہے

یہ کیا بے نام اُلجھن ہے

کہ ہر تخلیق سے پہلے

عجب اِک خوف دِل کو گھیر لیتا ہے

مُجھے محسوس ہوتا ہے

میں اپنی آخری تحریر لکھنے جارہی ہوں

آخری گفتگو

یہ تصویریں ہیں

خط ہیں

اور کچھ پُرزے ہیں

جن پر تُم مجھے پیغام لکھتی تھیں

انہیں محفوظ کر لو

ہاں مگر افسوس

ٹیلی فون پر جو گفتگو

تم مجھ سے کرتی تھیں

اُنہیں میں تم کو واپس کر نہیں سکتا

جو میری دسترس میں تھا

تمہارے سامنے ہے سب

جو باقی ہے

صدا ہے اب ۔۔۔۔

بکھر جانے سے پہلے

بکھر جانے سے پہلے

حبس کے قیدی مکاں

اور منجمد تاریکیاں

زیست کا محور بنی ہیں

شب کی رقاصہ کی زخمی پائلوں کی لے کے سنگ

جن گنت تنہائیاں

اور زرد پھولوں میں گم ہوتی ہوا کی سسکیاں

اب نہ لوٹے گا کبھی

اس یاد کا بے تاب موسم

اب کے گر لوٹیں گی تو لوٹیں گی فقط خاموشیاں

دفن ہوتے جا رہے ہیں

خاموشی کی دھول میں

حرف چہرے زندگی اور روح کی پرچھائیاں

چلے آؤ

میرے ہمراہ تھے جب تم

تیرا احساس کم کم تھا

مجھے معلوم ہی کب تھا

تیرا ہونا تیری موجودگی کیا ہے

کبھی تیری جدائی کے خلا کی تیرگی اور دکھ

کسی لمحے کی آہٹ سے

جھلکتا تھا

تو پل دو پل

تیری چاہت مچلتی تھی

میرے دل میں

تیرے ہونے کی شدت جاگ اٹھتی تھی

مگر اک اجنبی پاگل انا اکثر ہمیں

واپس بلاتی تھی

ہم اپنے بند کمروں میں پلٹ جاتے تھے

لیکن یہ بہت پہلے کی باتیں ہیں

اور اب تو بیتنے والے تہی ایام

ویرانی زمانے کی

ہماری روح افسردہ

تمہاری آس میں گم ہے

اداسی اور تنہائی

تجھے واپس بلاتی ہے

جہاں آگے نکل آئے ہو تم

مجھ کو نظر بھی اب نہیں آتے

بہت پیچھے

عجب اک درد کی بستی ہے

میں جس کا مکیں ہوں

بے لب و لہجہ صدا کی قید میں

دن کاٹتا ہوں

اب پلٹ آؤ

جدائی کے خلا کی تیرگی

چاروں طرف سے

جسم و جاں پر وار کرتی ہے

چلے آؤ

سر بیماری دل

درد کی حالت بگڑتی ہے

میرے اندر

کوئی بستی اجڑتی ہے

بہت ہی دور وادیوں سے یہ صدا آئی

کہ جب تم پیار کرنا' تو کبھی انکار کے ڈر سے

کسی کی جیت کے ڈر سے' یا اپنی ہار کے ڈر سے

کبھی بھی دل کی آوازوں کو تم دل میں نہیں رکھنا

انہیں ہونٹوں کے زندانوں کے پھر آزاد کر دینا

کہ جو ایسا نہیں کرتا' اسے افسوس ہوتا ہے

اسے پھر زندگی میں ہر لمحہ افسوس رہتا ہے

کہ اس نے زندگی کے بے بہا انمول تحفہ کو

فقط اندیشہ و افکار پر قربان کر ڈالا

کہ اس نے چند برسوں کی فقط تکلیف کے بدلے

زندگی بھر کے پچھتاوے کا یہ عذاب کیوں پالا

کہ جو ایسا نہیں کرتا

وہ پھر تنہائی کے وسیع و بے رحم صحرا میں

محبت کی فقط دو چار بوندوں کو ترستا ہے

زندگی کے کسی بھی موڑ سے جب وہ گذرتا ہے

کسی اپنے سے دل کی بات کرنے کو مچھلتا ہے

وہ جب بیمار ہوتا ہے

کسی ہمدرد' کسی ہمنوا کو یاد کرتا ہے

وہ پھر یہ سوچا کرتا ہے

کوئی ہو جو مجھے' پرہیز کی تاکید کرتا ہو

کوئی ہو جو میری تکلیف میں خود بھی تڑپتا ہو

دوا نہ لوں کبھی جو میں تو پھر ڈانٹا بھی کرتا ہو

کوئی تو ہو . . . . کوئی تو ہو . . جو مجھ سے پیار کرتا ہو.

انہی سوچوں سے گبھرا کر وہ پھر خود ہی سے لڑتا ہے

میں اس بے رحم دنیا میں اکیلے جی بھی سکتا ہوں!!!

مقدر میں ہیں جو لکھے' وہ آنسو پی بھی سکتا ہوں!!!

مگر وہ ہار جاتا ہے .

اور جب وہ ہار جاتا ہے

تو اس کی آنکھ سے چپکے سے اک آنسو لڑھکتا ہے

اسے پچھتانا پڑتا ہے

سو جب تم پیار کرنا تو کھی انکار کے ڈر سے

کسی کی جیت کے ڈر سے' یا اپنی ہار کے ڈر سے

کبھی بھی دل کی آوازوں کو تم دل میں نہیں رکھنا

انہیں ہونٹوں کے زندانوں سے بھر آذاد کر دینا

کہ جو ایسا نہیں کرتا اسے افسوس ہوتا ہے

کہ جو ایسا نہیں کرتا اسے پچھتانا پڑتا ہے

محبت پھول ہے جاناں

محبت پھول ہے جاناں

کہو تو پھول بن جاؤں

تمھاری زندگی کا ایک

حسیں اصول بن جاؤں

سنا ہے ریت پہ چل کے

تم اکثر مہک جاتے ہو

کہو تو اب کی بار میں

زمیں کی دُھول بن جاؤں

بہت نایاب ہوتے ہیں

جنہیں تم اپنا کہتے ہو

اجازت دو کہ میں بھی

اس قدر انمول بن جاؤں

آنکھوں سے کون میری، میرے خواب لے گیا

چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا

اس شہرِ خوش جمال کو کس کی لگی ہے آہ

کس دل زدہ کا گریہءِ خوں ناب لے گیا

کچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دور تھا

کچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا

واں شہر ڈوبتے ہیں ، ادھر بحث کہ انہیں

خم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا

کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں

شاید انہیں بہا کےکوئی خواب لے گیا

طوفانِ ابر باد میں سب گیت کھو گئے

جھونکا ہوا کا ہاتھ سے مضراب لے گیا

غیروں کی دشمنی نے نہ مارا، مگر ہمیں

اپنوں کے التفات کا زہراب لے گیا

اےآنکھ! اب تو خواب کی دنیا سے لوٹ آ

“مژگاں تو کھول ! شہر کو سیلاب لے گیا

سُن لیا ہم نے فیصلہ تیرا

اور سن کر، اداس ہو بیٹھے

ذہن چپ چاپ آنکھ خالی ہے

جیسے ہم کائنات کھو بیٹھے

دھندلے دھندلے سے منظروں میں مگر

چھیڑتی ہیں تجلیاں تیری

بھولی بسری ہوئی رُتوں سے ادھر

یاد آئیں تسلیاں تیری

دل یہ کہتا ہے ضبط لازم ہے

ہجر کے دن کی دھوپ ڈھلنے تک

اعتراف شکست کیا کرنا

فیصلے کی گھڑی بدلنے تک

دل یہ کہتا ہے حوصلہ رکھنا

سنگ رستے سے ہٹ بھی سکتے ہیں

اس سے پہلے کہ آنکھ بجھ جائے

جانے والے پلٹ بھی سکتے ہیں

اب چراغاں کریں ہم اشکوں سے

یا مناظر بجھے بجھے دیکھیں

اک طرف تُو ہے، اک طرف دل ہے

دل کی مانیں، کہ اب تجھے دیکھیں؟

خود سے کشمکش سی جاری ہے

راہ میں تیرا غم بھی حائل ہے

چاک در چاک ہے قبائے حواس

بے رفُو سوچ، رُوح گھائل ہے

تجھ کو پایا تو چاک سی لیں گے

غم بھی امرت سمجھ کے پی لیں گے

ورنہ یوں ہے کہ دامنِ دل میں

چند سانسیں ہیں، گِن کے جی لیں گے

عادت ہی بنالی ہے

اس شہر کے لوگوں نے

انداز بدل لینا

آواز بدل لینا

دنیا کی محبت میں اطوار بدل لینا

اغیار وہی رکھنا

احباب بدل لینا

رستے میں اگر ملنا

تو نظروں کو جھکا لینا

آواز اگر دو تو کترا کے نکل لینا

ہر اک سے جدا رہنا

ہر اک سے خفا رہنا

ہر اک کا گلا کرنا

جاتے ہوئے راہی کو

منزل کا پتہ دے کر رستے میں رولا دینا

عادت ہی بنالی ہے

اس شہر کے لوگوں نے

حدودِ جاں سے گزر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

محبتوں کی نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

وفا کا پودا شجر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

نصیب اس کا ثمر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

ابھی تو پھرتے ہو دوستوں میں عزیز کوئی جداُ نہیں ہے

کوئی ادھرِ ِ سے اُدھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

یہ خوش نصیبی ہے شہر بھر میں تمھارا دشمنُ نہیں ہے کوئی

کبھی کسی کا جو ڈر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا

یہ فاصلہ سا ابھی تلک جو ہمارے دونوں کے درمیاں ہے

یہ فاصلہ مختصر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

ابھی محبت نہیں ہوئی تو کچھ اسلئے مسکراُ رہے ہو

کسی کی بانہوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

محبتوں میں تو پتھروں کو بھی موم ہوتے سناُ ہے لیکن

تمھارے دل پہ اثر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

وہ جس کی خاطر زمانے بھر کو بنا رہے ہو تم اپنا دشمنُ

وہی نہ اپنا اگر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

بدل بدل کے ابھی تو چہرے معیار اپنا بنا رہے ہو

کوئی نہ حد نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا

یہ کیا بچھڑنا کہ شام ہوتے ہی اپنے پیاروں میں لوٹ آنا

کبھی جو لمبا سفر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا ۔ ۔ ۔

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.