August 17, 201114 yr تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں میں خواب بہت دیکھتا ہوں ایسے خواب جن میں کوئی دکھ کوئی پریشانی نہیں ہوتی جن میں وصل کے رستے ہجر کی وادی سے ہو کر نہیں گزرتے جن میں محبت ہمیشہ ادھ کھلے پھول کی طرح خوبصورت اور بچے کی مسکان کی طرح پاکیزہ ہوتی ہے
August 17, 201114 yr یہ کیا ہے نام اُلجھن ہے نجانے آگہی اور خواب کے مابین کیسا مسئلہ ہے کے ہر تخلیق سے پہلے عجب اِک خوف دل کو گھیر لیتا ہے مجھے محسوس ہوتا ہے میں اپنی آخری تحریر لکھنے جارہی ہوں سخن کی شب کے ماتھے پر وہ میرے نام کے جتنے ستارے تھے وفا کے اِستعارے تھے سب اپنی عُمر پُوری کرچکے ہیں یہی دھڑ کا سارہتا ہے کہ جتنے شعر لکھے تھے جنھیں میں اپنے ہونے کی گواہی کی طرح محسوس کرتی تھی یہ اب لکھے نہ جائیں گے یہ اب سوچے نہ جائیں گے مری نظمیں جو اب تک آرزوؤں کا سُنہرا عکس بن کر جھلملاتی تھیں محبّت کی زمینوں پر اُترتے ہجر کے اور وصل کے سب موسموں کی بات کرتی تھیں انھیں تحریر کرنے کاہُنر بھی بُھول جاؤں گی گُماں یہ بے ثباتی کا یقیں بن بن کے ہر لمحہ بڑی شدت سے میرے ذہن کادامن ہلاتا ہے یہی باور کراتا ہے کہ حرف و لفظ کا جتنا اثاثہ تھا فنا کی سرحدوں پر ہے سخن سچائی کا سارا تفاخر ٹوٹنے کو ہے محبت رُوٹھنے کو ہے یہ کیا بے نام اُلجھن ہے کہ ہر تخلیق سے پہلے عجب اِک خوف دِل کو گھیر لیتا ہے مُجھے محسوس ہوتا ہے میں اپنی آخری تحریر لکھنے جارہی ہوں
August 17, 201114 yr آخری گفتگو یہ تصویریں ہیں خط ہیں اور کچھ پُرزے ہیں جن پر تُم مجھے پیغام لکھتی تھیں انہیں محفوظ کر لو ہاں مگر افسوس ٹیلی فون پر جو گفتگو تم مجھ سے کرتی تھیں اُنہیں میں تم کو واپس کر نہیں سکتا جو میری دسترس میں تھا تمہارے سامنے ہے سب جو باقی ہے صدا ہے اب ۔۔۔۔
August 17, 201114 yr بکھر جانے سے پہلے بکھر جانے سے پہلے حبس کے قیدی مکاں اور منجمد تاریکیاں زیست کا محور بنی ہیں شب کی رقاصہ کی زخمی پائلوں کی لے کے سنگ جن گنت تنہائیاں اور زرد پھولوں میں گم ہوتی ہوا کی سسکیاں اب نہ لوٹے گا کبھی اس یاد کا بے تاب موسم اب کے گر لوٹیں گی تو لوٹیں گی فقط خاموشیاں دفن ہوتے جا رہے ہیں خاموشی کی دھول میں حرف چہرے زندگی اور روح کی پرچھائیاں چلے آؤ میرے ہمراہ تھے جب تم تیرا احساس کم کم تھا مجھے معلوم ہی کب تھا تیرا ہونا تیری موجودگی کیا ہے کبھی تیری جدائی کے خلا کی تیرگی اور دکھ کسی لمحے کی آہٹ سے جھلکتا تھا تو پل دو پل تیری چاہت مچلتی تھی میرے دل میں تیرے ہونے کی شدت جاگ اٹھتی تھی مگر اک اجنبی پاگل انا اکثر ہمیں واپس بلاتی تھی ہم اپنے بند کمروں میں پلٹ جاتے تھے لیکن یہ بہت پہلے کی باتیں ہیں اور اب تو بیتنے والے تہی ایام ویرانی زمانے کی ہماری روح افسردہ تمہاری آس میں گم ہے اداسی اور تنہائی تجھے واپس بلاتی ہے جہاں آگے نکل آئے ہو تم مجھ کو نظر بھی اب نہیں آتے بہت پیچھے عجب اک درد کی بستی ہے میں جس کا مکیں ہوں بے لب و لہجہ صدا کی قید میں دن کاٹتا ہوں اب پلٹ آؤ جدائی کے خلا کی تیرگی چاروں طرف سے جسم و جاں پر وار کرتی ہے چلے آؤ سر بیماری دل درد کی حالت بگڑتی ہے میرے اندر کوئی بستی اجڑتی ہے
August 17, 201114 yr بہت ہی دور وادیوں سے یہ صدا آئی کہ جب تم پیار کرنا' تو کبھی انکار کے ڈر سے کسی کی جیت کے ڈر سے' یا اپنی ہار کے ڈر سے کبھی بھی دل کی آوازوں کو تم دل میں نہیں رکھنا انہیں ہونٹوں کے زندانوں کے پھر آزاد کر دینا کہ جو ایسا نہیں کرتا' اسے افسوس ہوتا ہے اسے پھر زندگی میں ہر لمحہ افسوس رہتا ہے کہ اس نے زندگی کے بے بہا انمول تحفہ کو فقط اندیشہ و افکار پر قربان کر ڈالا کہ اس نے چند برسوں کی فقط تکلیف کے بدلے زندگی بھر کے پچھتاوے کا یہ عذاب کیوں پالا کہ جو ایسا نہیں کرتا وہ پھر تنہائی کے وسیع و بے رحم صحرا میں محبت کی فقط دو چار بوندوں کو ترستا ہے زندگی کے کسی بھی موڑ سے جب وہ گذرتا ہے کسی اپنے سے دل کی بات کرنے کو مچھلتا ہے وہ جب بیمار ہوتا ہے کسی ہمدرد' کسی ہمنوا کو یاد کرتا ہے وہ پھر یہ سوچا کرتا ہے کوئی ہو جو مجھے' پرہیز کی تاکید کرتا ہو کوئی ہو جو میری تکلیف میں خود بھی تڑپتا ہو دوا نہ لوں کبھی جو میں تو پھر ڈانٹا بھی کرتا ہو کوئی تو ہو . . . . کوئی تو ہو . . جو مجھ سے پیار کرتا ہو. انہی سوچوں سے گبھرا کر وہ پھر خود ہی سے لڑتا ہے میں اس بے رحم دنیا میں اکیلے جی بھی سکتا ہوں!!! مقدر میں ہیں جو لکھے' وہ آنسو پی بھی سکتا ہوں!!! مگر وہ ہار جاتا ہے . اور جب وہ ہار جاتا ہے تو اس کی آنکھ سے چپکے سے اک آنسو لڑھکتا ہے اسے پچھتانا پڑتا ہے سو جب تم پیار کرنا تو کھی انکار کے ڈر سے کسی کی جیت کے ڈر سے' یا اپنی ہار کے ڈر سے کبھی بھی دل کی آوازوں کو تم دل میں نہیں رکھنا انہیں ہونٹوں کے زندانوں سے بھر آذاد کر دینا کہ جو ایسا نہیں کرتا اسے افسوس ہوتا ہے کہ جو ایسا نہیں کرتا اسے پچھتانا پڑتا ہے
August 17, 201114 yr محبت پھول ہے جاناں محبت پھول ہے جاناں کہو تو پھول بن جاؤں تمھاری زندگی کا ایک حسیں اصول بن جاؤں سنا ہے ریت پہ چل کے تم اکثر مہک جاتے ہو کہو تو اب کی بار میں زمیں کی دُھول بن جاؤں بہت نایاب ہوتے ہیں جنہیں تم اپنا کہتے ہو اجازت دو کہ میں بھی اس قدر انمول بن جاؤں
August 17, 201114 yr آنکھوں سے کون میری، میرے خواب لے گیا چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا اس شہرِ خوش جمال کو کس کی لگی ہے آہ کس دل زدہ کا گریہءِ خوں ناب لے گیا کچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دور تھا کچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا واں شہر ڈوبتے ہیں ، ادھر بحث کہ انہیں خم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں شاید انہیں بہا کےکوئی خواب لے گیا طوفانِ ابر باد میں سب گیت کھو گئے جھونکا ہوا کا ہاتھ سے مضراب لے گیا غیروں کی دشمنی نے نہ مارا، مگر ہمیں اپنوں کے التفات کا زہراب لے گیا اےآنکھ! اب تو خواب کی دنیا سے لوٹ آ “مژگاں تو کھول ! شہر کو سیلاب لے گیا
August 17, 201114 yr سُن لیا ہم نے فیصلہ تیرا اور سن کر، اداس ہو بیٹھے ذہن چپ چاپ آنکھ خالی ہے جیسے ہم کائنات کھو بیٹھے دھندلے دھندلے سے منظروں میں مگر چھیڑتی ہیں تجلیاں تیری بھولی بسری ہوئی رُتوں سے ادھر یاد آئیں تسلیاں تیری دل یہ کہتا ہے ضبط لازم ہے ہجر کے دن کی دھوپ ڈھلنے تک اعتراف شکست کیا کرنا فیصلے کی گھڑی بدلنے تک دل یہ کہتا ہے حوصلہ رکھنا سنگ رستے سے ہٹ بھی سکتے ہیں اس سے پہلے کہ آنکھ بجھ جائے جانے والے پلٹ بھی سکتے ہیں اب چراغاں کریں ہم اشکوں سے یا مناظر بجھے بجھے دیکھیں اک طرف تُو ہے، اک طرف دل ہے دل کی مانیں، کہ اب تجھے دیکھیں؟ خود سے کشمکش سی جاری ہے راہ میں تیرا غم بھی حائل ہے چاک در چاک ہے قبائے حواس بے رفُو سوچ، رُوح گھائل ہے تجھ کو پایا تو چاک سی لیں گے غم بھی امرت سمجھ کے پی لیں گے ورنہ یوں ہے کہ دامنِ دل میں چند سانسیں ہیں، گِن کے جی لیں گے
August 17, 201114 yr عادت ہی بنالی ہے اس شہر کے لوگوں نے انداز بدل لینا آواز بدل لینا دنیا کی محبت میں اطوار بدل لینا اغیار وہی رکھنا احباب بدل لینا رستے میں اگر ملنا تو نظروں کو جھکا لینا آواز اگر دو تو کترا کے نکل لینا ہر اک سے جدا رہنا ہر اک سے خفا رہنا ہر اک کا گلا کرنا جاتے ہوئے راہی کو منزل کا پتہ دے کر رستے میں رولا دینا عادت ہی بنالی ہے اس شہر کے لوگوں نے
August 17, 201114 yr حدودِ جاں سے گزر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا محبتوں کی نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا وفا کا پودا شجر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا نصیب اس کا ثمر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی تو پھرتے ہو دوستوں میں عزیز کوئی جداُ نہیں ہے کوئی ادھرِ ِ سے اُدھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا یہ خوش نصیبی ہے شہر بھر میں تمھارا دشمنُ نہیں ہے کوئی کبھی کسی کا جو ڈر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا یہ فاصلہ سا ابھی تلک جو ہمارے دونوں کے درمیاں ہے یہ فاصلہ مختصر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا ابھی محبت نہیں ہوئی تو کچھ اسلئے مسکراُ رہے ہو کسی کی بانہوں میں گھر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا محبتوں میں تو پتھروں کو بھی موم ہوتے سناُ ہے لیکن تمھارے دل پہ اثر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا وہ جس کی خاطر زمانے بھر کو بنا رہے ہو تم اپنا دشمنُ وہی نہ اپنا اگر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا بدل بدل کے ابھی تو چہرے معیار اپنا بنا رہے ہو کوئی نہ حد نظر ہوا تو محبتوں کا پتا چلے گا یہ کیا بچھڑنا کہ شام ہوتے ہی اپنے پیاروں میں لوٹ آنا کبھی جو لمبا سفر ہوا تو محبتوں کا پتہ چلے گا ۔ ۔ ۔
Create an account or sign in to comment