Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

2467628ria5jgxgx3.gif

باتیں ہیں اُجلی اُجلی اور من اندر سے کالے ہیں

اس نگری کے سارے چہرے اپنے دیکھے بھالے ہیں

نینوں میں کاجل کے ڈورے رُخ پہ زُلف کے ہالے ہیں

من مایا کو لوٹنے والے کتنے بھولے بھالے ہیں

تم پر تو اے ہم نفسو! کچھ جبر نہیں، تم تو بولو

ہم تو چپ سادھے بیٹھے ہیں اور زباں پر تالے ہیں

آنکھوں میں روشن ہیں تمھاری آشاؤں کے سندر دِیپ

دل میں سہانی یادوں کے کچھ دُھندلے سے اجیالے ہیں

تم سے کیسا شکوہ کرنا، شکوہ کرنا اب لاحاصل

خود ہی سوچو تم نے اب تک کتنے وعدے ٹالے ہیں

آج اگر احباب ہمارے ہم کو ہی ڈستے ہیں تو کیا؟

یہ زہریلے ناگ تو ناصر ہم نے خود ہی پالے ہیں

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 299.8k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

بہت بے درد ہوں نا میں؟

ستاتا ہوں بہت تُم کو

رُلاتا ہوں بہت تُم کو

کہ تُم کو چھوڑ کر تنہا

خزاں لمحوں کی بانہوں میں

بہت ہی دُور سوچوں سے

یہاں پردیس آیا ہوں

مگر میں سوچتا ہوں کہ

سبھی ساون، سبھی بھادوں

کٹے جو میرے بن جاناں

وہ سب کیسے لوٹاؤں گا

کہ میں اس ہجر کی قیمت

بھلا کیسے چُکاؤں گا

کہوں گا کیا، کروں گا کیا؟

مجھے اتنا پتا دے دو؟

چلو ایسا کرو جاناں

مجھے کوئی سزا دے دو

کہ جب سونے کو من چاہے

اور ان آنکھوں کو مُوندوں میں

میری پلکوں کی گھونگٹ اُڑ کر

تُم رُوبرو آنا

میری آنکھوں میں بس جانا

ذرا بھی دُور اپنی یاد سے ہونے نہیں دینا

مجھے سونے نہیں دینا

کاش سمھتے وہ اس دل کی تڑپ کو

تو یوں ان مجے تنہا کیا ہوتا

انکی بے روہی بھی منظور تھی مجھے

بس ایک بار مجکو سمجھ تو لیا ہوتا

اب تو یوں لگتا ہے جیسے تجھے دیکھا ہی نہ تھا

جیسے بادل کبھی صحراؤں پہ برسا ہی نہ تھا

اب تو دھند لانے لگے ہیں تیرے چہرے کے نقوش

دونوں ہاتھوں میں اِسے جس طرح تھاما ہی نہ تھا

ہم کو یہ زعم کہ ہم بھی ہیں محبّت کے خدا

اور وہ شخص کہ شیشے میں اُترتا ہی نہ تھا

آشنائی کی یہ ہلکی سی جھلک بھی کیوں ہے

یوں گزر جاؤ کہ جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا

تجھ کو کھو بیٹھے تو یاد آیا کہ تُو اپنا تھا

تجھ کو پانے کا تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہ تھا

<Zahid sharab peeny dy masjid me beth kr....

ya wo jaga bata jahan khuda nahi...(Ghalib)

<Masjid khuda ka ghar hy peeny ki jaaga nahe...

Kafer ke dil may ja waha pr khuda nhe...(Iqbal)

📢 Post Your Ad Here

لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں

میں وقت ہوں گزر رہا ہوں

لوگوں کے دل میں درد بن کر

کب سے جانے اتر رہا ہوں

چہرہ چہرہ میری کہانی

آنکھوں آنکھوں پڑھ رہا ہوں

لے آئی زندگی کہاں پر

اپنی آہٹ سے ڈر رہا ہوں

شہروں میں آدمی بہت ہیں

انسان تلاش کر رہا ہوں

حالات پھر بدل گئے ہیں

اور میں کہ پھر سنور رہا ہوں

انجام کی مجھ کو فکر کیا

طوفان ہوں بپھر رہا ہوں

غرقاب ہو گئے معانی

الفاظ کا بھنور رہا ہوں

سہمے سہمے راستوں میں

ڈر ڈر کہ پائوں ہو رہا ہوں

لاکھوں ہی رنگتوں میں اک

بے رنگ ہوں بکھر رہا ہوں

دنیا کتنی بدل گئی ہے

میں بھی اب میں کدھر رہا ہوں

خاموش ہو گیا زمانہ

خود سے کلام کر رہا ہوں

یوں جی رہا ہوں شام جیسے

کوئی گناہ کر رہا ہوں

یہاں سے اب کہیں لے چل خیالِ یار مجھے

چمن میں راس نہ آئے گی بہار مجھے

تیری لطیف نگاہوں کی خاص جنبش نے

بنا دیا تیری فطرت کا رازدار مجھے

میری حیات کا انجام اور کچھ ہوتا

جو آپ کہتے کبھی اپنا جانثار مجھے

بدل دیا ہے نگاہوں نے رخ زمانے کا

کبھی رہا ہے زمانے پہ اختیار مجھے

یہ حادثات جو ہیں اضطراب کا پیغام

یہ حادثات ہی آئیں *گے سازگار مجھے

عزیز اہلِ چمن کی شکائت بے سود

فریب دے گی رنگینئی بہار مجھے

عزیز وارثی

اسکو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق

اے مرگ ناگہاں تیرا آنا بہت ہوا

ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا

اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا

اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی

اس سے ذرا ربط بڑھانا بہت ہوا

اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں

اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا

اب تک تو دل سے دل کا تعارف نہ ہو سکا

مانا کے اس سے ملنا ملانا بہت ہوا

کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل

اے یاد یار تیرا ٹھکانا بہت ہوا

لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر

احمد فراز تجھ سے کہا نا بہت ہوا

مری ہستی عبادت ہو گئی ہے

مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے

تیرے آنے سے پہلے تھی قیامت

تم آئے تو قیامت ہو گئی ہے

سکونِ دل سے اس کا واسطہ کیا

تری جس پر عنائت ہو گئی ہے

سراغِ زندگی بخشا ہے جس نے

اسی غم سے عقیدت ہو گئی ہے

نہیں ہے دخل کچھ تیری جفا کا

یونہی رونے کی عادت ہو گئی ہے

وہ آئے غیر کو لے کر لحد پر

مصیبت پر مصیبت ہو گئی ہے

وہ کہتے ہیں واصف مر چکا ہے

مبارک ہو شہادت ہو گئی ہے

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا

کبھی جاں صدقے ہوتی ، کبھی دل نثار ہوتا

جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا

تم ہی منصفی سے کہہ دو،تمہیں اعتبار ہوتا؟

یہ مزا تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی

نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا

نہ مزہ ہے دشمنی میں نہ لطف ہے دوستی میں

کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا

ترے وعدے پہ ستم گر ابھی اور صبر کرتے

اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا

تمہیں ناز ہو نہ کیوں کر کہ لیا ہے داغ کا دل

یہ رقم نہ ہا تھ لگتی ، نہ یہ اختیار ہوتا

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.