August 17, 201114 yr باتیں ہیں اُجلی اُجلی اور من اندر سے کالے ہیں اس نگری کے سارے چہرے اپنے دیکھے بھالے ہیں نینوں میں کاجل کے ڈورے رُخ پہ زُلف کے ہالے ہیں من مایا کو لوٹنے والے کتنے بھولے بھالے ہیں تم پر تو اے ہم نفسو! کچھ جبر نہیں، تم تو بولو ہم تو چپ سادھے بیٹھے ہیں اور زباں پر تالے ہیں آنکھوں میں روشن ہیں تمھاری آشاؤں کے سندر دِیپ دل میں سہانی یادوں کے کچھ دُھندلے سے اجیالے ہیں تم سے کیسا شکوہ کرنا، شکوہ کرنا اب لاحاصل خود ہی سوچو تم نے اب تک کتنے وعدے ٹالے ہیں آج اگر احباب ہمارے ہم کو ہی ڈستے ہیں تو کیا؟ یہ زہریلے ناگ تو ناصر ہم نے خود ہی پالے ہیں
August 17, 201114 yr بہت بے درد ہوں نا میں؟ ستاتا ہوں بہت تُم کو رُلاتا ہوں بہت تُم کو کہ تُم کو چھوڑ کر تنہا خزاں لمحوں کی بانہوں میں بہت ہی دُور سوچوں سے یہاں پردیس آیا ہوں مگر میں سوچتا ہوں کہ سبھی ساون، سبھی بھادوں کٹے جو میرے بن جاناں وہ سب کیسے لوٹاؤں گا کہ میں اس ہجر کی قیمت بھلا کیسے چُکاؤں گا کہوں گا کیا، کروں گا کیا؟ مجھے اتنا پتا دے دو؟ چلو ایسا کرو جاناں مجھے کوئی سزا دے دو کہ جب سونے کو من چاہے اور ان آنکھوں کو مُوندوں میں میری پلکوں کی گھونگٹ اُڑ کر تُم رُوبرو آنا میری آنکھوں میں بس جانا ذرا بھی دُور اپنی یاد سے ہونے نہیں دینا مجھے سونے نہیں دینا
August 17, 201114 yr کاش سمھتے وہ اس دل کی تڑپ کو تو یوں ان مجے تنہا کیا ہوتا انکی بے روہی بھی منظور تھی مجھے بس ایک بار مجکو سمجھ تو لیا ہوتا
August 17, 201114 yr اب تو یوں لگتا ہے جیسے تجھے دیکھا ہی نہ تھا جیسے بادل کبھی صحراؤں پہ برسا ہی نہ تھا اب تو دھند لانے لگے ہیں تیرے چہرے کے نقوش دونوں ہاتھوں میں اِسے جس طرح تھاما ہی نہ تھا ہم کو یہ زعم کہ ہم بھی ہیں محبّت کے خدا اور وہ شخص کہ شیشے میں اُترتا ہی نہ تھا آشنائی کی یہ ہلکی سی جھلک بھی کیوں ہے یوں گزر جاؤ کہ جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا تجھ کو کھو بیٹھے تو یاد آیا کہ تُو اپنا تھا تجھ کو پانے کا تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہ تھا
August 17, 201114 yr <Zahid sharab peeny dy masjid me beth kr.... ya wo jaga bata jahan khuda nahi...(Ghalib) <Masjid khuda ka ghar hy peeny ki jaaga nahe... Kafer ke dil may ja waha pr khuda nhe...(Iqbal)
August 17, 201114 yr لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں وقت ہوں گزر رہا ہوں لوگوں کے دل میں درد بن کر کب سے جانے اتر رہا ہوں چہرہ چہرہ میری کہانی آنکھوں آنکھوں پڑھ رہا ہوں لے آئی زندگی کہاں پر اپنی آہٹ سے ڈر رہا ہوں شہروں میں آدمی بہت ہیں انسان تلاش کر رہا ہوں حالات پھر بدل گئے ہیں اور میں کہ پھر سنور رہا ہوں انجام کی مجھ کو فکر کیا طوفان ہوں بپھر رہا ہوں غرقاب ہو گئے معانی الفاظ کا بھنور رہا ہوں سہمے سہمے راستوں میں ڈر ڈر کہ پائوں ہو رہا ہوں لاکھوں ہی رنگتوں میں اک بے رنگ ہوں بکھر رہا ہوں دنیا کتنی بدل گئی ہے میں بھی اب میں کدھر رہا ہوں خاموش ہو گیا زمانہ خود سے کلام کر رہا ہوں یوں جی رہا ہوں شام جیسے کوئی گناہ کر رہا ہوں
August 17, 201114 yr یہاں سے اب کہیں لے چل خیالِ یار مجھے چمن میں راس نہ آئے گی بہار مجھے تیری لطیف نگاہوں کی خاص جنبش نے بنا دیا تیری فطرت کا رازدار مجھے میری حیات کا انجام اور کچھ ہوتا جو آپ کہتے کبھی اپنا جانثار مجھے بدل دیا ہے نگاہوں نے رخ زمانے کا کبھی رہا ہے زمانے پہ اختیار مجھے یہ حادثات جو ہیں اضطراب کا پیغام یہ حادثات ہی آئیں *گے سازگار مجھے عزیز اہلِ چمن کی شکائت بے سود فریب دے گی رنگینئی بہار مجھے عزیز وارثی
August 17, 201114 yr اسکو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق اے مرگ ناگہاں تیرا آنا بہت ہوا ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی اس سے ذرا ربط بڑھانا بہت ہوا اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا اب تک تو دل سے دل کا تعارف نہ ہو سکا مانا کے اس سے ملنا ملانا بہت ہوا کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل اے یاد یار تیرا ٹھکانا بہت ہوا لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر احمد فراز تجھ سے کہا نا بہت ہوا
August 17, 201114 yr مری ہستی عبادت ہو گئی ہے مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے تیرے آنے سے پہلے تھی قیامت تم آئے تو قیامت ہو گئی ہے سکونِ دل سے اس کا واسطہ کیا تری جس پر عنائت ہو گئی ہے سراغِ زندگی بخشا ہے جس نے اسی غم سے عقیدت ہو گئی ہے نہیں ہے دخل کچھ تیری جفا کا یونہی رونے کی عادت ہو گئی ہے وہ آئے غیر کو لے کر لحد پر مصیبت پر مصیبت ہو گئی ہے وہ کہتے ہیں واصف مر چکا ہے مبارک ہو شہادت ہو گئی ہے
August 17, 201114 yr عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا کبھی جاں صدقے ہوتی ، کبھی دل نثار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تم ہی منصفی سے کہہ دو،تمہیں اعتبار ہوتا؟ یہ مزا تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا نہ مزہ ہے دشمنی میں نہ لطف ہے دوستی میں کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا ترے وعدے پہ ستم گر ابھی اور صبر کرتے اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا تمہیں ناز ہو نہ کیوں کر کہ لیا ہے داغ کا دل یہ رقم نہ ہا تھ لگتی ، نہ یہ اختیار ہوتا
Create an account or sign in to comment