August 16, 201114 yr BichhaR ke mujh se kabhi tu ne yeh bhi sochaa hai Adhuuraa chaand bhi kitnaa udaas lagtaa hai Ye lamhaa vasl kaa hai isko raayegaaN na samajh K is ke baad vahii duuriyoN kaa sahraa hai Kuchh aur der na jhaRtaa udaasiyoN kaa shajar Kise Khabar tere saaye meN kaun baiThaa hai Ye rakh-rakhaao muhabbat sikhaa gayii us ko Vo ruuth kar bhi mujhe muskuraa ke miltaa hai MaiN kis tarah tujhe dekhuun nazar jhijhakti hai Teraa badan hai K yeh aaiinoN kaa dariyaa hai
August 17, 201114 yr **<< Tere Naam >>** مجرم ہوں *تیرا آ مجھے جو چاہے سزا دے اس دل میں محبت کی صنم آگ لگا دے جذبات کا دل میں کوئی طوفان اٹھا کے کہتے ہیں جسے پیار زمانے کو دکھا دے دنیا سے کبھی پیار کا شکوہ نہ کروں گا لے ہاتھ میں خنجر میری گردن کو اڑا دے ان مست نگاہوں سے سرِ شام پلا کر دیوانے کو کچھ اور بھی دیوانہ بنا دے اب پیار کی اس راہ سے کانٹوں کو ہٹا کر دشمن کو جلانے کے لئے پھول بچھا دے اب حسنِ تجلّی سے جلے باز ہے تیرا رُخسار پہ اپنے زرا پردہ تو گرا دے ~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~
August 17, 201114 yr عمر گزری جس کا رستہ دیکھتے آ بھی جاتا وہ تو ہم کیا دیکھتے کیسے کیسے موڑ آئے راہ میں ساتھ چلتے تو تماشا دیکھتے قریہ قریہ جتنا آوارہ پھرے گھر میں رہ لیتے تو دنیا دیکھتے گر بہا آتے نہ دریاؤں میں ہم آج ان آنکھوں سے صحرا دیکھتے خود ہی رکھ آتے دیا دیوار پر اور پھر اس کا بھڑکنا دیکھتے جب ہوئی تعمیرِ جسم و جاں تو لوگ ہاتھ کا مٹی میں کھونا دیکھتے دو قدم چل آتے اس کے ساتھ ساتھ جس مسافر کو اکیلا دیکھتے اعتبار اٹھ جاتا آپس کا جمال لوگ اگر اس کا بچھڑنا دیکھتے <<~*~*~*~>>
August 17, 201114 yr ياديں ہيں اپنے شہر کي اہل سفر کے ساتھ صحرا ميں لوگ آئےہیں ديوار و در کے ساتھ منظر کو ديک کر پس منظر بھي ديکھئے بستي نئي بس ہے پرانے کھنڈر کے ساتھ سائے ميں جان پڑ گئي ديکھا جو غور سے مخصوص يہ کمال ہے اہل نظر کے ساتھ اک دن ملا تھا بام پہ سورج کہيں جسے الجھے ہيں اب بھي دھوپ کے ڈورے کگر کےساتھ اک ياد ہے کہ دامن دل چھوڑتي نہيں اک بيل ہے کہ لپٹي ہوئي ہے شجر کے ساتھ اس مرحلے کو موت بھي کہتے ہيں دوستو اک پل ميں ٹوٹ جائيں جہاں عمر بھر کے ساتھ ميري طرح يہ صبح بھي فنکار ہے شکيب لکھتي ہے آسماں پہ غزل آب زر کے ساتھ
August 17, 201114 yr تو میرا ھے تیرا نام کوئی اور نہ لے ان بھیگتی آنکھوں کا جام کوئی اور نہ لے کچھ اس لیئے بھی تیرا ہاتھ نہ چھوڑا تو گر گیا تو تجھے تھام کوئی اور نہ لے
August 17, 201114 yr سفر کا ذوق ہی کچھ تو مسافروں میں نہ تھا کچھ آرزو کا دفینہ بھی منزلوں میں نہ تھا میں اپنے ہاتھ کو سنگسار کرنے نکلا ہُوں نظر میں جادو تھا ایسا جو انگلیوں میں نہ تھا فصیلِ شب پہ کھڑا ہوں یہ سوچتا ہوں میں کہ پہلے اتنا اندھیرا کبھی گھروں میں نہ تھا دمک تھی جس کی پسینے کی باس میں پنہاں وہ جسم وجان کا گوہر سمندروں میں نہ تھا تمام عمر بھلا کیوں وہ میرے ساتھ رہا جو دوست بن نہ سکا اور دشمنوں میں نہ تھا کُھلے ہیں ہاتھ میرے کیوں کہاں ہے مُہرِ زباں ؟ کہ اتنا گہرا سلیقہ تو رہزنوں میں نہ تھا چلا گیا تیری گلیوں سے دُور اب خالدؔ وہ شخص شہر کے اچھے سخنوروں میں نہ تھا
August 17, 201114 yr گلوں کو سننا ذرا تم، صدائیں بھیجی ہیں گلوں کے ہاتھ بہت سی، دُعائیں بھیجی ہیں جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیں وہ دِل ہے میرا، اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں تمہاری خشک سی آنکھیں، بھلی نہیں لگتیں وہ ساری یادیں جو تم کو رُلائیں، بھیجی ہیں سیاہ رنگ، چمکتی ہوئی کناری ہے پہن لو اچھی لگیں گی گھٹائیں بھیجی ہیں تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں سزائیں بھیج دو، ہم نے خطائیں بھیجی ہیں اکیلا پتہ ہوا میں بہت بلند اُڑا زمیں سے پاؤں اُٹھاؤ، ہوائیں بھیجی ہیں
August 17, 201114 yr دردِ دل میں کمی نہ ہو جائے دوستی دشمنی نہ ہو جائے تُم میری دوستی کا دم نہ بھرو آسماں مدعی نہ ہو جائے بیٹھا ہوں ہمیشہ رندوں میں کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے اپنی خوئے وفا سے ڈراتا ہوں عاشقی ، بندگی نہ ہو جائے
August 17, 201114 yr اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے اک نظر میری طرف دیکھ تیرا جاتا کیا ہے میری رسوائی میں تو بھی ہے برابر کا شریک میرے قصے میرے یاروں کو سناتا کیا ہے پاس رہ کر بھی نہ پہچان سکا تو مجھ کو دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے سفرِ شوق میں کیوں کانپتے ہیں پاؤں تیرے دور سے دیکھ کے اب ہاتھ اٹھاتا کیا ہے عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے تو مجھے میرے سائے سے ڈراتا کیا ہے مر گئے پیاس کے مارے تو اٹھا ابرِ کرم بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے میں تیرا کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا تو بتا دیکھ کر مجھ کو تیرے ذہن میں آتا کیا ہے
August 17, 201114 yr قربت بھی نہیں ، دِل سے اُتر بھی نہیں جاتا وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا آنکھیں ہیں کہ خالی نہیں رہتی ہیں لہو سے اور زخمِ جُدائی ہے کہ بھر بھی نہیں جاتا وہ راحتِ جاں ہے مگر اِس در بدری میں ایسا ہے کہ اب دھیان اُدھر بھی نہیں جاتا ہم دُہری اذیت کے گرفتار مُسافر پائوں بھی ہیں شَل شوقِ سفر بھی نہیں جاتا دِل کو تیری چاہت پہ بھروسہ بھی بُہت ہے اور تُجھ سے بِچھڑ جانے کا ڈَر بھی نہیں جاتا پاگل ہوئے جاتے ہو فراز اُس سے مِلے کیا اِتنی سی خوشی سے کوئی مَر بھی نہیں جاتا
Create an account or sign in to comment