Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

BichhaR ke mujh se kabhi tu ne yeh bhi sochaa hai

Adhuuraa chaand bhi kitnaa udaas lagtaa hai

Ye lamhaa vasl kaa hai isko raayegaaN na samajh

K is ke baad vahii duuriyoN kaa sahraa hai

Kuchh aur der na jhaRtaa udaasiyoN kaa shajar

Kise Khabar tere saaye meN kaun baiThaa hai

Ye rakh-rakhaao muhabbat sikhaa gayii us ko

Vo ruuth kar bhi mujhe muskuraa ke miltaa hai

MaiN kis tarah tujhe dekhuun nazar jhijhakti hai

Teraa badan hai K yeh aaiinoN kaa dariyaa hai

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 300.1k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

**<< Tere Naam >>**

مجرم ہوں *تیرا آ مجھے جو چاہے سزا دے

اس دل میں محبت کی صنم آگ لگا دے

جذبات کا دل میں کوئی طوفان اٹھا کے

کہتے ہیں جسے پیار زمانے کو دکھا دے

دنیا سے کبھی پیار کا شکوہ نہ کروں گا

لے ہاتھ میں خنجر میری گردن کو اڑا دے

ان مست نگاہوں سے سرِ شام پلا کر

دیوانے کو کچھ اور بھی دیوانہ بنا دے

اب پیار کی اس راہ سے کانٹوں کو ہٹا کر

دشمن کو جلانے کے لئے پھول بچھا دے

اب حسنِ تجلّی سے جلے باز ہے تیرا

رُخسار پہ اپنے زرا پردہ تو گرا دے

~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~

عمر گزری جس کا رستہ دیکھتے

آ بھی جاتا وہ تو ہم کیا دیکھتے

کیسے کیسے موڑ آئے راہ میں

ساتھ چلتے تو تماشا دیکھتے

قریہ قریہ جتنا آوارہ پھرے

گھر میں رہ لیتے تو دنیا دیکھتے

گر بہا آتے نہ دریاؤں میں ہم

آج ان آنکھوں سے صحرا دیکھتے

خود ہی رکھ آتے دیا دیوار پر

اور پھر اس کا بھڑکنا دیکھتے

جب ہوئی تعمیرِ جسم و جاں تو لوگ

ہاتھ کا مٹی میں کھونا دیکھتے

دو قدم چل آتے اس کے ساتھ ساتھ

جس مسافر کو اکیلا دیکھتے

اعتبار اٹھ جاتا آپس کا جمال

لوگ اگر اس کا بچھڑنا دیکھتے

<<~*~*~*~>>

ياديں ہيں اپنے شہر کي اہل سفر کے ساتھ

صحرا ميں لوگ آئےہیں ديوار و در کے ساتھ

منظر کو ديک کر پس منظر بھي ديکھئے

بستي نئي بس ہے پرانے کھنڈر کے ساتھ

سائے ميں جان پڑ گئي ديکھا جو غور سے

مخصوص يہ کمال ہے اہل نظر کے ساتھ

اک دن ملا تھا بام پہ سورج کہيں جسے

الجھے ہيں اب بھي دھوپ کے ڈورے کگر کےساتھ

اک ياد ہے کہ دامن دل چھوڑتي نہيں

اک بيل ہے کہ لپٹي ہوئي ہے شجر کے ساتھ

اس مرحلے کو موت بھي کہتے ہيں دوستو

اک پل ميں ٹوٹ جائيں جہاں عمر بھر کے ساتھ

ميري طرح يہ صبح بھي فنکار ہے شکيب

لکھتي ہے آسماں پہ غزل آب زر کے ساتھ

تو میرا ھے تیرا نام کوئی اور نہ لے

ان بھیگتی آنکھوں کا جام کوئی اور نہ لے

کچھ اس لیئے بھی تیرا ہاتھ نہ چھوڑا

تو گر گیا تو تجھے تھام کوئی اور نہ لے

📢 Post Your Ad Here

سفر کا ذوق ہی کچھ تو مسافروں میں نہ تھا

کچھ آرزو کا دفینہ بھی منزلوں میں نہ تھا

میں اپنے ہاتھ کو سنگسار کرنے نکلا ہُوں

نظر میں جادو تھا ایسا جو انگلیوں میں نہ تھا

فصیلِ شب پہ کھڑا ہوں یہ سوچتا ہوں میں

کہ پہلے اتنا اندھیرا کبھی گھروں میں نہ تھا

دمک تھی جس کی پسینے کی باس میں پنہاں

وہ جسم وجان کا گوہر سمندروں میں نہ تھا

تمام عمر بھلا کیوں وہ میرے ساتھ رہا

جو دوست بن نہ سکا اور دشمنوں میں نہ تھا

کُھلے ہیں ہاتھ میرے کیوں کہاں ہے مُہرِ زباں ؟

کہ اتنا گہرا سلیقہ تو رہزنوں میں نہ تھا

چلا گیا تیری گلیوں سے دُور اب خالدؔ

وہ شخص شہر کے اچھے سخنوروں میں نہ تھا

گلوں کو سننا ذرا تم، صدائیں بھیجی ہیں

گلوں کے ہاتھ بہت سی، دُعائیں بھیجی ہیں

جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیں

وہ دِل ہے میرا، اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں

تمہاری خشک سی آنکھیں، بھلی نہیں لگتیں

وہ ساری یادیں جو تم کو رُلائیں، بھیجی ہیں

سیاہ رنگ، چمکتی ہوئی کناری ہے

پہن لو اچھی لگیں گی گھٹائیں بھیجی ہیں

تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں

سزائیں بھیج دو، ہم نے خطائیں بھیجی ہیں

اکیلا پتہ ہوا میں بہت بلند اُڑا

زمیں سے پاؤں اُٹھاؤ، ہوائیں بھیجی ہیں

دردِ دل میں کمی نہ ہو جائے

دوستی دشمنی نہ ہو جائے

تُم میری دوستی کا دم نہ بھرو

آسماں مدعی نہ ہو جائے

بیٹھا ہوں ہمیشہ رندوں میں

کہیں زاہد ولی نہ ہو جائے

اپنی خوئے وفا سے ڈراتا ہوں

عاشقی ، بندگی نہ ہو جائے

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے

اک نظر میری طرف دیکھ تیرا جاتا کیا ہے

میری رسوائی میں تو بھی ہے برابر کا شریک

میرے قصے میرے یاروں کو سناتا کیا ہے

پاس رہ کر بھی نہ پہچان سکا تو مجھ کو

دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے

سفرِ شوق میں کیوں کانپتے ہیں پاؤں تیرے

دور سے دیکھ کے اب ہاتھ اٹھاتا کیا ہے

عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے

تو مجھے میرے سائے سے ڈراتا کیا ہے

مر گئے پیاس کے مارے تو اٹھا ابرِ کرم

بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے

میں تیرا کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا تو بتا

دیکھ کر مجھ کو تیرے ذہن میں آتا کیا ہے

قربت بھی نہیں ، دِل سے اُتر بھی نہیں جاتا

وہ شخص کوئی فیصلہ کر بھی نہیں جاتا

آنکھیں ہیں کہ خالی نہیں رہتی ہیں لہو سے

اور زخمِ جُدائی ہے کہ بھر بھی نہیں جاتا

وہ راحتِ جاں ہے مگر اِس در بدری میں

ایسا ہے کہ اب دھیان اُدھر بھی نہیں جاتا

ہم دُہری اذیت کے گرفتار مُسافر

پائوں بھی ہیں شَل شوقِ سفر بھی نہیں جاتا

دِل کو تیری چاہت پہ بھروسہ بھی بُہت ہے

اور تُجھ سے بِچھڑ جانے کا ڈَر بھی نہیں جاتا

پاگل ہوئے جاتے ہو فراز اُس سے مِلے کیا

اِتنی سی خوشی سے کوئی مَر بھی نہیں جاتا

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.