August 17, 201114 yr کل چودھویں کا چاند تھا شب بھر رہا چرچا تیرا کچھ نے کہا کہ چاند ھے کچھ نے کہا چہرا تیرا ھم بھی وہاں موجود تھے ہم نے بھی سب دیکھا مگر ھم چپ رہے کچھ نہ کہا منظور تھا پردہ تیرا
August 17, 201114 yr محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہو گا یہ طے ہوا تھا بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا یہ کیا کہ سانسیں اُکھڑ رہی ہیں سفر کے آغاز سے ہی یاروں کوئی بھی تھک کر نہ راستے میں نڈھال ہوگا یہ طے ہوا تھا جدا ہوئےتو کیا ہوا پھر یہی تو دستورِزندگی ہے جدائیوں میں نہ قربتوں کا ملال ہوگا یہ طے ہوا تھا وہی ہوا نہ بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا نہ کوئی بھی رت ہو نا چاہتوں کو زوال ہوگا یہ طے ہوا تھا چلو کہ کشتیوں کو جلا دیں گمنان ساحلوں پر کہ اب وہاں سے نہ واپسی کا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا
August 17, 201114 yr یہ مست مست بے مثال آنکھیں نشے سے ہر دم نڈھال آنکھیں اٹھیں تو ھوش و حواس چھینیں گریں تو کر دیں کمال آنکھیں کوئی ہے ان کے کرم کا طالب کسی کا شوق وصال آنکھیں نہ یوں جلائیں نہ یوں ستائیں کریں تو کچھ یہ خیال آنکھیں ہیں جینے کا بہانہ یارو یہ روح پرور جمال آنکھیں دراز پلکیں غزال آنکھیں مصوّری کا کمال آنکھیں شراب رب نے حرام کر دی مگر رکھی ہیں حلال آنکھیں ہزاروں ان سے قتل ہوئے ہیں خدا کے بندے سنبھال آنکھیں
August 17, 201114 yr کوئی اپنا نہیں غیر دیار میں جھوٹ ہے سب جھوٹے پیار میں دھوکا دیا نگاہوں نے کس طرح ہم تو مارے گئے اعتبار میں نغمہ وفا کا ہر کسی نے سنایا کچھ حاصل نہ کرسکے اس سنسار میں
August 17, 201114 yr پاس کیوں نہیں ہو تم، بارشوں کے موسم میں میں کہیں، کہیں ہو تم، بارشوں کے موسم میں جس پہ پھول مہکیں گے، اب تیری محبت کے دل کی وہ زمیں ہو تم، بارشوں کے موسم میں
August 17, 201114 yr چشم مگيوں ذرا ادھر کر دے دست قدرت کو بے اثر کر دے تيز ہے آج درد دل ساقي تلخي مے کو تيز تر کر دے جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھي چاک دامن کو تا جگر کر دے ميري قسمت سے کھيلنے والے مجھ کوقسمت سے بے خبر کر دے لٹ رہي ہے مري متاع نياز کاش وہ اس طرف نظر کر دے تکميل آرزو معلوم ہوسکے تو يونہي بسر کر دے
August 17, 201114 yr تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے قسمت میں مری، صلہ نہیں ہے بچھڑے تو نجانے حال کیا ہو جو شخص ابھی ملا نہیں ہے جینے کی تو آرزو ہی کب تھی مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے جو زیست کو معتبر بنا دے ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے
August 17, 201114 yr دل کے عُنوانات میں تم کو سوچا ہے دھڑکن کی ہر بات میں تم کو سوچا ہے درد کے سِکّے سارے اپنی جیب میں رکھے خوشیوں کی بُہتات میں تم کو سوچا ہے کھڑکی میں جب شام ڈھلی، تم یاد آئے اور پھر لمبی رات میں تم کو سوچا ہے پُھولوں نے سب رنگ چُرائے ہیں تم سے خُوشبو نے برسات میں تم کو سوچا ہے مُشکل پل آسان ہوئے تمہارے سبب جب مُشکل حالات میں تم کو سوچا ہے جب بھی اُترے ہاتھ دعا کے زینے پر ساری کائنات میں تم کو سوچا ہے
August 17, 201114 yr وصال ُرت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش تھی کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کیا تمہارے ہاتھوں کالمس جب میری وفا کی ہتھیلوں پر حنا بنے گا تو سوچ لو گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہمارے باغوں سے سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو نہ گزر پائے تو یہ نہ کہنا کہ تتلیوں نے گلاب رستے بدل لیے ہیں اگر کوئی شام یوں بھی آئے کے ہم تم لگے پرائے تو جان لینا کے شام بے بس تھی شب کی تاریکیوں کے ہاتھوں تمہاری خوہش کی مٹھیاں بے دھانیوں میں کبھی کھلیں تو یقین کرنا کہ میری چاہت کے جگنوؤں نے تمھارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خوہشوں میں بڑے گھنیرے اندھیرے کاٹے مگر یہ خدشے ، یہ وسوسے تو تکلفاََ ہیں ہم اپنے جذبوں کو منجمدرائیگانیوں کے سپرد کر کے یہ سوچ لے گے کہ ہجر موسم تو وصل کی پہلی شام سے ہی سفر کا آغاز کر چکا تھا
August 17, 201114 yr ایک اسکول کے آنگن میں تھا اک پھول کا پودا گرما کی لمبی رخصت میں پھول کھلا اک اس میں پہلے پہل جب وہ غنچہ تھا آنکھیں موندھے ٹہنی پر یوں جھولے جھولا کرتا تھا جیسے اس جیسا خوش قسمت ارض و سما میں کوئی نہ ہو لیکن جب وہ پھول بنا اور جوبن نے لی انگڑائی اس کو یہ احساس ہوا کتنی ہے تنہائی شہر کے بیچوں بیچ اک چھوٹے سے اسکول کے آنگن میں پھول بہت ہی تنہا تھا بچے تو تعطیل منانے دور گئے تھے جھیلوں اور پہاڑوں پر باغوں اور کھلیانوں میں شہر کے آلودہ حالات ہیں دو چار ہی تتلیاں بھنورے ان کو بھی اس تنہا پھول کے بارے میں کچھ علم نہ تھا ورنہ وہ دو چار گھڑی بھی ملتے، باتیں کرتے، گاتے چومتے منہ اور چومتے رس اک دوجے کا پھول نے اپنے جوبن کے وہ دن بھی ٹہنی پر کاٹے جب تک اس سے پہلے آنے والے اس پودے کے پھول لاکھ حفاظت کرتا مالی ننہے ننہے اور معصوم سے ہاتھوں میں سج جاتے تھے اور کتابوں سے بوجھل بستوں میں بس جاتے تھے موسم گرما کی بارش بھی اس کے ہوتے ہونہ سکی اور شبنم کے قطروں میں بھی گردوغبار اور دھواں تھا پھر اک دن وہ پھول بالآخر سوکھ گیا سوکھ گیا اور ہلکے سے ایک جھونکے سے پتی پتی بکھر گیا اس کی قبر کے کتبے پر مٹی نے لکھا لمس کی لذت سے ناواقف اک بدقسمت
Create an account or sign in to comment