Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

کل چودھویں کا چاند تھا شب بھر رہا چرچا تیرا

کچھ نے کہا کہ چاند ھے کچھ نے کہا چہرا تیرا

ھم بھی وہاں موجود تھے ہم نے بھی سب دیکھا مگر

ھم چپ رہے کچھ نہ کہا منظور تھا پردہ تیرا

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 299.8k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہو گا یہ طے ہوا تھا

بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا

یہ کیا کہ سانسیں اُکھڑ رہی ہیں سفر کے آغاز سے ہی یاروں

کوئی بھی تھک کر نہ راستے میں نڈھال ہوگا یہ طے ہوا تھا

جدا ہوئےتو کیا ہوا پھر یہی تو دستورِزندگی ہے

جدائیوں میں نہ قربتوں کا ملال ہوگا یہ طے ہوا تھا

وہی ہوا نہ بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا نہ

کوئی بھی رت ہو نا چاہتوں کو زوال ہوگا یہ طے ہوا تھا

چلو کہ کشتیوں کو جلا دیں گمنان ساحلوں پر

کہ اب وہاں سے نہ واپسی کا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا

یہ مست مست بے مثال آنکھیں

نشے سے ہر دم نڈھال آنکھیں

اٹھیں تو ھوش و حواس چھینیں

گریں تو کر دیں کمال آنکھیں

کوئی ہے ان کے کرم کا طالب

کسی کا شوق وصال آنکھیں

نہ یوں جلائیں نہ یوں ستائیں

کریں تو کچھ یہ خیال آنکھیں

ہیں جینے کا بہانہ یارو

یہ روح پرور جمال آنکھیں

دراز پلکیں غزال آنکھیں

مصوّری کا کمال آنکھیں

شراب رب نے حرام کر دی

مگر رکھی ہیں حلال آنکھیں

ہزاروں ان سے قتل ہوئے ہیں

خدا کے بندے سنبھال آنکھیں

کوئی اپنا نہیں غیر دیار میں

جھوٹ ہے سب جھوٹے پیار میں

دھوکا دیا نگاہوں نے کس طرح

ہم تو مارے گئے اعتبار میں

نغمہ وفا کا ہر کسی نے سنایا

کچھ حاصل نہ کرسکے اس سنسار میں

پاس کیوں نہیں ہو تم، بارشوں کے موسم میں

میں کہیں، کہیں ہو تم، بارشوں کے موسم میں

جس پہ پھول مہکیں گے، اب تیری محبت کے

دل کی وہ زمیں ہو تم، بارشوں کے موسم میں

📢 Post Your Ad Here

چشم مگيوں ذرا ادھر کر دے

دست قدرت کو بے اثر کر دے

تيز ہے آج درد دل ساقي

تلخي مے کو تيز تر کر دے

جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھي

چاک دامن کو تا جگر کر دے

ميري قسمت سے کھيلنے والے

مجھ کوقسمت سے بے خبر کر دے

لٹ رہي ہے مري متاع نياز

کاش وہ اس طرف نظر کر دے

تکميل آرزو معلوم

ہوسکے تو يونہي بسر کر دے

162vd5.gif

تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے

قسمت میں مری، صلہ نہیں ہے

بچھڑے تو نجانے حال کیا ہو

جو شخص ابھی ملا نہیں ہے

جینے کی تو آرزو ہی کب تھی

مرنے کا بھی حوصلہ نہیں ہے

جو زیست کو معتبر بنا دے

ایسا کوئی سلسلہ نہیں ہے

162vd5.gif

14ncind.gif

دل کے عُنوانات میں تم کو سوچا ہے

دھڑکن کی ہر بات میں تم کو سوچا ہے

درد کے سِکّے سارے اپنی جیب میں رکھے

خوشیوں کی بُہتات میں تم کو سوچا ہے

کھڑکی میں جب شام ڈھلی، تم یاد آئے

اور پھر لمبی رات میں تم کو سوچا ہے

پُھولوں نے سب رنگ چُرائے ہیں تم سے

خُوشبو نے برسات میں تم کو سوچا ہے

مُشکل پل آسان ہوئے تمہارے سبب

جب مُشکل حالات میں تم کو سوچا ہے

جب بھی اُترے ہاتھ دعا کے زینے پر

ساری کائنات میں تم کو سوچا ہے

14ncind.gif

وصال ُرت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش تھی

کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کیا

تمہارے ہاتھوں کالمس جب میری وفا کی ہتھیلوں پر حنا بنے گا

تو سوچ لو گی

رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں

ہمارے باغوں سے سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو نہ گزر پائے تو یہ نہ کہنا کہ تتلیوں نے گلاب رستے بدل لیے ہیں

اگر کوئی شام یوں بھی آئے کے ہم تم لگے پرائے

تو جان لینا

کے شام بے بس تھی شب کی تاریکیوں کے ہاتھوں

تمہاری خوہش کی مٹھیاں بے دھانیوں میں کبھی کھلیں تو یقین کرنا

کہ میری چاہت کے جگنوؤں نے

تمھارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خوہشوں میں

بڑے گھنیرے اندھیرے کاٹے

مگر یہ خدشے ، یہ وسوسے تو تکلفاََ ہیں

ہم اپنے جذبوں کو منجمدرائیگانیوں کے سپرد کر کے

یہ سوچ لے گے

کہ ہجر موسم تو وصل کی پہلی شام سے ہی

سفر کا آغاز کر چکا تھا

ایک اسکول کے آنگن میں

تھا اک پھول کا پودا

گرما کی لمبی رخصت میں

پھول کھلا اک اس میں

پہلے پہل جب وہ غنچہ تھا

آنکھیں موندھے ٹہنی پر یوں جھولے جھولا کرتا تھا

جیسے اس جیسا خوش قسمت ارض و سما میں کوئی نہ ہو

لیکن جب وہ پھول بنا

اور جوبن نے لی انگڑائی

اس کو یہ احساس ہوا

کتنی ہے تنہائی

شہر کے بیچوں بیچ اک چھوٹے سے اسکول کے آنگن میں

پھول بہت ہی تنہا تھا

بچے تو تعطیل منانے

دور گئے تھے

جھیلوں اور پہاڑوں پر

باغوں اور کھلیانوں میں

شہر کے آلودہ حالات

ہیں دو چار ہی تتلیاں بھنورے

ان کو بھی اس تنہا پھول کے بارے میں

کچھ علم نہ تھا

ورنہ وہ دو چار گھڑی بھی

ملتے، باتیں کرتے، گاتے

چومتے منہ

اور چومتے رس اک دوجے کا

پھول نے اپنے جوبن کے وہ دن بھی ٹہنی پر کاٹے

جب تک اس سے پہلے آنے والے اس پودے کے پھول

لاکھ حفاظت کرتا مالی

ننہے ننہے اور معصوم سے ہاتھوں میں سج جاتے تھے

اور کتابوں سے بوجھل

بستوں میں بس جاتے تھے

موسم گرما کی بارش بھی اس کے ہوتے ہونہ سکی

اور شبنم کے قطروں میں بھی گردوغبار اور دھواں تھا

پھر اک دن وہ پھول بالآخر سوکھ گیا

سوکھ گیا اور ہلکے سے ایک جھونکے سے

پتی پتی بکھر گیا

اس کی قبر کے کتبے پر

مٹی نے لکھا

لمس کی لذت سے ناواقف

اک بدقسمت

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.