August 17, 201114 yr یہ دعاہے آتش عشق میں تومیری طرح جلاکرے ¤ نہ نصیب ہوتجھے بیٹھنا تیرے دل میں درد ہوا کرے ¤ تیرے سامنے تیراگھرجلے تیرابس چلے نہ بجھاسکے¤ تیرے منہ سے نکلے بس یہی دعانہ گھرکسی کاجلاکرے
August 17, 201114 yr نظام تیرا چلانے والے نظام اپنا چلا رہے ہیں بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے کہیں ہیں وعدے کہیں ہیں دعوے ناپختہ دیکھے سبھی ارادے تمہارا چہرہ مسخ رہے ہیں گھروں کو اپنے سجا رہے ہیں بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے ضمیر مردہ جو ہو چکے ہیں مفاد سب نے لئے ہوئے ہیں لبوں کو اپنے سیے ہوئے ہیں بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے میرے وطن تو مگر نہ گھبرا تجھے نہیں ڈر ہزاروں ایسے ابھی ہیں زندہ تمہارے پیر و جواں بہادر اگر ضرورت پڑی تو تجھ پہ لٹا بھی دیں گے یہ جان اپنی خراش تجھ پر نہ آنے دیں گے یہ جانتے ہیں تمہاری قیمت کہ کیسے اپنے لہو سے اپنوں نے تجھ کو حاصل کیا ہوا ہے
August 17, 201114 yr کون ہی سورج کون ہے سایہ میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس نے پہلے ہاتھ چھڑایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ جس کی خاطر ساحل ساحل سیپیاں چُنتے بیت گئے کیوں وہ موتی ہاتھ نہ آیا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس کو کتنا نام ملا اور کس کو ہی الزام مِلا کس نے کس کا وقت گنوایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ کس نے کتنی آس بندھائی کس نے کتنی جان چھڑائی کس نے کتنا ساتھ نبھایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ ہم جو تعلق کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوئے جیون میں یہ دن کیوں آیا، میں بھی سوچوں تو بھی سوچ اس کی باتیں سننے والے تیرے جیسے لگتے ہیں کس کو قمر نے حال سنایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ
August 17, 201114 yr بھلا کیا پڑھ لیا اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں ابھی غیروں کے دُکھ پہ بھیگنا بُھولی نہیں آنکھیں ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دِل سے لگا رکھتا میں دُشمن کو بھی گنتا ہوں محّبت کے سفیروں میں سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں
August 17, 201114 yr ہاتھ خالی ہیں تیرے شہر سے جاتے جاتے جاں ہوتی تو میری جان لُٹاتے جاتے مجھ سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہونگے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے مجھے رونے کا سلیقہ بھی نہیں آتا ہے لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے میں بھی مجبور تھا، میں نے اُسے روکا ہی نہیں وہ دیکھتا رہا مُڑ مُڑ کے مجھے جاتے جاتے
August 17, 201114 yr بڑے مختصر سے حروف میں مجھے گہری بات بتا گیا کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا جو سحر سے پہلے جگا گیا کسی مہربان کی دعا سے یہ سفر تمام ہوا میرا جنھیں رہبری کا غرور تھا انھیں راستوں نے مٹا دیا ہمیں آسماں سے گلہ نہیں تیری رحمتوں پہ یقین ہے جہاں زندگی شکست دی کسی معجزے نے بچا لیا ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ تیری آرزو نے عطا کیا بڑے گہرے زخم ملے ہمیں جنھہں رفتہ رفتہ مٹا دیا
August 17, 201114 yr کچھ مفلسی میں چل دیئے، کردار بیچنے آئے ہیں ہم بھی درد کے مینار بیچنے کل تک جو اُن کا"مان"تھا، غربت نگل گئی بازارِ شب میں آئے وُہ ، دستار بیچنے کل برسرِ پیکار تھے جو قوم کےلئے منڈی میں آگئے ہیں وہ تلوار بیچنے غاصب نے جال روٹی کا پھیلایا اس طرح عِصمت کو لے کے چل دیا خوددار بیچنے ناصر تھے میرے دین کےکل تک جو شہر میں بیٹھے ہیں وہ بازار میں ، اوتار بیچنے
August 17, 201114 yr کہو تو لوٹ جاتے ہیں ابھی تو بات لمحوں تک ہے سالوں تک نہیں آئی ابھی مسکانوں کی نوبت بھی نالوں تک نہیں آئی ابھی تو بات لمحوں تک ہے سالوں تک نہیں آئی ابھی مسکانوں کی نوبت بھی نالوں تک نہیں آئی ابھی تو کوئی مجبوری خیالوں تک نہیں آئی ابھی تو گرد پیروں تک ہے بالوں تک نہیں آئی کہو تو لوٹ جاتے ہیں چلو اک فیصلہ کرنے شجر کی اور جاتے ہیں ابھی کاجل کی ڈوری سرخ گالوں تک نہیں آئی زباں دانتوں تلک ہے زہر پیالوں تک نہیں آئی ابھی تو مشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی ابھی روداد بے عنواں ہمارے درمیاں ہے، دنیا والوں تک نہیں آئی کہو تو لوٹ جاتے ہیں ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دور ہے اپنی مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نور ہے اپنی کہو تو لوٹ جاتے ہیں کہو تو لوٹ جاتے ہیں یہ رستہ پیار کا رستہ رسن کا دار کا رستہ بہت د شوار ہے جاناں کہ اس رستے کا ہر ذرہ بھی اک کہسار ہے جاناں کہو تو لوٹ جاتے ہیں میرے بارے نہ کچھ سوچو، مجھے طے کرنا آتا ہے رسن کا دار کا رستہ یہ آسیبوں بھرا رستہ، یہ اندھی غار کا رستہ تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہو اگر میرے ہاتھوں میں تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میں تمہارا قرب ہو تو مشکلیں کافور ہو جائیں یہ اندھے اور کالے راستے، پر نور ہو جائیں تمہارے گیسوؤں کی چھاؤں مل جائے تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے اٹھا لو اپنا سایہ تو میری اوقات ہی کیا ہے میرے بارے نہ کچھ سوچو تم اپنی بات بتلاؤ کہو تو چلتے رہتے ہیں کہو تو لوٹ جاتے ہیں کہو تو لوٹ جاتے ہیں
August 17, 201114 yr گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے ہم اُسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوہء اربابِ وفا جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیّال سے ہم شعلہء عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
August 17, 201114 yr مرا ہے کون دشمن ، میری چاہت کون رکھتا ہے اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے مکینوں کے تعلق ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی وگرنہ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے نہیں ہے نرخ کوئی میرے ان اشعارِ تازہ کا یہ میرے خواب ہیں ، خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے درِ خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم نے سو ، اذئف عام ہے ، لو ، شوقِ رخصت کون رکھتا ہے مرے دشمن کا قد اس بھیڑ میں مجھ سے تو اونچا ہو یہی میں ڈھونڈتا ہوں ، ایسی قامت کون رکھتا ہے ہمارے شہر کی رونق ہے کچھ مشہور لوگوں سے مگر سب جانتے ہیں کیسی شہرت کون رکھتا ہے
Create an account or sign in to comment