Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

یہ دعاہے آتش عشق میں تومیری طرح جلاکرے ¤

نہ نصیب ہوتجھے بیٹھنا تیرے دل میں درد ہوا کرے ¤

تیرے سامنے تیراگھرجلے تیرابس چلے نہ بجھاسکے¤

تیرے منہ سے نکلے بس یہی دعانہ گھرکسی کاجلاکرے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 300.4k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

نظام تیرا چلانے والے

نظام اپنا چلا رہے ہیں

بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے

لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے

کہیں ہیں وعدے کہیں ہیں دعوے

ناپختہ دیکھے سبھی ارادے

تمہارا چہرہ مسخ رہے ہیں

گھروں کو اپنے سجا رہے ہیں

بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے

لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے

ضمیر مردہ جو ہو چکے ہیں

مفاد سب نے لئے ہوئے ہیں

لبوں کو اپنے سیے ہوئے ہیں

بھلا رہے ہیں کہ کیسے اپنے

لہو سے اپنوں نے اس کو حاصل کیا ہوا ہے

میرے وطن تو مگر نہ گھبرا

تجھے نہیں ڈر ہزاروں ایسے

ابھی ہیں زندہ تمہارے پیر و جواں بہادر

اگر ضرورت پڑی تو تجھ پہ

لٹا بھی دیں گے یہ جان اپنی

خراش تجھ پر نہ آنے دیں گے

یہ جانتے ہیں تمہاری قیمت کہ کیسے اپنے

لہو سے اپنوں نے تجھ کو حاصل کیا ہوا ہے

کون ہی سورج کون ہے سایہ میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

کس نے پہلے ہاتھ چھڑایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

جس کی خاطر ساحل ساحل سیپیاں چُنتے بیت گئے

کیوں وہ موتی ہاتھ نہ آیا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

کس کو کتنا نام ملا اور کس کو ہی الزام مِلا

کس نے کس کا وقت گنوایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

کس نے کتنی آس بندھائی کس نے کتنی جان چھڑائی

کس نے کتنا ساتھ نبھایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

ہم جو تعلق کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوئے

جیون میں یہ دن کیوں آیا، میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

اس کی باتیں سننے والے تیرے جیسے لگتے ہیں

کس کو قمر نے حال سنایا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ

بھلا کیا پڑھ لیا اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں

کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں

کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے

کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں

ابھی غیروں کے دُکھ پہ بھیگنا بُھولی نہیں آنکھیں

ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں

نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دِل سے لگا رکھتا

میں دُشمن کو بھی گنتا ہوں محّبت کے سفیروں میں

سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں

میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں

بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے

کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں

ہاتھ خالی ہیں تیرے شہر سے جاتے جاتے

جاں ہوتی تو میری جان لُٹاتے جاتے

مجھ سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہونگے

کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

مجھے رونے کا سلیقہ بھی نہیں آتا ہے

لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے

میں بھی مجبور تھا، میں نے اُسے روکا ہی نہیں

وہ دیکھتا رہا مُڑ مُڑ کے مجھے جاتے جاتے

📢 Post Your Ad Here

بڑے مختصر سے حروف میں

مجھے گہری بات بتا گیا

کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا

جو سحر سے پہلے جگا گیا

کسی مہربان کی دعا سے

یہ سفر تمام ہوا میرا

جنھیں رہبری کا غرور تھا

انھیں راستوں نے مٹا دیا

ہمیں آسماں سے گلہ نہیں

تیری رحمتوں پہ یقین ہے

جہاں زندگی شکست دی

کسی معجزے نے بچا لیا

ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ

تیری آرزو نے عطا کیا

بڑے گہرے زخم ملے ہمیں

جنھہں رفتہ رفتہ مٹا دیا

کچھ مفلسی میں چل دیئے، کردار بیچنے

آئے ہیں ہم بھی درد کے مینار بیچنے

کل تک جو اُن کا"مان"تھا، غربت نگل گئی

بازارِ شب میں آئے وُہ ، دستار بیچنے

کل برسرِ پیکار تھے جو قوم کےلئے

منڈی میں آگئے ہیں وہ تلوار بیچنے

غاصب نے جال روٹی کا پھیلایا اس طرح

عِصمت کو لے کے چل دیا خوددار بیچنے

ناصر تھے میرے دین کےکل تک جو شہر میں

بیٹھے ہیں وہ بازار میں ، اوتار بیچنے

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

ابھی تو بات لمحوں تک ہے

سالوں تک نہیں آئی

ابھی مسکانوں کی نوبت بھی نالوں تک نہیں آئی

ابھی تو بات لمحوں تک ہے

سالوں تک نہیں آئی

ابھی مسکانوں کی نوبت بھی نالوں تک نہیں آئی

ابھی تو کوئی مجبوری خیالوں تک نہیں آئی

ابھی تو گرد پیروں تک ہے بالوں تک نہیں آئی

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

چلو اک فیصلہ کرنے شجر کی اور جاتے ہیں

ابھی کاجل کی ڈوری سرخ گالوں تک نہیں آئی

زباں دانتوں تلک ہے زہر پیالوں تک نہیں آئی

ابھی تو مشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی

ابھی روداد بے عنواں

ہمارے درمیاں ہے، دنیا والوں تک نہیں آئی

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

ابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دور ہے اپنی

مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نور ہے اپنی

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

یہ رستہ پیار کا رستہ

رسن کا دار کا رستہ بہت د شوار ہے جاناں

کہ اس رستے کا ہر ذرہ بھی اک کہسار ہے جاناں

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

میرے بارے نہ کچھ سوچو، مجھے طے کرنا آتا ہے

رسن کا دار کا رستہ

یہ آسیبوں بھرا رستہ، یہ اندھی غار کا رستہ

تمہارا نرم و نازک ہاتھ ہو اگر میرے ہاتھوں میں

تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میں

تمہارا قرب ہو تو مشکلیں کافور ہو جائیں

یہ اندھے اور کالے راستے، پر نور ہو جائیں

تمہارے گیسوؤں کی چھاؤں مل جائے

تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہے

اٹھا لو اپنا سایہ تو میری اوقات ہی کیا ہے

میرے بارے نہ کچھ سوچو

تم اپنی بات بتلاؤ

کہو تو چلتے رہتے ہیں

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں

ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

ہم اُسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

خود نمائی تو نہیں شیوہء اربابِ وفا

جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں

بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیّال سے ہم

شعلہء عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ

جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

مرا ہے کون دشمن ، میری چاہت کون رکھتا ہے

اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے

مکینوں کے تعلق ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی

وگرنہ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے

نہیں ہے نرخ کوئی میرے ان اشعارِ تازہ کا

یہ میرے خواب ہیں ، خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے

درِ خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم نے

سو ، اذئف عام ہے ، لو ، شوقِ رخصت کون رکھتا ہے

مرے دشمن کا قد اس بھیڑ میں مجھ سے تو اونچا ہو

یہی میں ڈھونڈتا ہوں ، ایسی قامت کون رکھتا ہے

ہمارے شہر کی رونق ہے کچھ مشہور لوگوں سے

مگر سب جانتے ہیں کیسی شہرت کون رکھتا ہے

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.