October 15, 201114 yr Author کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سےاس کی دلہن سجاؤں گی سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی ... بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا میں دل میں روؤں گی، آنکھوں میں مسکراؤں گی وہ کیا گیا رفاقت کے سارے لطف گئے میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی اب اُس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب میں کس کی نظم اکیلے میں گُنگناؤں گی وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی سماعتوں میں اب جنگلوں کی سانسیں ہیں میں اب کبھی تری آواز سُن نہ پاؤں گی جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محّبت کا وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُس کو بھول جاؤں گی
October 15, 201114 yr Author یہ مزاج یار کو کیا ہوا، انہیں مجھ سے پیار ہے آج کل میری جستجو ، میری گفتگو، میرا انتظار ہے آج کل تیرے خطوط نکالنا، کبھی دیکھنا کبھی چومنا یہی مشغلہ،یہی سلسلہ یہی کاروبار ہے آج کل اکیلا نہ گھر سے نکل ذرا دیکھ بھال کے چل بڑی ابتری، بڑی راہزنی، بڑی لوٹ مار ہے آج کل اسے قتل کر، اُسے قتل کر، تجھے سات خون معاف ہیں تیری سلطنت،تیرا دبدبہ ، تیرا اقتدار ہے آج کل ارے جان کل تو تُو رند تھا ، میرے یار تجھ کو کیا ہوا بڑا مذہبی، بڑا پارسا، بڑا دیندار ہے آج کل
October 15, 201114 yr Wah Wah Wah Wah....Buhat Khoob Jassi Very Nice Post Dear...... Keeep IT upp Thanks
October 15, 201114 yr Buhat He Nice Jassi Buhat Pyari Potery hai ......Really Buhat Khoob Janb Keeep IT uppp
Create an account or sign in to comment