October 11, 201114 yr Author تیرا غم رہے سلامت میرے دل کو کیا کمی ہے غمِ یار تیرے صدقے میری ساری زندگی ہے
October 11, 201114 yr Author جستجو جمال ...جدھر... چل پڑے ھیں حال..جدھر... گیت کے رھا پیچھے... سر جدھر تال....جدھر... اس سے خوف کھاتا ھوں... سچ جھاں ملال ...جدھر.... رو برو ھے کائنات... تےرے سرخ گال...جدھر ایک لمحہ لے ڈوبا.. بھوکے ماھ و سال...جدھر شیخ جی چلے محسن جائے کوتواب...جدھر رھائی کی خوشیہ میں پھر... بھاگا وہ تھا جال...جدھر...
October 11, 201114 yr Author مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا مرا دل بھی جیسے دلہن کا ہاتھ ہو، مہندیوں سے رچا ہوا وہی شہر ہے،وہی راستے،وہی گھر ہے اور وہی لان بھی مگر اس دریچے سے پوچھنا، وہ درخت انار کا کیا ہوا؟
October 11, 201114 yr Author شاخوں سے پھول، پھول سے خوشبو جدا نہ ہو آباد شہرِ دل میں کوئی دوسرا نہ ہو یوں کھوئے تیری یاد میں خود کو بھلا دیا جیسے کہ ہم کو خود سے کوئی واسطہ نہ ہو
October 11, 201114 yr Author میری بات سنو میری بن جاؤ میں نے اس سے بول دیا اس نے پہلے پوچھا ، کون ؟ پھر دروازہ کھول دیا مجھ سے بچھڑ کے رہ پاؤ گی ؟ اس نے بھی جواب گول دیا میں نے جو بھی مانگا اس سے بن مانگے بن مول دیا محبت کی دکان پہ اس نے دل ادھار میں تول دیا
October 11, 201114 yr Author ہر روز نیا گھاؤ لگایا نا کر مجھے ہر شام بزم سے تو اٹھایا نا کر مجھے ایسا نا ہو میں پھر سوئے جاناں نکل پڑوں ساقی تو بےحساب پلایا نا کر مجھے مجھکو ستانے لگتی ہے پھر بیتے دنوں کی یاد موسم گلوں کا یاد دلایا نا کر مجھے پھر مجھ سے اس کا سبب پوچھتے ہیں خداراہ لہو کے آنسو رلایا نا کر مجھے پیار میں کھبی میں حد سے جو گزروں بس ساتھ چل دیا کر ، بتایا نا کر مجھے جاتا رہے گا یوں تیری بات کا اثر واعظ تو اتنا ذیادہ سمجھایا نا کر مجھے پوشیدہ رہیں تو اچھا ہے محبت کے سلسلے لوگوں کے سامنے تو بلایا نا کر مجھے
October 11, 201114 yr Author گم نیند کی آغوش میں ہونے نہیں دیتا راتوں کو ترا تصور مجھے سونے نہیں دیتا تم چھین رہے ہو اب اپنی یادیں بھی مجھ سے بچہ تو کھبی اپنے کھلونے نہیں دیتا اک میلہ سا یادوں کا سجا رہتا ہے آنکھوں میں کوئی خواب مجھے پلکوں پہ پرونے نہیں دیتا اس ڈر سے کہ توڑ کے آنسو نہ بہائیں بچوں کو میں مٹی کے کھلونے نہیں دیتا اک دھڑکا سا لگا رہتا ہے ہر وقت دل کو وہ کیوں مجھے کسی اور کا ہونے نہیں دیتا وہ کون ہے، کیسا ہے ، میں جاننا چاہتا ہوں جو غم تو مجھے دیتا ہے ، رونے نہیں دیتا
October 11, 201114 yr Author جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا مجھے گماں* بھی نہ ہو اور تم بدل جانا یہ شعلگی ہو بدن کی تو کیا کیا جائے سو لازمی تھا تیرے پیرہن کا جل جانا تم کرو تو کوئی درماں *یہ وقت آ پہنچا کہ اب تو چارہ گروں کو بھی ہاتھ مل جانا ابھی ابھی تو جدائی کی شام آئی تھی ہمیں عجیب لگا زندگی کا ڈھل جانا سجی سجائی ہوئی موت زندگی تو نہیں* مورخوں نے مقابر کو بھی محل جانا یہ کیا کہ تو بھی اس ساعت زوال میں*ہے کہ جس طرح *ہے سبھی سورجوں کو ڈھل جانا ہر ایک عشق کے بعد اور اُس کے عشق کے بعد سونو اتنا بھی آساں نہ تھا سنبھل جان
October 11, 201114 yr Author محبت ذات کے اندر کوئی گُم ذات ہوتی ہے محبت کے تعاقب میں ہمیشہ گھات ہوتی ہے محبت میں خوشی سے موت کو ہم اوڑھ لیتے ہیں ذرا سوچو کہ اس میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے محبت شہد میں لپٹا ہوا اک زہر ہے لیکن محبت جیت ہوتی ہے، محبت مات ہوتی ہے محبت خود زمانہ ہو کے بھی ہے موسموں جیسی کبھی یہ صبح ہوتی ہے کبھی یہ رات ہوتی ہے محبت ایسی خوشبو ہے، کبھی اک جا نہیں رہتی کسی سے دور ہوتی ہے کسی کے سات ہوتی ہے محبت ہے سرابوں سے، کہ جیسے ریت مُٹھی ہیں کسی سے ہات کرتی ہے کسی کے ہات ہوتی ہے محبت جس کو حاصل ہو، مقدر کا سکندر وہ محبت رب کی جانب سے حسیں سوغات ہوتی ہے
Create an account or sign in to comment