October 11, 201114 yr Author لوگ کہتے ہیں وہ مجھ سے مختلف سا ہے مگر وہ جانتے نہیں میں اُس سے رُوٹھ جاؤں تو وہ مجھ سے رُوٹھ جاتا ہے
October 11, 201114 yr Author میں آنکھیں بند بھی رکھوں.... مجھے اجڑے مکاں.... ان میں پڑی لاشیں..دکھائی دیں.... تڑپتے جسم کی محسن.... مجھے چیخیں سنائی دیں.... ویراں سڑک پر نکلے.... انساں جو ھیں مشکل میں.... کرب ان کا دکھائی دے.... بیاں کیسے کروں میں ... مجھے جو کچھ سنائ دے....
October 11, 201114 yr Author غروب ھونے سے پھلے یہ بتا دے... تجھے انسانیت سے کیا گلا ھے... یہ میں نے ڈوبتے سورج سے پوچھا... مجھے مایوس ھو کر اس نے دیکھا... تڑپ تھی آنکھ میں اس کے عجب سے... جھکا کے سر اندھیرے میں وہ ڈوبا...
October 11, 201114 yr Author ًمیری آنکھیں بگھو دیتی ھیں یادیں.. ان بزرگوں کی.... جنھیں انساں نماوحشی درندوں... نے مٹا ڈالا... تڑپتے خوشنما پھولوں سے.... بچوں کو چبا ڈالا.... سلگتی آگ پہ محسن.... گرا ڈالا.....جوانوں کو اسی ماہ مقدس میں... لٹی عصمت....غریبوں....بے سھارہ... پھول سی ماوں کی....بھنوں کی... سمجھنا مت ھمیں یہ ملک... یہ عزت....ملی تھی... بن کسی محنت...کے...کوشش کے... اسے ھم جس طرح چاھیں... گھسیٹیں اور تڑپائیں... خدارا اب تو باز آئیں...
October 11, 201114 yr Author ماں --میں مھمان بن کے آیا... تیرے بدن سے... میں رح میں تیری.... اتر کے رویا....سکوں سے سویا.... میں گود میں تیری.... ایسے کھویا....تجھے بگھویا.... نہ تو نے اپنا خیال رکھا... مجھے ھی دھویا....میں جب بھی رویا.... ھنسا کے چھوڑا....سلا کے چھوڑا.... میری ھستی کو تو نے ماں... """جگمگا کے چھوڑا""""
October 11, 201114 yr Author کبھی دامن کبھی پلکیں بھگونا کس کو کہتے ہیں کسی مظلوم سے پوچھو رونا کس کو کہتے ہیں کبھی میری جگہ خود کو رکھوپھر جان جاؤ گے کہ دنیا بھر کے غم دل میں سمونا کس کو کہتے ہیں میری آنکھوں میرے چہرے کو ایک دن غور سے دیکھو مگر مت پوچھنا ویران ہونا کس کو کہتے ہیں تمہارا دل کبھی پگھلے اگر غم کی حرارت سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کھونا کس کو کہتے ہیں **>>~*~*~*~<<**
October 11, 201114 yr Author خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں اک ورق روز موڑ دیتا ہوں اس قدر زخم ھیں نگاہوں میں روز ایک آئینہ توڑ دیتا ہوں کانپتے ہونٹ بھیگتی پلکیں بات ادھوری ہی چھوڑ دیتا ہوں ریت کے گھر بنا بنا کے فراز جانے کیوں خود ہی توڑ دیتا ہوں
October 11, 201114 yr Author کسی سے بات کرنا بولنا اچھا نہیں لگتا تجھے دیکھا ہے جب سے کوئی دوسرا اچھا نہیں لگتا تیری آنکھوں میں جب سے میں نے اپنا عکس دیکھا ہے میرے چہرے کو کوئی آئینہ اچھا نہیں لگتا تیرے بارے میں دن بھر سوچتی رہتی ہوں میں لیکن تیرے بارے میں سب سے پوچھنا اچھا نہیں لگتا یہاں محبت کرنے والے برباد رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ یہ دریا ہے اسے کچا گھڑا اچھا نہیں لگتا میں اب چاہت کی اس منزل پر آ پہنچی ہوں تیری جانب کسی کا دیکھنا اچھا نہیں لگتا
October 11, 201114 yr Author دل میں رکھ لو کہ نگاہوں میں بسا لو مجھ کو زندگی ہوں میں،کسی شکل میں ڈھال لو مجھ کو شب کے سناٹے میں ڈوبی ہوئی آواز ہوں میں اس اندھیرے کے سمندر سے نکالو مجھ کو سارا میخانہ ہی مانگے ہے میری تشنہ لبی ایک دو جام پہ للہ نہ ٹالو مجھ کو میں تو ایک اشک ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں تم اگر چاہو تو پلکوں پہ بٹھالو مجھ کو ذرہ خاک ہوں پرواز کی حسرت ہے مگر آندھیوں تیز چلو اور اُڑالو مجھ کو
Create an account or sign in to comment