October 11, 201114 yr Author عداوتیں تھیں تغافل تھا رنجشیں تھیں مگر بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھی وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نواحی نہ تھی کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا مگر جدائی نہ تھی بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل غزل بھی وہ جو کسی کو کبھی سنائی نہ تھی کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن سدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی ترک تعلقات پے رویا نہ تو نہ میں لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی نصیر کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نواحی نہ تھی کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا مگر جدائی نہ تھی
October 11, 201114 yr Author دل کے عُنوانات میں تم کو سوچا ہے دھڑکن کی ہر بات میں تم کو سوچا ہے درد کے سِکّے سارے اپنی جیب میں رکھے خوشیوں کی بُہتات میں تم کو سوچا ہے کھڑکی میں جب شام ڈھلی، تم یاد آئے اور پھر لمبی رات میں تم کو سوچا ہے پُھولوں نے سب رنگ چُرائے ہیں تم سے خُوشبو نے برسات میں تم کو سوچا ہے مُشکل پل آسان ہوئے تمہارے سبب جب مُشکل حالات میں تم کو سوچا ہے جب بھی اُترے ہاتھ دعا کے زینے پر ساری کائنات میں تم کو سوچا ہے
October 11, 201114 yr Author کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا ٹوٹ جاتے ہیں کبھی میرے کنارے مجھ سے ڈوب جاتا ہے کبھی مجھ میں سمندر میرا کسی صحرا میں بچھڑ جائیں گے سب یار میرے کسی جنگل میں بھٹک جائے گا لشکر میرا کتنے ہنستے ہوئے موسم ابھی آتے لیکن ایک ہی دھوپ نے كملا دیا منظر میرا آخری جرح پر کیف ہو شاید باقی اب جو چھلکا تو چھلک جائے گا ساغر میرا
Create an account or sign in to comment