Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

پھرتے ہیں اب دربدر کبھی اُس نگر اب اِس نگر

ایک دوسرے کے ہمسفر ، میں اور میری آوارگی

نہ آشنا ہے رہ گذر ، نہ مہرباں سب کی نظر

جائیں تو اب جائیں کہاں کدھر ، میں اور میری آوارگی

ہم بھی کبھی آباد تھے ایسے کہاں بربا د تھے

بے فکر تھے آزاد تھے ، مسرُور تھے دل شاد تھے

وہ چال ایسی چل گیا ، ہم بجھ گئے دل جل گیا

نکلے جلا کر اپنا گھر ، میں اور میری آوارگی

یہ دل تھا جو سہہ گیا ، وہ بات ایسی کہہ گیا

کہنے کو پھر کیا رہ گیا ، اشکوں کا دریا بہہ گیا

جب کہہ کر وہ دلبر گیا ، میں تیرے لیئے مَر گیا

روتے ہیں اُس کو رات بھر ، میں اور میری آوارگی

پھرتے ہیں اب دربدر ، کبھی اُس نگر کبھی اُس نگر

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 301.8k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

موم کی طرح پگھلتے ہوئے دیکھا اُسکو

رُت جو بدلی تو بدلتے ہوئے دیکھا اُسکو

وہ جو کاندھوں کو بھی نرمی سے چھوا کرتا تھا

ہم نے پھولوں کو مسلتے ہوئے دیکھا اُسکو

جانے کس غم کو چھپانے کی تمنّا ہے اُسے

آج ہر بات پہ ہنستے ہوئے دیکھا اُسکو

  • Author

اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں

مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں

وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے

میں قطرہ قطرہ اُسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں

تری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا

مجھے تو لگتا ہے میں تیرا دوست بھی رہا ہوں

کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر

کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کہ جی رہا ہوں

کہاں ملے گی مثال میری ستمگری کی

کہ میں گلابوں کے زخم کانتوں سے سی رہا ہوں

نہ پوچھ مجھ سے کہ شہر والوں کا حال کیا تھا

کہ میں تو خود اپنے گھر میں دوگھڑی رہا ہوں

ملا تو بیتے دنوں کا سچ اُس کی آنکھوں میں تھا

وہ آشنا جس سے مدتوں اجنبی رہا پوں

بھلا دے مجھ کو کہ بے وفائی بجا ہے لیکن

گنوا نہ مجھ کو کہ میں تری زندگی رہا ہوں

وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسن

یہ ناز کم ہے کہ میں بھی اُس کا کبھی رہا ہوں

  • Author

بُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتے

ہم کہاں سوچ بھی سکتے تھے کے ایسا کرتے

عمر بھر کچھ بھی تو اپنے لیے ہم نے کیا!

آج فرصت جو ملی ہم کو تو سوچا، کرتے

ہم تو اس کھیل کا حصہ تھے ازل سے شاید

سو تماشہ جو نہ بنتے تو تماشہ کرتے

دل کو تسکین ہی مل جاتی ذرا سی اس سے

نہ نبھاتے چلو تم کوئی تو وعدہ کرتے

جوڑنے میں تو یہ پوریں بھی لہو کر ڈالیں

کرچیوں کو جو نہ چھوتے تو یہ اچھا کرتے

بھول جانے کا ارادہ بھی ارادہ ہی رہا

جان پر بن ہی تو جاتی جو ہم ایسا کرتے

اس اماوس نے کیے قتل کئی چاند بتول

ہم اُجالے کی کہاں اِس سے تمنا کرتے

  • Author

چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے

اکِ ایسا بھی نیا موسم میرے پروردگار آئے

وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئے

اسی کو موت کہتے ہیں تو یارب بار بار آئے

سرِ گورِ غریباں آؤ لیکن یہ گزارش ہے

وہاں منہ پھیر کے رونا جہان میرا مزار آئے

بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اِک آنسوُ ندامت کا

جسے دامن پہ لینے رحمتِ پروردگار آئے

قفس کے ہو لئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تم

ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

نہ جانے کیا سمجھ کر چپ ہوں اے صیّاد میں ورنہ

وہ قیدی ہوں گرچہ ہوں قفس میں بھی بہار آئے

دل کیا ہے میں تو ان کی خاطر جان بھی دیدوں

میری قسمت اگر ان کو نہ پھر بھی اعتبار آئے

  • Author

بھیگے بھیگے موسموں کا آنسو ہو تم

پہلی پہلی بارش میں مٹی کی خوشبو ہو تم

گاؤں میں تم چھاؤں ٹھنڈے پیڑ کی تمثیل ہو

گہری گہری روشنی میں شام کا پہلو ہو تم

ہجرتوں کے دور میں ہو واپسی کی آرزو

واپسی کی آرزو میں شوقِ بے قابو ہو تم

تم پرندوں کی دعاؤں میں بشارت خیر کی

یا سکوتِ شام میں اِک روشنی ہر سُو ہو تم

سہمی سہمی آرزو کو بےخطر تم نے کیا

ٹھہرے ٹھہرے بادلوں میں برقِ خندہ رو ہو تم

  • Author

مجھ کو چراغِ شام کی صورت جلا کے دیکھ

آ،اے اندھیری رات مجھے آزما کے دیکھ

موجیں کبھی تو ہاریں تیرے یقین سے

ساحل پہ روز اک گھروندا بنا کے دیکھ

ٹوٹی ہوئی منڈیر پہ چھوٹا سا اک چراغ

موسم سے کہہ رہا ہے، آندھی چلا کے دیکھ

ابھروں گی تیرے ماتھے پہ تقدیر بن کے میں

حرفِ غلط ، پیہم مٹا کے دیکھ

مانا کہ میں ہزار فصیلوں میں قید ہوں

لیکن کبھی خلوص سے مجھ کو بلا کے دیکھ

  • Author

اپنے اندر کے اندھیروں کو مرے ساتھ نہ کر

دل نہ مانے جو ترا مجھ سے ملاقات نہ کر

اک اجالا سا رہے پچھلی ملاقاتوں کا

بدگمانی کی گھٹاں سے یہاں رات نہ کر

دیکھ!ڈھ جائیں گے یہ کچے گھروندے دل کے

اتنی شدت سے تو خدشات کی برسات نہ کر

کوئی معصوم سا جذبہ بھی سرِ کعب دل

ہو جسے اذن کہ پابندیِ میقات نہ کر

خامشی کو ذرا تکمیلِ سخن کرنے دے

یہ فضا رہنے دے کچھ دیر، ابھی بات نہ کر

  • Author

کیا عجب احتساب اپناتھا

جان اپنی تھی عزاب اپنا تھا

کچھ ملے لوگ بھی زمانے ساز

کچھ مقدر خراب اپنا تھا

یہ کہ مخلص تھے ہم محبت میں

جرم بس یہ جناب اپنا تھا

اب کیا کرنا اُس شخص سے گلہ کر کے

وہ بھی تو انتخاب اپنا تھا

  • Author

سادہ سے اِک چہرے پر کیا جادوگر سی آنکھیں ہیں

جو دیکھے اِن کا ہو جائے

جو اُترے وہ تھاہ نہ پائے

کتنے سپنے جاگ رہے ہیں

اِن پلکوں کے سائے سائے

شمع شجر سی، چارہ گرسی، نامہ بر سی آنکھیں ہیں

انجانی پہچانی بھی

اپنی اور بیگانی بھی

ایک ہی منظر کا حصہ ہیں

عکس بھی اور حیرانی بھی

ساحل جیسی لگتی ہیں وہ اور بھنور سی آنکھیں ہیں

سادہ سے اِک چہرے پر کیا جادوگر سی آنکھیں ہیں

امجد اسلام امجد

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.