February 6, 201214 yr Author پھرتے ہیں اب دربدر کبھی اُس نگر اب اِس نگر ایک دوسرے کے ہمسفر ، میں اور میری آوارگی نہ آشنا ہے رہ گذر ، نہ مہرباں سب کی نظر جائیں تو اب جائیں کہاں کدھر ، میں اور میری آوارگی ہم بھی کبھی آباد تھے ایسے کہاں بربا د تھے بے فکر تھے آزاد تھے ، مسرُور تھے دل شاد تھے وہ چال ایسی چل گیا ، ہم بجھ گئے دل جل گیا نکلے جلا کر اپنا گھر ، میں اور میری آوارگی یہ دل تھا جو سہہ گیا ، وہ بات ایسی کہہ گیا کہنے کو پھر کیا رہ گیا ، اشکوں کا دریا بہہ گیا جب کہہ کر وہ دلبر گیا ، میں تیرے لیئے مَر گیا روتے ہیں اُس کو رات بھر ، میں اور میری آوارگی پھرتے ہیں اب دربدر ، کبھی اُس نگر کبھی اُس نگر
February 6, 201214 yr Author موم کی طرح پگھلتے ہوئے دیکھا اُسکو رُت جو بدلی تو بدلتے ہوئے دیکھا اُسکو وہ جو کاندھوں کو بھی نرمی سے چھوا کرتا تھا ہم نے پھولوں کو مسلتے ہوئے دیکھا اُسکو جانے کس غم کو چھپانے کی تمنّا ہے اُسے آج ہر بات پہ ہنستے ہوئے دیکھا اُسکو
February 6, 201214 yr Author اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں مگر ترے بعد حوصلہ ہے کہ جی رہا ہوں وہ ریزہ ریزہ مرے بدن میں اتر رہا ہے میں قطرہ قطرہ اُسی کی آنکھوں کو پی رہا ہوں تری ہتھیلی پہ کس نے لکھا ہے قتل میرا مجھے تو لگتا ہے میں تیرا دوست بھی رہا ہوں کھلی ہیں آنکھیں مگر بدن ہے تمام پتھر کوئی بتائے میں مر چکا ہوں کہ جی رہا ہوں کہاں ملے گی مثال میری ستمگری کی کہ میں گلابوں کے زخم کانتوں سے سی رہا ہوں نہ پوچھ مجھ سے کہ شہر والوں کا حال کیا تھا کہ میں تو خود اپنے گھر میں دوگھڑی رہا ہوں ملا تو بیتے دنوں کا سچ اُس کی آنکھوں میں تھا وہ آشنا جس سے مدتوں اجنبی رہا پوں بھلا دے مجھ کو کہ بے وفائی بجا ہے لیکن گنوا نہ مجھ کو کہ میں تری زندگی رہا ہوں وہ اجنبی بن کے اب ملے بھی تو کیا ہے محسن یہ ناز کم ہے کہ میں بھی اُس کا کبھی رہا ہوں
February 6, 201214 yr Author بُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتے ہم کہاں سوچ بھی سکتے تھے کے ایسا کرتے عمر بھر کچھ بھی تو اپنے لیے ہم نے کیا! آج فرصت جو ملی ہم کو تو سوچا، کرتے ہم تو اس کھیل کا حصہ تھے ازل سے شاید سو تماشہ جو نہ بنتے تو تماشہ کرتے دل کو تسکین ہی مل جاتی ذرا سی اس سے نہ نبھاتے چلو تم کوئی تو وعدہ کرتے جوڑنے میں تو یہ پوریں بھی لہو کر ڈالیں کرچیوں کو جو نہ چھوتے تو یہ اچھا کرتے بھول جانے کا ارادہ بھی ارادہ ہی رہا جان پر بن ہی تو جاتی جو ہم ایسا کرتے اس اماوس نے کیے قتل کئی چاند بتول ہم اُجالے کی کہاں اِس سے تمنا کرتے
February 6, 201214 yr Author چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے اکِ ایسا بھی نیا موسم میرے پروردگار آئے وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئے اسی کو موت کہتے ہیں تو یارب بار بار آئے سرِ گورِ غریباں آؤ لیکن یہ گزارش ہے وہاں منہ پھیر کے رونا جہان میرا مزار آئے بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اِک آنسوُ ندامت کا جسے دامن پہ لینے رحمتِ پروردگار آئے قفس کے ہو لئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تم ہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے نہ جانے کیا سمجھ کر چپ ہوں اے صیّاد میں ورنہ وہ قیدی ہوں گرچہ ہوں قفس میں بھی بہار آئے دل کیا ہے میں تو ان کی خاطر جان بھی دیدوں میری قسمت اگر ان کو نہ پھر بھی اعتبار آئے
February 6, 201214 yr Author بھیگے بھیگے موسموں کا آنسو ہو تم پہلی پہلی بارش میں مٹی کی خوشبو ہو تم گاؤں میں تم چھاؤں ٹھنڈے پیڑ کی تمثیل ہو گہری گہری روشنی میں شام کا پہلو ہو تم ہجرتوں کے دور میں ہو واپسی کی آرزو واپسی کی آرزو میں شوقِ بے قابو ہو تم تم پرندوں کی دعاؤں میں بشارت خیر کی یا سکوتِ شام میں اِک روشنی ہر سُو ہو تم سہمی سہمی آرزو کو بےخطر تم نے کیا ٹھہرے ٹھہرے بادلوں میں برقِ خندہ رو ہو تم
February 6, 201214 yr Author مجھ کو چراغِ شام کی صورت جلا کے دیکھ آ،اے اندھیری رات مجھے آزما کے دیکھ موجیں کبھی تو ہاریں تیرے یقین سے ساحل پہ روز اک گھروندا بنا کے دیکھ ٹوٹی ہوئی منڈیر پہ چھوٹا سا اک چراغ موسم سے کہہ رہا ہے، آندھی چلا کے دیکھ ابھروں گی تیرے ماتھے پہ تقدیر بن کے میں حرفِ غلط ، پیہم مٹا کے دیکھ مانا کہ میں ہزار فصیلوں میں قید ہوں لیکن کبھی خلوص سے مجھ کو بلا کے دیکھ
February 6, 201214 yr Author اپنے اندر کے اندھیروں کو مرے ساتھ نہ کر دل نہ مانے جو ترا مجھ سے ملاقات نہ کر اک اجالا سا رہے پچھلی ملاقاتوں کا بدگمانی کی گھٹاں سے یہاں رات نہ کر دیکھ!ڈھ جائیں گے یہ کچے گھروندے دل کے اتنی شدت سے تو خدشات کی برسات نہ کر کوئی معصوم سا جذبہ بھی سرِ کعب دل ہو جسے اذن کہ پابندیِ میقات نہ کر خامشی کو ذرا تکمیلِ سخن کرنے دے یہ فضا رہنے دے کچھ دیر، ابھی بات نہ کر
February 6, 201214 yr Author کیا عجب احتساب اپناتھا جان اپنی تھی عزاب اپنا تھا کچھ ملے لوگ بھی زمانے ساز کچھ مقدر خراب اپنا تھا یہ کہ مخلص تھے ہم محبت میں جرم بس یہ جناب اپنا تھا اب کیا کرنا اُس شخص سے گلہ کر کے وہ بھی تو انتخاب اپنا تھا
February 6, 201214 yr Author سادہ سے اِک چہرے پر کیا جادوگر سی آنکھیں ہیں جو دیکھے اِن کا ہو جائے جو اُترے وہ تھاہ نہ پائے کتنے سپنے جاگ رہے ہیں اِن پلکوں کے سائے سائے شمع شجر سی، چارہ گرسی، نامہ بر سی آنکھیں ہیں انجانی پہچانی بھی اپنی اور بیگانی بھی ایک ہی منظر کا حصہ ہیں عکس بھی اور حیرانی بھی ساحل جیسی لگتی ہیں وہ اور بھنور سی آنکھیں ہیں سادہ سے اِک چہرے پر کیا جادوگر سی آنکھیں ہیں امجد اسلام امجد
Create an account or sign in to comment