February 6, 201214 yr Author ستم کو مصلحت، حسن ِ تغافل کو ادا کہنا اُسے اب اور کیا لکھنا، اُسے اب اور کیا کہنا یہ رسم شہر نا پرساں، ہمارے دم سے قائم ہے کہ ہر اجنبی کو مسکرا کر آشنا کہنا جلوس ِ دلفگاراں میں نہ کرنا بات تک لیکن ہجوم ِ گل عذاراں میں اسے سب سے جدا کہنا سفر میں یوں خمارِ تشنیگی آنکھوں میں بھر لینا چمکتی ریت کو دریا، بگولے کو گھٹا کہنا ہزاروں حادثے تجھ پر قیامت بن کے ٹوٹے ہیں تو اس پر بھی سلامت ہے ، دل خوش فہم کیا کہنا دل بے مدعا کو بے طلب جینے کی عادت ہے مجھے اچھا نہیں لگتا دعا کو التجا کہنا مرے محسن یہ آداب ِ مسافت سیکھنا ہوں گے بھٹکتے جگنووں کو بھی سفر کا آسرا کہنا
February 6, 201214 yr Author اتنا خالی تو گھر نہیں، ہم ہیں ہم نہیں ہیں مگر نہیں، ہم ہیں چشم ِ دشمن کے خوف سے پوچھو نوک ِ نیزہ پہ سر نہیں ، ہم ہیں شام تنہائی غم نہ کر کہ ترا کوئی بھی ہمسفر نہیں، ہم ہیں چاند سے کہہ دو بے دھڑک اترے گھر میں دیوار و در نہیں ہم ہیں وہ جو سب سے ہیں بے خبر، تم ہو جن کو اپنی خبر نہیں ، ہم ہیں کیوں جلاتے ہو جھونپڑی اپنی اس میں لعل و گہر نہیں ، ہم ہیں ہم ہیں ہم*زاد، رات کے محسن جن کی قسمت سحر نہیں، ہم ہیں
February 6, 201214 yr Author کیوں نہ ہم اس کو اسی کا آئینہ ہو کر ملیں بے وفا ہے وہ تو اس کو بے وفا ہو کر ملیں تلخیوں میں ڈھل نہ جائیں وصل کی اکتاہٹیں تھک گئے ہو تو چلو پھر سے جدا ہو کر ملیں پہلی پہلی قربتوں کی پھر اٹھائیں لذتیں آشنا آ پھر ذرا نا آ شنا ہو کر ملیں ایک تو ہے سر سے پا تک سراپا انکسار لوگ و ہ بھی ہیں جو بندوں سے خدا ہو کر ملیں معذرت بن کر بھی اس کو مل ہی سکتے ہیں عدیم یہ ضروری تو نہیں اس کو سزا ہو کر ملیں
February 6, 201214 yr Lagta Hai yeh Sub Kuch kr Ke Dekhna he pary ga mujhy ... nice sharing jasmin thanks
Create an account or sign in to comment