Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

دیوار پہ لرزہ ہے تو ڈر کانپ رہا ہے

بچھڑے ہو تو اجڑا ہوا گھر کانپ رہا ہے

تم آنکھ کی پتلی میں چھپے سچ کو بھی دیکھو

مجرم تو نہین ہے وہ اگر کانپ رہا ہے

ویران ہے اس درجہ ترے بعد مرا دل

اس شہر میں آتے ہوئے ڈر کانپ رہا ہے

اک میں کہ جدائی نے مجھے کردیا ساکت

اک تو ہے کہ صدمے سے ادھر کانپ رہا ہے

آنگن کو پلٹ جاؤں نہ میں چھوڑ کے اس کو

صحرا میں مرا خواب سفر کانپ رہا ہے

یا تو مری بینائی پہ ہے خوف مسلط

یا نہر کے پانی میں شجر کانپ رہا ہے

بجھنے نہیں دوں گا میں کبھی ہجر کے صدمے

دل میں تری یادوں کا شرر کانپ رہا ہے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 302k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

مرے دن رات پر چھایا ہے عکسِ دلنشیں کوئی

محبت اب مری آنکھوں کی بینائی میں رہتی ہے

سنا ہے اس کی سوچوں میں بھی اب ہلچل مچاتی ہے

وہ بے چینی جو میرے دل کی گہرائی میں رہتی ہے

  • Author

اک شخص کی چاہت کا ارمان رہا اکثر

جو جان کر بھی سب کچھ انجان رہا اکثر

یہ پیار محبت کا ہے کھیل ، دوست کیسا

کی جس نے وفا اس کو نقصان رہا اکثر

آتا ہے وہ نیندوں میں، رہتا ہے وہ خوابوں میں

اک یہ ہی تو اس کا مجھ پہ احسان رہا اکثر

  • Author

شکوہ کریں تو کس سے شکایت کریں تو کیا

اک رائیگاں عمل کی ریاضت کریں تو کیا

جس شے نے ختم ہونا ہے آخر کو ایک دن

اس شے کی اتنے دکھ سے حفاظت کریں تو کیا

حرف دروغ ، غالب شہر خدا ہوا

شہروں میں ذکر حرف صداقت کریں تو کیا

معنی نہیں منیر کسی کام میں یہاں

اطاعت کریں تو کیا بغاوت کریں تو کیا

  • Author

نجان لگ رہا ہے مرے غم سے گھر تمام

حالاں کہ میرے اپنے ہیں دیوار و در تمام

صیاد سے قفس میں بھی کوئی گلہ نہیں

میں نے خود اپنے ہاتھ سے کاٹے ہیں پر تمام

کب سے بلا رہا ہوں مدد کے لیے انہیں

کس سوچ میں پڑے ہیں مرے چارہ گر تمام

جتنے بھی معتبر تھے وہ نامعتبر ہوئے

رہزن بنے ہوئے ہیں یہاں راہبر تمام

دل سے نہ جائے وہم تو کچھ فائدہ نہیں

ہوتے نہیں ہیں شکوے گلے عمر بھر تمام

  • Author

دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئي شب غم گزار کر

ويراں ہے ميکدہ، گم و ساغر اداس ہيں

تم کيا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

اک فرصت گناہ ملئ، وہ بھي چار دن

ديکھے ہيں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنيا نے تيري ياد سے بيگانہ کرديا

تجھ سے بھي دلفريب ہيں غم روزگار کے

بھولے سے مسکرا تو ديے تھے وہ آج فيض

مت پوچھ ولولے دل کا ناکردہ کار کے

  • Author

ہمیں تم سے محبت ہےہمارا امتحان لے لو

اگر چاہو تو دل لے لو اگر چاہو تو جان لے لو

ہمیں تم بھول مت جانا یہ ایک فریاد کرتے ہیں

وفا کی شرط سے بھی ہم تمھیں آزاد کرتے ہیں

زباں بھی ہم نہ کھولیں گے تم ہم سے زباں لے لو

اگر چاہو تو دل لے لو اگر چاہو تو جاں لے لو

زمانہ کچھ نہیں بس اک رنگین دھوکہ ہے

اپنے پیار پہ لیکن ہمیں پورا بھروسہ ہے

خزاں کےغم ہمیں دے دو،بہاروں کا ساماں لے لو

اگر چاہو تو دل لے لو اگر چاہو تو جاں لے لو۔

  • Author

خدا سے رشتے رہے کہاں اُن کے

غم تو جانے تھے رائیگاں ان کے

مست ان کو گمان میں رہنے دو

خانہ برباد ہیں گمان ان کے

یار سکھ نیند ہو نصیب اُن کو

دکھ یہ ہے دکھ ہیں بے امان ان کے

کتنی سر سبز تھی زمیں ان کی

کتنے نیلے تھے آسمان ان کے

نوحہ خوانی ہے کیا ضرور ان کو

ان کے نغمے ہیں نوحہ خواں ان کے

***********************

  • Author

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

قرعئہ فال میرے نام کا اکثر نکلا

تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے

میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

میں نے اس جان بہاراں کو بہت یاد کیا

جب کوئی پھول میری شاخِ ہنر پر نکلا

شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر

میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

تو یہیں ہار گیا ہے میرے بزدل دشمن

مجھ سے تنہا کے مقابل تیرا لشکر نکلا

میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فراز

ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا

  • Author

چلے آوٴ کہ تم بن دل کا مندر سُونا ہے

چلے آوٴ کہ یادوں نے تیری، تجھ کو پکارا ہے

چلے آوٴ کہ یہ فرقت ہماری جان لیتی

چلے آوٴ کہ تم بِن چاند نہ نکلے

چلے آوٴ کہ تم بِن شمس کی کرنیں بھی گھم صُم ہیں

چلے آوٴ کہ تنہائی ہمیں سونے نہیں دیتی

چلے آوٴ کہ میرے خواب سارے

سب کے سب سپنے

ادھورے ہی نہ رہ جائے

چلے آوٴ کہ وہ مسکان وہ باتیں

تمہاری یاد کے آنسو بہاتے ہیں

چلے آوٴ کہ تم بن۔۔۔۔

ہم ادھورے ہیں

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.