Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن

Featured Replies

خود غرضی اور بے حسی کی انتہا ہے- کیا کیا خواب سجائے آئی ہو گی ملکہ اور آتے ہی کیا افتاد آن پڑی اس پر، اسی طرح شکو کو کتنا مان ہو گا اپنے ماں باپ پہ لیکن اس کا باپ بھی سمیجو خاندان جیسا ہی نکلا- جب ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ قسط رلا دے گی تو میں سوچ رہا تھا کہ اب اس سے برا کیا ہو گا لیکن جب پڑھا تو واقعی ان لوگوں کی بے حسی پہ رونا آگیا- کہانی اپنے نام اور مزاج کے مطابق بالکل صحیح جا رہی ہے، سونے سے کندن بننے کے لیے ملکہ کو بھٹی میں تو جلنا ہی ہو گا

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 502
  • Views 793.8k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • نیو اپڈیٹ  

  • نیو اپڈیٹ کچھ مستقل قاری حضرات ہی کمنٹ کرتے ہیں اکثر تو یونہی چلے جاتے ہیں۔ جناب خیر ہے کیا ہم کسی اور طرف دھیان دیں؟

  • نیو اپڈیٹ  

Posted Images

رات کا اندھیرا اس کا ساتھی تھا 

تو اور تجھ جیسے اسی قابل ہیں کہ تیرے جیسوں کی بیٹیاں مردوں کا پانی سمیٹتی رہیں.  تو خود گند ہے اور گند کی پوٹلی بنا کر اپنی بیٹی ان کے سامنے پھینک دی تھی 

سلام اور زبان سمیحو کی بھی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئ 

ملکہ کے خوشنما اور حسن کی ساری تعریفوں پہ پورے اترتے پستان باہر کو امڈ پڑے 

ڈاکٹر صاحب کیا جاندار اور شاندار جملے تحریر کیے ہیں جو سیدھا دل کو چھو جاتے ہیں.. 

سانول جس طرح جسمانی طور پر پہلوان ہے ویسے ہی اس کا دل بھی شہہ زور ہے.  آپ کا کہا بالکل ٹھیک لگا کہ یہ قسط رلا دینے والی ہوگی اور ایسا ہی ہوا.  آپ نے سلام ,زمان سمیحو اور ملکہ کے سین کی کمال عکس بندی کی ہے.  واہ واہ واہ..  میں یہ بات دوبارہ کہوں گا کہ جو ہم نے سوچا بھی نہیں ہوتا وہی آپ لکھتے ہیں. 

یہ بڑا اچھا ہوا کہ سلام سمیحو نے ملکہ کو طلاق دیدی.  وہ ملکہ کے قابل نہیں تھا.  یہ تو تصور میں نہیں تھا کہ اپنی بہن کو اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہ اس حد تک گر جائے گا.  لیکن جو ہورہا ہے وہی لکھا گیا ہے.  زمان سمیحو لنڈ دباتا ہی رہ گیا..آپ کا ریپ سین لکھنے کا بھی کوئ جواب نہیں. 

کچھ سوالات میرے ذہن میں ہیں

سانول شکہو ملی کے لیے اتنا بڑا خطرہ کیوں مول رہا ہے جس کا اگر پتا لگ گیا تو موت کی سزا ہوگی.  یہ ٹھیک ہے کہ اس کو ظلم پسند نہیں لیکن پلا بڑھا تو وہ اسی ماحول میں ہے.  اتنا خطرہ مول لینا کہ ملہی کی بستی میں چلے جانا ؟؟؟؟؟؟؟؟

آپ نے یہ لکھا کہ اگر وہ ماروی کو مارتے ہیں تو برادری میں کیا منہ دکھائیں گے.  یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئ.  ہمارے معاشرہ میں اور بالخصوص جس علاقہ کا آپ نے ذکر کیا ہے اس میں تو اپنے دامن بچانے کا واحد طریقہ طریقہ یہی کہ لڑکی کو مار دیا جائے.  لوگ یہی کہتے ہیں کہ یہ ہے غیرت والا.  ورنہ لوگ بے شرم کہیں گے.... 

جس وقت ملکہ کے ساتھ دردناک ریپ کی کوشش کی جارہی تھی اس وقت ماروی کہاں تھی وہ بھائ والد چاچا کے لیے کیا  محسوس کررہی ہے.... 

udas panchi 

نے بھی ایک سوال اٹھایا کہ یہ تو وڈیروں کے ظلم کی داستان ہے تو جو سلام سمیحو زمان نے کیا وہ؟؟؟؟؟؟

 

21 hours ago, DR KHAN said:

سلسلے کے سٹارٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس کہانی کے 200 صفحات فری سیکشن میں پوسٹ کیئے جائیں گے۔ ایک خوبصورت کہانی کا تعارفی ایڈیشن یہاں ختم ہوا۔ اب اس سے آگے کی یہ کہانی پریمیم سیریز سیکشن میں قسط وار اپلوڈ ہو گی۔ ہر قسط قریبا 100 صفحات کی ہو گی۔جسے ممبرز نئے سسٹم کی مطابق کسی بھی ممبرشپ کے بغیر قسط کی پے منٹ کر کے پڑھ سکیں گے۔ ایک نیا سلسلہ بھی بہت جلد سٹارٹ کیا جائے گا

اگر سب ہی فری کردیا جائے تو فورم کیسے چلے گا.  ڈاکٹر صاحب کا شوق ہے تو وہ لکھ رہے ہیں.  ہونا تو یہ چاہیے کہ اچھا بھلا معاوضہ دیا جائے. حالاں کہ ڈاکٹر صاحب جو شاہکار لکھ رہے ہیں معاوضہ اس کی تلافی کر ہی نہیں سکتا. 

کھپرو کی ملکہ تو بہت ہی پایہ کی کہانی ہے جو فری میں نہیں چلنی چاہیے. ایک کہانی یاسر والی پہلے ہی چل رہی ہے.  اب یہی دیکھ لیں کہ ڈاکٹر صاحب نے مجھے کچھ لکھنے  کی کوشش کرنےکا کہا ہےلیکن اب تک ایک لائن نہیں لکھی ہے . ٹھیک ہے مصروف ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب کیا کم مصروف ہیں.  یہ ان ہی کی ہمت ہے 

یہ نہ ہو کہ قارئین مجھ پر بیچ وتاب کھارہے ہوں تو ان سے معذرت.  لیکن دوستوں بات یہ ہے کہ آج کل جس کی تنخواہ بیس ہزار ہے تو اس نے بھی پندرہ بیس ہزار کا موبائل رکھا ہوا ہے.  موٹر سائیکل رکھا ہوا ہے تو اس کا بھی پندرہ سو دو ہزار کا خرچہ ہے...  جب اتنا کچھ کرلیتے ہیں تو اب تو فورم انتظامیہ نے قیمت بھی بہت کم کردی ہے , اب اتنا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے. 

ایڈمن آپ نے یہ تو طریقہ کار رکھا ہے کہ 100پیجز کی قسط کی قیمت تو یہ بہت ہی بہترین ہے.  قارئین کو 100 پیجز یکمشت پڑھنے کو ملیں گے. پھر ہر کہانی کی اپڈیٹ اپنے وقت پر ہوگی جو کہ پہلے بھی ہورہی ہے...... 

ڈاکٹر صاحب آپ نے ایک جگہ پوچھا تھا کہ کون سی نئ کہانی سلسلہ شروع کیا جائے تو آج کل کے جو حالات چل رہے ہیں کالج یونیورسٹیز. پارک میں  بوائے فرینڈ گرل فرینڈ. کالج یونیو رسٹی میں جو کچھ ہوتا ہے .  اس پر کوئ سبق آموز کہانی لکھی جائے.... 

22 hours ago, Administrator said:

نئے سسٹم کو اسی لیئے بنایا گیا ہے کہ ممبر کو پے منٹ ہی تب کرنا ہو گی جب قسط اپلوڈ ہو کر آپ کے سامنے ہو گی۔اور اگر ممبر کو انتظار کرنا بھی پڑتا ہے تو ممبر کا ممبرشپ کا دورانیہ اور پے منٹ کا ضیاع نہیں ہو گا۔یہاں ایک سہولت یہ بھی ہے ۔کہ اگر کسی وجہ سے ممبر فورم قسط نہیں  پڑھنا چاہتا تو جب اس کا دل چاہے تب وہ خرید کر پڑھ سکتا ہے۔دوسری سہولت یہ بھی کہ ممبرشپ کی قیمت انتہائی کم کر دی گئی ہے۔جس کی ایک مثال یوں لے لیں کہ اب تک کی فری کہانی کی 200 صفحات کی قیمت 4 ڈالر بنتی ہے۔ جبکہ پہلے یہ 20 ڈالر میں دستیاب تھی۔  

زبردست جناب

کم از کم اب کوئ یہ نہیں کہہ سکے گا کہ پیسے ضائع ہوئے

 

Khan sahab aap ki story khapro ki Malika story par Raha tha bohat achi lagi lakin aap see poochna tha k per episode k charjes kitnay ho gay

📢 Post Your Ad Here
  • Author

سانول اس نظام کا ہوتے ہوئے بھی اس میں عام لوگوں کی طرح رچا بسا نہیں ہے۔ اس کا بختاور کی حکم عدولی کر کے محلہ کرنا، وڈیروں کے سامنے شرط رکھنا،اپنے لیے عورت مختص کرنا اور ایک وڈیری کے ساتھ تعلق رکھنا۔ وہ غلامانہ سوچ سے آزاد ہے۔

وہ ماہر لڑاکا ہے اس لیے لڑائی سے پہلے منت کرتا ہے کہ اس پہ حملہ نہ کیا جائے۔

اپنی اسی سوچ کی وجہ سے اس کو شکو کی معصومیت پہ ترس آ گیا۔

اسی سوچ نے ملکہ کی جان بچائی۔

اگر سلام ماروی کو قتل کر دیتا تو اس کو کم از کم یہ طعنہ تو سننے کو ملتا کہ اس کی بہن بدکردار تھی چاہے بعد میں قتل ہوئی۔ لوگ پھر بھی باتیں بناتے۔

ڈاکٹر صاحب آپکا کوئی موازنہ ہی نہیں. آپ 300 اقساط آگے کا سوچے ہوتے ہیں. آپ فنکار ہیں. پیار❤️

ہمم ڈاکٹر صاحب بجا فرمایا کہ اگر ماروی قتل ہوتی تو بد کرداری کا داغ لگ جاتا. 

عین وقت جب کہ ملکہ کو سلام کے نیچے ہونا چاہیے تھاماروی کو نیگ دینے کی وجہ سے رہ گیا.  اس کا بھی آپ نے جواب دیا تھا....

بہت بہتر... 

  • Author
9 hours ago, Parvez said:

 

یہ بڑا اچھا ہوا کہ سلام سمیحو نے ملکہ کو طلاق دیدی.  وہ ملکہ کے قابل نہیں تھا.  یہ تو تصور میں نہیں تھا کہ اپنی بہن کو اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہ اس حد تک گر جائے گا.  لیکن جو ہورہا ہے وہی لکھا گیا ہے.  زمان سمیحو لنڈ دباتا ہی رہ گیا..آپ کا ریپ سین لکھنے کا بھی کوئ جواب نہیں. 

کچھ سوالات میرے ذہن میں ہیں

udas panchi 

نے بھی ایک سوال اٹھایا کہ یہ تو وڈیروں کے ظلم کی داستان ہے تو جو سلام سمیحو زمان نے کیا وہ؟؟؟؟؟؟

 

سلام سمیجو نے طلاق اس لیے دی کیونکہ اس کو اپنے ساتھ ساتھ زمان سمیجو کو بھی ملکہ کے ساتھ زیادتی کا موقع دینا تھا۔

اپنی بیوی کو ماموں کو دیتے دل نہیں مانا تو پہلے طلاق دی پھر زیادتی کا سوچا۔

یہ بھی عین ممکن تھا کہ جب وہ لوگ آ جاتے تو کوئی اور بھی زیادتی کا نشانہ بناتا۔

 

اداس پنچھی کے سوال کا جواب ہے کہ ابھی تو ابتدا ہے مظالم کی اور اس ناانصافی میں بھی پس منظر میں وڈیرے ہی ہیں۔ سمیجو برادری کی اس بے حسی کے پیچھے بھی وڈیروں کا خوف ہے کہ ان کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں اور سزا مجبور عورت کو دی۔

اگر سمیجو برادری میں جرات ہوتی تو وڈیرے ماروی یا ملکہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے۔

📢 Post Your Ad Here

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Unfortunately, your post contains words that we do not allow to be posted on the forum. Please edit your post to remove the highlighted words below۔

بدقسمتی سے، آپ کی پوسٹ میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن کو ہم فورم پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ذیل میں نمایاں کردہ الفاظ کو ہٹانے کے لیے براہ کرم اپنی پوسٹ میں ترمیم کر کے پوسٹ کریں ۔

Reply to this topic...

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.