January 12, 20206 yr Dr sb Ap jasa sochte ha kamal karte ha ap ki jitni tarif ki jye kam ha bohat ala dr sb
January 16, 20206 yr Administrators 17 minutes ago, Zatrix said: کیا یہ کہانی ختم ہو گئی ہے ؟؟ کہانی ابھی شروع ہوئی ہے
January 18, 20206 yr Mai Ahni grift or Pardes novel parhna chahta hu to kia. Ap kindly mujhe tareka kar or price bta sakte hai
January 20, 20206 yr 100 page qisat ki payment ka batain jazz cash account number ya jasai b payment karni balky aap 100 ki bajay 200ya 300 page ka rate bata dain
January 20, 20206 yr Author 1 hour ago, اتھراجٹ said: 100 page qisat ki payment ka batain jazz cash account number ya jasai b payment karni balky aap 100 ki bajay 200ya 300 page ka rate bata dain بھائی ابھی تو میں نے مشکل سے دس صفحے لکھے ہوں گے۔ 100 میں وقت لگے گا اور جلد ہی پوسٹ کروں گا۔
January 21, 20206 yr ٹاپک بھی مشکل ہے اور آپ نے لکھا بھی ہمیشہ کی طرح شاندار ہے لیکن مجھے فائزہ نور کی اس بات سے اختلاف ہے کہ سندھ میں حالات اس سے زیادہ برے ہیں سندھ کا بہت بڑا حصہ تقریباً پچاسی فیصد اس قسم کے وڈیروں کے چنگل سے آزاد ہے موبائل کیبل اسمارٹ فون اور میدیا نے بہت کچھ بدل دیا ہے سوشل میدیا بہت بڑی طاقت بن کے ابھرا ہے میرا شوق ہے سندھ گھومنا چپا چپا تو نہیں لیکن اپنی استطاعت کے مطابق بہت گھوما ہے اور گھومتا رہتا ہوں اس طرح کے حالات نہیں ہیں ہاں غربت افلاس ریپ گھر سے بھاگ جانا اور کزنز میں اپس میں سیکس یا کلاس فیلوز میں سیکس شہروں سے کچھ زیادہ ہے لیکن یہ حال نہیں ہے کہ وڈیرے جس کی لڑکی چاہے اٹھا لیں جس کو چاہے چود دیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہو۔ شاید کچے کے کچھ علاقے یا ںہت اندرون جیاں سڑکیں نہیں ہوں لوگوں کا شہر سے واسطہ نہیں ہو وہاں غلامی کی ایسی قسمیں پائی جاتی ہوں باقی آج کا ہاری ووٹر بھی ہے ہاریوں کا بھی بڑا ہوتا ہے آج اتنی غیرت آگئی ہے کہ کاروکاری کے نام پہ اپنی بیٹی مارنے کے بجائے وڈیرے کو مار کے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں اور زمینیں سیاسی خاندانوں کی ملکیت ہو گئی ہیں تو وہ اتنا چند بھی نہیں چڑھاتے ان کو شہروں نیں ٹاپ ماڈلز میسر ہیں عیاشی کو پیٹرن بدل گیا ہے۔ باقی کہانی ایک الگ ہی دکھ سنسنی اور سسپنس لیے موجود ہے اور ہمیشہ کی طرح بہترین ہے لیکن انسانی حقوق کی اس قدر پامالی بھی نہیں ہے کہ اپنے انسان ہونے پہ شرم آنے لگے۔
January 21, 20206 yr ایک گزارش ہے ایڈمن سے جو لنک اپ نے دیا ہے اس لیں جوائن کلب کھولو تو وہی پندرہ ڈالر + پانچ ڈالر ممبر شپ فیس لکھی آرہی ہے قسط کے الگ چارجز نہیں لکھے ہوئے اس کے علاوہ جو کہانی مکمل ہو چکی ہے شاید آہنی گرفت وہ پوری پڑھنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا سو سو قسطوں کے پیکج یا مکمل۔پیکج ایک ساتھ لینا پڑے گا
January 21, 20206 yr Author 2 hours ago, same3r said: ٹاپک بھی مشکل ہے اور آپ نے لکھا بھی ہمیشہ کی طرح شاندار ہے لیکن مجھے فائزہ نور کی اس بات سے اختلاف ہے کہ سندھ میں حالات اس سے زیادہ برے ہیں سندھ کا بہت بڑا حصہ تقریباً پچاسی فیصد اس قسم کے وڈیروں کے چنگل سے آزاد ہے موبائل کیبل اسمارٹ فون اور میدیا نے بہت کچھ بدل دیا ہے سوشل میدیا بہت بڑی طاقت بن کے ابھرا ہے میرا شوق ہے سندھ گھومنا چپا چپا تو نہیں لیکن اپنی استطاعت کے مطابق بہت گھوما ہے اور گھومتا رہتا ہوں اس طرح کے حالات نہیں ہیں ہاں غربت افلاس ریپ گھر سے بھاگ جانا اور کزنز میں اپس میں سیکس یا کلاس فیلوز میں سیکس شہروں سے کچھ زیادہ ہے لیکن یہ حال نہیں ہے کہ وڈیرے جس کی لڑکی چاہے اٹھا لیں جس کو چاہے چود دیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہو۔ شاید کچے کے کچھ علاقے یا ںہت اندرون جیاں سڑکیں نہیں ہوں لوگوں کا شہر سے واسطہ نہیں ہو وہاں غلامی کی ایسی قسمیں پائی جاتی ہوں باقی آج کا ہاری ووٹر بھی ہے ہاریوں کا بھی بڑا ہوتا ہے آج اتنی غیرت آگئی ہے کہ کاروکاری کے نام پہ اپنی بیٹی مارنے کے بجائے وڈیرے کو مار کے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں اور زمینیں سیاسی خاندانوں کی ملکیت ہو گئی ہیں تو وہ اتنا چند بھی نہیں چڑھاتے ان کو شہروں نیں ٹاپ ماڈلز میسر ہیں عیاشی کو پیٹرن بدل گیا ہے۔ باقی کہانی ایک الگ ہی دکھ سنسنی اور سسپنس لیے موجود ہے اور ہمیشہ کی طرح بہترین ہے لیکن انسانی حقوق کی اس قدر پامالی بھی نہیں ہے کہ اپنے انسان ہونے پہ شرم آنے لگے۔ 2 hours ago, same3r said: ایک گزارش ہے ایڈمن سے جو لنک اپ نے دیا ہے اس لیں جوائن کلب کھولو تو وہی پندرہ ڈالر + پانچ ڈالر ممبر شپ فیس لکھی آرہی ہے قسط کے الگ چارجز نہیں لکھے ہوئے اس کے علاوہ جو کہانی مکمل ہو چکی ہے شاید آہنی گرفت وہ پوری پڑھنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا سو سو قسطوں کے پیکج یا مکمل۔پیکج ایک ساتھ لینا پڑے گا میں بھی آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ حالات خاصے بدل چکے ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں رہا کہ کسی کو بھی اٹھا لیں اور زیادتی کر دیں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ طاقتور کی طرف سے کمزور کے ساتھ ایسی ناانصافی ہر جگہ ہوتی ہے۔ اس کا شہر یا گاؤں ،سندھ یا پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کہانی کو سندھ کے پس منظر میں بہت پرانے وقت میں دکھایا ہے جب تعلیم شعور اور آگاہی نہیں تھی۔ وڈیرہ نظام عروج پہ تھا،کہانی کے اختتام پہ آپ وڈیرہ شاہی نظام میں دراڑیں محسوس کریں گے۔ انسانی حقوق کی پامالی ہمارے ہاں بہت کامن سا معاملہ ہے اور اس کی پامالی پڑھے لکھے سلجھے لوگوں سے بھی سرزد ہوتی ہے کیونکہ ہم شاید حقوق کو سمجھتے بھی ٹھیک سے نہیں ہیں۔ کہانی میں ہم نے کئی چیزیں بڑھا چڑھا اور غیرمعمولی بھی ظاہر کی ہوتی ہیں کیونکہ چھوٹے کینوس پہ سب کچھ پینٹ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر برا ہو رہا ہے تو ایک ہی انسان کے ساتھ اور اگر ہو رہا ہے تو بھی ایک ہی انسان کے ساتھ لگاتار اور لمبی قطار در قطار واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ مشکل کہانی ہے اور چونکہ کردار مختلف ہیں تو ان کو ایک جگہ یکجا کرنا اور ان سب کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی تعلق کی گنجائش بنا کر لکھنا مشکل کام ہے۔ مگر ہم کوشش کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جس معیار کا ہم نے سوچا ہے وہ بنا بھی پائیں۔
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.