Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 502
  • Views 793.4k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • نیو اپڈیٹ  

  • نیو اپڈیٹ کچھ مستقل قاری حضرات ہی کمنٹ کرتے ہیں اکثر تو یونہی چلے جاتے ہیں۔ جناب خیر ہے کیا ہم کسی اور طرف دھیان دیں؟

  • نیو اپڈیٹ  

Posted Images

Mai Ahni grift or Pardes novel parhna chahta hu to kia. Ap kindly mujhe tareka kar or price bta sakte hai

📢 Post Your Ad Here

100 page qisat ki payment ka batain jazz cash account number ya jasai b payment karni balky aap 100 ki bajay 200ya 300 page ka rate bata dain

  • Author
1 hour ago, اتھراجٹ said:

100 page qisat ki payment ka batain jazz cash account number ya jasai b payment karni balky aap 100 ki bajay 200ya 300 page ka rate bata dain

بھائی ابھی تو میں نے مشکل سے دس صفحے لکھے ہوں گے۔ 100 میں وقت لگے گا اور جلد ہی پوسٹ کروں گا۔

ٹاپک بھی مشکل ہے اور آپ نے لکھا بھی ہمیشہ کی طرح شاندار ہے لیکن مجھے فائزہ نور کی اس بات سے اختلاف ہے کہ سندھ میں حالات اس سے زیادہ برے ہیں سندھ کا بہت بڑا حصہ تقریباً پچاسی فیصد اس قسم کے وڈیروں کے چنگل سے آزاد ہے موبائل کیبل اسمارٹ فون اور میدیا نے بہت کچھ بدل دیا ہے سوشل میدیا بہت بڑی طاقت بن کے ابھرا ہے میرا شوق ہے سندھ گھومنا چپا چپا تو نہیں لیکن اپنی استطاعت کے مطابق بہت گھوما ہے اور گھومتا رہتا ہوں اس طرح کے حالات نہیں ہیں ہاں غربت افلاس ریپ گھر سے بھاگ جانا اور کزنز میں اپس میں سیکس یا کلاس فیلوز میں سیکس شہروں سے کچھ زیادہ ہے لیکن یہ حال نہیں ہے کہ وڈیرے جس کی لڑکی چاہے اٹھا لیں جس کو چاہے چود دیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہو۔ شاید کچے کے کچھ علاقے یا ںہت اندرون جیاں سڑکیں نہیں  ہوں لوگوں کا شہر سے واسطہ نہیں ہو وہاں غلامی کی ایسی قسمیں پائی جاتی ہوں باقی آج کا ہاری ووٹر بھی ہے ہاریوں کا بھی بڑا ہوتا ہے آج اتنی غیرت آگئی ہے کہ کاروکاری کے نام پہ اپنی بیٹی مارنے کے بجائے وڈیرے کو مار کے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں اور زمینیں سیاسی خاندانوں کی ملکیت ہو گئی ہیں تو وہ اتنا چند بھی نہیں چڑھاتے ان کو شہروں نیں ٹاپ ماڈلز میسر ہیں عیاشی کو پیٹرن بدل گیا ہے۔ باقی کہانی ایک الگ ہی دکھ سنسنی اور سسپنس لیے موجود ہے اور ہمیشہ کی طرح بہترین ہے لیکن انسانی حقوق کی اس قدر پامالی بھی نہیں ہے کہ اپنے انسان ہونے پہ شرم آنے لگے۔

ایک گزارش ہے ایڈمن سے جو لنک اپ نے دیا ہے اس لیں جوائن کلب کھولو تو وہی پندرہ ڈالر + پانچ ڈالر ممبر شپ فیس لکھی آرہی ہے قسط کے الگ چارجز نہیں لکھے ہوئے اس کے علاوہ جو کہانی مکمل ہو چکی ہے شاید آہنی گرفت وہ پوری پڑھنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا سو سو قسطوں کے پیکج یا مکمل۔پیکج ایک ساتھ لینا پڑے گا

  • Author
2 hours ago, same3r said:

ٹاپک بھی مشکل ہے اور آپ نے لکھا بھی ہمیشہ کی طرح شاندار ہے لیکن مجھے فائزہ نور کی اس بات سے اختلاف ہے کہ سندھ میں حالات اس سے زیادہ برے ہیں سندھ کا بہت بڑا حصہ تقریباً پچاسی فیصد اس قسم کے وڈیروں کے چنگل سے آزاد ہے موبائل کیبل اسمارٹ فون اور میدیا نے بہت کچھ بدل دیا ہے سوشل میدیا بہت بڑی طاقت بن کے ابھرا ہے میرا شوق ہے سندھ گھومنا چپا چپا تو نہیں لیکن اپنی استطاعت کے مطابق بہت گھوما ہے اور گھومتا رہتا ہوں اس طرح کے حالات نہیں ہیں ہاں غربت افلاس ریپ گھر سے بھاگ جانا اور کزنز میں اپس میں سیکس یا کلاس فیلوز میں سیکس شہروں سے کچھ زیادہ ہے لیکن یہ حال نہیں ہے کہ وڈیرے جس کی لڑکی چاہے اٹھا لیں جس کو چاہے چود دیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہو۔ شاید کچے کے کچھ علاقے یا ںہت اندرون جیاں سڑکیں نہیں  ہوں لوگوں کا شہر سے واسطہ نہیں ہو وہاں غلامی کی ایسی قسمیں پائی جاتی ہوں باقی آج کا ہاری ووٹر بھی ہے ہاریوں کا بھی بڑا ہوتا ہے آج اتنی غیرت آگئی ہے کہ کاروکاری کے نام پہ اپنی بیٹی مارنے کے بجائے وڈیرے کو مار کے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں اور زمینیں سیاسی خاندانوں کی ملکیت ہو گئی ہیں تو وہ اتنا چند بھی نہیں چڑھاتے ان کو شہروں نیں ٹاپ ماڈلز میسر ہیں عیاشی کو پیٹرن بدل گیا ہے۔ باقی کہانی ایک الگ ہی دکھ سنسنی اور سسپنس لیے موجود ہے اور ہمیشہ کی طرح بہترین ہے لیکن انسانی حقوق کی اس قدر پامالی بھی نہیں ہے کہ اپنے انسان ہونے پہ شرم آنے لگے۔

 

2 hours ago, same3r said:

ایک گزارش ہے ایڈمن سے جو لنک اپ نے دیا ہے اس لیں جوائن کلب کھولو تو وہی پندرہ ڈالر + پانچ ڈالر ممبر شپ فیس لکھی آرہی ہے قسط کے الگ چارجز نہیں لکھے ہوئے اس کے علاوہ جو کہانی مکمل ہو چکی ہے شاید آہنی گرفت وہ پوری پڑھنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا سو سو قسطوں کے پیکج یا مکمل۔پیکج ایک ساتھ لینا پڑے گا

میں بھی آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ حالات خاصے بدل چکے ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں رہا کہ کسی کو بھی اٹھا لیں اور زیادتی کر دیں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ طاقتور کی طرف سے کمزور کے ساتھ ایسی ناانصافی ہر جگہ ہوتی ہے۔ اس کا شہر یا گاؤں ،سندھ یا پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

میں نے کہانی کو سندھ کے پس منظر میں بہت پرانے وقت میں دکھایا ہے جب تعلیم شعور اور آگاہی نہیں تھی۔ وڈیرہ نظام عروج پہ تھا،کہانی کے اختتام پہ آپ وڈیرہ شاہی نظام میں دراڑیں محسوس کریں گے۔

انسانی حقوق کی پامالی ہمارے ہاں بہت کامن سا معاملہ ہے اور اس کی پامالی پڑھے لکھے سلجھے لوگوں سے بھی سرزد ہوتی ہے کیونکہ ہم شاید حقوق کو سمجھتے بھی ٹھیک سے نہیں ہیں۔

کہانی میں ہم نے کئی چیزیں بڑھا چڑھا اور غیرمعمولی بھی ظاہر کی ہوتی ہیں کیونکہ چھوٹے کینوس پہ سب کچھ پینٹ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر برا ہو رہا ہے تو ایک ہی انسان کے ساتھ اور اگر ہو رہا ہے تو بھی ایک ہی انسان کے ساتھ لگاتار اور لمبی قطار در قطار واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں۔

یہ مشکل کہانی ہے اور چونکہ کردار مختلف ہیں تو ان کو ایک جگہ یکجا کرنا اور ان سب کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی تعلق کی گنجائش بنا کر لکھنا مشکل کام ہے۔ مگر ہم کوشش کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جس معیار کا ہم نے سوچا ہے وہ بنا بھی پائیں۔

📢 Post Your Ad Here

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Unfortunately, your post contains words that we do not allow to be posted on the forum. Please edit your post to remove the highlighted words below۔

بدقسمتی سے، آپ کی پوسٹ میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن کو ہم فورم پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ذیل میں نمایاں کردہ الفاظ کو ہٹانے کے لیے براہ کرم اپنی پوسٹ میں ترمیم کر کے پوسٹ کریں ۔

Reply to this topic...

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.