November 20, 20196 yr 19 hours ago, Zatrix said: Hello. Koi haii جناب کہانی تو ابھی شروع ہوئ ہے. آپ نے کیسے کہہ دیا کہ مکمل ہوگئ ہے. جی قسط وار چل رہی ہے. ڈاکٹر صاحب مصروف ہیں جیسے ہی فارغ ہوں گے اپڈیٹ دے دیں گے. جب تک آپ فورم کے اور تھریڈز کو رونق بخشیں. 😊
November 23, 20196 yr On 11/2/2019 at 8:44 AM, Parvez said: مجھے تو یہ کہانی انوکھی لگی ہے. ایسی کہانی کبھی پڑھی نہیں. ایسی کہانیاں ہو بھی سکتی ہیں. پہلے بہت پڑھتا تھا ناول کہانیاں. بہت عرصہ ہوا پڑھنا چھوڑ دیں ڈاکٹر صاحب ایسا لکھتے ہیں کہ فلم دیکھنے کا ہی تصور ملتا ہے. لکھنے کی بھی ایک اپنی طاقت ہے انوکھے واقعااس لیے کہا کہ سب کے سامنے نواز نےمیرا سے جو چھیڑ چھاڑ کی اپنی گودی پر بٹھایا لنڈ پکڑادیا. پھر کمرہ میں لے جاکر کیا سامنے نوکر نوکرانی کو کھڑا کر کے. اس طرح کبھی پڑھا نہیں مجھے تو انوکھا ہی لگا. اسی طرح سارے سین Bilkul sahih kaha aap nay waqai a c story shaid hi kabi pari ho aur waqiat ka aisa tana bana aur dialogs k tu kya kehnay DR sahib k pass tu alfaz ka ek lamatnahi zakhira hay
December 7, 20196 yr ایڈمن, ڈاکٹر صاحب اور تمام دوستوں کو فورم کے دوبارہ آن لائن ہونے پر بہت بہت مبارک ہو. واہ ڈاکٹرصاحب ! کس منہ سے تعریف کروں. میں تو سمجھا کہ سانول نے جھپی ڈال لی لیکن وہ تو سانپ نکلا. سانول کے وجیہ پن نے تو فرزانہ کی چوت سے قطرہ نکال دیے جب بستر پر آئ گی تو کیا ہوگا. بے چاری کی گانڈ جو اتنی ماری جاتی ہے تو اس کی چوت کا ترسنا تو بنتا ہے. فرزانہ کے گندے خیالات ہا ہا کہ مجھے چود دے. کیا خوب احساسات بیان کرتے ہیں. فرزانہ کے بارے میں جب بختے نے فرہاد سمو کو بتایا کہ اس پر کیا گزر رہی ہے تو اب معلوم ہوا کہ وہ کیوں اتنا ترسی ہوئ ہے. اوپر سے وارث کی لالچ. پھر یہ بھی معلوم ہوجانا کہ ایک وڈیرنی نے سانول کا بچہ پیدا کرنے کے لیے لیا ہے تو فرزانہ کیسے رک پائے گی. سسی اور صبیحی کی گفت و شنید پڑھ کر جو مزہ آیا کچھ نہ پوچھیں. صبیحی نے تو تابر توڑ حملہ کیے. سدو بتارہیتھی کہ اتنا لمبا اور موٹا ہے .. اففف.سسی کی تو بج گئ ہے. سسی کی وہ کون سے نوکرانی تھی جس نے یہ راز افشاں کیا. سسی تو اس کو راز ہی رکھنا چاہتی ہوگی. آج وڈیرنیوں کو پتا ہے کل وڈیروں کو بھی معلوم ہوجائے گا. اُس وقت کیا قیامت آئے گی. اور اب تو فرزانہ بھی سانول کا لینے کو بے تاب ہے. ابھی تو سانول کہ ناز نخرے اٹھائے جارہے ہیں جب وڈیروں کو معلوم ہوگا کہ ان کی وڈیرنیوں کی کوکھ میں سانول کا نطفہ ہے تو.......... ... نوشاد کو ماروی کا پیغام مل گیا ہے. دیکھتے ہیں ماروی کیافیصلہ کرتی ہے. لگ تو رہا ہے ماروی دے دی گی لیکن کیا نوشاد اپنے دوستوں کو روک پائے گا. کیوں کہ اسد نے کہا تھا کہ یار ایک نمبر پیس ہے. ماوری تو راز رکھنا چاہتی ہے. پر رجو کو بتا بھی دیا ہے. فرہاد سمو کے لیے کتنی ذلت ہے کہ اسے معلوم ہوگیا ہے کہ اس کا دوست اس کی بہن کی گانڈ ماررہا ہے. میرا اور اس کے شوہر کا سیکس ہا ہا. اگر پہلی بار اس کا شوہر ہی سیل توڑتا تو کیا بنتا. بے چارہ دو جھٹکوں میں ہی فارغ ہوگیا. جبکہ چوت کا افتتاح بھی ہوچکا تھا. یہ سین تو آج کل کے نئے شادی شدہ جوڑوں پر فٹ آتا ہے. ایک بیٹھکی دوست نے بتایا تھا کہ اس کا تو شروع میں تین چار بار باہر ہی فارغ ہوجاتا تھا. بڑی مشکل سے سیل کھلی. میرا کے تاثرات بجا تھے. نواز کھوڑو نے تو اس کی شرم اتار دی ہے میرا کو نواز نے کیا تھا جہاں تک یاد پڑتا ہے اسد اور مختار نے بھی کیا تھا. کیا سانول نے بھی کیا تھا کیوں کہ آپ نے سانول کا نام بھی لکھا ہے.. کچھ کچھ تو یاد آرہا ہے. ڈاکٹر صاحب میں ایک بار پھر کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ نے لاجواب عکس بندی کی ہے BRAVO....
December 7, 20196 yr Author کہانی میں سبھی چیزیں شامل ہوں تو ہی اسے کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے۔ جیسے حسین عورت وڈیروں کی کمزوری ہے اسی طرح زورآور مرد بھی ان کو خوب مرغوب ہیں۔ کہانی میں ہر کردار کا الگ الگ مقام ہے، جیسے ماروی ہے تو اسے معلوم ہے کہ اسے کس کام کے لیے بلوایا گیا ہے اور اگر وہ گئی تو کیا ہو گا۔ مگر اس کی انکار کی ہمت نہیں کیونکہ وہ نہ گئی تو جو کچھ ہو سکتا ہے اس کا سوچنا بھی اس کے لیے ممکن نہیں۔ میرا شادی کے بعد اتنے مردوں کے ساتھ سو چکی ہے کہ اب شوہر کے ساتھ ہمبستری محض کوفت اور الجھن کا باعث ہے۔ سسی نے جس طرح کیا اس کا راز راز نہیں رہا اور اندرون خانہ سینہ با سینہ چل رہا ہے۔فرزانہ کا کیا ہو گا یہ بھی الگ داستان ہو گی۔فرزند کھوڑو جیسے برے مرد کی بیوی ہونا اور جنسی طور پہ شدید برا محسوس کرنا عین فطری ہے،اوپر سے اولاد نہ ہونا، فرزانہ کے ایمان کو ڈگمگانے کے لیے بہت ہے۔
December 7, 20196 yr ہممم ڈاکٹر صاحب آپ نے جو اپنے کمنٹ میں لکھا تو اور بہت سے پہلو سامنے آگئے. جب ہر چیز شامل ہوگی تو کہانی کامیابی سے چلے گی. میرا کا آپ نے ٹھیک کہا کہ اب تو اس کو اپنے شوہر سے نفرت ہوگی. حسین عورت وڈیروں کی کمزوری اور زور آور مرد وڈیروں کو مرغوب واہ. آپ نے اس میں بہت سے کردار متعارف کرائے سب کردار اپنی جگہ انتہائ اہم ہیں. ہوسکتا ہے اور بھی آئیں گے. ان سارے کرداروں کو اتنے احسن طریقہ سے چلانا ایک منجھے ہوئے لکھاری کا ہی خاصہ ہے. ڈاکٹر صاحب آفرین
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.