Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کھلونا تو نہیں ہوں میں

Featured Replies

  • Author

اے بنت حوا
سنبھال خود کو
یہ ابن آدم
ہوس کو چاہت کا نام دے کے
پیاس اپنی بجھا رہےہے
یہ تیرا دامن جلا رہے ہے
مگر تو پیکرِ وفا بنی ہے
وفا ہی تیری خطا بنی ہے
تو کتنی سادہ ہے،  کتنی پاگل ہے
کس کی باتوں میں آ رہی ہے
مقام اپنا گنوا رہی ہے
یہ چاہتوں کا فریب دیکر
تمھارے جذبوں سے کھیلتے ہیں
اور اپنی خواہش مٹانے تک یہ
تمھاری چاہت کو جھیلتے ہیں
مگر یہ اپنی ہوس مٹا کر
تمھیں بھلا کر
شکار اگلا تلاشتے ہیں
اے بنت حوا
سنبھال خود کو

Edited by Young Heart

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

میرے چارہ گر، میرے مہرباں
میری زندگی کی کتاب میں
میرے روز و شب کے حساب میں
تیرا نام جتنے صفحوں پہ ہے
تیری یاد جتنی شبوں میں ہے
وہی چند صفحے ہیں   متاعِ جان
اُنہی رتجگوں کا شمار ہے

  • Author

مرے آشنا بھی عجیب تھے نہ رفیق تھے نہ رقیب تھے
مجھے جاں سے درد عزیز تھا انہیں فکرِ چارہ گری رہی

  • Author

ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا
کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا
دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو
مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا
چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے
کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا
تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو
نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا
مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے
مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا
دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے
ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا
نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے
کھلے نہ آنکھ میری عمر بھی دعا کرنا

اعتبار ساجد

Edited by Young Heart

  • Author

چارہ گر نے بحر تسکین رکھ دیا ہے دل پر ہاتھ
مہرباں ہے وہ مگر ناآشنائے زخم ہے

Edited by Young Heart

📢 Post Your Ad Here
  • Author

انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ
وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ

یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں
کسی یاد کو پکارو کسی درد کو جگاؤ

وہ کہانیاں ادھوری جو نہ ہو سکیں گی پوری
انہیں میں بھی کیوں سناؤں انہیں تم بھی کیوں سناؤ

یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا وہ پھر نہ آیا مری بات مان جاؤ

کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فراز کب تک
جو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ

(احمد فراز)

  • Author

مستئ حال کبھی تھی کہ نہ تھی، بُھول گئے
یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی، بُھول گئے
یُوں مُجھے بھیج کے تنہا سرِ بازارِ فریب
کیا میرے دوست میری سادہ دلی بُھول گئے
میں تو بے حِس ہوں، مُجھے درد کا احساس نہیں
چارہ گر کیوں روشِ چارہ گری بُھول گئے؟
اب میرے اشکِ محبت بھی نہیں آپ کو یاد
آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بُھول گئے
اب مُجھے کوئی دِلائے نہ محبت کا یقیں
جو مُجھے بُھول نہ سکتے تھے وہی بُھول گئے
اور کیا چاہتی ہے گردش ایام، کہ ہم
اپنا گھر بُھول گئے، ان کی گلی بُھول گئے
کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں
کیا کریں ہم سے بڑی بُھول ہوئی، بُھول گئے

(جونؔ ایلیا)

  • Author

مُجھے دے کے مے میرے ساقیا! میری تَشنگی کو ہوا نہ دے
میری پیاس پر بھی تو کر نظر، مُجھے میکشی کی سزا نہ دے
میرا ساتھ، اے میرے ہمسفر! نہیں چاہتا ہے تو جام دے
مگر اِس طرح سرِ رِہگزر مُجھے ہر قدم پہ صدا نہ دے
میرا غم نہ کر میرے چارہ گر! تیری چارہ جوئی بجا، مگر
میرا درد ہے میری زندگی، مُجھے دردِ دل کی دوا نہ دے
میں وہاں ہوں اب میرے ناصِحا! کہ جہاں خُوشی کا گُزر نہیں
میرا غم حدوں سے گُزر گیا، مجھے اب خُوشی کی دُعا نہ دے
وہ گِرائیں شوق سے بِجلیاں، یہ سِتم کرم ہیں، سِتم نہیں
کہ وہ طرزؔ برقِ جفا نہیں، جو چمک کہ نُورِ وفا نہ دے

(گنیش بہاری طرزؔ)

  • Author

چلو اُس بت کو بھی رو لیں
جسے سب نے کہا پتھر
مگر ہم نے خدا سمجھا
خدا سمجھا
کہ ہم نے پتھروں میں عمر کاٹی تھی

خدا سمجھا
کہ ہم نے معبدوں کی خاک چاٹی تھی

کہ پتھر تو کہیں دیوارِ زنداں
اور کہیں دہلیزِ مقتل تھے
کبھی سرمایۂ دامانِ خلقت
اور کبھی بختِ جنوں کیشاں
کبھی ان کا ہدف دکانِ شیشہ گر
کبھی صورت گرِ ہنگامۂ طفلاں
کبھی بے نور آنکھوں کے نشاں
بے اشک بے درماں
کبھی لوحِ مزارِ جاں
نہ چارہ گر نہ اہلِ درد کے درماں
مگر وہ بُت
چراغِ بزمِ تنہائی
مجسم رنگ و رعنائی
فضا کی روشنی
آنکھوں کی بینائی
سکونِ جاں
وہ آنکھیں درد کی جھیلیں
وہ لب چاہت کے شعلوں سے بھرے مرجاں
وہ بت انساں
مگر ہم نے وفورِ شوق میں
فرطِ عقیدت سے کہا یزداں
یہ ہم کافر
کہ دنیا کم نظراں

سبھی لائے ہمارے سامنے اوراقِ پارینہ
کہ جن پر نقش تھے
اہلِ وفا کے عکسِ دیرینہ
شکستہ استخواں بے جان نابینا
جبیں سجدوں سے داغی
اور زخموں سے بھرا سینہ
اور ان کے بت
مآل سوزِ اہلِ دل سے بے پروا
سبھی خود بین و خود آرا
ہر اک محمل نشیں تنہا
مگر مصروفِ نظّارا

اور اب ہم بھی گرفتہ دل
نہ محرومی کو سہہ پائیں
نہ بربادی چھپانے کے رہے قابل
وہ بت مرمر کی سل
اور اہلِ سجدہ کی جبیں گھائل
سبھی کی بات سچ
اور ہم ندامت کے عرق میں تربتر
شرمندگی کے کرب سے بسمل
چلو اب اپنے جیسے نامرادوں سے ہنسیں بولیں
جو وہ کہتے ہیں وہ ہو لیں
جبیں کے داغ آنکھوں کا لہو دھو لیں
چلو اِس بت کو بھی رو لیں

(احمد فراز)

Edited by Young Heart

جبیں کے داغ آنکھوں کا لہو دھو لیں


چلو اس بت کو بھی رو لیں


 


 


کیا بات ہے،یہ دو مصرعے دل کے پار ہو گئے۔


کمال ہے جناب،کمال ہے۔


📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.