August 15, 201510 yr Author اے بنت حواسنبھال خود کویہ ابن آدمہوس کو چاہت کا نام دے کےپیاس اپنی بجھا رہےہےیہ تیرا دامن جلا رہے ہےمگر تو پیکرِ وفا بنی ہےوفا ہی تیری خطا بنی ہےتو کتنی سادہ ہے، کتنی پاگل ہےکس کی باتوں میں آ رہی ہےمقام اپنا گنوا رہی ہےیہ چاہتوں کا فریب دیکرتمھارے جذبوں سے کھیلتے ہیںاور اپنی خواہش مٹانے تک یہتمھاری چاہت کو جھیلتے ہیںمگر یہ اپنی ہوس مٹا کرتمھیں بھلا کرشکار اگلا تلاشتے ہیںاے بنت حواسنبھال خود کو Edited August 15, 201510 yr by Young Heart
August 16, 201510 yr Author میرے چارہ گر، میرے مہرباںمیری زندگی کی کتاب میںمیرے روز و شب کے حساب میںتیرا نام جتنے صفحوں پہ ہےتیری یاد جتنی شبوں میں ہےوہی چند صفحے ہیں متاعِ جاناُنہی رتجگوں کا شمار ہے
August 17, 201510 yr Author مرے آشنا بھی عجیب تھے نہ رفیق تھے نہ رقیب تھےمجھے جاں سے درد عزیز تھا انہیں فکرِ چارہ گری رہی
August 19, 201510 yr Author ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرناکڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنادیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہومکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرناچراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرےکوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرناتمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کونہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنامسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائےمزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنادکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائےہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنانشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھےکھلے نہ آنکھ میری عمر بھی دعا کرنا اعتبار ساجد Edited August 19, 201510 yr by Young Heart
August 22, 201510 yr Author چارہ گر نے بحر تسکین رکھ دیا ہے دل پر ہاتھمہرباں ہے وہ مگر ناآشنائے زخم ہے Edited August 22, 201510 yr by Young Heart
August 23, 201510 yr Author انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤوہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤیہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیںکسی یاد کو پکارو کسی درد کو جگاؤوہ کہانیاں ادھوری جو نہ ہو سکیں گی پوریانہیں میں بھی کیوں سناؤں انہیں تم بھی کیوں سناؤیہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیںجو گیا وہ پھر نہ آیا مری بات مان جاؤکسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فراز کب تکجو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ (احمد فراز)
August 25, 201510 yr Author مستئ حال کبھی تھی کہ نہ تھی، بُھول گئےیاد اپنی کوئی حالت نہ رہی، بُھول گئےیُوں مُجھے بھیج کے تنہا سرِ بازارِ فریبکیا میرے دوست میری سادہ دلی بُھول گئےمیں تو بے حِس ہوں، مُجھے درد کا احساس نہیںچارہ گر کیوں روشِ چارہ گری بُھول گئے؟اب میرے اشکِ محبت بھی نہیں آپ کو یادآپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بُھول گئےاب مُجھے کوئی دِلائے نہ محبت کا یقیںجو مُجھے بُھول نہ سکتے تھے وہی بُھول گئےاور کیا چاہتی ہے گردش ایام، کہ ہماپنا گھر بُھول گئے، ان کی گلی بُھول گئےکیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیںکیا کریں ہم سے بڑی بُھول ہوئی، بُھول گئے(جونؔ ایلیا)
August 26, 201510 yr Author مُجھے دے کے مے میرے ساقیا! میری تَشنگی کو ہوا نہ دےمیری پیاس پر بھی تو کر نظر، مُجھے میکشی کی سزا نہ دےمیرا ساتھ، اے میرے ہمسفر! نہیں چاہتا ہے تو جام دےمگر اِس طرح سرِ رِہگزر مُجھے ہر قدم پہ صدا نہ دےمیرا غم نہ کر میرے چارہ گر! تیری چارہ جوئی بجا، مگرمیرا درد ہے میری زندگی، مُجھے دردِ دل کی دوا نہ دےمیں وہاں ہوں اب میرے ناصِحا! کہ جہاں خُوشی کا گُزر نہیںمیرا غم حدوں سے گُزر گیا، مجھے اب خُوشی کی دُعا نہ دےوہ گِرائیں شوق سے بِجلیاں، یہ سِتم کرم ہیں، سِتم نہیںکہ وہ طرزؔ برقِ جفا نہیں، جو چمک کہ نُورِ وفا نہ دے(گنیش بہاری طرزؔ)
August 27, 201510 yr Author چلو اُس بت کو بھی رو لیںجسے سب نے کہا پتھرمگر ہم نے خدا سمجھاخدا سمجھاکہ ہم نے پتھروں میں عمر کاٹی تھی خدا سمجھاکہ ہم نے معبدوں کی خاک چاٹی تھیکہ پتھر تو کہیں دیوارِ زنداںاور کہیں دہلیزِ مقتل تھےکبھی سرمایۂ دامانِ خلقتاور کبھی بختِ جنوں کیشاںکبھی ان کا ہدف دکانِ شیشہ گرکبھی صورت گرِ ہنگامۂ طفلاںکبھی بے نور آنکھوں کے نشاںبے اشک بے درماںکبھی لوحِ مزارِ جاںنہ چارہ گر نہ اہلِ درد کے درماںمگر وہ بُتچراغِ بزمِ تنہائیمجسم رنگ و رعنائیفضا کی روشنیآنکھوں کی بینائیسکونِ جاںوہ آنکھیں درد کی جھیلیںوہ لب چاہت کے شعلوں سے بھرے مرجاںوہ بت انساںمگر ہم نے وفورِ شوق میںفرطِ عقیدت سے کہا یزداںیہ ہم کافرکہ دنیا کم نظراںسبھی لائے ہمارے سامنے اوراقِ پارینہکہ جن پر نقش تھےاہلِ وفا کے عکسِ دیرینہشکستہ استخواں بے جان نابیناجبیں سجدوں سے داغیاور زخموں سے بھرا سینہاور ان کے بتمآل سوزِ اہلِ دل سے بے پرواسبھی خود بین و خود آراہر اک محمل نشیں تنہامگر مصروفِ نظّارااور اب ہم بھی گرفتہ دلنہ محرومی کو سہہ پائیںنہ بربادی چھپانے کے رہے قابلوہ بت مرمر کی سلاور اہلِ سجدہ کی جبیں گھائلسبھی کی بات سچاور ہم ندامت کے عرق میں تربترشرمندگی کے کرب سے بسملچلو اب اپنے جیسے نامرادوں سے ہنسیں بولیںجو وہ کہتے ہیں وہ ہو لیںجبیں کے داغ آنکھوں کا لہو دھو لیںچلو اِس بت کو بھی رو لیں (احمد فراز) Edited August 27, 201510 yr by Young Heart
August 28, 201510 yr جبیں کے داغ آنکھوں کا لہو دھو لیں چلو اس بت کو بھی رو لیں کیا بات ہے،یہ دو مصرعے دل کے پار ہو گئے۔ کمال ہے جناب،کمال ہے۔
Create an account or sign in to comment