Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کھلونا تو نہیں ہوں میں

Featured Replies

  • Author

بہت شکریہ شاعری کے انتخاب کو پسند کرنے کا


احمد فراز بڑا شاعر تھا


کئی جگہوں پر بہت دل چھو لینے والی شاعری کی ہے


Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

شعر کسی کے ہِجر میں کہنا، حرفِ وصال کسی سے
ہم بھی کیا ہیں دھیان کسی کا اور سوال کسی سے
ساری متاعِ ہستی اپنی خواب و خیال تو ہیں
وہ بھی خواب کسی سے مانگے اور خیال کسی سے
ایسے سادہ دل لوگوں کی چارہ گری کیسے ہو
درد کا درماں اور کوئی ہو، کہنا حال کسی سے
دیکھو اِک صُورت نے دل میں کیسی جوت جگائی
کیسا سجا سجا لگتا ہے شہرِ ملال کسی سے
تم کو زُعم فرازؔ اگر ہے تم بھی جتن کر دیکھو
آج تلک تو ٹُوٹ نہ پایا، درد کا جال کسی سے

(احمد فرازؔ)

  • Author

اسے کیا خبر کے پلک پلک روش ستارہ گری رہی
اسے کیا خبر کے تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی

کوئی تار تار نگاہ بھی تھی پسِ آئنہ ، اسے کیا خبر
کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی

میں اسیر شام قفس رہا مگر اے ہوائے دیار دل
سر طاق مطلع آفتاب مِری نگاہ دھری رہی

سفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھا
مگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہم سفری رہی

وہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا ، نہ مٹا سکے
کف ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہی

وہی خواب خواب حکایتیں وہی خالد اپنی روایتیں
وہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہنری رہی

  • Author

مرے روگ کا نہ ملال کر ، مرے چارہ گر
میں بڑا ہوا اسے پال کر ، مرے چارہ گر

سبھی درد چُن مرے جسم سے ، کسی اسم سے
مرا انگ انگ بحال کر ، مرے چارہ گر

مجھے سی دے سوزن ِ درد ، رشتہ ء زرد سے
مجھے ضبط ِ غم سے بحال کر ، مرے چارہ گر

مجھے چیر نشتر ِعشق ، سوز ِ سرِشک سے
مرا اندمال بحال کر ، مرے چارہ گر

یہ بدن کے عارضی گھاؤ ہیں ، انہیں چھوڑ دے
مرے زخم ِ دل کا خیال کر ، مرے چارہ گر

فقط ایک قطرہ ء اشک میرا علاج ھے
مجھے مُبتلائے ملال کر ، مرے چارہ گر

مجھے اپنے زخم کی خود بھی کوئی خبر نہیں
سو نہ مجھ سے کوئی سوال کر ، مرے چارہ گر

میں جہان ِ درد میں کھو گیا ، تجھے کیا ملا
مجھے امتحان میں ڈال کر مرے چارہ گر

ترا حال دیکھ کے روئے گا ، ترا چارہ گر
مرا دل نہ دیکھ نکال کر ، مرے چارہ گر

 

(شہزاد نیر)

Edited by Young Heart

  • Author

یوں تو صدائے زخم بہت دور تک گئی
اک چارہ گر کے شہر میں جا کر بھٹک گئی

خوشبو گرفتِ عکس میں لایا اور اُس کے بعد
میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی

گُل کو برہنہ دیکھ کر جھونکا نسیم کا
جگنو بجھا رہا تھا کہ تتلی چمک گئی

میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح
اور چاندنی صلیب پر آکر لٹک گئی

روتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگِ میل سے
مجبور ہو کہ شہر کے اندر سڑک گئی

قاتل کو آج صاحبِ اعجاز مان کر
دیوارِ عدل اپنی جگہ سے سرک گئی

(غلام محمد قاصر)

📢 Post Your Ad Here
  • Author
میرے درد آشنا ، اے مرے چارہ گر، شعر کیسے لکھوں ؟​

میری بے مائیگی ہے مری ہمسفر ، شعر کیسے لکھوں ؟​


روز ہوتا ہے نذرِ مشقّت بدن ، کیا مرا بانکپن ​

لوٹتا ہوں میں گھر کتنا تھک ٹوٹ کر، شعر کیسے لکھوں ؟​


میرے چاروں طرف ایک سیلابِ خوں کس اذیّت میں ہوں​

کس قدر خوف ہے میرے اعصاب پر ، شعر کیسے لکھوں ؟​


ہے فراغت کسے گھر کے احوال سے ، سالہا سال سے ​

اب کوئی مجھ کو اپنی نہ تیری خبر ، شعر کیسے لکھوں ؟​


دُکھ سمیٹوں در و بام کے رات بھر نیند سے بے خبر​

دن گزرتا ہے تلوار کی دھار پر ،شعر کیسے لکھوں ؟​


مجھ کو ادراکِ رمز و کنایہ کہاں ، کج سخن کج بیاں ​

سُننے والے ہیں سارے یہاں معتبر ، شعر کیسے لکھوں ؟​


کوئی لمحہ مری دسترس میں نہیں کچھ بھی بس میں نہیں ​

ایک اسی دکھ میں رہتا ہوں شام و سحر ، شعر کیسے لکھوں ؟​


مجھ کو میرے سوا جانتا کون ہے مانتا کون ہے ​

یہ ہے برسوں کی مشقِ سخن کا ثمر، شعر کیسے لکھوں ؟​


بس یہی تھی خدا سے مری اک طلب دے دے لکھنے کا ڈھب​

سب دعائیں مری ہوگئیں بے اثر ، شعر کیسے لکھوں ؟​


بد دعا دے گیا کیوں سرِ انجمن کوئی درویشِ فن​

ہوگیا سلب سب میرا علم و ہنر ، شعر کیسے لکھوں ؟​


قحطِ رزق ان دنوں ساتھ ایک ایک پل ہوگیا ذہن شل​

اپنے بچوں کو دیکھوں جو میں چشم تر ، شعر کیسے لکھوں ؟​

 

(احمد امتیاز)


  • Author

کبھی تم نے یہ بھی سوچا
کہ تمہارے دل گرفتہ
تمہیں کتنا چاہتے ہیں
تمہیں زندگی سے بڑھ کر
جو عزیز ہم نے جانا
سو کوئی سبب تو ہو گا
کبھی تم نے یہ بھی سوچا؟
سرِ شام منتظر تھے
کہیں نیلمیں اجالے
کہیں پھول جیسے عارض
کہیں قمقموں سی آنکھیں
یہ جو چارہ گر ہمارے
کوئی ساعتِ رفاقت
سرِ شام مانگتے تھے
انہیں کیا خبر کہ ہم نے
تمہیں سونپ دی ہیں راتیں
تمہیں دان کی ہیں آنکھیں
کبھی تم نے یہ بھی سوچا؟
کہ تمہارے دل گرفتہ
پس بام و در اکیلے
کسی شمع سوختہ سے
یہ جو کر رہے ہیں باتیں
تمہیں کتنا چاہتے ہیں ؟
تمہیں روز و شب کے دکھ میں
کبھی بھولنا بھی چاہیں
تو کبھی نہ بھول پائیں
کہ یہ عہدِ زندگی ہے
جسے توڑنا بھی چاہیں
تو کبھی نہ توڑ پائیں

  • Author

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا

مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو
و ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

اُ دھر ایک حرف کے کشتنی ، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو ہنس کے اُڑا دیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا

 

(فیض احمد فیض)

  • Author

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
(حبیب جالب)

  • Author

میرے چارہ گر


تیری چپ کھلے


کہ


ہوا کو اذن سفر ملے


میرے زخم کھل کے گلاب ہوں


یہ جو سانس سانس ہیں وحشتیں


یہ سراب خواب ہیں منزلیں


یہ دیے کی لو سی جو آس ہے


تیرا حکم ہو


تو یہ جل بجھے


مجھے عشق کا یہ صلہ ملے


تیرے ہاتھ روح کی گرہ کھلے


یہ بدن کی قید سے ہورہا


تیرا یہ کرم


مجھے کیمیاء


نہ سوال ہوں


نہ جواب ہوں


کسی طور ختم عذاب ہوں


📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.