August 28, 201510 yr Author بہت شکریہ شاعری کے انتخاب کو پسند کرنے کا احمد فراز بڑا شاعر تھا کئی جگہوں پر بہت دل چھو لینے والی شاعری کی ہے
August 28, 201510 yr Author شعر کسی کے ہِجر میں کہنا، حرفِ وصال کسی سےہم بھی کیا ہیں دھیان کسی کا اور سوال کسی سےساری متاعِ ہستی اپنی خواب و خیال تو ہیںوہ بھی خواب کسی سے مانگے اور خیال کسی سےایسے سادہ دل لوگوں کی چارہ گری کیسے ہودرد کا درماں اور کوئی ہو، کہنا حال کسی سےدیکھو اِک صُورت نے دل میں کیسی جوت جگائیکیسا سجا سجا لگتا ہے شہرِ ملال کسی سےتم کو زُعم فرازؔ اگر ہے تم بھی جتن کر دیکھوآج تلک تو ٹُوٹ نہ پایا، درد کا جال کسی سے(احمد فرازؔ)
August 29, 201510 yr Author اسے کیا خبر کے پلک پلک روش ستارہ گری رہیاسے کیا خبر کے تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہیکوئی تار تار نگاہ بھی تھی پسِ آئنہ ، اسے کیا خبرکسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہیمیں اسیر شام قفس رہا مگر اے ہوائے دیار دلسر طاق مطلع آفتاب مِری نگاہ دھری رہیسفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھامگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہم سفری رہیوہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا ، نہ مٹا سکےکف ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہیوہی خواب خواب حکایتیں وہی خالد اپنی روایتیںوہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہنری رہی
August 30, 201510 yr Author مرے روگ کا نہ ملال کر ، مرے چارہ گرمیں بڑا ہوا اسے پال کر ، مرے چارہ گر سبھی درد چُن مرے جسم سے ، کسی اسم سےمرا انگ انگ بحال کر ، مرے چارہ گر مجھے سی دے سوزن ِ درد ، رشتہ ء زرد سےمجھے ضبط ِ غم سے بحال کر ، مرے چارہ گر مجھے چیر نشتر ِعشق ، سوز ِ سرِشک سےمرا اندمال بحال کر ، مرے چارہ گر یہ بدن کے عارضی گھاؤ ہیں ، انہیں چھوڑ دےمرے زخم ِ دل کا خیال کر ، مرے چارہ گر فقط ایک قطرہ ء اشک میرا علاج ھےمجھے مُبتلائے ملال کر ، مرے چارہ گر مجھے اپنے زخم کی خود بھی کوئی خبر نہیںسو نہ مجھ سے کوئی سوال کر ، مرے چارہ گر میں جہان ِ درد میں کھو گیا ، تجھے کیا ملامجھے امتحان میں ڈال کر مرے چارہ گر ترا حال دیکھ کے روئے گا ، ترا چارہ گرمرا دل نہ دیکھ نکال کر ، مرے چارہ گر (شہزاد نیر) Edited August 30, 201510 yr by Young Heart
August 31, 201510 yr Author یوں تو صدائے زخم بہت دور تک گئیاک چارہ گر کے شہر میں جا کر بھٹک گئیخوشبو گرفتِ عکس میں لایا اور اُس کے بعدمیں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئیگُل کو برہنہ دیکھ کر جھونکا نسیم کاجگنو بجھا رہا تھا کہ تتلی چمک گئیمیں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرحاور چاندنی صلیب پر آکر لٹک گئیروتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگِ میل سےمجبور ہو کہ شہر کے اندر سڑک گئیقاتل کو آج صاحبِ اعجاز مان کردیوارِ عدل اپنی جگہ سے سرک گئی(غلام محمد قاصر)
September 1, 201510 yr Author میرے درد آشنا ، اے مرے چارہ گر، شعر کیسے لکھوں ؟ میری بے مائیگی ہے مری ہمسفر ، شعر کیسے لکھوں ؟ روز ہوتا ہے نذرِ مشقّت بدن ، کیا مرا بانکپن لوٹتا ہوں میں گھر کتنا تھک ٹوٹ کر، شعر کیسے لکھوں ؟ میرے چاروں طرف ایک سیلابِ خوں کس اذیّت میں ہوں کس قدر خوف ہے میرے اعصاب پر ، شعر کیسے لکھوں ؟ ہے فراغت کسے گھر کے احوال سے ، سالہا سال سے اب کوئی مجھ کو اپنی نہ تیری خبر ، شعر کیسے لکھوں ؟ دُکھ سمیٹوں در و بام کے رات بھر نیند سے بے خبر دن گزرتا ہے تلوار کی دھار پر ،شعر کیسے لکھوں ؟ مجھ کو ادراکِ رمز و کنایہ کہاں ، کج سخن کج بیاں سُننے والے ہیں سارے یہاں معتبر ، شعر کیسے لکھوں ؟ کوئی لمحہ مری دسترس میں نہیں کچھ بھی بس میں نہیں ایک اسی دکھ میں رہتا ہوں شام و سحر ، شعر کیسے لکھوں ؟ مجھ کو میرے سوا جانتا کون ہے مانتا کون ہے یہ ہے برسوں کی مشقِ سخن کا ثمر، شعر کیسے لکھوں ؟ بس یہی تھی خدا سے مری اک طلب دے دے لکھنے کا ڈھب سب دعائیں مری ہوگئیں بے اثر ، شعر کیسے لکھوں ؟ بد دعا دے گیا کیوں سرِ انجمن کوئی درویشِ فن ہوگیا سلب سب میرا علم و ہنر ، شعر کیسے لکھوں ؟ قحطِ رزق ان دنوں ساتھ ایک ایک پل ہوگیا ذہن شل اپنے بچوں کو دیکھوں جو میں چشم تر ، شعر کیسے لکھوں ؟ (احمد امتیاز)
September 2, 201510 yr Author کبھی تم نے یہ بھی سوچاکہ تمہارے دل گرفتہتمہیں کتنا چاہتے ہیںتمہیں زندگی سے بڑھ کرجو عزیز ہم نے جاناسو کوئی سبب تو ہو گاکبھی تم نے یہ بھی سوچا؟سرِ شام منتظر تھےکہیں نیلمیں اجالےکہیں پھول جیسے عارضکہیں قمقموں سی آنکھیںیہ جو چارہ گر ہمارےکوئی ساعتِ رفاقتسرِ شام مانگتے تھےانہیں کیا خبر کہ ہم نےتمہیں سونپ دی ہیں راتیںتمہیں دان کی ہیں آنکھیںکبھی تم نے یہ بھی سوچا؟کہ تمہارے دل گرفتہپس بام و در اکیلےکسی شمع سوختہ سےیہ جو کر رہے ہیں باتیںتمہیں کتنا چاہتے ہیں ؟تمہیں روز و شب کے دکھ میںکبھی بھولنا بھی چاہیںتو کبھی نہ بھول پائیںکہ یہ عہدِ زندگی ہےجسے توڑنا بھی چاہیںتو کبھی نہ توڑ پائیں
September 3, 201510 yr Author نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیاجو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیامرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کروو ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیاکرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہوکہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیااُ دھر ایک حرف کے کشتنی ، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنیجو کہا تو ہنس کے اُڑا دیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیاجو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئےرہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا (فیض احمد فیض)
September 4, 201510 yr Author دیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلےوہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلےایسے دستور کو، صبح بےنور کومیں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سےمیں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سےکیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سےظلم کی بات کو، جہل کی رات کومیں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہوجام رندوں کو ملنے لگے،تم کہوچاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہواِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کومیں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوںاب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوںچارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوںتم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگرمیں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا(حبیب جالب)
September 5, 201510 yr Author میرے چارہ گر تیری چپ کھلے کہ ہوا کو اذن سفر ملے میرے زخم کھل کے گلاب ہوں یہ جو سانس سانس ہیں وحشتیں یہ سراب خواب ہیں منزلیں یہ دیے کی لو سی جو آس ہے تیرا حکم ہو تو یہ جل بجھے مجھے عشق کا یہ صلہ ملے تیرے ہاتھ روح کی گرہ کھلے یہ بدن کی قید سے ہورہا تیرا یہ کرم مجھے کیمیاء نہ سوال ہوں نہ جواب ہوں کسی طور ختم عذاب ہوں
Create an account or sign in to comment