September 6, 201510 yr Author دُشواریوں نے راہ کو آساں بنا دیاہر مرحَلے کو منزلِ جاناں بنا دیاکتنی تھی تابِ حُسْن کہ، اُس کی نگاہ نےہر آرزو کو شعلہ بداماں بنا دیاچارہ گروں کی شعبدہ بازی پہ دل نِثاردرماں کو درد، درد کو درماں بنا دیامحدودِ آرزوئے مُسرّت تھا دل مِراوُسعَت نے غم کی، اِس کو بیاباں بنا دیااک ذرۂ حقِیر کی قُوَّت تو دیکھئےتسخِیر کائِنات کو آساں بنا دیارُخ پر تِرے ٹھہر کے مِری چشمِ شوق نےآرائشِ جمال کو آساں بنا دیااک جُنْبِشِ نِگاہ بڑا کام کر گئیتارِ نظر کو جُزوِ رگِ جاں بنا دیاآیا ہے وہ بھی وقت، کہ اکثر بہار نےہرچاکِ گُل کو میرا گریباں بنا دیااخگر نِقاب اُلٹ کے، کِسی خوش جمال نےکارِ دِل و نِگاہ کو آساں بنا دیا (حنیف اخگر)
September 8, 201510 yr Author دیا ہے زہر مرے چارہ گر نے تنگ آکردوا تو خوب ملی ہے جو آئے راس مجھے (داغ دہلوی) Edited September 8, 201510 yr by Young Heart
September 9, 201510 yr Author اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کونزخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گےجس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئےتیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہےلوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون ہم چراغ شب ہی جب ٹھہرے تو پھر کیا سوچنارات تھی کس کا مقدر اور سحر دیکھے گا کون ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فرازشہر نا پرساں میں تیری چشم تر دیکھے گا کون (احمد فراز)
September 11, 201510 yr Author نہ تڑپا چارہ گر کے سامنے اے درد یوں مجھ کوکہیں ایسا نہ ہو یہ بھی تقاضائے دوا ٹھہرےاٹھو جاؤ سدھا رو ، کیوں مرے مردے پہ روتے ہوٹھہرنے کا گیا وقت اب اگر ٹھہرے تو کیا ٹھہرے (امیر مینائی)
September 13, 201510 yr Author میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے
September 14, 201510 yr Author مرے چارہ گر مرے محتسب مری بات سن مجھے صبر دے مجھے دے سدا تو یہ حوصلہ کہ میں سہہ سکوں جو ہیں غم سبھی جو ہیں دکھ سبھی مری ذات کے مرے لم یزل مرے راہبر مری بات سن تو بلاشبہ، مجھے آزما کڑے امتحاں سے مجھے مٹا تو اگر سنے، مری التجا مجھے بھی دکھا وہی راستہ کہ چلوں اگر تو میں لڑکھڑا کے گروں نہیں جو میں گرپڑوں تو اے چارہ گر مجھے تھام لے
September 18, 201510 yr Author مرے منتظر مجھے ہے خبر تُو ہے مضطرب تُو ہے مضمحل نہ ہو بدگماں نہ خیال کر سبھی وسوسوں کو نکال کر تُو یقین کر مری ذات کا تُو یقین کر مری بات کا مرے معتبر مرے محترم میں جدا نہیں میں ہُوں تجھ میں ضم ذرا مسکرا نہ کر آنکھ نم میں گماں نہیں میں یقین ہُوں تری دھڑکنوں کی مکین ہُوں تری راحتوں کی امین ہُوں مرے ہمنفس مرے چارہ گر نہ ہو مضطرب نہ ہو مضمحل تُو یقین رکھ تُو یقین رکھ Edited September 18, 201510 yr by Young Heart
September 25, 201510 yr Author پتہ نہیں کہ وہ مرہم لگانے آئے ہیںیا میرے زخم پہ نشتر چلانے آئے ہیںہمارے بانکپن کی کچھ تو داد دے قاتلکس اطمینان سے ہم سر کٹانے آئے ہیںمزاجِ بزم کا آخر لحاظ رکھنا تھاسو دل کو مار کے ہم مسکرانے آئے ہیںالٰہی چارہ گروں کا تو پھر بھرم رکھنانئی دوا ہے اِدھر آزمانے آئے ہیںبس ایک وقتِ ملاقات ہم نے مانگا تھاہزار اُن کے لبوں پر بہانے آئے ہیںہمیں پتہ ہے کہ عمرانؔ کہہ نہیں سکتےبڑے وثوق سے لیکن سُنانے آئے ہیں (ڈاکٹر عمران علی) Edited September 25, 201510 yr by Young Heart
September 30, 201510 yr Author کوئی امّید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟ آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہدپر طبعیت ادھر نہیں آتی ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی داغِ دل گر نظر نہیں آتابو بھی اے چارہ گر نہیں آتی ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتی کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتی
Create an account or sign in to comment