Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کھلونا تو نہیں ہوں میں

Featured Replies

  • Author

جب بھی اک شام یاد آتی ہے
جیسے دنیا ٹھہر سی جاتی ہے

اک طرف دل ہیں، اک طرف دنیا
اور یہ سین کائناتی ہے

یوں بھی ہوتا ہے شعر، بعض اوقات
جیسے بجلی سی کوند جاتی ہے

موت سے ہمکلام ہونے کے
زندگی راستے دکھاتی ہے

ہار ہوتی ہے عارضی، اس کو
بے دلی مستقل بناتی ہے

حادثے اک پل نہیں رکتے
زندگی ہے کہ چلتی جاتی ہے

اس کے دم سے ہیں رونقیں ساری
یہ جو دنیا کی بے سباتی ہے

بات کوئی سمجھ نہیں آتی
بات اتنی سمجھ میں آتی ہے

(امجد اسلام امجد)

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
 

 ابھی جو لوٹ کر تم پھر
ہمارے در پہ آئے ہو

یہ تم سے کہہ دیا کس نے
کہ تم بن رہ نہیں سکتے
یہ دکھ ہم سہ نہیں سکتے

اگر تم جاننا چاہو
کہ ایسا کیوں کیا ہم نے
یہ دکھ کیوں سہہ لیا ہم نے

تو سن لو غور سے جاناں
پرانی عہد رفتہ کی
روایت توڑ دی ہم نے

محبت چھوڑ دی ہم نے
محبت چھوڑ دی ہم نے

 

 
 
  • Author

بہت عمدہ - رانیہ


بہت اچھا کلام شئر کیا آپ نے


 


اس تھڑیڈ کا عنوان ہے


یوں بھی ہوتا ہے


یا


ایسا بھی ہوتا ہے


 


کوئی ایسے اشعار یا نظمیں/غزلیں شیئر کریں جن میں یہ مصرع آتا ہو


Edited by Young Heart

  • Author

کبھی یوں بھی ہوتا ہے

دو اجنبی دل

اچانک کسی خوشنما موڑ پر

ایک دوجے سے ملتے ہیں تو ایک لمحہ

اچانک کہیں سے ابھرتا ہے

اور ان کی آئندہ عمروں کے سارے مہ و سال

پر پھیلتے پھیلتے ان کے چاروں طرف

اک بظاہر دکھائی نہ دیتا ہوا دائرہ سا بناتا ہے

جس کی حدیں گھیر لیتی ہیں اک دن

ازل سے ابد تک کے سب فاصلوں کو

کبھی یوں بھی ہوتا ہے

وہ ہمسفر جو

زمانوں پہ پھیلی ہوئی اک مسافت

کو چاہت کے بادلوں کے سائے تلے

قدم درقدم کاٹتے چلے جا رہے تھے
اچانک کسی اجنبی موڑ پر ایک لمحے کو رکتے ہیں
تو دیکھتے ہیں
نجانے کدھر سے ہوائے جدائی کا اک تیز جھونکا
تعلق کے سارے دیوں کو بجھاتا
دلوں میں ِگلوں کی فصیلیں اٹھاتا ، بڑھا آرہا ہے
اور اسکی اڑی ہوئی گرد
لمحوں میں بے شکل کرتی ہے
عمروں پہ پھیلے ہوئے فاصلوں کو

Edited by Young Heart

  • Author

اس تھریڈ میں وہ اشعار/نظمیں/غزلیں پوسٹ کریں جن میں لفظ

چارہ گر

شامل ہو

 

--------------------

 

مجھے چھوڑ دے مرے حال پر، ترا کیا بھروسہ اے چارہ گر
یہ تری نوازشِ مختصر ، مرا درد اور بڑھا نہ دے

 

--------------------

 

مرے ہاتھ سے ترے نام کی وہ لکیر مٹتی چلی گئی

مرے چارہ گر مرے درد کی ہی وضاحتوں میں لگے رہے

 

-------------------

 

ذکر کرتے ہیں تیرا مجھ سے بعنوانِ جفا
چارہ گر پھول پِرو لائے ہیں تلواروں میں

 

------------------------

 

رکھیں چارہ گروں سے کیا توقع

کہ اے یار ان میں کچھ یارا نہیں ہے

جسے تم کہہ رہے ہو چارہ سازی

وہ چارہ بھینس کا چارہ نہیں ہے

📢 Post Your Ad Here
  • Author

سنو اے چارہ گر میرے

مجھے پڑھنا نہیں آساں
کہ میں تفسیرِخوشبو ھوں
فقط محسوس کر لینا
مجھے تم ان کہی باتوں کے دھندلے سے خیالوں میں کٹی انمول راتوں میں
کہ میں تفسیرِ خوشبو ھوں

سنو اے چارہ گر میرے
مجھے لکھنا نہیں آساں
کہ میں تحریرِ فرقت ھوں
فقط ترتیب دے لینا
مجھے تم اپنے سینے کی لوحِ محفوظ پہ کندہ ہجر کی داستانوں میں
کہ میں تحریرِ فرقت ہوں

بدلنا بھی نہیں آساں
مجھے اے چارہ گر میرے
کہ میں تقدیرِ الفت ھوں
فقط ماتم میرا کرنا
ہتھیلی پہ لکھی بے ربط سی تحریر کی تلخی کو پڑھ پڑھ کے
کہ مین تقدیرِ الفت ھوں

  • Author

میرے چارہ گر
میرے درد کی تجھے کیا خبر
تو میرے سفر کا شریک ہے
نہیں ہم سفر؟

میرے چارہ گر،میرے چارہ گر


میرے ہاتھ سے تیرے ہاتھ تک
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
کئی موسموں میں بدل گیا

اسے ناپتے اسے کاٹتے
میرا سارا وقت نکل گیا
نہیں جس پہ کوئی بھی نقشِ پا
میرے سامنے ہے وہ رہ گذر

میرے چارہ گر،میرے چارہ گر
میرے درد کی تجھے کیا خبر

 

یہ جو ریگ دشت فراق ہے
میرے راستے میں بچھی ہوئی
کسی موڑ پہ یہ رُکے کہیں

یہ جو رات ہے میرے چار سو
مگر اس کی کوئی سحر نہیں
نہ ہی چھاوں ہے نہ ثمر کوئی
میں نے چھان دیکھا شجر شجر
میرے چارہ گر،میرے چارہ گر

میرے درد کی تجھے کیا خبر

Edited by Young Heart

  • Author

نہیں جاؤ یوں مجھے چھوڑ کر مرے چارہ گر
یہاں پِھر رہا ہوں میں در بہ در مرے چارہ گر

ترا نام میری زبان پر رہے دم بہ دم
نہ ہو اپنی ذات کی کچھ خبر مرے چارہ گر

میں ہوں سرگراں یہاں زندگی کی تلاش میں
کبھی آ کے بن مرا ہمسفر مرے چارہ گر

مری تِشنگی کو قرار دے مجھے پیار دے
مرا ہجر کر دے تُو مختصر مرے چارہ گر

تری آنکھ جس پہ بھی اٹھ گئی وہ سنور گیا
کبھی ڈال مجھ پہ بھی وہ نظر مرے چارہ گر

میں تھا زندگی کے شعور سے بھی نا شناس
ترے عشق نے کیا معتبر مرے چارہ گر

مری عاشقی کو دوام دے مجھے نام دے
مجھے مُرسلِ غَم و درد کر مرے چارہ گر

مرے لب پہ یہ ہی صدا رہی بخدا رہی
مرے چارہ گر، مرے چارہ گر،مرے چارہ گر

ہے حبیب کی یہی آرزو یہی التجا
مری خاک ہو تری رہ گُزر مرے چارہ گر

  • Author

چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا


کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا


پیش کرتا رہا میں پھول سے جذبات اسے


جس نے پتھر کے کھلونوں سے مجھے بہلایا


Edited by Young Heart

واہ جی واہ۔


 


چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا


کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا



 

 

کیا بات ہے جی۔۔

بہترین ۔۔

اپنی شاعری تو جناب پنکچر ہے۔کوئی شعر برسوں سے یاد ہی نہیں کیا۔

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.