July 24, 201510 yr Author جب بھی اک شام یاد آتی ہےجیسے دنیا ٹھہر سی جاتی ہے اک طرف دل ہیں، اک طرف دنیااور یہ سین کائناتی ہے یوں بھی ہوتا ہے شعر، بعض اوقاتجیسے بجلی سی کوند جاتی ہے موت سے ہمکلام ہونے کےزندگی راستے دکھاتی ہے ہار ہوتی ہے عارضی، اس کوبے دلی مستقل بناتی ہے حادثے اک پل نہیں رکتےزندگی ہے کہ چلتی جاتی ہے اس کے دم سے ہیں رونقیں سارییہ جو دنیا کی بے سباتی ہے بات کوئی سمجھ نہیں آتیبات اتنی سمجھ میں آتی ہے (امجد اسلام امجد)
July 28, 201510 yr ابھی جو لوٹ کر تم پھرہمارے در پہ آئے ہویہ تم سے کہہ دیا کس نےکہ تم بن رہ نہیں سکتےیہ دکھ ہم سہ نہیں سکتےاگر تم جاننا چاہوکہ ایسا کیوں کیا ہم نےیہ دکھ کیوں سہہ لیا ہم نےتو سن لو غور سے جاناںپرانی عہد رفتہ کیروایت توڑ دی ہم نےمحبت چھوڑ دی ہم نےمحبت چھوڑ دی ہم نے
July 29, 201510 yr Author بہت عمدہ - رانیہ بہت اچھا کلام شئر کیا آپ نے اس تھڑیڈ کا عنوان ہے یوں بھی ہوتا ہے یا ایسا بھی ہوتا ہے کوئی ایسے اشعار یا نظمیں/غزلیں شیئر کریں جن میں یہ مصرع آتا ہو Edited July 30, 201510 yr by Young Heart
July 29, 201510 yr Author کبھی یوں بھی ہوتا ہے دو اجنبی دل اچانک کسی خوشنما موڑ پر ایک دوجے سے ملتے ہیں تو ایک لمحہ اچانک کہیں سے ابھرتا ہے اور ان کی آئندہ عمروں کے سارے مہ و سال پر پھیلتے پھیلتے ان کے چاروں طرف اک بظاہر دکھائی نہ دیتا ہوا دائرہ سا بناتا ہے جس کی حدیں گھیر لیتی ہیں اک دن ازل سے ابد تک کے سب فاصلوں کو کبھی یوں بھی ہوتا ہے وہ ہمسفر جو زمانوں پہ پھیلی ہوئی اک مسافت کو چاہت کے بادلوں کے سائے تلے قدم درقدم کاٹتے چلے جا رہے تھےاچانک کسی اجنبی موڑ پر ایک لمحے کو رکتے ہیںتو دیکھتے ہیںنجانے کدھر سے ہوائے جدائی کا اک تیز جھونکاتعلق کے سارے دیوں کو بجھاتادلوں میں ِگلوں کی فصیلیں اٹھاتا ، بڑھا آرہا ہےاور اسکی اڑی ہوئی گردلمحوں میں بے شکل کرتی ہےعمروں پہ پھیلے ہوئے فاصلوں کو Edited July 29, 201510 yr by Young Heart
July 30, 201510 yr Author اس تھریڈ میں وہ اشعار/نظمیں/غزلیں پوسٹ کریں جن میں لفظ چارہ گر شامل ہو -------------------- مجھے چھوڑ دے مرے حال پر، ترا کیا بھروسہ اے چارہ گریہ تری نوازشِ مختصر ، مرا درد اور بڑھا نہ دے -------------------- مرے ہاتھ سے ترے نام کی وہ لکیر مٹتی چلی گئی مرے چارہ گر مرے درد کی ہی وضاحتوں میں لگے رہے ------------------- ذکر کرتے ہیں تیرا مجھ سے بعنوانِ جفا چارہ گر پھول پِرو لائے ہیں تلواروں میں ------------------------ رکھیں چارہ گروں سے کیا توقع کہ اے یار ان میں کچھ یارا نہیں ہے جسے تم کہہ رہے ہو چارہ سازی وہ چارہ بھینس کا چارہ نہیں ہے
July 30, 201510 yr Author سنو اے چارہ گر میرےمجھے پڑھنا نہیں آساںکہ میں تفسیرِخوشبو ھوںفقط محسوس کر لینامجھے تم ان کہی باتوں کے دھندلے سے خیالوں میں کٹی انمول راتوں میںکہ میں تفسیرِ خوشبو ھوںسنو اے چارہ گر میرےمجھے لکھنا نہیں آساںکہ میں تحریرِ فرقت ھوںفقط ترتیب دے لینامجھے تم اپنے سینے کی لوحِ محفوظ پہ کندہ ہجر کی داستانوں میںکہ میں تحریرِ فرقت ہوںبدلنا بھی نہیں آساںمجھے اے چارہ گر میرےکہ میں تقدیرِ الفت ھوںفقط ماتم میرا کرناہتھیلی پہ لکھی بے ربط سی تحریر کی تلخی کو پڑھ پڑھ کےکہ مین تقدیرِ الفت ھوں
July 31, 201510 yr Author میرے چارہ گرمیرے درد کی تجھے کیا خبرتو میرے سفر کا شریک ہےنہیں ہم سفر؟ میرے چارہ گر،میرے چارہ گر میرے ہاتھ سے تیرے ہاتھ تکوہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہکئی موسموں میں بدل گیا اسے ناپتے اسے کاٹتےمیرا سارا وقت نکل گیانہیں جس پہ کوئی بھی نقشِ پامیرے سامنے ہے وہ رہ گذر میرے چارہ گر،میرے چارہ گرمیرے درد کی تجھے کیا خبر یہ جو ریگ دشت فراق ہےمیرے راستے میں بچھی ہوئیکسی موڑ پہ یہ رُکے کہیں یہ جو رات ہے میرے چار سومگر اس کی کوئی سحر نہیںنہ ہی چھاوں ہے نہ ثمر کوئیمیں نے چھان دیکھا شجر شجرمیرے چارہ گر،میرے چارہ گر میرے درد کی تجھے کیا خبر Edited July 31, 201510 yr by Young Heart
August 1, 201510 yr Author نہیں جاؤ یوں مجھے چھوڑ کر مرے چارہ گریہاں پِھر رہا ہوں میں در بہ در مرے چارہ گرترا نام میری زبان پر رہے دم بہ دمنہ ہو اپنی ذات کی کچھ خبر مرے چارہ گرمیں ہوں سرگراں یہاں زندگی کی تلاش میںکبھی آ کے بن مرا ہمسفر مرے چارہ گرمری تِشنگی کو قرار دے مجھے پیار دےمرا ہجر کر دے تُو مختصر مرے چارہ گرتری آنکھ جس پہ بھی اٹھ گئی وہ سنور گیاکبھی ڈال مجھ پہ بھی وہ نظر مرے چارہ گرمیں تھا زندگی کے شعور سے بھی نا شناسترے عشق نے کیا معتبر مرے چارہ گرمری عاشقی کو دوام دے مجھے نام دےمجھے مُرسلِ غَم و درد کر مرے چارہ گرمرے لب پہ یہ ہی صدا رہی بخدا رہیمرے چارہ گر، مرے چارہ گر،مرے چارہ گرہے حبیب کی یہی آرزو یہی التجامری خاک ہو تری رہ گُزر مرے چارہ گر
August 3, 201510 yr Author چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا پیش کرتا رہا میں پھول سے جذبات اسے جس نے پتھر کے کھلونوں سے مجھے بہلایا Edited August 3, 201510 yr by Young Heart
August 4, 201510 yr واہ جی واہ۔ چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا کیا بات ہے جی۔۔ بہترین ۔۔ اپنی شاعری تو جناب پنکچر ہے۔کوئی شعر برسوں سے یاد ہی نہیں کیا۔
Create an account or sign in to comment