Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کھلونا تو نہیں ہوں میں

Featured Replies

  • Author

 

واہ جی واہ۔

 

چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا

کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا

 
 
کیا بات ہے جی۔۔
بہترین ۔۔
اپنی شاعری تو جناب پنکچر ہے۔کوئی شعر برسوں سے یاد ہی نہیں کیا۔

 

 

شاعری کے انتخاب کی پذیرائی کا بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب

لیکن یہ یقین کرنا خاصا مشکل ہے کہ لکھاری ہو اور شاعری سے دلچسپی پنکچر ہو

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

چارہ گر ہار گیا ہو جیسے
اب تو مرنا ہی دوا ہو جیسے

مجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے ہی مگر
اب کے یہ زخم نیا ہو جیسے

میرے ماتھے پہ تیرے پیار کا ہاتھ
روح پر دست صبا ہو جیسے

یوں بہت ہنس کر ملا تھا لیکن
دل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسے

سر چھپائیں تو بدن کھلتا ہے
زیست مفلس کی ردا ہو جیسے

 

(پروین شاکر)

Edited by Young Heart

  • Author

ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے


محبت میں بتا اے ضبط غم ایسا بھی ہوتا ہے


 


بھلا دیتی ہیں سب رنج و الم حیرانیاں میری


تری تمکین بے حد کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے


 


جفائے یار کے شکوے نہ کر اے رنج ناکامی


امید و یاس دونوں ہوں بہم ایسا بھی ہوتا ہے


 


مرے پاس وفا کی بدگمانی ہے بجا تم سے


کہیں بے وجہ اظہار کرم ایسا بھی ہوتا ہے


 


تری دل داریوں سے صورت بیگانگی نکلی


خوشی ایسی بھی ہوتی ہے الم ایسا بھی ہوتا ہے


 


وقار صبر کھویا گریہ ہائے بے قراری نے


کہیں اے اعتبار چشم نم ایسا بھی ہوتا ہے


 


بدعوائے وفا کیوں شکوہ سنج جور ہے حسرتؔ


دیار شوق میں اے محو غم ایسا بھی ہوتا ہے


  • Author

کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر
میرا دل بنے تری راہ گزر
ملے لذت غم عشق یوں
میری آہ جائے نہ بے اثر

کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر
میں تیری نگاہ میں معتبر
اٹھے ہر قدم تیری چاہ میں
کٹے اس طرح سے میرا سفر

کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر
ملے اس طرح سے تیری خبر
میں خود اپنے آپ سے لاپتہ
تیری ذات پہ ہو میری نظر
کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر
ہو نہ رائگاں یہ تیرا ہنر
نہ بکھر سکوں کسی ٹھیس سے
مجھے تھام لے میرے کوزہ گر
کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر
ہو میرا جنون بھی بے خطر
حائل ہو سکیں نہ میری راہ میں
یہ شجر، حجر، نہ ہی بحر و بر

  • Author

کیسے کاریگر ہیں یہ
آس کے درختوں سے
لفظ کاٹتے ہیں اورسیڑھیاں بناتے ہیں

کیسے با ہنر ہیں یہ
غم کے بیج بوتے ہیں
اور دلوں میں خوشیوں کی کھیتیاں اُگاتے ہیں

کیسے چارہ گر ہیں یہ
وقت کے سمندر میں
کشتیاں بناتے ہیں آپ ڈوب جاتے ہیں

 

(امجد اسلام امجد)

Edited by Young Heart

📢 Post Your Ad Here
  • Author

ہر چاره گر کو چاره گری سے گریز تھا
ورنہ ہمارے درد بہت لادوا نہ تھے

Edited by Young Heart

  • Author

ایسے جینے سے تو بہتر تھا کہ مر ہی جاتے


چارہ گر مفت میں ہم نے ترا احسان لیا


Edited by Young Heart

  • Author

وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں

تڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگر
مرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیں

ترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے
مرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں

کبھی کبھی جو ترے قرب میں گزارے تھے
اب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیں

گزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دل
سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں

مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں

ناصر کاظمی

Edited by Young Heart

  • Author

عجیب رسم ہے چارہ گروں کی بستی ہیں


لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں


غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو


امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں


  • Author

کوئی بھی ہمسفر نہیں


کوئی بھی چارہ گر نہیں


 


اگر ہے میرا غم تجھے


بتا کیوں آنکھ تر نہیں؟


 


نہ دیکھ پائے جو تجھے


وہ آنکھ کیا نظر نہیں؟


 


عمیق جس کی جڑ نہ ہو


وہ پیار کا شجر نہیں


 


وبال پھر ہے زندگی


اگر کوئی ہنر نہیں


 


سمجھ نہ شاعری اسے


سخن میں جب اثر نہیں


 


نہ بیٹھ ناقد حزیں


ترا کوئی نگر نہیں


Edited by Young Heart

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.