August 4, 201510 yr Author واہ جی واہ۔ چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا کیا بات ہے جی۔۔ بہترین ۔۔ اپنی شاعری تو جناب پنکچر ہے۔کوئی شعر برسوں سے یاد ہی نہیں کیا۔ شاعری کے انتخاب کی پذیرائی کا بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب لیکن یہ یقین کرنا خاصا مشکل ہے کہ لکھاری ہو اور شاعری سے دلچسپی پنکچر ہو
August 4, 201510 yr Author چارہ گر ہار گیا ہو جیسےاب تو مرنا ہی دوا ہو جیسےمجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے ہی مگراب کے یہ زخم نیا ہو جیسےمیرے ماتھے پہ تیرے پیار کا ہاتھروح پر دست صبا ہو جیسےیوں بہت ہنس کر ملا تھا لیکندل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسےسر چھپائیں تو بدن کھلتا ہےزیست مفلس کی ردا ہو جیسے (پروین شاکر) Edited August 7, 201510 yr by Young Heart
August 5, 201510 yr Author ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے محبت میں بتا اے ضبط غم ایسا بھی ہوتا ہے بھلا دیتی ہیں سب رنج و الم حیرانیاں میری تری تمکین بے حد کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے جفائے یار کے شکوے نہ کر اے رنج ناکامی امید و یاس دونوں ہوں بہم ایسا بھی ہوتا ہے مرے پاس وفا کی بدگمانی ہے بجا تم سے کہیں بے وجہ اظہار کرم ایسا بھی ہوتا ہے تری دل داریوں سے صورت بیگانگی نکلی خوشی ایسی بھی ہوتی ہے الم ایسا بھی ہوتا ہے وقار صبر کھویا گریہ ہائے بے قراری نے کہیں اے اعتبار چشم نم ایسا بھی ہوتا ہے بدعوائے وفا کیوں شکوہ سنج جور ہے حسرتؔ دیار شوق میں اے محو غم ایسا بھی ہوتا ہے
August 5, 201510 yr Author کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گرمیرا دل بنے تری راہ گزرملے لذت غم عشق یوںمیری آہ جائے نہ بے اثرکبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گرمیں تیری نگاہ میں معتبراٹھے ہر قدم تیری چاہ میںکٹے اس طرح سے میرا سفرکبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گرملے اس طرح سے تیری خبرمیں خود اپنے آپ سے لاپتہتیری ذات پہ ہو میری نظرکبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گرہو نہ رائگاں یہ تیرا ہنرنہ بکھر سکوں کسی ٹھیس سےمجھے تھام لے میرے کوزہ گرکبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گرہو میرا جنون بھی بے خطرحائل ہو سکیں نہ میری راہ میںیہ شجر، حجر، نہ ہی بحر و بر
August 7, 201510 yr Author کیسے کاریگر ہیں یہآس کے درختوں سےلفظ کاٹتے ہیں اورسیڑھیاں بناتے ہیںکیسے با ہنر ہیں یہغم کے بیج بوتے ہیںاور دلوں میں خوشیوں کی کھیتیاں اُگاتے ہیںکیسے چارہ گر ہیں یہوقت کے سمندر میںکشتیاں بناتے ہیں آپ ڈوب جاتے ہیں (امجد اسلام امجد) Edited August 7, 201510 yr by Young Heart
August 9, 201510 yr Author ہر چاره گر کو چاره گری سے گریز تھاورنہ ہمارے درد بہت لادوا نہ تھے Edited August 9, 201510 yr by Young Heart
August 10, 201510 yr Author ایسے جینے سے تو بہتر تھا کہ مر ہی جاتے چارہ گر مفت میں ہم نے ترا احسان لیا Edited August 10, 201510 yr by Young Heart
August 12, 201510 yr Author وہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںمرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیںتڑپ رہے ہیں زباں پر کئی سوال مگرمرے لیے کوئی شایانِ التماس نہیںترے جلو میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہےمرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیںکبھی کبھی جو ترے قرب میں گزارے تھےاب ان دنوں کا تصور بھی میرے پاس نہیںگزر رہے ہیں عجب مرحلوں سے دیدہ و دلسحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیںمجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائےبہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیںناصر کاظمی Edited August 14, 201510 yr by Young Heart
August 14, 201510 yr Author عجیب رسم ہے چارہ گروں کی بستی ہیں لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں
August 15, 201510 yr Author کوئی بھی ہمسفر نہیں کوئی بھی چارہ گر نہیں اگر ہے میرا غم تجھے بتا کیوں آنکھ تر نہیں؟ نہ دیکھ پائے جو تجھے وہ آنکھ کیا نظر نہیں؟ عمیق جس کی جڑ نہ ہو وہ پیار کا شجر نہیں وبال پھر ہے زندگی اگر کوئی ہنر نہیں سمجھ نہ شاعری اسے سخن میں جب اثر نہیں نہ بیٹھ ناقد حزیں ترا کوئی نگر نہیں Edited August 15, 201510 yr by Young Heart
Create an account or sign in to comment