Everything posted by khoobsooratdil
-
’تیونس سے خواتین جہاد النکاح کے لیے شام جاتی ہیں‘
Post ka jawab to me ne de dia ha mager mera khayal ye ha k is terha ka thread sex forum nahi hona chaheye kion k is se buhat sari deeni or siyasi behas chir sakti ha jo k forum rules k khilaf ha
-
’تیونس سے خواتین جہاد النکاح کے لیے شام جاتی ہیں‘
خبردار رہیں دشمن پروپیگنڈوں کے اخری وار کر رہے ہیں۔امریکہ اور اس کے بچے عنقریب بھاگنے والے ہیں انشا ء اللہ(جہاد تو چودہ سو سال سے جاری ہے لیکن پچھلے عرصے میں بھی بہت جگہ اور بہت عرصہ جہاد ہوا ۔۔۔۔۔افغانستان میں روس کے خلاف جہاد ہوا، فلسطین میں عرصہ سے جہاد جاری ہے۔ کشمیر کے محاذبھی دہائیوں سے گزم ہیں،،،،عراق اور افغانستان میں اب تک آگ اور خون کا بازار گزم ہے، چچنیا، بوسنیا حتیٰ کہ دنیا کے ہر کونے میں غیرت مند مظلوم مسلمان اپنی بقا کی جنگ لڑ نرہے ہیں۔۔۔لیکن کبھی جہاد باالنکاح جیسی بات سننے کونہیں ملی۔۔حالانکہ افغانستان میں تو کئی غیر مسلم خاتون صحافیوں کو بھی گرفتار کیا گیا اور جب وہ رہا ہوئیں حسن سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر چکی تھیں۔۔۔حیرت کی بات ہے شام میں لڑائی شروع ہوتےہی ایسی باتوں اور افواہوں کا سیلاب ہے کہ تھمنے میں ہی نہیں آ رہا۔۔۔۔وہی نوجوان جن کی غیرت کی مثالیں زمانہ دیا کرتا تھا آج ان کے دامن پر کیچڑ اچھالے جا رہے ہیںیقینا امت اور مجاہدین کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس بار ان کا مقابہ صرف ایک ظالم دشمن سے نہیں بلکہ ایک ایسی قوم سے بھی ہے جن کے لیے جھوٹ اور بکواس کوئی معانی نہٰیں رکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔اور شاندار قسم کا بکواس پروپیگنڈا جن کا طرہامتیاز رہا ہے۔۔۔
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
گرل فرینڈز
اگر آپ کسی کی گرل فرینڈ ہیں تو آپ خوش قسمت ہیں اور اگر نہیں تو پھر وہ خوش قسمت ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ گرل فرینڈ بنانے کے بڑے فائدے ہیں۔ بندہ بے شک ساری زندگی گھر میں کدو گوشت کھاتا رہے لیکن جیسے ہی اس کی کوئی گرل فرینڈ بنتی ہے، وہ اچانک پیزا کھانے لگتا ہے، کپڑے استری کرنے لگتا ہے اور ہر چوتھے روز نہانے بھی لگتا ہے۔یہی حال لڑکی کا بھی ہوتا ہے۔ آپ نے آج تک کسی ایسی گرل فرینڈ کے بارے میں نہیں سنا ہوگا جس نے اپنے بوائے فرینڈ سے نان چھولے کھانے کی فرمائش کی ہو۔ لڑکیوں کو پتا ہوتا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی فرمائش کی تو بیٹھے بٹھائے ڈی گریڈ ہو جا ئیں گی۔ لہذا یہ اسٹارٹ ہی زنگر برگر سے لیتی ہیں۔ یہ کبھی کبھی خود بھی لڑکے کو فون کرلیتی ہیں لیکن ایک منٹ کی گفتگو کے بعد ہی اسے احتیاطاََ بتا دیتی ہیں کہ اگر میرا فون بند ہو جائے تو پلیز تم کرلینا۔ٹھیک ایک منٹ بعد یہ کوئی بات کرتے کرتے اچانک فون بند کردیتی ہیں، لڑکا فوراََ رنگ بیک کرتا ہے اور پندرہ منٹ میں اپنا سو والا کارڈ ختم کروا بیٹھتا ہے۔ اچھی گرل فرینڈ لڑکے کو کافی ساری احتیاطی "تدابیر" بھی سمجھا دیتی ہے۔ مثلاََ یہ کہ جب بھی مجھ سے بات کرنی ہو پہلے کوئی عام سا لطیفہ فارورڈ کرنا، اگر میری طرف سے جواب نہ آئے تو سمجھ جانا میں "میلاد" میں ہوں۔ اسی طرح اگر کبھی میری بجائے گھر میں سے کوئی اور فون اٹھا لے تو فون بند نہ کردینا بلکہ اطمینان سے کہنا، کیا یہ رشید پلمبر کا نمبر ہے؟ اور اگر کبھی میں بات کرتے کرتے اچانک فون بند کردوں تو مجھے فوراََ دوبارہ فون نہ کرنا، ہاں اگر مسڈ کال دوں تو پھر بے شک کرلینا۔ ایسی گرل فرینڈز ہمیشہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ وہ صرف آپ سے ہی بات کرتی ہیں، ورنہ ان کے پاس کسی کیلئے کوئی ٹیم نہیں۔ ایسے میں اگر آپ کبھی رات کے دو بجے ان کو چیک کرنے کیلئے فون کریں تو اکثر کے فون سے یہی آواز آئے گی "آپ کا مطلوبہ نمبر پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے مصروف ہے" اگر آپ بعد میں شکوہٰ کریں کہ اتنی رات کو کس سے بات ہورہی تھی تو اس کا جواب دینے کی بجائے فوراََ رونی صورت بنا کر کہیں گی "شکیل! تم مجھ پر شک کر رہے ہو، اپنی گڑیا پر؟؟؟" ظاہری بات ہے شکیل صاحب اس جذباتی حملے سے کہاں محفوظ رہ سکتے ہیں، لہذا فوراََ گھگھیا کر کہتے ہیں "کیسی بات کررہی ہو جان، میں اپنے باپ پر تو شک کرسکتا ہوں، تم پر نہیں" لیکن یہ الٹا شکیل پر چڑھ دوڑتی ہیں، فوراََ روتے ہوئے کہیں گی "نہیں نہیں نہیں! تم نے مجھ پر شک کیا ہے، میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میرا شکیل اتنا گھٹیا بھی ہوسکتا ہے، تم نے میرے اعتماد کا خون کردیا ہے، پلیز مجھے کہیں سے زہر لادو، میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی" اور شکیل صاحب کو فون کی بات بھول کر اپنی فکر پڑ جاتی ہے۔ ہمارا مشورہ یہ ہے کہ گرل فرینڈ وہ بنانی چاہیئے جو کم ازکم آپ جتنا ضرور پڑھی ہوئی ہو ورنہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایم اے پاس لڑکے کی میٹرک پاس گرل فرینڈ اکثر اس بات پر ناراض ہوکر بیٹھ جاتی ہے کہ "تم نے مجھے موبائل میں رنگ ٹونیں کیوں نہیں بھروا کے دیں" اسی طرح وہ گرل فرینڈ جو آپ سے تعلیم میں زیادہ ہو، وہ ایک اور قسم کی مصیبت بن جاتی ہے۔ فرض کیا کہ لڑکا میٹرک ہے اور گرل فرینڈ ایم اے ہے تو اس کا ہر دن یہی شکوٰہ ہوگا "خدا کیلئے نذیر، کبھی تو ڈھنگ کے کپڑے پہن آیا کرو، کوٹ پنٹ کے نیچے جوگر کون پہنتا ہے؟" اب بھلا نذیر کیسے بتائے کہ اس نے جوگر پہلی دفعہ نہیں پہنے، کوٹ پنٹ پہلی دفعہ پہنا ہے۔
-
ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﮨﺸﻤﻨﺪ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﺳﺒﻖ
ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ ، ٭ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ/ ﮐﻨﻮﺍﺭﮮ ﭘﻦ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ٭ ﺍﮔﻼ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺭﻭﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔ ٭ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ٭ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺮﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﺟﻤﻠﮯ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻨﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺏ ﺫﺭﺍ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﯿﺠﯿﮯ : ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﮩﻠﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ۔ ٭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔ ٭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮ ﺍﺏ ﮈﮬﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﯾﻞ ﮔﺎﮌﯼ ﻓﻮﺕ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔ ٭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﻌﺾ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﻏﺒﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯽ ﺳﻔﺮ ﮐﺮﻧﺎ / ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﭘﮭﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﻌﺾ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﮑﺎﺭﺍ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ۔ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻧﺎﺑﻠﺪ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﻏﻠﻂ ﻣﻔﺎﮨﯿﻢ ﻭ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﺒﯽ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺯﺩﻭﺍﺟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﯾﮑﺴﺮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺍﺳﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺗﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺧﺮﯾﺪﻟﯽ ﻭﺭﻧﮧ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺫﻣﮯ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﮈﯾﻮﭨﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﮩﺎﺑﮭﯽ ) ﻡ۔ ﻣﮩﻢ ( ﺟﺐ ﮨﻢ ﺷﺎﺩﯼ ﯾﺎ ﺯﻭﺍﺝ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺘﺐ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺟﻮﻉ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺯﻭﺍﺝ ﯾﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﯾﻮﮞ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺭﺿﺎ ﻣﻨﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻋﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻋﻔﺖ ﻭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﮐﺎ ﺣﺼﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﻭ ﭘﯿﺎﺭ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﻣﺤﺾ ﺟﻨﺴﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻓﮩﻤﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﻢ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻠﯽ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﺋﯿﺪﺍﺭ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﻭﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻨﺖ ﺻﺮﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺎﻝ، ﺣﮑﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﻭ ﻓﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻭ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
-
نام کی اقسام
ہمارے ہاں چونکہ بچے کا نام رکھتے وقت اسکی مرضی پوچھنے کا رواج نہیں لہٰذا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو اپنے نام کے شروع میں کوئی انگریزی کا حرف لگا کر تسکین حاصل کر لیتا ہے۔ میاں بشیر "ایم بشیر" بن جاتا ہے اور محمد بوٹا شاہ " ایم بی شاہ" ہو جاتا ہے۔ کئی ایسے نام ہیں جنہیں سن کر دل میں ترنگ سی بج اٹھتی ہے خود میں نے اپنے نام کی بدولت بڑے بڑے پارساؤں کے سینے چھلنی کئے ہیں۔ ایک صاحب مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپکا نام لڑکیوں والا کیوں ہے؟ میں نے پوچھا آپکا نام کیا ہے؟ اطمینان سے بولے "شمیم"۔ کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جنہیں سن کر لگتا ہے جیسے نامکمل سے ہیں، مثلا" آج میری نظر ایک ڈاکٹر صاحب کے بورڈ پر پڑی جہاں لکھا ہوا تھا "ڈاکٹر کاش"۔ حالانکہ پورا نام ہونا چاہئیے تھا "ڈاکٹر کاش تم نے میرا علاج نہ کیا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر! کاش میں نے تمہاری دوائی نہ کھائی ہوتی"۔ اسی طرح کچھ نام اتنے لمبے ہوتے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ نام کہاں ہے، میرے ایک کولیگ کا نام تھا " سردار مشتاق احمد نگینہ ککے زئی وزیر آبادی"۔ میں نے حیرت سے پوچھا " کس نام سے پکاروں ، کیا نام ہے تمہارا"۔ مسکرا کر بولے، جو پسند آتا ہے کہہ لو۔۔۔۔۔ میں نے خوش ہو کر پوچھا " کینچوا" کہہ لوں؟ یہ سنتے ہی انہوں نے برا منایا اور نصف گھنٹہ مجھ پر تشدد کیا، پتا نہیں کیوں؟ اللہ جانتا ہے میرا اس وقت دیوار سے ٹکریں مارنے کو جی کرتا ہے جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے گل نو خیز کا مطلب کیا ہے؟ مطلب سمجھاتا ہوں تو آنکھیں پھاڑ کر میری طرف دیکھتے ہین اور پھر پیٹ پکڑ کر ہنستے ہنستے دہرے ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ میں بار بار بتا چکا ہوں کہ "پڑھنے لکھنے کے سوا۔۔۔۔۔ گل نو خیز کا مطلب کیا!!!" خواجہ آن لائن والے مسعود خواجہ صاحب میرے بڑے پیارے دوست ہیں، ایک دفعہ کہنے لگے کہ جب تک میں نے آپکو دیکھا نہیں تھا میں آپکو "عورت" سمجھتا رہا، میں نے دانت پیس کر کہا، خواجہ صاحب میں بھی جب تک آپ سے نہیں ملا تھا آپکو "مرد" ہی سمجھتا رہا، لیکن دیکھ لیں دونوں کے اندازے غلط نکلے۔ گل نوخیز اختر
-
~!~ [ Crazy and Funny Lip Arts ... ] ~!~
Amazing art yaar very nice keep it up
- MEGA THREAD URDU ROMAN POETRY
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
Dono buhat achay hain
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
Buhat Khoob
- Parvaz hai dono ke esi aik fiza me
- Parvaz hai dono ke esi aik fiza me
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
hahahaha ,,,,,,,,,,,,
-
~!~ [ Tulip Fields in the Netherlands ] ~!~
Amazing buhat aala yaar
-
~!~ [ World's Tallest Bicycle ... ] ~!~
Zaberdast yaar wesay in logon k bhi ajeeb hi kaam hotay hain
-
~!~ [ Project for Building the Most Beautiful Hotel in the World at Dubai ] ~!~
Buhat hi aala janab nice sharing
-
پانچ ہزار روپے
میاں بیوی ہر سال عوامی میلے میں جایا کرتے تھے اور جب بھی بیوی ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کی خواہش ظاہر کرتی۔ میاں فورا کہتا : "بیگم پانچ ہزار روپے لگیں گے اور تمہیں پتہ ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔" ایک دفعہ میلے میں گئے تو بیگم بولی "میاں جی ۔ اب میں ستر سال کی ہوگئی ہوں۔ اگر اس دفعہ ہیلی کاپٹر کی سیر نہ کی تو شاید میری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہو سکے" میاں پھر بولا " بیگم تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔" ہیلی کاپٹر کا کپتان ان کی باتیں سن رہا تھا۔ اسے خاتون پر ترس آیا اور ان سے بولا میں ایک شرط پر آپ کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرا سکتا ہوں کہ آپ تمام راستے میں خاموش رہیں گے اور اگر کسی نے بھی منہ کھولا تو پانچ ہزار روپے دینے پڑیں گے۔" کپتان نے بوڑھے میاں بیوی کو ہیلی کاپٹر میں بٹھاتے ہی خوب کرتب کئے۔ ہیلی کاپٹر کو دائیں بائیں موڑا۔ جھٹکے دیے۔ الٹ پھیریاں لگوائیں۔ مگر وہ میاں بیوی کے منہ سے ایک بھی لفظ نہ نکلوا سکا۔ بالآخر جب کپتان زمین پر اترا تو اس نے بوڑھے سے کہا کہ آج تک میری ایسی چالوں کے نتیجے میں مسافر کچھ نہ کچھ ضرور بول کر شرط ہار جاتے ہیں اور پانچ ہزار روپے مجھے مل جاتے ہیں۔ لیکن میری ہزار کوشش کے باوجود آپ خاموش رہے، کیوں؟ بوڑھا بولا، " کیپٹن ۔ جب تم نے ہمیں بٹھا کر پہلا کرتب دکھایا تو میری بیوی باہر گر گئی مگر ميں خاموش رہا کیوں کہ تمہیں معلوم ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔"
-
~!~ [ Crazy Head tattoos by various artists ] ~!~
Buhat acha thread ha mager watermarking ka khayal bhi buhat zaroori ha jani
-
~!~ [ Fun with fruits and vegetables… ] ~!~
Buhat aala jani
-
~!~ [ Its fun to play with statues… ] ~!~
Dear nice sharing ha mager posting kertay waqat is baat ka khayal rakhain k ik post me kam se kam 3 image honay chaheye
-
~!~ [ Tricky images that will completely fool you ] ~!~
Dear other site ka link delete ker k post karain thanks
-
حاملہ ہونے کا ڈھونگ رچا کر کوکین کی سمگلنگ
Buhat achay janab
-
~!~ [ Picture News(Daily Updated) ] ~!~
Fantastic dear buhat acha thread ha keep it up
-
اپنی بہن بیٹیوں کو Dating سے بچائیے!
نوجوان لڑکے اور لڑکی کا اپنے والدین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر تنہائی میں ملناآج کی جدید اصطلاح میں Dating اور ''ڈیٹ مارنا''کہلاتا ہے۔ ڈیٹنگ کا یہ رُجحان سب سے زیادہ ہمارے تعلیمی اداروں(یونیورسٹی' کالج'حتیٰ کہ سکول)کے نوجوان اور نوعمر لڑکے لڑکیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ لڑکے اورلڑکیاں گھروں سے اپنے تعلیمی اداروں کے لیے نکلتے ہیں لیکن وہاں جانے کے بجائے اپنے نام نہاد عاشقوں اور محبوباؤں کے ساتھ ڈیٹ مارنے چلے جاتے ہیں اور گھر والوں کو کسی قسم کا کوئی شک تک نہیں ہوتا۔ ڈیٹنگ کے ابتدائی چند دن کسی پارک میں درختوں یاجھاڑیوں کی اوٹ میں گزرتے ہیں جہاں یہ نوجوان جوڑے سرعام بوس وکنارکرتے اور بہت ہی نازیبا حرکات کرتے ہیں۔لاہور میں ڈیٹنگ کے لیے تین پارک سرفہرست ہیں ۱)باغِ جناح' (۲)ماڈل ٹاؤن سنٹرل پارک'اور (۳) ریس کورس پارک۔ جب میں ماڈل ٹاؤن پارک گیا تووہاں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈیٹ مارنے آئے ہوئے تھے 'جبکہ اُن میں سے بعض تو کالج اور سکول کے یونیفارم میں موجودتھے جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ لوگ گھروں سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں۔ پارک میں موجود سیکیورٹی گارڈز سے جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو اُن میں سے ایک نے بتایا کہ اس پارک کے ٹکٹ کا ٹھیکہ ایک کروڑ سالانہ میں ہوا ہے اور ہمیں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو بری سے بری حرکات پر بھی نہ روکا جائے۔اس لیے کہ اگر ان جوڑوں کو روکا گیا تو پھر یہاں کون آئے گا۔ایک مالی نے بتایا کہ یہاں ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں سکول 'کالج اور یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ آتے ہیں اور ایسی ایسی گندی حرکتیں کرتے ہیں کہ ہمیں شرم آجاتی ہے مگر وہ بے شرم سر عام اپنے ''پیار'' میں مصروف رہتے ہیں۔اُس کا کہنا تھا کہ یہاں جھاڑیوں کی اوٹ میں ہم نے بہت سے جوڑوں کو زنا تک کرتے دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا لڑکیاں منع نہیں کرتیں۔ اُس نے کہا کہ بعض لڑکیاں تو خودلڑکوں کو گندی حرکات پر اُکساتی ہیں'جبکہ بعض نوعمر لڑکیاں پہلے پہل شرم دکھاتی ہیں اور لڑکوں کو ایسی حرکات سے منع کرتی ہیں 'مگر جولڑکا اُسے اتنی دور سے لے کر آیا اور اس نے اسے کھلایا پلایا ہوتا ہے تو وہ اپنی ہوس پوری کیے بغیر نہیں رہتا۔ ایسا ہی حال باغِ جناح اور ریس کورس پارک میں بھی دیکھنے کوملتاہے۔باغِ جناح میں تو چند ایک پہاڑیاں بھی موجود ہیں جو ڈیٹ پرآئے جوڑوں کے لیے کسی فائیوسٹار ہوٹل کے کمرے سے کم نہیں ہے اس لیے کہ یہاں انہیں مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور انہیں کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ ڈیٹنگ کا دوسرا مرحلہ دل دہلا دینے والاہے۔غریب جوڑے اپنے کسی دوست کے گھر کا انتخاب کرتے ہیں جس کے گھر والے کسی تقریب وغیرہ میں گئے ہوتے ہیں'جبکہ امیر زیادہ تر ہوٹلوں اورجابجا موجود پرائیویٹ گیسٹ ہاؤس کا انتخاب کرتے ہیں۔اس طرح ان جوڑوں کو مکمل تنہائی میسر آتی ہے اور پھر یہ جوڑے وہ تعلق قائم کرلیتے ہیں جو میاں بیوی شادی کے بعد قائم کرتے ہیں۔شادی سے پہلے ایسے تعلق قائم کرنے کو ''زنا''سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسلام میں اس کی سزاسو کوڑے ہیں۔ پاکستانی قانون میں بھی یہ ایک قابل سزا جرم ہے۔ ڈیٹنگ کے ظاہری نقصانات تو سب کے سامنے ہیں'جبکہ اس کا ایک بہت بھیانک نقصان ''بلیک میلنگ ''ہے۔یہ جوڑے جہاں ڈیٹ مارنے جاتے ہیں وہاں کی انتظامیہ خفیہ کیمروں سے اُن کی ویڈیو بنا لیتے ہیں۔اس سے وہ ان کو بلیک میل کرتے ہیں۔لڑکوں سے تو وہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ لڑکیوں سے رقم کے ساتھ جنسی تعلقات کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں۔اب یہ دونوں پولیس اور اپنے گھر والوں کے ڈر سے ان کے مطالبات ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ابھی چند سال پہلے اسلام آباد ' کراچی او رپاکستان کے چند ایک اور بڑے شہروں میں انٹر نیٹ کلب کے کیبنوں میں ڈیٹنگ پر آئے ایسے ہی ہزاروں جوڑوں کی غیر اخلاقی ویڈیوز کے منظر عام پر آنے نے ایک تہلکہ مچا دیاتھا۔کئی لڑکیوں نے اس پر خودکشیاں کیں اور بہت سو کے گھر اُجڑے۔ اسی طرح ابھی پچھلے سال ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کراچی کے آئس کریم پارلر پر ڈیٹ پرگئے سینکڑوں کی تعداد میں جوڑوں کی ویڈیوانتظامیہ نے بنا کر انتہائی مہنگے داموں گندی سائٹس کو نہ صرف بیچیں بلکہ اُن جوڑوں کو بلیک میل بھی کیا۔ بلیک میلنگ کادوسرا رخ یہ ہے کہ لڑکے خود سے اپنی محبوبہ کی ویڈیوبنالیتے ہیں۔بعض لڑکے تو یہ ویڈیو گندی سائٹس کو اچھی خاصی رقم کے بدلے بیچ دیتے ہیں اور اس طرح یہ اس لڑکی کی عزت پلک جھپکتے ساری دنیا میں نیلام ہوجاتی ہے۔جبکہ بعض لڑکے ان ویڈیوز سے لڑکیوں کو بلیک میل کرکے رقم بھی بٹورتے ہیں اور اپنی ہوس بھی پوری کرتے رہتے ہیں۔ایسے سینکڑوں واقعات اب تک میڈیا میں رپورٹ ہوچکے ہیں اور رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس حوالے سے صرف ایک واقعہ ملاحظ ہو جس کو پڑھ کر شاید آپ کے بھی رونگٹھے کھڑے ہوجائیں گے۔ملتان کے ایک سکول کی نویں جماعت کی طالبہ کی موبائل پر ایک لڑکے سے دوستی ہوگئی۔انہوں نے ڈیٹ پرجانے کا پروگرام بنایا اور ایک پارک میں ملے۔جہاں لڑکے کے دوستوں نے اُن کی ویڈیو بنا لی۔چند دن بعد لڑکے نے ویڈیو دکھا کر اُسے اپنے دوست کے گھر بلاکر اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس کی ویڈیوبھی بنا لی۔ کچھ دن بعد لڑکے کا دل جب اُس لڑکی سے بھر گیا تو اُس نے وہ ویڈیو اپنے دوستوں کو دے دی۔پھر اس کے دوستوں نے باری باری اس معصوم لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔درندگی کی انتہا دیکھئے کہ پندرہ سالہ بچی مسلسل چھ ماہ تک بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنتی رہی'لیکن اپنی او راپنے والدین کی عزت کی خاطر چپ چاپ سب سہتی رہی۔ اس کے بعد اُن درندوں نے وہ ویڈیولڑکی کے باپ کو دکھا کر تین لاکھ کا مطالبہ کیا ۔باپ نے پولیس کو اطلاع دی تو اُن میں سے تین ملزمان گرفتارہوگئے۔آپ سوچئے کہ یہ سب صرف ایک بار ڈیٹ مارنے کا نتیجہ ہے اور اب اُس لڑکی اور اس کے گھر والوں کے پاس جینے کا کون سا بہانا باقی ہے۔ ڈیٹنگ کے بے شمار نقصانات ہیں کہ کوئی بھی عقل وفہم رکھنے والا اور دوسروں کی بہن بیٹیوں کو اپنی بہن بیٹی سمجھنے والا انسان سوچ کر بھی کانپ اُٹھتا ہے۔ میری والدین اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بہن بیٹیوں پر نظر رکھیں' او رگاہے بگاہے ان کے موبائل کو چیک کرتے رہیں اس لیے کہ ڈیٹنگ کا یہ سارا کھیل موبائل کے سر پر ہی کھیلا جاتا ہے۔ لڑکیوں سے گزارش ہے کہ لڑکوں کی دوستی اور عشق کے چکروں میں آکر ڈیٹنگ پہ جانے کا خیال اپنے دل سے نکال دیں اور ملتان کی لڑکی کے واقعہ کو یاد رکھیں جو ایک ڈیٹ کی وجہ سے بیس لوگوں کے ہوس کا نشانہ بنی۔خدانخواستہ ایسا آپ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔پھر یہ ضرور یاد رکھیں کہ ڈیٹ مارنے میں سب سے زیادہ نقصان لڑکی کا ہی ہوتا ہے اس لیے کہ اگر بلیک میلنگ نہ بھی ہو تب بھی لڑکی کی عزت اس ڈیٹنگ میں چلی جاتی ہے۔ آخر میں'میری تمام نوجوانوں سے گزارش ہے کہ کسی لڑکی کو اپنے جھوٹے پیار میں پھنسانے'اُسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے' بلیک میل کرنے یا اُس کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اَپ لوڈ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ کل کوآپ کی بہن'بیٹی کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔اس بارے میں ہر ایک کو ضرور سوچنا چاہئے
-
داغ تو ہر صورت برے ہوتے ہیں!
جب سے کیبل کی بدولت پاکستان میں ٹی وی چینلز کی بھرمار ہوئی ہے اور لوگوں کی قوت خرید (جس کسی بھی وجہ سے) بڑھی ہے اُس وقت سے اشتہاری کمپنیوں کی چاندی ہو گئی ہے۔ روزآنہ نت نئے اشتہارات بنتے ہیں اور مختلف ٹی وی چینلز کی زینت بنتے ہیں۔ ہر کمپنی اپنی پروڈکٹ کی اشتہاری مہم پر کروڑوں بلکہ اربوں کے حساب سے پیسہ خرچ کرتی ہے اور پروڈکٹ کو مقبول بنانے کے لیے اشتہاری کمپنی کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے کہ وہ جیسا چاہے اشتہار بنائے بس اُن کی پروڈکٹ مارکیٹ میں سوپر ہٹ ہونی چاہیے۔ جب اس طرح مطالبہ کیا جاتا ہے تو اشہاری کمپنیاں بھی بہت سی حدود پھلانگ جانے کو تیار ہو جاتی ہیں۔ روپے پیسے کی چکا چوند کے اس سارے کھیل میں یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح کے مادر پدر آزاد اشتہاروں سے اُن ننھے ذہنوں پر کیا اثر ہوگا جو ابھی صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ بچے جو ابھی اپنے گھر ، اسکول اور معاشرے سے سیکھ رہے ہیں وہ ان بے تکے، گھٹیا، غیر اخلاقی، بیہودہ اور فحش اشتہاروں سے کیا سیکھیں گے؟ یہ سب غیر اسلامی ہی نہیں غیر اخلاقی بھی ہے اور ہمارے معاشرتی انحطاط کا باعث بھی۔ مثال کے طور پر ہم ایک بچے کو کس طرح یہ بتائیں کہ داغ چاہے پہننے کے کپڑوں پر ہوں، سفید پوشی کی چادر پر ہوں یا انسان کےکردار پر ہوں کسی بھی صورت اچھے نہیں ہوتے۔ یہ بچے تو دن رات کپڑے دھونے والے پاؤڈر کے اشتہار میں یہ سنتے ہیں کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں! جب کوئی کپنی اپنے اشتہار میں لڑکی' پٹانے' کی بات کرے گی اور بار بار پٹانے کا لفظ دہرائے گی تو انسان اس گھٹیا لفظ کے بارے میں اپنی اولاد کو کیا بتائے گا؟ اس کے علاوہ اشتہاروں میں بیہودگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے ناچنے اور جلد دکھائے بغیر کوئی چیز بیچی ہی نہیں جا سکتی۔ پڑوسی ملک کے کلچر سے مرعوب ہو کر ہم یہاں جو اشتہار بنا رہے ہیں اُن میں چائے کے دودھ کی ترنگ ہو یا دیس کا بسکٹ یا موبائل نیٹ ورک ہو آپ کو اشتہار میں ایک انتہائی گھٹیا ناچ نظر آئے گا۔ حد تو یہ ہے کہ یہ لوگ اِسکول کی بچیوں کو بھی یونیفارم میں ڈانس کروا دیتے ہیں او رپھر کہتے ہیں: لیں ENJOOOOYZZ ۔ اس کے علاوہ وہ اشتہار جو آبادی میں اضافے کے حوالے سے بنتے ہیں اُن کے تو شروع ہوتے ہی انسان سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ ارد گرد کون ہے اور ریموٹ کہاں ہے چینل بدلنے کے لیے۔ او ر ایسے ہی لمحے آپ کو پتہ چلتا ہے کہ جسے آپ ڈھونڈ رہے ہیں وہ ریموٹ غائب ہے۔ انسان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہوتا کہ صوفہ کس طرح پھٹ جائے اور وہ اُس میں دفن ہو جائے۔ سیلیولر نیٹورک کی کمپنیاں 'رات' کے خصوصی پیکج کس کو اور کس کام کے لیے دے رہی ہیں؟ وہ کون لوگ ہیں جو رات بارہ بجے کے بعد فجر تک بات کرنا پسند کرتےہیں؟ کیا یہ لوگ ہماری نئی نسل کو غلط راہ پر نہیں لگا رہے؟ کچھ کریم اور صابن بیچنے والی کمپنیاں اس بات پر اچھا خاصہ یقین رکھتی ہیں کہ جب تک اچھی طرح نسوانی کھال نہ دکھا دی جائے اُس وقت تک لوگ اُن کی پروڈکٹ کی افادیت پر یقین ہی نہیں کریں گے۔ میرے خیال میں seeing is believing’ ‘ پر یہ لوگ زیادہ ہی یقین رکھتے ہیں۔ یہاں تو آم کے جوس کے اشتہار بھی اشتہا انگیزی سے بھر دیے جاتے ہیں۔ اور 'کیوں' موبائل فون کا کوئی تعلق بنتا ہے ان واہیات اشتہاروں سے؟ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایسے اشتہار اب رمضان کے مقدس مہینے میں وہ بھی عین روزوں کے اوقات میں دکھائے جانے لگیں ہیں۔ شرم ہم کو مگر نہیں آتی! جس قسم کا پیسہ اس کام میں شامل ہے ہمیں نہیں لگتا کے پیمرا (Pakistan Electronic Media Regulatory Authority) کی کبھی بھی ان اشتہاری کمپنیوں یا چینلز پر کوئی اتھارٹی قائم ہو سکے گی۔ اس لیے اگر ہمیں اپنے بچوں کے اخلاق کو بگڑنے اور ان کے کردار کو داغدار ہونے سے بچانا ہے تو پھر ہمیں متحد ہو کر ان بیہودہ اور لچر اِشتہاروں کا اور اسی طرح کے فحش ڈراموں اور ٹی وی شوز کابائیکاٹ کرنا ہوگا۔ جب ان چینلز کی ریٹنگ نیچے جائے گی تو جھک مار کے یہ لوگ اپنے آ پ کو بدلیں گے۔ اگر کراچی سے خیبر تک ہم سب مل کر صرف ایک دن کے لئے ٹی وی بند کر دیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ویسے بھی ہمارے چینلز پر کتے بلیوں کی لڑائی کے علاوہ کوئی ڈھنگ کا پروگرام نہیں آتا۔ اس لیے اگر ہم ایک دن کیا ایک مہینہ بھی ٹی وی بند رکھیں تو ہمیں کوئی نقصان نہں ہوگا۔ بلکہ ہمارے نزدیک تو ٹی وی نہ دیکھنے کی وجہ سے عوام کی سوچ مثبت ہوگی جس کی ہم سب کو اشد ضرورت ہے۔ خبروں کے لیے انٹرنیٹ اور ریڈیو سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیے۔۔۔ داغ تو ہر صورت برے ہوتے ہیں!