Everything posted by khoobsooratdil
-
HI,i am irfan1397
Welcom kara k G aayan noon aakhan bas kaam karain or dost banatay jain
-
~!~ [ Hasnain Here.... [ ~!~
Husnain Dear very warm Welcome Kush rahay or forum ki rounaq berhatay rahain
-
دادی کی اقسام
دادی جان...کس قد مٹھاس ھے اس رشتے میں- وه رشتہ جو آپ کے باپ کی جنت ھے- آپ کی ماں سے چاھے بنے نہ بنے پر آپ پر جان و دل سے صدقے واری ھونے والی ھستی- اس رشتے کے آپ سے وابسطہ احساسات تو مشترکہ ھیں مگر معاشرے میں رنگ ڈھنگ مختلف- اصل میں عادتا دادیاں کئ قسم کی ھوتی ھیں مگر میں چند کا ذکر کروں گی -----------1------------ یہ وه دادیاں ھیں جو اپنی عمر اور رتیہ کو نظر انداز کرتے ھوۓ جدید طرز_زندگی اپناۓ ھوۓ ھوتیں ھیں-ان کا لباس و انداز بعض اوقات نوجوان لڑکیوں کو بھی مات کرتا ھے- (آپ نے زبیده طارق کو تو دیکھا ھی ھو گا) جدید انداز کی ساڑھیاں سلیو لیس چنے منےبلاؤز میچینگ جیولری اور کانونٹ کی پڑھی ھوئی فرفر انگریزی بولتی ھوئی اور کسی ایک این جی او کی سرکرده اپنے ایئرکنڈیشنڈ آفس میں بیٹھ کر فرنچ بلوریں گلاسز میں امپورٹڈ ڈرنک پیتے ھوۓ یہ دادیاں غریبوں کے مسائل حل کرنے کی ناکام کوشش کرتی رھتی ھیں- درحقیقت ان کا حال بھی اس ملکہ کے جیسا ھوتا ھے جس کا فرمان تھا اگر روٹی غریب کی قوت_خرید سے باھر ھے تو اسے کیک کھانا چاھیئے- شطرنج اور تاش کی رسیا یہ دادیاں ایلیٹ کلاس میں وافر مقدار میں پائی جاتی ھیں -----------2------------ یه وه قسم ھے جو نفیس قسم کےغراره میں ملبوس تخت پوش پر مسند نشین پاندان کو سنبھالے کٹر کٹر چھالیہ کترتے ھوۓ اپنی اور محلے کی تمام بہوؤں پر ڈونگی نظر رکھتی ھیں- ون پاؤنڈ فش کو سنتے ھوۓ مہنگائی پر مفصل گفتگو کرتی ھوئی یه دادیاں وطن کی محبت سے سرشار غیرملکی ڈرامے جو کہ گھریلو سیاست و محلاتی سازشوں پر مبنی ھوتے ھیں، بڑے شوق سے دیکھتی ھیں- اور خود بھی ڈراما کرنے میں ماھر گردانی جاتی ہیں- یه ٹی وی کی حد درجہ شوقین ھوتی ھیں- کرکٹ بھی پوتے پوتیوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جاتا ھے اور اور مخالف ٹیم کی ھار پر اسی طرح ری ایکٹ کرتی ھیں جیسے ھر پاکستانی شاھد آفریدی کے بگ شاٹ پر- ان کو دیکھ کر وه لطیفه یاد آتا ھے، جس میں بیٹا باپ سے پوچھتا ھے دادی فلموں میں کام کرتی ھیں تو باپ جواب دیتا ھے __ نہیں ___ جواب میں بیٹا کہتا ھے ____ تو پھر امی کیوں یه کہتی ھیں کہ تمھاری دادی آ رھی ھے اب روز کوئی ڈراما ھوا کرے گا -----------3------------ .تیسری قسم بڑی معصوم اور بے ضرر قسم کی دادیوں کی ھے- ھلکے رنگوں کے کپڑے پہنے ھوۓ ململ کے ڈوپٹے اوڑھے روشن چہرے ہمہ وقت تسبیح میں مشغول رھتی ھیں- یہ الگ بات کہ بےدھیانی میں تسبیح کے دانے باتوں پر بھی گرتے رھتے ھیں- یہ دادیاں اپنے پوتوں پوتیوں کے لیے اپنے تکیہ کے نیچے ٹافیاں اور گڑ کی ڈلیاں رکھتی ھیں، جنکا لالچ دے کر اپنی ٹانگیں دبواتی ھیں- چابیاں اپنے پلو سے بندھ رکھتی ھیں مہمان کی آمد ھو تو سمجھدار بہو بیٹی اماں کی پائنتی پر آ کہ ٹک جاتی ھیں اور اماں دھیرے سے چابی والا پلو نیچے سرکا دیتی ھیں اور اور وه کمال_مہارت سے کھول لیتی ھیں-لیونگ روم میں تشریف فرما ان دادیوں کی نظر ہمہ وقت باورجی کھانے پر بھی ھوتی ھے، کہ کہیں اچھی بوٹی بہو خود نہ ھڑپ لے -----------4------------ آخر میں ذکر گاؤں کی اس دادی کا جنکو سب ھی دادو کہا کرتے تھے حتی کے ان کا شوھر بھی کبھی کبھی بےخیالی میں دادو کہہ جاتا تھا. الله بخشے مرحومه بہت سیدھی سادی خاتون تھیں- گاؤں میں نئی نئی بجلی آئی ٹی وی دیکھا تو پوچھنے لگیں____ پتر !!! آ چورس ڈبے وچ بندے آوندے کتھوں نیں، تے جاندے کدھر نیں؟ شروع میں تو دوپٹا اوڑھ کے ٹی وی دیکھتی تھیں- ایک دن گونگھٹ نکالے پشت کیے بیٹھی ٹی وی دیکھ رھی تھیں اور پوچھنے پر فرمایا کہ ٹی وی والا بنده باتیں تو اسلام کی کرتا ھے، اچھی باتیں ھوتی ھیں، پر مرن جوگا مینوں ویکھدا بہت وا- رات 9 بجے پی ٹی وی پر خبر نامه یوں سنتیں جیسے انتخابات میں حصه لینے کا اراده رکھتی ھوں- موسم کا حال سن کر ارشاد کرتیں اس بندے کو پتا ھوتا ھے میں ٹی وی دیکھ رھی ھوں مجھے بتا دیتا ھےکہ آج بارش ھونی ھے- بالن اندر رکھ کے تندور ڈھک دے اماں بڑا خیال کرتا ھے میرا بڑا بیبا بچه کسی نیک ماں کا- ڈراما دیکھتے ھوۓ لائٹ چلی گئی تو بولیں ڈبے والے بندے اب نظر کیوں نھیں آ رھے. بتایا گیا اماں بجلی چلی گئی ھے تو معصومیت سے بولیں ____ "تو پت بتی بال کے ڈبے اتے رکھ دیو، سوھنے سوھنے کڑیاں منڈے گلاں کردے پئے سی"- ھمارے ھاں آئی تو ابو نے کہا اماں کو تکیہ دیں- میں نے لا کے رکھ دیا تو کافی دیر کے بعد ابو سے کہنے لگی تم نے تکیے کا کہا تھا بچی لے کر نہیں آئیں والد صاب نے کہا آپکو سرھانا دے تو دیا ھے اماں جی .. تو گویا ھوئیں اچھا میں سمجھ کوئی کھانے والی شئے ھے- ھمارے ھاں کی ایک دادی کا امریکہ جانا ھوا تو جاتے ھوۓ ساتھ اپنے باغات کے آم بھی لے گیئں- جب خریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا تو بتایا ایئرپورٹ پر کچھ بندے میرے آم دیکھ کر مینگو مینگو کر رھے تھے میں نے کہا او پتر مہنگے ھون یا سستے ھمارے تو اپنے ھیں یہ تو میں اپنے پتر کے لیے لائی ھوں جب پھر پاکستان گئی تو تم لوگوں کے لیے بھی لاؤں گی- اور پتر یہاں کے لوگ شڑاپ(شٹ اپ) ٹھینکو (تھینکیو) ھاۓ ھاۓ بہت کرتے ھیں- اور اب کے بار، وہ پاکستان آئیں تو میں ملنے کے لیے گئی اور حیران و پریشان ره گئییہ دیکھ کر کہ دادو صحن میں بیٹھی لیپ ٹاپ پر فیس بک کھولے نوٹیفیکیشن چیک کرتے ھوۓ گنگنا رھیں تھیں
-
Beautiful Microscopic Images from Inside the Human Body(Don't Forget To See)
Amazing jani buhat hi usefull sharing ha
-
تحفہ از گرو سمراٹ
Wow Great buhat hi zaberdast janab ye ya is terha ka koi waqiya suna ha pehlay bhi mager Jo aap ki posting ha wo buhat shandar ha Thanks 4 sharing
-
زندگی کی مشکلات
کسی تجربہ گاہ میں ایک سائنس دان تتلی کے لاروے پر تجربات کررہاتھا۔ لاروا تتلی بننے کے آخری مراحل میں تھا۔ کچھ ہی دیر میں اس لاروے نے ایک مکمل تتلی کا روپ دھار لینا تھا۔ سائنس دان نے دیکھا کہ لاروے میں ایک سوراخ بن گیا ہے۔یہ خول کافی چھوٹا تھا۔ اتنا چھوٹا کہ تتلی کے لئے اس سے باہر آنا ممکن نہیں تھالیکن تتلی خوب زور لگاتے ہوئے اس سوراخ کے ذریعے باہر آنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ سائنس دان نے سوچا کیوں نہ میں اس تتلی کی مشکل آسان کرتے ہوئے اس سوراخ کو ذرا وسیع کردوں تاکہ تتلی آسانی سے باہر آسکے۔ اور اس نے ایسا ہی کیا۔ ایک آلےکی مدد سے اس نے لاروے کے خول میں سوراخ کو اتنا چوڑا کردیا کہ تتلی آسانی سے باہرآسکتی تھی۔ آخر کار تتلی ذرا سے دیر میں لاروے سے باہر آگئی۔ مگر .... سائنسدان کو اس وقت شدید حیرت ہوئی جب اس نے دیکھا کہ تتلی باوجود کوشش کے اڑ نہیں پارہی۔ حتیٰ کہ اس کے پر تک پورے نہیں کھل رہے۔ بظاہر ایسے عوامل نظر نہیں آرہے تھےجو تتلی کی اس معذوری کی وجہ ہوں۔ ایسی پریشانی کے عالم میں وہ سائنس دان تتلی کواپنے سنیئر سائنس دان کے پاس لے گیا اور سارا ماجرا سنا۔ سنیئر سائنس دان نےایک سرد آہ بھری اور کہا " رے نا وہی انسان کے انسان! .... اور دے دی نا اسے عمربھر کی معذوری ۔ جب تتلی لاروے سے باہر آنے کے لئے زور لگا رہی ہوتی ہے تو اس وقت چند مادے اس کے پروں میں سرایت کرجاتے ہیں۔ انہی مادوں کی وجہ سے تتلی کے پروں میں جان آتی ہے اور تتلی اڑنے کے قابل ہوجاتی ہے۔" زندگی بھی ایک ایسی ہی تتلی ے جو مشکلات کے لاروے میں بند ہے۔ مشکلات سے گزر کر ہی زندگی اپنے اصل مقصد کوپاتی ہے۔ تو اپنی کوشش جاری رکھئے اور دوسروں پر انحصار نہ کریں۔ آپ کی مشکلات، اللہ اور خود آپ کے سوا کوئی دوسرا دور نہیں کرسکتا.
-
”عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے”
بازار میں اک نئی دکان کھلی جہاں شوہر فروخت کیے جاتے تھے۔ اس دکان کے کھلتے ہی لڑکیوں اور عورتوں کا اژدہام بازار کی طرف چل پڑا ۔ سبھی دکان میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھیں۔ دکان کے داخلہ پر ایک بورڈ رکھا تھا جس پر لکھا تھا ۔ “اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک وقت ہی داخل ہو سکتی ہے “ پھر نیچے ھدایات دی گئی تھیں ۔۔۔ ” اس دکان کی چھ منزلیں ہیں ہر منزل پر اس منزل کے شوہروں کے بارے میں لکھا ہو گا ، جیسے جیسے منزل بڑھتی جائے گی شوہر کے اوصاف میں اضافہ ہوتا جائے گا خریدار لڑکی یا عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے اور اگر اسمنزل پر کوئی پسند نہ آے تو اوپر کی منزل کو جا سکتی ہے ۔مگر ایک بار اوپر جانےکے بعد پھر سے نیچے نہیں آ سکتی سواے باھر نکل جانے کے “ ایک خوبصورت لڑکی کو سب سے پہلے دکان میں داخل ہونے کا موقع ملا، پہلی منزل کے دروازے پر لکھا تھا ۔ ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں اور الله والے ہیں” لڑکی آگے بڑھ گئی۔دوسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا۔ ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں اور بچوں کو پسند کرتے ہیں “ لڑکی پھر آگے بڑھ گئی۔تیسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا ۔ ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں اور خوبصورت بھی ہیں “ یہ پڑھ کر لڑکی کچھ دیر کے لئے رک گئی ‘ مگر پھریہ سونچ کر کہ چلو ایک منزل اور جا کر دیکھتے ہیں وہ اوپر چلی گئی۔چوتھی منزل کے دروازہ پر لکھا تھا - ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ خوبصورت ہیں اور گھر کےکاموں میں مدد بھی کرتے ہیں “ یہ پڑھ کر اس کو غش سا آنے لگا ‘ کیا ایسے بھی مردہیں دنیا میں ؟ وہ سونچنے لگی کہ شوہرخرید لے اور گھر چلی جائے ، مگر دل نہ مانا وہ ایک منزل اوراوپر چلی دی۔وہاں دروازہ پر لکھا تھا ۔ ” اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں ‘ الله والے ہیں بچوں کو پسند کرتے ہیں ‘ بیحد خوبصورت ہیں ‘ گھر کےکاموں میں مدد کرتے ہیں اور رومانٹک بھی ہیں “ اب اس عورت کے اوسان جواب دینے لگے – وہ خیال کرنے لگی کہ ایسے مرد سے بہتر بھلا اور کیا ہو سکتاہے مگر اس کا دل پھر بھی نہ مانا وہ اگلی منزل پر چلی آئی۔یہاں بورڈ پر لکھا تھا ” آپ اس منزل پر آنے والی ٣٤٤٨ ویں خاتوں ہیں – اس منزل پر کوئی بھی شوہر نہیں ہے – یہ منزل صرف اس لئے بنائی گئی ہے تا کہ اس بات کا ثبوت دیا جا سکے کہ”عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے” ہمارے سٹور پر آنے کا شکریہ، سیڑھیاں باھر کی طرف جاتی ہیں۔
-
جیسی کرنی ویسی بھرنی
سمیر اپنے گاؤں سے شہر تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آیا تھا شہر کے کالج میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اُسے تقریباً پانچ سال کا عرصہ ہو چکا تھا۔ ان پانچ سالوں میں وہ اسکی ہم جماعت غزالہ کی محبت میں بھی گرفتار ہو اتھا۔ اب وہ غزالہ کو کسی طرح اپنے سے دور نہیں دیکھنا چاہتا تھا، غزالہ بھی اُسے چاہنے لگی تھی۔ ایک دن جب غزالہ نے اپنی امّی سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ سمیر سے ہی شادی کرنا چاہتی ہے تو اسکے والدین آگ بگولہ ہو گئے اور انھوں نے اسکی خواہش کو ٹھکرا دیا۔والدین کے انکار کے بعد سمیر نے غزالہ کو چپ چاپ شہر چھوڑ کر کسی دوسرے شہر اسکے ہمراہ چلنے کے لئے راضی کر لیا۔ اب سمیر اپنے کمرے میں بکھرے سامان کو سمیٹ رہا تھا انھیں آج رات ایک بجے آنے والی ٹرین سے شہر چھوڑ نا تھا۔ ابھی وہ اپنے سامان کی پیکنگ کر ہی رہا تھا کہ اسکے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔ موبائل پر آیا فون نمبر اسکے گھر کے پڑوس کا تھا۔ اُس نے موبائل اپنے کانوں سے لگا لیا۔ اسکے والد درد بھری آواز میں اس سے کہہ رہے تھے۔ "بیٹا تمہاری بہن شہر سے آئے ایک نوجوان کے ساتھ پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے تم فوراً چلے آؤ خاندان کی آبرو خطرے میں ہے۔!!"
-
ﺍﯾﮏ ﻃﻮﺍﺋﻒ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ۔ ﺟﺲ ﭘﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﺷﮩﺮ ﻣﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ !!
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺠﺮﺍ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺩﺳﻮﺍﮞ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﯿﺎ ﻏﻀﺐ ﮐﯽ ﻧﺌﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﯿﺮﺍ ﻣﻨﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﻠﺒﻞ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻧﺎﭼﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﮭﺮﮐﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﺐ ﺗﻤﺎﺵ ﺑﯿﻦ ﻣﺤﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ۔ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﺎﭼﺘﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﮨﻮﺱ ﻣﺰﯾﺪ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺿﺮﻭﺭ ﻣﻠﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﺠﺮﺍ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻭﮦ ﺑﺠﮭﯽ ﺑﺠﮭﯽ ﺳﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﭺ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﺍﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻃﮯ ﮐﺮﻧﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﺠﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﮧ ﺟﺐ ﺳﺐ ﺗﻤﺎﺵ ﺑﯿﻦ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﮐﻮﭨﮭﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﮑﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﺋﯿﮑﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﻟﺠﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﻣﺰﯾﺪ ﺭﻗﻢ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﻧﺎﺋﯿﮑﮧ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﮬﺘﮑﺎﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﻠﺒﻞ ﮐﻮ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻭﻗﺖ ﭘﮧ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﮧ ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺑﮍﺍﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ۔ﺑﻠﺒﻞ ﮐﻮ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺷﺪ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺍﮎ ﻟﮩﺮ ﺩﻭﮌ ﮔﺌﯽ۔ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﮍﮬﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺮﻗﻌﮧ ﭘﮩﻦ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﺎﺱ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻣﮍﯼ۔ ﺍﺳﮑﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺁﻧﺴﻮﻭﮞ ﺳﮯ ﺗﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﻑ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﻮﻥ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﺎ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﮑﺮﺍ ﺳﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﮦ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﮔﮭﭩﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ "ﻣﺎﮞ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ۔ " " ﮐﯿﺎ؟ " ﺟﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﮐﮧ " ﺁﺝ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ۔ " ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﺗﺎﻻ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﮨﻮﺱ، ﺟﺲ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﯿﻠﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﺌﯽ۔ "ﺗﻮ ﺗﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ؟ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻏﺼﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ " ﮐﻔﻦ ﺩﻓﻦ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺮﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﻧﺎﺋﯿﮑﮧ ﺁﺝ ﭘﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ۔ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻨﺪﯼ ﮨﮯ۔ ﺗﻤﺎﺵ ﺑﯿﻦ ﮐﻮﭨﮭﮯ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ۔ ﺟﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﭽﮫ ﻟﭩﺎﺗﮯ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺪﮬﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﮐﻔﻦ ﺩﻓﻦ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻭﺍ ﻟﻮ۔ " ﺍﺗﻨﺎ ﮐﮩﮧ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺑﺮﻗﻌﮧ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﮐﻮﭨﮭﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ، " ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﮐﻔﻦ ﻭ ﺩﻓﻦ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ " ﻭﮦ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺸﮑﻮﮎ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ۔ ﮔﺎﮌﯼ ﭨﯿﮑﺴﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﻠﺒﻞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﻋﻼﻗﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻃﺮﻑ ﻣﻮﮌ ﺩﯼ۔ ﺳﺎﺭﺍ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺭﻭﺗﯽ ﺭﮨﯽ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺳﮑﻮ ﺗﺴﻠﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺑﻠﺒﻞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔ ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺗﮭﺎ۔ ﺻﺤﻦ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻻﺵ ﺍﯾﮏ ﮔﺪﻟﮯ ﮐﻤﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﯽ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﻠﺐ ﮐﯽ ﭘﯿﻠﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﭼﯿﺦ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﻋﯿﺎﮞ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺕ ﺁﭨﮫ ﻣﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﮍﺍ ﮔﻮﻝ ﻣﭩﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺳﺎ ﺑﭽﮧ ﮐﮭﯿﻞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﻮ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﻠﺒﻞ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ، ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺑﭽﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﻮﻧﭙﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺑﻠﺒﻞ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮔﺌﯽ۔ ﺑﭽﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﭼﮭﺎﺗﯽ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﯿﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﮨﻮ۔ "ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﻠﺒﻞ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﮨﮯ؟ " ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﻠﺒﻞ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮐﮭﮍﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮎ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﮐﺮﺳﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﺋﯽ۔ " ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ! ﻣﻌﺬﺭﺕ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ " ﻭﮦ ﮐﺮﺳﯽ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ۔ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻭﮞ۔ "ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺍﺻﻞ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﻠﺒﻞ؟ " ﺑﺎﻵﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ۔ﻭﮦ ﭼﭗ ﺭﮨﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻓﺸﺎﮞ "۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔ " ﺑﮩﺖ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﻮﺍ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﺎ۔ " ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﯽ۔ " ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﮯ ؟ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ " ﻧﮩﯿﮟ " ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ۔ " ﯾﮧ ﺑﭽﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ ؟ " ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ "ﮨﺎﮞ " ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ۔ "ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟ " ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ " ﭼﮭﻮﮌ ﮔﯿﺎ۔ " " ﺗﻢ ﮨﯿﺮﺍ ﻣﻨﮉﯼ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺌﯽ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ؟ " ﺍﺏ ﻭﮦ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﯽ، " ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ۔ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﻣﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ ﺗﻮ ﻧﺎﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﺍ " ﯾﮧ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺍ۔ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﻧﺎﺋﯿﮑﮧ ﻧﮯ ﻧﺎﭺ ﮔﺎﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺩﮬﻨﺪﮮ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ۔۔ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﺮﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺩﻭ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﺵ ﺑﯿﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﭽﺎ ﮐﮭﭽﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ، ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻻ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻼﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﺮﻗﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﮎ ﺑﮭﺮﻡ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﮯ۔ ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ، ﺍﯾﺴﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺑﮯ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﮔﻤﻨﺎﻡ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮﭨﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﭘﺘﮧ ﻭﮦ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﯾﻮﮞ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺴﻢ، ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﯿﻼﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﺍﺱ ﺩﻟﺪﻝ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺩﮬﻨﺴﺘﯽ ﮨﯽ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮈﻭﺏ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ " ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺑﺘﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮔﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﻧﺎﮐﺮﺩﮦ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﮐﺎﭦ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ۔ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﭘﺮﺱ ﺳﮯ ﭼﻨﺪ ﻧﻮﭦ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻤﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ " ﮐﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﺮﻭﺍ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺭﮎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺍﺷﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﻨﺎ۔ " ﻭﮦ ﺍﺗﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﻮﭦ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔ " ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ؟ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﻮﮞ ﭼﭗ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ۔ " ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﺭﻭﭘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ؟ " ﻭﮦ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻧﻮﭨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺳﯿﭩﮫ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﻧﻮﭼﮯ ﮔﺎ؟ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﯿﭩﮫ ﮐﯽ ﺭﮐﮭﯿﻞ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ؟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻧﻔﺮﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺫﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﭘﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺪ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﮯ ﺣﺲ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﻨﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮈﯾﻞ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﮯ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻟﺮﺯﺗﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ، " ﺗﻤﮭﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺍﺏ ﮐﻮﭨﮭﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺮﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺅ ﮔﯽ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﮨﺮ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻣﻨﯽ ﺁﺭﮈﺭ ﻣﻞ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﺲ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺑﭽﮧ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﮎ ﺩﻥ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺑﻦ ﺳﮑﮯ ۔ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺭﻗﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﮭﻮﺍﺅﮞ ﮔﺎ ﯾﮧ ﺗﻢ ﭘﺮ ﻗﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ۔ﺍﻓﺸﺎﮞ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﮭﮍﯼ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﻧﺎﭺ ﮐﺮ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﺭﻭ ﭘﮍﯼ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﯾﺎﺩ ﺩﻻ ﮐﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺳﺎﺭﮮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ " ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻓﺸﺎﮞ۔ﺟﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﭘﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﺍﺱ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﺟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﮨﻮﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﺑﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﺭ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻓﺸﺎﮞ۔ " ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﻟﯿﮯ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ۔ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﺗﺎ۔ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻣﺎﮦ "ﺍﻓﺸﺎﮞ " ﮐﻮ ﻣﻨﯽ ﺁﮈﺭ ﺑﺠﮭﻮﺍﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﮐﺌﯽ ﺩﻓﻌﮧ ﺩﻝ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﺴﯿﺤﺎ ﮐﻮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺁﺅﮞ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﮐﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻠﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﮎ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﺁﮌﮮ ﺁﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﮨﻮﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﺳﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺩﻥ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﺑﻨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺑﻨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺗﺎﺭ ﭼﮍﮬﺎﺅ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻡ ﭼﮭﭩﯽ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﻼﺯﻡ ﻧﮯ ﺁﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﺎ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ " ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ؟ " " ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺻﺎﺣﺐ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔ " ﻣﻼﺯﻡ ﻧﮯ ﻣﻮﺩﺑﺎﻧﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ " ﺍﭼﮭﺎ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺍﺋﯿﻨﮓ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺁﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ " ﮐﻮﻥ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺭﺍﺋﯿﻨﮓ ﺭﻭﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮﻧﻮﺭ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻔﯿﺪ ﺑﮍﯼ ﭼﺎﺩﺭ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺳﯽ ﮈﺍﺋﺮﯼ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭼﮭﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﮨﯿﻨﮉﺳﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﻧﯿﺎ ﮈﯼ ﺍﯾﺲ ﭘﯽ ﺍﺣﻤﺪ ﺗﮭﺎ۔ " ﺳﻼﻡ ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﺣﻤﺪ ۔ " ﺟﻮﻧﮩﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﺎﺿﯽ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﺗﮭﯽ۔ " ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮔﺌﮯ ﻧﺎﮞ؟ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺮ ﮨﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ "ﮨﺎﮞ " ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ۔ﺍﻓﺸﺎﮞ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ۔ " ﺍﺣﻤﺪ ﺑﯿﭩﺎ ﯾﮩﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺴﯿﺤﺎ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻟﺪﻝ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺗﮯ ﮔﺮﺗﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﺗﮏ ﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﯿﮟ ۔ " " ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﻮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻣﯽ ﺟﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻣﻌﺰﺯ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻻﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﮨﻢ ﮨﮯ۔ " " ﺳﯿﭩﮫ ﺻﺎﺣﺐ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﮨﻢ ﺑﮯ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﺲ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﯿﺤﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮨﻢ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﯿﮟ ﮔﮯ ۔ " ﺍﺣﻤﺪ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮍﯼ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ " ﺍﯾﺴﮯ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﺁﺝ ﺍﺳﮑﻮ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﺑﮩﻦ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺳﭻ ﺗﮭﺎ۔ﺍﻓﺸﺎﮞ ﺻﻮﻓﮯ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺳﯽ ﮈﺍﺋﺮﯼ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮭﻤﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ، " ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﺭﺝ ﮨﮯ ۔۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻨﯽ ﺁﮈﺭ ﺗﮏ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﮎ ﺍﮎ ﭘﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺭﮐﮭﺎ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﯾﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﺋﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻗﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺗﺐ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺐ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﯾﮏ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ۔ " ﮐﭽﮫ ﻟﻤﺤﮯ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ، " ﺳﯿﭩﮫ ﺟﯽ ﺁﺝ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺣﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﺳﮑﺘﯽ ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺋﯿﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﺗﺎﺭﮮ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ " ﻣﯿﮟ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮐﻮ ﺑﮍﯼ ﺗﺤﺴﯿﻦ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﮦ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ۔ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﻗﻮﻝ ﻭ ﻗﺮﺍﺭ ﮐﻮ ﻧﺒﮭﺎﻧﺎ، ﻭﻋﺪﮦ ﭘﺮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮨﻨﺎ ﺍﮎ ﺍﭼﮭﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ۔ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﮩﻦ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﺑﮩﻦ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﯾﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻮﮞ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ۔ " ﻣﯿﺮﮮ ﺭﮐﮯ ﺭﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﭼﮭﭙﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺑﻀﺪ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﺎﺭ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﭘﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﭘﯿﺴﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﻣﻨﯽ ﺁﮈﺭ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺠﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻣﯽ ﺑﮭﺮﻧﯽ ﭘﮍﯼ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ " ﺍﺭﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﻠﻮﺍﻧﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻠﻮ ﮔﯽ۔؟ " ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ۔ " ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﻮﮞ ﮔﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻨﺎ ﮨﮯ؟ " ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻮﭼﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﺑﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﺗﻢ ﻣﻞ ﻟﻮ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﻭﺑﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ۔ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻭﺟﮧ ﺑﺘﺎﺋﯽ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﮕﻢ ﺍﺭﻡ ﻧﺎﺯ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺭﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﺁﯾﺎ۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺑﯽ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ۔ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻼ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﭘﮭﻮﻟﮯ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺍﻓﺸﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﮯ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﻌﻠﻖ ﺟﻮ ﺍﮎ ﻃﻮﺍﺋﻒ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﺵ ﺑﯿﻦ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻨﺪﮮ ﺭﺷﺘﮯ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻣﮩﺬﺏ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺍ۔ﯾﮧ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﺪﮬﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻌﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﺒﻖ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭ ﺑﮭﭩﮑﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﻮ ﻓﺨﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﻃﻮﺍﺋﻒ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﺵ ﺑﯿﻦ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﻨﮧ ﺑﻮﻟﯽ ﺑﮩﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﮨﺮ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻓﺨﺮ ﮨﮯ۔
-
میری غیر فطری سوچ نے تین نسلوں کو خوار کر دیا
ان دنوں میں مدینہ منورہ میں مقیم تھا۔ عصر کی نماز پڑھی، مسجدِ نبوی سے باہر نکلا اور شارع سِتیّن پر چل پڑا۔ گاڑی پارکنگ میں چھوڑ دی۔ بازار میں کاروباری رونق اپنے عروج پر تھی۔ میں دکانوں میں جھانکتا کشاں کشاں ایئر لائنز کے دفتر پہنچ گیا۔ یہی عالیشان دفتر میری منزل تھا۔ دروازے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ مجھے احساس ہوا جیسے کوئی مجھے پکار رہا ہے۔ گھوم کر دیکھا تو ایک اجنبی کو مخاطب پایا۔ کون تھا وہ، میں نہیں جانتا، پہلی بار آمنا سامنا ہوا تھا۔ چند لمحے میں اس کی طرف دیکھا۔ درمیانہ قد، گٹھا ہوا جسم، سانولی رنگت، آنکھوں پر چشمہ مگر چہرے پر اکھڑ ڈھٹائی کا عنصر نمایاں۔ مجھے محوِ حیرت پا کر وہ شخص میرے قریب آ یا اور یوں گویا ہوا۔ ’’صاحب، کیا آپ پاکستانی ہیں؟‘‘ وہ اعتماد رکھتا تھا کہ میں ’’ہاں‘‘ میں جواب دوں گا۔ میں نے سچ بول دیا۔اس میں حرج بھی کوئی نہیں تھا مگر جلد ہی احساس ہوا کہ میں کسی مشکل میں پھنس گیا ہوں۔ ’’گاڑی ہو گی، آپ کے پاس؟‘‘ اس نے دوسرا سوال جڑ دیا۔’’جی ہاں۔‘‘ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے مختصر جواب دیا۔’’تو پھر آپ مجھے مدینہ شہر کی اہم زیارتیں کرا دیں۔‘‘ اس نے بلا جھجک کہہ دیا۔ میں تذبذب میں پڑگیا۔ مان نہ مان، میں تیرا مہمان! مجھے اجنبی کے رویے پر اچنبھا سا ہونے لگا۔ مجھے حیرت میں پا کر اس نے فرمائش دہرائی۔ اس دوران میں اپنے حواس مجتمع کر چکا تھا۔ ’’آپ کا تعارف؟‘‘ مجھے پوچھنا پڑا۔ ’’عبدالقدیر۔‘‘ اس نے مصافحہ کرتے ہوئے جواب دیا۔اس نے مجھے بتایا کہ وہ پاکستان کے ایک بڑے ادارے میں راڈارٹیکنیشن تھا۔ پانچ سال قبل ریٹائرمنٹ لے کر خطۂ عرب آ گیا اب وہ کسی عرب شیخ کی مواصلاتی کمپنی میں بطور جونیئر افسر کام کر رہا تھا۔ ساتھ ہی اپنا چھوٹا موٹا کاروبار بھی کر لیتا تھا۔ ظہران میں مقیم تھا۔ حَاجات روائی کے لیے منورہ آیا تھا۔ مسجد نبوی میں عبادت کرنا چاہتا تھا۔ بہرحال میں نے عبدالقدیر کی سیر و عبادت کا مناسب بندوبست کرا دیا۔ ’’کیا میں آپ کے ہاں ٹھہر سکتا ہوں؟‘‘ عبدالقدیر نے مجھے اور بھی مشکل میں ڈال دیا۔خیر میں نے اس کی رہائش کا انتظام بھی کرا دیا۔ پھر اس وعدے کے ساتھ اسے خدا حافظ کہا کہ مغرب کے بعد وہ مجھے مسجدِ نبوی میں ملے گا۔ مجھے احساس ہوا کہ عبدالقدیر بے حد پریشان تھا کیونکہ وہ بار بارخیالوں میں کھو جاتا اور اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے۔ نماز کے بعد ہم دونوں بازارکی طرف نکل گئے۔ میں اسے قریبی مصری ریستوران میںلے گیا۔ مصری باورچی بینگنوں کی بڑی خوش ذائقہ ڈشیں بناتے ہیں۔ باتوں باتوں میں عبدالقدیر نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ وہ اپنے وطن ہی میں تھی۔ دونوں کے 5؍بچے بھی تھے۔ وہ اپنی بیوی کا کوئی جرم نہ بتا سکا۔ عبدالقدیر کی ڈھلتی عمر دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس کے چھوٹے بچے بھی بچپن سے نکل چکے ہوں گے۔ مگر پائوں پر کوئی بھی کھڑا نہیں ہوا ہو گا۔ میں نے معاملہ کریدنے کی کوشش کی مگر وہ کچھ زیادہ بتانے پر آمادہ نہ ہوا۔ میں بھی پرائے معاملے میں دخل دینے کی حدود جانتا تھا، چپ ہو گیا۔ ہم دیگر معاملات پر گفتگو کرتے رہے۔ اگلے روز میں دفتر سے گھر لوٹا ہی تھا کہ عبدالقدیر وارد ہو گیا۔ وہ حد درجہ پریشان دکھائی دیا۔ کوئی لاوا اس کے اندر ہی اندر پک رہا تھا۔ اسے یوں دیکھ کر میں ٹھٹھک گیا۔ اس کی ڈھارس بندھانے کے لیے چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔ حوصلہ پا کر اس نے گفتگو کا آغاز کیا۔ عبدالقدیر نے جو آپ بیتی سنائی، وہ اس کی شخصی کمزوری اور کمزور عادات کی غماز لگی۔ ایک ایسی لڑکی اُس کے اعصاب پر مسلط ہو چکی تھی، جو اس کے ہمرکاب نہیں چل سکتی تھی۔ رشتوں کے بے ہنگم کھیل کی وجہ پیسہ تھا جو عبدالقدیر کے ظرف سے بڑھ کر تھا۔ اس کی باتوں سے میں نے جو کہانی اخذ کی، وہ کچھ یوں تھی۔ مذکورہ لڑکی عرب شیخ کے دوسرے دفتر میں کام کرتی اور بھارت سے تعلق رکھتی تھی۔عبدالقدیر کا آنا جانا دفاتر میں اکثر رہتا۔ لڑکی دبلی پتلی تھی، نام آشا تھا۔ پریشان صورت دکھتی۔ حالات سے مفلوج لگتی۔ اپنی دنیا میں کھوئی رہتی۔ قبول صورت تھی۔ کم آمیز اور سنجیدہ رہتی۔ فقط کام سے کام رکھتی۔ کام میں ماہر تھی۔ عبدالقدیر حیلے بہانوں سے آشا کے ساتھ کلام کر لیا کرتا۔ جب بے تکلف ہونے لگا تو وہ لڑکی پیچھے ہٹ گئی اور پہلو تہی برتنے لگی۔عبدالقدیر ڈھٹائی سے اس کے پیچھے لگا رہا اور اسے مائل کرنے کی سعی کرتا رہا۔ یہ سعی لا حاصل سال بھر سے جاری تھی۔ آخر کار آشا اکتا گئی۔ ایک روز اپنے شیخ کی موجودگی میں لڑکی نے عبدالقدیر کو دفتر بلوایا اور گھٹے دفتری ماحول میں گزارش کی کہ اسے تنہا چھوڑ دے کیونکہ وہ شادی شدہ ہے اور فلرٹ نہیں کرنا چاہتی۔ پھر وہ ہندو ہے اور اپنا دھرم نہیں بدلے گی لہٰذا وہ عبدالقدیر کے لیے بے کار ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ عبدالقدیر نے اگر رویے میں تبدیلی نہ کی تو وہ مجبوراً خود کشی کرلے گی، یا پھر اپنے ابتر حالات میں واپس بھارت سدھار جائے گی۔ اس ملاقات نے شیخ کو بھی پریشان کر دیا۔ پھر اس نے عبدالقدیر کی طرف ہمدردانہ رویہ اپنایا اور رائے دی کہ محترم کو اپنی فیملی خطۂ عرب بلوا لینی چاہیے۔ اس کی مدد کی جائے گی، رہائش گاہ بھی دی جائے گی۔ بدلتی نئی صورت حال میں عبدالقدیر آشا سے چِڑ گیا۔ اس واقعہ کے چند یوم بعد ایک نٹ کھٹ دو شیزہ عبدالقدیر کے دفتر میں آن دھمکی۔ اس نے اپنی ادائوں سے موصوف کو لبھا لیا مگر آنے کا مقصد مخفی رکھا۔ کہا کہ وقتِ شام ساحلِ بحر پر دوبارہ ملے گی۔ عبدالقدیر کھلی ہوئی باچھوں کے ساتھ سرِ شام مقررہ مقام پر پہنچ گیا۔دونوں قریبی ریستوران کی طرف بڑھ گئے۔ بات چیت کے موضوع نے عبدالقدیر کو حیران کر دیا۔ لڑکی نے اپنا نام اوشا بتایا اور تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ آشا کی چھوٹی بہن ہے۔ ایک بڑی ایئر لائنز میں بطور ہوسٹس کام کرتی ہے۔ اس کی باتوں میں بڑا عجز تھا۔ وہ بہن کے سلسلے میں رحم کی اپیل کرنے آئی تھی اور آس رکھتی تھی کہ وہ کامران ٹھہرے گی۔ اس نے عبدالقدیر کو مطلع کیا کہ بڑی بہن آشا شادی شدہ ہے۔ بدقسمتی سے اس کے خاوند کو کالا یرقان ہو چکا اور وہ بسترِ مرگ پر پڑا ہے۔ آشا آخری حربے کے طور پر اپنے خاوند کا جگر ٹرانس پلانٹ کرانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں اسے خطیر رقم کی ضرورت ہے۔ اب خاوند کی محبت میں وہ پردیس کے دھکے کھا رہی تھی۔ محنت بھی بساط سے بڑھ کر کرتی۔ بہت پریشان رہتی ہے۔ وطن میں گھر اسی کی کمائی پر چل رہا ہے۔ وہ اپنے والدین اور ان کے پاس اپنے خاوند کا بڑا سہارا ہے۔ اس کے ساتھ ہمدردی کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ اسے تنہا چھوڑ دیا جائے۔ عبدالقدیر نے باتیں بڑے غور سے سنیں، پھر بولا ’’میں نے آشا کو ترغیب دی تھی کہ مرتے ہوئے خاوند سے چھٹکارا حاصل کر لے اور باعزت میرے گھر آباد ہو جائے مگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی۔ میں تو آج بھی اسی کا بہی خواہ ہوں۔‘‘ عبدالقدیر کی اس بات کے بعد خاموشی طاری ہو گئی۔ ریستوران کی ہلکی روشنیوں میں کھانے کا دور چلتا رہا مگر دونوں افراد کے اطوار میں بے چینی واضح نظر آتی۔ وہ باہمی طور پُر سکون نہیں دِکھتے تھے۔ تیونسی کوفتوں میں مرچیں قدرے زیادہ تھیں۔ رشین سلاد اور فریش لیمن کا رس کار آمد رہا۔ رویوں میں تلخی گھٹتی بڑھتی رہی۔ ’’کیا ہندو دھرم میں دو سگی بہنیں کسی ایک شوہر سے شادی کر سکتی ہیں؟‘‘ عبدالقدیر نے سکوت توڑا۔ اوشا کا دل یکدم مر جھاگیا۔ ’’شاید گنجائش نکلتی ہو۔‘‘ اس نے بڑی مشکل سے جواب دیا۔ ’’تو پھر میں آپ دونوں کے ساتھ اپنا گھر بسانے کو تیار ہوں۔‘‘ عبدالقدیر نے اے سی کا رخ اپنی جانب گھماتے ہوئے پتھر دے مارا۔ اوشا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ آواز حلق میں دبنے لگی۔ آنسو ضبط کرتے ہوئے اس نے اجازت مانگی اور چپ چاپ ٹیکسی میں سوار ہو گئی۔ اس کے جذبوں میں تاسّف نمایاں تھا کہ اس نے عبدالقدیر کے ساتھ کھانا کیوں کھایا؟ دفتر میں آشا کی ہمت اسے تھوڑا سا فائدہ پہنچا گئی۔ عبدالقدیر نے عادات میں کسی حد تک تبدیلی کر لی۔ اسے اب وہ پہلے کی طرح تنگ نہیں کرتا تھا۔ مگر اپنی دلچسپی کی تجدیدکسی نہ کسی بہانے کر لیا کرتا۔ آشا اس کی فریفتگی کا حال جان لیا کرتی۔ معاملہ اسی طور چلتا رہا، پھر حالات میں اچانک تبدیلی آ گئی، کچھ عجب طور پر۔ آشا تیزی سے عبدالقدیر کے قریب آ گئی۔ یہ تغیر دنوںمیں عروج کی سمت بڑھ گیا بلکہ ناقابلِ یقین دکھنے لگا۔ عبدالقدیر نے تقدیر کا کرم سمجھا۔ یقین رکھتا تھا کہ اس نے منزل پالی۔ وہ سوکھے پتے کی طرح آشا کی آغوشِ حیات میں جا گرا۔ انہی دنوں شیخ کی ٹیلی کام کمپنی کو بحرین میں اہم ذمہ داریاں مل گئیں۔ تین ہفتوں کا منصوبہ تھا۔ عبدالقدیر اور آشا، دونوں بحرین جانے والے کارکنوں میں شامل تھے۔ کام تکنیکی تھا۔ دن بھر سر کھجانے کی فرصت بھی نہ ملتی مگر مسا ہوٹل میں شام بارونق ہوا کرتی۔ گروپ کے لوگ اپنے مشاغل بنا لیا کرتے۔ ماحول کے مطابق تفریحی پہلو تلاش کر لیتے۔ آشا اس دوران پوری طرح نکھر آئی تھی۔ سر شام ہی تیار ہو جاتی۔ دلکش میک اپ کرتی اور عمدہ لباس پہنتی۔ عموماً یورپی ملبوسات زیب تن کرتی، جو اس کے جسمانی خدوخال واضح کر دیتے۔ دبلی پتلی ہونے کے ناتے وہ ہر انداز میں خوب جچتی۔ اب وہ عبدالقدیر کے ساتھ رنگین شامیں گزارنے لگی۔ اس کی ادائوں میں رعنائی اور ندرت عبدالقدیر کو لبھاتی۔ دونوں اکثر ساحلِ سمندر کی طرف نکل جاتے۔ وہاں رونق کا سماں ہوتا اور حسبِ خواہش تنہائی بھی۔ کبھی خریداری ہوتی تو کبھی بڑے ہوٹلوں میں کھانوں کے مزے لوٹتے نظر آتے۔ بظاہر یہی لگتا تھا کہ آشا عبدالقدیر کے قریب تر آ چکی اور شاید اپنے بیمار شوہر کو چھوڑ دے گی۔ ان کے متعلق چہ میگوئیاں شروع ہو چکی تھیں۔ عبدالقدیر کی باچھیں ہر دم کھلی رہتیں جب کہ آشا کبھی کبھار بجھ جایا کرتی۔ تین ہفتے گویا تین دنوں میں گزر گئے۔ تکمیلِ کار کی خوشی اپنی جگہ، مگر اکثر کارکن بحرین چھوڑنے پر افسردہ تھے۔ اسی لیے شیخ نے ایک بڑی پکنک کی اجازت دے دی۔ تمام ساتھیوں نے بحرین تا ظہران سفر اس پُل پہ طے کرنے کا فیصلہ کیا، جو بحیرہ احمر کے غَربی حصے پر تعمیر کیا گیا تھا۔ تقریباً 20؍ کلومیٹر لمبا یہ پل عزمِ انسانی اور جدید ٹیکنالوجی کا حسین امتزاج ہے، جس نے زمین کے دو ٹکڑوں کو آمدورفت کے لیے ملا دیا۔ اس پر ہر دم گاڑیاں دوڑتی نظر آتی ہیں۔ گہری شام کے وقت روشنیوں کا سفر سمندر کے حُسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ شیخ نے مناسب جگہ پر ضیافت کا پُر تکلف انتظام بھی کر دیا۔ اسی شام چاند اپنے جوبن پر تھا۔ عبدالقدیر اور آشا گاڑی میں ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ دل مسرور تھے اور ماحول خوبصورت تھا۔ کائنات کا تمام تر حسن سمندر میں سمٹ آیا تھا۔ ستارے آسمان سے اتر کر پانی میں بکھر گئے تھے۔ چاندنی کے طلسم میں آبِ رواں مچل رہا تھا۔ کئی بحری کشتیاں سمندر کی موجوں میں کھیل رہی تھیں۔ چھوٹے بڑے جہاز قرب و جوار میں بندرگاہوں کی سمت بڑھ رہے تھے۔ ’’عبدالقدیر، براہِ کرم مجھے کچھ مدت کے لیے 50؍ہزار ریال دے دیں، کیوں، وجہ نہیں بتا سکوں گی۔‘‘ آشا نے اس وقت کہا جب عبدالقدیر سمندر پر پڑنے والے عکسِ قمر میں کھو کر اس کی شباہت آشا کے سراپے میں ڈھونڈ رہا تھا۔ دم بھر میں عبدالقدیر کے اجلے محبوبانہ تصور کو گرہن سا لگ گیا۔ بحری مدوجزر سمٹ کر اس کے وجود میں بکھر گیا۔ ہن کئی اندیشوں میں غلطاں ہونے لگا۔ کڑے امتحان کا لمحہ آن پہنچا تھا۔ تلاطم کی اسی شدت میں اسے کوئی فیصلہ کرنا تھا اور انہی لمحوں میں وہ پختہ عزم کر چکا تھا۔ فیصلے وہ اس طور ہی کیا کرتا تھا۔ اس نے آشا کی آشا کو لبیک کہہ دیا۔ مسکراہٹ آشا کے چہرے پر رقص کرنے لگی۔ جمع پونجی موجود تھی، ایڈوانس بھی مل گیا، کچھ دوستوں سے لیا، اور یوں آشا کے لیے رقم اکٹھی ہو گئی۔ چند ساعتوں میں مایا ادھر سے ادھر ہو گئی مگر ذہن کے کورے میدانوں میں وسوسوں کے جنگل بھی ابھر آئے۔ واپس دفتر پہنچ کر کارِ دوراں کا انبار عبدالقدیر کی ہستی پر آن گرا۔ اسے بحرین کے پراجیکٹ پر فوری رپورٹ تیارکرنا تھی۔ یہ کٹھن اور دِقت طلب کام تھا۔ بعدازاں اسے ریاض جانا پڑا۔ فرم کے لیے بعض اشیا کی خریداری کرنی تھی۔ وقت اندازوں سے بڑھ کر صرف ہوا۔ تین ہفتے اسی طرح بیت گئے۔ معاملات سلجھانے کے بعد وہ آشا کے دفتر گیا مگر اسے وہاں نہ پایا۔ اس کی جگہ کوئی یمنی کام کر رہا تھا۔ عبدالقدیر پریشان ہو گیا کیونکہ عملے کے دیگر افراد نے اسے ملی جلی اطلاعات دیں۔ بہت سارے خدشات عبدالقدیر کے ذہن میں پیدا ہو گئے۔ شاید وہ کنگال ہو چکا تھا۔ اس کا ماتھا ٹھنکا، اس نے فوری طور پر شیخ کے گھر کی راہ لی۔ شیخ نے آشا کے معاملے میں غیر معمولی پریشانی دیکھ کر اس پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ عبدالقدیر اسے ادھار والے معاملے سے بے خبر رکھنا چاہتا تھا، سوالوں سے پہلو تہی کرتا رہا۔ شیخ سے البتہ اس نے چند باتیں اگلوا لیں۔ آشا بھارت واپس جا چکی تھی۔ چھٹی پر گئی تھی، اصولاً اسے ہفتہ پہلے واپس پہنچ جانا چاہیے تھا۔ یہی وعدہ کر کے وہ گئی تھی۔ اس کا لوٹنا اب مشکل لگتا تھا۔ شیخ کے نزدیک آشا کے یوں غائب ہونے کی وجہ اس کے خاوند کی شدید بیماری ہو سکتی تھی۔ شیخ کی باتیں سن کر عبدالقدیر کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی حالت دیکھ کر شیخ نے اسے گھر جا کر آرام کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن عبدالقدیر سوچوں کے تانے بانے میںالجھ چکا تھا۔ حالات میں اسے فریب کی بو آ رہی تھی، جس باعث اس کی انا بھی بری طرح مجروح ہوئی۔ وہ کسی کو اپنے دکھ میں شریک نہیں کر سکتا تھا۔ پھر کسی نے اسے بتایا کہ آشا اپنے دیس نہیں گئی، بلکہ یہیں کہیں پوشیدہ ہو گئی ہے، اسے ستا رہی ہے۔ عبدالقدیر اہلِ ہند کی روایتی جادوگری پر یقین رکھتا تھا، یہی سمجھتا رہا کہ آشا نے کسی جانور کا روپ دھار لیا ہے اور قریب ہی کہیں موجود رہتی ہے۔ عبدالقدیر نے چھوٹی بہن، اوشا سے بھی رابطے کی کوشش کی مگر اب وہ یورپ اور لاطینی امریکا کی پروازوں پر مصروف تھی۔ عبدالقدیر نے دونوں بہنوں سے رابطوں کے لیے کئی حربے استعمال کیے، مگر ناکام رہا۔ شیخ کے دفتر سے بھی اسے آشا کا مہمل پتا ہی مل سکا۔ اس امر کا اندازہ بہرحال ہو گیا کہ آشا کو بھارت میں تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترداف ہے۔ وہ کسی دُور اُفتادہ گائوں میں رہتی تھی۔ خاوند کی صحت یابی کے بعد نیپال منتقل ہونا چاہتی تھی، جہاں اُس کے کے سسرالی رشتہ دار کثیر تعداد میںمقیم تھے۔ عبدالقدیر اسی پس منظر میںمدینہ منورہ آیا تھا۔ وہ اپنے معبود کے سامنے گڑ گڑا کر مدد لینا چاہتا تھا۔اسے پیسوں کے ضیاع پر قلق تھا مگر وہ اپنے بیوی بچوں کے بارے میں اپنے رویے پر قطعی شرمندہ نہیں تھا۔ کسی وقت وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا۔ کہتا، کہ میں آشا کو قتل کر دیناچاہتا ہوں۔ بدلہ لیے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ بھارت میں سزائے موت پانا چاہتا تھا۔ کبھی رونے لگتا تو اس کی بے بسی انتہا پر نظر آنے لگتی۔ پھر اچانک وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا۔ اس کے ساتھ رابطہ بھی معدوم ہو گیا۔اسی طور کئی ماہ گزر گئے۔ کبھی سوچوں میں آتا مگر پھر گردشِ دوراں کے اوراق سے محو ہوتا گیا۔ کبھی کہانیوں کی تکمیل مقصود ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے ایک روز وہ لوٹ آیا، بالکل اچانک۔ خود ہی میرے گھر چلا آیا۔ اس کا حلیہ بدل چکا تھا۔ ایک جھلک نے عہدِ رفتہ کی کتابیں کھول دیں۔ یادوں سے چند نقوش ابھرنے لگے۔ جونہی میں نے اسے پہچانا، تجسس کے کئی پہلو نمو پا گئے۔ عبدالقدیر بڑا لاغر ہو چکا تھا۔ وقت نے سرعت سے کہانی اس کے چہرے پر لکھ دی تھی۔ جھریوں میں حوادث مزین ہو چکے تھے۔ ریش بڑھ کر بزرگی میں ڈھل گئی تھی۔ اطوار میں ٹھہرائو کہیں زیادہ تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ شدید تنہائی کا شکار رہا ہے۔ بیوی، بچوں سے محروم ہو چکا۔ فکروں نے اسے مایوسی میں دھکیل دیا تھا۔ بولنے پر آیا تو اس کا جذباتی مدوجذر لمحہ لمحہ تغیر میں رہا۔اس نے آشا کا کھوج لگا لیا تھا۔ اس سعی میں اس نے بڑے پاپڑ بیلے۔ کئی ناتے استوار کیے، بہت سے وسیلے بنائے۔ وہ آشا سے ملا مگر اسے قتل نہ کر سکا کیونکہ حالات اس کی توقع کے برعکس نکلے۔ عبدالقدیر آشا کی برادری سے ناروا سلوک کی توقع رکھتا تھا مگر ایسا نہ ہوا۔ وہ گائوں میں کئی افراد سے ملا۔ گائوں والوں نے اس کے ساتھ بڑا تعاون کیا۔ تحقیق کرنے پر اسے جس کہانی کا پتا چلا، وہ طویل اور دکھ بھری تھی۔ تمام معاملات کی شکل کچھ یوں ابھری : آشا بھارت لوٹی تو اس کے خاوند رَوی کی صحت انتہائی خراب ہو چکی تھی بلکہ وہ قریب المرگ تھا۔ آشا نے اسے سنبھالا۔ آشا کو اپنے پتی سے بے حد پیار تھا۔ دونوں لڑکپن کے پریمی تھے۔ باہمی رشتہ داری نسلوں پر محیط تھی۔ شادی نے ان کے جیون میں رنگ بھر دیے۔ روی پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھا، جب کہ آشا نے بی کام کیا تھا۔ ملاپ انہیں تمنا کی تکمیل دکھتا تھا۔ محبت اور محنت کے اوصاف لیے دونوں نے زندگی میں جدوجہد کی تو خوب پھولے پھلے۔ انہیں اپنا گھر خوشیوں سے سجا نظر آتا، جس میں آرزوئوں کے گلاب کھلتے اور ارضی نبات میں مدغم ہو کر خوابوں کی تعبیر دھار لیتے۔ ان کی دنیا جنت نظیر تھی، مگر کبھی دنیائیں زلزلوں کے باعث غارت بھی ہو جاتی ہیں۔ یہی آشا کے ساتھ ہوا۔ اچانک انکشاف ہوا کہ روی کالے یرقان (ہیپاٹائیٹس سی) کا مریض ہے۔ وہ تشخیص کے مراحل سے کبھی نہیں گزرا تھا اور اب بیماری تیزی کے ساتھ پھیل رہی تھی۔ جگر ناکارہ ہوتا نظر آ رہا تھا۔ موت کا قرب تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ شادی کی چھٹی سالگرہ پر معاملات حد درجہ خراب لگے۔ روی کو آپریشن کے لیے بڑے ہسپتال لے جایا گیا۔ بھائی نے اپنے جگر کا حصہ عطیہ کیا اور اس کا معاوضہ بھی لے لیا۔ آشا اور اس کے دیور کی قربانی سے روی کی جان بچ گئی۔ سرجری کے اخراجات دینے کے علاوہ آشا نے شوہر کی خدمت بھی کی جو بساط سے بڑھ کر تھی۔ کڑے حالات میں اُس نے ہمت جواں رکھی، حتیٰ کہ روی زندگی میں لوٹ آیا۔ وقت کے ساتھ روی میں قوت لوٹنے لگی۔ میاں بیوی یکجا ہوئے تو کارِ حیات میں نئی راہیں تلاش کرنے لگے۔ روی کے رشتہ دار نیپال میں کاروبار کرتے تھے۔ انھوں نے آشا اور روی کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ ماہ و سال گزرنے لگے۔ ایک عرصہ تک آشا کی زَورقِ حیات پُر سکون لہروں پر چلتی رہی، پھر اسے طوفانی تھپیڑوں نے آن لیا۔ آشا کی عمر بڑھ رہی تھی مگر اس کے ہاں اولاد پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس پر انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئیں۔ محرومی کی اُفتاد پڑنے پر آشا بے بسی محسوس کرنے لگی۔ مندر مندر گھوما کرتی۔ سنیاسیوں کے پاس بھی گئی مگر اس کی گود ہری نہ ہو سکی۔ گو شفا خانے اسے صحت مند قرار دیتے، پھر بھی تکمیلِ تمنا کا سراب برسوں پر پھیل گیا۔ پتی کا پیمانۂ صبر لبریز ہوتا گیا۔ باہمی جھگڑے طوالت پکڑنے لگے۔ تلخیاں بلا خیزی تک بڑھنے لگیں۔ اس کشمکش میں دونوں واپس بھارت آ بسے، مگر باہم فاصلے نہ سمٹ سکے جلد ہی دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ گزراوقات کے لیے آشا نے بینک میں ملازمت کر لی۔ تنہائی میں وقت کا پہاڑ دھکیلنے لگی۔ اس نے دنوں کا حساب رکھنا چھوڑ دیا۔ بس مصروف ِکار رہتی، صبح تا شام آس رکھتی کہ زندگی یونہی گزر جائے گی، مگر نصیب میں لکھا کون ٹال سکتا ہے؟ جس بینک میں آشا کام کرتی تھی، فراڈ کا شکار ہو گیا۔ آشا والی برانچ میں بڑے پیمانے پر غبن ہوا۔ اس کا نام بھی مشکوک ملازمین میں آ گیا۔ الزام تھا کہ اس نے مجرموں کی اعانت کی ہے۔ آشا الزام سے انکار کرتی رہی مگر صور ت حال سے نجات نہ پا سکی۔ معطلی کے بعد اس کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی۔ جلد ہی کیس عدالت میں چلا گیا۔ آشا اپنا مقدمہ سمجھ بوجھ سے نہ لڑ سکی۔ مؤثر دفاع کی عدم موجودگی میں اسے بھی سزا دے دی گئی۔ وہ 3؍ سال کے لیے جیل چلی گئی۔ جیل میں وہ واحد خاتون تھی، جس کا کوئی ملاقاتی نہ آتا۔ اس کی صحت بری طرح گرنے لگی۔ وہ کھانا پینا اور معمولات بھُول گئی۔ اس کی شخصیت مسخ ہونے لگی، پھر اس پر پاگل پن کے دورے پڑنے لگے، جو شدید تر ہوتے چلے گئے۔ کچھ عرصہ جیل میں علاج ہوتا رہا، آخر اسے پاگل خانے بھیج دیا گیا۔ عبدالقدیر آشا کے گائوں پہنچا تو کئی افراد سے ملا۔ انہی کی وساطت سے وہ پاگل خانے آشا سے ملنے گیا۔ آشا اسے نہ پہچان سکی۔ اس کا ایک ہی روپ تھا، جو بار بار نظر آتا۔ وہ ہر کسی سے معافی مانگتی۔ ہر کسی کے مقابل ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو جاتی۔ کبھی گڑ گڑانے لگتی اور قدموں میں ڈھیر ہو جاتی۔ سسکنے لگتی۔ دیکھنے والوں کو اس پر ترس آتا۔ وہ کئی بیماریوں کی مریضہ لگتی تھی۔ عبدالقدیر نے کہانی ختم کی تو بُری طرح رونے لگا۔ میں نے اُسے تسلی دی۔ سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ دیر تک اداس بیٹھا رہا، پھر رندھی ہوئی آواز میں بولا: ’’محترم آپ نہیں جانتے، پیچھے وطن میں آج میری بڑی دختر کی شادی ہے۔‘‘ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس سے پہلے کہ مبارک دیتا، وہ بول اُٹھا: ’’میں نے واسطہ طور پر بیٹی کو پیغام بھیجا تھا کہ میں تمھاری ماں کا مجرم ہوں مگر اتنی اجازت دے دو کہ نئے گھر جاتے ہوئے میں اپنا دستِ شفقت تمھارے سر پر رکھ سکوں اور اپنی تمنائوں کا ملبوس پہناتے ہوئے تمھیں رخصت کروں۔‘‘ عبدالقدیر کی آواز حلق میں رندھنے لگی۔ آنسو اس کی آنکھوں سے اُبل پڑے۔ بولا۔ ’’بیٹی نے جواب دیا ہے کہ امی کے تو مجرم ہیں ہی، آپ میرے بھی قصور وار ہیں۔ اگر آپ کا دستِ شفقت میرے سر پر رہتا تو مجھے تعلیم نامکمل چھوڑ کر سکول میں ملازمت نہ کرنا پڑتی۔ دربدر دھکے نہ کھانے پڑتے۔ اپنا جہیز خود نہ بنانا پڑتا۔ اگر رشتوں سے اعتماد کی روح نکل جائے تو وہ بے جان ہو جاتے ہیں اور عملاً بے معنی کہلاتے ہیں۔ مجھے اس دستِ شفقت کا کیا فائدہ، جسے میری اکائی کا بھی احساس نہ رہا؟‘‘ یہ کہہ کر عبدالقدیر سسکیاں بھرنے لگا۔ اس کے ہونٹ لرزنے لگے۔ پھر وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا اور اونچی آواز میں روتے ہوئے بولا۔ ’’میری ماں بھی رُوٹھ کر کہتی ہے کہ میں اُس کے حقوق و فرائض سے کوتاہی برت رہا ہوں۔ اس کی بیوگی اپنی چادر تلے نہیں ڈھانپ سکا۔ آج وہ اپنی بہو کی جزوی دستِ نگر بن چکی اور بہو کو مجھ سے افضل گردانتی ہے۔ مجھ سے بڑھ کر رسوا شخص اور کون ہو گا، اپنا دشمن کہلانے کو؟‘‘ الفاظ عبدالقدیر کے لبوں پر ٹوٹنے لگے۔ میری اپنی آنکھوں میں بھی آنسو اُمڈ آئے۔ ’’جب قدرت ہمیں کسی خاندان کی سربراہی عطا کرے تو ہمارے دانشمندانہ یا غیر دانشمندانہ فیصلے 4؍ نسلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں… موجودہ نسل، ایک پچھلی اور دو اگلی نسلوں پر۔‘‘ میری غیر فطری سوچ نے تین نسلوں کو خوار کر دیا--------------
-
New Member
Welcome dear
-
حب الوطنی
آج ایک منظر دیکھ کر مجھے اپنی حب الوطنی پر شرم آنے لگی ۔ میں اپنے آپ کو بہت بڑا محب وطن سمجھتا تھا لیکن آج مجھے اپنا آپ بہت چھوٹا نظر آیا میں مارکیٹ میں مرغی کا گوشت خریدنے گیا ۔ دکاندار میرا گوشت بنانے لگ گیا ۔ وہاں پر ٹی وی چل رہا تھا میں وقت گزاری کے لیے ٹی وی کی طرف متوجہ ہوا ٹی وی پر کوئی انڈین نیوز چینل چل رہا تھا جو کہ سربجیت سنگھ کی ہلاکت پر پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا تھا مجھے انکی باتیں سن کر غصہ آیا لیکن میں مجبورا" کھڑا سنتا رہا اتنے میں ایک پٹھان بزرگ جن کی سفید داڑھی تھی سر پر لکڑیاں اٹھائے پھٹے پرانے کپڑے پہنے کچھ گوشت لینے آئے ۔ وہ بھی لکڑیاں رکھ کر ٹی وی دیکھنے لگے تھوڑی دیر بعد جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ٹی وی چینل پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے تو انکا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا اور انہوں نے اپنا بھاری جوتی اتار کر ٹی وی پر دے ماری جس سے ٹی وی سکرین چکنا چور ہوگئی ہم سب حیران رہ گئے دکاندار نے ان خان صاحب کو پکڑ لیا اور اپنے نقصان کا مطالبہ کرنے لگا ، خان صاحب نے پوچھا کہ کتنے پیسوں کا تھا تمہارا ٹی وی ۔ دکاندار نے کہا کہ 3000 کا ۔ انہوں نے اپنی جیب سے ایک بوسیدہ سی کپڑے کی تھیلی نکالی جس میں نہ جانے وہ کب سے اور کس طرح محنت کرکے پیسے جمع کر رہے تھے اور 3000 روپیہ نکال کر دکاندار کو دے دیا اور کہا کہ آج کے بعد ایسا کوئی چینل نہ لگانا جس میں میرے ملک کے خلاف بکواس کی جا رہی ہو اگر تم نے دوبارہ یہ چینل لگایا تو میں پھر تمہارے ٹی وی کو توڑ دوں گا کوئی میرے پیارے ملک کے خلاف بات کرے میں یہ برداشت نہیں کرسکا یہ باتیں کہہ کر انہوں نے اپنی لکڑیاں سر پر رکھی اور چلے گئے میرا دل کیا کہ آگے بڑھ کر انکے ہاتھ چوم لوں لیکن میں نم آنکھوں سے انکو جاتا ہوا دیکھتا رہا آج مجھے پتہ چلا کہ حب الوطنی کس کو کہتے ہیں
-
حاملہ‘مرد کو طلاق کا حق دینے سے انکار
Nice sharing sir g
-
خواتین بہت چالاک ہوتی ہیں، ان سے زیادہ ہوشیاری اچھی نہیں۔۔۔
Hahahahaha buhat shandar
-
راجھستان میں ماؤں کے دودھ کا بینک
Ek or Dhoka Dahi ka kaam shuroo ho gia
- کمپیوٹر ہیلپ لائن پر آنے والی کچھ کالز
-
کمپیوٹر ہیلپ لائن پر آنے والی کچھ کالز
ہیلپ لائن:? السلام علیکم۔ دس از ہیلپ لائن کسٹمر: مجھے یہ بتائیے کہ میں?اس پروگرام کو کیسے انسٹال کروں۔ یہ میرے نئے موبائل فون کے ساتھ آیا ہے۔مجھے صرف تھوڑی سی رہنمائی چاہئے۔ مجھے پہلے سے کافی معلومات ہیں۔ میں?کمپیوٹرڈیپارٹمنٹ میں?کام کرتا ہوں۔ ہیلپ لائن: سب سے پہلے سر آپ اس پروگرام کی سی ڈی کو کمپیوٹر میں?لوڈ کریں۔ اور پھر “مائی کمپیوٹر“کو کھولیں۔ کسٹمر:?یہ آپ کیا کہ رہے ہیں؟میں?کیسے آپ کے کمپیوٹر کو کھول سکتا ہوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلپ لائن:?ابھی آپ اپنا پاس ورڈ لکھیں۔ اے بڑے حروف میں، ایف چھوٹے حروف میں اور پھر سات کا ہندسہ۔ کسٹمر:?جی میں?سمجھ گیا۔ ویسے کیا یہ سات کا ہندسہ بھی بڑے حروف میں لکھنا ہے یا چھوٹے میں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ کسٹمر:?میں?انٹر نیٹ سے منسلک نہیں?ہو سک رہا۔ یہ پاس ورڈ کا مسئلہ دیتا ہے۔ ہیلپ لائن: جی کیا آپ کو یقین ہے کہ پاس ورڈ درست ہے؟ کسٹمر: جی، میں?نے اپنے دوست کو یہی پاس ورڈ لکھتے دیکھا تھا۔ ہیلپ لائن:?جی کیا مجھے وہ پاس ورڈ بتائیں گے؟ میں لسٹ سے چیک کر کے بتاتی ہوں۔ کسٹمر: پانچ بار ستارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسٹمر: ایک بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے۔ میرے دوست نے مجھے ایک سکرین سیور انسٹال کر کے دیا ہے۔ویسے تو یہ صحیح کام کرتا ہے مگر جونہی ماؤس ہلاتا ہوں، وہ غائب ہو جاتا ہے۔
-
وقت کی قیمت
باپ رات کو دیر سے گھر لوٹ آیا۔ مسلسل کام کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ اور چڑچڑاپن محسوس کر رہا تھا۔ اس کا کم سن بیٹا اس کے انتظار میں دروازے کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ باپ کے بیٹھتے ہی بیٹے نے کہا ابو! کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟ ہاں بیٹا! کیوں نہیں، پوچھو۔ ابو آپ ایک گھنٹے میں کتنا کماتے ہو؟ باپ نےغصے سے کہا یہ سوچنا تمہارا کام نہیں۔ اس طرح کا سوال تمہارے ذہن میں آیا کیسے؟ بیٹا بولا بس یوں ہی، میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ ایک گھنٹے میں کتنا کما لیتے ہو؟ باپ: اگر تم ضروری جاننا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے۔ (سوچتے ہوئے) 500 روپے۔ بیٹا: او ہو۔۔۔ ۔ (کہتے ہوئے مایوسی سے اپنا سر جھکا لیا پھر اچانک اس کے ذہن میں کوئی بات آئی تو اس نے سر اٹھا کر کہا ابو! کیا آپ مجھے 250 روپے قرض دو گے؟ باپ کا پارا ایک دم چڑھ گیا۔ "کیا تم مجھ سے صرف اس وجہ سے پوچھ رہے تھے کہ کسی گھٹیا کھلونے یا اس طرح کی دوسری چیزیں خریدنے کے لیے مجھ سے قرض مانگ سکو تو بہتر یہی ہے کہ جاؤ اپنے کمرے میں اور بستر پر سو جاؤ۔ اس طرح کی چھچھوری حرکت کرتے ہوئے تمہیں ذرا بھی احساس نہیں ہے کہ تمہارا باپ ایک گھنٹے میں اتنے پیسے کتنی مشکل اور خون پسینہ بہا کر حاصل کرتا ہے۔" بیٹا خاموشی سے مڑا اور اپنے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا۔ باپ صوفے پر بیٹھ گیا۔ ابھی تک غصے سے بیٹے کے اس حرکت کے متعلق سوچ رہا تھا کہ کیوں اسے مجھ سے اتنے پیسے مانگنے کی ضرورت پڑ گئی؟ گھنٹے بھر بعد جب اس کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا پڑ گیا تو دوبارہ سوچنے لگا۔ ہو سکتا ہے کہ اسے کسی بہت ضروری چیز خریدنا ہے جو کہ مہنگا ہوگا اس لیے مجھ سے اتنے پیسے مانگ رہا تھا۔ ویسے تو اس نے کبھی مجھ سے اتنے پیسے نہیں مانگے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے وہ بیٹے کے کمرے کی طرف بڑھا اور دروازہ کھولا اور پوچھا کیا تم سو گئے بیٹا؟ بیٹا اٹھ کر بیٹھ بیٹھا اور کہا نہیں ابو! جاگ رہا ہوں۔ باپ: مجھے لگتا ہے کہ میں نے تم سے کافی سختی سے پیش آیا۔ دراصل آج میں نے بہت سخت اور تھکا دینے والا دن گزارا ہے۔ اس لیے تم پر ناراض ہو گیا۔ یہ لو 250 روپے۔ بیٹا (خوشی سے مسکراتے ہوئے): بہت بہت شکریہ ابو! واؤ۔ ایک ہاتھ میں پیسے لے کر دوسرے ہاتھ کو اپنے تکیے کی طرف بڑھایا اور جب اپنا ہاتھ تکیے کے نیچے سے نکالا تو اس کی مٹھی میں چند مڑے تڑے نوٹ دبے ہوئے تھے۔ دونوں پیسے باہم ملا کر گننا شروع کیا۔ گننے کے بعد باپ کی طرف دیکھا۔ باپ نے جب دیکھا کہ بیٹے کے پاس پہلے سے بھی پیسے ہیں تو اس کا غصہ دوبارہ چڑھنا شروع ہو گیا۔ باپ: جب تمہارے پاس پہلے ہی سے اتنے پیسے ہیں تو تمہیں مزید پیسے مانگنے کی کیوں ضرورت پڑ رہی ہے؟ بیٹا: دراصل میرے پیسے کم پڑ رہے تھے لیکن اب پورے ہیں۔ اب میرے پاس پورے 500 روپے ہیں۔ (پیسے باپ کی طرف بڑھاتے ہوئے) ابو! میں آپ سے آپ کا ایک گھنٹہ خریدنا چاہتا ہوں۔ پلیز کل آپ ایک گھنٹہ پہلے آ جائیے گا تاکہ میں آپ کے ساتھ کھانا کھا سکوں۔ باپ سکتے میں آ گیا۔ بانہیں پھیلا کر بیٹے کو آغوش میں لے لیا اور گلوگیر آواز سے اس سے اپنے رویہ کی معافی مانگنے لگا۔ ذرا سوچئے! کہیں ایسا تو نہیں کہ زندگی کی روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں آپ بھی اپنے بچے یا دوسرے گھر والوں کو وقت نہ دے پا رہے ہوں؟
-
۔۔اَنگوٹھے کی کمائی۔۔۔
میر ی یا داشت کے کِسی خانے میں اِس سے زیادہ وسیع میدان کا منظر نہیں تھا۔تا حدِّ نِگاہ سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔جی ہاں میں میدانِ حشر میں کھڑا تھا۔مرد و زن کی اکثریت خُود کلامی کے اَنداز میں اپنیے سر جھٹک رہی تھی۔میں بھی دِل ہی دِل میں اپنی دُنیا میں گُزری زندگی کا جائزہ لیے جا رہا تھا۔مُجھے اپنے کندھے کُچھ ہلکے محسوس ہو رہے تھے کیونکہ کِراماً کاتبین یعنی میرے دائیں اور بائیں کندھوں پر متعیّن فرشتے بھی آج پہلی بار میرے پہلو میں کھڑے تھے۔یہ دیکھ کر میں پُھولے نہیں سما رہا تھا کہ میرے دائیں ہاتھ پہ کھڑے فرشتے کے سامنے مُجھ سے متعلق کھاتوں کا ایک انبار لگا تھا۔میرے لئے یہ منظر کُچھ زیادہ غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ میں نے دُنیاوی زندگی حتی المقدور شریعت کے مطابق گُزاری تھی۔ میرے بائیں ہاتھ پہ کھڑے فرشتے کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کاپی تھی جس سے میرے لیے یہ اَخذ کرنا کُچھ زیادہ مُشکل نہیں تھا کہ میرے صغیرہ کبیرہ گُناہوں کی تعداد بہت کم تھی۔مُجھے اپنی کامیابی یقینی نظر آ رہی تھی لیکن حتمی نتیجہ سامنے آنے کا اِنتظا ر ضروری تھا۔اچانک ایک عجیب واقعہ ہوا۔اُس ہجوم میں سے ایک فرشتہ نمودار ہوا اور اُس نے ایک رجسٹر میرے بائیں ہاتھ والے فرشتے کے سامنے رکھ دیا۔شش و پنج میں مُبتلا میں اِس کی وجہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک اور اجنبی فرشتے نے 2 رجسٹر میرے بائیں ہاتھ والے فرشتے کے سامنے رکھ دیے۔اور پھر یہ سِلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔فرشتے آتے رہے اور میرے بائیں ہاتھ پر کھاتوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہوتا چلا گیا۔میرے اندر احتجاج کا ایک طُوفان مچلنے لگا۔میں نے بائیں ہاتھ والے فرشتے کو مُخاطب کرتے ہوئے حیرت سے پُوچھا جناب یہ سب کیا ہے؟اِن کھاتوں میں کِس کے گناہ ہیں۔جناب یہ سب بھی آپ کے گُناہ ہیں۔فرشتے نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔لیکن اِن میں ہے کیا؟میری آواز کافی بلند تھی۔جناب یہ آپ کی طرف سے بھیجے گئے گندے،غلیظ،اورفحاشی پھیلانے والے sms ہیں۔میرے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک چُکی تھی۔میں نے جب اپنے حافظے پر زور دیا تو یاد آیا کہ میں تو صِرف ایک ہی جِگری دوست کو اِس طرح کےMessages فارورڈ کیا کرتا تھا۔اگر یہ میر ے ہیں تو آپ نے کیوں نہیں لِکھے؟یہ دُوسرے فرشتے کیوں لا رہے ہیں؟میں نے احتجاجی لہجے میں فرشتے سے پُوچھا۔جی آپ جو Messageفارورڈ کیا کرتے تھے وہ میری اِس کاپی میں درج ہیں۔لیکن آپ جِس دوست کو فارورڈ کیا کرتے تھے اُس کے پاس 300 دوستوں کا پُورا گروپ تھا۔آپ کا بھیجا ہوا Message وہ اپنے گروپ کو فارورڈکرتا تھا اور اُس گروپ کا ہر ممبر اپنے گروپ کو۔اس طرح یہ سفر اُس وقت تک چلتا رہتا جب تک وہMessage پُرانا نہ ہو جاتا۔آج وہ سب آپ کے فارورڈ کیے ہوئے Message واپس آپ کو فارورڈ کر رہے ہیں اِسی لئے آپ کے بائیں ہاتھ کھاتوں کے پہاڑ کا حُجم لمحہ بہ لمحہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔مُجھے اپنے جسم کے ہر مسام سے پسینے کے چشمے پُھوٹتے صاف محسوس ہو رہے تھے۔مین نے بھی خُود کلامی کے اَنداز میں اَپنا سر جھٹکنا شُروع کر دیا۔اَچانک میرا سر کِسی سخت چیز سے ٹکرایا۔درد کی ایک تیز لہر میرے سر میں دوڑ گئی۔میرا سر اپنے لکڑی کے بیڈ کے سرہانے سے ٹکرایا تھا۔ میں پسینے میں شرابور اپنے بیڈ پر پڑا تھا۔رات کے تین بج رہے تھے۔میں نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اُٹھایا۔اِس وقت بھی میرے دوستوں کی طرف سے فارورڈ کئے گئے 13 عدد Message میری توجہ کے مُنتظر تھے۔
-
پاکستان کی آبادی کم کرنے کے پیچھے کیا سازش ہے؟
تحریر©: علی عمران شاہین ہمارا سب سے بڑا مسئلہ تیزی سے بڑھتی آبادی ہے.... اسے روکنے کیلئے آج ہم 13نکاتی ایجنڈے پر بحث کریں گے.... اور پھر ملک بھر کے نامور ماہرین، ڈاکٹرز، سابق وفاقی و صوبائی وزراءوغیرہ نے گفتگو شروع کی۔ ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ کہ جیسے ہو بچے کم کئے جائیں.... بڑھتی آبادی کی رفتار کو کم کیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ملک کے بڑے فائیو سٹار ہوٹل میں روزنامہ جنگ کے زیر اہتمام جاری گول میز کانفرنس کی یہ بحث کافی دیر سے جاری تھی کہ اسی دوران جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ تشریف لائے اور چند منٹ شرکاءکی گفتگو سننے کے بعد گویا ہوئے.... آپ لوگ ایسے پروگراموں میں ہمیں بھی مدعو کر لیتے ہیں.... پھر ہمارا مو¿قف سننے یا سمجھنے کے بجائے ”یس یا نو“ کے ذریعے فیصلہ سنا کر ہمارا نام بھی ڈال دیتے ہیں۔ لیکن آج میں اپنا مو¿قف بیان کرنا چاہتا ہوں۔ پھر بولے، ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے ہمیں نہ کوئی شکوک ہیں نہ شبہات۔ ہم تو خود اس کے حق میں ہیں کہ دونوں کو صحت مند ہونا چاہئے لیکن آپ لوگوں نے جس طرح آبادی کے بڑھنے کو سب سے بڑا قومی مسئلہ بنالیا ہے یہ بالکل غلط ہے۔ ملک کے دیگر مسائل اصلی اور حقیقی ہیں۔ کرپشن، اندھی لوٹ مار اور ملکی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ ملک میں روزانہ اربوں کی کرپشن ہو رہی ہے، لوڈ شیڈنگ نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ انتہائی غریب سے تو جبراً ٹیکس لیا جاتا ہے لیکن 5ارب کا گھر بنانے والا ہر طرف سے مستثنیٰ ہے۔ کیسی بات ہے کہ کرپشن ختم کرکے اصل مسائل حل کرنے، وسائل کو درست طریقے سے استعمال کرنے کے بجائے آبادی کو ہی کم کرنے پر سارا زرو دیا جا رہا ہے۔ زیادہ آبادی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ چین نے ترقی کی تو زیادہ آبادی سے اور آج وہ ایک بچے کے حوالے سے عائد پابندی بھی ختم کر رہے ہیں۔ دیگر ممالک جنہوں نے آبادی روکنے کیلئے اقدامات کئے تھے آج وہ بھی اس حوالے سے سخت پریشان ہیں کہ وہ کیا کر بیٹھے ہیں (اس سے تو ان کی نسلیں مٹ رہی ہیں) اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اسے سب سے بڑا مسئلہ نہ بنایا جائے اور اصل مسائل پر غور کر کے انہیں حل کیا جائے.... پراچہ صاحب کے چند جملوںسے ہال میں سناٹا چھا گیا.... اور کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اس پر پروگرام کے اس حصے کی میزبان (ہوسٹ)جو ایک انتہائی فیشن ایبل ڈاکٹر خاتون تھی، نے اتنا کہا ”پھرکیا ہم آبادی کو بڑھنے دیں؟“ پراچہ صاحب پھر بولے ، آپ میری بات سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے....؟ اس کی طرف توجہ کریں۔ اس کے بعد سابق وفاقی وزیر اور ق لیگ کی رہنما ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ نے کہا کہ ”کرپشن بھی زیادہ آبادی سے ہی ہوتی ہے۔“ اس پر فرید پراچہ بولے .... یہ بالکل غلط ہے۔ کرپشن کرنے والوں کے خاندان تو محض تین افراد پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یوں اب سب لاجواب تھے۔ اس کے ساتھ ہی پروگرام کے مرکزی میزبان جن کا نام واصف ناگی ہے اور جو بچوں کی پیدائش کم کرنے کے لئے سرکاری ملازمین کی ترقی اور تنخواہ روکنے کے مشورے دیتے ہیں،کی زبان بھی گنگ ہو چکی تھی اور وہ کہنے پر مجبور تھے ”جو نکات پراچہ صاحب نے اٹھائے ہیں وہ بھی بہت ٹھوس Valid ہیں“ بحث جاری رہی اور13 نکات بڑھ کر 15ہو گئے جن پر سب لوگوں نے دستخط کئے لیکن ڈاکٹر فرید پراچہ دل کی بات بول کر چلے گئے تھے۔ اگلے روز جب روزنامہ جنگ میں خبر چھپی تو ”آبادی کا بڑھنا سب سے بڑا مسئلہ“ تھا اور پراچہ صاحب کا بیان کاٹ چھانٹ کر رکھ دیا گیا تھا۔ اسی ادارے نے اس کے تین دن بعد اپنے ٹی وی چینل جیو پر گریٹ ڈیبیٹ کے نام سے اسی موضوع پر پروگرام منعقد کیا جس میں موجودہ الیکشن میں حصہ لینے والی بڑی پارٹیوں کے قائدین کو مدعو کیا گیا تھااور ان سے ایک ہی سوال دہرا دہرا کر کیا جا رہا تھا کہ بتاﺅ! اقتدار میں آنے کے بعد آبادی کو کم کرنے کے لئے آپ کیا کریں گے۔اگرچہ یہاں بات کو تھوڑا گھما کر بیان کیا جا رہا تھا اور اسے ماں کی صحت کا مسئلہ بھی قرار دیا جا رہا تھا لیکن اصل نیت پھر بھی پوری طرح واضح تھی کہ جیسے بھی ہو آبادی کو ہی کنٹرول و کم کیا جائے۔ یہ تو ایک تمہید ہے لیکن ترقی کے لئے آبادی کم کرنے کا نظریہ رکھنے اور اس کی دن رات ترویج کرنے والے ان لوگوں کی ساری باتیں بھی ہمیشہ ہواﺅں، خلاﺅں میں ہی محسوس ہوتی ہیں کیونکہ یہ لوگ ترقی کیلئے آبادی کم کرنے کا جو فارمولا جس طرح پیش کرتے ہیں وہ تو آج ساری دنیا میں ناکام بلکہ نامراد ہو چکا ہے۔ پاکستان میں آبادی کم کرنے کا نظریہ اور فکر جنرل ایوب خان کے دور میں آئی اور اسے لانے والی آج کی طرح اس وقت بھی غیر ملکی حکومتیں اور این جی اوز تھیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ انگریز ملکوں کے علاوہ جاپان، سنگاپور اور روس وغیرہ میں بھی یہ نظریہ تقریباً سو سال پہلے سامنے آیا تھا لیکن آج کل وہاں اس حوالے سے صورتحال اس قدر خوفناک اور گھمبیر ہے کہ وہاں کی حکومتیں بچوں کی پیدائش پر خصوصی مراعات دے رہی ہیں لیکن بچے پیدا نہیں ہو رہے،یوں معاشرے پہلے بوڑھے ہو رہے ہیں اور پھر ناپید۔ کچھ عرصہ پہلے انہی لوگوں کے اسی عنوان سے منعقدہ ایک اور پروگرام میںایک یونیورسٹی” پروفیسر ڈاکٹر“ نے اعتراف کیا کہ آج براعظم یورپ کے تقریباً سبھی ممالک آبادی خصوصاً نوجوانوں کی شدید قلت کا شکار ہیں اور انہیں افرادی قوت مہیا کرنے والا ملک ترکی ہے جہاں کے لوگوں نے اب سارے یورپ کا نظام سنبھالنا شروع کر رکھا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی موصوف کا طے شدہ جملہ تھا کہ ”آبادی کم ہو جانا یورپ کا مسئلہ ہے، ہمارا مسئلہ تو آبادی کا بڑھنا ہے“۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ترقی کیلئے آبادی کو کم کرنے والوں کے پاس دلائل کس قدرکمزوراور بے بنیاد ہیں۔ دنیا کا ایک بڑا اور ترقی یافتہ ملک آسٹریلیا ہے، جو رقبہ کے لحاظ سے پاکستان سے کم از کم دس گنا بڑا اور آبادی میں دس گنا چھوٹا ہے۔ تعلیم کی شرح بہت زیادہ ہے، اسی لئے وہاں کی عورتیں دوسرا بچہ پیدا کرنے کا سوچتی بھی نہیں۔ آسٹریلیا نے اس پر قابو پانے اور کم از کم 3بچوں کے خاندان کو رواج دینے کے لئے چند سال سے ایک مہم چلائی جس کا ماٹو تھا: ”ایک امی کیلئے، ایک ابو کیلئے، ایک ملک کیلئے“ پھر والدین کے لئے مراعات کا اعلان ہوا لیکن بچے کون پیدا کرے؟ کیونکہ سو سال سے تو عوام خصوصاً عورتوں کو الٹی پٹی پڑھائی جاتی رہی ہے۔ سو آج آسٹریلیا اپنے ہاں باہر کے لوگوں کو ترجیحاً بلاتا اور انہیں شہریت دیتا رہا ہے۔ 22اکتوبر 2012ءکو یورپ کے ایک بڑے جریدےThe Fiscal Times نے رپورٹ دی کہ یورپ کا اگلا بڑا بحران بوڑھی آبادی ہے۔ جریدے نے لکھا کہ بچوں کی شرح پیدائش شہریوں کی اموات سے کم ہو چکی ہیں اور اب ہر طرف خوف طاری ہے کہ ہماری آبادیاں ہی مٹ رہی ہیں تو ہمارے ملک کہاں جائیں گے....؟ اسی یورپ کا طاقتور و امیر ترین ملک فرانس ہے۔ یہاں حکومت نے نہ صرف بچوں کی پیدائش و نگہداشت کا سارا خرچ اٹھا رکھا ہے بلکہ تیسرے بچے کی پیدائش پر ہر ماں کو ایک سال کی چھٹی مع تنخواہ دی جاتی ہے۔ حکومت 2005ءسے ہر بچے کی مکمل نگہداشت کے علاوہ والدین کو ماہانہ 750یورو (لگ بھگ ایک لاکھ روپے پاکستانی) بھی دیتی ہے۔ آج کل یورپ کے وہ ملک جنہیں فرانس نے بغیر ویزے کے آنے جانے کی اجازت دے رکھی ہے ،وہاں کے لوگ تیسرا بچہ پیدا کرنے کے لئے فرانس آ رہے ہیں۔ اس پر بی بی سی ورلڈ نے 2008ءمیں ایک تفصیلی رپورٹ دی تھی۔ یوںتین بچوں والے والدین، بچے اور حکومت سب خوش ہیں۔ دنیا میں روس آج بھی رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے جبکہ آبادی محض 14کروڑ 33لاکھ ہے۔ ملک کے پاس وسائل تو بہت ہیں لیکن آبادی نہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کچھ عرصہ پہلے عوام کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا کہ وہ کم از کم تین بچے ضرور پیدا کریں تاکہ کچھ نہ کچھ تو آبادی میں اضافہ ہو ورنہ تو ملک میں اب بوڑھے عام ہو رہے ہیں۔ وہ مریں گے تو ملک کہاں جائے گا؟ 2005ءمیں پیوٹن نے اعلان کیا تھا کہ وہ دوسرے بچے کی پیدائش پر والدین کو 9ہزار ڈالر جبکہ تیسرے کی پیدائش پر اس سے زیادہ انعام دیں گے۔اس وقت روس کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ اس کی آبادی کم ہی ہوتی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگلے 35سال تک موجودہ روسی آبادی کا بڑا حصہ بھی مٹ جائے گا اور روس جیسا دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ مکمل طور پر بھی انسانوں سے خالی ہو سکتا ہے۔ جاپان میں بوڑھو ن کی تعداد حیران کن طور پر پہلی بار نوجوانوں سے آگے جا رہی ہے ۔جاپان میں اوسظ عمر دنیا بھر میں چونکہ زیادہ ہے اس لئے بھی ان کے لئے یہ مسئلہ گھمبیر صورتحال اختیار کر رہا ہے۔ آبادی کم کر کے ترقی کی شاہراہ پر چلنے کے دعویداروں کے پاس اس سب کا تو کوئی جواب نہیںالبتہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس خوراک کم ہے، آبادی بڑھنے سے زرعی رقبہ سمٹ رہا ہے،شہر تنگ پڑ رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔لہذا بچے کم سے کم پیدا کئے جائیں۔لیکن جب ان لوگوں سے کہا جائے کہ بتاﺅ، پاکستان پہلے خوراک میں خودکفیل تھا یا آج ہے؟ تو ان کے پاس جواب نہیں ہوتا،کیونکہ آج ہم گیس، بجلی نہ ہونے اور بے تحاشا مہنگائی کے بعد بھی خوراک دوسرے ملکوں کو دے رہے ہیں۔ سی فوڈز سے لے کرکئی اقسام کے گوشت، ہمہ قسم کے پھل اور سبزیاں، چینی، گندم اور چاول تک ہم آج بڑے پیمانے پر برآمد کر رہے ہیں جبکہ چند سال پہلے تک ہم خوراک بڑے پیمانے پر درآمد کرتے تھے۔ آج ہماری زرعی پیداوار سے افغانستان کا پورا ملک بھی چلتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں کسانوں کو ساری سہولیات میسر ہوں تو ہم واقعی دنیا کے بڑے حصے کو خوراک مہیا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اس وقت دنیا میں آبادی کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر ہے جبکہ رقبے کے لحاظ سے اس کا نمبر36سواں ہے۔اس کے باوجود پاکستان کا وہ صوبہ بلوچستان جو ملک کے 43فیصد رقبے پر مشتمل ہے محض 80لاکھ آبادی رکھتا ہے۔پاکستان کا بہت بڑا حصہ آج بھی بنجر و ویران پڑا ہے۔سب سے آباد صوبہ پنجاب ہے لیکن اس میں بھی زیر کاشت رقبہ بنجر رقبے سے کہیں کم ہے۔آج ہمارے انہی کھیتوں سے پیداوار کئی گنا بڑھ چکی ہے جنہیں ہم صدیوں سے کاشت کر رہے ہیں۔ یہ بات تو درست ہے کہ زرعی زمینوں پر آبادیاں بنتی ہیں لیکن یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے بنجر پڑے وسیع رقبوں کو زیر کاشت لائے تاکہ توازن قائم رہے۔ یہ لوگ بنگلہ دیش کی بھی خاص طور پرمثال دیتے ہیںکہ جناب! بنگلہ دیش کی آبادی 1971ءمیں ہم سے زیادہ تھی اور اب ہم سے کہیں کم ہے، سو وہ کامیاب ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ آبادی کم کر کے بنگلہ دیش نے کیا تیر مار لیا؟ باوجودیکہ پاکستان دنیا میں کرپشن کے لحاظ سے پہلے نمبروں پر ہے۔ دہشت گردی کی امریکی جنگ میں 50ہزار لوگ جانوں سے چلے گئے ۔100ارب ڈال کی معاشی تباہی ہو چکی لیکن آج بھی پاکستان کی معیشت و معیار زندگی بنگلہ دیش سے ہزار گنا بہتر ہے۔ ہما را سوال ہے کہ آبادی کم سے کم کر کے ترقی کرنے کے نعرے لگانے والے ماہرین جن آقاﺅں کی تقلید اور حکم برداری میں یہ مشن لے کر اٹھے ہوئے ہیں ،کیا وہ ہمیں بھی انہی کے عبرتناک حشر سے دوچار کرنا چاہتے ہیں؟ کیا کل ہم بھی بچوں کی پیدائش پر انعام رکھیں گے اور انسانوں کے وجود کو ترسیں گے؟ وہ تو کھلے لفظوں میں یہ نہیں کہیں گے لیکن ہم تو کھلے لفظوں میں کہتے ہیں کہ اصل سازش یہی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ باہر کے ممالک اور ان کے ادارے ہماری آبادی کم کرنے کے لئے اس قدر بے چین ہیں۔
-
برما کے تاریخی حقائق
واضح رہے کہ برما کا ایک صوبہ اراکان وہ سرزمین ہے جہاں ہارون رشید کے عہدِ خلافت میں مسلم تاجروں کے ذریعے اسلام پہنچا، اس ملک میں مسلمان بغرض تجارت آئے تھے اور اسلام کی تبلیغ شروع کردی تھی،اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثرہوکر وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کرلیا اورایسی قوت کے مالک بن بیٹھے کہ 1430ء میں سلیمان شاہ کے ہاتھو ں اسلامی حکومت کی تشکیل کرلی، اس ملک پر ساڑھے تین صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی، مسجدیں بنائی گئیں، قرآنی حلقے قائم کئے گئے، مدارس وجامعات کھولے گئے، ان کی کرنسی پر’ لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘کندہ ہوتا تھا اور اس کے نیچے خلفائے راشدین کے نام درج ہوتے تھے۔ بدھ مت کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ مسلمان برما میں باہر سے آئے ہیں اور انہیں برما سے بالکل اسی طرح ختم کردیں گے جس طرح اسپین سے عیسائیوں نے مسلمانوں کو ختم کردیا تھا۔ واضح رہے کہ برما کا ایک صوبہ اراکان وہ سرزمین ہے جہاں ہارون رشید کے عہدِ خلافت میں مسلم تاجروں کے ذریعے اسلام پہنچا، اس ملک میں مسلمان بغرض تجارت آئے تھے اور اسلام کی تبلیغ شروع کردی تھی،اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثرہوکر وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کرلیا اورایسی قوت کے مالک بن بیٹھے کہ 1430ء میں سلیمان شاہ کے ہاتھو ں اسلامی حکومت کی تشکیل کرلی، اس ملک پر ساڑھے تین صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی، مسجدیں بنائی گئیں، قرآنی حلقے قائم کئے گئے، مدارس وجامعات کھولے گئے، ان کی کرنسی پر’ لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ‘کندہ ہوتا تھا اور اس کے نیچے خلفائے راشدین کے نام درج ہوتے تھے۔ اس ملک کے پڑوس میں برما تھا جہاں بودھوں کی حکومت تھی، مسلم حکمرانی بودھوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے 1784ء میں اراکان پر حملہ کردیا، بالآخر اراکان کی اینٹ سے اینٹ بجادی، اسے برما میں ضم کرلیا اوراس کا نام بدل کر میانمار رکھ دیا۔ 1824ءمیں برما برطانیہ کی غلامی میں چلاگیا، سوسال سے زائدعرصہ غلامی کی زندگی گذارنے کے بعد1938ءمیں انگریزوں سے خودمختاری حاصل کرلی، آزادی کے بعدانہوں نے پہلی فرصت میں مسلم مٹاؤ پالیسی کے تحت اسلامی شناخت کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی، دعاة پر حملے کئے ، مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبورکیا ،چنانچہ پانچ لاکھ مسلمان برما چھوڑنے پر مجبورہوئے، کتنے لوگ پڑوسی ملک بنگلادیش ہجرت کرگئے، مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے ہجرت کرکے مکہ معظمہ میں بودوباش اختیارکرلی، آج مکہ کے باشندگان میں 25فیصد اراکان کے مسلمان ہیں۔ اس طرح مختلف اوقات میں مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبورکیا گیا، جولوگ ہجرت نہ کرسکے ان کی ناکہ بندی شروع کردی گئی، دعوت پر پابندی ڈال دی گئی ، اسلامی تبلیغ کی سرگرمیوں پرروک لگادی گئی، مسلمانوں کے اوقاف چراگاہوں میں بدل دئیے گئے ، برما کی فوج نے بڑی ڈھٹائی سے ان کی مسجدوں کی بے حرمتی کی، مساجد و مدارس کی تعمیر پر قدغن لگا دیا، لاؤڈسپیکر سے اذان ممنوع قرار دی گئی، مسلم بچے سرکاری تعلیم سے محروم کیے گیے، ان پرملازمت کے دروازے بندکردئیے گئے ،1982میں اراکان کے مسلمانوں کو حق شہریت سے بھی محروم کردیا گیا، اس طرح ان کی نسبت کسی ملک سے نہ رہی، ان کی لڑکیوں کی شادی کے لیے 25 سال اورلڑکوں کی شادی کے لیے30 سال عمر کی تحدید کی گئی، شادی کی کاروائی کے لیے بھی سرحدی سیکوریٹی فورسیز سے اجازت نامہ کا حصول ناگزیر قراردیا گیا، خانگی زندگی سے متعلقہ سخت سے سخت قانون بنائے گئے۔ ساٹھ سالوں سے اراکان کے مسلمان ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں، ان کے بچے ننگے بدن، ننگے پیر، بوسیدہ کپڑے زیب تن کئے قابل رحم حالت میں دکھائی دیتے ہیں، ان کی عورتیں مردوں کے ہمراہ کھیتوں میں رزاعت کا کام کرکے گذربسر کرتی ہیں ۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ایسے سنگین اورروح فرسا حالات میں بھی مسلمان اپنے دینی شعائر سے جڑے ہیں اور کسی ایک کے متعلق بھی یہ رپورٹ نہ ملی کہ دنیاکی لالچ میں اپنے ایمان کا سودا کیاہو۔ جون کے اوائل میں مسلم مبلغ 10مسلم بستیوں میں دعوت کے لیے گھوم رہے تھے اور مسلمانوں میں تبلیغ کررہے تھے کہ بودھوں کا ایک دہشت گردگروپ ان کے پاس آیا اور ان کے ساتھ زیادتی شروع کردی، انہیں مارا پیٹا، درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے جسموں پر چھری مارنے لگے، ان کی زبانیں رسیوں سے باندھ کر کھینچ لیں یہاں تک کہ دسیوں تڑپ تڑپ کر مرگئے، مسلمانوں نے اپنے علما کی ایسی بے حرمتی دیکھی تواحتجاج کیا، پھر کیا تھا، انسانیت سوز درندگی کا مظاہرہ شروع ہوگیا، انسان نما درندوں نے مسلمانوں کی ایک مکمل بستی کو جلادیا ،جس میں آٹھ سو گھر تھے ، پھر دوسری بستی کا رخ کیا جس میں700 گھر تھے اسے بھی جلاکر خاکستر کردیا، پھر تیسری بستی کا رخ کیا جہاں 1600گھروں کو نذرآتش کردیا اور پھر فوج اور پولیس بھی مسلمانوں کے قتل عام میں شریک ہوگئی۔ جان کے خوف سے 9ہزار لوگوں نے جب بری اور بحری راستوں سے بنگلادیش کا رخ کیا تو بنگلادیشی حکومت نے انہیں پناہ دینے سے انکار کردیا اور اس کے بعد سے بدھ مت کے دہشت گرد برمی فوج کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مگر دنیا اس پر خاموش تھی، اور کوئی بھی عالمی ادارہ اس پر خبر تک دینے کو تیار نہ تھا مگر اسلامی دنیا میں مسلمانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس قتل عام کی تصاویر پھیلائیں اور عوامی احتجاج شروع ہوا تو پھر برما سے متصل بھارتی ریاست آسام میں بھی مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا۔ اسلامی دنیا میں مسلم عوام کے احتجاج کے بعد کچھ مسلم حکومتوں نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی اور عالمی ادارے بھی اپنی رپورٹس جاری کررہے ہیں۔ اسی سلسلے میں چھپن صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کو جاری کرنے کا مقصد دنیا کی توجہ برما میں اقلیتی مسلمانوں کے خلاف جاری ریاستی تشدد کی جانب مبذول کروانا ہے۔ فل رابرٹسن کا کہنا ہے کہ برما کی حکومت نےامدادی کارکنوں اور صحافیوں کومتاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی۔ فل رابرٹسن کا کہنا تھا کہ جو بات مسلسل سامنے آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت ابھی تک پر تشدد واقعات کو روکنے میں ناکام رہی اور یہی وجہ تھی کہ دونوں اطراف کے لوگوں نے اپنے دفاع کے لیے مسلح ہونا شروع کر دیا ہے اور دونوں طرف سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان واقعات کی تحقیقات کے لیے اپنا ایلچی برما روانہ کر دیا ہے۔ فل رابرٹسن نے مطالبہ کیا کہ برما اقوام متحدہ کے ایلچی کو تحقیقات کے لیے مکمل رسائی اور معلومات کے حصول کے لیے سہولتیں فراہم کرے۔
-
یقین کامل
Halat to hamari bhi aisi hi ha Khuda hamain Muaaf fermaye Ameen
-
اَن مِٹ قرض
Nice sharing dear Keep it up
-
ابا! آج آپ نہیں ہیں
Buhat khoobsoorat tehreer ha
-
As salam o alaikum
Welcome Dear Khush raho