Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

khoobsooratdil

Cloud Basic
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by khoobsooratdil

  1. aji hum to ap ki or UFC ki khidmat me din raat aik kerty hain tab hi to aisi cheezain milti hain
  2. پیاسا کو ّا ایک کو ّاشدید پیاس کے عالم میں ادھر ادھر مارا مارا پھررہا تھا مگر پانی کا کہیں نام و نشان تک دکھائی نہ دیا، اچانک نیچے اسے پانی اور کچھ کنکر نظر آئے اس کی جان میں جان آئی اور دل ہی دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکرادا کرنے کے بعد نیچے اترآیا۔ جونہی وہ بے چارہ پانی میں کنکر ڈالنے کے لئے لپکا تو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے پرچہ درج کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد قاتلوں کو گرفتار کرلے گی۔ نتیجہ جس ملک میں کوے ہی محفوظ نہ ہو وہاں عام شہریوں کو بھلا کون پوچھتا ہے۔ لالچی کتا ایک کتا جو شکل و ہ شباہت سے ہی بلا کا خبیث دکھائی دیتا تھا ،قصائی کی دکان سے گوشت کا ایک ٹکڑا چرا لایا، ابھی اس نے ایک قریبی نالے میں اپنا عکس دیکھ کر اترانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ سیلابی ریلا اسے بہا کر لے گیا۔ نتیجہ، پاکستان میں موت ،مارشل لاء اور سیلاب کا کوئی وقت متعین نہیں۔ کچھوا اور خرگوش ایک مکار اور تیز طرار خرگوش نے کئی دن سے اپنے ہمسائے کھچوے کاجینا حرام کر رکھا تھا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اسے ریس لگانے کی دعوت دیتا اور زچ کرتا۔ ایک اور کچھوے نے سوچا کہ یہ بیہودہ شخص (مراد خرگوش) ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تنگ کرنے لگا ہے چنانچہ پہلی فرصت میں ہی اس گستاخ کو نہایت عبرتناک سزادینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس نے خرگوش کا چیلنج قبول کیا اور مقررہ وقت پر یہ ریس شروع ہوگئی۔فتح کے نشے میں سرشار خرگوش چار قلانچیں بھرنے سے ہی سست رفتار کچھوے کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ ایک شجر سایہ دار تلے بیٹھ کر اطمینان سے چرس وغیرہ کا لطف اٹھاتے اٹھاتے یہ بدنصیب سچ مچ خواب خرگوش کے مزے لینے لگا۔ اتنے میں کچھوا موقع پر پہنچا اور خرگوش کو سوتا دیکھ کر اطمینان کے ساتھ اس کے قریب گیا اس کی جیب سے نہایت قیمتی موبائل اور نقدی نکالی اور فرار ہوگیا۔ پورے شہر کی پولیس جگہ جگہ چھاپے ماررہی ہے مگر متعلقہ کچھوے کا کوئی نام و نشان تک نہیں ملا۔ نتیجہ کھیل کے دوران چرس سے لطف اندوز ہونا نہایت گھٹیا حرکت ہے۔ الہ دین کا چراغ الہٰ دین کا نام تو منشیوں اور محرروں جیسا تھا مگر کہتے ہیں کہ یہ بھی ایک مشہور عربی لوک داستان کا ہیرو ہوا کرتا تھا۔ ایک روز اچانک راہ چلتے چلتے اسے ایک چراغ مل گیا۔ اس نے اسے رگڑا تو وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ بے چارہ الہٰ دین اپنے چار ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوا جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ نتیجہ، جب کوئی چیز پھٹنے پر آجائے تو بہر صورت پھٹ کر دکھاتی ہے۔
  3. Ap sab doston ka shukriya
  4. Dear un se to achay ki umeed ha hi nahi mager jab hamain un ki haqeeqat pata chal jay to un ki saazish se bhi bachna zaroori ha kia ap apnay bachon ko Poliyo k Drops pilaati hain?
  5. Thanks For sharing dear keep it up
  6. ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا ، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا ۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا ۔ ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا ، "اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے ، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے ، تم لوگوں میں کوئ احساس ذمہ داری نہیں ہے ؟"۔ "مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں " ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا ۔ "اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیئے تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں" "میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے ؟" باپ غصے سے بولا ۔ ڈاکٹر پھر مسکرا کر کہا ، " ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے ۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں ۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے "۔ "بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہے تمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو ۔ بچے کا باپ بڑبڑایا "۔ آپریشن میں کئ گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، " تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئ سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا" ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔ "کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا" ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا ۔ نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ، " اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کر ریا تھا ۔ اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہے دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے"۔ کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہے تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے ۔
  7. تین نوجوان ملک سے باہر سیر کے لیئے گئے اور وہاں ایک ایسی عمارت میں ٹھہرے جو 75 منزلہ ہے انکو کمرہ بھی سب سے اوپر والی منزل پر ملا ان کو عمارت کی انتظامیۃ باخبر کرتے ہویے کہتی ہے ہمارے یہاں کا نظام آپ کے ملک کے نظام سے تھوڑا مختلف ہے یھاں کے نظام کے مطابق رات کے 10 بجے کے بعد لفٹ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں لھذا ہر صورت آپ کوشش کیجیے کے دس بجے سے پہلے آپ کی واپسی ممکن ہو کیونکہ اگر دروازے بند ہوجاییں تو کسی بھی کوشش کے باوجود لفٹ کھلوا نا ممکن نہ ہوگا پہلے دن وہ تینوں سیر و سیاحت کے لیے نکلتے ہیں مگر رات 10 بجے سے پہلے واپس لوٹ آتے ہیں مگر دوسرے دن انہیں دیر ہوگئی اور 10:05 پر عمارت میں داخل ہوئے اب لفٹ کے دروازے بند ہو چکے تھے اب ان تینوں کو کوئی راہ نظر نہ آئی کیسے اپنے کمرے تک پہنچا جائے جبکہ کمرہ 75 ویں منزل پر ہے اب تینوں نے فیصلہ کیا کہ سیڑھیوں کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اس لیے اب سیڑھیوں کے ذریعے ہی جانا ہوگا ۔ لیکن اتنا لمبا رستہ طے کرتے کرتے ہم تھک جائیں گے اس لیے ہم باری باری قصے سنائیں گے تاکہ راستہ کا پتہ ہی نہ چلے 25 منزل تک پہلا ساتھی قصے سنائے گا پھر 25 منزل دوسرا اور پھر آخری 25 منزل تیسرا اس طرح ہمیں تھکاوٹ کا زیادہ احساس نہیں ہوگا اور راستہ بھی کٹ جایے گا پہلے دوست نے کہا کہ میں تمہیں لطیفے اور مزاحیہ قصے سناتا ہوں اب تینوں ہنسی مزاق کرتے ہویے چلتے رہے جب 25 ویں منزل آگئی تو دوسرے ساتھی نے کہا کہ اب میں تمہیں قصے سناتا ہوں مگر میرے قصے سنجیدہ اور حقیقت ہونگیں اب ۲۵ منزل تک وہ سنجیدہ اور حقیقی قصے سنتے ہویے چلتے رہے اب جب ۵۰ منزل تک پہنجے تو تیسرے ساتھی نے کہا کہ اب میں تم لوگوں کو کچھ غمگین اور دکھ بھرے قصے سناتا ہوں اور غم بھرے قصے سنتے ہویے باقی منزل بھی طے کرتے رہے یھاں تک کے تینوں تھک تھک کر جب دروازے تک پہنچے تو ایک ساتھی نے کہا کہ میری زندگی کا سب سے بڑا غم بھرا قصہ یہ ہے کہ ہم کمرے کی چابی نیچے استقبالیہ پر ہی چھوڑ آیے ہیں یہ سن کر تینوں پر غشی طاری ہوگیی مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ رکیں ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی انسان کی اوسط عمر 60 سے 80 سال ہے ۔ بہت کم لوگ اس سے اوپر جاتے ہیں اور ہم لوگ اپنی زندگی کے 25 سال ہنسی مزاق کھیل کود اور لہو لعب میں لگا جاتے ہیں پھر باقی کے 25 سال شادی ، بچے رزق کی تلاش ، نوکری جیسی سنجیدہ زندگی میں پھنسے رہتے ہیں اور جب اپنی زندگی کے 50 سال مکمل کر چکے ہوتے ہیں تو باقی زندگی کے آخری 25 سال بڑھاپے میں مشکلات کا سامنا ،بیماریاں ، بچوں کے غم اور ایسی ہی ہزار مصیبتوں کے ساتھ گزارتے ہیں یھاں تک کے جب موت کے دروازے پر پہنچتے ہیں تو ہمیں یاد آتا ہے کہ چابی اصل کنجی تو ہم ساتھ لانا ہی بھول گیے اس جنت کی چابی جس کو ہم اپنی منزل سمجھتے ہویے یہ زندگی گزارتے رہتے ہیں اور پھر افسوس سے ہاتھ ملتے ہیں لیکن وہ افسوس کسی کام نہیں آتا تو کیوں نا ابھی سے جنت کی چابی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ، تاکہ منزل پر پہنچ کر پچھتاوا نہ ہو
  8. ڈاکٹر ابو عدنان سہیل پولیو ڈراپ سے متعلق چونکانے والی مگر چشم کشا تحریر اقوام متحدہ کے ادارہ ’’یونیسیف‘‘ (unicef) کی زیرِ نگرانی ۱۹۸۵ ؁ء سے ہندوستان کے طول و عرض میں مرض پولیو کے امداد کے لیے ٹیکے لگانے اور اس کے ڈراپس پلانے کی مہم نہایت زور و شور اور جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے ۔اس طرح اب تک بلا مبالغہ اربوں ڈالر اس مہم پر خرچ کئے جا چکے ہیں۔جب کہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور جان لیوا بیماریاں جیسے ٹی وی،کینسر،ایڈس وغیرہ کے ذریعہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں لاکھوں لوگ ہر سال لقمۂ اجل بن جاتے ہیں ،ان کے خلاف امداد پولیو جیسی زبردست مہم اور ان پر اتنی خطیر رقم کیوں خرچ نہیں کی جاتی ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو عوام الناس کے ذہنوں میں پولیو مہم کے سلسلے میں شکوک و شبہات اور اندیشہ ہائے دور دراز پیدا کرنے کا باعث ہے ۔خصوصاً جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پولیو ڈراپس پلانے کی یہ زبردست مہم یہودی ممالک’’اسرائیل‘‘ کے علاوہ پوری دنیا خصوصاً ایشیائی ممالک میں انتہائی زور و شور سے جاری ہے اور ہندوستان و پاکستان ،بنگلہ دیش اور عرب ممالک جیسے کثیر مسلم آبادی والے ملکوں میں اس پر پورا زور صرف کیا جارہا ہے۔ ایسی صورت میں ذہن میں یہ سوال پیدا ہو نا لازمی ہے کہ مال کے حریص یہودی اور عیسائی اس مہم پر اربوں کھر بوں ڈالر آخر کیوں خرچ کر رہے ہیں؟ یہ عالم اسلام اور باقی دنیا کے خلاف کو ئی خطرناک سازش تو نہیں ہے؟ اس کے علاوہ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ دور ماضی میں ملیریا اور چیچک کے خاتمے کے لیے ٹیکے لگائے گئے تھے ۔کیا ان کے نتیجہ میں یہ بیماریاں اب معدوم ہو چکی ہیں؟ اس کا جواب یقیناًنفی میں ہے۔ عالمی ادارہ صحت (media) میں شائع ہو چکی ہے۔ پوری دنیا میں صرف 600بچے پولیو کا شکار پائے گئے ہیں جب کہ ٹی وی،ایڈس،ملیریا،چیچک،اور سرطان یعنی کینسر وغیرہ میں مبتلا افراد کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہے ۔پھر بھی پولیو کو ختم کرنے کے لئے اربوں کھربوں ڈالر بے تکلف خرچ کئے جارہے ہیں جب کہ مذکورہ بالا سنگین امراض کی دوائیں روز بروز مہنگی اور عوام کی دسترس سے باہر ہو تی جا رہی ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ ’’میڈیا‘‘ میں چھپ رہی خبروں کے مطابق پولیو کی متعدد خوراکیں پلوانے کے باوجود بہت سے بچے پولیو کا شکار ہو گئے۔ انگریزی اخبار ’’times of india‘‘ مورخہ 18-03-2005 کے مطابق صوبہ بہار کے 18اضلاع میں 2003میں پولیو کے اٹھارہ معاملے سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد جب وہاں پولیو ڈراپس پلانے کی مہم تیز تر کر دی گئی تو اس کے ایک سال بعد 2004میں پولیو میں مبتلا ہو نے والے بچوں کی تعداد کم ہو نے کے بجائے بڑھ کر 41ہو گئی! کیا یہ انکشاف پولیو ڈراپس پلانے کی اس زبردست مہم کی قلعی کھول دینے کے لئے کافی نہیں ہے ۔ ؟ جہاں تک پولیو ڈراپس پلانے کی یونیسیف(unicef) کی تیار کر دہ حکمت عملی اور اس کے نتائج کی بات ہے، تو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ جب 1985ء میں عالمی سطح پر پانچ سال کے بچوں کو پولیو ڈراپس پلانے کا آغاز کیا گیا تھا ،تو اس مہم کا نعرہ تھا ’’ایک بوند زندگی میں ایک بار‘‘ اور اب یہ نعرہ بدل دیا گیا ہے ’’دو بوند پولیو ڈراپ کی ہر بار‘‘ اس طرح اب سال بھر میں تقریباً 40 بار سے بھی زائد یہ خوراک پانچ سال تک کے بچوں کو پلائی جا رہی ہے۔آخر ایسا کیوں ؟ ایک سوال اور ذہن میں پیدا ہو تا ہے وہ یہ کہ اقوام متحدہ (u.n.o.) کا ذیلی ادارہ برائے بہبود اطفال ’’یونیسیف‘‘(unicef) جو ہندوستان کے پولیو کا نگراں اور ذمہ دار ہے اور وہ اس پر اب تک اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے۔اس ادارہ کی انسانی ہمدردی اور بچوں کی فلاح اور بہبود کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ ۱۹۹۱ء ؁ کی پہلی خلیجی جنگ کے بعد سے اقوام متحدہ (u.n.o.) نے صدام حسین کے دور اقتدار کے آخر تک عراق میں ضروری اور جان بچانے والے ادویات پہنچنے نہ دینے کی پابندی لگا رکھی تھی، جس کی وجہ سے وہاں اس تمام عرصہ میں پانچ لاکھ سے زائد بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو نے کے بعد مطلوبہ ادویہ نہ ملنے سے فوت ہو گئے۔’’سوڈان‘‘ میں دوائیں بنانے کی فیکٹری قائم کی گئی ،تاکہ آئندہ دواؤں سے محروم عراقی بچوں کو موت سے بچا یا جا سکے ،تو امریکہ نے اس فیکٹری پر بم برسا کر تباہ و برباد کر دیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر بچوں کے قاتلوں کو دنیا کے چند بچوں کے معذور ہو نے سے بچا نے کی فکر کہاں سے لاحق ہو گئی ؟ اس بات پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے ! عالمی ادارہ صحت(w.h.o.) جو خالصتاً ایک ’’صیہونی ادارہ‘‘ ہے اور صیہونیت کی عالمی تنظیم زنجری(zengery) کا ایک اہم ترین شعبہ ہے۔ اس کے طبی بلیٹن جلد ۴۷: صفحہ ۲۵۹ (۱۹۷۲ء ؁) کا حوالہ دیتے ہوئے یورپ کے ایک ڈاکٹر الین کیمپ بیل(allen camp bell) رقمطراز ہیں۔ ’’ٹیکوں(vacciness) کے ذریعہ بیماریوں کا مقابلہ کر نے کے نام پر عالمی ادارہ صحت(w.h.o.) ہمارے قدرتی دفاعی نظام (natural immune systen) بر باد کر نے پر تلا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ زمین سے انسانوں کے وجود ہی کو ختم کر دینا چاہتاہے‘‘۔ ’’ڈاکٹر الین کیمپ بیل‘‘ جو کہ میڈیسین میں ایم ڈی (m.d.)، ہیں انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ ’’ایڈز وائرس‘‘(h.i.v.) انسانوں کے لئے لیبارٹری میں ہی بنا یا گیا ہے، یعنی وہ (genitically engineered) وائرس ہے،قدرتی پیداوار جرثومہ نہیں ہے۔ اس موضوع پر انہوں نے دو کتابیں لکھی ہیں جن میں سے ایک کتاب کا نام (aids and the doctor of death) ہے اور دوسری کتاب (queer blood) کے نام سے مارکیٹ میں آئی ہے!۔ ڈاکٹر کیمپ بیل نے لکھا ہے کہ ماضی قریب میں ایک مشہور یہودی سائنس داں جس کا نام ’’جوناس ایڈوارڈ سیلک‘‘ (jonas edward salk) تھا وہ محض ایک اعلیٰ پائے کا بیکٹریا لوجیسٹ(1914-1995) ہی نہیں تھا ،بلکہ ایک بہت بڑا یہودی روحانی پیشوا(ربی) بھی تھا اور جس کا نام آج بھی یہودی ’’ حاخات‘‘ (علماء یہود) اور ربی بڑی عقیدت و احترام سے لیتے ہیں۔ اس نے ۱۹۶۳ء ؁ میں امریکہ کے شہر ’’ کیلی فورنیا‘‘ کے ’’لازولہ‘‘ علاقے میں ’’ سیلک انسٹی ٹیوٹ فار بایولوجیکل اسٹڈیز ‘‘ کے نام سے قائم کی تھی، جس کا شمار دنیا کے عظیم الشان بایو لوجیکل اداروں میں ہو تا ہے۔ اس ادارہ کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر( ساڑھے پانچ ارب روپئے) ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ میں چار سو سے زیادہ ’’بایو ٹیکنا لوجیسٹ ‘‘ جنٹک انجینےئر(genetic engineers) اور حیاتی علوم کے سائنس داں شب و روز کا م کر تے رہتے ہیں ۔ڈاکٹر کیمپ بیل کے بیان کے مطابق اس یہودی سائنس داں جوناس سیلک نے ہی اس انسٹی ٹیوٹ کے قیام سے چار سال قبل ۱۹۵۵ء ؁ میں ہندوستان اور’’ فلنیائن‘‘ سے چار ہزار بندر منگوا کر کیلی فورنیا کے ’’ بلفٹن‘‘ علاقے میں ندی کے کنارے ایک سنسان مگر پر فضا مقام پر واقع اپنی تجربہ گاہ (laboratory) میں ان بندروں پر کئی سطحوں (stages) پر متعدد مرحلوں پر مشتمل تجربات کئے تھے، اور اس کے بعد ان بندروں کے گردوں (kidney) سے حاصل کر دہ خلیات(cells) سے پولیو(polio) کے پولیو کے مشہور عالم ٹیکے vaccine تیار کر نا اسی یہودی سائنس داں کا کار نامہ ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے ’’ جو ناس سیلک‘‘ کے بتائے ہو ئے پولیو ویکسین کو ہی عالمی امداد پولیو مہموں (world sweeping drives) کے لئے لمبے عرصہ تک استعمال کر نے کا فیصلہ کیا تھا! موجودہ دور میں پولیو ویکسین بنا نے والی سب سے بڑی بین الاقوامی دوا ساز کمپنی ’’ لیڈر لے‘‘( lederle) جو یہودیوں کی ہی ملکیت میں ہے وہ رے سیس بندروں(rhesis monkeys) کے گردوں (kidneys) سے ہی یہ ویکسین تیار کر رہی ہے ۔اس کمپنی نے ۱۹۶۹ء ؁ سے ۱۹۹۹ء ؁ تک تیس برسوں میں ساٹھ کروڑ پولیو ڈراپس کی فروخت کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔! ’’پولیو ویکسین‘‘ کے سلسلے میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ (media) نے ،جو اب کے سب یہودیوں کے قبضہ میں اور انہیں کی ملکیت ہیں۔ اس حقیقت پر پردہ ڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ ’’امریکی تحفظ ادارہ برائے تدارک امراض‘‘ یعنی(cdc) نے سات سال قبل یکم جنوری ۲۰۰۰ء ؁ سے پولیو کے خاتمے کے لئے پلائی جانے والی اورلی پولیو ویکسین(opv) پر امریکہ میں مکمل طور پر پابندی عائد کر رکھی ہے،اور اس کی وجہ امریکی تحفظ صحت ادارے (cdc)نے یہ بتائی ہے کہ پولیو ویکسین کی ان بوندوں میں مردہ پولیو وائرس (attenuated virus) کے ساتھ پولیو کچھ زندہ وائرس بھی پائے گئے ہیں(جو کہ قصداً اس میں شامل کئے گئے ہیں) ۔ اس سے دوسرے صحت مند بچوں کو بھی یہ مرض لگ سکتا ہے۔ اس کے بجائے اس ادارہ نے امریکہ میں پولیو ڈراپس(opd) پلانے کے بجائے پولیو کی انجکشن لگا نے کی سفارش کی ہے۔ تاکہ پولیو کے پچھلے خطرات کو کم کیا جاسکے۔لیکن اس نئے انجکشن کا خرچ اٹھا نا عوام الناس میں ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے، کیونکہ ایک انجکشن کی قیمت تقریباً پانچ ہزار روپئے ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ اتنے مہنگے انجکشن ’’تیسری دنیا‘‘ (یعنی ایشیائی ممالک) کے بچوں کو تو دئے جانے سے قاصر رہے اس لئے عالمی ادار�ۂ صحت (w.h.o.) اور ’’ یونی سیف‘‘ (unicef) جیسے یہودی بین الاقوامی اداروں کے ذریعہ امریکی گوداموں میں کروڑوں کی تعداد میں بیکار ٹیری ’’لیڈر لے کمپنی‘‘ مسترد شدہ پولیو ڈراپس کی خوراکیں(opd) پیکنگ اور لیبل بدل کر دوسری کمپنیوں کے نام سے زبردست پروپیگنڈے کے ذریعہ ایشیائی ممالک میں مفت اور زبردستی پلائی جا رہی ہیں تاکہ غیر یہودی قوموں خصوصاً مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کو آپاہیچ بنا کر عالمی داؤدی سلطنت کے ذریعہ یہودی خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کیا جا سکے ڈاکٹر الین کیمپ بیل لکھتے ہیں کہ پولیو کی ان بوندوں (opv) کے پینے سے مستقبل میں نئی نسلوں کے پولیو زدہ ہو نے اور ایک خطرناک قسم کے زہریلی جسم کے فالج (paralitic polio) ہو جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔بہر صورت ہندوستان ،پاکستان،سعودی عرب،مصر،یمن،افغانستان،انڈ ونسیا،نائجریاو غیرہ کثیر مسلم آبادی والے ملکوں میں ان پولیو ڈراپس(opd )کو پلا نے کے بعد بھی اچھے خاصے صحت مند بچوں میں اچانک پولیو (polio) ہو جانے کے واقعات کے پیچھے یہی حقیقت کار فرما ہے کہ پلائی جانے والی پولیو ڈراپس (opv) میں موجود ’’زندہ وائرس‘‘ ہی پولیو کے اسباب بن جاتے ہیں۔!! ایک امریکی صحافی مائیکل ڈورمن نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ۱۹۶۲ء ؁ سے ۲۰۰۰ء ؁ تک ڈاکٹر ’’جوناس سیلک‘‘ کے ذریعہ بنائے گئے پولیو ویکسین تیس سال کے عرصے میں صرف عیسائی بچوں کو ہی پلائے گئے تھے ،جبکہ امریکہ کے ڈیڑھ فیصد سے بھی کم یہودیوں نے ’’مذہبی اسباب‘‘ کا بہانہ لے کر اپنے بچوں کو پولیو ڈراپس سے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔!! پولیو ڈراپس (opd) سلسلے میں سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ : یورپ میں ’’میسو تھیلی یو ما کینسر‘‘ (mesotheliomas cancer) کے ماہرین میں سے ڈاکٹر ٹیڈ گرنی (dr.tedgerney) جو ایک خطرناک وائرس sv-40 پر ریسرچ کر رہے ہیں ،ان کا دعویٰ ہے کہ یہ وائرس sv-40 انسانوں میں کینسر (cancer)پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔اس وائرس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اتنا خطرناک ہے کہ اگلی نسل انسانی میں بغیر کوئی ٹیکہ یا انجکشن لگائے پیدائشی طور پر مستقل ہو سکتا ہے۔یہ مہلک اور خطرناک ترین وائرس،پولیو ویکسین (opd) میں پائے جانے کے شوہد ان ہی تجربات کے بعد ملے ہیں اور ان شہادتوں کے بعد کہ پولیو ویکسین(opd) میں کینسر کا خطرناک جر ثومہ sv-40موجود ہے۔ کینسر کے ان ماہرین کی رپورٹ پر ہی امریکہ کے محکمہ تحفظ صحت(cdc) نے امریکہ میں پولیو ڈراپس پلانے پر مکمل طور پر پابندی عائد کی تھی،مگر’’ یہودی ربی‘‘ کے دباؤ پر اس حکم امتناعی کی وجہ صرف یہ ظاہر کی گئی اس میں کچھ زندہ پولیو کے جراثیم پائے گئے ہیں۔!! بہرنوع! اس بات میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ عالمی محکمہ صحت(w.h.o.) اور یونی سیف(unicef) جیسے صیہونی ادارے ایشیائی ملکوں،خصوصاً ہند و پاک میں زبردستی اور مسلسل ’’پولیو ڈراپس‘‘پلا کر ایشیائی قوموں بالخصوص مسلمانوں کے معصوم بچوں کے خون میں sv-40 نامی کینسر کا وائرس اور پولیو کے زندہ جراثیم دانستہ طور پر پہونچا کر ان کی آئندہ نسلوں کو آپاہیج اور تباہ و برباد کر نے پر تلے ہو ئے ہیں۔ جہاں تک ایڈز(aids) کے پھیلنے کے ممکنہ خطرات اور امکانات کی بات ہے تو یہ جان لیوا مرض بھی ان صیہونی درندوں کی اپنے دشمنوں(خصوصاً مسلمانوں) کے خلاف حیاتیاتی اسلحوں کی جنگ (biological warfare) کا ایک مہلک ہتھیار ہے، جس کا جر ثومہ(viruses) اصلیت میں لیبار ٹری میں مصنوعی طور پر تیار کیا گیا وائرس(genetically engineered viruses) ہے، جس کو hiv کا نام دیا گیا ہے۔ یہ جر ثومہ جس کو پہلے چیچک کے ٹیکوں (small pox vaccine) کے ذریعہ، اور اب ہیپاٹائٹس بی (hepatitis- کے ٹیکوں کے ذریعہ who کی مدد سے دنیا میں پھیلا یا گیا ہے۔ ۱۱؍مئی ۱۹۷۸ء ؁ کے ’’لنڈن ٹایمز‘‘ میں چھپی رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک میں ’’ایڈز‘‘ کی بیماری پھیلنے کی وجہ ۱۹۷۲ء ؁ میں عالمی محکمہ صحت یعنی whoاور’’یونی سیف‘‘(unicef) کے ذریعہ لگائے گئے چیچک کے ٹیکوں(small pox vaccine) کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا یا گیا ہے۔ افریقی بندروں کی ایک مخصوص قسم green monkeyپر ’’ایڈز‘‘ کے جراثیم پھیلا نے کی ذمہ داری ڈالنا who کا ’’سفید جھوٹ‘‘ اور قطعی پروپیگنڈہ ہے ،کیو نکہ بقول ڈاکٹر ڈگلس ایم ڈی بندروں کی ’’جین‘‘(gene) کی بناوٹ(structure) کا تجزیہ (analysis) بتا تا ہے کہ بندروں کے ذریعہ قدرتی طور پر ایڈز کے وائرس کا انسانوں کے جسم میں داخل ہو نا ممکن ہی نہیں ہے ۔اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ۱۹۷۹ء ؁ میں امریکہ کے مختلف شہروں میں آخر ’’ایڈز‘‘وباکیسے پھیلی؟ کیا وہاں بھی افریقی بندر’’ ایڈز‘‘ پھیلا نے پہونچ گئے تھے۔؟؟ حقیقت یہ ہے اس وقت مختلف امریکی شہروں میں ہم جنسی کی لعنت میں گرفتار مردوں کو دے گئے ہیپا ٹائٹس(hepatitis-b vaccine) کے ٹیکوں کے ذریعہ ہی ’’ایڈز‘‘ وہاں پھیلا تھا۔اس سلسلے میں قابل غور بات یہ ہے کہ w.h.o. اور unicefکی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہیپا ٹائٹس بی(hepatitis- جو اب تک دنیا بھر میں پچاس کروڑ سے زائد لوگوں کو لگایا جا چکا ہے،وہ بھی پولیو ڈراپس(opd) کی طرح صیہونی مملکت’’اسرائیل‘‘ میں8 ہی نہیں لگایا جا تا ہے اور اس پر وہاں مکمل پابندی عائد ہے۔ پولیوڈراپس(opd) کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ بندروں کے گردوں کے خلیات(cells) سے تیار کیا جاتا ہے،جس میں’’structure‘‘ ڈی این اے(dna) اور آر این اے(rna) پوری طرح موجود ہو تا ہے۔مسلمان ہو نے کی حیثیت سے ہم پر بندر و خنزیر جیسے حرام جانوروں کا نہ صرف گوشت کھانا حرام ہے بلکہ ان کے جسم کے کسی بھی جزء کا اکلاً و شرباً استعمال کرنا بھی شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔اس بات کو ہمیں نظر انداز نہ کر نا چاہئے کہ اس کے علاوہ مذکورہ بالا حقائق کے پیشِ نظر جب ہمارے دیرینہ دشمن یہودؔ ، ہماری آئندہ نسلوں کو ناکارہ اور تباہ و برباد کر نے پر تلے ہوئے ہیں تو ہم دانستہ طور پر ان کی اسی مہم میں معاون اور آلہ کار کیوں بنیں؟۔ اگر ہمیں آئندہ نسلوں کا تحفظ اور مستقبل میں مسلمانوں کی بقاء اور ایمان عزیز ہے تو ہمیں ذاتی مفاد اور چند سکوں کے لالچ سے دست بردار ہو کر مسلمانوں کی ’’نسل کشی‘‘ کی اس خطرناک مہم سے دامن کش ہو جانا چاہئے ۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج ہمارے بہت سے بے روز گار مسلمان نوجوان اور پردہ نشین خواتین ذاتی مفاد اور چند روپیوں کے لالچ میں پولیو(polio) کی اس زہریلی مہم کے ورکر بنے ہو ئے ہیں اور گھر گھر جاکر یہ میٹھا زہر(slow poison) مسلمانوں کے معصون بچوں کے حلق میں اتار تے ہو ئے جھجھک تک محسوس نہیں کرتے۔ اور غضب بالائے غضب یہ ہے کہ اب ’’علماء کرام‘‘ کو بھی اس اسلام دشمن اور انسانیت سوز مہم میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور بعض علماء اپنی سادہ لوحی اور حقیقت سے لا علمی کی بنا پر اپنے دشمن یہودیوں کی اس ’’جنگی مہم‘‘ میں ان کے معاون اور آلہ کار بنے ہو ئے ہیں ۔حالانکہ قرآن مجید میں وہ حق تعالیٰ کا یہ فرمان برابر پڑھتے اور طلباء عزیز کو پڑھاتے رہتے ہیں: ’’لوگوں میں مومنوں کا سب سے سخت دشمن تم قوم یہود کو پاؤگے اور ان لوگوں کو جو شرک کر تے ہیں اور مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ ان لوگوں کے دلوں میں ہے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہلاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں درویش اور عبادت گذار لوگ پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔۔(المائدہ:۸۲)‘‘ کیا ہمارے علماء کرام اور درد مندان ملت اس سلسلے میں اپنی خصوصی توجہ مبذول فرما کر کوئی عملی قدم اٹھا نے کی زحمت گوارہ فرمائیں گے؟۔
  9. لہسن آب حیات ہے: قدرت نے انسانوں کو کھانے کے لیے لاتعداد نعمتیں عطا کی ہیں جو بہت سے امراض میں آب حیات کا کام کرتی ہیں۔ ان ہی میں لہسن کا شمار ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں کا دشمن انسان‘ مختلف ذرائع سے اپنی بربادی کو خود دعوت دیتا ہے لیکن لہسن ہے کہ تنہا انہیں تندرستی سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ مجھے لہسن پر قصیدہ خوانی کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ اس کے استعمال سے جہاں بے شمار امراض سے نجات ملتی ہے وہاں یہ جسم میں قدرتی طور پر موجود بیکٹریاز میں عدم توازن پیدا نہیں کرتا بلکہ ان بیکٹریاز کو جو ہمارے لیے مفید ہیں اور ہاضمہ کو درست رکھتے ہیں ان کی تعداد میں اضافہ کرتا ہے اور جو مضر اور بیماری پیدا کرسکتے ہیں ان بیکٹریاز کو ختم کرتا ہے۔ اس طرح موسمی اثرات سے جسم محفوظ ہوجاتا ہے۔ بیکٹریاز پر تجربات شاہد ہیں کہ لہسن کے رس نے انہیں دس منٹ میں ختم کردیا جبکہ معاون بیکٹریاز کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں قدرتی اینٹی بائیوٹک اجزاءموجود ہیں اور انسان دیگر اینٹی بائیوٹک کی گستاخانہ حرکات سے محفوظ رہ سکتا ہے جب تک کہ کوئی مایوس کن علامات ان کو دعوت نہ دیں۔ لہسن گزشتہ پانچ ہزار سال سے مختلف امراض میں بطور دوا استعمال ہورہا ہے۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک چھوٹے جوے والا جو اکثر استعمال ہوتا ہے‘ دوسرا پہاڑی لہسن جو پیاز کی شکل کا ہوتا ہے اور جس میں پھانکیں نہیں ہوتیں‘ لیکن اثرات زیادہ تیز ہیں۔ لہسن کو عربی میں فوم‘ فارسی میں سیسر‘ انگریزی میں گارلک روٹ اور پنجابی و سندھی میں تھوم کہتے ہیں۔ ایک مصری دستاویز کے حوالے سے 1550 سال قبل مسیح لہسن سے بائیس امراض کی دوائیں تیار ہوئیں۔ روس کے ماہر علم طبیعیات ”پائن دی ایلڈر“ نے اسے 66 قسم کے امراض کا علاج تحریر کیا ہے۔ امریکہ کے ڈاکٹر ”جی لی چانک“ اور ”مارگریٹ جانسن“ مینسیوٹا یونیورسٹی میں ریسرچ کیمسٹوں‘ بھارت کے ٹیگور میڈکل کالج کے ڈاکٹر ” آرون“ کے علاوہ چین اور جاپان میں بیشتر ڈاکٹروں نے لہسن کو بیماریوں کا علاج دہندہ قرار دیا ہے۔ دنیائے طب کے بابا ہیپو قراطیس (بقراط) نے ڈھائی ہزار سال قبل مسیح لہسن کو قبض کشا کہنے کی ساتھ روز مرہ کی دوا قرار دیا تھا۔ پیغمبر اسلام نے جہاں بہت سے امراض کا علاج بتلایا تھا وہاں بچھو کے کاٹنے پر لہسن کا پانی استعمال کرنے کی ہدایت کی تھی۔ لہسن سے جن امراض میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ان کی فہرست طویل ہے لیکن جن امراض سے نجات ملنے کے ثبوت فراہم کیے گئے ہیں ان میں صدیوں سے خون صاف کرنے کے علاوہ سردی اور دائمی نزلہ و زکام سے محفوظ رکھنے کے لیے اسے استعمال کیا گیا۔ دمہ‘ کھانسی‘ امراض تنفیس‘آنتوں کی بیماریاں‘ امراض جلد‘ ہائی بلڈ پریشر‘ فالج‘ لقوہ‘ رعشہ‘ نسیان‘ بہرا پن‘ کینسر اور ذیابیطس سے محافظت‘ درد سر‘ گلے کی گلٹھی‘آواز بیٹھنا‘ مرگی‘ تپ دق‘ کولیسٹرول کی سطح نیچی رکھنا جیسے بے شمار امراض ٹھیک کرنے کی صلاحیت لہسن میں موجود ہے۔ انڈیانا یونیورسٹی کے ڈاکٹر ”مائیکل ٹیسنے“ کا کہنا ہے کہ لہسن سے مختلف پھپھوند کی پیدائش کو بھی روکا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ لہسن آپ کو معالج اور دوائوں کے کثیر اخراجات سے بھی بچا سکتا ہے۔ لہسن کی بدبو دور کرنے کے لیے اجوائین چبائی جاسکتی ہے۔ مختصر یہ کہ لہسن اپنی غذا میں شامل رکھیں اور اس کے کمالات دیکھ کر خدا کے عطیات کے شکر گزار ہوں۔ لیکن لہسن کے ساتھ ہومیوپیتھک دوا نہ استعمال کریں۔اگر کسی مرض کے لیے دوا استعمال کرنا ہو تو دو گھنٹہ کا وقفہ ضروری ہے۔ ویسے بھی لہسن کا ایک جوا روز ناشتہ کے بعد لے لینا کافی ہے۔
  10. ٹماٹر کو ہر قسم کے صحت دینے والے اجزاء کا خزانہ مانا جاتا ہے۔ اسے لازمی روزمرہ کی خوراک میں شامل رکھنا چاہیے۔ ٹماٹر میں ایک جزو lycopene وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اور یہ کینسر کے خلاف مقابلہ کرنے میں انتہائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ یہ کینسر کے سیلز بننے نہیں دیتا۔ ٹماٹر کھانے سے ذیا بیطس کے مریض کو فائدہ ملتا ہے اور اس کا بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں رہتا ہے۔ پوٹاشیم اور وٹامن بی کی مقدار کی وجہ سے بلڈ پریشر نارمل رہتا ہے اور ہائی کولیسٹرول لیول کو بھی کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ غرض ٹماٹر کچا پکا ہر طرح سے کھانا سودمند ہے۔
  11. Good going dear keep it up
  12. Girl brave ho gi mager jis maqsad k lie use hoi ha wo acha nahi ha
  13. Shukriya Jaani ek ap hi ho jo hamaray Fun ki qader kertay ho
  14. Welcome dear Ali Jan Abhi to hum hi hain jab koi Girl Welcome karay gi to add bhi ker lay gi

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.