Everything posted by khoobsooratdil
-
اردو میں رومانوی شاعری
کہاں میرے بوبز کی جان لیوا لکیر۔۔۔۔😍ا اورکہاں تم، لکیر کے فقیر۔۔۔😜
-
جادوئی درخت
سوانجنا @سوانجھڑو 82 سال کی عمر میں فٹنس چاہتے ہیں تو یہ چند پتے کھالیجئے! اس وقت شاہ صاحب نے اس درخت کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس درخت کے خشک پتے ہماری خوراک ہوتی تھی۔ ہم صبح ہتھیلی بھر کر پانی کے ساتھ یہ کھا لیتے تھے اور پھر دن بھر کسی چیز کی طلب نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی کمزوری ہوتی۔ یہ ہم سادھوئوں کی خوراک تھی میں ایک دن انٹرنیٹ پر نئی تحقیق کی فائلیں چھان رہا تھا کہ میری نظر ایک فائل پر پڑی The Miracle Tree ’’یعنی معجزاتی درخت‘‘ میں فوراً اس کی طرف لپکا اور اسے پڑھنا شروع کیا، کہ یہ معجزاتی درخت 300بیماریوں کا کامل علاج ہے جو کسی نہ کسی غذائی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس درخت کے خشک پتے 50گرام طاقت میں برابر ہیں۔ 4گلاس دودھ، 8مالٹے، 8 کیلے، 2پالک کی گڈیاں، ۲کپ دہی،18ایمائنو ایسڈز، 36 وٹامن او 96اینٹی اوکسیڈینٹ ‘میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا کہ یہ پودا کتنا طاقتور ہے، سبحان اللہ، وٹامن اے گاجر میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں چار گناہ زیادہ ہے۔ فولاد پالک میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں چار گناہ زیادہ ہے۔ پوٹاشیم کیلے میں بہت زیادہ ہے مگر اس میںتین گنا زیادہ ہے۔ وٹامن سی مالٹے میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں سات گنا زیادہ ہے اسی طرح ان افادیت کی ایک لمبی فہرست ہے، جب اتنے فوائد پڑھ چکا تو درخت کی شناخت کی فکر پیدا ہوئی۔ بالکل سمجھ نہ آئے کہ کون سا پودا ہے، گرم ماحول اور ریتلی زمین میں آسانی سے کاشت ہوتا ہے۔ میں پہلے تو یہی سمجھا کہ یہ درخت اسی امریکن خطے کا کوئی پودا ہے آن لائن سرچ میں اس کے بیج دیکھے جودس ڈالر کےصرف بیس بیج تھے۔ سوچا پاکستان لے چلوں اور اپنے ملک میں اس نادر پودے کو لگائو، اگلی رات یہ میرے ذہن پر ایک نقش کی طرح سوار رہا۔ میں نے صبح دوبارہ اس کا نام جاننے کی کوشش کی تو گوگل پر ایک لمبی لسٹ آئی اس میں اس درخت کا نام پڑھ کر جھٹکا سا لگا کہ یہ درخت اتنی اہمیت کا ہے، گائوں کے لوگ اس کی پھلیوں کا اچار ڈالتے رہے اور پرانے لوگ نظر تیز کرنے کیلئے سرمہ میں اس کا جوس ڈالتے تھے، اندھراتا (شب کوری) میں مستند سمجھا جاتا تھا۔ کاش وہ لوگ اس وٹامن اے کے خزانے کے راز سے واقف ہوتے، میں نے پہلی بار یہ درخت چالیس سال قبل ایک درویش سید میراں شاہ مرحوم کے باغ میں دیکھا، انہوں نے اس کا تعارف کچھ اس طرح کروایا کہ آئو آپ کو آج اپنے باغ کی سیر کروائوں‘ وہ مختلف پودوں پر سیر حاصل بات کرتے ہوئے جب اس درخت کے قریب پہنچے تو فرمانے لگے میری عمر سو سال کے لگ بھگ ہے میں نے جوانی سادھو کے بھیس میں کئی ملکوں کا سفر کیا، ہم لوگ برما، انڈونیشیا، ملائیشیا میں پیدل پھرے، چونکہ اس لمبے سفر میں اپنے ساتھ زیادہ خورددنوش کا سامان نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت شاہ صاحب نے اس درخت کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس درخت کے خشک پتے ہماری خوراک ہوتی تھی۔ ہم صبح ہتھیلی بھر کر پانی کے ساتھ یہ کھا لیتے تھے اور پھر دن بھر کسی چیز کی طلب نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی کمزوری ہوتی۔ یہ ہم سادھوئوں کی خوراک تھی۔ میں نے دل ہی دل میں اسے اتنی اہمیت نہ دی، اور آگے بڑھ گئے، اب کئی برس کے بعد میں پاکستان پہنچا تو خصوصی طور پر شاہ کے باغ میں گیا اور اس عظیم پودے کو دوبارہ دیکھا اور اپنی نادانی پر خفت ہوئی۔ دوستو! اب میرا یہ ماننا ہے کہ جس صحن میں یہ درخت نہیں وہ گھر صحت مندنہیں۔ میں نے 2010میں پہلی بار یہ دوا اپنے دوست احسان صاحب کو ان کی والدہ کی بیماری پر تجویز کی، احسان صاحب کہنے لگے والدہ کی عمر 82سال ہے اور ان کے جسم میں بہت کمزوری آچکی ہے اب کھڑا ہونا ہی مشکل ہورہا ہے۔ میں نے تفصیل سے انہیں اس پودے کا بتایا کیونکہ وہ بانٹی میں ڈگری ہولڈر ہیں۔ انہوں نے اس کی تفصیل پڑھی اور والدہ کو استعمال کروائی ایک دن احسان صاحب نے بتایا کہ والدہ بالکل ٹھیک ہیں صحت اتنی بہتر ہوئی کہ انہوں نےرمضان کے روزے بھی رکھے پھر اس دوا سے اپنے خاندان کے21 آدمیوں کی شوگر کنٹرول کرکے صحتمند ڈگر پر لے آئے۔ لاہور میں ایک حکیم صاحب کو بتانے کی دیر تھی انہوں نے تین سو گرام سوہانجنا پائوڈر کے 6 ہزار روپے ذیابیطس کے علاج کے لینے شروع کردیئے، حالانکہ بہاولپور کے علاقہ میں یہ خودرو جنگل کے طور پر ہیں، اب فیصل آباد زرعی یونیورسٹی اس کا لٹریچر عوام میں تقسیم کررہی ہے، اور فری بیج بھی دیئے جارہے ہیں‘ آن لائن بھی اس کا لنک موجود ہے بہرحال میں نے یہاں امریکہ میں ۲۵ ڈالر میں ایک پائونڈ پائوڈر خریدا ہے۔ اس کے خشک پتوں کا قہوہ پریشانیوں اور دبائو میں سکون بخشتا ہے اور بھرپور نیند لاتا ہے، قبض کے مریضوں کے لئے آب حیات ہے، خون کی کمی کی وجہ سے چہرے کی چھائیوں کو بھگانے میں تیر بہدف ہے، کسی بھی طرح کی کمزوری کا واحد حل ہے، حاملہ عورتوں اور بچوں کو بھی استعمال کروایا جاسکتا ہے، افریقہ کے قحط کے دوران ایک چرچ نے یہ پودے غذائی کمی کے شکار لوگوں میں تقسیم کئے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا اس کی گرویدہ ہوگئی آئیے آج ہی سوہانجنا کا پودا گھر میں لگا کر صحتمند زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ پودا ۳۰۰ بیماریوں کا علاج جو غذا کی کمی کے باعث کسی نہ کسی روپ میں ابھرتی ہیں۔ اب اس طاقت کے خزانے کا راز اب تک پہنچ چکا ہے جسے تمام عمر استعمال میں لانا اور اگلی نسل کو منتقل کرنا ہے۔ نوٹ۔ یہ دوا بطور غذا گھروں میں رواج دیں اور صحتمند نسلوں کے مربی بنیں غیر فطری علاج اسٹیرائیڈ آرٹی فیشل وٹامنز کی رنگ برنگی دوائیوں کی بجائے قدرت کے اس خزانے سے فائدہ اٹھائیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے انسان کے لیے صحت کے ایک خزانے کی شکل میں پیدا کیا ہے
-
جعلی پیر
کہانی کی شروعات تو اچھی ہے ایک بہترین معاشرتی ٹاپک نظر آ رہا ہے مگر ایک تو اپڈیٹ بہت سلو ہے اور دوسرا یہ درخواست ہے کہ ایک سین شروع کیا ہے تو کم از کم اس کو مکمل کر کے انتظار کروائیں اب سہاگ رات کے سین کو بیچ درمیان میں چھوڑ کے غائب ہو گئے یہ چیز مزے کو کرکرا کرنے والی ہے اور پلیز اپڈیٹ میں ڈاکٹر صاحب سے مقابلہ مت کیجیے گا
-
ہوس از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
Buhat jaldi kaam seekh raha ha bacha
-
ہوس از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
Zabardast plot ha Dr sahab yaqeenan buhat maza aanay wala ha is kahani me bhi or ye hamaray aas paas ki ek haqeeqat bhi ha
-
مجھے تم سے محبت ہے
بہت ہی زبردست شاعری ہے جناب
-
صرف تیرا عشق
عشق ہو تیری زات ہو پھر عشق حسن کی بات ہو کبھی میں ملوں کبھی تو ملے کبھی ہم دونوں چپ چاپ ہوں کبھی گفتگو کبھی تزکرے کبھی زکر ہو کوئی بات ہو کبھی میں تیری کبھی تو میرا کبھی ایک دوجے کے ہم رہیں کبھی رنجشیں کبھی دوریاں کبھی قربتیں کبھی الفتیں کبھی جیت ہو کبھی ہار ہو نا نشیب ہوں نا اداس ہوں صرف تیرا عشق ہو میری زات
-
محبت اور کہانی
تمہیں کیسے بتائیں ہم محبت اور کہانی میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا کہانی میں تو ہم واپس بھی آتے ہیں محبت میں پلٹنے کا کوئی رستہ نہیں ہوتا ذرا سوچو! کہیں دل میں خراشیں ڈالتی یادوں کی سفاکی کہیں دامن سے لپٹی ہے کسی بھولی ہوئی ساعت کی نم ناکی کہیں آنکھوں کے خیموں میں خراغِ خواب گل کرنے کی سازش کو ہوادیتی ہوئی راتوں کی چالاکی مگر میں بندہ خاکی نہ جانے کتنے فرعونوں سے اُلجھی ہے مرے لہجے کی بے باکی مجھے دیکھو مرے چہرے پہ کتنے موسوں کی گرد اور اس گرد کی تہہ میں سمے ی دھوپ میں رکھا اک آئینہ اور آئینے میں تاحد نظر پھیلے محبت کے ستارے عکس بن کر جھلملاتے ہیں نئی دنیاؤں کا رستہ بتاتے ہیں اسی منظر میں آئینے سے الجھی کچھ لکیریں ہیں لکیروں میں کہانی ہے کہانی اور محبت میں ازل سے جنگ جاری ہے محبت میں اک ایسا موڑ آتا ہے جہاں آکر کہانی ہار جاتی ہے کہانی میں کچھ کردار ہم خود فرض کرتے ہیں محبت میں کوئی کردار بھی فرضی نہیں ہوتا کہانی میں کئی کردار زندہ ہی نہیں رہتے محبت اپنے کرداروں کو مرنے ہی نہیں دیتی کہانی کے سفر میں منظروں کی دھول اڑتی ہے محبت کی مسافر راہ گیروں کو بکھرنے ہی نہیں دیتی محبت اک شجر ہے اور شجر کو اس سے کیا مطلب کہ اس کے سائے میں جو بھی تھکا ہارا مسافر آکے بیٹھا ہے اب اس کی نسل کیا ہے دنگ کیسا ہے کہاں سے آیا ہے کس سمت جانا ہے شجر کا کام تو بس چھاؤں دینا ہے دھوپ سہنا ہے اسے اس سے غرض کیا ہے پڑاؤ ڈالنے والوں میں کس نے چھاؤں کی تقسیم کا جھگڑا اُٹھا یا ہے کہاں کس عہد کو توڑا کہاں وعدہ نبھایا ہے مگر ہم جانتے ہیں چھاؤں جب تقسیم ہوجائے تو اکثر دھوپ کے نیزے رگ و پے میں اترتے ہیں اور اس کے زخم خوردہ لوگ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔۔۔ ۔۔
-
اب ایسی محبت کیا کرنى،
کہنے کو محبت ہے لیکن ، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ جو نیند چُرا لے آنکھوں سے، جو خواب دکھا کر آنکھوں کو، تعبیر میں کانٹے دے جاۓ، جو غم کی کالی راتوں سے، ہر آس کا جگنو لے جائے، جو خواب سجاتی آنکھوں کو، آنسو ہی آنسو دے جائے، جو مشکل کر دے جینے کو، جو مرنے کو آسان کرے، وہ دل جو پیار کا مندر ہو، اس مندر کو برباد کرے، اور یادوں کو مہمان کرے، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ جو عمر کی نقدی لے جائے، اور پھر بھی جھولی خالی ہو، وہ صورت دل كا روگ بنے، جو صورت دیکھی بھالی ہو، جو قیس بنا دے انساں کو، جو رانجھا اور فرہاد کرے، جو خوشیوں کو برباد کرے، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟ دیکھو تو محبت بارے میں، ہر شخص یہی کچھ کہتا ہے، سوچو تو محبت کے اندر، اک درد ہمیشہ رہتا ہے، پھر بھی جو چیز محبت ہوتی ہے، کب ان باتوں سے ڈرتی ہے، کب انکے باندھے رکتی ہے، جس دل میں اسنے بسنا ہو، بس چپکے سے بس جاتی ہے، اک بار محبت ہو جائے، پھر چاہے جینا مشکل ہو، یا جھولی خالی رہ جائے، یا آنکھیں آنسو بن جائیں، پھر اسکی حکومت ہوتی ہے، آباد کرے، برباد کرے، اک بار محبت ہو جائے، کب ان باتوں سے ڈرتی ہے، کب کسی کے روکے رکتی ہے، اب ایسی محبت کیا کرنی،؟؟ :-)
-
ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ
ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮨﺮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺻﻼﺣﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﻲ ﭘﮍﮬﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﯿﺠﯿﮯ۔۔ ﺻﻨﻒ ﻧﺎﺯﮎ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﻮﻥ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺟﯿﻮﻥ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺟﺲ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﺷﺮﻡ ﺣﯿﺎﺀﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ، ﻋﺰﺕ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺳﺮﺣﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺰﺕ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻡ ﻭ ﺣﯿﺎﺀﮐﯽ ﺍﻋﻠﯽٰ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﯿﮟ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻋﻔﺖ ﻭ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﮑﺮ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﮐﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﺎ ﺭﺟﺤﺎﻥ ﻣﺎﮈﺭﻥ ﺍﺯﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺣﺎﻻﺕ ﮔﻤﺒﮭﯿﺮ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﭘﺮ ﮔﺎﻣﺰﻥ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﯾﻠﻨﭩﺎﺋﻦ ﮈﮮ، ﺍﭘﺮﯾﻞ ﻓﻮﻝ ﻭﺩﯾﮕﺮ ﻏﯿﺮ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺳﺮﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺍﺱ ﺑﮯ ﮨﻨﮕﻢ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻏﯿﺮ ﻣﻠﮑﯽ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﺯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﮨﻦ ﺳﮩﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﺍﻭﺭ ﺛﻘﺎﻓﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﺣﺼﮧ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﻗﺪﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﻮ ﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﺴﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﻮﻥ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ﺗﺐ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺗﻮﺟﮧ ﺑﺤﺚ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﺎﺕ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﮐﻼﺱ ﻓﯿﻠﻮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭ، ﮔﻠﯽ، ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻧﮩﺎ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮩﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺧﺎﺹ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﻮﯾﻞ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﯽ ﻗﻄﺎﺭﯾﮟ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺠﺰ ﮐﮯ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﮐﺜﯿﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺩﻭﺷﯿﺰﺍﺋﯿﮟ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺘﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺩﺭﻧﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺟﮭﺎﻧﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻧﻘﺶ ﮐﺮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﻥ ﮐﺎ ﭼﯿﻦ ﻭ ﺁﺭﺍﻡ، ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﺲ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺍﺗﻔﺎﻗﯽ ﭘﺮ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﺮ ﭘﻞ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎﺋﯿﮟ، ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻟﺐ ﭘﺮ ﺭﻗﺺ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭘﮍﮬﺎ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﮩﺎﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﯾﮧ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﻻﯾﻌﻨﯽ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﮐﮭﯿﺘﯽ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻧﻨﮭﺎ ﺳﺎ ﭘﻮﺩﺍ ﻭﻗﺖ ﺑﯿﺘﻨﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻨﺎﺁﻭﺭ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻋﻔﺖ ﻭ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﮑﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﺗﯽ ﺧﺮﺍﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﯾﮧ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺑﮯ ﺧﻮﺩ ﯼ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺩﮨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺎ ﻣﮑﻤﻞ ﺣﻖ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﯿﺮ ﺷﺮﻋﯽ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﻞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺁﺝ ﮐﺎ ﺟﯿﺘﺎ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﯾﮧ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﮯ ﺻﺒﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﻭﺭ ﮐﺮﺍ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮧ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺩﮨﺎﻧﯽ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻮ ﮔﻮﯾﺎ ﻭﮦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻟﭩﻮ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺮ ﻣﺮ ﻣﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﻭﻋﺪﮮ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﺮ ﺣﺪ ﮐﻮ ﭘﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﮐﺮﭼﮑﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﺣﻖ ﺩﺍﺭ ﭨﮭﮩﺮﺍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻣﻘﺼﺪ ﺑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺯﻭﺍﻝ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺳﯿﮍﯼ ﮐﻮ ﻋﺒﻮﺭ ﮐﺮﭼﮑﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺩﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂ ﯾﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﺭﯾﺖ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﮍﻡ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺗﻔﺎﻗﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﻡ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﻮﺱ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﺎ ﮐﯽ ﺷﻔﻘﺖ، ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻏﯿﺮﺕ، ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺲ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﻤﺘﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﯾﮧ ﻋﻔﺖ ﻭ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﮑﺮ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺮﭼﯽ ﮐﺮﭼﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﺘﯽ ﭨﻮﭨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﯽ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﯼ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺑﯿﻮﭘﺎﺭﯼ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻟﻮﭦ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺘﺎ۔ ﯾﻮﮞ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺩﺭ ﺩﺭ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﯾﮧ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﺗﮏ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺧﻮﺩﮐﺸﯿﻮﮞ، ﻣﻨﺸﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ، ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺧﺮﺍﺑﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﺌﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﮯ ﺑﺪﻧﻤﺎ ﺩﺍﻍ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﮕﮧ ﺟﮕﮧ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺩﺳﻤﺒﺮ 2012 ﺀﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺧﻮﺩﮐﺸﯿﻮﮞ ﮐﮯ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮧ ﻣﻠﻮﺙ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺧﺎﺹ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮫ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﺎﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻠﮏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﻤﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺳﺮﮔﺮﻡ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﻋﮑﺎﺳﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻧﻮﺟﻮﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺟﮍﺗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﯾﮩﯿﮟ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﺭﮨﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﺑﻌﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺐ ( ﺧﺪﺍ ﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ) ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺁﺝ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﻣﭩﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﯿﮟ۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻗﺪﻡ ﮐﻮ ﺧﻮﺏ ﺳﻮﭺ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ، ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﺱ ﻧﺎﺑﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺟﻮ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﭩﮏ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﺮﮔﺰ ﺗﻠﺦ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮔﺰﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﮬﻨﮓ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﮐﻮﻥ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﺑﺮﺍ؟، ﺍﺱ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﮑﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﭼﻠﻨﺎ ﺳﯿﮑﮭﺎﯾﺎ۔ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﺎ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺣﻘﯿﺖ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺑﮭﻼ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﻮﺟﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺻﻨﻒ ﻧﺎﺯﮎ ﮐﻮ ﭨﺸﻮ ﭘﯿﭙﺮﺯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺭﻗﻢ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﺍﺱ ﺧﻠﻖ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺣﺪ ﺗﮏ۔ ﮨﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮐﺮ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﻣﺸﺎﻭﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺗﻠﺨﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺎﻧﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﮭﺘﺎﻭﮮ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺮﺗﯿﮟ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﮨﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﮮ۔ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺁﭖ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﺟﺴﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺳﻮﭼﺎ ﺗﮏ ﻧﮧ ﮨﻮ۔ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﭘﺮﺳﺖ ﺍﻋﻠﯽٰ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺑﺲ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ، ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﭘﺮﺳﺖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﺩﯾﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﻋﺎﺋﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺧﻮﺏ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﯼ ﺗﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﭩﮭﻦ ﺣﺎﻻﺕ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮﮨﺮ ﮔﺰ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟ ﺳﺐ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺧﻮﺩﮐﺸﯿﺎﮞ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﮟ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ۔ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﺜﺎﻟﯽ ﮐﮩﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﺣﻘﺪﺍﺭ ﭨﮭﮩﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
-
عشق
ﺳﯿـﺪﯼ ﻋﺸﻖ ﮐﻮ ﺣﻖ ہے ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺴﻤﺎﺭ ﮐﺮﮮ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﺁﻣﯿﻦ ﮐﺮﻭﮞ گی ﺟﻮ ﯾﮧ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﺮﮮ ہم ﻧﮯ ﺍﮮ ﻋﺸﻖ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺮﺷﺪ ﻣﺎﻧﺎ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺟﺮٰﺍﺕ ہے ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﮮ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﯽ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﮐﺮﻭ ﻭﺍﺟﺐ ہے یہ ﯾﮧ ﻭﮦ ﻭﺭﺩ ہے ﺟﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ہے ﻋﺸﻖ ﺑﮭﻼ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺧﺮﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﻮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯽ ہے ﻭﮦ ﺍﺏ ﻭﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﮨﺎﮞ ﺍُﺳﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﻣﺬﮨﺐ ﻣﯿﮟ "ﻭﻟﯽ"ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ہوﻧﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺍﻋﻼﻥ ﺳﺮِ ِ ﺩﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﺁﺝ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﺎ ﻧﮧ ہو ﺟﺎﺋﮯ میرﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺑﺪﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﻋﺸﻖ ﺳﯿﺪ ہے ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ہے ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﭼﮭﻮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺎﺣﺐِ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﺮﮮ ﺳﻮﺭﮦِ ﻧﻮﺭ ﻣﻠﮯﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﺴﻞ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺗﮯ ہوﺋﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﺮﮮ
-
Mardon k Nipples Q hotay han ?
ہم میں سے اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ مردوں کو جب ضرورت ہی نہیں ہوتی تو ان کے Nipples آخر کیوں ہوتے ہیں___؟ ڈی این اے: DNA ہر جاندار خلیے میں موجود ایک زپ نما مالیکیول ہے، تخلیق کا پورا عمل اسی میں چھپا ہے، ویسے تو DNA میں ایک پوری کائنات چھپی ہے، لیکن اس وقت ہمارا موضوع DNA نہیں بلکہ Chromosome ہے- کروموسوم: Chromosomes تخلیق کے مرکزی کردار ہیں- ڈی این اے کے اندر 46 کروموسومز ہوتے ہیں اور مرد کا آدھا ڈی این اے یعنی 23 کروموسومز اور اسی طرح عورت کا آدھا ڈی این اے یعنی 23 کروموسومز مل کر بچے کی خصوصیات کا تعین کرتے ہیں، دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک مردانہ سپرم میں 23 کروموسومز ہوتے ہیں جبکہ ایک زنانہ بیضے میں بھی 23 کروموسومز ہوتے ہیں اور تخلیق کے عمل میں کروموسومز کے یہی 23 جوڑے حصہ ڈالتے ہیں، ہر جوڑا مختلف خصوصیات کا حامل ہوتا ہے، خصوصیات: مثلاً بچے کی فیزیک ،نیچر یعنی طبیعت، رنگ، ہاتھوں پیروں کی بناوٹ، قد، نین نقوش، ذہانت یہاں تک کے آنکھوں اور بالوں کے رنگ اور ہر ہر خصوصیت کا تعین کروموسومز کے یہی 23 جوڑے کرتے ہیں اور انہی 23 میں سے 1 جوڑا جنس کا تعین بھی کرتا ہے، جنس کا تعین کرنے والے کروموسومز کی شکل انگریزی کے حروف ایکس X اور وائے Y سے مشابہت رکھتی ہے تبھی انہیں ایکس اور وائے کروموسومز کہا جاتا ہے- (تصویری مثالیں کمنٹس میں) ؛ X+X = Female Baby ؛ X+Y = Male Baby ماں کے ڈی این اے میں جنس کا تعین کرنے والے دونوں کروموسومز ہمیشہ XX ہوتے ہیں اس لیے ماں ڈی این اے کا جو بھی آدھا حصہ ٹرانسفر کرے ہر دو صورتوں میں ایکس کروموسومز ہی ٹرانسفر ہوگا، جبکہ باپ کے ڈی این اے میں جنس کا تعین کرنے والے دو کروموسومز میں سے ایک ہمیشہ X اور دوسرا یا تو X ہوگا یا Y، اس لیے باپ کی طرف سے ڈی این اے کا آدھا ٹرانسفر کیا جانے والا حصہ کبھی تو وائے کروموسوم ٹرانسفر کر دیتا ہے کبھی ایکس، آسان لفظوں میں یہ سسٹم "ٹاس" کی ہی طرح کام کرتا ہے، یعنی بائے چانس، ہیڈ یا ٹیل، "مرد کی پیدائش کے عمل کی شروعات میں ہمیشہ ایکس کروموسوم ہی نشوونما پاتا ہے اور پہلے پانچ سے چھ ہفتے ہر شخص، جی ہاں ہر شخص عورت ہی کی طرح بنتا ہے اور پھر پینتیس سے چالیس دن کے بعد وائے کروموسوم ایکٹو ہوتا ہے، یوں زنانہ آرگنز کی تخلیق رک جاتی ہے اور مردانہ آرگنز کی تخلیق شروع ہوتی ہے- مردوں کے سینے پر نظر آنے والے یہ نپلز اسی پیچیدہ تخلیقی عمل کی چغلی کھاتے ہیں-" اس سب سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا انحصار سو فیصد مرد پر ہوتا ہے لیکن علم و تحقیق سے نا آشنا معاشرے میں طعنے عورت کو دیئے جاتے ہیں- یہاں جب ایک عورت مسلسل لڑکیاں پیدا کرتی ہے تو مرد دوسری عورت تلاش کرتا ہے، حالانکہ سائنسی اصول کے تحت تو عورت کو دوسرا مرد تلاش کرنا چاہئیے : ) اور ہاں.... اب یہ سب کچھ جان لینے کے بعد "آپکو" عورت کو خود سے کمتر سمجھنے سے باز آ ہی جانا چاہیے- پاکستان کا میڈیا ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی سے دور لے کر جا رہا ہے، ہمارے سو سے زائد ٹیلی ویژن چینلز سائنس اور ٹیکنالوجی کے متعلق کوئی ایک پروگرام دکھانے سے بھی قاصر ہیں، البتہ میڈیا پر فضولیات اور لغویات پےشمار، ایسے میں ہمیں بحیثیت فرد اور بحیثیتِ کمیونٹی سائنس کو سمجھنے اور اس کے متعلق جاننے اور کائنات پر غور فکر کرنے کی ازخود کوشش کرنی ہے
-
اردو فن کلب میں مزید چند تبدیلیاں
OK to is hisab se meri membership to 5 years se above ho chuki ha to ab 20 years wali kitnay me milay gi?
-
نادان چوہا
Buhat zaberdast sabaq aamoz tehreer ha
-
اردو فن کلب میں مزید چند تبدیلیاں
Acha faisala ha sir g jab kisi section ka rahnuma hi koi kaam na karay to baqi member kia rahnumaee hasil karain gy me to buhat pehly apse apnay baray me b keh chuka hon meri modrater ship b wapas ly lain q k me b proper time ni dy PA raha ye uhday or forum k sath ziyadati ha . Bas ek request ha k Jo bunyadi asool thy un ko na badla Jay k start me Jo paid member ship di gae thi wo. life time thi mager ab her month request per Hi active ki jati ha is se me mutmain nahi hon or aisi cheezain b kafi disheart kerti han jab k baqi forums me jab paid member ban gay to saal ha saal se chahay kaam karain ya na karain ap ki ki paid member ship deactive nahi ki jati is per Zara thanday dil se ghour fermain shukriya
-
Nooran Kanjri
Jawan dil pasand kerny ka buhat shukriya asal me zahir or batin dono Deen ka hissa han mager masla ye ha hum kuch hissa paker lia ha kuch chor dia ha yahan b yahi baat ha k molvi NY zahir ko dekha or batin per tawaja na di .
-
Nooran Kanjri
نوراں کنجری..... دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخو پورےکے امیر محلے کی جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی. وجہ یہ تھی کے میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پے تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ. جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظھار افسوس کرتا تھا محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی. تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولا، .قبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں.’ میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا’ پھر الله بھلا کرے میری بیوی کا جس نے مجھے تسلی دی اور سمجھایا کہ امامت ہی توہے، کسی بھی مسجد میں سہی. اور میرا کیا ہے؟ میں تو ویسے بھی گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی. پردے کا کوئی مسلہ نہیں ہوگا. اور پھر ہمارے کونسے کوئی بچے ہیں کے ان کے بگڑنے کا ڈر ہو۔ بیوی کی بات سن کر تھوڑا دل کو اطمینان ھوا اور ہم نے سامان باندھنا شروع کیا. بچوں کا ذکر چھڑ ہی گیا تو یہ بتاتا چلوں کے شادی کے بائیس سال گزرنے کے باوجود الله نے ہمیں اولاد جیسی نعمت سے محروم ہی رکھنا مناسب سمجھا تھا. خیر اب تو شکوہ شکایت بھی چھوڑ چکے تھے دونوں میاں بیوی. جب کسی کا بچہ دیکھ کر دل دکھتا تھا تو میں یاد الہی میں دل لگا لیتا اور وہ بھلی مانس کسی کونے کھدرے میں منہ دے کر کچھ آنسو بہا لیتی۔ سامان باندھ کر ہم دونوں میاں بیوی نے الله کا نام لیا اور لاہورجانے کے لئے ایک پرائیویٹ بس میں سوار ہوگئے. بادامی باغ اڈے پے اترے اور ہیرا منڈی جانے کے لئے سواری کی تلاش شروع کی. ایک تانگے والے نے مجھے پتا بتانے پر اوپر سے نیچے تلک دیکھا اور پھر برقع میں ملبوس عورت ساتھ دیکھ کر چالیس روپے کے عیوض لے جانے کی حامی بھری. تانگہ چلا تو کوچبان نے میری ناقص معلومات میں اضافہ یہ کیہ کر کیا کہ ‘میاں جی، جہاں آپ کو جانا ہے، اسے ہیرا منڈی نہیں، ٹبی گلی کہتے ہیں پندرہ بیس منٹ میں ہم پوہنچ گئے. دوپہر کا وقت تھا. شاید بازار کھلنے کا وقت نہیں تھا. دیکھنے میں تو عام سا محلہ تھا. وہ ہی ٹوٹی پھوٹی گلیاں، میلے کرتوں کےغلیظ دامن سے ناک پونچھتے ننگ دھڑنگ بچے، نالیوں میں کالا پانی اور کوڑے کے ڈھیروں پے مڈلاتی بےحساب مکھیاں. سبزیوں پھلوں کے ٹھیلے والے اور ان سے بحث کرتی کھڑکیوں سے آدھی باہرلٹکتی عورتیں. فرق تھا تو صرف اتنا کے پان سگریٹ اور پھول والوں کی دکانیں کچھ زیادہ تھیں. دوکانیں تو بند تھیں مگر ان کے نۓ پرانے بورڈ اصل کاروبار کی خبر دے رہے تھے۔ مسجد کے سامنے تانگہ کیا رکا، مانو محلے والوں کی عید ہوگیی. پتہ نہیں کن کن کونے کھدروں سے بچے اور عورتیں نکل کر جمع ہونے لگیں. ملی جلی آوازوں نے آسمان سر پے اٹھا لیا. ‘ابے نیا مولوی ہے’ ‘بیوی بھی ساتھ ہے. پچھلے والے سے تو بہتر ہی ہوگا’ ‘کیا پتہ لگتا ہے بہن، مرد کا کیا اعتبار؟’ ‘ہاں ہاں سہی کہتی ہے تو. داڑھی والا مرد تو اور بھی خطرناک’ عجیب طوفان بدتمیز تھا. مکالموں اور فقروں سے یہ معلوم پڑتا تھا کے جیسے طوائفوں کے محلے میں مولوی نہیں، شرفاء کے محلے میں کوئی طوائف وارد ہوئی ہو. اس سے پہلے کے میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوتا، خدا خوش رکھے غلام شببر کو جو ‘مولوی صاحب’ ‘مولوی صاحب’ کرتا دوڑا آیا اور ہجوم کو وہاں سے بھگا دیا. پتہ چلا کے مسجد کا خادم ہے اور عرصہ پچیس سال سے اپنے فرائض منصبی نہایت محنت اور دیانت داری سے ادا کر رہا تھا. بھائی طبیعت خوش ہوگیی اس سے مل کے. دبلا پتلا پکّی عمر کا مرد. لمبی سفید داڑھی. صاف ستھرا سفید پاجامہ کرتا، کندھے پے چار خانے والا سرخ و سفید انگوچھا. پیشانی پے محراب کا کالا نشان، سر پے سفید ٹوپی اور نیچی نگاہیں. سادہ اور نیک آدمی اور منہ پے شکایت کا ایک لفظ نہیں. بوڑھا آدمی تھا مگر کمال کا حوصلہ و ہمّت رکھتا تھا۔ سامان سمبھالتے اور گھر کو ٹھیک کرتے ہفتہ دس دن لگ گئے. گھر کیا تھا. دو کمروں کا کوارٹر تھا مسجد سے متصل. ایک چھوٹا سا باورچی خانہ، ایک اس سے بھی چھوٹا غسل خانہ اور بیت الخلا اور ایک ننھا منا سا صحن. بہرحال ہم میاں بیوی کو بڑا گھر کس لئے چاہیے تھا. بہت تھا ہمارے لئے. بس ارد گرد کی عمارتیں اونچی ہونے کی وجہ سے تاریکی بہت تھی. دن بارہ بجے بھی شام کا سا دھندلکا چھایا رہتا تھا. گھر ٹھیک کرنے میں غلام شببر نے بہت ہاتھ بٹایا. صفائی کرنے سے دیواریں چونا کرنے تک. تھوڑا کریدنے پے پتا چلا کے یہاں آنے والے ہر امام مسجد کے ساتھ غلام شبّیرگھر کا کام بھی کرتا تھا. بس تنخواہ کے نام پے غریب دو وقت کا کھانا مانگتا تھا اور رات کو مسجد ہی میں سوتا تھا. یوں اس کو رہنے کی جگہ مل جاتی تھی اور مسجد کی حفاظت بھی ہوجاتی تھی ایک بات جب سے میں آیا تھا، دماغ میں کھٹک رہی تھی. سو ایک دن غلام شببر سے پوچھ ہی لیا ‘میاں یہ بتاؤ کے پچھلے امام مسجد کے ساتھ کیا ماجرا گزرا؟’ وہ تھوڑا ہچکچایا اور پھر ایک طرف لے گیا کے بیگم کے کان میں آواز نہ پڑے میاں جی اب کیا بتاؤں آپ کو؟ جوان آدمی تھے اور غیر شادی شدہ بھی. محلے میں بھلا حسن کی کیا کمی ہے. بس دل آ گیا ایک لڑکی پے. لڑکی کے دلال بھلا کہاں جانے دیتے تھے سونے کی چڑیا کو. پہلے تو انہوں نے مولانا کو سمجھنے بجھانے کی کوشش کی. پھر ڈرایا دھمکایا. لیکن مولانا نہیں مانے. ایک رات لڑکی کو بھگا لے جانے کی کوشش کی. بادامی باغ اڈے پر ہی پکڑے گئے. ظالموں نے اتنا مارا پیٹا کے مولانا جان سے گئے’. غلام شبّیر نے نہایت افسوس کے ساتھ ساری کہانی سنائی پولیس وغیرہ؟ قاتل پکڑے نہیں گئے؟’ میں نے گھبرا کر پوچھا’ غلام شبّیر ہنسنے لگا. ‘کمال کرتے ہیں آپ بھی میاں جی. پولیس بھلا ان لوگوں کے چکروں میں کہاں پڑتی ہے. بس اپنا بھتہ وصول کیا اور غائب. اور ویسے بھی کوتوال صاحب خود اس لڑکی کے عاشقوں میں شامل تھے لاحول ولا قوّت الا باللہ…..کہاں اس جہنم میں پھنس گئے.’ میں یہ سب سن کر سخت پریشان ہوا’ آپ کیوں فکر کرتے ہیں میاں جی؟ بس چپ کر کے نماز پڑھیں اور پڑھاہیں. دن کے وقت کچھ بچے آ جایا کریں گے. ان کو قران پڑھا دیں. باقی بس اپنے کام سے کام رکھیں گے تو کوئی تنگ نہیں کرتا یہاں. بلکہ مسجد کا امام اچھا ہو تو گناہوں کی اس بستی میں لوگ صرف عزت کرتے ہیں.’ غلام شبّیر نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوے بتایا تو میری جان میں جان آئی انہی شروع کے ایام میں ایک واقعیہ ہوا. پہلے دن ہی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو دروازے پے کسی نے دستک دی. غلام شبّیر نے جا کے دروازہ کھولا اور پھر ایک کھانے کی ڈھکی طشتری لے کے اندر آ گیا. میری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہنے لگا ‘نوراں نے کھانا بھجوایا ہے. پڑوس میں رہتی ہے’ میں کچھ نا بولا اور نا ہی مجھے کوئی شک گزرا. سوچا ہوگی کوئی الله کی بندی. اور پھر امام مسجد کے گھر کا چولھا تو ویسے بھی کم ہی جلتا ہے. بہرحال جب اگلے دو دن بھی یہ ہی معمول رہا تومیں نے سوچا کے یہ کون ہے جو بغیر کوئی احسان جتاے احسان کیے جا رہی ہے.عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں ہی تھا جب غلام شبّیر کو آواز دے کے بلایا اور پوچھا ‘میاں غلام شبّیر یہ نوراں کہاں رہتی ہے؟ میں چاہتا ہوں میری گھر والی جا کر اس کا شکریہ ادا کرآے’ غلام شبّیر کے تو اوسان خطا ہو گئے یہ سن کر. ‘ میاں جی ، بی بی نہیں جا سکتی جی وہاں میں نے حیرانی سے مزید استفسار کیا تو گویا غلام شبّیر نے پہاڑ ہی توڑ دیا میرے سر پے ‘ میاں جی ، اس کا پورا نام تو پتا نہیں کیا ہے مگر سب اس کو نوراں کنجری کے نام سے جانتے ہیں. پیشہ کرتی ہے جی’ ‘پیشہ کرتی ہے؟ یعنی طوائف ہے؟ اور تم ہمیں اس کے ہاتھ کا کھلاتے رہے ہو؟ استغفراللہ! استغفراللہ’ غلام شبّیر کچھ شرمسار ہوا میرا غصّہ دیکھ کر. تھوڑی دیر بعد ہمّت کر کے بولا: میاں جی یہاں تو سب ایسے ہی لوگ رہتے ہیں. ان کے ہاتھ کا نہیں کھاییں گے تو مستقل چولھا جلانا پڑے گا جو آپ کی تنخواہ میں ممکن نہیں یہ سن کر میرا غصّہ اور تیز ہوگیا. ‘ہم شریف لوگ ہیں غلام شبّیر، بھوکے مر جایئں گے مگر طوائف کے گھر کا نہیں کھاییں گے میرے تیور دیکھ کر غلام شبّیر کچھ نہ بولا مگر اس دن کے بعد سےنوراں کنجری کے گھر سے کھانا کبھی نا آیا جس مسجد کا میں امام تھا، عجیب بات یہ تھی کے اس کا کوئی نام نہیں تھا. بس ٹبی مسجد کے نام سے مشهور تھی. ایک دن میں نے غلام شبّیر سے پوچھا کے “میاں نام کیا ہے اس مسجد کا؟” وہ ہنس کر بولا، “میاں جی الله کے گھر کا کیا نام رکھنا؟” پھر بھی؟ کوئی تو نام ہوگا. سب مسجدوں کا ہوتا ہے.” میں کچھ کھسیانا ہو کے بولا’ بس میاں جی بہت نام رکھے. جس فرقے کا مولوی آتاہے، پچھلا نام تبدیل کر کے نیا رکھ دیتا ہے.آپ ہی کوئی اچھا سا رکھ دیں.” وہ سر کھجاتا ہوا بولا. میں سوچ میں پڑ گیا. گناہوں کی اس بستی میں اس واحد مسجد کا کیا نام رکھا جائے؟ “کیا نام رکھا جائے مسجد کا؟ ہاں موتی مسجد ٹھیک رہے گا. گناہوں کے کیچڑ میں چمکتا پاک صاف موتی.” دل ہی دل میں میں نے مسجد کے نام کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند کو داد دیتا اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں بیوی کھانا لگاے میری منتظر تھی اب بات ہوجاے قرآن پڑھنے والے بچوں کی. تعداد میں گیارہ تھے اور سب کے سب لڑکے. ملی جلی عمروں کے پانچ سے گیارہ بارہ سال کی عمر کے. تھوڑے شرارتی ضرور تھے مگر اچھے بچے تھے.نہا دھو کے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کے آتے تھے. دو گھنٹے سپارہ پڑھتے تھے اور پھر باہر گلی میں کھیلنے نکل جاتے. کون تھے کس کی اولاد تھے؟ نہ میں نے کبھی پوچھا نا کسی نے بتایا. لیکن پھر ایک دن غضب ہوگیا. قرآن پڑھنے والے بچوں میں ایک بچہ نبیل نام کا تھا. یوں تو اس میں کوئی خاص بات نا تھی. لیکن بس تھوڑا زیادہ شرارتی تھا. تلاوت میں دل نہیں لگتا تھا. بس آگے پیچھے ہلتا رہتا اور کھیلنے کے انتظار میں لگا رہتا. میں بھی درگزر سے کام لیتا کے چلو بچہ ہے.لیکن ایک دن ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا. اس دن صبح ہی سے میرے سر میں ایک عجیب درد تھا. غلام شبّیر سے مالش کرائی، پیناڈول کی دو گولیاں بھی کھایئں مگر درد زور آور بیل کی مانند سر میں چنگھاڑتا رہا. درد کے باوجود اور غلام شبّیر کے بہت منع کرنے پر بھی میں نے بچوں کا ناغہ نہیں کیا. نبیل بھی اس دن معمول سے کچھ زیادہ ہی شرارتیں کر رہا تھا. کبھی ایک کو چھیڑ کبھی دوسرے کو. جب اس کی حرکتیں حد سے بڑھ گیئں تو یکایک میرے دماغ پر غصّے کا بھوت سوار ہوگیا اور میں نے پاس رکھی لکڑی کی رحل اٹھا کر نبیل کے دے ماری. میں نے نشانہ تو کمر کا لیا تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کے رحل بچے کی پیشانی پر جا لگی خون بہتا دیکھ کر مجھے میرے سر کا درد بھول گیا اور میں نے گھبرا کر غلام شببر کو آواز دی. وہ غریب بھاگتا ہوا آیا اور بچے کو اٹھا کے پاس والے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گیا. خدا کا شکر ہوا کے چوٹ گہری نہیں لگی تھی. مرہم پٹی سے کام چل گیا اور ٹانکے نا لگے. خیر باقی بچوں کو فارغ کر کے مسجد کے دروازے پے پوہنچا ہی تھا کے چادر میں لپٹی ایک عورت نے مجھے آواز دے کر روک لیا. میں نے دیکھا کے وہ عورت دہلیزپۓ کھڑی مسجد کے دروازے سے لپٹی رو رہی تھی چالیس پینتالیس کا سن ہوگا. معمولی شکل و صورت. سانولا رنگ اور چہرے پے پرانی چیچک کے گہرے داغ. آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور گالوں پر بہتا کالا سرما. زیور کے نام پے کانوں میں لٹکتی سونے کی ہلکی سی بالیاں اور ناک میں چمکتا سستا سرخ نگ کا لونگ. چادر بھی سستی مگر صاف ستھری اور پاؤں میں ہوائی چپپل .کیا بات ہے بی بی؟ کون ہو تم؟” میں نے حیرانگی سے اس سے پوچھا’ .میں نوراں ہوں مولوی صاحب.” اس نے چادر کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا’ نوراں؟ نوراں کنجری؟” میرے تو گویا پاؤں تلے زمین ہی نکل گیئ. میں نے ادھر ادھر غلام شبّیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نبیل کی مرہم پٹی کرا کے اور اس کو اس کے گھر چھوڑنے کے بہانے نجانے کہاں غایب تھا جی. نوراں کنجری!” اس نے نظریں جھکاے اپنے نام کا اقرار کیا. مجھے کچھ دیر کے لئے اپنے منہ سے نکلنے والی اس کے گالی جیسی عرفیت پے شرمدگی ہوئی مگر پھر خیال آیا کے وہ طوائف تھی اور اپنی بری شہرت کی زمہ دار. شرمندگی اس کو ہونی چاہیے تھی، مجھے نہیں. پھر اچانک مجھے احساس ہوا کے میری موتی جیسی مسجد میں اس طوائف کا نا پاک وجود کسی غلاظت سے کم نہیں تھا باہر نکل کے کھڑی ہو. مسجد کو گندا نا کر بی بی”، میں نے نفرت سے باہر گلی کی جانب اشارہ کیا. اس نے کچھ اس حیرانگی سے آنکھ اٹھا کے میری طرف دیکھا کے جیسے اسے مجھ سے اس رویے کی امید نا ہو. ڈبڈبائی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے کسی انکہی فریاد کی لو بھڑکی. لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسوؤں کے پانی میں احتجاج کے ارادے کو غرق کیا اور بغیر کوئی اور بات کئے چلی گی. میں نے بھی نا روکا کے پتا نہیں کس ارادے سے آیئ تھی. اتنی دیر میں غلام شبّیر بھی پوھنچ گیا .کون تھی میاں جی؟ کیا چاہتی تھی؟” غالباً اس نے عورت کو تو دیکھا تھا مگر دور سے شکل نہیں پہچان پایا’ نوراں کنجری تھی. پتا نہیں کیوں آی تھی؟ مگر میں نے بھی وہ ڈانٹ پلائی کے آیندہ اس پاک جگہ کا رخ نہیں کرے گی.” میں نے داد طلب نظروں سے غلام شبّیر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر ستائش کی جگہ افسوس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے وہ بیچاری دکھوں کی ماری اپنے بچے کا گلہ کرنے آی تھی میاں جی. نبیل کی ماں ہے . بچے کی چوٹ برداشت نہیں کر سکی. اور آپ نے اس غریب کو ڈانٹ دیا.” غلام شبّیر نے نوراں کی وکالت کرتے ہوئے کہا تو نبیل نوراں کا بیٹا ہے.ایسی حرکتیں کرے گا تو سزا تو ملے گی. جیسی ماں ویسا بیٹا”. میں نے اپنی شرمندگی کو بیہودگی سے چھپانے کی کوشش کی. ایک لمحے کو خیال بھی آیا کے بچہ تو معصوم ہے اور پھر میں نے زیادتی بھی کی تھی. مگر پھر اپنے استاد ہونےکا خیال آیا تو سوچا کے بچے کی بھلائی کے لئے ہی تو مارا ہے. کیا ہوا. اور پھر ایک طوائف کو کیا حق حاصل کے مسجد کے امام سے شکایت کر سکے .کتنے بچے ہیں نوراں کے؟” میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی’ مسجد میں پڑھنے والے سب بچے نوراں کے ہیں میاں جی. اس کے علاوہ ایک گود کا بچہ بھی ہے. بس اس محلے میں صرف نوراں اپنے بچوں کو مسجد بھیجتی ہے. باقی سب لوگوں کے بچے تو آوارہ پھرتے ہیں.” غلام شبّیر کی آواز میں پھر نوراں کی وکالت گونج رہی تھی. میں نے بھنا کر جواب دینے کا ارادہ کیا ہی تھا کے کوتوال صاحب کی گاڑی سامنے آ کر رکی. خود تو پتا نہیں کیسا آدمی تھا مگر بیوی بہت نیک تھی. ہر دوسرے تیسرے روز ختم کے نام پر کچھ نہ کچھ میٹھا بھجوا دیتی تھی. اس دن بھی کوتوال کا اردلی جلیبیاں دینے آیا تھا. گرما گرم جلیبیوں کی اشتہا انگیز مہک نے میرا سارا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور نوراں کنجری کی بات آیی گیی ہوگیی یہ نبیل کو مار پڑنے کے کچھ دنوں بعد کا ذکر ہے. عشاء پڑھا کے میں غلام شبّیر سے ایک شرعیی معاملے پر بحث میں الجھ گیا تو گھر جاتے کافی دیر ہوگیی. مسجد سے باہر نکلے تو بازار کی رونق شروع تھی. بالکونیوں پر جھلملاتے پردے لہرا رہے تھے اور کوٹھوں سے ہارمونیم کے سر اور طبلوں کی تھاپ کی آواز ہر سو گونج رہی تھی. پان سگریٹ اور پھولوں کی دکانوں پر بھی دھیرے دھیرے رش بڑھ رہا تھا. اچانک میری نظر نوراں کے گھر کے دروازے پرجا پڑی. وہ باہر ہی کھڑی تھی اور ہر آتے جاتے مرد سے ٹھٹھے مار مار کر گپپیں لگا رہی تھی. آج تو اس کا روپ ہی دوسرا تھا. گلابی رنگ کا چست سوٹ، پاؤں میں سرخ گرگابی، ننگے سر پے اونچا جوڑا، جوڑے میں پروۓ موتیے کے پھول، میک اپ سے لدا چہرہ، گہری شوخ لپ سٹک، آنکھوں میں مسکارا اور مسکارے کی اوٹ سے جھانکتی ننگی دعوت لاحول ولا قوت اللہ باللہ” میں نے طنزیہ نگاہوں سے غلام شبّیر کی جانب دیکھا. آخر وہ نوراں کا وکیل جو تھا’ چھوڑئیے میاں جی. عورت غریب ہے اور دنیا بڑی ظالم.” اس نے گویا بات کو ٹالنے کی کوشش کی. مگر میں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا یہ بتاؤ میاں، جب اس کے گاہک آتے ہیں تو کیا بچوں کے سامنے ہی…………………….؟” میں نے معنی خیز انداز میں اپنا سوال ادھورا ہی چھوڑ دیا میاں جی، ایک تو اس کے بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور اس لئے رات کو جلدی سو جاتے ہیں. دوسرا، مہمانوں کے لئے باہر صحن میں کمرہ الگ رکھا ہے.” غلام شبّیر نے ناگوار سے لہجے میں جواب دیا استغفراللہ! استغفراللہ!”. میں نے گفتگو کا سلسلہ وہیں ختم کرنا مناسب سمجھا کیوں کے مجھے احساس ہو چکا تھا کے غلام شبّیر کے لہجے سے جھانکتی ناگواری کا رخ نوراں کی جانب نہیں تھا اس کے بعد نوراں کا ذکر میرے سامنے تب ہوا جن دنوں میں اپنے اور زوجہ کے لئے حج بیت الله کی غرض سے کاغذات بنوا رہا تھا. اس غریب کی بڑی خواہش تھی کے وہ اور میں الله اور اس کے نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوں اور اولاد کی دعا کریں. میرا بھی من تھا کے کسی بہانے سے مکّے مدینے کی زیارت ہوجاے. نام کے ساتھ حاجی لگا ہو تو شاید محکمے والے کسی اچھی جگہ تبدیلی کر دیں. زوجہ کا ایک بھانجا انہیں دنوں وزارت مذہبی امور میں کلرک تھا. اس کی وساطت سے درخواست کی قبولی کی کامل امید تھی. کاغذات فائل میں اکٹھے کیے ہی تھے کے غلام شبّیر ہاتھ میں کچھ اور کاغذات اٹھاے پوھنچ گیا .میاں جی………ایک کام تھا آپ سے. اجازت دیں تو عرض کروں.” اس نے ہچکچاتے کہا’ ہاں ہاں میاں، کیوں نہیں. کیا بات ہے؟” میں نے داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے کنھگی کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا میاں جی، آپ کی تو وزارت میں واقفیت ہے. ایک اور حج کی درخواست بھی جمع کرا دیں.” اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات میری جانب بڑھاے دیکھو میاں غلام شبّیر، تم اچھی طرح جانتے ہو کے میں گھر بار تمہارے ذمے چھوڑ کر جا رہا ہوں. اور پھر تمہارے پاس حج کے لئے پیسے کہاں سے آے؟” میں نے کچھ برہمی سے پوچھا .نہیں نہیں میاں جی. آپ غلط سمجھے. یہ میری درخواست نہیں ہے. نوراں کی ہے.” اس نے سہم کر کہا’ کیا؟ میاں ہوش میں تو ہو؟ نوراں کنجری اب مکّے مدینے جائے گی؟ اور وہ بھی اپنے ناپاک پیشے کی رقم سے؟ توبہ توبہ.” میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گیی یہ واہیات بات سن کر میاں جی. طوائف ہے پر مسلمان بھی تو ہے. اور وہ تو الله کا گھر ہے. وہ جس کو بلانا چاہے بلا لے. اس کے لئے سب ایک برابر”. اپنی طرف سے غلام شبّیر نے بڑی گہری بات کی اچھا؟ الله جس کو بلانا چاہے بلا لے؟ واہ میاں واہ. تو پھر میں درخواست کیوں جمع کراؤں؟ نوراں سے کہو سیدھا الله تعالیٰ کو ہی بھیج دے”. میں نے غصّے سے کہا اور اندر کمرے میں چلا گیا زوجہ کا بھانجا بر خوردار نکلا اور الله کے فضل و کرم سے میری اور زوجہ کی درخواست قبول ہو گیئ. ٹکٹ کے پیسے کم پڑے تو اسی بھلی لوک کے جہیز کے زیور کام آ گئے. الله کا نام لے کر ہم روانہ ہوگئے. احرام باندھا تو گویا عمر بھر کے گناہ اتار کے ایک طرف رکھ دیے. الله کا گھر دیکھا اور نظر بھر کے دیکھا. فرائض پورے کرتے کرتے رمی کا دن آ گیا. بہت رش تھا. ہزاروں لاکھوں لوگ. ایک ٹھاٹھیں مارتا سفید رنگ کا سمندر. گرمی بھی بہت تھی. میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا. زوجہ بیچاری کی حالت بھی غیر ہوتی جا رہی تھی. اوپر سے غضب کچھ یہ ہوا کے میرے ہاتھ سے اس غریب کا ہاتھ چھوٹ گیا. ہاتھ کیا چھوٹا، لوگوں کا ایک ریلا مجھے رگیدتا ھوا پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیا. عجب حالات تھے. کسی کو دوسرے کا خیال نہیں تھا. ہر کوئی بس اپنی جان بچانے کے چکّر میں تھا. میں نے بھی لاکھ اپنے آپ کو سمبھالنے کی کوشش کی مگر پیر رپٹ ہی گیا. میں نیچے کیا گرا، ایک عذاب نازل ہوگیا. ایک نے میرے پیٹ پر پیر رکھا تو دوسرے نے میرے سر کو پتھر سمجھ کر ٹھوکر ماری. موت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگی. میں نے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بںد کی ہی تھیں کے کسی الله کے بندے نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے سہارا دے کر کھڑا کر دیا میں نے سانس درست کی اور اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی طرف نگاہ کی. مانو ایک لمحے کے لئے تو بجلی ہی گر پڑی. کیا دیکھتا ہوں کے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نوراں کنجری کھڑی مسکرا رہی تھی. ‘یہ ناپاک عورت یہاں کیسے آ گیی؟ اس کی حج کی درخواست کس نے اور کب منظور کی؟’ میں نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کہاں صاحب. ایک آہنی گرفت تھی. میں نہیں چھڑا سکا. وہ مجھے اپنے پیچھے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گیی. اس طرف کچھ عورتیں اکٹھی تھی. اچانک میری نظر زوجہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیتاب نگاہوں سے مجمع ٹٹول رہی تھی. ہماری نظریں ملیں تو سب کلفت بھول گیی. میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور آنسو پونچھے .کہاں چلے گئے تھے آپ؟ کچھ ہوجاتا تو؟’ پریشانی سے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے تھے’ بس کیا بتاؤں آج مرتے مرتے بچا ہوں. جانے کون سی نیکی کام آ گیی. میں تو پاؤں تلے روندا جا چکا ہوتا اگر نوراں نہیں بچاتی.’ میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا .نوراں؟ ہماری پڑوسن نوراں؟ وہ یہاں کہاں آ گی؟ آپ نے کسی اور کو دیکھا ہوگا’. اس نے حیرانگی سے کہا’ ارے نہیں. نوراں ہی تھی’. میں نے ادھر ادھر نوراں کی تلاش میں نظریں دوڑایئں مگر وہ تو نجانے کب کی جا چکی تھی. بعد میں بھی اس کو بہت ڈھونڈا مگر اتنے جمے غفیر میں کہاں کوئی ملتا ہے خدا خدا کر کے حج پورا ھوا اور ہم دونوں میاں بیوی وطن واپس روانہ ہوے. لاہور ائیرپورٹ پر غلام شببر پھولوں کے ہاروں سمیت استقبال کو آیا ہوا تھا بہت مبارک باجی. بہت مبارک میاں جی. بلکہ اب تو میں آپ کو حاجی صاحب کہوں گا.’ اس نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو مبارک دی تو میری گردن حاجی صاحب کا لقب سن کراکڑ گیی. میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوے اس کے کندھے پے تھپکی دی اور سامان اٹھانے کا اشارہ کیا ٹیکسی میں بیٹھے. میں نے مسجد اور گھر کی خیریت دریافت کی تو نوراں کا خیال آ گیا. .میاں غلام شببر، نوراں کی سناؤ’. میرا اشارہ اس کی حج کی درخواست کے بارے میں تھا’ .اس بیچاری کی کیا سناؤں میاں جی؟ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟’ اس نے حیرانگی سے میری جانب دیکھا’ .بس ملاقات ہوئی تھی مکّے شریف میں.’ میں نے اس کے لہجے میں چھپی اداسی کو اپنی غلط فہمی سمجھا’ مکّے شریف میں ملاقات ہوئی تھی؟ مزاق نا کریں میاں جی. نوراں تو آپ کے جانے کے اگلے ہی دن قتل ہوگیی تھی.’ اس نے گویا میرے سر پر بم پھوڑا .,قتل ہوگیی تھی؟’ میں نے اچھنبے سے پوچھا’ جی میاں جی. بیچاری نے حج کے لئے پیسے جوڑ رکھے تھے. اس رات کوئی گاہک آیا اور پیسوں کے پیچھے قتل کر دیا غریب کو. ہمیں توصبح کو پتا چلا جب اس کے بچوں نے اس کی لاش دیکھی. شور مچایا تو سب اکٹھے ہوئے. پولیس والے بھی پہنچ گئے اور اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے. ابھی کل ہی میں مردہ خانے سے میّت لے کے آیا ہوں. آج صبح ہی تدفین کی اس کی.’ غلام شببر کی آواز آنسوں میں بھیگ رہی تھی .قاتل کا کچھ پتا چلا؟’ میں ابھی بھی حیرانگی کی گرفت میں تھا.’ پولیس کے پاس اتنا وقت کہاں میاں جی کے طوائفوں کے قاتلوں کو ڈھونڈہے. اس بیچاری کی تو نمازجنازہ میں بھی بس تین افراد تھے: میں اور دو گورکن.’ اس نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا .اور اس کے بچے؟ ان کا کیا بنا؟’ میں نے اپنی آنکھوں میں امڈ تی نمی پونچھتے ہوئے دریافت کیا’کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو زیادہ تر اسے راتوں رات اٹھا کر کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دیا جاتا ہے. وہ سب ایسے ہی بچے تھے. نوراں سب جانتی تھی کے کس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے. بس لڑکا ہوتا تو اٹھا کر اپنے گھر لے آ تی. کہنے کو تو طوائف تھی میاں جی مگر میں گواہ ہوں. غریب جتنا بھی کماتی بچوں پے خرچ کر دیتی. بس تھوڑے بہت الگ کر کے حج پے جانے کے لئے جمع کر رکھے تھے. وہ بھی اس کا قاتل لوٹ کر لے گیا یہ بتاؤ غلام شببر، جب میں نے اس کی درخواست جمع کرانے سے انکار کیا تو اس نے کیا کہا؟’ مجھ پے حقیقتوں کے در کھلنا شروع ہو چکے تھے بس میاں جی، کیا کہتی بیچاری. آنکھوں میں آنسو آ گئے. آسمان کی جانب ہاتھ اٹھاے اور کہنے لگی کے بس تو ہی اس کنجری کو بلاے تو بلا لے’. مجھ پر تو پوچھو گھڑوں پانی پڑ گیا. تاسف کی ایک آندھی چل رہی تھی. ہوا کے دوش میری خطائیں اڑرہی تھیں. گناہوں کی مٹی چل رہی تھی اور میری آنکھیں اندھیائی جا رہی تھیں آپ کیوں روتے ہیں میاں جی؟ آپ تو ناپاک کہتے تھے اس کو.’ غلام شبّیر نے حیرانگی سے میری آنسوں سے تر داڑھی دیکھتے ہوئے کہا کیا کہوں غلام شببر کے کیوں روتا ہوں. وہ ناپاک نہیں تھی. ناپاک تو ہم ہیں جو دوسروں کی ناپاکی کا فیصلہ کرتے پھرتے ہیں. نوراں تو الله کی بندی تھی. الله نے اپنے گھر بلا لیا.’ میری ندامت بھری ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور غلام شببر نا سمجھتے ہوئے مجھے تسّلی دیتا رہا ٹیکسی محلے میں داخل ہوئی اور مسجد کے سامنے کھڑی ہوگیی. اترا ہی تھا کے نوراں کے دروازے پے نظر پڑی. ایک ہجوم اکٹھا تھا وہاں ‘کیا بات ہے غلام شببر؟ لوگ اب کیوں اکٹھے ہیں؟’ میاں جی میرے خیال میں پولیس والے ایدھی سنٹر والوں کو لے کے آے ہیں. وہ ہی لوگ بچوں کو لے جاییں گے. ان غریبوں کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے.’ غلام شببر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا میں نے زوجہ کا ہاتھ پکڑا اور غلام شببر کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نوراں کے دروازے کی جانب بڑھ گیا .کہاں چلے میاں جی؟’ غلام شببر نے حیرانگی سے پوچھا’ نوراں کے بچوں کو لینے جا رہا ہوں. آج سے وہ میرے بچے ہیں. اور ہاں مسجد کا نام میں نے سوچ لیا ہے. آج سے اس کا نام نور مسجد ہوگا
-
بل گیٹس کے نام ایک دلچسپ خط
Wah g sir kia zbardst sharing ki ha abi tk password k taaray ******** nazer aa rahay hn Very nice thread
-
کچرا بابا از کرشن چندر
جب وہ ہسپتال سے باہر نکلا تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور اس کا سارا جسم بھیگی ہوئی روئی کا بنا معلوم ہوتا تھا اور اس کا جی چلنے کو نہیں چاہتا تھا وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ جانے کو چاہتا تھا۔ قاعدے سے اسے ابھی تک ایک ماہ اور ہسپتال میں رہنا چاہئیے تھا مگر ہسپتال والوں نے اس کی چھٹی کر دی تھی، ساڑھے چار ماہ تک وہ ہسپتال کے پرائیوٹ وارڈ میں رہا تھا اور ڈیڑھ ماہ تک جنرل وارڈ میں اس اثنا میں اس کا گردہ نکال دیا گیا تھا اور اس کی آنتوں کا ایک حصہ کاٹ کے آنتوں کے فعل کو درست کیا گیا تھا، ابھی تک اس کے کلیجے کا فعل راست نہیں ہوا تھا اسے ہسپتال سے نکل جانا پڑا، کیونکہ دوسرے لوگ انتظار کر رہے تھے، جن کی حالت اس سے بھی ابتر تھی۔ ڈاکٹر نے اس سے کے ہاتھ میں ایک لمبا سے نسخہ دے دیا اور کہا یہ ٹانک پیو اور مقوی غذا کھاؤ، بالکل تندرست ہو جاؤ گے، اب ہسپتال میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مگر مجھ سے چلا نہیں جاتا، ڈاکٹر صاحب؟ اس نے کمزور آواز میں احتجاج کیا، گھر جاؤ چند دن بیوی خدمت کرے گی بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے، بہت ہی دھیرے دھیرے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے فٹ پاتھ پر چلتے اس نے سوچا گھر؟ میرا گھر کہاں ہے ؟ چند ماہ پہلے ایک گھر ضرور تھا، ایک بیوی بھی تھی،جس کے ایک بچہ ہونے والا تھا، وہ دونوں اس آنے والے بچے کے تصور سے کس قدر خوش تھے، ہو گی دنیا میں زیادہ آبادی، مگر وہ تو ان دونوں کا پہلا بچہ تھا۔ دلاری نے اپنے بچے کے لئے بڑے خوبصورت کپڑے سئیے تھے اور ہسپتال میں لا کر اسے دکھائے تھے اور ان کپڑوں کی نرم سطح پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنے بچے کو بانہوں میں لے کر اسے پیار کر رہا ہوں ، مگر پھر اگلے چند مہینوں میں بہت کچھ لٹ گیا، جب اس کے گرد کا پہلا آپریشن ہوا تو دلاری نے اپنے زیور بیچ دئیے کہ ایسے ہی موقعوں کے لئے ہوتے ہیں ، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیور عورت کے جسن کی افزائش کے لئے ہوتے ہیں ، وہ تو کسی دوسرے درد کا مداوا ہوتے ہیں ، شوہر کا آپریشن، بچے کی تعلیم، لڑکی کی شادی، یہ بینک ایسے ہی موقعوں کے لئے کھلتا ہے اور خالی کر دیا جاتا ہے، عورت تو اس زیور کی تحویل دار ہوتی ہے اور زندگی میں مشکل سے پانچ چھ بار اسے اس زیور کو پہننے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ گردے کے دوسرے آپریشن سے پہلے دلاری کا بچہ ضائع ہو گیا، وہ تو ہو تو ہی دلاری کو دن رات جو کڑی مشقت کرنا پڑ رہی تھی، اس میں یہ خطرہ سب سے پہلے موجود تھا، ایسے لگتا جیسے دلاری کا یہ چھریرا سنہرا بدن اس قدر کڑی مشقت کے لئے نہیں بنایا گیا، اس لئے وہ دانا فرزانہ بچہ ہی میں سے کہیں لٹک گیا تھا، ناسازگار ماحول دیکھ کر اور ماں باپ کی پتلی حالت بھان کر اس نے خود ہی پیدا ہونے سے انکار کر دیا، بعض بچے ایسے ہی عقلمند ہوتے ہیں ، دلاری کئی دنوں تک ہسپتال نہیں آ سکی، اور جب اس نے آ کے خبر دی تو وہ کس قدر رویا تھا، اگر اسے معلوم ہوتا کہ آگے چل کر اسے اس سے کہیں زیادہ رونا پڑے گا، تو وہ اس حادثے پر رونے کے بجائے خوشی کا اظہار کرتا۔ گردے کے دوسرے آپریشن کے بعد اس کی نوکری جاتی رہی، طویل علالت میں یہی ہوتا ہے، کوئی کہاں تک انتظار کر سکتا ہے، بیماری انسان کا اپنا ذاتی معاملہ ہے،اس لئے اگر وہ چاہتا کہ اس کی نوکری قائم رہے تو اسے زیادہ دیر تک بیمار نہ پڑنا چاہئیے، انسان مشین کی طرح ہے، اگر ایک مشین طویل عرصے کے لئے بگڑی رہتی ہے تو اسے اٹھا کے ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ نئی مشین آ جاتی ہے- کیونکہ کام رک نہیں سکتا، بزنس بند نہیں ہو سکتا اور وقت تھم نہیں سکتا، اس لئے جس سے معلوم ہو کہ اس کی نوکری بھی جاتی رہی ہے تو اسے شدید دھچکا سا لگا، جسیے اس کا دوسرا گردہ بھی نکال لیا گیا، اس دھچکے سے اس کے آنسو بھی خشک ہو گئے، اصلی اور بڑیمصیبت میں آنسو نہیں آتے، اس نے محسوس کیا صرف دل کے اندر ایک خلا محسوس ہوتا ہے، زمین قدموں کے نیچے سے کھسکتی معلوم ہوتی اور رگوں میں خون کے بجائے خوف دوڑتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کئی دنوں تک وہ آنے والی زنگی کے خوف اور دہشت سے سو نہیں سکا تھا، طویل علالت کے خرچے بھی طویل ہوتے ہیں ، اور زیر بار کرنے والے ہولے ہولے گھر کی سب قیمتی چیزیں چلی گئیں ، مگر دلاری نے ہمت نہیں ہاری، اس نے ساڑہے چار ماہ تک ایک ایک چیز بیچ دی اور آخر میں نوکری بھی کر لی، وہ ایک فرم میں ملازم ہو گئی تھی، اور روز اپنی فرم کے مالک کو لے کر ہسپتال بھی آئی تھی، وہ ایک دبلا پتلا، کوتاہ قد، ادھیڑ عمر کا شرمیلا آدمی دکھائی دیتا تھا، کم گو اور میٹھی مسکڑاہٹ والا، صورت شکل سے وہ کسی بڑی فرم کا مالک ہونے کے بجائے کتابوں کی کسی دکان کا مالک معلوم ہوتا تھا،دلاری اس کی فرم میں سو روپے مہینے پر نوکر ہو گئی تھی، چونکہ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی، اس لئے اس کا کام لفافوں پر ٹیکٹس لگانا تھا۔ یہ تو بہت آسان کام ہے ؟ دلاری کے شوہر نے کہا۔ فرم کا باس بولا کام تو آسان ہے، مگر جب دن میں پانچ چھ سو خطوں پر ٹیکٹس لگان پڑیں تو اسی طرح کا کام بہت آسان کام کے بجائے بہت مشکل کام ہو جات ہے۔ اور وہ اس منزل سے گز چکا تھا جس وہ کسی کو قصور وار نہیں ٹھہرا سکتا تھا، اتنی چوٹیں پے در پے اس پڑی تھیں کہ وہ بالکل بولا گیا، بالکل سناٹے میں آگیا وہ باطل دم بخور تھا، اب اس کی مصیبت اور تکالیف میں کسی طرح کا کوئی جذبہ یا آنسو نہیں رہ گیا تھا، بار بار ہتھوڑے کی ضربیں کھا کھا کراس کا دل دہات کے ایک پترے کی طرح بے جس ہو گیا، اس لئے آج جب اسے ہسپتال سے نکال گیا تو اس نے ڈاکٹر سے کسی ذہنی تکلیف کی دور کرنے کی شکایات نہیں کی تھی، اس نے اس سے یہ نہیں کہا تھا کہ اب وہ اس ہسپتال سے نکل کر کہاں جائے گا؟اب اس کا کوئی گھر نہیں تھا،کوئی بیوی نہیں تھی،کوئی بچہ نہیں ،کوئی نوکری نہیں ، اس کا دل خالی تھا، اس کی جیب خالی تھی، اور اس کے سامنے ایک خالی اور سپاٹ مستقبل تھا۔ مگر اس نے یہ سب کچھ نہیں کہا تھا،اس نے صرف یہ کہا تھا؟ ڈاکٹر صاحب مجھ سے چلا نہیں جا رہا ہے، بس یہی ایک حقیقت تھی جو اسے اس وقت یاد تھی، باقی ہر بات اس کے دل سے مجو ہو سکتی ہے، اس وقت چلتے چلتے وہ صرف یہ محسوس کر سکتا تھا کہ اس کا جسم گیلی روئی کا بنا ہوا ہے،اس کی ریڑھ کی ہڈی کسی پرانی شکستہ چارپائی کی طرح چٹخ رہی ہے، دھوپ بہت تیز ہے، روشنی نشتر کی طرح چبھتی ہے، آسمان پر ایک میلے اور پیلے رنگ کا وارنش پھرا ہوا اور فضا میں تاریک تر کرتے اور چستیاں سی غلیظ مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہی ہیں اور لوگوں کی نگاہیں بھی گندے لہو اور پی کی طرح اس کے جسم سے چسپا کر رہ جاتیں ، اسے بھاگ جانا چاہئیے، کہیں ان لمبے الجھے بجلی کے تاروں والے کھمبوں اور ان کے درمیان گڈ مڈ ہونے والے راستوں سے کہیں دور تھا، اپنا بھائی بھی یاد آیا جو افریقہ میں تھا، سن سن سن ایک ٹرام اس کے قریب سے اندر گھستی چلی جار رہی تھی اور پوری ٹرام کو اپنے جسم کے اندر چلتا ہوا محسوس کر سکتا تھا، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ کوئی انسان نہیں ہے ایک گھسا پٹہ راستہ ہے۔ دیر تک وہ چلتا رہا، ہانپتا رہا اور چلتا رہا، اندازے سے ایک موہوم سمت کی طرف چلتا رہا، جدھر کبھی اس کا گھر تھا، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اب ا س کا کوئی گھر نہیں ہے، مگر وہ جانتے ہوئے بھی ادھر ہی چلتا رہا، گھر جانے کی عادت سے مجبور ہو کر مگر دھوپ بہت تیز تھی، اس کے سارے جسم میں چیونٹیاں سی رینگ رہی تھیں ، اور وہ کسی مسافر سے راستہ ہی پوچھ کے،معلوم کر لے یہ شہر کا کونسا حصہ ہے، ہولے ہولے اس کے کانوں میں ٹراموں اور بسوں کا شور بڑھنے لگا، نگاہوں میں دیواریں ٹیڑھی ہونے لگیں ، عمارتیں گرنے لگیں ، بجلی کے کھمبے گڈ مڈ کرنے لگے، پھر اس کی آنکھوں تلے اندھیرا اور قدموں تلے بھونچال سا آیا اور وہ یکا یک زمین پر گر پڑا۔ جب ہوش میں آیا تو رات ہو چکی تھی، ایک نیم خنک سا اندھیرا چاروں طرف چھایا ہوا تھا، اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا کہ جس جگہ پر گرا تھا اب تک وہیں پڑا ہے، یہ فٹ پاتھ ایک ایسا تھا جس کے عقب میں دو طرفہ دو دیواریں تھی دوسری شمال سے مغرب کو، اور وہ دونوں دیوروں کے اتصال پر لیٹا ہوا تھا، یہ دونوں دیواریں کوئی چار فٹ کے قریب بلند تھیں ، یہاں پر امرود اور جامن کے پیڑ تھے اور ان پیڑوں کے پیچھے کیا تھا وہ اسے اس وقت تک نہیں نظر نہیں آیا تھا،دوسری طرف مغربی دیوار کے سامنے پچیس تیس فٹ کا فاصلہ چھوڑ کر ایک پرانی عمارت کا عقب تھا، سہ منزلہ عمارت تھی اور منزل میں پیچھے کی طرف صرف ایک کھڑکی تھی جو چہ بڑے عقبی پائ تھے، عقبی پائ اور مغربی دیوار کے بیچ میں پچیس تیس فٹ چوڑی ایک اندھی گلی بن گئی تھی، جس کے تین طرف دیوار تھی اور چوتھی طرف سڑک تھی، کہنیوں پر زور دے کر ذرا سا اوپر اٹھا کر اور ادھر ادھر دیکھنے لگا، سڑک بالکل خالی تھی، سامنے کی دکانیں بند تھیں اور فٹ پاتھ کے اندھے سالوں میں کہیں کہیں بجلی کے کمزور بلب جھلملا رہے تھی، چند لمحوں کے لئے اسے یہ ٹھنڈی تاریکی بہت بھلی معلوم ہوئی چند لمحوں کے لئے اس نے اپنی آنکھیں بند کر کے سوچا شاید وہ کسی مہربان سمندر کے پانیوں میں ڈوب رہا ہے۔ مگر اس احساس سے وہ اپنے آپ کو صرف چند لمحوں تک دہو دے کیونکہ اب اس نے محسوس کر لیا کہ اس پر شدید بھوک طاری ہو چکی ہے، چند لمحوں کی خوشگوار خنکی کے بعد اس نے محسوس کر لیا کہ وہ شدید طور پر بھوکا ہے، جس سے کی آنتوں کے فعل کو بیدار کر کے اس کے ساتھ کسی طرح کی بھلائی نہیں کی، اس کے معدے کے اندر عجیب اینٹھن سی ہو رہی تھی اور آنتیں اندر ہی اندر تڑپ تڑپ کر روٹی کا سوال کر رہی تھیں اور اس وقت اس کے نتھنے کسی شہری انسان کے نتھنوں کی طرح نہیں کسی جنگلی جانور کے نتھنوں کی طرح کام کر رہے تھے، عجیب عجیب سی بوئیں اس کی ناک میں آ رہی تھیں، بوؤں کی ایک سمفنی تھی جو اس کے احساس پر پھیلی ہوئی تھی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ اس سمفنی کے ایک ایک سر کا الگ الگ وجود پہچان سکتا تھا، یہ جامن کی خوشبو ہے، یہ امرود کی، یہ رات کی رانی کے پھولوں کی، یہ تیل میں تلی ہوئی پوریوں کی، یہ پیاز اور لہسن میں بگھارے ہوئے آلوؤں کی، یہ مولی کی، یہ ٹماٹر کی، یہ کسی سڑے گلے پھل کی، یہ پیشاب کی، یہ پانی میں بھیگی ہوئی مٹی کی جو غالباً بانسوں میں کے جھنڈ سے آ رہی ہے۔ وہ ہر بو کی نوعیت، شدت، سمت اور فاصلے تک کا اندازہ کر سکتا ہے، یکایک اسے یہ احساس بھی ہوا اور وہ اس بات پر چونکا بھی کہ کس طرح سے بھوک نے اس منفی قوتوں کو بیدار کر دیا۔ مگر اس امر پر زیادہ غور کئے بغیر اس نے اس طرف گھسٹنا شروع کر دیا، جدھر سے اسے تیل میں تلی ہوئی پوریوں اور لہسن سے بگھارے ہوئے آلوؤں کی بو آئی تھی، وہ دھیرے دھیرے اندھی گلی کے اندر گھسٹنے لگا، کیونکہ وہ اپنے جسم میں چلنے کی سکت بالکل نہیں پاتا تھا، پھر اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی دھوبی اس کی آنتوں کو پکڑ کر مروڑ رہا ہے، پھر اس کے نتھنے میں پوریوں اور آلو کی اشتہا انگیز بو آئی اور وہ بے قرار ہو کر ادھ مندھی آنکھوں سے اپنے تقریباً بے جان سے جسم کو ادھر گھسیٹنے کی کوشش کرتا،جدھر سے آلو، پوری کی بو آ رہی تھی، کچھ عرصے کے بعد جب وہ اس جگہ پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مغربی دیوار اور اس کے سامنے کی پچھواڑے کے پائیوں کے درمیان پچیس تیس فٹ کے فاصلے میں مستطیل نما کچرے کا ایک بہت بڑا کھلا آہنی ٹب رکھا ہے۔ یہ ٹب کوئی پندرہ فٹ چوڑا ہو گا اور تیس فٹ لمبا اور اس میں طرح طرح کا کوڑا کرکٹ بھرا ہے گلے سٹرے پھلوں کے چھلکوں اور ڈبل روٹیوں کے غلیظ ٹکڑے اور چائے کی پتیاں اور ایک پرانی جیکٹ اور بچوں کے گندے پوتڑے اور انڈے کے چھلکے اور اخبار کے ٹکڑ اور رسالوں کے پھٹے اوراق اور روٹی کے ٹکڑے اور لوہے کی لونیاں اور پلاسٹک کے ٹوٹے ہوئے کھلونے اور مٹر کے چھلکے اور پودینے کے پتے اور کیلے کی پتّل پر چند ادھ کھائی پوریاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آلو کی بھاجی، پوریوں اور آلو کی بھاجی کو دیکھ کر گویا اس کی آنتیں ابل پڑیں ، اس نے چند لمحوں کے لئے اپنے بے قرار ہاتھ روک لئے، مگر دوسری بدبوؤں کے مقابلے میں اس کے نتھنوں میں اگلے چند ثانیوں تک پوری اور بھاجی کو دیکھ کی اشتہار آمیز خوشبو اسی طرح تیز تر ہو گئی جیسے کسی سمفنی میں یکایک کوئی خاص سر ایک دم اونچے ہو جاتے ہیں اور یکا یک تہذیب کی آخری دیواریں ڈھے گئیں اور اس کے کانپتے ہوئے بے قرار ہاتھوں نے کیلے کے اس پتل کو دبوچ لیا اور وہ اک وحشیانہ گرسنگی سے متاثر ہو کر ان پوریاں پر ٹوٹ پڑا۔ پوری بھاجی کھا کے اس نے کیلے کے پتے کو بار بار چاٹا اور اسے شفاف کر کے چھوڑ دیا، جیسے قدرت نے اسے بنایا تھا، پتل چاٹنے کے بعد اس نے اپنی انگلیاں چاٹیں اور لمبے لمبے ناخنوں میں بھری ہوئی آلو کی بھاجی زبان کی نوک سے نکال کے دکھائی اور جب اس سے بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تو اس نے ہاتھ بڑھا کر کوڑے کے ڈھیر کو کھنگھولتے ہوئے اس میں سے پودینے کے پتے نکال کر کھائے اور مولی کے دو ٹکڑے اور ایک آدھا ٹماٹر اپنے منہ میں ڈال کر مزے سے اس کا رس پیا اور وہ سب کچھ کھا چکا تو اس تو اس کے سارے جسم میں نیم گرم غنودگی کی اک لہر اٹھی اور وہ ہیں ٹب کے کنارے گر کر سوگیا۔ آٹھ دس روز اسی نیم غنودگی اور نیم بے ہوشی کے عالم میں گزرے، وہ گھسٹ گھسٹ کر ٹب کے قریب جاتا اور جو کھانے کو ملتا کھا لیتا اور جب اشتہا آمیز بوؤں کی تسکین ہو جاتی اور وہ دوسری گندی بوئیں ابھرنے لگتیں تو وہ گھسٹ گھسٹ کر ٹب سے فٹ پاتھ کے ٹکڑ پر چلا جاتا، اور عقبی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا یا سو جاتا۔ پندرہ بیس روز کے بعد ہولے ہولے اس کے جسم میں طاقت ابھرنے لگی، ہولے ہولے وہ اپنے ماحول سے مانوس ہونے لگا، یہ جگہ کتنی اچھی ہے، یہاں دھوپ نہیں تھی، یہاں درختوں کا سایہ تھا، اندھی گلی سنان اور ویران تھی یہاں کوئی نہیں آتا تھا، کبھی کبھی عقبی عمارت سے کوئی کھڑکی کھلتی تھی اور کوئی ہاتھ پھیلا کر نیچے کے ٹب میں روز مرہ کا کوڑا پھینک دیتا تھا، یہ کوڑا جو اس کا روزی رساں تھا، اس کے شب و روز کا رازق تھا، اس کی زندگی کا محافظ تھا، دن میں سڑک چلتی تھی، دکانیں کھلتی تھیں ، لوگ باگ گھومتے تھے، بچے ابابیلوں کی طرح چہکتے ہوئے سڑک سے گزر جاتے تھیں ، عورتیں رنگین پتنگوں کی طرح ڈولتی ہوئی گزر جاتی تھیں ، لیکن یہ ایک دوسری دنیا تھی، اس دنیا میں اس کو کوئی علاقہ نہ تھا، اس دنیا میں اب اس کا کوئی نہ تھا، اور وہ اس کے لئے موہوم سائے بن گئے اور اس سے باہر میدان اور کھیت اور کھلا آسمان ایک بے معنی تصور، گھر، کام کاج،زندگی سماج،جدوجہد بے معنی الفاظ جو گل سٹ کر اس کوڑے کچرے کے ڈھیر میں مل کر غتر بود ہو گئے، اس دنیا سے اس نے منہ موڑ لیا تھا اور اب یہی اس کی دنیا تھی، پندرہ فٹ لمبی اور تیس فٹ چوڑی۔ ماہ و سال گزرتے گئے اور اس نکڑ پر بیٹھا بیٹھا ایک پرانے ٹھنٹھہ کی طرح اور کسی پرانی یاد گار کی طرح سب کی نظروں میں مانوس ہوتا چلا گیا وہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا کسی کو فیض نہیں پہنچاتا تھا، کسی سے بھیک نہیں مانگتا تھا، لیکن اگر وہ کسی دن وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا تو اس علاقے کے ہر فرد کو اس امر پر حیرت ہوتی اور شاید کسی قدر تکلیف بھی ہوتی۔ سب لوگ اسے کچرا بابا کہتے تھے، کیونکہ یہ سب کو معلوم تھا کہ وہ صرف کچرے کے ٹب میں سے اپنی خوراک نکال کر کھاتا ہے اور جس دن اسے وہاں سے کچھ نہ ملتا وہ بھوکا ہی سو جاتا، برسوں سے راہ گیر اور ایرانی رسٹوران والے اس کی عادت کو پہچان گئے تھے، اور اکثر عمارت کی عقبی کھڑکیوں سے اب کوڑے کے علاوہ خوردہ نوش کی دوسری چیزیں بھی پھینکی جاتیں ، صحیح و سالم پوریاں اور بہت سی بھاجی اور گوشت کے ٹکڑے اور ادھ چوسے آم اور چٹنی اور کباب کے ٹکڑے اور کھیر میں لتھڑے ہوئے پتل، ناؤ نوش کی ہر نعمت کچرا بابا کو اس ٹب میں سے مل جاتی ہیں ، کبھی کبھی کوئی پھٹا ہوا پاجامہ، کوئی ادھڑی ہوئی نیکر، کوئی تار تار شکستہ قمیض پلاسٹک کا گلاس، یہ کچرے کا ٹب کیا تھا، اس کے لئے ایک کھلا بازار تھا، جہاں وہ دن دہاڑے سب کی آنکھوں کے سامنے مڑ گشت کیا کرتا تھا، جس دکان سے جو سودا چاہتا مفت لیتا تھا، وہ اس بازار کا اس نعمت غیر مترقبہ کا واجد مالک تھا، شروع شروع میں چند گرسنہ بلیوں اور خارش زدہ کتوں نے شدید مزاحمت کی تھی، مگر اس نے مار مار کر سب کو باہر نکال دیا، اور اب اس کچرے کے ٹب کا واجد مالک تھا اور اس کے جق کو سب نے تسلیم کر لیا تھا، مہینے میں ایک بار میونسپلٹی والے آتے ہیں ، اور اس ٹب کو خالی کر کے چلے جاتے تھے اور کچرا بابا ان سے کسی طرح کی مزاحمت نہیں کرتا تھا، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ دوسرے دن ٹب پھر اسی طرح بھرنا شروع ہو جائے گا اور اس کو اعتقاد تھا کہ اس دنیا سے نیکی ختم ہو سکتی ہے لیکن غلاظت ختم نہیں ہو سکتی رفاقت ختم ہو سکتی ہے، لیکن غلاظت اور گندگی کبھی ختم نہیں ہو سکتی، ساری دنیا سے منہ توڑ کر اس نے جینے کا آخری طریقہ سیکہ لیا تھا۔ مگر یہ بات نہیں ہے کہ اسے باہر کی دنیا کی خبر نہ تھی، جب شہر میں چینی مہنگی ہو جاتی تو مہینوں کچرے کے ٹب میں مٹھائی کے ٹکڑے کی صورت نظر نہیں آتی، جب گندم مہنگی ہو جاتی تو ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا تک نہ ملتا، جب سگریٹ مہنگے ہو تو تو سگریٹ کے جلے ہوئے ٹکڑے اتنے چھوٹے ملتے کہ انہیں سلگا کر پیا بھی نہیں جا سکتا۔ جب بھینگوں نے ہڑتال کی تھی تو مہینے تک اس کے ٹب کی کسی نے صفائی نہیں کی تھی،اور کسی روز اس کو ٹب میں اتنا گوشت نہیں ملتا تھا، جتنا بقر عید کے روز اور دیوالی کے دن تو ٹب کے مختلف کونوں سے مٹھائی کے بہت سے ٹکڑے مل جاتے تھے۔ باہر کی دنیا کا کوئی حادثہ یا واقعہ ایسا نہ تھا جس کا سراغ وہ کچرے کے ٹب سے دریافت نہ کر سکتا تھا، دوسری جنگ عظیم سے لے کر عورتوں کے خفیہ امراض تک، مگر باہر کی دنیا سے اب اسے کسی طرح کی کوئی دلچسپی نہ رہی تھی، پچیس سال تک وہ اس کچرے کے ٹب کے کنارے بیٹھا بیٹھا اپنی عمر گزار رہا تھا، شب و روز، ماہ و سال، اس کے سر سے ہوا کی لہروں کی طرح گزرتے گئے، اور اس کے سر کے بال سوکھ سوکھ کر ربٹر کی شاخوں کی طرح لٹکنے لگے، اس کی کالی داڑھی کھچڑی ہو گئی، اس کے جسم کا رنگ ملگجاہٹ ملا اور سبزی مائل ہوتا گیا، وہ اپنے مضبوط بالوں ، پھٹے چیتھڑوں اور بدبو دار جسم سے راہ چلتے لوگوں کو خود بھی کچرے کا ایک ڈھیر دکھائی دیتا تھا جو کبھی کبھی حرکت کرتا تھا اور بولتا تھا، کسی دوسرے سے نہیں صرف اپنے آپ سے زیادہ سے زیادہ کچرے کے ٹب سے۔ کچرا بابا ان لوگوں سے کچھ کہتا نہیں تھا، مگر انکی حیرت کو دیکھ کر دل میں ضرور سوچتا ہو گا کہ اس دنیا میں کون ہے جو کسی دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اس دنیا میں جتنی گفتگو ہوتی ہے انسانوں کے درمیان نہیں ہوتی بلکہ صرف اپنی ذاتی اور اس کی کسی غرض کے درمیان ہوتی ہے، دوسروں کے درمیان جو بھی گفتگو ہوتی ہے وہ دراصل ایک طرح کی خود کلامی ہوتی ہے، یہ دنیا ایک بہت بڑا کچرے کا ڈھیر ہے جس میں سے ہر شخص اپنی غرض کا کوئی ٹکڑا، فائدے کا کوئی ٹکڑا، فائدے کا کوئی چھلکا یا منافع کا کوئی چیتھرا دبوچنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور کہتا ہو گا یہ لوگ جو مجھے حقیر، فقیر یا ذلیل سمجھتے ہیں ، ذرا اپنی روح کے پچھواڑے میں تو جھانک کر دیکھیں ، وہاں اتنی غلاظت بھری ہے کہ جسے صرف موت کا فرشتہ ہی اٹھا کر لے جائے گا۔ اسی طرح دن پر دن گزرتے گئے ملک آزاد ہوئے، ملک غلام ہوئے حکومتیں آئیں ، حکومتیں چلی گئیں ، مگر یہ کچرے کا ڈب وہیں رہا اور اس کے کنارے بیٹھنے والا کچرا بابا اسی طرح نیم غنودگی میں بے ہوشی کے عالم میں دنیا سے منہ موڑے ہوئے زیر لب کچھ بدبداتا رہا کچرے کے ٹب کو گھنگھولتا رہا۔ تب ایک رات اندھی گلی میں جب وہ ٹب سے چند فٹ کے فاصلے پر دیوار سے پیٹھ لگائے اپنے پھٹے چیتھڑوں میں دبکا سورہا تھا، اس نے رات کے سناٹے میں ایک خوف ناک چیخ سنی اور وہ ہڑبڑا کر نیند سے جاگا، پھر اس نے ایک زور کی تیز چیخ سنی اور گھبرا کر کچرے کے ٹب کی طرف بھاگا، جدھر سے یہ چیخیں سنائی دے رہی تھیں ۔ کچرے کے ٹب کے پاس جا کر اس نے ٹٹولا، تو اس کا ہاتھ کسی نرم نرم لوتھڑے سے جا ٹکرایا اور پھر ایک زور کی چیخ بلند ہوئی، کچرا بابا نے دیکھا کہ ٹب کے اندر ڈبل روٹ کے ٹکڑوں ، چچوڑی ہوئی ہڈیوں ، پرانے جوتوں ، کانچ کے ٹکڑوں ، آم کے چھلکوں ، باسی دونوں اور ٹھرے کی ٹوٹی ہوئی بوتلوں کے درمیان ایک نوزائیدہ بچہ ننگا پڑا ہے اور اپنے ہاتھ پاؤں ہلا ہلا کر زور زور سے چیخ رہا ہے۔ چند لمحوں تک کچرا بابا حیرت میں ڈوبا ہوا جامد و ساکت اس ننھے انسان کو دیکھتا رہا جو اپنے چھوٹے سے سینے کی پوری قوت سے اپنی آمد کا اعلان کر رہا تھا، چند لمحوں تک وہاچپاچاپ، پریشان، پھٹی پھٹ آنکھوں سے اس منظر کو دیکھتا رہا پھر اس نے تیزی سے آگے جھک کر کچرے کے ٹب سے اس بچے کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ مگر بچہ اس کی گود میں جا کر بھی کسی طرحانہ رہا، وہ اس زندگی میں نیا نیا آیا تھا اور بلک بلک کر اپنی بھوک کا اعلان کر رہا تھا، ابھی اسے معلوم نہ تھا کہ غریبی کیا ہوتی ہے، مامتا کس طرح بزدل ہو جاتی ہے، زندگی کسیے حرام بن جاتی ہے، وہ کس طرح ملیے پیکٹ اور غلیظ بنا کچرے کے ٹب میں ڈال دی جاتی ہے، ابھی اسے یہ سب کچھ معلوم نہ تھا ابھی وہ صرف بھوکا تھا اور رو رو کر اپنے پیٹ پر ہاتھ مار رہا تھا۔ کچرا باب کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ وہ کیسے اس بچے کو کرائے اس کے پاس کچھ نہ تھا، نہ دودھ نہ چسنی، اسے تو کوئی لوری بھی یاد نہیں تھی، وہ بے قرار ہو کر بچے کو گود میں لے کر دیکھنے لگا اور تھپتھپانے لگا اور گہری نیند سے رات کے اندھیرے میں چاروں طرف دیکھنے لگا، کہ اس وقت بچے کے لئے دودھ کہاں سے مل سکتا ہے، لیکن جب ا سکی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تو اس نے جلدی سے کچرے کے ٹب سے آم کی ایک گٹھلی نکالی اور اس کا دوسرا سرا بچے کے منہ میں دے دیا۔ ادھ کھائے ہوئے آم کا میٹھا میٹھا رس جب بچے کے منہ میں جانے لگا تو وہ روتا روتا ہو گیا اور ہوتے ہوتے کچرا بابا کی بانہوں میں سو گیا، آم کی گٹھلی کھسک کر زمین پر جا گری اور اب بچہ اس کی بانہوں میں بے خبر سو رہا تھا، آم کا پیلا پیلا رس ابھی تک اس کے نازک لبوں پر تھا اور اس کے ننھے سے ہاتھ نے کچرا بابا کا انگوٹھا بڑے زور سے پکڑ رکھا تھا۔ ایک لمحے کے لئے کچرا بابا کے دل میں خیال آیا کہ وہ بچے کو یہیں پھینک کر کہیں بھاگ جائے، دھیرے سے کچرا باب نے اس بچے کے ہاتھ سے اپنے انگوٹھے کو چھڑانے کی کوشش کی،مگر بچے کی گرفت بڑی مضبوط تھی اور کچرا بابا کا ایسے محسوس ہوا جیسے زندگی نے اسے پھر سے پکڑ لیا ہے، اور دھیرے دھیرے جھٹکوں سے اسے اپنے پاس بلا رہی ہے، یکایک اسے دلاری کی یاد آ جاتی ہے، اور وہ بچہ جو اس کی کوکھ میں کہیں ضائع ہو گیا تھا اور یکا یک کچرا بابا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، آج سمندر کے پانیوں میں اتنے قطرے نہ تھے جتنے آنسو اس کی آنکھوں میں تھے، گزشتہ پچیس برسوں میں جتنی میل اور غلاظت اس کی روح پر جم چکی ہے وہ اس طوفان کے ایک ہی ریلے میں صاف ہو گئی۔ رات بھر کچرا بابا اس نوزائیدہ بچے کو اپنی گود میں لئے بے چین اور بے قرار ہو کرفت پاتھ پر ٹہلتا رہا اور جب صبح ہوئی اور سورج نکلا تو لوگوں نے دیکھا کہ کچرا بابا آج کچے کے ٹب کے پاس نہیں ہے، بلکہ سڑک پار نئی تعمیر ہونے والی عمات کے نیچے کھڑا ہو کر اینٹیں ڈھو رہا ہے اور اس عمارت کے قریب گل مہر کے ایک پیٹ کی چھاؤں میں ایک پھولدار کپڑے میں لپتا اک ننھا بچہ منہ میں دودھ کی چسنی لئے مسکرا رہا ہے
-
ایک عرض ایک حقیقت
Beshaq insaan na shukra ha or rahay Ga jab tak khud se ziyada ameer ki taraf dekhta rahay Ga or jis din khud se ghareeb insaan ki taraf nigah karay Ga shuker Guzar ban Jay Ga. Thanks admin ek behtareen sharing ha
-
How To Delete Your Secret Image(Must Visit)
Buhat khoob admin sir mazeed is ko check b kerta hon buhat mufeed information di ha ap NY shukriya
-
Jo Paker Ly Me Us ki Hoi
=¤= جو پکڑ لے میں اس کی =¤= کسان نوجوان اپنے کھیت میں کام کر رھا تھا.... ایک نسوانی قہقہے سے وہ چونک گیا.. ایسی حسینہ تو اس نے زندگی بھر نہ دیکھی تھی وہ اس کی طرف بڑھا چلا گیا,,, وہ بھی مسکرا رھی تھی..... میرے ساتھ گھر چلو گی ؟ وہ بلا جھجھک اس کے ساتھ ھو لی.. .وہ فضاؤں میں اڑنے لگا چوھدری کا ڈیرہ آباد تھا دوست احباب کے مجمع میں,, نوکر چاکر خدمت کے لئے کھڑے ھوے... چوھدری جی!! چوھدری جی!! اُس کا خادمِ خاص ڈیرے میں ھانپتا کانپتا داخل ھوا... خیر تو ھے ؟ خیر تو ھے ؟ او جی خیر کہاں.!! میں چوک میں کھڑا تھا , نورے جٹ کا جوان لڑکا ایک ایسی حسینہ کے ساتھ گزر کے گھر جارھا تھا کہ اس جیسی زندگی میں نہ دیکھی ,, نامعلوم کہاں سے لے کر آیاھے... چاند کا ٹکڑا ھے. چوھدری جی اسے سمجھ. نہیں آرھا تھا کہ اسے کہاں بٹھاؤں... آج اس کی زندگی کا بہترین دن تھا ,, اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا.. وقعی جب خدا دیتا ھے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ھے ... اسے کچھ شور کی آواز آرھی تھی جو اور قریب آگئی..... پھردروازہ کھٹکھٹایا جانے لگا دروازہ کھلا... چوھدری ھکا بکا رہ گیا... اور بے اختیار اس حسینہ کی طرف بڑھا... نوجوان جٹ ایک آھنی دیوار کی طرح اس کے راستے میں حائل ھو گیا.... تم میری لاش پر سے گزر کر ھی اس تک پہنچ پاؤ گے... تم اس کے قابل نہیں... نہ یہ گھر اس کے قابل ھے... یہ میری حویلی میں رھے گی. , نوکرانیاں., راحت., آرام., عزّت,, اسے وھاں ملے گی... نہیں یہ فیصلہ جج کی عدالت میں جائے گا عدالت پورے جوبن پر تھی... سائل, مدعی, وکلاء , اھلکار., عملہ سب موجود تھے., جج صاحب. اپنی مسند ِخاص.پر رونق افروز.... جج صاحب نے نظر آٹھائی اسے اپنی نظروں پر یقین نہیں آرھا تھا... اس نے عینک اتار کر صاف کی اور دوبارہ دیکھا... واقعی وہ حور اس کے سامنے کھڑی تھی جج بولا ارے یہ منہ اور مسور کی دال اپنی اوقات دیکھو اور اس کا حسن یہ تم دونوں کے لائق نہیں میرے پاس مال و دولت ھے عہدہ ھے بنگلے ہیں گاڑیاں ہیں نوکر چاکر معاشرے میں ایک حیثیت ھے یہ میرے لائق ھے چلو نکلو تم دونوں اور اس کو یہیں رہنے دو وہ ہکّے بکّے رہ گئے نہیں چوہدری چلایا یہ نہیں ہوسکتا نوجوان بولا ہم راضی نہیں ہیں اب تو بادشاہ سلامت ہی ہمارے درمیان فیصلہ کریں گے بادشاہ کے پاس چلو جج نے سب کام وہیں چھوڑے اور اب تینوں حسینہ کو ساتھ لئے بادشاہ کے محل کی طرف بڑھنے لگے دربار سجا ہوا تھا وزیر مشیر درباری سب اپنی اپنی مسندوں پر اور بادشاہ اپنے تخت پر جلوہ افروز تھا اسکے سر پر رکھے ہوئے تاج کے موتیوں سے سارا دربار جگمگا رہا تھا اور وہ خود بھی حسن کا کرشمہ تھا دربان تین اشخاص اور ایک حسینہ کو لا کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتا ھے بادشاہ سلامت نے نظر اٹھائی تو دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ گیا ایسی حسینہ اور میری سلطنت میں اس نے حکم دیا کہ ان تینوں کو ایک طرف لے جاؤ اور حسینہ کو میرے محل میں لے جاؤ جج صاحب نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو بادشاہ سلامت نے ایک طرف دیکھا تین ہٹے کٹے دربان آگے بڑھے اور تینوں خاموشی سے ایک طرف کو ہو گئے وہ حسینہ جو اب تک خاموش تھی اس نے خاموشی کو توڑا اور بولی فیصلہ میں کروں گی تم چاروں میرے پیچھے دوڑو جو مجھے پکڑ لے گا میں اس کی یہ کہہ کر وہ جلدی سے دربار سے باہر نکلتی ہوئی نظر آئی بادشاہ کو اپنا تخت بھول گیا اور اگلے ہی۔لمحے وہ چاروں اس کے پیچھے دوڑ رھے تھے وہ ہوا سے باتیں کررہی تھی بادشاہ سلامت تھوڑی ہی دور جاکر دوڑنے کی تاب نہ لاسکے اور ایک لمبی آہ بھر کر وہیں ڈھیر ہو گئے جج صاحب بھی زیادہ دیر پیچھا نہ کرسکے اور اسکی سانسیں بھی جواب دے گئیں چوھدری صاحب ہمت ہارنے والے تو نہ تھے لیکن آخر کب تک اب وہ تھی اور نوجون تھا جو کہ ہر لمحے اس کے قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا مگر یہ کیا راستے کے ایک پتھر سے وہ ایسا ٹکرایا کہ منہ کہ بل گرا اور اسکے منہ سے ایک دل خراش چینج بلند ہوئی جو کہ حسینہ کے قہقہوں میں دب گئی آؤ میرے عاشقو میرے پیچھے آؤ تم مجھے کبھی نہیں پاسکتے اور واقعی ہی اسے کوئی نہ پاسکا کہ وہ دیکھنے میں تو حسینہ تھی حور کے حسن والی تھی دل فریب تھی عقل کو محو کرنے والی تھی لیکن حقیقت میں وہ دنیا تھی اسکے پیچھے دوڑنے والوں کا یہی انجام ہوتا ھے
-
اُردو طنز و مزاح
سیکولر اور لبرل گائے ... . ایک نوبیاہتا جوڑا شام کی سیر کے لئے قریبی گاؤں کی طرف نکلا۔۔ دونوں میاں بیوی سر سبز لہلہاتی فصلوں کو دیکھ دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے۔ . اچانک خاتون نےایک کھیت میں ایک کسان کو دیکھا جس نے زمین میں ہل چلانے کے لئے ایک بیل کے ساتھ ایک گائے کو بھی جوت رکھا تھا۔ خاتون اس ظلم پر بہت سٹپٹائی۔ اور اپنے شوہر سے پوچھنے لگی... بھلا یہ کیا بات ہوئی، اب گائے "ہل بھی چلایا کرے گی؟" . شوہر نے بے نیازی سے جواب دیا... بھئی اس میں حیران ہونے والی کونسی بات ہے۔ یہ ایک "سیکولر اور لبرل" گائے ہے۔۔ اس کو بھی بہت شوق تھا برابری کا
-
اُردو طنز و مزاح
فوجی یونٹ میں ایک سپاہی شرطیں لگانے اور حیرت انگیز طور پرجیت جانے میں بڑی شہرت رکھتا تھا ۔ ایک یونٹ سے دوسرے یونٹ میں اس کا تبادلہ ہوا تو اس کی سابقہ یونٹ کے کما نڈر آفیسر نے اس کے نئے یونٹ کے کمانڈر آفیسرکو ٹیلی فون پر بتا یا کہ ہماری یونٹ سے آپ کے ہاں ایک پوسٹ ہو کر ٓانے والا فالاں سپاہی شر طیں لگانے اور ہر بار جیت جانے میں بڑا ما ہر ہے ،تم احتیاط کرنا ۔ . احتیاط کی تلقین پانے والے کمانڈر آفیسر کو نئے آنے والے سپاہی کے باتے میں تجسس بڑھا اور اس نے اپنے پرسنل اسسٹنٹ سے کہا... یہ باکمال سپاہئ جونہی یو نٹ پہنچے مجھے اس سے ملوا دینا ۔ . اگلے دن نئی کلف شدہ وردی پہنے یہ سپاہی کما نڈر آفیسر کے سامنے کھڑا تھا ۔ صاحب کے استفسار پر اس نے کہا... سر ایسی کوئی بات نہیں ، میں یونہی بات بات پر شرط نہیں لگاتا ۔ بس جب بات ہی ایسی ہو تو شرط لگا نا پڑتی ہے اور ہار جیت تو مقدر کی بات ہے۔ جیسے اب مجھے معلوم ہے کہ آ پ کی پیٹھ پر تل ہے آپ اگر پانچ سو روپے کی شرط لگاتے ہیں تو میں اس کیلئے تیار ہوں۔ . کما نڈر آفیسر کو بھی کبھی نہ ہارنے والے کو ہرانے کا اشتیاق تھا ، اس نے فورا اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور پیٹھ دکھا دی۔ . سپا ہی نے اپنی جیب سے فورا پانچ سو روپے نکال کر میز پر رکھے اور کہا... سر میں یہ شرط ہار گیا ہوں ، یہ پانچ سو روپے آپ کے ہوئے۔ . کما نڈر آفیسر نے فاتحانہ انداز سے فون پر اس کے سا بقہ کمانڈر آفیسر سے کہا... تم تو کہتے تھے کہ وہ کبھی شرط نہیں ہارتا ، اور پھر تمام واقعہ سنایا۔ . سپاہی کے سابقہ کما نڈر آفیسر نے کہا ... جناب آپ نے مجھے مروا دیا اس نے جاتے ہوئے مجھ سے ہزار روپے کی شرط لگا ئی تھی کہ میں نئی یونٹ میں جاتے ہی کمانڈنگ آفیسر کی شرٹ اتروا دوں گا
-
اُردو طنز و مزاح
جدید تعلیم سے فارغ ہونے والے دو نوجوان دوستوں کو ایک ہی ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی ملازمت مل گئی۔ . ایک بار باس نے کمپنی کے ملازمین کو دعوت دی۔ دعوت کے دوران باس نے ان میں سے ایک نوجوان کے ادبی ذوق کا اندازہ کرنے کیلئے پوچھا... "عمر خیام کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟" . نوجوان نے جواب دیا... "اچھی جگہ ہے سر۔ لیکن ذاتی طور پر میں کے ایف سی میں جانا زیادہ پسند کرتا ہوں۔" . با س نے ناگواری سے منہ بنایا اور دوسرے مہمانوں سے باتیں کرنے لگا... دعوت سے واپسی پر راستے میں دوسرے دوست نے پہلے کو ڈانٹا... "بے وقوف آدمی...! اگر تمہیں معلوم نہیں تھا کہ عمر خیام کیا ہے تو بات بدل دیتے۔ احمقانہ جواب تو نہ دیتے۔ گدھے کہیں کے ...! تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ عمر خیام کسی ریسٹورنٹ کا نہیں بلکہ پرفیوم کا نام ہے۔ .