Everything posted by khoobsooratdil
-
اُردو طنز و مزاح
ﺍﯾﮏ ﻣﻔﮑﺮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻧﻘﻼﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺗﺒﺪﯾﻠﯿﺎﮞ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﮐﯿﻠﯿﻨﮉﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺫﮐﺮﻧﮩﯿﮟ۔ . ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻧﮯ ﮐﺲ ﺳﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﺷﮩﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﺲ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺳﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻨﺎ۔ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﮟ ﮔﮯﮐﮧ ﺳﯿﻔﻮ ﮐﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻘﺮﺍﻁ ﻧﮯ ﮐﺐ ﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ... . ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻮﺭﺥ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﭙﻦ ﮐﺲ ﺩﻥ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﺍ۔ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﺲ ﺳﺎﻋﺖ ﻧﺎﯾﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﻨﯽ۔ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﺲ ﺭﺍﺕ ﮈﮬﻠﯽ۔ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﭘﻦ ﮐﺐ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮬﺎﭘﺎ ﮐﺲ ﮔﮭﮍﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ.. . ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ... " ﺑﺮﺍﺩﺭ ...! ﺍﻥ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ, ﻃﺐ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ . ﭼﺮﺍﻍ ﺗﻠﮯ ﺍﺯ ﻣﺸﺘﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ ﯾﻮﺳﻔﯽ...
-
انگریزی کا بخار
مجھے بچپن سے ہی انگریزی میں فیل ہونے کا شوق تھا لہٰذا میں نے ہر کلاس میں اپنے شوق کا خاص خیال رکھا ۔ ویسے تو مجھے انگریزی کوئی خاص مشکل زبان نہیں لگتی تھی ، بس ذرا اسپیلنگ ، گرائمر اور Tenses نہیں آتے تھے ۔ مجھے یاد ہے جو ٹیچر ہمیں کلاس میں انگریزی پڑھایا کرتے تھے وہ بھی کاٹھے انگریز ہی تھے ۔ . دو سال تک سی-یو-پی "سَپ" پڑھاتے رہے ۔ مشین کو مچین اور نالج کو کنالج کہتے رہے ۔ ایسی تعلیم کے بعد میری انگریزی میں اور بھی نکھار آ گیا ۔ . کالج میں داخلہ کے وقت فارم کے پہلے کالم میں اپنا نام انگریزی میں لکھنا تھا لیکن انگریزی سے نابلد ہونے کی وجہ سے مجھے یہ نام لکھنے کے لئے اسلام آباد کا سفر کرنا پڑا کیونکہ فارم پر لکھا ہوا تھا "Fill in Capital"۔ انگریزی فلمیں دیکھتے ہوئے بھی مجھے کہانی تو سمجھ آ جاتی تھی ، اسٹوری پلّے نہیں پڑتی تھی ۔ سِکس مِلین ڈالر مَین ، نائٹ رائڈر ، چِپس ، ائیر وُولف اور کوجیک جیسی مشہورِ زمانہ فلمیں میں نے صرف اور صرف اپنی ذہانت سے سمجھیں اور انجوائے کیں ۔ . آج سے کچھ سال پہلے تک مجھے یقین ہو چکا تھا کہ میں فارسی ، عربی ، پشتو اور اشاروں کی زبان تو سیکھ سکتا ہوں لیکن انگریزی نہیں ، لیکن اب جو حالات چل رہے ہیں اُن کو مدِ نظر رکھ کر میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یا تو مجھے انگریزی آ گئی ہے یا سب کو بھول گئی ہے ۔ کچھ بھی ہو ، میری خوشی کی انتہا نہیں ۔ . اب سارے اسپیلنگ بدل گئے ہیں اور دو تین لفظوں میں سما گئے ہیں ۔ اب Coming لکھنا ہو تو صرف cmg سے کام چل جاتا ہے ۔ گَرل فرینڈ GF ہو گئی ہے اور فیس بُک FB بن گئی ہے ۔ اب کوئی انگریزی کا لمبا لفظ لکھنا ہو تو اُس سے پہلے کے چند الفاظ لکھ کر ہی ساری بات کہی جا سکتی ہے ۔ میں نے ساڑھے تین سال کی ٹیوشن با مشقت کے بعد Unfortunately کے اسپیلنگ یاد کئے تھے ، آج کل صرف unfort سے کام چل جاتا ہے یعنی جیاں سے مشکل اسپیلنگ شروع وہیں پہ ختم ۔ . بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن اب تو اِس مختصر انگریزی میں بھی ایسی ایسی مشکلات آن پڑی ہیں کہ کئی دفعہ جملہ سمجھنے کے لئے استخارہ کرنا پڑتا ہے ۔ ابھی کل مجھے ایک دوست کا میسیج آیا ، لکھا تھا "u r inv in bk crmy" ۔ میں نے حیرت سے میسیج کو پڑھا ، اللہ جانتا ہے تین چار دفعہ مجھے شک گزرا کہ اُس نے مجھے کوئی گندی سی گالی لکھی ہے ۔ دل مطمئن نہ ہوا تو ایسی ہی انگریزی لکھنے اور سمجھنے کے ماہر ایک اور دوست سے رابطہ کیا ۔ اُس مردِ مجاہد نے ایک سیکنڈ میں ٹرانسلیشن کر دی کہ لکھا ہے "you are invited in book ceremony" ۔ . انگریزی سے نمٹنے کا ایک اور اچھا طریقہ میرے ہمسائے شاکر صاحب نے نکالا ہے ۔ جہاں جہاں انہیں انگریزی نہیں آتی ، وہاں وہ اطمینان سے اردو ڈال دیتے ہیں ۔ مثلاً اگر کھانا کھاتے ہوئے اُنہیں کسی کا میسیج آ جائے تو جواب میں لکھ بھیجتے ہیں "پلیز ، اِس ٹائم ناٹ ڈسٹرب۔ آئی ایم کھانا کھائینگ" ۔ . ایک دفعہ موصوف کو فیس بُک پر ایک لڑکی پسند آ گئی ، فوراً لکھا ... "آئی وانٹ ٹُو شادی وِد یو ۔ ۔ ۔ آر یُو راضی؟" ۔ . لڑکی کا جواب آیا... "ہاں ، آئی ایم راضی۔ بَٹ پہلے ٹرائی ٹُو راضی میرا پیو تے بےبے" ۔ . آج کل یہ دونوں میاں بیوی ہیں اور اکثر اسی انگریزی میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں ، تاہم اب وہ درمیان میں اردو کی بجائے پنجابی بولتے ہیں اور ایک جملہ بار بار دہراتے ہیں... . "آئی سَیڈ ، کھَصماں نُوں کھا ۔ یوور سارا خاندان اِز چَوَل"۔ . )بشکریہ گُل نو خیز اختر(
-
کچھ چھ ستمبر کی یادیں
سترہ ﺳﺘﻤﺒﺮ 2005 ﺀ ﮐﻮ ﻭﺍﮨﮕﮧ ﺑﺎﺭﮈﺭ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﻧﮯ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﭖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ -ﺍﺱ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﮐﮯ ﻗﯿﺪﯼ ﺗﮭﮯ - . ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﭩﮭﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﮭﮯ - ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﭨﮫ ﭘﯿﻨﺴﭩﮫ ﺳﺎﻟﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ - ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﭩﮭﮍﯼ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ - . ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻤﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻝ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ - ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺎﻥ ﻣﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ - ﺧﻮﺩﺭﻭ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮﮐﮯ ﺑﮯ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺎﻝ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﺍﻥ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﯿﻞ ﯾﺎ ﮐﻨﮕﮭﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ - . ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻗﯿﺪﯼ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﻗﯿﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﺑﮍﯼ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﭼﻤﮏ ﺗﮭﯽ - ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ - ﺳﺎﺭﮮ ﻗﯿﺪﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ - ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻗﯿﺪﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ - . ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻟﮑﮫ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﺳﺎﺋﻞ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ - ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ 2005 ﺀ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺷﺨﺺ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺭﻣﯽ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺭﺟﻤﻨﭧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﺮﺩﯾﺎ - ﺍﺱ ﺩﻋﻮﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺭﺟﻤﻨﭧ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ - . ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺁﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ... . ” ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻤﺒﺮ 335139 ﮈﯾﻮﭨﯽ ﭘﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﮯ “ . ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻻﻏﺮ , ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﮮ ﻧﮯ ﭼﮑﺮﺍ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ - ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ - . ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻗﯿﺪﯼ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺟﺐ ﻓﻮﺟﯽ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮐﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﻓﺎﺋﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﺩ ﺟﮭﺎﮌﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮐﮯ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻝ ﮨﻼ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ - ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺏ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ , ﻓﯿﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺎﺭﺯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻻﻏﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ - . ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﮭﺎ.. پینسٹھ ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﭘﻮ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﮯ ﺟﮭﮍﭖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ - ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﻭﺍﺋﺮﻟﯿﺲ ﺳﯿﭧ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺭﺳﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﮔﻦ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ - . ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻻﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﺧﻤﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺑﻨﻮﮞ , ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ - . ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﻝ ﭼﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺟﮭﻞ ﮐﺮﻟﯿﺎ - ﺩﻭﺳﺖ ﺗﻼﺵ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭦ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﮭﺮ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﻓﻮﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﮌﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻟﯿﺎ - ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﻟﮯ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ - ﻭﮦ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﺮﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﺎ - . ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﻝ ﭼﮭﭩﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺎ ﺫﮐﺮﻧﮧ ﮐﯿﺎ - ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﺗﺼﻮﺭﮐﺮﻟﯿﺎ - ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﻨﺪﮦ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ - . ﺍﺩﮬﺮﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺝ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﮍﯾﻞ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮭﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﻟﮕﯽ - ﺍﺳﮯ چاربائی چار ﻓﭧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺠﺮﺍ ﻧﻤﺎ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ - ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﻟﯿﭧ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ - ﺩﺷﻤﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﻮﺯ ﻣﻈﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﮔﻠﻮﺍﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﺗﮭﺎ - ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﻗﺪﻣﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ - . ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﮯ ” ﮐﮩﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﺮﺩﮦ ﺑﺎﺩ “... . ﺍﻭﺭ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﺍﮐﭩﮭﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﻧﻌﺮﮦ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﺎﺩ ... . ﺟﻮ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﻼ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ - ﻭﮦ ﭼﻼﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮐﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ... ﺍﻭﺭﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ - ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ - ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺫﺭّﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ - ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯿﻠﺌﮯ - ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭ ﻭﻗﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ - ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﮨﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺘﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮕﺘﮯ - . ﺁﺧﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺮ چاربائی چار ﮐﯽ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻣﻘﻔﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ - . ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ 1965 ﺀ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ 2005 ﺀ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺍﺱ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﺏ ﻭﮦ ﮐﭩﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺎ ﻧﻌﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﮯ ﭼﯿﺘﮭﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ چاربائی چار ﻓﭧ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮯ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍ ﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﺎﺩ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺘﺎ - . ﯾﻮﮞ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﭘﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﺭﮨﺎ - . ﺁﺋﯿﮟ ﮨﻢ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺁﺝ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﮔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
-
BV ka Inteqaam
اس آدمی نے 37 سال کی شادی کے بعد نوجوان محبوبہ کیلئے اپنی بیگم کو گھر سے نکال دیا، پھر بیوی نے کیسے انتقام لیا...؟ جان کر آپ ہنسی روک نہ پائیں گے جیک اور ایڈیتھ 37 سال سے خوشحال اور پرسکون ازدواجی زندگی گزار رہے تھے مگر جب جیک کی نوجوان سیکرٹری نے اس پر اپنے حسن کا جادو کیا تو اس نے نہ صرف ایڈیتھ کو طلاق دے دی بلکہ اسے اپنے کروڑوں ڈالر کے محل نما گھر سے بھی محض تین دن میں نکل جانے کا حکم دے دیا۔ بیچاری ایڈیتھ نے ایک دن اپنا سامان پیک کرنے میں صرف کیا، دوسرے دن مزدور بلوا کر سارا سامان نئی جگہ منتقل کروایا اور اس گھر میں اپنے آخری دن کے موقع پر ایک بہت ہی خاص کام کیا۔ . ایڈیتھ نے جھینگوں اور چٹنی کے ساتھ اپنی آخری دعوت خود ہی کی اور پھر جھینگے کے خول، اور مچھلی کے انڈوں اور نمک سے تیار کردہ چٹنی میں ڈبوئے اور یہ خول تمام گھر میں پردے لٹکانے والے پائپوں کے اندر ڈال دئیے۔ . اگلے دن جیک اور اس کی محبوبہ اپنے محل میں رہنے کیلئے آگئے۔ . کچھ دن تو بہت مزے میں گزرے لیکن پھر سارے گھر میں عجیب سی بو پھیلنا شروع ہوگئی جو آہستہ آہستہ اس قدر تیز ہوگئی کہ گھر میں رہنا ناممکن ہوگیا۔ . جیک نے سارے گھر میں خوشبو کا چھڑکاؤ کروایا، پردے اور قالین تبدیل کروائے، ہر طرح کے ماہرین سے مشورہ لیا، لیکن بو کا کوئی علاج نہ ہوا۔ آخر کار بیچارے نے گھر بیچنے کا فیصلہ کیا لیکن اس کی بدبو کی کہانی سارے شہر میں مشہور ہوچکی تھی اور کوئی اسے خریدنے کو تیار نہیں تھا۔ . جب یہ خبر ایڈیتھ تک پہنچی تو اس نے جیک سے کہا کہ جس گھر میں اس نے زندگی گزاری ہے وہ جیسا بھی ہے وہ اسے خریدلے گی، اور پھر اصل قیمت کے دسویں حصے میں گھر ایڈیتھ نے خریدلیا۔ . جیک اور اس کی محبوبہ بہت خوش تھے کہ انہوں نے بہت بڑی مصیبت سے جان چھڑوالی۔ . ایک ہفتے بعد جب ان کا سارا سامان پیک کرکے نئے گھر لے جایا جارہا تھا تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔ نئے گھر لے جائے جانے والے سامان میں ہر چیز شامل تھی۔ . . . پردے لٹکانے والے پائپ بھی۔
-
ماں تجھے سلام
Me to ye kehna chahoon ga k Maa k lie aik din rakhna buhat bari ziyadati ha me is ko nahi manta sorry to all
-
آخری خواہش
Jahan tak meri maloomat han Afsaana aisa hi hota ha k lagta ha k baat adhoori reh gaee mager us k ander mukamal baat chupi hoi hoti ha jis ko samajhna perta ha jesa k Irfan bhai ne tashreeh ker di ha umeed ha ab aap samajh gay hon gy?
-
آخری خواہش
آخری خواہش imgur (افسانہ نگار کا نام نا معلوم ) پھانسی سے قبل اُس سے اُس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اُس نے ایک عجیب و غریب خواہش کا اظہار کر کے سب کو چونکا دیا۔ ،،میں گاؤں کی بڑ والی مسجد کے احاطے میں اُسی منبر پہ کھڑا ہو کے تقریر کرنا چاہتا ہوں۔جس منبر پر کھڑے ہو کر مولوی عبد الکریم نے خطبہ دیا تھا،آخری خطبہ۔۔۔ سو پھانسی لگنے والے کی آخری خواہش کا احترام کیا گیا۔بات مارچ ،اپریل کے طوفان کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔اُس دن سارے کا سارا گاؤں اُس کی تقریر کے لیے اُمڈپڑاتھا۔گاؤں کی بڑ والی مسجد جس کے احاطے میں معمول کے طور پر جمعہ کے روز بھی چند نمازی ہوا کرتے تھے اُس روز بھری ہوئی تھی۔لوگ مسجد کے احاطے سے باہر بھی اُمڈ آئے تھے وہ یہ جاننے کے سخت مشتاق تھے کہ وہ اپنی تقریر میں کیا کہنے والا ہے۔اُس کو پولیس کی نِگرانی میں لایا گیا۔بڑے خصوع و خشوع کے ساتھ اُس نے وُضو کیااور اُس منبر کے سامنے کھڑا ہو گیاجس پر کھڑے ہو کر مولوی عبدالکریم گاؤں کے نمازیوں کو خطبہ دیا کرتا تھا۔مولوی عبدالکریم اُس کا مقتول۔۔۔۔۔ اُس دن سے عین ایک سال قبل اپریل کے مہینے میں گندم کی کٹائی کے بعد وہ گاؤں کی طرف لوٹ رہا تھا۔جمعہ کا دن تھا غضب کی گرمی پڑ رہی تھی مگر بدن سہتا تھا۔وہ گاؤں کی مسجد والی گلی میں داخل ہوا تو مولوی عبدالکریم منبر پر کھڑا خطبہ دے رہا تھا۔مسجد کے احاطے کی کوتاہ چار دیواری اندر باہر کے بھیدوں کو محفوظ رکھنے میں ناکام تھی کہ مولوی کی آواز اُس کے کانوں میں پڑی ،،عورت فتنہ ہے۔یہ آدم کو جنت سے نکلوانے والی ہے۔خدا کا وعدہ ہے کہ روزِ قیامت جہنم کے اندر سب سے ذیادہ عورتیں جائیں گی کیونکہ عورت ناقص العقل اور نا قص الدین ہے۔ایمان والے مردو!جس قدر ہو سکے عورت سے بچو۔اِس سے گُریز کرو۔یہ اپنی طرف مائل کرتی ہے اور مائل ہونے والوں کو گھائل کرتی ہے۔اِس پہ نظر پڑ جائے تو فوراً استغفر اللہ کا وِرد کرو تا کہ تمہاری نِگاہ پاک رہے۔یہ پاکباز مردوں کی شان ہے۔۔۔۔۔اُس سے آگے معلوم نہیں مولوی عبدالکریم کیا کیا کہتا رہا۔اُس نے نہیں سُنا ۔اُس کی آنکھیں دھندلا گئی تھیں اور کانوں کے اندر طوفانوں کا شور سما گیا تھا۔نہ جانے کیسے اُس کا دایاں ہاتھ نیچے کی طرف جھکا۔کچی پکی اینٹوں کی دیوار کے ساتھ نالی کے پاس اینٹ روڑوں کا ڈھیر لگا تھا۔اُس نے ایک اینٹ روڑہ اُٹھایا اور گھما کر پورے زور کے ساتھ مولوی عبدالکریم کے منہ پر دے مارا۔ اینٹ روڑہ شاید مولوی عبدالکریم کی کنپٹی پر لگا تھا کہ پہلے تو مولوی سمجھ ہی نہ سکا کہ ہوا کیا ہے۔اُس کے بعد وہ سر پکڑ کر وہیں دوہرا ہو گیا نمازیوں نے فوراً مڑ کر دیوار کی اُس طرف دیکھا جِدھر سے وہ روڑہ آیا تھا۔وہاں وہ کھڑا تھا۔بے حِس و حرکت۔ مولوی عبدالکریم کی ہلاکت ہو گئی تھی۔وہ چپ چاپ جا کر تھانے میں پیش ہو گیاتفتیش سے لے کر جیل اور پھانسی کی سزا کے فیصلے تک اُس نے زبان نہیں کھولی۔زبان کھولی تو اُس دن جس دن اُس سے اُس کی آخری خواہش پوچھی گئی۔ آخری خواہش وہ بھی کیسی عجیب و غریب۔۔۔ وہ منبر پہ کھڑا تھا۔لوگ بے تابی سے چُپ سادھے ہوئے تھے اور وہ اِضطراب سے چُپ تھا۔لوگ جاننا چاہتے تھے کہ اُس نے اتنے شریف النفس مولوی کو کیوں مارا۔ہر طرف سنّاٹا تھا۔آج بھی اُس دن کی طرح گرمی تھی لوگ اپنے اپنے پسینے کے اندر تر بتر دم سادھے بیٹھے تھے کہ اچانک اُس کی آواز اُبھری۔۔ ،،حاصل پور کی گندم پکی کھڑی ہے اور تم سارے اس کو چھوڑ کے یہاں بیٹھے ہو۔اِن دور دور تک پھیلے کھیتوں کے درمیان کہیں میرا بھی کھیت ہے اور اِن کھیتوں کے پار ایک قبرستان ہے جس میں میرا فضل حسین دفن ہے۔اُس کی دادی اور چاچے دفن ہیں اور اب باپ بھی دفن ہو جائے گا۔اِن کھیتوں کے اندر ہمارے پسینے دفن ہیں۔ہمارے خون ہماری ہڈیاں دفن ہیں۔ہماری محبتیں،ہماری محبتوں کے سجیلے موسم بھی اِن کھیتوں کے اندر دفن ہو گئے ۔اِس سنہری جھپک کی خاطرہم نے وہ موسم بھی گنوا دیے جو اپنی کوکھ میں ملن اور ملاپ کی سوغاتیں اور پیغام لے کر آتے تھے۔اُس پر بھی خدا نظریں گاڑے بیٹھا رہتا۔خدا جو مسجد میں رہتا ہے۔مسجد خدا کا گھر جو ہے۔خدا اپنے نمائندوں کی زبان سے باتیں کرتاعورت اور محبوبہ سے نفرت کرنا سکھاتا۔خدا محبت کے خلاف کیوں ہوتا ہے؟ وہ چیخ پڑا اُس کی آواز پھٹ رہی تھی ایک نوجوان دوڑ کے اس کے لیے پانی لے آیا۔پانی کو اس نے غٹا غٹ پی لیا۔کچھ دیر تک ہانپنے ک انداز میں لمبے لمبے سانس لیتا رہا پھر بول پڑا ،،اس نے ہمارے سارے حسین موسم غارت کر دیے۔سردیوں کی طویل راتیں،گیدڑوں کی ہونکار،گنے کا رس اور گرم بستر کی حرارت ہمیں دعوتیں دیتی۔مگر ہم نے یہ ساری دعوتیں ٹھکرا دیں ہم کھیتوں کی مینڈھیں ٹھیک کرتے رہے۔ہم نّکے سے لے کر کھیت تک نہری پانی کی کھالیوں اور کاریزوں کے پھیرے لگاتے رہے۔تا کہ وہ سارا پانی سیدھا اُن کھیتوں تک جائے جنہوں نے ہمیں زندگی دینی تھی اور جو ہماری جنّت کی ضمانت تھے۔اور جن کے غلّے کا ایک حصّہ ہم نے مسجد کو دان کر کے خدا کو راضی کرنا تھا۔خدا مگر اِس پر بھی خوش نہ تھا خدا کس بات پر خوش تھا ہم کبھی نہ جان سکے۔ہم درانتیاں پکڑے کھیت کاٹ رہے ہوتے تو وہ ہمیں دنیا داری کی غلاظت میں جکڑے ہوئے لوگ کہا کرتا۔اور پکارتا۔نماز کی طرف آؤ!فلاح کی طرف آؤ!ہم درانتیاں رکھتے اور چل پڑتے۔ہم خدا ک لیے جی رہے تھے اور اُسی کے لیے مر رہے تھے کہ لوگو میرا،،فضل حسین ،،مر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔مسجد کی کوتاہ دیوار کے پار عورتوں کے درمیان سہارا لے کر کھڑی اُس کی بیوی نے بھی چیخیں مارنی شروع کر دیں۔ لوگوں میں چہ میگویاں شروع ہو گئیں۔ایک نوجوان اٹھا اور بھاگ کر پانی کا کٹورہ لے آیا مگر اس نے اب کی بار پانی قبول نہیں کیا وہ اپنے ہی آنسوؤں کے ہڑ میں ڈوبا ہوا تھا۔ اب اس کی آواز سرگوشیوں میں بدل گئی تھی۔وہ بھی گرمیوں کی کھٹی میٹھی دوپہر تھی جب میرا فضل حسین مسجد سِپارہ پڑھنے گیا تھا۔اور جب دیر تک نہیں لوٹا تو میں خود لینے گیا۔لوگو جانتے ہو جب میں اپنے آٹھ سال کے فضل حسین کو لے کر مسجد سے نکلا تو وہ میری انگلی پکڑے چل نہیں رہا تھا۔اس کی لاش میرے بازوؤں میں تھی۔وہ مولوی عبدالکریم کے پاس صبح کا سِپارہ پڑھنے گیا تھا۔ لوگو!جانتے ہو ناں جس دن مولوی عبدالکریم کا جنازہ اٹھا اُس دن میرے فضل حسین کو مرے ہوئے بیالیسواں دن تھا۔وہ میرے،، فضل حسین ،، کے مرنے کے صرف بیالیس دن بعد جمعہ کے خطبے میں تم سارے گاؤں والوں کو عورتوں کے خلاف بھڑکا رہا تھا صرف بیالیس دن بعد صرف بیالیس دن بعد سر گوشیوں کا بھی دم ٹوٹ گیا تھا۔لوگوں کی آنکھوں کے آگے سے سارے پردے اٹھ گئے تھے۔سب دم بخود تھے کہ اچانک جنوب سے سرخ طوفان اٹھا اور آناًفاناًہر طرف پھیلتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
-
نوٹس
ہاہاہاہاہاہا بہت خوب جناب
-
سوچ کو بدلیں
shukriya friends
-
سوچ کو بدلیں
"صرف سوچ بدلنے کی ضرورت ہے " بعض اوقات صرف دیکھنے کا زاویہ بدلنے سے پورا منظر بدل جاتا ہے، چند کارآمد ٹپس جو ایسا کرنے میں آپ کی مددکریں گے عالمگیر کتاب ’’مثبت سوچ کی طاقت‘‘ کا مصنف ونسنٹ پیلے ایک روز اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک فون آیا ۔فون پر موجود شخص رو رہا تھا کہ اس کا سب کچھ لٹ چکا ہے۔ہر چیز تباہ ہو چکی اور وہ مکمل طور پر برباد ہو چکا ہے اب اس کے پاس جینے کا کوئی جواز نہیں۔ونسنٹ نے اس شخص کو اپنے دفتر آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ اگلے روز وہ ونسنٹ پیلے کے آفس میں موجود تھا، ملاقات کی ابتدا اس نے آہ و بکا سے کی۔وینسنٹ نے مسکرا کر اسے تسلی دی اور سکون سے بیٹھنے کو کہا جب وہ قدرے اطمینان سے بیٹھ گیا تومینجمنٹ کے اس معروف ماہر نے کہا کہ آئو مل کر تمہارے حالات کا مفصل جائزہ لیتے ہیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ تمہارے مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے؟ونسنٹ نے ایک کاغذ لے کر اس کے درمیان میں ایک عمودی لکیر کھینچی اور کاغذ اس شخص کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ’’میں تم سے بہت سی باتیں پوچھوں گا۔ جو باتیں تمہاری زندگی میں مثبت ہیں انہیں کاغذ پر دائیں کالم میں لکھنا اور جو منفی ہیں انہیں بائیں طرف‘‘وہ شخص پریشان ہو کر ایک دم بولا’’لیکن میری زندگی میں تو کچھ بھی مثبت نہیں ہے‘‘ آپ کو لکیر لگانے کی کیا ضرورت ہے ؟میں ابھی سارا صفحہ منفی باتوں سے بھر دیتا ہوں۔ونسنٹ نے ایک بار پھر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ’’تم صرف ان باتوں کا جواب دینا جو میں پوچھوں‘‘وینسنٹ نے پہلا سوال کیا’’آپ کی بیوی آپ کو چھوڑ کر کب گئی؟وہ شخص یکدم تلملا کر بولا،یہ آپ سے کس نے کہا؟میری بیوی مجھے کیوں چھوڑ کر جائے گی۔وہ بہت اچھی ہے،میرے ساتھ ہے اور مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔‘‘’’بہت خوب!یہ تو بہت اچھی بات ہے، اسے دائیں طرف لکھ لو۔‘‘اس شخص نے یہ بات دائیں کالم میں لکھ لی تو وینسنٹ نے اگلا سوال کیا’’آپ کے بیٹوں کو جیل کب ہوئی؟یہ سن کر اس شخص کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا’’انہیں جیل کیوں ہو گی؟ میرے بیٹے انتہائی مہذب شہری ہیں ،قانون کا احترام کرتے ہیں والدین کے فرمانبردار ہیں، اچھی ملازمت ہے ان کی، آسودہ حال ہیں اور میرے ساتھ ہی رہتے ہیں۔‘‘ ’’یہ تو اور بھی اچھا ہے۔ یہ سب باتیں دائیں طرف لکھ لو۔‘‘ونسنٹ نے مسکرا کر کہا۔اس کے بعد ونسنٹ نے مزید کچھ چبھتے ہوئے سوال کیے اور ان کا مثبت جواب دائیں کالم میں لکھواتا رہا۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا۔اس طرح کئی صفحات بھر گئے ،لیکن ان سب کا بایاں کالم بالکل خالی رہا۔ اتنے سوالوں کے بعد اس شخص کو سمجھ آ چکی تھی کہ قصور حالات کا نہیں، اس کی منفی سوچ کا ہے۔اس سے پہلے کہ وینسنٹ کچھ کہتا،وہ شخص خود ہی مسکرا کر کہنے لگا’’آپ صحیح کہتے ہیں سوچ کا انداز اگر مثبت ہو تو ہر چیز بدلی بدلی اور بہتر نظر آتی ہے۔‘‘ مثبت طرز فکر ہے کیا…؟ اوپر دیا گیا واقعہ اپنے اندر بڑی حکمت رکھتا ہے ،مگر پہلا سوال تو یہ ہے کہ مثبت طرز فکر کس چڑیا کا نام ہے؟ ماہرین کے مطابق زندگی کے ناخوشگوارحالات و واقعات میں ہر صورت حالات سدھرنے اور بہتری کی توقع و امید رکھنا مثبت طرز فکر ہے۔ کامیابی اور خوشی مثبت سوچ کی سہیلیاں ہیں۔ مثبت طرز عمل کا آغاز خود کلامی سے ہوتا ہے۔انسان اپنے آپ سے خاموش گفتگو کرتا ہے، جو لامتناہی سوچوں پر مبنی ہوتی ہے۔سوچوں کی لہریں ہمارے دماغ میں سفر کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ سوچیں منفی بھی ہو سکتی ہیں اور مثبت بھی، دلیل و منطق پر مبنی بھی ہو سکتی ہیں،غلط فہمیوں اور غلط تصورات پر مشتمل بھی ہو سکتی ہیں اور اچھے گمان و امید پر بھی۔ محققین نے مثبت سوچ کے نتائج پر تحقیق کی اور نتیجہ یہ نکالا کہ مثبت سوچ کے حامل افراد کی عمر طویل ہوتی ہے ۔وہ ڈپریشن میں بہت کم مبتلا ہوتے ہیں۔باد مخالف کا جوانمردی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ان کی جسمانی و نفسیاتی صحت دوسرے لوگوں کی نسبت بہتر ہوتی ہے۔یونیورسٹی آف کینٹکی امریکہ کے ماہرین نے اپنی ریسرچ کے بعد یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان جس طرح اپنی زندگی کے معاملات کے بارے میں سوچتا ہے،اس کے سوچنے کا وہ انداز اس کے جسم کی قوت مدافعت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان اپنی زندگی کے معاملات کے بارے میں مثبت انداز میں سوچتا ہے تو یہ مثبت سوچ اس کے جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ اور صحت میں بہتری کا باعث بنتی ہے۔تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ مستقبل کے بارے میں اچھے اور مثبت انداز میں سوچنا حالیہ زندگی پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔ زمانہ حال کی مصیبتوں کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنے سے انسان فالج، ہارٹ فیلیئراور دماغی سکتے وغیرہ سے محفوظ رہ سکتا ہے کیونکہ سامنے آنے والی مشکلات اور مستقبل کے بارے میں مثبت اور اچھے انداز میں سوچنے کا اثر دماغ کے سامنے والے درمیانی حصے پرہوتا ہے جو کہ آنکھ کے پیچھے گہرائی میں واقع ہوتا ہے یہ حصہ متحرک ہو جاتا ہے۔متحرک ہونے سے جسم کے مدافعتی نظام میں قوت پیدا ہوتی ہے اور مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔یوں انسانی پریشانیوں اور مشکلات میں فرار اختیار کرنے کے لیے سگریٹ نوشی یا دیگر قسم کی مخرب اخلاق سرگرمیوں کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مثبت رویے کی تعمیر کیسے کی جائے ۔ماہرین نفسیات اس کے لیے بہت سے طریقے بتاتے ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔ 1۔دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ نہ کریں ہر انسان ایک مختلف گھریلو ماحول،معاشی و معاشرتی حالات،والدین ،تعلیم،بہن بھائی اور دوست رکھتا ہے عمر،مواقع،قابلیت مزاج اور ذہنی صلاحیتیں بھی سب کی یکساں نہیں ہوتیں تو پھر موازنہ کرنا کہاں کی دانشمندی ؟یاد رکھیے موازنہ ہمیشہ صرف یکساں خصوصیات و حالات کی حامل اشیاء یا افراد میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر زندگی میں کبھی آپ کو خود میں خامیاں ہی خامیاں اور دوسروں میں خوبیاں خوبیاں نظر آنے لگیں تو خود کو خودترسی کے اندھیروں کے حوالے کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیجیے گا کہ کیا آپ کے حالات اور صلاحیتیں سو فیصد اس شخص کی مانند ہیں جس کے ساتھ آپ اپنا موازنہ کر رہے ہیں۔اگر جواب نفی میں آئے تو بغیر کسی مقابلے کے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیے۔صرف اور صرف اپنی منزل پر نظر رکھیے تاکہ آپ کی راہ کھوٹی نہ ہو۔ 2۔ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے جب بھی ناکامیاں آپ کے حوصلوں کو پسپا کرنے لگیں خود کو سنبھالیں۔اپنے کندھے پر ایک تھپکی دیں اورچپکے سے خود سے کہیں ’’تھوڑی سی کوشش اور…۔ کامیابی انہیں کے قدم چومتی ہے جو راہ کی صعوبتوں سے تھک کر بیٹھ نہیں جاتے۔حوصلہ شکنی سے سفر ادھورا نہیں چھوڑ دیتے بلکہ طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے کوشش اور ’’تھوڑی سی اور کوشش‘‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہیں۔‘‘ 3۔اللہ پر بھروسہ جب بھی لفظ، لہجے،حالات مایوسی کی دلدل میں دھکیلنے لگیں۔ خوا بوں کی مٹھی سے تعبیریں ریت کی طرح پھسل جائیں، زندگی کے صحرا میں کامیابی کسی انجان مسافر کی طرح بچھڑ جائے اور ناامیدی کی ریت اڑ اڑ کر باقی ماندہ خوش کن آرزوئوں کا طواف کرنے لگے اور اللہ پر بھروسے کی کشتی ڈگمگانے لگے تو ایسے میں ایک چھوٹی سی مشق صحرا کو نخلستان میں تبدیل کر دے گی ۔ڈگمگاتی کشتی سنبھل جائے گی۔ معروف صوفی سکالر سید سرفراز اے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ زندگی میں جب بھی مایوس ہونے لگیں تو سوچیں کہ ماضی میں کتنی بار ایسا ہوا کہ لگا’’یہ کام نہیں ہو پائے گا‘‘ لیکن اللہ نے غیب سے مد د کی اور وہ کام ہو گیا۔ کتنی بار اللہ نے کٹھن حالات سے نکال لیا۔کتنی بار ناموافق حالات موافق ہو گئے اور جن خواہشات کے پورا نہ ہونے پر آپ بے چین رہتے تھے ۔آنے والے وقت نے بتایا کہ ان کا نہ پورا ہونا ہی بہتر تھا تب آپ نے دل کی گہرائیوں سے اللہ کا شکر ادا کیا۔جب آپ ان سارے واقعات کو یاد کریں گے تو آپ کا اللہ پر بھروسہ مضبوط ہو جائے گا۔4۔اللہ والوں سے قریب ہوجائیں ایسے لوگوں سے قریب ہو جائیں جنہیں دیکھ کر اللہ یاد آتا اور نیکی کا جذبہ دل میں فزوں تر ہوتا ہے ۔ منفی سوچ مثبت میں بدلنے لگتی ہے ۔سیانے کہتے ہیں کہ اگر شبہ بھی ہو جائے کہ فلاں شخص اللہ کا مقرب ہے تو اس کے قریب ہو جائو کیونکہ ہم نشینی کا اثر بہرحال ہوتا ہے۔ 5۔حلقہ احباب وسیع کیجیے محبت دوسروں کی خوبیوں کو بے نقاب کرنے کا نام ہے۔خوشبو صفت، مخلص اور اچھے دوست یہی کرتے ہیں،مخلص دوست سرمحفل ہماری خوبیوں کو اجاگر کر کے ہمارے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں۔تحقیق کے مطابق پراعتماد لوگ کامیابی کی شاہراہ پر بہت تیزی سے سفرکرتے ہیں۔اچھے دوستوں سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ تعلقات کا وسیع کینوس بعض اوقات کائنات کے حسن کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔انسانی نفسیات کا ادراک ہوتا ہے۔رویوں کوسمجھنے اور مختلف مزاج کے لوگوں سے برتائو کرنا اور انہیں ہینڈل کرنا سکھاتا ہے۔سچ تو یہ بھی ہے کہ جس قدر زیادہ لوگوں سے میل جول ہو گا۔علم،تجربہ اور مشاہدہ بھی اسی قدر بڑھتا چلا جائے گا جو حتمی طور پر انسان کو بتائے گا کہ مثبت سوچ رکھنے والے خوشبو صفت لوگ ہی ہر دلعزیز ٹھہرتے ہیں ۔ 6۔اپنانے یا مسترد کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کریں جلد بازی میں بہت بار ہم سنہری مواقع ضائع کر دیتے ہیں اورغلط چیزوں کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ جس چیز کو ہم رد کر رہے ہیںوہ مستقبل میں ہمارے لیے بہت سود مند ثابت ہو اور جس کو وقتی طور پر مفید سمجھ رہے ہیں وہ آنے والے وقت میں ضرررساں اورزندگی کو اجیرن کر دینے والی ہو۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 216میں ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم یاد رکھیں ۔ ’’اور شاید کہ تم کو بری لگے ایک چیز اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور شاید تم کو بھلی لگے ایک چیز اور وہ بری ہو تمہارے حق میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے کسی بھی شے یا شخص کواپنانے یا مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے دوبارہ ، سہ بارہ سوچ لیں۔ 7۔شخصیت کو نکھاریں ظاہری شخصیت ہمارے اپنے ہی نہیں،دوسروں کے ہمارے متعلق امپریشن اور رویے کو بھی تبدیل کر دیتی ہے۔اگر آپ خوش لباس ہیں، آپ کا ہیئر سٹائل خوبصورت ہے ،جوتے لباس کے مطابق اور صاف ستھرے ہیں تو آپ کی ظاہری شخصیت کی خوبصورتی آپ کے اندر کے حسن اور اعتماد میں اضافہ کا سبب بنے گی۔سادہ اور باوقار شخصیت کا تاثر بہت دیرپا ہوتا ہے۔آپ اپنی اندرونی شخصیت کو ظاہری شخصیت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثبت سوچ اور طرز عمل اپنا سکتے ہیں کیونکہ اندر کا عکس ظاہر سے ضرور عیاں ہوتا ہے۔ 8۔گفتگو کریں بجا کہ کبھی کبھی کہنے کو صرف اور صرف ہمارے پاس خاموشی ہوتی ہے لیکن شکیب جلالی نے کہا تھا ؎ گفتگو کیجیے کہ یہ فطرت انسان ہے شکیب جالے لگ جاتے ہیں جب بند مکاں ہوتا ہے اگر کوئی شخص آ پ کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتا ہے یا ایسے رویے کا مظاہرہ کرتا ہے کہ منفی سوچوں کی مکڑی آپ کے اردگرد جالا بننے لگتی ہے تو آپ اس جالے میں مقید رہنے کی بجائے اسے مثبت سوچوں کی طاقت سے توڑ ڈالیے۔ بہت جرات ،اعتماد، نرمی اور ملائمت سے ناقد سے اس بارے گفتگو کریں اور اس کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کریں ۔اگر وہ آپ کی بات سمجھ جائے تو ٹھیک ورنہ اپنے آپ کو سمجھائیے کہ ہر انسان کا زاویہ نگاہ اس کے ظرف کے مطابق ہوتاہے اور ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ ٹھیک ہو۔بلا وجہ خود کو منفی سوچوں کے حوالے کبھی مت کریں۔ 9۔دوسروں کی سوچوں کو خود پر غالب نہ آنے دیں کبھی کسی کو اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو تضحیک کا نشانہ بنائے۔کبھی منفی ردعمل کی وجہ سے اپنا موڈ خراب نہ کریں۔دوسروں کی منفی آراء کو سر پر سوار کر کے کبھی اپنا مثبت طرز زندگی ترک نہ کریں۔ 10۔خود کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ ایسی مصروفیات اپنائیں جو آپ کو سچی خوشی دے سکیں۔ اصل خوشی وہی ہوتی ہے جو دوسرون کے لیے بھی کسی نہ کسی طور نقصان نہیں، فائدے کا باعث ہو۔ 11۔مسکرانا سیکھیں ایک تھکن سے بھر پور دن میں جب آپ کے اعصاب تنے ہوئے ہوں۔خوفناک سنجیدگی چہرے سے ٹپک رہی ہو، ایسے میں اچانک ایک خوبصورت مسکراہٹ جھلستی دوپہر میں رم جھم کا سا سکون دیتی ہے۔جو لوگ مسکرانا جانتے ہیں، وہ منفی سوچوں کو بھگانا بھی بہت خوب جانتے ہیں۔ 12۔مثبت سوچوں کی لائبریری بنائیں روزانہ 10سے 15منٹ ایسی باتیں سننے،پڑھنے،دیکھنے میں گزاریں جو رویے کو مثبت رکھنے کی تحریک پیدا کرتی ہیں۔فائز سیال،رابرٹ ایچ شلر،ڈیل کارنیگی ،سٹیفن کووے یا کسی بھی ایسے مصنف یا ٹرینرکی کتاب پڑھیں جو آپ کی سوچ کی سمت کو مثبت رکھنے اور مایوسی سے بچنے میں آپ کی مدد کرے۔کوئی ٹی وی پروگرام یا فلم دیکھیں، ریڈیو پر ان لوگوں کو سنیں جو مثبت گفتگو کرتے ہوں ۔جب آپ اپنے ذہن میں اچھی اور روشن سوچوں کی لائبریری قائم کر لیں گے تو آپ کی شخصیت سے جھانکتی یہ روشنی اسی قدر دلفریب اورسحر انگیز لگے گی،جیسے رات کے وقت لاہور کی مال روڈ پرواقع جنرل پوسٹ آفس یا پھر پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کی عمارت سے جابجا جھانکتی خفیہ بلبوں کی روشنی ۔ 13اشتعال انگیزی پھیلانے والوں سے اجتناب کریں لوگ ہوں یا میڈیا ۔ایسے تمام محرکات سے دور ہو جائیں جو اشتعال کو ہوا دیتے اور منفی باتوں کے بیج بوتے ہیں۔ 14۔شاکی لوگوں کو نظر انداز کریں کچھ لوگ آپ کی کامرانیوں اور شاد مانیوں پر آ پ کو مبارکباد تو دیتے ہیں،لیکن ان کا لہجہ کھوکھلا ہوتا ہے۔ وہ اندر سے آپ کی کامیابی کو قبول نہیں کر پا رہے ہوتے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اپنا بہت زیادہ بھی بہت کم اور دوسروں کا بہت تھوڑا بھی زیادہ لگتا ہے۔ وہ ہر وقت حالات اور قسمت سے شکوہ کناں رہتے ہیں اور یوں اپنا وقت،توانائیاں اور صلاحیتیں ضائع کرتے کرتے محرومیوں اور ناکامیوں کا تعویز گلے میں لٹکائے پھرتے ہیں۔یہ تعویز انہیں دوسروں کی سبقت کو قبول کرنے سے روکتا ہے۔ایسے لوگوں سے فاصلہ رکھیں کیونکہ صحبت بہرحال اپنا رنگ تو دکھاتی ہے۔ 15۔مثبت زخیرہ الفاظ کا استعمال زرا سا بات کرنے کا سلیقہ سیکھ لو تم بھی ادھر تم لب ہلاتے ہو،ادھر دل ٹوٹ جاتا ہے جی ہاں۔گفتگو کا سلیقہ تو اہم ہے ہی لیکن لفظوں کا چنائو اس سے بھی زیادہ اہم۔منفی الفاظ صورتحال کو سنگین اور حالات کو کشیدہ کر دیتے ہیں جبکہ خوبصورت الفاظ اور مثبت لہجہ کہتا ہے پریشان ہونے کی بات نہیں۔نئے دروازے آپ کے لیے کھل چکے ہیں جہاں آپ اپنی صلاحیتیں زیادہ بہتر انداز میں منوا سکتے ہیں۔ منفی طرز گفتگو مایوسی پھیلاتے ہوئے کہتا ہے،’’تم میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ تم زندگی میں کچھ کر سکو۔تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔تمہارے لیے آگے بڑھنا ناممکن ہے۔‘‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنی ڈکشنری سے ناممکن ’’نہیں کر سکتا‘‘’’کوئی فائدہ نہیں‘‘،جیسے الفاظ نکال دیں اور ’’ممکن‘‘ کیا جا سکتا ہے ضرور فائدہ ہو گا،جیسے الفاظ کو Boldکر لیجیے۔ منفی الفاظ آپ خود استعمال کریں یا کوئی اور آپ کے لیے استعمال کرے،یہ منفی رجحانات کو جنم دیتے ہیں۔آگے بڑھنے کی راہیں مسدود کرتے ہیں ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپ کسی بات پر شدید برہم ہوں تب بھی نرم الفاظ اختیار کرتے ہوئے کہیں ’’میں کچھ ناراض ہوں‘‘ 16اپنے احساسات کو قابو میں رکھیں بعض اوقات اپنی مرضی کے برعکس ردعمل دیکھ کر ہم آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ہمارا منفی اظہار خیال جہاں دوسروںکو رنجیدہ کرتا ہے، وہاں خود ہمیں بھی جھنجھلاہٹ کا شکار کرتا ہے۔اس لیے ہمیشہ اپنے احساسات کے اظہار کو قابو میں رکھیں۔ 17۔اپنی ڈائری آفس ٹیبل یا وائٹ بورڈ پر یہ چند اصول تحریر کر لیں ٭منفی سوچیں جب بھی ذہن پر دستک دیں گی ہم دروازہ نہیں کھولیں گے۔ ٭ہمیشہ ہر شے اور معاملہ کا روشن پہلو دیکھنا ہے کیونکہ سورج کی طرف منہ کرنے سے اندھے سائے پشت پر چلے جاتے ہیں۔ ٭رجائیت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہے کہ رحمت کے امیدواروں پر رحمت ضرور ہوتی ہے ٭ایسے مواقع کی تلاش میں رہنا ہے کہ مسکراہٹ چہرے کا لازمی جز بن جائے۔ ٭حتی المقدور کوشش کر کے یقین رکھنا ہے کہ اللہ ضرور میری مدد فرما کر مجھے بہترین سے نوازے گا۔ ٭مثبت طرز فکر و زندگی کے حامل افراد کی صحبت میں روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ضرور گزارنا ہے ۔ ٭مثبت مواد کی لائبریری کے حجم میں اضافہ کرنا ہے ۔ ٭صرف ان لوگوں اور چیزوں کے بارے میں سوچنا ہے جو مسرت کا احساس دلاتی ہیں، ناکامی اور خوف کو لفٹ نہیں کرانی۔ ٭مایوس،پست ہمت اور کمزور لوگوں کو سنبھالا دینا ہے اور یقین دلایا ہے کہ ہاں!تم یہ کر سکتے ہو‘‘ ایک بہت بڑے ادارے کے ہردل عزیز اور کامیاب منیجر کی کامیابی کا راز کھوجنے کی کوشش کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ اس کا مثبت رویہ دراصل اسے ایسی توانائی فراہم کرتا ہے کہ مشکل حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے اسے نئے نئے راستے سجھائی دینے لگتے ہیں۔اس منیجر کے مثبت رویے کا آغاز نوحرفی لفظ سے ہوتا تھا۔دفتر میں جب بھی کوئی اس سے پوچھتا ’’آپ کیسے ہیں۔؟‘‘وہ مکمل توانائی اور بھر پور گرمجوشی سے جواب دیتا۔ کیا آپ مثبت سوچ کے حامل ہیں۔؟یہ اس سوالنامے کے ذریعے پرکھا جا سکتا ہے۔ 1۔کیا آپ مشکل حالات میں مسکراتے ہیں؟ 2۔کیا آپ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، دوسروںکے گڑھے مردے نہیں اکھاڑتے؟ 3۔غیر متوقع صورتحال سے گھبرانے کی بجائے یکدم اسے چیلنج سمجھ کر اس سے لطف اندوز ہونے اور سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں؟ 4۔دوسروںکو کسی نہ کسی مثبت لفظ اور جملے کے ذریعے آگے بڑھنے کی تحریک دیتے رہتے ہیں؟ 5۔کیا انجان لوگوں کے ساتھ آپ کا مزاج دوستانہ ہوتا ہے؟ 6۔آپ گرتے ہی دوبارہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں؟ 7۔آپ کی ذات آپ کے گرد و پیش میں رہنے والوں کے لیے مینارہ روشنی ہے؟ 8۔مشکل صورتحال میں بجائے گرجنے برسنے اور دوسرون کو مورد الزام ٹھہرانے کے ،آپ تحمل،خاموشی اور مسکراہٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ 9۔آپ رشتوں اور تعلقات کو مادی چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں؟ 10۔ضروریات پوری نہ ہونے کے باوجود آپ خود کو خوش رکھنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں؟ 11۔شکست کھا کر بھی ناامید نہیں ہوتے؟ 12۔دوسرون کی جیت پر خوش ہوتے ہیں؟ 13۔موجودہ حالات مخدوش ہونے کے باوجود آپ ایک روشن اور بہتر مستقبل کے لیے پرامید و پر یقین رہتے ہیں؟ 14۔اجنبی لوگوں کو بھی ان کے اچھے اخلاق و اطوار پر سراہتے ہیں؟ 15۔آپ کو دوسروں کو یہ بتا کر خوشی ہوتی ہے کہ آپ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے؟ 16۔آپ کی صحبت میں لوگ خوشی،سکون،اور توانائی محسوس کرتے ہیں۔؟ 17کہیں ناانصافی ہوتی دیکھیں تو محض شکوہ کرنے کی بجائے ناانصافی کے خاتمے کے لیے کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں؟ شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے 18۔ناقدین کی وجہ سے اپنا مورال پست نہیں ہونے دیتے؟ 19۔بدلے کی توقع کے بغیر دوسروںکو فائدہ پہنچا کر خوش ہوتے ہیں؟ 20۔ہر وقت لڑائی جھگڑے کا سبب بننے والی منفی باتوں کو دہرانے کی بجائے انہیں ذہن سے محو کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ 21دوسروںکی خامیوں کی بجائے خوبیوں پر نظر رکھتے ہیں؟ 22۔حتی المقدور دوسروںکا ذکر اچھے الفاظ میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا خاموش رہتے ہیں؟ 23۔مثبت واقعات،اقوال،سوچیں دوسروںکے ساتھکرتے ہیں؟ 24کیا آپ دوسروںکو مصیبت یا پریشانی میں دیکھ کر چپکے چپکے ان کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں؟ 25۔اپنے ساتھ سچ بولتے ہیں؟ جتنے سوالوں کا جواب ہاں ’’میں ہے، اتنے ہی آپ مثبت ہیں۔ زندگی خوش ذائقہ اور گلے سڑے … دونوں طرح کے پھلوں سے بھری ایک ٹوکری ہے۔اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ گلے سڑے پھلوں کا انتخاب کر کے صحت خراب کرتے ہیں یا خوش ذائقہ تازہ پھلوں سے لطف اور توانائی کشید کرتے ہیں۔ یاد رکھیے ،مثبت رویہ،ضروری نہیں،آپ کے تمام مسائل حل کر دیے لیکن اگر آپ مسائل سے نکلنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد طریقہ مثبت سوچ رویہ اور مثبت طرز عمل ہی ہے۔
-
خواتین او ڈپریشن
اس ترقی یافتہ دور میں جہاں انسانوں کو دوسرے بڑے مسائل درپیش ہیں ان مسائل میں ایک بڑا مسئلہ ڈپریشن کا بھی ہے۔ اس میں وقتا فوقتاً اْداسی‘مایوسی اوربیزاری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عموماً یہ علامات ایک سے دو ہفتوں میں ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ اُداسی کی کوئی ٹھوس وجہ بھی ہوسکتی ہے اورنہیں بھی۔ اس دورانیے میں اپنے عزیز واقارب سے رجوع کرسکتے ہیں جوکہ اکثراوقات سود مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر اُداسی کی علامات برقرار رہیں‘ روزمرہ کی زندگی متاثر ہونے لگے اورعام تدابیر سے آفاقہ نہ آئے تو ڈپریشن کہلاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ڈپریشن ایک عام بیماری ہے اورکسی بھی وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس مسئلے کا شکار ہوسکتی ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ڈپریشن زیادہ پایا جاتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ مرد حضرات اپنے اندرونی دباوٴ کا اظہار سگریٹ پی کر غصہ کر کے کرلیتے ہیں جبکہ خواتین کے فرائض مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں‘ دیگر کاموں کے علاوہ گھریلو امور بھی انجام دینا ہوتے ہیں‘ ان میں بچوں کے مسائل‘کام کی زیادتی اور دیگرعوامل مل کر ڈپریشن میں اضافے کی بڑی وجہ بنتے ہیں جبکہ دیہاتی خواتین کے مقابلے میں شہری خواتین میں ڈپریشن کی اوسط شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔ ڈپریشن کی علامات: ڈپریشن کی شدت اوردورانیہ معمولی اُداسی سے زیادہ طویل ہوتا ہے۔ مثلاً اکثر اوقات میں اُداسی‘ دل برداشتہ ہونا یا تفریح میں کمی‘فیصلے کرنے میں مشکلات ‘ جسمانی تھکن‘ بے چینی اور چڑچڑاپن ‘ بھوک میں کمی اوروزن کا گھٹنا(بعض افراد میں بھوک اوروزن کا اضافہ)نیند میں کمی اورپہلے سے جلد جاگنا‘ خود اعتمادی میں کمی‘ دن کے خاص پہر میں زیادہ علامات مگریہ ضروری نہیں کہ ایک مریض میں یہ تمام علامات موجود ہوں‘ عموماً چار سے پانچ علامتیں ڈپریشن کی تشخیص کرتی ہیں۔ اکثروبیشتر ہم ڈپریشن کی نشاندہی نہیں کرسکتے جس سے روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو مصروف کرنے کی کاوش میں ڈپریشن سے ہماری جدوجہد جاری رہتی ہے۔ ان تدابیر سے ہم مزید پریشانی اورتھکن میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ڈپریشن کی ظاہری علامات سریا جسمانی درد اور نیند میں کمی بھی ہوسکتی ہے۔ ہرفرد کا تجربہ دوسرے فرد سے مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً ناامیدی ‘قریبی شخص یا چیز کا کھوجانا ‘ناکامی ‘تنہائی اور خاص طورپر بڑھاپے کی تنہائی بھی ڈپریشن کی وجہ بنتی ہے۔ کچھ لوگوں میں ڈپریشن کا بظاہر کوئی سماجی سبب یا وجہ نہیں پائی جاتی مگر پھربھی وہ ڈپریشن میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات موذی اورتکلیف دہ امراض ڈپریشن کا باعث بن سکتے ہیں مثلاً سرطان‘قلبی امراض اوردیگر بیماریاں وغیرہ ڈپریشن ایک نسل سے دوسری نسل تک بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر والد یا والدہ کو ڈپریشن لاحق ہے توبچوں میں 8گنا زیادہ خطرہ ہے مقابل اسکے جس فرد کے خاندان میں ڈپریشن نہ ہو۔ پندرہ میں سے ایک فرد کو ڈپریشن کے ساتھ انسو مینیا( دیوانہ پن) ہوتا ہے ماضی میں اس بیماری کو مینک ڈپریشن کہا جاتا تھا لیکن اب اسکا نام پولرآفکٹیوڈس آرڈر ہے۔ دیوانے پن میں مریض غیرمعمولی طورپر خوش اورپھرتیلے ہوتے ہیں اوروہ ایسی حرکات کربیٹھتے ہیں جو عام حالات میں نہیں کرتے۔ اس بیماری میں عورتوں اورمردوں کی شرح برابر ہے‘یہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوسکتا ہے۔ ڈپریشن کسی کمزوری کی علامت نہیں یہ مضبوط انسان کو بھی نڈھال کرسکتا ہے۔ معمولی درجے کی ڈپریشن کا علاج بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔ مریض ماہر نفسیات سے رجوع کر سکتا ہے۔ اگرمریض کی پریشانی ازدواجی مشکلات کی وجہ ہے تو متعلقہ ادارے سے رابطہ کیاجاسکتا ہے۔ اگر مریض کے افسردگی کی وجہ اپنے عزیز کی موت ہے تو اس ضمن میں مریض ادارے سے بات کرسکتا ہے۔ اگر مریض سمجھتا ہے کہ وہ اپنے احساسات رشتہ دار یا دوست کے ساتھ نہیں بانٹ سکتا تو ماہر نفسیاتی گفتگو مریض کا بوجھ ہلکا کرنے میں مدد گار ہوگا۔ طریقہ علاج یا تدبیر کا تعین مریض کی علالت اور اس کی شدت پر منحصر ہے‘بذریعہ گفتگوعلاج کچھ عرصہ تک جاری رہتا ہے اور ایک ملاقات کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹے پر محیط ہوتا ہے مگرعلاج کی مدت معالج طے کرتا ہے جسکا انحصار مرض کی نوعیت پر ہوتا ہے علاج بذریعہ گفتگو سے مریض کو یہ تسلی ملتی ہے کہ وہ تنہا نہیں اوراسکی بات سننے والا موجود ہے جوکہ صحیح سمت دکھاتا ہے۔ ڈپریشن کی ادویات کا استعمال شدید درجے کے ڈپریشن میں ہوتا ہے۔ اگرچہ دوائیاں خواب آور نہیں ہوتیں مگر مریض کو آرام پہنچاتی ہیں مریض کے مزاج میں بہتری آتی ہے اورمریض کے روزمرہ کے کام خوش اسلوبی سے انجام دے سکتے ہیں۔ ادویات کے استعمال کے شروع میں مریض کوئی بہتری محسوس نہیں کرے گا کیونکہ ان ادویات کے کام کرنے کا طریقہ دوسری ادویات سے مختلف ہے۔ اسکے علاوہ ڈاکٹر کی ہدایات پرعمل کرکے اس سے چھٹکارا پایاجاسکتا ہے۔ ڈپریشن مخالف ادویات صرف اورصرف ڈاکٹر کے مشورے اورہدایات پرہی استعمال کرنی چاہئیں‘ خود سے کوئی دوا ہرگز استعمال نہ کریں یہ آپ کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ تین سے چار ہفتوں میں ادویات کے باقاعدہ استعمال اورڈاکٹروں کے مشوروں پر عمل کرنے سے مریض پر اچھے اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس سے مکمل بچاوٴ کیلئے ضروری ہے کہ علاج جاری رکھیں تاکہ مرض کی جانب لوٹنے کے امکانات کم سے کم رہ جائیں۔دوسری تمام ادویات کی طرح ڈپریشن مخالف ادویات کے بھی مضر اثرات ہوتے ہیں مگر یہ اثرات بہت کم درجے کا ہوسکتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ ختم بھی ہو سکتے ہیں۔ ڈپریشن مخالف ادویات یا بذریعہ گفتگو علاج کا انحصار مریض کی علالت کی شدت پر ہے عام طورپر بذریعہ گفتگو علاج ہلکے اوردرمیانی درجے کے ڈپریشن میں استعمال ہوتا ہے جبکہ ادویات زیادہ شدت میں دی جا تی ہیں جب دوا لینے سے مریض کی طبیعت سنبھلنے لگے تو بذریعہ گفتگو علاج مفید ہوتا ہے اورکسی قسم کے ذہنی خلفشار کو کم کرتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ درمیانے درجے کے ڈپریشن میں بذریعہ گفتگو علاج اورڈپریشن مخالف ادویات میں کوئی فرق نہیں۔ اکثر ماہر نفسیات کا خیال ہے کہ ڈپریشن مخالف ادویات انتہائی درجے کی بیماری میں زیادہ کارآمد ہیں۔ ڈپریشن میں مبتلامریض کی بات سنیں اورسمجھیں ‘ ہوسکتا ہے کہ ایک بات آپ کو کئی مرتبہ سننی پڑے‘ خود سے کوئی مشورہ نہ دیں جب تک آپ سے پوچھا نہ جائے‘بے شک جواب آپکو کتنا ہی آسان کیوں نہ لگے۔ کئی دفعہ ڈپریشن کی وجہ کی نشاندہی آسان ہوتی ہے جسکا حل نکالنے میں آپ مریض کی مدد کرسکتے ہیں۔ مریض کے ساتھ وقت گزاریئے اور سہارا دیجئے‘ انکو بات کرنے کا مشورہ دیں اور ان کاموں میں انکی مدد کریں جووہ آسانی سے انجام دے سکیں۔ ڈپریشن کے مریض کو یہ یقین نہیں آتا کہ وہ بھی ٹھیک ہوں گے۔ آپکا کام انکی حوصلہ افزائی کرنا ہے اورشاید اپنے الفاظ آپکو کئی مرتبہ دہرانے بھی پڑیں۔ ڈپریشن کے شکار مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اسکو کسی کام میں مصروف رکھناچاہیے‘ اسکو لوگوں سے ملنا چاہیے اورلوگوں کو چاہیے کہ وہ اسکو مطمئن رکھنے کی کوشش کریں اوراسکو یہ سمجھائیں کہ وہ اکیلا ایسا شخص نہیں ہے جس کو یہ مسائل درپیش ہیں۔ اس طرح وہ پریشان کن حالات یا مسائل سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا اس کو چاہیے کہ اپنے آپ کو ان حالات سے نمٹنے کیلئے تیار رکھے۔ مریض اپنے ہر عمل میں توازن قائم کریں‘اپنے ذہن کو تروتازہ رکھنے کیلئے اچھی کتابیں پڑھیں اچھی محفلوں میں بیٹھیں اوراپنے آپ کو کرب وپریشانی میں مبتلا نہ ہونے دیں اپنے احساسات وجذبات کو زبردستی خود تک محدود نہ رکھیں‘ اگر آپ کو کوئی دکھ پریشانی ہے تو اسکا اظہار اپنے دوست احباب سے کریں اس سے آپ کا دکھ درد بٹ جائے گا اورہوسکتا ہے کہ وہ آپ کو کوئی مفید مشورہ بھی دیں۔ اگر آپ کا دل کام کرنے کونہ کرے تو خود پر جبر نہ کریں بلکہ اپنے معمولات زندگی کو ترک کرکے سیروتفریح کریں‘انسان کو چاہیے کہ زندگی میں ترتیب اور توازن پیدا کرے تاکہ ڈپریشن سے بچارہے‘ ان سب باتوں پر عمل کرکے وہ صحت مند بھی رہے گا اورڈپریشن میں کمی بھی آئے گی۔
-
پولیو ڈراپ سے متعلق چشم کشا تحریر
بلکل یہ تحقیق میں بھی پڑھ چکا ہوں
-
اُردو طنز و مزاح
عزت افزائی کا شکریہ
-
اُردو طنز و مزاح
ایک لنگڑے فقیر کو دیکھ کر خاتون کا دل بھر آیا ، اس نے اسے پیسے بھی دیئے اور تازہ خریدے ھوئے سیبوں میں سے چند سیب بھی اسے دیئے ،، اس کے پاس بچھے ایک کپڑے پر چند سکے دیکھ کر خاتون نے دکھ کا اظہار کیا کہ لوگوں میں اب انسانیت نام کو بھی نہیں رھی ،، ایک فقیر کے سامنے پڑے چند سکے ھماری انسانیت کا نوحہ پڑھ رھے ھیں ،، خاتون نے درد بھری آواز میں اپنی گفتگو جاری رکھی ! ظلم ھے باجی خالص ظلم ،، آپ کو کیا بتاؤں ،، لنگڑا بننے سے پہلے میں اندھا بنا تھا ،مگر لوگ کھوٹے سکے دے جاتے تھے اور نقلی نوٹ رکھ کر اصلی اٹھا لے جاتے تھے ،جس کے بعد آپ جیسے کسی ھمدرد کے مشورے پر لنگڑا بنا ھوں ، معذور نے خاتون کا تراہ نکالتے ھوئے کہا
-
I am CoMe Back
Welcome back dear
-
پولیو ڈراپ سے متعلق چشم کشا تحریر
Yahi to karobar kernay ka naya style ha product banany se pehlay us ki zaroorat paida karo
-
حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح
Jis ko Shareyat ka dar nahi us ko ye kaala qanoon kia saza de ga
-
یکم نومبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان
Shuker ha yahan Insani jaan k elawa bhi kuch sastaa honay ja raha ha
-
خواتین اسٹاف پر مشتمل پہلا ملکی پٹرول پمپ
Ab lagta ha hum bhi modren ho rahay han
-
زندگی انجوائے کرو
Waiting for more update
-
اُردو طنز و مزاح
بیٹی بددل ہو کر میکے آگئی - باپ نے کہا "تمہارے ہاتھ کا کھانا کھائے بہت دن ہوگئے ہیں، آج میرے لئے ایک انڈا ایک آلو ابال دو اور ساتھ٘ گرما گرم کافی لیکن 20 منٹ تک چولہے پر رکھنا" جب تیار ہو گیا تو بولے : "چیک کرلو آلو ٹھیک سے نرم ہو گیا ہے ، اب انڈا چھو کے دیکھو ہارڈ بوائل ہوگیا ہے؟ کافی چیک کرو رنگ اور خوشبو آگئی ؟؟" بیٹی نے چیک کر کے بتا دیا کہ سب پرفیکٹ ہے ۔ باپ نے کہا : "دیکھو 3 چیزوں نے گرم پانی میں یکساں وقت گزارا اور برابر کی تکلیف برداشت کی، آلو سخت ہوتے ہیں اس آزمائش سے گزر کے نرم ہوگیا ، انڈا نرم ہوتا ہے گرے تو ٹوٹ جائے ، وہ اب سخت ہوگیا اور اس کے اندر کا لیکویڈ بھی سخت ہوگیا ہے، کافی نے پانی کو خوش رنگ خوش ذائقہ اور خوشبودار بنا دیا ہے" پھر باپ نے بیٹی کو سب سے آخر میں یہ تاکید کی "یہ سب اپنے خاوند کو سنانا اور پوچھنا کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے ----------- آلو، انڈا یا کافی ؟"
-
اُردو طنز و مزاح
لڑکا دربار پر گیا وہاں 7 ملنگ زمین پر دریاں بچھا کر بیٹھے تھے ، ملنگ : بیٹا کیا مسئلہ ہے کیوں آئے ہو ؟ لڑکا : بابا جی جس لڑکی سے میں پیار کرتا تھا اس نے کسی دوسرے سے شادی کر لی ہے ، ملنگ نے آواز دی : چھوٹے اندر سے ایک اور دری لے آ ۔۔۔
-
زندگی انجوائے کرو
Good work dear pehli story k tor per daikha jay to achi kavish ha or mazeed ka wait karoon ga thanks for sharing
-
زندگی انجوائے کرو
Wait ker raha hoon ap ki story ka
-
اُردو طنز و مزاح
پاکستانیوں کے چند اہم سوالات جن کے حقیقی جوابات صرف دِل میں ہی دیے جا سکتے ہیں ۔۔۔ جب بس میں ایک موٹے انکل آپ کے پاوٗں پر چڑھ جائیں انکل : بیٹا زیادہ تو نھیں لگی ؟ جواب : نہیں انکل بہت مزہ آیا ، ایک بار پھر چڑھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آدھی رات کو نیند سے اٹھ کر کال ریسیو کریں کالر : یار سو تو نہیں رہے تھے جواب : نہیں تو ، لیٹ کر مرنے کی پریکٹس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آپ کو گھر یا آفس کے لینڈ لائن پر کال آئے کالر : کہاں ہو ؟ جواب : مارکیٹ آیا ہوں ، فون بھی گلے میں لٹکا کر لایا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آپ بال چھوٹے کروا کر جائیں موصوف : تم نے بال کٹوائے ہیں ؟ جواب : نہیں ، شاید خود ہی اندر چلے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب آپ کسی جگہ پہنچیں میزبان : آپ آ گئے؟ جواب : نہیں ابھی راستے میں ہوں۔