Everything posted by khoobsooratdil
-
اُردو طنز و مزاح
ایک شخص شراب خانے میں داخل ہوا وہ بہت افسردہ تھا۔ وہاں اسے ایک دوست مل گیا۔ اس نے پوچھا۔” تم اس قدر دل شکستہ کیوں نظر آرہے ہو؟“ ”یار کیا بتاؤں۔ میری ماں کا جولائی میں انتقال ہو گیا وہ میرے لئے دس ہزار روپے چھوڑ گئی۔“ ” بہت افسوس ہوا تمہاری پیاری ماں کے مرنے کا چلو غم کے ساتھ تھوڑی بہت خوشی تو ملی۔“ اس کا دوست کہنے لگا۔ ”پھر اگست میں میرا والد بھی چل بسا۔ اس نے میرے لئے بیس ہزار کا ترکہ چھوڑا۔ پھر ویسا ہی ملا جلا صدمہ !“ دوست نے ہمدردی کا اظہار کیا۔ دوسرے نے اپنی بات جاری رکھی۔ ” ایک اور حادثہ یہ ہوا کہ میری مالدار خالہ بھی گذشتہ ماہ چل بسی اورمیرے لئے پچاس ہزار روپے چھوڑ گئی۔“ ”بہت صدمے کی بات ہے۔“ دوست نے پھر چھوٹ موٹ کا اظہار ہمددری کیا۔ ”پراب تم کیوں اداس ہو؟“ ”وہ اس لئے کہ اس مہینے ا بھی تک کچھ نہیں ہوا“
-
اُردو طنز و مزاح
ایک صاحب نے اپنے دوست کو بتایا: ”میرا گھوڑا بھی عجیب ہے ایک روز میری طعبیت بہت خراب تھی ۔ گھر میں کوئی موجود نہیں تھا میری حالت کو دیکھتے ہوئے میرا گھوڑا دوڑا دوڑا گیا اور اپنی پیٹھ پر ڈاکٹر کو بٹھا کر لے آیا“۔ دوست بولا: ”تمھارا گھوڑا تو بہت ہوشیار ہے“۔ وہ صاحب بولے:” ارے اتنا بھی ہوشار نہیں وہ اپنی پیٹھ پر جانوروں کے ڈاکٹر کو لے آیا تھا“۔
-
اُردو طنز و مزاح
ایک دیہاتی ریل گاڑی میں بیٹھنے کے لیے آیا بیٹھتے ہی اس نے گھی کا ڈبہ زنجیر کے ساتھ لٹکا دیا گاڑی رک گئی گارڈ نے اس ڈبے میں آکر دیکھا کہ گھی کا ڈبہ زنجیر سے لٹک رہا ہے۔ گارڈ نے اس سے پوچھا:”کیا یہ ڈبہ تمھارا ہے؟“۔ دیہاتی نے جواب دیا: ”جی ہاں جناب!“ گارڈ نے غصے سے کہا:”تمھارے ڈبے نے زنجیر کھینچ دی جس کی وجہ سے گاڑی رک گئی ہے“۔ دیہاتی نے مسکرا کر جواب دیا: ”جناب! یہ اصلی دیسی گھی کی طاقت ہے“۔
-
اُردو طنز و مزاح
اونچے ہوٹل میں عمدہ اور قیمتی کھانا کھانے کے بعد ایک شخص نے بل ادا کرنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا ” میری جیب میں تو ایک پیسہ بھی نہیں ہے“۔ یہ سن کر بیرا منیجر کے پاس پہنچا اور تمام حقیقت سے آگاہ کر دیا منجیر کو بہت غصہ آیا اور اس نے آکر اس شخص کی اچھی خاصی پٹائی کر ڈالی مار کھانے کے بعد وہ شخص دروازے کی طرف جا رہا تھا۔ کہ بیرے نے آگے بڑھ کر دو مُکے اور جڑدےئے۔ منیجر نے بیرے کوڈانٹتے ہوئے کہا: ” جب میں مار چکا تھا تو تمھیں ارنے کی کیا ضرورت تھی؟“۔ بیرے نے جواب دیا: ”جناب! آپ نے تو اپنا بل وصول کر لیا مگر میں اپنی ٹپ کیسے چھوڑ دیتا“۔
-
عبرت
اصفہان کا ایک بہت بڑا رئیس اپنی بیگم کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھا ہوا تھا دسترخوان اﷲ کی نعمتوں سے بھرا ہوا تھا اتنے میں ایک فقیر نے یہ صدا لگائی کہ اﷲ کے نام پر کچھ کھانے کے لیے دے دو.... اس شخص نے اپنی بیوی کو حکم دیا کہ سارا دستر خوان اس فقیر کی جھولی میں ڈال دو عورت نے حکم کی تعمیل کی، جس وقت اس نے اس فقیر کا چہرہ دیکھا تو دھاڑیں مارکر رونے لگی..... اس کے شوہر نے اس سے پوچھا جی بیگم آپ کو ہوا کیا ہے ؟ اس نے بتلایا کہ جو شخص فقیر بن کر ہمارے گھر پر دستک دے رہا تھا وہ چند سال پہلے اس شہر کا سب سے بڑا مالدار اور ہماری اس کوٹھی کا مالک اور میرا سابق شوہر تھا چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم دونوں دسترخوان پر ایسے ہی بیٹھ کر کھانا کھارہے تھے جیسا کہ آج کھارہے تھے اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ میں دو دن سے بھوکا ہوں اﷲ کے نام پر کھانا دے دو ، یہ شخص دسترخوان سے اٹھا اور اس فقیر کی اس قدر پٹائی کی کہ اسے لہولہان کردیا.... نہ جانے اس فقیر نے کیا بد دعا دی کہ اس کے حالات دگرگوں ہوگئے کاروبار ٹھپ ہوگیا اور وہ شخص فقیر وقلاش ہوگیا اس نے مجھے بھی طلاق دے دی اس کے چند سال گذرنے کے بعد میں آپ کی زوجیت میں آگئی... شوہر بیوی کی یہ باتیں سن کر کہنے لگا بیگم کیا میں آپ کو اس سے زیادہ تعجب خیز بات نہ بتلاوں؟ اس نے کہا:" ضرور بتائیں" کہنے لگا....!! "جس فقیر کی آپ کے سابق شوہر نے پٹائی کی تھی وہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ میں ہی تھا،گردش زمانہ کا ایک عجیب نظارہ یہ تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس بدمست مالدار کی ہرچیز ، مال ، کوٹھی ، حتیّٰ کہ بیوی بھی چھین کر اس شخص کو دے دیا جو فقیر بن کر اس کے گھر پر آیا تھا اور چند سال بعد پھر اﷲ تعالیٰ اس شخص کو فقیر بنا کر اسی کے در پر لے آیا........ "واﷲ علی کل شیءٍ قدیر" "تاریخ ایسے عبرت آموز واقعات سے بھری پڑی ہے شرط ہے کہ انسان اس سے عبرت پکڑے
-
کسوٹی
افلاطون اپنے اُستاد سقراط کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کر رہا تھا۔‘‘ سقراط نے مسکرا کر پوچھا ’’وہ کیا کہہ رہا تھا۔‘‘ افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا ’’آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا….....‘‘ سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا ’’تم یہ بات سنانے سے پہلے اسے تین کی کسوٹی پر پرکھو، اس کا تجزیہ کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے۔‘‘ افلاطون نے عرض کیا ’’یا استاد تین کی کسوٹی کیا ہے؟‘‘ سقراط بولا ’’کیا تمھیں یقین ہے تم مجھے جو بات بتانے لگے ہو یہ بات سوفیصد سچ ہے؟‘‘ افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا، سقراط نے ہنس کر کہا ’’پھر یہ بات بتانے کا تمھیں اور مجھے کیا فائدہ ہو گا؟‘‘ افلاطون خاموشی سے سقراط کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا، سقراط نے کہا ’’یہ پہلی کسوٹی تھی، ہم اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں۔ ’’مجھے تم جو بات بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے؟‘‘ افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا۔ "جی! نہیں یہ بُری بات ہے۔‘‘ سقراط نے مسکرا کر کہا ’’کیا تم یہ سمجھتے ہو تمھیں اپنے اُستاد کو بُری بات بتانی چاہیے؟‘‘ افلاطون نے پھر انکار میں سر ہلا دیا، سقراط بولا ’’گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پورا نہیں اترتی۔ ‘‘ افلاطون خاموش رہا، سقراط نے ذرا سا رک کر کہا ’’اور آخری کسوٹی، یہ بتائو وہ بات جو تم مجھے بتانے لگے ہو کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہے؟‘‘ افلاطون نے انکار میں سرہلایا اور عرض کیا ’’یا اُستاد! یہ بات ہرگز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں۔‘‘ سقراط نے ہنس کر کہا ’’اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں، تو پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ افلاطون پریشان ہو کر دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ سقراط نے گفتگو کے یہ تین اصول آج سے چوبیس سو سال قبل وضع کردیے تھے، سقراط کے تمام شاگرد اس پر عمل کرتے تھے۔ وہ گفتگو سے قبل بات کو تین کسوٹیوں پر پرکھتے تھے، کیا یہ بات سو فیصد درست ہے، کیا یہ بات اچھی ہے اور کیا یہ بات سننے والے کے لیے مفید ہے؟ اگر وہ بات تینوں کسوٹیوں پر پوری اترتی تھی،تو وہ بے دھڑک بات کردیتے تھے اور اگر وہ کسی کسوٹی پر پوری نہ اترتی یا پھر اس میں کوئی ایک عنصر کم ہوتا،تو وہ خاموش ہوجاتے تھے۔
-
لاجواب
جب پطرس بخاری سے پوچھا گیا کیا آپ کبھی لاجواب ہوے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ایک بار ہو گیا تھا. " ہوا یوں کہ میری گھڑی خراب ہو گئی. بازار میں گھڑیوں کی دکان نظر آئی میں دکان میں گیا انھیں گھڑی دی کہ یہ ٹھیک کرانی ہے. وہ کہنے لگے ہم تو گھڑیاں ٹھیک ہی نہیں کرتے" میں نے پوچھا تو "آپ کیا کرتے ہیں؟" جواب آیا "جی ہم ختنے کرتے ہیں " پطرس بخاری: " تو پھر یہ گھڑیاں کیوں لٹکائی ہوئی ہیں؟" دکاندار: : تو آپ ہی بتا دیں کہ ہم کیا لٹکائیں؟"
-
ایک دفعہ کا ذکر ہے
Buhat hi zaberdast or haqeeqat per mabni tehreer ha thanks 4 sharing
-
Welcome To URDU FUN CLUB: piksure
Welcome & Eid Mubarak
-
میری غیر فطری سوچ نے تین نسلوں کو خوار کر دیا
Kahani pasand kernay per aap sab ka shuker guzar hoon
-
چابی
Aaj kal aisi hi dosti hoti ha
-
پرموشن نیوز ! ڈاکٹر خان
Main Forum ki herdilaziz Shakhsiyat Janab Dr Khan Sahab ko Co-Admin k Uhday per Taraqqi panay per dil ki gehraeyon se MUBARAKBAAD Paish kerta hon.
-
خدا حافظ ونڈوز ایکس پی۔۔۔
Nice sharing Guru g Dunya to badlay gi na ek din aay ga window 8 bhi nahi ho gi
-
اپریل فول
یہ گزشتہ سال کی بات ہے۔ میں اپنے آفس میں کام کررہا تھا کہ میرے کولیگ وقاص کا موبائل فون بج اٹھا۔ اس نے کال ریسیو کی، فون رکھنے کے بعد وہ خاصا پریشان نظر آرہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ” کیا ہواوقاص! کوئی پریشانی ہے؟“ کہنے لگا کہ” ہاں یار!بہت بڑی مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔“ ”اوہ، اللہ خیر کرے، کچھ بتائیں تو سہی۔“ میرے استفسار پر وقاص نے انتہائی پریشانی کے عالم میں مختصراًبتایا کہ” میری بیوی کا فون تھا، میرے بیٹے عمران کو کسی نے گولی ماردی ہے اور وہ شدید زخمی حالت میں جناح ہسپتال میں ایڈمٹ ہے، مجھے فوراًجانا ہوگا۔“ وقاص صاحب فوراً آفس سے نکلے اور گاڑی کی طرف لپکے۔ اُنہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب اتنا اچانک کیسے ہوا؟ٹینشن کی وجہ سے اُن کادماغ ماﺅف ہوا جارہا تھا۔ آندھی طوفان کی طرح گاڑی چلاتے ہوئے وہ تیزی سے ہسپتال پہنچنا چاہتے تھے۔وہ برق رفتاری سے شہر کی سڑکوں پر گاڑی دوڑارہے تھے۔ اُن کا ذہن ڈرائیونگ کی بجائے اپنے بیٹے کی طرف الجھاہواتھا۔ اچانک سامنے سے آنے والی ایک بس سے ان کی گاڑی بری طرح ٹکرائی اور سڑک پر لڑھکتی گئی۔ کچھ دیر بعد ایمبولینس وقاص صاحب کی لاش لیے جناح ہسپتال کی طرف جارہی تھی۔ جب اُن کے گھر والوں کوفون کرکے ایکسیڈنٹ کے متعلق بتایا گیا تو ان کے بوڑھے والدین اس صدمے کو برداشت نہ کرسکیں اور فوری ہارٹ اٹیک کی وجہ سے دونوں موت کے منہ میں چلے گئے۔ دوسری طرف وقاص کی بیوی پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہی تھی جہاں اس کا منایا گیا "چھوٹا سا" اپریل فول اس کی زندگی میں قیامت برپا کر چکا تھا۔
-
فیس بک کی دُنیا
یہ فیس بک کی دُنیا بھی نابڑی عجیب ھے،، جس کو بیٹی کہہ کر پکارو ،، امی سے بڑی نکلتی ھے،، باجی کہہ دو تو بیٹی کی کلاس فیلو نکلتی ھے،، اس لئے پکی بات نہیں پروفائل لڑکی کی ھے،، نام بھی اسلامی ھے اقرأ کچھ ھےفوٹو بھی مکمل پردے والا ھے مگر فرینڈز کی تعداد ھزاروں میں ھے،، لڑکی اسٹیٹس پر لکھتی ھے، آآآآآآآآچھــــــو ! اور پھر لکھتی ھے الحمد للہ !! بس جناب پھر وہ یرحمک اللہ کی موسلا دھار بارش ھوتی ھے کہ رھے نام سائیں کا ! اور اگر اس جگہ کوی لڑکا لکھے تو کمنٹ آتے ہیں کہ تیاری کر لو موت کا فرشتہ آنے والا ہے لڑکی کچھ دن نہ آیے تو اُس کے وال پر میسج لکھے جاتے ہیں کہاں ہو مس یو etc اور لڑکا نہ آیے تو کسی دوست تک کو پروا نہیں کہ چلو کوئی وال پر یا ین بکس میں میسج بھیج دیں لڑکی کچھ عرصہ اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرے کہ I M Back فریئنڈز ڈو یو مس می تو کمنٹس کی لائین لگ جاتی ہے ویلکم بیک ،رئیلی مس یو اور اگر کوئی لڑکا کرے ک I M Back تو کمنٹ کچھ اس طرح کے آتے ہیں اؤے تو مریا نیں ہالے ۔ اؤے تو فیر آگیا ابھی زندہ ہو کیا ہم نے تو تیرے کُل بھی کروا دیے تھے وہ پوچھتی ھے،، دوستو ! آج آپ کے شہر کا درجہ حرارت کیا ھے ؟ لوگ جھٹ پٹ لکھنا شروع کرتے ھیں،، وہ پوچھتی ھے موسم کیسا ھے لوگ ،،دل کا موسم لکھنا شروع کر دیتے ھیں،، اور اگر اس جگہ کوی لڑکا موسم کا پوچھے تو جواب آتے ہیں جا یار کم کر اپنا اسی اگے بڑے تنگ بیٹھے آن اُتوں تو آ گیا موسم دا حال پوچھن وہ پوچھتی ھے،دوستو آج کس شہر میں ھو ؟ اور لوگ گلی اور بلاک تک لکھ دیتے ھیں !! عجیب واللہ عجیب !
-
دوستی کی نشانی
Thanks Irfan
-
دوستی کی نشانی
Dr sahab pasand kernay ka buhat shukriya Baray logon ki batain bhi bari hoti hain
-
دوستی کی نشانی
میں نویں دسویں جماعت میں سکول میں پڑھتا تھا، ہمارے دو ٹیچر ماسٹر حشمت علی اور ماسٹر قطب الدین ہوا کرتے تھے۔ دونوں ریاضی کے بہت ماہر تھے۔ انھیں خدا نے اس بارے میں بڑی صلاحیت دی تھی۔ ہمارے ضلع سے باہر اور دور دور کے مقامات سے ہندو، سکھ استاد ان سے الجبرا اور چونکہ یہ ہے ہی مسلمانوں کا علم کے مشکل مسائل پوچھنے آتے تھے اور وہ دونوں استاد سکول ٹائم کے بعد لان میں بیٹھ کر ریاضی کے مسائل حل کیا کرتے تھے جو ہماری سمجھ سے باہر ہوتے تھے۔ ساتھ رہنا، اکٹھے کھانا، ایک دوسرے کے گھر کے ساتھ گھر، سیر کو اکٹھے جانا، اکٹھے سکول آنا۔ کبھی ہم نے انھیں الگ الگ نہیں دیکھا تھا۔ ان کے درمیان اتنی گہری دوستی تھی کہ آپ جتنا بھی ذہن میں اس کا تصور کریں، وہ کم ہے۔ پھر اچانک یہ ہوا کہ ڈویژنل انسپکٹر آف سکولز نے ماسٹر حشمت علی کی تبدیلی کر دی اور وہ ہمارے ضلعے کے کسی اور تحصیل میں چلے گئے۔ دونوں دوستوں کے درمیان اس تبدیلی سے جو خلیج پیدا ہوئی، وہ تو ہوئی، ہم جو طالب علم تھے یا جو دوسرا سٹاف تھا، ان کے لیے بھی بہت تکلیف دہ صورت حال تھی۔ ہم سب نے وہ تکلیف دہ لمحات محسوس کئے۔ میں نے ماسٹر قطب الدین سے کہا، کیونکہ میں ذرا سمجھدار بچہ تھا، آپ کی حشمت علی صاحب سے بڑی دوستی تھی؟ کہنے لگے، ہاں ٹھیک ہے۔ میں نے کہا ان کے جانے سے آپ کی طبیعت پر بوجھ پڑا؟ کہنے لگے، ہاں پڑا ہے، لیکن زیادہ نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ آپ حیران کن بات کرتے ہیں۔ وہ تو آپ کے بہت عزیز دوست تھے، قریب ترین تھے۔ کہنے لگے اشفاق میاں بہت عزیز تھے، بہت قریب ترین تھے۔ لیکن آپ اس کو اعلٰی درجے کی معیاری دوستی قرار نہیں دے سکتے۔ بے شک ہمارے معمولات اکٹھے تھے، اکٹھے کھاتے پیتے تھے اور کوئی لمحہ بھی ایک دوسرے کے بغیر نہیں گزارا لیکن یہ دوستی کی نشانی نہیں ہے۔ دوستی کی نشانی یہ ہے کہ جب تک آدمی اکٹھے بیٹھ کر روئے نہ، اس وقت تک دوستی نہیں ہوتی اور ہم کبھی اکٹھے بیٹھ کر روئے نہیں تھے، اس لیے آپ نہیں کہ سکتے کہ ہم دوست تھے۔ (زاویہ سے اقتباس)
-
ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، سامسنگ جنگ ہا ر گیا۔۔۔ ایپل کو 930ملین ڈالر جرمانہ دے گا
Chori to khaer chori hoti ha na us ka anjaam to yahi hona tha
-
I am new Member Welcome me :D
Welcome Sidra dear aap k aanay se waqaee hum sab ka waqat acha guzray ga ager aap bharpoor active rahain to
-
گوگل کی ضد برقرار، گستاخانہ فلم دوبارہ لگا دی گئی
Ye ganday Khinzeer hain phir kehtay hain k Muslims hi shiddat pasand hain or khud apni in ki harkatain daikho
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
Acha mager chota Update tha thanks Dr khan
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
Buhat hi achi soch k sath kahani aagay berh rahi ha or ager haqeeqat me daikha jay to aaj hamaray Mulk ko Jameel jaisay logon ki zaroorat ha Or yaqeenan kahani ko paid me move kerna chaheye
-
ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ
ﺍﮔﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﯿﮑﻨﮉﺯ ﺗﮏ ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﻣﺤﺾ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﯿﮑﻨﮉﺯ ﺗﮏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ؟؟؟؟ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﻮ ﺭﻭﮎ ﮨﯽ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﺎﺕ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ ﮨﮯ۔۔ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺤﺾ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﯿﮑﻨﮉﺯ ﺗﮏ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ؟؟ ﺳﺎﺣﻞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﻠﺪ ﻓﻮﺭﺍ ﺟﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔۔ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻣﺎﻟﯿﮑﯿﻮﻟﺮ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻟﭩﺮﺍﻭﺍﺋﻠﭧ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﺎﻻ ﺳﯿﺎﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔۔ﮐﭽﮫ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﺎ۔ ﺩﮬﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻭﮦ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺟﻮ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﮨﯿﮟ ﻓﻮﺭﺍ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﯾﻠﮉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﺟﮍ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺁﮐﺴﯿﮉﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﮨﯽ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﮯ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﭘﯿﻨﺘﺎﻟﯿﺲ ﻓﯿﺼﺪ ﺣﺼﮧ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﮨﮯ۔۔ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﺋﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮭﺮﺩﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﺗﮭﻞ ﭘﺘﮭﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﮨﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺍﮐﯿﺲ ﻓﯿﺼﺪ ﺩﺑﺎﻭ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﻓﻮﺭﺍ ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﮐﻨﮑﺮﯾﭧ ﮐﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺟﻤﮯ ﺭﮨﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﮐﻨﮑﺮﯾﭧ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺎﺭﺗﯿﮟ ﺳﯿﮑﻨﮉﺯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﺑﻮﺱ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺗﮩﺎﺋﯽ ﺣﺼﮧ ﮨﮯ۔۔ﺟﯿﺴﯽ ﮨﯽ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﺎﺋﯿﮉﺭﻭﺟﻦ ﮔﯿﺲ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﺍﻟﯿﻢ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﯾﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﮔﯿﺲ ﺍﮌ ﮐﺮ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔۔۔ ﭼﻠﯿﮟ ﺍﺏ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮔﯿﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﺩﻭﮔﻨﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﮨﻢ ﺍﺏ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻭﮔﻨﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻣﺤﺾ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﯿﮑﻨﮉﺯ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﺎﻏﺬ ﮐﮯ ﺟﮩﺎﺯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﺍﮌﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﭩﺮﻭﻝ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻟﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ۔ ﮨﻢ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺵ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﺎﻻﮎ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﭘﭩﮭﮯ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺟﻤﻨﺎﺳﭩﮏ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﮔﮯ۔۔۔ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ۔ ۔ ۔ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ۔ ۔ ۔ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﯾﻮﻗﺎﻣﺖ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﺍﻻﺭﺽ ﮔﮭﻮﻣﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺟﯽ ﮨﺎﮞ۔۔۔ﯾﮧ ﮐﺎﮐﺮﻭﭺ،ﻻﻝ ﺑﯿﮓ،ﺑﭽﮭﻮ،ﭼﮭﭙﮑﻠﯽﺍﮞ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﻣﺖ ﺍﺗﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺧﻮﻑ ﺁﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔۔ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﺍﻻﺭﺽ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﺰ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺁﮐﯿﺴﺠﻦ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺭﺏ ﻧﮯ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ۔
-
اف یہ لڑکیاں تحریر گل نوخیز اختر
Buhat mazaydar tehreer ha