Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Administrator

Administrators
  • Joined

Everything posted by Administrator

  1. ﺭﻧﮓ ﮔﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﻧﻔﯿﺴﮧ! ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﮩﮑﺘﮯ ﺭﮨﻮ! ﺍﻣﯿﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﭨﻮﺗﻪ ﭘﯿﺴﭧ ﮐﮯ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﯿﺮﻭﺋﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺧﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻡ ﮨﻮﮔﯽ. ﻣﯿﮟ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺑﭩﻮﮦ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺑﻬﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻠﺪ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺅﮞ ﮔﺎ. ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﺴﯽ ﻭﯼ ﺁﺋﯽ ﭘﯽ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﻬﻨﺎ. ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮔﯿﺰﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻬﻮﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺎﻧﯽ کی ﻃﺮﺡ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ. ﺍﭘﻨﯽ ﺍُﺳﺘﺮﮮ ﺟﯿﺴﯽ ﺗﯿﺰ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﻮ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺖ ﭼﻼﻧﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﭘﻬﭩﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺧﺸﮏ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺵ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﭼﻬﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ، ﻭﮦ ﺗﻤﻬﯿﮟ ﺑﮍﮬﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﺧﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻋﻠﺤﯿﺪﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ. ﺗﻢ ﺑﺎﻝ ﮐﭩﻮﺍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﺟﻬﮑﺎﺋﮯ ﺭﮐﻬﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺐ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﯿﻮﻧﮓ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﺟﻬﺎﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﮧ ﻣﺖ ﭘﻬﻼ ﻟﯿﻨﺎ. ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﻏﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺯﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﮐﻬﻨﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻨﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻬﺎﻭﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﻤﺎﻡ ﮐﮯ ﺗﻮﻟﯿﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﻞ ﻣﺖ ﺭﮐﻬﻨﺎ، ﻭﺭﻧﮧ ﺳﺐ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭ دﯾﮓ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮯ ﭼﺎﻭﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ، ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﻬﻨﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺩﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﭨﯿﻮﺏ ﻻﺋﭧ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﻭﺷﻦ ﮨﻮ، ﻧﺎ ﮐﮧ ﮨﯿﺌﺮ ﮐﻠﺮ ﺳﮯ ﺭﻧﮕﮯ ﮔﺌﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﯿﺎﮦ .... ﻓﻘﻂ ﺗﻤﻬﺎﺭﺍ " ﺧﺎﻟﺺ ﺣﺠﺎﻡ (نامعلوم)
  2. چین میں ہونے والی نمائش سے قبل ہی 3 روز کی محنت سے تیار کردہ 15 لاکھ روپے کا لیگو فن پارہ ایک نوعمر لڑکے کی معمولی غلطی سے ٹوٹ تہس نہس ہوگیا۔ چینی شہر ننگبو میں ہونے والی الیکٹرانک نمائش میں فن کار نے زوٹوپیا اینی میٹڈ فلم کا ایک کردار 15 ہزار ڈالر کے لیگو ٹکڑوں سے تیار کیا تھا۔ یہ مجسمہ ڈزنی کی اینی میٹڈ فلم زوٹوپیا کی مشہور لومڑی نک وائلڈ کا تھا جسے حفاظتی حصار کے اندر رکھا گیا تھا۔ اسے بنانے کے لیے فنکار نے 3 دن اور 3 رات لگاتار کام کیا تھا اورلیگو کے ہزاروں ٹکڑوں کو بڑی مہارت سے جوڑکر اسے کردار کی شکل دی گئی تھی۔ نمائش کےافتتاح سے ایک گھنٹے قبل ایک نوعمر لڑکا حصار عبور کرکے اس مجسمے کے پاس پہنچا اور سیکیورٹی کے لیے تنی ہوئی رسیوں کے اندر جاکر اس کےساتھ تصویر کھنچوانے لگا۔ اچانک اس کا ہاتھ مجسمے کو لگا اور وہ سیکنڈوں میں بکھر کر زمین پر پلاسٹک کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔ لڑکے کے والدین نے نمائش کی انتظامیہ کو اس نقصان کی رقم کی پیشکش کی لیکن درمیان میں آکر فنکار نے اسے حادثہ قرار دے کر بچے کو معاف کردیا۔
  3. جنوبی کوریا: معروف کورین الیکٹرونکس کمپنی سام سنگ نے اپنے مشہور فیبلٹ گلیکسی نوٹ 6 کو نظر انداز کر دیا جس کے بعد اب براہِ راست گلیکسی نوٹ 7 پیش کیا جائے گا۔ سام سنگ نے اپنے شائقین پر حیرت کے پہاڑ توڑ دیئے کیونکہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سام سنگ نے اپنی کسی سیریز کے ایک مکمل ورژن کو نظر انداز کر دیا ہو۔ سام سنگ کی جانب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سام سنگ گلیکسی نوٹ 6 سامنے نہیں آئے گا یعنی اب گلیکسی نوٹ 5 کے بعد براہِ راست گلیکسی نوٹ 7 پیش کیا جائے گا۔ ایپل سے مقابلہ کرنے کے لیے سام سنگ کو ایک نمبر پیچھے ہونا بھی گوارہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ سام سنگ اتنا بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ دوسری جانب جہاں ایپل اپنے اگلے شاندار اسمارٹ فون کے ساتویں ورژن کی تیاری میں مصروف ہے تو وہیں سام سنگ نے بھی اپنی فیبلٹ سیریز کو ایپل کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے۔ اب ایپل آئی فون 7 کے سامنے سام سنگ گلیکسی ایس 7 کے ساتھ ساتھ ڈوئل ایج گلیکسی نوٹ 7 بھی موجود ہو گا۔ سام سنگ کا یہ فیصلہ حیران کن اور سام سنگ کی تاریخ میں پہلی دفعہ ضرور ہے لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ بات نئی نہیں۔ اس سے قبل مائیکروسافٹ ونڈوز 8 کے بعد 9 کے نمبر کو نظر انداز کرتے ہوئے ونڈوز 10 پیش کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ بلیک بیری نے بھی چھلانگ لگاتے ہوئے بلیک بیری 7 کے بعد بلیک بیری 10 پیش کیا تھا۔ سام سنگ گلیکسی نوٹ 6 کیسا ہو گا اور اس میں کیا کیا فیچرز ہوں گے اس حوالے سے کافی عرصے سے انٹرنیٹ پر پیش گوئیاں جاری تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ سام سنگ صارفین جو مکمل طور پر گلیکسی نوٹ 6 کے لیے تیار تھے انہیں سام سنگ کے اس فیصلہ سے حیرت اور اُلجھن ضرور ہو گی۔
  4. کیلی فورنیا: دنیا تک اپنی سروسز کو مزید تیزی سے پہنچانے کے لیے مائیکروسافٹ اور فیس بک نے مل کر ایک نئے پروجیکٹ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت امریکا سے یورپ تک ڈیٹا کی تیز رفتار ترسیل کے لیے زیرسمندر 4 ہزار میل طویل فائبر آپٹک کیبل بچھائی جائے گی۔ اپنی سروسز کو تیز رفتار اور زیادہ قابل بھروسا ذرائع سے دنیا تک پہنچانے کے لیے مائیکروسافٹ اور فیس بک نے اس مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا ہے جس میں بحراوقیانوس میں 4 ہزار میل لمبی تار کے ذریعے امریکا کو یورپ سے جوڑا جائے گا۔ اس فائبر آپٹک میں 160 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ڈیٹا منتقل کرنے کی طاقت ہو گی۔ اس کا سفر امریکی ریاست ورجینیا شروع ہوتے ہوئے بلباؤ اسپین میں ختم ہو گا۔ مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ پہلے موجود نظام سے بہتر اور زیادہ قابل اعتماد فائبر کیبل ہو گی۔ امریکا اور یورپ جیسے 2 بڑے نیٹ ورک ہب کو آپس میں جوڑنے کے بعد یہ کیبل آگے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کو بھی جوڑ سکے گی۔ اس کو اس طرز پر ڈیزائن کیا جائے گا کہ مستقبل میں مزید نیٹ ورکنگ آلات بھی اس سے جوڑے جا سکیں۔ ویسے تو دنیا بھر میں یہ کام ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں انجام دیتی ہیں لیکن فیس بک اور مائیکروسافٹ جیسی ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کی مواصلاتی ضروریات انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس کے لیے مزید بہتر اور قابل بھروسا ذرائع کی ضرورت ہے۔ اسی صورت حال کے پیش نظر دونوں نے اپنے اشتراکی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے پر کیا لاگت آئے گی اور دونوں کمپنیاں کو دوران معاہدے کی کیا شرائط ہیں اس حوالے سے فی الحال کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس سے قبل 2014 میں گوگل بھی امریکہاتا جاپان زیرسمندر رابطہ جوڑنے کے لیے مواصلاتی کمپنیوں کو 300 ملین ڈالر کی مدد دے چکا ہے۔ مائیکروسافٹ اور فیس بک کے اس مشترکہ منصوبے کو ماریا کا نام دیا ہے جو رواں سال اگست میں شروع ہو کر اکتوبر 2017 تک مکمل کیا جائے گا۔
  5. جن کے آپ جیسے دوست ہوں ۔وہ بھی کم خوش نصیب نہیں ،،،ویلکم بیک
  6. تمام وی آئی ممبرز سے ایک مشورہ درکار ہے جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے۔کہ ہر سال ماہ رمضان میں ہم اپنے فورم کے تمام سیکس سیکشن کو مکمل طور پر آف کر دیا کرتے ہیں۔تاکہ ماہ رمضان مکمل عقیدت اور احترام سے گزارا جا سکے۔ اس بار صورت حال تھوڑی سی محتلف ہے۔گزشتہ کچھ ماہ پہلے فورم سے تمام سیکس کلپ اور سیکس امیج کو ختم کر دیا گیا تھا۔مگر اب بھی کچھ تھریڈز میں تصاویر پوسٹ ہوتی رہتی ہیں۔اور پھر سیکس سٹوریز تو ویسے ہی موجود ہیں ایسے میں فورم انتظامیہ یہ جاننا چاہتی ہے ٭ کیا اس بار بھی فورم کے تمام سیکس سیکشن کو بند کر دیاجائے یا ایسے ہی سب کو آن رہنے دیا جائے؟ ٭ اور اگر تمام سیکس سیکشن کو بند کر دیا جائے تو کیا پردیس اور ہوس کی اپڈیٹ کو بھی سٹاپ کر دیا جائے یا پردیس کو ماہ رمضان ایڈیشن کی صورت میں جاری رکھا جائے؟ ٭ ہمارے پاس ایک ناول مٹھو میاں کے نام سے موجود ہے۔ہمارا ارادہ اس ناول کو رمضان میں اپڈیٹ کر کے مکمل کرنے کا ہے ۔اس بارے میں آپ سب ممبرز کی کیا رائے ہے؟ ٭ آپ سب ممبرز رمضان میں "پردیس" اور "مٹھو میاں" میں سے کس کی اپڈیٹس پڑھنا چاہتے ہیں؟ ٭رمضان ایڈیشن کو تمام ممبرز کے لیئے فری کیا جائے یا ضرف وی آئی پی ممبرز تک محدود رکھا جائے؟ صرف ؤی آئی پی ممبرز کی رائے درکار ہے۔اپنی رائے اسی تھریڈ میں پوسٹ کریں۔شکریہ
  7. کامیاب تاجر کی سچی داستان ٹھیلے سے میکڈونلڈ تک مشہور ومعروف امریکی کمپنی ’’میکڈونلڈ‘‘، دنیا میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کی سب سے بڑی چین ہے۔ اس کمپنی کے 121 ممالک میں 40 ہزار سے زائد ریسٹورنٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ملازمین کی تعداد دنیا بھر میں 17 لاکھ ہے۔ کہا جاتا ہے ہر 8 امریکیوں میں سے ایک ایسا ہوتا ہے، جس نے اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں میکڈونلڈ میں کام کیا ہوتا ہے۔ اس فاسٹ فوڈ کمپنی کے مختلف ادارے کئی شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں جن میں میکڈونلڈ ریسٹورنٹ، ہیم برگر یونیورسٹیز، میک برگرز، میک کیفیز، میکڈونلڈ یو ایس اے میوزیمز، روک میکڈونلڈ، رونالڈ میکڈونلڈ چیرٹی ہائوسز زیادہ مشہور ہیں۔ میکڈونلڈ کی سالانہ آمدنی 28 ہزار 75 ملین ڈالر ہے جو کہ 2014ء میں بڑھ کر 30 ہزار ملین ڈالر سالانہ ہونے کی توقع ہے۔ اس کمپنی سے روزانہ 68 ملین کسٹمرز استفادہ کرتے ہیں اور اس کمپنی کی برانڈ ویلیو 90.3 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ یہ سچ ہے مال کا بہت مل جانا کسی کے حق پر ہونے کی علامت ہے نہ ہی محض دولت، آخرت میں نجات کی ضمانت ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے اسباب کا صحیح تر استعمال اور وسائل سے خوب تر استفادہ ضرور فائدہ دیتا ہے۔ استعمال کرنے والا خواہ کوئی بھی ہو۔ غیر مسلم یا غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیاں ہمیں بحیثیت فرد اور بحیثیت حکومت یہ سبق دینے کے لیے کافی ہیں کہ اﷲ کے عطا کردہ لامحدود وسائل ہماری معاش اور آخرت کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے کافی وافی ہیں۔ ایک ٹھیلے سے میکڈونلڈ کی صورت میں بزنس کا شاہکار کیسے وجود میں آیا؟ ’’میکڈونلڈ‘‘ میں پیش کی جانے والی کسی بھی آئٹم کی شرعی تائید کا قصد کیے بغیر کامیا ب، محنتی اورکامران جفا کش کی داستان ملاحظہ کرتے ہیں۔ میکڈونلڈ فاسٹ فوڈ کمپنی کی ابتدا ایک ٹھیلے سے ہوئی تھی۔ 1937 ء میں امریکا کے ایک غریب شخص ’’پیٹرک میکڈونلڈ‘‘ نے کیلی فورنیا ریاست کے علاقے منرویا میں منرویا ائیرپوٹ کے قریب برگر کی ایک ریڑھی لگائی، وہ برگر دس سینٹ کا اور اس کے ساتھ اورنج جوس پانچ سینٹ کا بیچتا تھا۔ وہ تین سال اسی طرح ریڑھی لگاتا رہا، پھر 1940ء میں پیٹرک میکڈونلڈ کے دو بیٹوں رچرڈ میکڈونلڈ اور موریس میکڈونلڈ نے کیلی فورنیا میں ’’میکڈونلڈ باربی کیو‘‘ کے نام سے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک بار بی کیو ہوٹل تھا۔ 1948ء میں ریسٹورنٹ نے اپنے گاہکوں کو بھنے قیمے کے کباب والے برگر (ہیم برگر) فرنچ فرائز اور ملک شیک فراہم کرنا شروع کردیا۔ برگر، ہوٹل کی پہچان بن گئے حتی کہ ہوٹل کے سامنے پلاٹ پارکنگ سے بھرنے لگے اور لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگنا شروع ہوگئیں۔ لوگ خوشی سے قطار میں کھڑے ہوتے اور برگر ہاتھ میں لیے مسکراتے چہروں کے ساتھ لوٹتے۔ یہ برگر نہ صرف ذائقے کے اعتبار سے منفرد ہوتے، بلکہ آدھی قیمت پر لوگوں کے لیے جلد از جلد نمٹانے کا بہترین کھانا بھی تھے۔ ٹھیک آٹھ برس بعد رچرڈ اور موریس نے گاہکوں کو جلد از جلد نمٹانے اور کام کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اپنے کچن پکانے کے روایتی طریقوں سے ہٹاکر جدید مشینی آلات سے ہم آہنگ کردیا۔اسی طرح میز کرسی پر سود ا فراہم کرنے کے بجائے انہوں نے ایسا پوائنٹ قائم کردیا جہاں گاہک باہر کھڑکی سے آرڈر کرتے اور وہیں پوائنٹ سے ہی اپنی چیز لے کر آگے روانہ ہوجاتے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دونوں بھائی کم قیمت اوراعلیٰ معیار کے اصول پر بھی مستقل مزاجی سے عمل درآمد کررہے تھے۔ اس چیز نے گاہکوں کی تعداد اور آمدنی میں بہت اضافہ کردیا۔ کاروبار کے حوالے سے ان کا تصور کم قیمت، اعلیٰ معیار اور گاہکوں کے حجم میں اضافے کی بنیاد پر قائم تھا۔1954ء میں انہوں نے ہنگامی طور پر 10 مزید پوائنٹ بنانے کے لیے لائسنس جاری کردیے، لیکن وہاں معیار اور کام اس طریقے سے نہ جم سکا۔ یہ صرف نام کے ہی میکڈونلڈ تھے۔ ایسے میں ملک شیک مکسر بیچنے والا ایک ہوشیار سیلز مین ’’کروک‘‘ اس منظرنامے میں داخل ہوا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ اس کے ذہن میں ایک آئیڈیا تھا۔ یہ آئیڈیا اس نے میکڈونلڈ برادران کے سامنے پیش کیا۔ برادران نے بہت نرمی سے اس بات کو رد کر دیا۔ صرف کیلفورنیا میں ہوٹل چلانا چاہتے تھے، جبکہ کروک چاہ رہا تھا کہ پورے ملک میں اس ہوٹل کی برانچز بنائی جائیں۔ کروک اپنی بات پر مسلسل کئی پہلوؤں سے زور دیتا رہا۔حتی کہ وہ برادران کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ تمام انتظامات اور محنت وہ خود کرے گا، جبکہ برادران ایک جگہ پر بیٹھ کراپنی تمام ملکیت کے حقوق وصول کرتے رہیں گے۔ اس سے پہلے کہ کروک فرنچائز فروخت کرنے کا آغاز کرتا، اس نے ڈس پلین میں اپنا ایک ذاتی میکڈونلڈ ہوٹل قائم کیا۔ جہاں اعلیٰ معیار اور بہترین سروس فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے۔ ہوٹل کا بیرونی خاکہ بالکل اصل میکڈونلڈ کی طرح تھا، اگرچہ ڈس پلین میں ہوٹل کو ویسی جگہ تو نہ مل سکی جیسی جگہ کیلفورنیا کے میکڈونلڈ کی تھی، لیکن پھر بھی ایک دن آیا جب یہ ہوٹل اچھی آمدنی پیدا کرنے لگا۔ اب کروک کو عتماد ہوگیا کہ وہ میکڈونلڈ کی فرنچائز فروخت کرسکتا ہے۔ چنانچہ اس سال 11 اور اگلے برس ملک بھر میں 25 سے زائد یونٹ کام کررہے تھے۔ ۔1963ء میں ’’میکڈونلڈ‘‘ نے عورتوں اور بچوں میں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے کام کرنا شروع کردیا۔ رونالڈ میکڈونلڈ اور ہیم برگر ہیپی اور دیگر مصنوعات کے لیے مشہور ٹیلی ویژن اناؤنسر ویلارڈ اسکاٹ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میکڈونلڈ نے اپنی پہلی بین الاقوامی شاخ کا افتتاح 1967ء میں کینیڈا میں کیا۔اس کے بعد 1970ء سے پہلے پہلے لاطینی امریکا، ایشیا، آسڑیلیا اور یورپ میں بھی اس کی شاخیں کھل گئیں۔ 1972ء میں 2200 ریستورانوں کے ساتھ میکڈونلڈ کی آمدنی 1 بلین ڈالر بڑھ چکی تھی۔ 1974ء تک مختصر مدت میں ہوٹلوں کی تعداد 3ہزار تک پہنچ گئی اور آج 120ممالک میں پھیلے 31 ہزار میکڈونلڈ ہوٹلوں میں روزانہ 54 ملین ، جبکہ آمدنی کا تخمینہ 2008 ء میں 22.8 بلین ڈالر سے لگایا گیا اور اب بھی یہی صورت حال ہے۔ میکڈونلڈ کا مصروف ترین پوائنٹ ’’پش کن اسکوائر ماسکو‘‘ میں ہے، جہاں روازنہ 40ہزار سے زائد گاہک آتے ہیں۔ہوٹل کی تاریخی کامیابی کے تین اسباب تھے۔ ’’لیڈر شپ کی مہارت، فرنچائز ماڈل اور گاہکوں کو اپنا بنانا ۔‘
  8. وہ نوکرانی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری ماں تھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ وقت اور آدمی چلتے چلتے بہت آگے نکل جاتے ہیں مگر زندگی اور احساسِ زندگی بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور ایسا عموماً کسی اپنے کے کھو جانے پر ہوتا ہے۔۔۔ ایک دن میں اور زاہد صاحب آفس کینٹین پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ میں نے ان کے ہمہ وقت کے بجھے بجھے سے رویے کی وجہ پوچھی۔ وہ کہنے لگے ’’مجھے آج مرے ہوئے تین سال ہو گئے‘‘میں نے نظریں اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اس جملے کے ساتھ ہی دنیا بھر کی نقاہت اتر آئی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگے ’’میں ہمیشہ سے بد تمیز رہا ہوں۔ بچپن میں سکول جاتے ہوئے ضد، کھانا کھاتے ہوئے نخرے، وہ نہیں یہ کھانا ہے، یہ نہیں وہ کھانا ہے۔۔۔ مجھے نہیں یاد کہ پانچویں کلاس تک میں نے اپنے ہاتھ سے نہایا، کھانا کھایا، کپڑے پہنے یا جوتوں کے تسمے بند کیے ہوں۔ باپ کا تو مجھے صرف نام ہی ملا۔ نہ کبھی اس کی صورت دیکھی اور نہ پیار۔ بھائی کا سہارا کیا ہوتا ہے اور بہن کی محبت کیا ہوتی ہے کچھ معلوم نہیں۔ پرائمری، مڈل اور پھر میٹرک تک یہی عادت رہی کہ رات کو سونے سے پہلے کتابیں، کاپیاں، بستہ غرض تمام چیزیں ادھر ادھر بکھری چھوڑ کر سو جاتا تھا مگر صبح آنکھ کھلتے ہی دیکھتا کہ تمام چیزیں بہت سلیقے سے بستے میں پڑی ہیں اور بستہ بڑی نفاست سے میز پر پڑا ہے۔ مجھے لاکھ بار کہا جاتا کہ دودھ پی کر سونا مگر میں نہیں پیتا تھا۔ لیکن جب صبح اٹھتا تولب شیریں اور منھ کا ذائقہ بدلا ہوتا۔ پہلے پہل تو پتہ نہیں چلتا تھا مگر آہستہ آہستہ پتہ چل گیا کہ رات کو نیند میں ہی دودھ پلا دیا جاتا ہے۔ رات کو کبھی آنکھ کھلتی تو دیکھتا کہ بارش ہو رہی ہے اور مجھ پر کمبل ڈال دیا گیا ہے کہ سردی نہ لگے۔ مجھے ہمیشہ گھر میں دو ہی چیزوں سے چڑ رہی۔۔۔ ایک 11 سے 13 گھنٹے تک ہاتھ سے چلائی جانے والی سلائی مشین سےاور دوسری روٹی کے کناروں سے کہ ان پر اکثر گھی لگنے سے رہ جاتا تھا مگر روٹی کے وہ سوکھے ٹکڑے جو میں اتار دیتا تھا نہ تو کبھی گھر سے باہر فروخت ہوتے دیکھے اور نہ ہی کوڑا دان میں کبھی نظر آئے۔ اور جب بھی مجھے پیسے چاہیے ہوتے تو میں اسی سلائی مشین کا رخ کرتا جس سے مجھے چڑ تھی۔ جب بھی مجھے کبھی معمول سے ہٹ کر زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی تو دیکھتا کہ گھر میں سلائی مشین کے چلنے دورانیہ 16 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ مجھے یاد ہے کالج میں داخلہ کے وقت مجھے 1500 روپیہ چاہیے تھا، میں نے گھر آ کر بتا دیا۔ اُسی رات 2 بجے کے قریب میری آنکھ کھلی تو گھر کے برآمدے میں کچھ کھٹ پٹ ہوتی محسوس ہوئی ذرا مزید غور کرنے پر یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے کوئی گھٹی گھٹی سسکیوں کے ساتھ رو رہا ہو۔ چپکے سے برآمدے میں جا کر دیکھا تو موٹے شیشے کا چشمہ لگائے میری ماں جانے کب مشین میں دھاگہ ڈالنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ آنسو بھی گر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا کر رہی ہے ماں؟؟؟ ماں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور جلدی سے آنسو صاف کرتے ہوئےاور چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے بالکل صاف آواز میں کہنے لگی۔۔۔ وہ سامنے والی ثریا کے بھائی کی شادی ہے تو اس نے کہا کہ صبح تک دو سوٹ سلائی کردو اس لئے بیٹھی ہوں لیکن دھاگا سوئی میں نہیں ڈل رہا۔۔۔ اس دن مجھے ماں کی حالت اور آنسو دیکھ کر احساس ہوا کہ مجھے کوئی چھوٹا موٹا کام کرنا چاہیے۔۔۔ میں مناسب کام بھی ڈھونڈتا رہا اور پڑھتا بھی رہا۔ اُدھر ایف۔اے مکمل ہوا اور ادھر آفس میں کام مل گیا۔ میں نے گھر جا کر ماں کو بتایا تو وہ خوشی سے نہال ہوگئی۔ فوری شکر پارے لا کر محلے میں بانٹے۔ ایک دن میں کام سے گھر آ کر لیٹ گیا۔ تھوڑی تھکاوٹ ہو رہی تھی۔ پاؤں چارپائی سے لٹکائے ہی سو گیا۔ جب اٹھا تو دیکھا کہ خلاف معمول آج نہ جوتے میرے پاؤں سے اترے تھے اور نہ ہی کھانا بنا تھا۔ ماں کو آواز دی: ’’ماں، ماں ، ماں اٹھ بھوک لگی ہے، ماں ں ں ں‘‘ چیخ چیخ کر رویا، ہزار منتیں او ر ترلے کیے مگر شاید ماں اب کی بار اٹھنے کے لئے نہیں سوئی تھی۔ ماں کے بعد وہ گھر چھوڑ دیا۔ قبرستان لگتا تھا۔ ادھر دیارِ غیر میں آ کر میں اپنا سارا کام خود کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ میں نے کبھی جس کی خدمت نہ کی اور نہ کبھی آسائش و سکوں دیا ’’وہ میری ماں تھی نوکرانی نہیں تھی‘‘ یہ کہتے ہوئے زاہد کے دو موٹے موٹے آنسو رخساروں پر بہہ گئے۔ اللہ تعالیٰ میرے اور جس کے بھی والدین حیات ہیں سب کے والدین کو ایمان و صحت کے ساتھ خوش رکھے۔ اور جن کے والدین وفات پا گئے اللہ تعالی ان کو صبر دے اور ان کے والدین کی مغفرت فرمائے۔ آمین نوٹ ! یہ مضمون انٹر نیٹ سے لیا گیا ہے۔
  9. سمندرکِنارےایک درخت تھا جس پہ چڑیا کا گھونسلا تھا ایک دن تیز ہوا چلی تو چڑیا کا بچہ سمندر میں گرگیا چڑیا بچے کو نکالنے لگی تو اُسکے اپنے پر گیلے ہوگئے اور وہ لڑکھڑا گئی اُس نے سمندر سے کہا اپنی لہر سے میرا بچہ باہر پھنک دے مگر سمندر نہ مانا تو چڑیابولی دیکھ میں تیرا سارا پانی پی جاوُں گی تجھے ریگستان بنا دونگی... سمندراپنے غرور میں گرجا کہ اے چڑیا میں چاہوں تو ساری دنیا کو غرق کردوں تو تو میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ چڑیا نے اتنا سُنا تو بولی چل پھرخشک ہونے کو تیار ہوجا اسی کےساتھ اُس نےایک گھونٹ بھرا اُوراڑ کےدرخت پہ بیٹھی پھرآئی گھونٹ بھراپھردرخت پہ بیٹھی یہی عمل اُس نے7-8 بار دُھرایا تو سمندر گھبرا کے بولا: پاگل ہوگئی ہےکیا کیوں مجھےختم کرنےلگی ہے ؟ مگرچڑیااپنی دھن میں یہ عمل بار بار کر رہی تھی سمندرنےایک زور کی لہرماری اورچڑیا کے بچے کو باہر پھینک دیا درخت جو کافی دیر سے یہ سب دیکھ رہا تھا سمندرسےبولا اے طاقت کےبادشاہ تو جو ساری دُنیا کو پل بھر میں غرق کر سکتا ہےاس کمزور سی چڑیا سےڈرگیا یہ سمجھ نہیں آئی ؟ سمندربولا تو کیا سجھا میں جو تجھےایک پل میں اُکھاڑ سکتاہوں اک پل میں دُنیا تباہ کرسکتا ہوں اس چڑیاسے ڈرونگا؟ نہیں میں تواس ایک ماں سےڈرا ہوں ماں کےجذبے سے ڈرا ہوں اک ماں کے سامنے توعرش ہل جاتا ہے تو میری کیا مجال جس طرح وہ مجھےپی رہی تھی مجھےلگا کہ وہ مجھےریگستان بنا ہی دےگی ماں " اللہ پاک " کی سب سے عظیم نعمت ہے .. اس کی قدر کریں .. اللہ پاک سے دعاء ہے کہ وہ ھمیں اپنے والدین کی خدمت کی توفیق عطاء فرمائے ( آمین )
  10. فائنلی واٹس ایپ نے لیپ ٹاپ کے لیے اپنی ایپ متعارف کروا دی ہے میک اور ونڈو لیپ ٹاپ والے یہ ایپ یہاں سے ڈاون لوڈ کر سکتے ہیں https://www.whatsapp.com/download/ انسٹالیش کی شرائط واٹس اپ آپ کے فون پر بھی انسٹال ہونا چاہیے تبھی لیپ ٹاپ پر چلے گا۔ ونڈو والے ، ونڈو ایٹ یا اس سے اوپر یعنی ونڈو ٹین یوز کر رہے ہوں میک والے میک او ایس 10.9 یا اس سے جدید آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہے ہوں اس کے علاوہ آپ وٹس ایپ آن لائن ویب پر بھی یوز کر سکتے ہیں۔جس کے لیئے ونڈو ایٹ کی بھی شرط نہیں۔ اس کے لیئے یہ لنک یوز کریں۔ https://web.whatsapp.com/
  11. اگر ایسے صفحات جنہیں ان لائک کرنا مقصود ہو، ان کی تعدا دکم ہو تو پھر ہر صفحے پر جاکر انہیں ان لائک کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ طریقہ اس صورت میں قابل عمل نہیں جب پسند کئے گئے صفحات کے تعداد سینکڑوں میں ہو۔ ایسے حالات میں آپ کو قدرے مختلف طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا جو کہ زیادہ صفحات کو ان لائک کرنے کے لئے مناسب ہے۔ فیس بک پر لاگ اِن ہونے کے بعد بائیں طرف اوپر کی جانب موجود فیس بک کے لوگو کے نیچے جہاں آپ کا نام لکھا ہے، اس پر کلک کریں۔ اس طرح آپ کی ٹائم لائن کھل جائے گی۔ ٹائم لائن پر اپنے نام کے نیچے موجود آپشنز میں سے مور پر کلک کریں اور پھر لائکس کے ربط پر کلک کریں۔ اگلے ہی لمحے آپ کے سامنے وہ تمام صفحات ظاہر ہوجائیں گے جنہیں آپ نے پسند کررکھا ہے۔ اب آپ جس پیج کو ان لائک کرنا چاہیں، اس کے نام کے نیچے موجود لائکڈ کے بٹن پر ماؤس لے کر جائیں اور ان لائک کے ربط پر کلک کریں۔ لیجئے، وہ صفحہ ان لائک ہوجائے گا۔ اس طریقے سے آپ چند ہی منٹوں میں تمام غیر اہم صفحات کو ان لائک کرکے اپنی فیس بک نیوز فیڈ کو صاف ستھرا کرسکتے ہیں۔
  12. کچھ بھی ختم نہیں ہوا۔اس کا سیکشن ضرور تبدیل کیا گیا ہے۔
  13. ممبرشپ ختم سے آپ کا کیا مطلب ہے ؟؟ تمام وی آئی پی ممبر ز ایکٹو ہیں
  14. بہترین اور حیران کن ڈرائینگ ملاحظہ ہوں
  15. اوریکل اوریکل کارپوریشن کمائی کے اعتبار سے دنیا کی تیسری بڑی ملٹی نیشنل امریکی سافٹ ویئر کمپنی ہے جس کی وجہ شہرت ڈیٹا بیس سسٹمز ہیں۔ تاہم اوریکل صرف سافٹ ویئر ہی نہیں بلکہ کمپیوٹر ہارڈویئر بھی تیار کرتا ہے۔ اوریکل کا ہیڈ کوارٹر ’’ریڈوڈ سٹی‘‘ کیلی فورنیا میں واقع ہے اور دنیا بھر میں اس کے ملازمین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ تیرہ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اوریکل کی بنیاد 16جون 1977ء کوایلی سن لیری، بوب مائنر، ایڈ اوٹس نے ’’سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ لیباریٹریز‘‘ کے نام سے سانٹا کلارا، کیلی فورنیا میں رکھی مگر اس کمپنی کا آئیڈیا ایلی سن لیری کو 1970ء میں ایڈگر ایف کوڈ کے تحریر کردہ ایک ریسرچ پیپرز سے آیا جو کہ رلیشنل ڈیٹا بیس منیجمنٹ سسٹمز سے متعلق تھا۔ ایڈگرایف کوڈ رلیشنل ڈیٹا بیس سسٹم کے موجد ہیں اوران کے رلیشنل ڈیٹا بیس کے متعلق 12اصول بے حد مشہور ہیں۔ ۔1977ء میں ایس ڈی ایل کا نام تبدیل کرکے ریلیشن سافٹ ویئرکردیا گیا اور پھر 1982ء میں اس کا نام اپنے مشہور اور کمائی کا اہم ذریعہ ڈیٹا بیس سسٹم ’’اوریکل‘‘ کے نام پر اوریکل سسٹمز کردیا گیا۔ بعد میں اس کا نام ایک بار پھر تبدیل کرکے اوریکل کارپوریشن کردیا گیا۔ ابتداء میں لیری ایلی سن کی توجہ اپنی کمپنی کے مصنوعات کو آئی بی ایم کے ’’سسٹم آر ‘‘ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کرنے پر رہی مگر آئی بی ایم نے سسٹم آر کے ایرر کوڈز کو خفیہ کرکے ان کی اس کوشش پر پانی پھیر دیا۔ 1978ء میں اوریکل کا پہلا ورژن بنایا گیا مگر اسے کبھی کمپنی کے پلیٹ فارم سے جاری نہیں کیا گیا۔ اس سافٹ ویئر کا نام ’’اوریکل‘‘ دراصل سی آئی اے کے ایک پروجیکٹ کا کوڈ نیم ہے جس پر اوریکل کے بانیوں نے کام کیا تھا۔ جون1978ء میں ایس ڈی ایل کا نام تبدیل کرکے ریلیشنل سافٹ ویئر انکارپوریشن رکھ دیا گیا اور اسی دوران اوریکل کا ورژن 2جاری گیا۔ یہی ورژن ان کے لئے باعث شہرت بنا۔ اس کے بعد اوریکل سافٹ ویئر میں مختلف بہتریاں کی جاتی جا رہیں اور اسے زیادہ سے زیادہ پلیٹ فارمز پر چلنے کا قابل بنایا گیا۔ 1981ء میں آر ایس آئی نے اوریکل ڈیٹا بیس کے لئے مختلف ٹولز تیار کرنا شروع کئے ۔ ان ہی میں سے ایک ٹول انٹر ایکٹیو ایپلی کیشن فسیلٹی تھا جسے اوریکل فارمز کی ابتدائی شکل کہا جاتا ہے۔ ۔1983ء میں اوریکل ڈیٹا بیس کو سی لینگویج میں دوبارہ لکھا گیا اور اس کا ورژن 3جاری کیا گیا۔ سی لینگویج میں لکھنے کا مقصد اسے مزید پلیٹ فارمز کے لئے کارآمد بنانا تھا جس کے کمپائلر مختلف پلیٹ فارمز کے لئے بہ آسانی دستیاب تھے۔ اکتوبر 1984ء میں اوریکل کا ورژن 4جاری کیا گیا اور پہلے بار اس میں ریڈ کونسٹنسی متعارف کروائی گئی۔ تاہم اب تک اوریکل صرف خاص ہارڈویئر کے حامل پلیٹ فارمز کے لئے دستیاب تھا۔ پہلی بار پرسنل کمپیوٹر پر چلنے والا اوریکل کا ورژن نومبر 1984ء میں جاری کیا گیا تھا۔ یہ ورژن 4.1.4کہلاتا تھا اور مائیکروسافٹ ڈوس پر چلایا جاسکتا ہے۔یہ صرف 512کلو بائٹس کی میموری پر چل سکتا تھا۔ پہلا کلائنٹ – سرور موڈ میں چلنے والے اوریکل 5کو اپریل 1985ء میں متعارف کروایا گیا جو اس نوعیت کا پہلا (آر ڈی بی ایم ایس)تھا۔ ساتھ ہی اوریکل میں تبدیلیوں کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھایا گیا اور نت نئی ٹیکنالوجیز متعارف کروائی جاتی رہیں۔ اگلے ہی سال یعنی 1986ء اوریکل کا ورژن 5.1جاری کیا گیا جس میں ڈسٹری بیوٹڈ کیوریز کی سہولت موجود تھی۔ اس طرح کلسٹرنگ پر عملی طور پر کام شروع کردیا گیا۔ اسی سال 12مارچ کو اوریکل پبلک لمیٹڈ کمپنی بن گئی اور اس کے شیئرز خرید و فروخت کے لئے اسٹاک مارکیٹ میں پیش کردیئے گئے۔ اوریکل کا اگلا ورژن 1988ء میں پیش کیا گیا جس میں( پی ایل/ایس کیو ایل )ڈیٹا بیس میں شامل کی گئی۔ تاہم اسٹورڈ پروسیجرز بنانے کی سہولت اس میں موجود نہیں تھی جسے بعد میں ورژن 7میں شامل کیا گیا۔ اسی دوران اوریکل کی ترقی کا سفر تیزی سے جاری رہا اور 1989ء میں اس کی کمائی 584ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ لیکن اس کے اگلے ہی سال 1990ء کی تیسری سہ ماہی اوریکل کے لئے پہلی بار نقصان لے کر آئی اور اسے اپنے کئی ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنا پڑتا۔ ایلی سن نے کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ میں بڑی پیمانے پر تبدیلیاں کی۔ یہ بات شاید دلچسپی سے پڑھی جائے کہ اوریکل نے اپنا ایک ویب برائوزر ’’اوریکل پاور برائوزر‘‘ بھی 1996ء میں پیش کیا تھا۔ 1997ء میں اوریکل کا ورژن 8جاری ہوا جس میں ٹیرا بائٹس تک کے ڈیٹا کو سنبھالنے کی صلاحیت موجود تھی۔ اس دور میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ مائیکروسافٹ کے دیکھا دیکھی اوریکل نے اپنا پہلا مفت ڈیٹا بیس سسٹم ’’اوریکل ڈیٹا بیس 10جی ایکسپریس ایڈیشن‘‘ 2005ء میں جاری کیا۔ اگلے کئی سالوں میں اوریکل اپنے ڈیٹا بیس سافٹ ویئر کے مختلف ورژن جاری کرتا رہا اور کئی کمپنیوں کو خریدا بھی۔ مائی ایس کیو ایل نامی مشہور زمانہ اوپن سورس ڈیٹا بیس بھی اب اوریکل کی چھتری تلے پھل پھول رہا ہے۔ اب تک اوریکل صرف سافٹ ویئر کے میدان میں اپنے قدم جمائے ہوئے تھا ۔ جنوری 2010ء میں جب اوریکل نے سن مائیکروسسٹمز کو خریدا تو کئی ہارڈویئر بنانے والی کمپنیوں جیسے ایچ پی اور ڈیل وغیرہ کے ساتھ قانونی جنگ شروع ہوگئی۔ یہ کمپنیاں چاہتی تھیں کہ اوریکل سرور ہارڈویئر کے میدان سے دور رہے مگر اوریکل اب اس میدان میں بھی اپنی قسمت آزمائی چاہتا تھا۔ سن مائیکروسسٹمز کو سرور ہارڈویئر بنانے میں کمال حاصل تھا اور اس کے اس سلسلے میں کئی کمپنیوں سے معاہدے بھی تھے۔ سن مائیکروسسٹم کی خریداری سے اوریکل کو نہ صرف ایک نئی صلاحیت ہاتھ آئی بلکہ مائی ایس کیو ایل اور جاوا جیسی شاندار پروڈکٹس بھی اپنے نام سے منسوب کرنا نصیب ہوا۔ اوریکل کی اہم مصنوعات اوریکل ڈیٹا بیس یہ اس کمپنی کی سب سے مشہور پراڈکٹ ہے۔ اس وقت اس کا ورژن 11g ریلیز 2 تازہ ترین ہے جسے ستمبر 2011ء میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ سافٹ ویئر لینکس، یونکس، ونڈوز، سولارس،سسٹمز کے لئے دستیاب ہے۔ اوریکل کی کمائی کا ایک بڑا حصہ اسی سافٹ ویئر سے آتا ہے۔ یہ بے حد مہنگا لیکن بیشتر اداروں کی اولین پسند ہے۔ اس کی قیمت فی پروسیسر کے حساب سے بڑھتی ہی جاتی ہے۔ جبکہ اس کی ایڈمنسٹریشن بذات خود ایک ’’عہدہ‘‘ بن گئی ہے۔ ٭… مائی ایس کیو ایل مائی ایس کیو ایل ایک ریلیشنل ڈیٹا بیس سسٹم ہے جو مفت ہی نہیں بلکہ اوپن سورس بھی ہے۔ اس کا انتظام پہلے (مائی ایس کیو ایل اے بی) کے پاس تھا مگر اس کمپنی کو سن مائیکروسسٹمز کو فروخت کردیا گیا تھا اور بعد میں سن مائیکروسسٹمز کو اوریکل نے خرید لیا تھا۔ مائی ایس کیو ایل اب بھی مفت ہی دستیاب ہے لیکن اب اس کے ساتھ اوریکل کا نام بھی جڑا ہے۔ ٭… اوریکل فیوژن مڈل ویئر یہ اوریکل کی مختلف مصنوعات کا مجموعہ ہے جس میں جاوا ای ای، ڈیویلپر ٹولز، انٹیگریشن ٹولز، بزنس انٹیلی جنس اور کانٹینٹ منیجمنٹ ٹولز شامل ہیں۔ اس کے خریدار وں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے اور اس مڈل ویئر کی فروخت سے ہونے والی آمدنی بھی اوریکل کی کل آمدنی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ٭… اوریکل سکیور انٹر پرائز سرچ یہ ایک سرچنگ ایپلی کیشن ہے جو مختلف جگہوں جیسے ڈیٹا بیس، فائل سرورز، ویب سرورز، کونٹینٹ منیجمنٹ سسٹمز، ای آر پی سسٹمز، سی آر ایم سسٹمز اور بزنس انٹیلی جنس سسٹمز میں سرچ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ ٭… اوریکل اسپارک ٹی سیریز سرورز یہ سن مائیکرو سسٹمز کو خریدنے کے بعد تیار کیا گیا تھا۔ اور اس پر یونکس آپریٹنگ سسٹم چلایا جاتا ہے۔ اسے 2010 ء میں متعارف کروایا گیا تھا اور بعد میں اس کے چند تبدیل شدہ ماڈل بھی جاری کئے گئے۔ اس کے ماڈل (ٹی فور) میں ایک ٹیرا بائٹس تک میموری لگانے کی سہولت موجود ہے۔ دیگر کمپنیوں سے مقابلہ اوریکل کے ڈیٹا بیس کے میدان میں کئی حریف ہیں ۔ ان میں آئی بی ایم، مائیکروسافٹ اور ٹیرا ڈیٹا وغیرہ اہم ہیں۔ جبکہ اوریکل اپنے کئی حریفوں کو ماضی میں خرید بھی چکا ہے۔ آئی بی ایم اپنے ڈیٹا بیس سسٹم کے ساتھ ڈیٹا بیس منیجمنٹ سسٹمز کی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر ہے اور مائیکروسافٹ (ایس کیو ایل) سرور کا تیسرا نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ مفت ڈیٹا بیس جیسے فائر برڈ، پوسٹجروغیرہ بھی اوریکل کے مد مقابل ہیں۔ مین فریم کمپیوٹرز میں اب بھی آئی بی ایم کا راج ہے۔ سرور ہارڈویئر میں اوریکل کے مدمقابل زیادہ طاقتور حریف ہیں۔ ایچ پی ، ڈیل اور آئی بی ایم ایک عرصے سے اس میدان میں کام کررہے ہیں اس لئے اوریکل کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اوریکل کے ای آر پی سسٹم ’’اوریکل فنانشل‘‘ کا مقابلہ (ایس اے پی) سے ہے جو ایک عرصے تک اوریکل کا حلیف رہا ۔ لیکن اب یہ دونوں کمپنیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں اور اکثر عدالتوں میں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتی ہیں۔ اوریکل اورتنازعے اوریکل کی کئی کمپنیوں کے ساتھ پیچیدہ قانونی جنگ چل رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اوریکل انتہائی سخت گیر واقع ہوا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ سن مائیکروسسٹمز کو خریدنے کے بعد جاوا بھی اوریکل کی جھولی میں آگری اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اوریکل نے گوگل کے خلاف پیٹنٹس کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کردیا۔ اوریکل کے مطابق گوگل اینڈروئیڈ میں گوگل نے جاوا کی مکمل سپورٹ فراہم کرنے کے بجائے اپنی مرضی سے اس میں کمی بیشی کی ہے ۔ اس لئے اسے بطور ہرجانہ چھ عشاریہ ۱یک ارب ڈالر ادا کئے جائیں۔ اوریکل نہ صرف یہ قانونی جنگ ہار گیا بلکہ اسے گوگل کو ایک ملین ڈالر بطور قانونی فیس ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ دوسری گوگل کا بھی دعویٰ ہے کہ اینڈروئیڈ کی شہرت کو دیکھتے ہوئے مائیکروسافٹ، اوریکل اور ایپل پیٹنٹس کو بہانہ بنا کر اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی تناظر میں گوگل نے حال ہی میں موٹورولا موبیلٹی کو تقریباً 12.5ارب ڈالر میں خریدنے کا عمل شروع کیا ہے تاکہ گوگل اینڈروئیڈ کو مزید کسی قانونی جنگ سے بچایا جاسکے۔موٹورولا موبیلٹی کے پاس 17000پیٹنٹس ہیں۔ ایچ پی اور اوریکل بھی سن مائیکروسسٹمز کی فروخت کے بعد ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور یہ قانونی جنگ بھی اوریکل ہار چکا ہے۔اوریکل اس سلسلے میں اپیل کا ارادہ رکھتا ہے۔
  16. مشہور کمپنیوں کی مکمل انفارمیشن
  17. وٹس ایپ کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی ہے، اتنی اہم اور مقبول ایپلی کیشن کو مفت فراہم نہ کرنا ایک ناانصافی ہوتا، یہی وجہ ہے کہ فیس بک نے اس ایپلی کیشن کے حقوق حاصل کرنے کے بعد حال ہی میں اسے بالکل مفت کر دیا ہے۔ اس سے قبل وٹس ایپ پہلے سال استعمال کرنے کے لیے مفت تھی لیکن اس کے بعد ایک ڈالر سالانہ کی فیس مختص تھی، جسے اب ختم کرتے ہوئے وٹس ایپ کو بالکل مفت کر دیا گیا ہے۔ وٹس ایپ کا ڈیٹا کسی کلاؤڈ اسٹوریج پر بیک اپ نہ ہونا اس میں بہت بڑی خامی تھی، اس کی وجہ سے اکثر اہم ڈیٹا ضائع ہو جاتا تھا۔ جب بھی کبھی آپ وٹس اَن انسٹال کریں یا یہ کریش ہو جائے تو ساری چیٹس حذف ہو جاتی تھیں۔ آخرکار حال ہی میں وٹس ایپ کی اس خامی کو دُور کر دیا گیا ہے۔ وٹس ایپ کے تازہ ترین ورژن 2.12.241 میں ڈیٹا کو گوگل ڈرائیو پر بیک اپ کرنے کا فیچر پیش کر دیا گیا ہے۔ اس فیچر کی بدولت اب آپ اپنی تمام چیٹس، تصاویر، وڈیوز اور آڈیوز کو اپنے گوگل اکاؤنٹ میں بیک اپ کر سکیں گے۔ اس طرح یہ اپ لوڈ کیا گیا آپ کا ڈیٹا آپ کے نئے وٹس ایپ میں ری اسٹور بھی ہو سکے گا۔
  18. سام سنگ نے 15.36 ٹیرابائٹ کی نئی ایس ایس ڈی ہارڈ ڈرائیو کی فروخت شروع کر دی ہے۔اتنی زبردست گنجائش کے ساتھ یہ اس وقت مارکیٹ میں دستیاب کسی بھی دوسری ہارڈڈرائیو چاہے وہ میکانیکل ہو یا فلیش،سب سے زیادہ گنجائش والی ہارڈڈرائیو ہے۔ PM1633a نامی اس ہارڈڈرائیور کا سائز 2.5 انچ ہی ہے جو کہ عام دستیاب ہارڈڈرائیو کا سائز ہے۔ اس کے باوجود اس میں 15 ٹیرا بائٹس سے زیادہ کا ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس حیرت انگیز گنجائش کی وجہ سام سنگ کی جدید ترین ٹیکنالوجی وی نوڈ ہے ۔ سام سنگ نے 256 گیگا بائٹس کی بتیس (32) وی نوڈ چپس کو 2.5 انچ کی ہارڈڈرائیور کی شکل دی ہے۔ یوں 15.36 ٹیرا بائٹس کی زبردست گنجائش حاصل کی گئی ہے۔ ہارڈ ڈرائیو اور ایس ایس ڈی کے چناؤ میں صارفین بہت سی مشکلات کا سامنا تھا۔ مقناطسیسی میڈیا پر مبنی ہارڈڈرائیور کارکردگی کے معاملے میں سالڈ اسٹیٹ ہارڈڈرائیو سے بہت پیچھے ہیں۔ لیکن سالڈ اسٹیٹ ہارڈڈرائیو کی ڈیٹامحفوظ کرنے کی گنجائش مقناطیسی میڈیا والی ہارڈڈرائیو کے مقابلے میں کم ہے۔ اس لئے جہاں کارکردگی کی ضرورت ہوتی ہے وہاں سالڈ اسٹیٹ ہارڈڈرائیو لگائی جاتی ہے اور جہاں ڈیٹا محفوظ کرنے کے لئے زیادہ گنجائش درکار ہوتی ہے وہاں عام مقناطیسی میڈیا والی ہارڈڈرائیو استعمال کی جاتی ہے۔ سام سنگ کی یہ سالڈ اسٹیٹ ہارڈڈرائیو بڑے اداروں کے لئے ہے اس لئے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر رکھنے والے صارفین توقع نہ رکھیں کہ اتنی زبردست گنجائش کی حامل ہارڈڈرائیو انہیں جلد کمپیوٹروں میں نصب کرنے کے لئے مل سکے گی۔سام سنگ کے مطابق یہ نئی ہارڈڈرائیو 1200 میگا بائٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سالڈ اسٹیٹ ہارڈڈرائیو کی کاکردگی جانچنے کا ایک طریقہ IOPS بھی ہے۔ یہ ان پٹ آؤٹ پٹ آپریشنز فی سیکنڈ کا مخفف ہے۔ اسے آئی اوپس پڑھا جاتا ہے۔ PM1633a کے بارے میں سام سنگ کا دعویٰ ہے کہ اس میں 2 لاکھ ان پٹ آؤٹ پٹ آپریشنز فی سیکنڈ انجام دینے کی صلاحیت ہے۔ لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر میں کسی ہارڈڈسک کے زیادہ چلنے سے اس کے خراب ہونے کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں لیکن ڈیٹا سینٹرز میں حالات مختلف ہوتے ہیں۔ ڈیٹا سینٹر میں چل رہے سرورز کے اندر نصب ہارڈڈرائیو چاہے وہ سالڈ اسٹیٹ ہو مقناطیسی میڈیا والی، بہت دباؤ ہوتا ہے۔ ان پر بہت تیزی سے اور بڑی تعداد میں ڈیٹا لکھا ، پڑھا اور حذف کیا جارہا ہوتا ہے۔ سالڈ اسٹیٹ ہارڈڈرائیو کے بارے میں خدشہ رہتا ہے کہ بہت زیادہ ڈیٹا لکھنے اور پڑھنے سے وہ خراب ہوسکتی ہیں۔ سام سنگ نے اس ڈر کو دور کرنے کے لئے بتایا ہے کہ ان کی نئی ہارڈڈرائیو پر ہر روز اس کی گنجائش کے برابر یعنی 15.36 ٹیرا بائٹ کا ڈیٹا لکھا جاسکتا ہے اور وہ اس دباؤ کو با آسانی جھیل سکتی ہے۔ سام سنگ کا کہنا ہے کہ یہ ڈرائیو 15.36 ٹیرا بائٹ کے علاوہ 960 گیگا بائٹس اور 480 گیگا بائٹس ورژن میں بھی دستیاب ہوگی۔ سام سنگ نے ابھی تک اس ایس ایس ڈی کی قیمت کے بارے میں نہیں بتایالیکن جتنی اس کی گنجائش اور خوبیاں ہیں، اس کے سستا ہونے کی توقع رکھنا حماقت ہوگی
  19. اگر آپ نے فرانس، دبئی، سعودیہ، یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں کی سیر کی ہے تو ضرورت آپ کی نظروں سے Hilton Hotels & Restaurant نامی بلند و بالا اور پرشکوہ عمارتیں گزری ہوں گی۔ آئیے! ان کے موجد سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں۔ کونرڈہلٹن کو ان عمارتوں کا موجد اول کہا جاتا ہے۔ اس نے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد ملک میں مختلف ملازمتوں پر فائز رہا۔ وہ فطری طور پر تاجر پیدا ہوا تھا۔ اس لیے ان ملازمتوں میں اسے سکون نہ آتا تھا۔ کیلی فورنیا میں اتھارٹی برائے قانون سازی کا ممبر تھا لیکن بینک میں کام کرنے اور زیادہ پیسے کمانے اور اپنی تجارتی کمپنی چلانے کے خواب دیکھتا تھا۔ انہی خوابوں کی تکمیل کے لیے ہلٹن نے ٹیکساس کا رخ کیا۔ وہ رات کے کسی پہر ٹیکساس پہنچا۔ سفر کی وجہ سے کافی تھک چکا تھا۔ اس نے ایک ہوٹل میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا، جب ہوٹل پہنچا تو ہوٹل استقبالیہ نے سے کمرہ دینے سے معذرت کر لی کیونکہ تمام کمرے پہلے سے بک تھے۔ مزید کسی مسافر کی رہائش کے لیے گنجائش نہ تھی۔ ہلٹن کافی پریشان ہوا۔ اس کے دل پہ چوٹ سی لگی۔ اس نے اس محرومی کا مقابلہ انوکھے انداز سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہلٹن نے عزم کیا وہ ٹیکساس میں اپنا ہوٹل کھولے گا۔ اپنے ارادے کی تکمیل کے لیے وہ کمر بستہ ہو گیا۔ بینک میں ملازمت یا تجارتی کمپنی شروع کرنے کے بجائے اس نے ہوٹل بنانے اور خریدنے کا سوچ لیا۔ ہلٹن کی جیب میں صرف 5000 ہزار ڈالر تھے۔ اس نے بیس ہزار ڈالر بینک سے قرض لیا اور پندرہ ہزار ڈالر اپنے دوستوں سے جمع کر لیے۔ چند ہی دنوں میں ہلٹن نے ٹیکساس کے شہر سیسکومیں ایک ہوٹل خرید لیا۔ اس کا کاروبار آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگا۔ اس نے ابتدا سے ہی گاہکوں کا اعتماد حاصل کرنے کی طرف خاص توجہ دی۔ صارفین کی خدمت کے لیے مستعد عملہ اور باقی سہولیات کا بھرپور خیال رکھا۔ اس سے لوگوں کا اعتماد ہلٹن انتظامیہ پر بڑھ گیا۔ دس سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ ہلٹن ٹیکساس میں سات بڑے بڑے ہوٹلوں کا مالک بن چکا تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں ایک دہائی قبل ہلٹن کو رات ٹھہرنے کے لیے ہوٹل میں ایک کمرہ میسر نہ آیا تھا۔ یہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے یورپ، اسپین، استنبول، سعودیہ اور دبئی میں اپنی شاخیں کھولیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہلٹن کے ہوٹلوں میں موجود کمروں کی تعداد 10,2000 ہے۔ جو جدید تقاضوں اور سہولیات سے لیس ہیں۔ ہلٹن ہوٹلز کا مرکزی دفتر کیلی فورنیا کے شہر بیفرلی میں واقع ہے۔ جو ریاست ہائے متحدہ امریکا میں 34 سے زائد ہوٹل براہ راست کنٹرول کرتا ہے۔ جبکہ آسٹریلیا سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں 18 سے زائد ہوٹلوں کے سلسلے بھی یہیں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں ان کی مختلف شاخوں کا سلسلہ 180 کے عدد کو چھوتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد ہلٹن نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کنسٹرکشن کا پورا شعبہ ترتیب دیا۔ انجینئروں کی ایک ٹیم، نقشہ نگار اور دیگر عملہ بھرتی کیا تاکہ تعمیرات میں کسی دوسرے کا محتاج نہ رہا جائے۔ نیو یارک سٹی میں لوگوں کا عام خیال تھا کہ ایک شہر میں ایک کمپنی کی دو برانچیں یا ایک کمپنی کے دو ہوٹل کھل جائیں تو ان کی آمدن میں کمی آ جاتی ہے، لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ہلٹن نے نیو یارک سٹی میں دو ہوٹل کھول کر اس خیال کا شیرازہ بکھیر دیا۔ ہلٹن ہوٹل وہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے نیو یارک میں اپنے شیئرز بیچے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ برانچیں رکھنے کا اعزاز بھی اسی کو حاصل ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے ہوٹلوں میں گفٹ سنٹر کھولنا بھی اسی کا کارنامہ ہے۔ گفٹ سینٹر جیسی دیگر کئی سہولیات اور گاہکوں کی خدمت میں انتظامیہ نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 1959 ء میں ہوٹل انتظامیہ نے ایئر پورٹس اور ہوائی اڈوں میں اپنے ہوٹل کھولنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے ایئر پورٹوں میں یہ سہولت دسیتاب نہ ہوتی تھی۔ اس وقت دنیا کے پچاس سے زائد ایئر پورٹوں میں ہلٹن ہوٹلز اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ کونر ڈہلٹن کی کامیابی کے تین راز ہیں: تعمیری سوچ ، خیال کو حقیقت بنانے میں سنجیدگی اور چیلنجز کا کھلے دل سے مقابلہ۔ کہا جاتا ہے اگر ہلٹن کو اس رات ہوٹل میں آرام کے لیے کمرہ مل جاتا تو آج دنیا ہلٹن ہوٹلز کے پورے سلسلے کے وجود سے محروم ہوتی۔ ہلٹن کو جب کمرہ دینے معذرت کی گئی تو اس نے مثبت اور تعمیری سوچ سوچی۔ اس نے کہا: میں اپنا ہوٹل کھولوں گا۔ اس نے اپنے خیال کو پھر محض خیال نہ رکھا بلکہ عملی جامہ پہنا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے پاس ہوٹل بنانے کے لیے سرمایہ نہ تھا لیکن وہ گھبرایا نہیں بلکہ بینک اور اپنے دوستوں کی مدد حاصل کی۔ یوں وہ اپنے عزم میں کامیاب ہو گیا۔ آج کیلی فورنیا، نیویارک، شکاگو اور واشنگٹن کے بڑے ہوٹلوں میں کامیاب ہلٹن ہوٹلز سر فہرست نظر آتے ہیں۔ کامیابی اسی شخص کے قدم چومتی ہے جو سوچتا ہے، پھر خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے اس کی سوچ خود بخود حقیقت بننا شروع ہو جاتی ہے۔ ۔1979 ء میں کونرڈ ہلٹن انتقال کر گیا لیکن اپنے پیچھے کامیابی کے سنہرے اصول چھوڑ گیا۔ اسے ایک کمرے میں آرام کرنے سے محروم کیا گیا تھا، ہلٹن نے کئی لوگوں کے لیے کمرے بنا کر ثابت کر دیا کہ تعمیری سوچ کے حامل شخص کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ہر چیز کی ابتدا سوچ سے ہوتی ہے۔ پھر انتھک محنت، روز شب کی تگ و دو اور عزم مصمم اس خیال کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔
  20. یونیورسٹی کی فیس ادا نہ کرسکنے والا فریڈ ڈیلوکا سب وے کمپنی کا بانی کیسے بنا مقررہ تاریخ پر فیس جمع نہ کرانے والوں کو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہو گی۔‘‘ یہ اعلان ہونے کے بعد میری پریشانی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ کافی دنوں سے میں اپنی یونیورسٹی فیس کے بارے میں بہت پریشان تھا۔ گھر کے حالات کچھ ایسے نہ تھے کہ میں اپنی بھاری بھر کم فیس کا بوجھ اپنے والدین کے کاندھوں پر ڈال دیتا۔ادھر میرے پاس بھی اس کا بظاہر کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ اسے مقررہ دن پر ادا کرپاتا۔مجھے ڈاکٹر بننے کا بہت زیادہ شوق تھا، لیکن اب مجھے خطرہ محسوس ہورہا تھا کہ کہیں میرا ڈاکٹری کا خواب چکنا چور نہ ہو جائے۔ میں ایک دن پریشانی کے عالم میں اسکول پہنچا تو نوٹس بورڈ پر آویزاں اعلان پڑھ کر مجھے شدید خطرہ لاحق ہو گیا۔ فیس ادا کرنے کا دن قریب آ چکا تھا اور میری جیب میں دھیلا تک نہ تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ میرا ضمیر بھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔گھر میں غربت کا ڈیرہ تھا۔ اس لیے میں اپنا تعلیمی خرچ پورا کرنے کے لیے ایک اسٹور پر کام کرتا تھا۔ وہاں سے ملنے والی مزدوری سے بمشکل گزارا ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی کی فیس زیادہ تھی، جو میری استطاعت سے باہر تھی۔ میں پارٹ ٹائم کی جاب سے اسے پورا نہیں کر سکتا تھا۔ اپنی پریشانی کو کم کرنے کے لیے اپنے ایک پرانے اور دیرینہ دوست کے پاس چلا گیا کہ اس سے کوئی مشورہ یا بات وغیرہ کر وں، جو میری پریشانی کو ہلکا کر دے اور اس مشکل سے نکلنے کی کوئی سبیل پیدا ہو۔ وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس دن گرم لُوچل رہی تھی۔ چلچلاتی دھوپ اور دوپہر کا وقت۔ میں اپنے دوست کے گھر میں موجود تھا۔ میرے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ میرے دوست پیٹربک نے مجھے دیکھا تو میری پریشانی بھانپ گیا۔ میں نے ساری صورت حال بتادی۔ اس کے بعد اس نے مجھے مشورہ دیا کہ ’’آپ ایک سینڈوچ شاپ کھول لیں۔‘‘ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا،یہ جواب میری توقع سے بہت مختلف تھا۔ میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ پیٹر نے میری ہمت یوں بندھائی کہ اگر میں یہ بزنس شروع کروں تو وہ بھی میرا پارٹنر ہو گا۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا، میرے پاس تو یونیورسٹی کی فیس دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ بزنس کے لیے تو سرمایہ چاہیے، وہ میں کہاں سے لاتا؟ یہ مسئلہ صرف میرے ساتھ نہ تھا، بلکہ دنیا میں جو شخص بھی بزنس کا ارادہ کرتا ہے اسے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسروں کی نوکری چاکری کرتے کرتے میں بھی تھک چکا تھا۔ اب اپنا بزنس شروع کرنے کی خواہش انگڑائی لینے لگی۔ اس تمنا کو آخر پیٹر ہی نے پورا کر دیا۔ اس نے بزنس شروع کرنے کے لیے ایک ہزار ڈالر بطورِ قرض دیے۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اندھے کوکیا چاہیے دو آنکھوں کے سوا۔ ہم دونوں نے مل کر 1965 ء کو برج پورٹ میں ایک سب وے سینڈ وچ شاپ کھول لی۔یہی آگے چل کر دنیا کی نمبر ون کمپنی بنی۔ پہلے سال جہاں سیکھنے کو بہت کچھ ملا، وہاں مشکل حالات کا بھی خوب سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران مجھے احساس ہوا کہ بزنس کے پھیلاؤ کے لیے ایڈورٹائزنگ اور پبلسٹی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ویزیبلٹی بہت ضروری ہے۔یعنی دکان ایسی جگہ پر ہو، جو دور سے نظر آئے۔ اگلے ہی سال ہم دونوں دوستوں نے دوسرا اسٹور بھی کھول لیا۔ ہم نے ابتدا ہی سے اپنی پروڈکٹ ’’سینڈوچ‘‘ کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہ کیا۔ عمدہ معیار کی وجہ سے دِنوں میں ہمارے گاہک بڑھتے گئے۔ ہماری پروڈکٹ کا شہرہ ہونے لگا۔ اس بڑھتی ہوئی مقبولیت اورہر دلعزیزی کو دیکھ کر میں نے عزم کیا کہ آئندہ 10 سالوں میں 32 اسٹور مزید کھولوں گا۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ میں اسی ایک اسٹور کو بھی بڑا کر سکتا تھا، لیکن اس میں کاہگوں کے لیے مسائل تھے۔ وہ ہمارے سینڈ وچ کو پسند کرتے تھے اور اس کے لیے انہیں سفر کی صعوبت بھی اٹھانی پڑتی تھی۔ مجھے یہ بات گوارا نہ تھی۔ اگر آپ بزنس کو ترقی دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے فرنچائزیں کھولیں۔ جب آپ کی ساکھ بن چکی ہوتی ہے تو کسٹمرز اپنے قریبی اسٹور سے آپ کی پروڈکٹ خریدنا پسند کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈز کے بزنس میں ضروری ہے کہ آپ مختلف جگہوں اور شہروں میں اپنی فرنچائز اور اسٹورز کھولیں۔ اتنی بات ضرور یاد رکھیں کہ اپنی پروڈکٹ اور کسٹمر سروس کی کوالٹی اور معیار میں رتی برابر فرق نہ آنے دیں، ورنہ آپ کا بزنس پانی کا بُلبُلہ ثابت ہو گا۔ کون جانتا تھا کہ فریڈ ڈیلوکا ڈاکٹر بن کر لوگوں کا علاج کرنے کے بجائے ان کی غذا کا سامان کرے گا۔ آج میری سب وےکمپنی 106 ممالک میں 41 ہزار 827 ریسٹورنٹ کے ساتھ موجود ہے۔ یہ دنیا میں فاسٹ فوڈز کی نمبر ون کمپنی ہے۔
  21. خطروں سے کھیلنے والا شیلڈن جو مسلسل ناکامیوں کے بعد 51ویں بزنس میں کامیاب ہوگیا جمعرات کا دن تھا۔ یونیورسٹی میں صبح سے ہی چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ ایک لان میں اسٹیج سجا ہوا تھا۔ خوبصورت شامیانے لگے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طلبہ کی ٹولیاں جگہ جگہ نظر آ رہی تھیں۔ وہ گپ شپ میں مصروف تھے اور بات بات پر قہقہے لگا رہے تھے۔ ان کے چہروں سے خوشی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔وہ خوش اس لیے تھے کہ آج ان سے دنیا کے دسویں امیر ترین شخص نے خطاب کرنا تھا۔ اپنی کامیابی کے راز سے پردہ اٹھانا تھا کہ بارہ سالہ اخبار فروش بچہ کیسے دنیا کا امیر ترین آدمی بن گیا۔ وہ آدمی شیلڈن تھا اور شیلڈن کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ شیلڈن ایڈلسن ایک امریکی بزنس مین ہے۔ جولائی 2014ء فوربس میگزین کے مطابق اس کے اثاثہ جات 36.4 ارب ڈالرز پر مشتمل ہے۔ اس مالیت کے ساتھ یہ دنیا کا دسواں امیر ترین شخص ہے۔ یہ ایک اسرائیلی اخبار کا مالک بھی ہے بہرحال! صبح 10 بجے وہ لمحہ آن پہنچا، جس کے لیے یہ سارے انتظامات کیے گئے تھے۔ شیلڈن مائیک پر آئے اور یونیورسٹی کے طلبہ اور پروفیسر سے خطاب کرنے لگے۔ 90 منٹ کی تقریر تھی۔ آخر پر سوالات کی نشست ہوئی۔ ایک طالب نے سوال کیا: ’’آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟‘‘ ’’میں اس کے بارے میں کبھی جان نہ سکا‘‘ شیلڈن نے کہا۔ اس کا یہ جواب طلبہ کے لیے انوکھا اور حیران کن تھا۔ ایک اور طالب علم نے ہمت کرتے ہوئے کہا: ’’یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ ترقی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں، اور آپ کو کامیابی کے اسباب کا علم تک نہ ہو۔‘‘ اس تبصرے پر شیلڈن ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ میری کامیابی کے راز اور اسباب بہت ہو سکتے ہیں لیکن جس کو میں اپنی ترقی کا راز سمجھتا ہوں وہ چار حرف پر مشتمل ایک لفظ ہے۔ رسک یعنی خطرات میں کود جانا۔ شیلڈن 14 اگست 1933 ء کو ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ شیلڈن کا بچپن ہی والدین کے لیے حیران کن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسا بچہ عطا کیا تھا جو بہت ساری خصوصیات کا مالک تھا۔ حوصلہ مندی، بہادری اور خطرات میں کود جانا اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اس سے بڑھ کر یہ خوبی تھی کہ ناکامی سے گھبرانے کے بجائے اس سے مزید سیکھتا اور آگے بڑھتا چلا جاتا۔ 12 سال کی عمر میں شیلڈن نے اپنا بزنس کیرئیر شروع کیا۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ کوئی کاروبار کر سکتا۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے اس نے اپنے چچا سے دو سو ڈالر قرض لیے اور اس سے اخبار فروشی کا لائسنس خریدا۔ یہ صبح سویرے اٹھتا اور سائیکل پر اخبار لاد کر مختلف گھروں تک پہنچاتا اور پھر اسکول جاتا۔ یہ کام چار سال باقاعدگی سے چلتا رہا،لیکن اس کام میں ترقی کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ اس وجہ سے ٹافیاں بنانے والی مشین کی خرید و فروخت کا بزنس شروع کر لیا۔ اس دوران شیلڈن کو احساس ہوا کہ بزنس سے متعلق تعلیم حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ رسمی تعلیم عملی زندگی میں زیادہ ساتھ نہیں دے پاتی۔ شیلڈن ایک ٹریڈ اسکول میں بڑھنے لگا۔ ابھی تعلیم مکمل نہیں ہو پائی تھی کہ فوج میں بھرتی ہو گیا۔ کسی وجہ سے یہ فوج سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس کے بعد سٹی کالج آف نیو یارک میں پڑھنے لگا۔ بزنس ’’شیلڈن‘‘ کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا تھا۔ اس لیے یہ تعلیم کے ساتھ پرس اور بیگ وغیرہ فروخت کرنے لگا۔ شیلڈن کے ساتھ ایک مسئلہ تھا جسے آپ اس کی خوبی یا عیب کہہ سکتے ہیں۔ یہ جس چیز میں نفع دیکھتا تو پہلے کام کو چھوڑ کر اس کی طرف لپک پڑتا۔ اس کے بعد یہ کیمیکل اسپرے فروخت کرنے لگا۔ ۔1960 ء میں اس نے ایک چارٹر ٹورز بزنس شروع کیا۔ بہت سارے خیر خواہوں اور دوستوں نے اسے اس بزنس میں کودنے سے منع کیا لیکن یہ ہمیشہ رسک لیتا اور روکنے کے باوجود رکا نہیں کرتا تھا۔ ٹورزم (سیاحت) کے بزنس سے پہلے ہر کام میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن شیلڈن اس کو ناکامی نہیں کہتا تھا۔ اس کے مطابق یہ ایک رکاوٹ تھی جو اس کے راستے میں آئی اور ہٹ گئی۔ یہ بزنس اس کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اب اس کی کاروباری زندگی ایک نئے ڈگر پر چل پڑی۔ یہ جلد ہی لاکھوں مالیت کا مالک بن گیا۔ اگر شیلڈن کی 30 سالہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بے شمار اتار چڑھاؤ دکھائی دیتے ہیں۔ قدم قدم پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ شیلڈن نے اپنی کاروباری زندگی میں خود سے 50 بزنس کیے۔ اگر آپ بھی بزنس کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو رسک لینا پڑے گا۔ کاروباری سفر خطرات سے پُر ہوتا ہے۔اس میں کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو رسک لیتے ہیں۔ جتنا آپ گُڑ ڈالیں، اتنا میٹھا ہوگا۔
  22. موچی سے کمپنی مالک تک ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر ایک مزدور کے ایک فقرے سے شروع ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں۔ وہ مزدور اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی، لیکن تجربات سے مالامال تھا۔ وہ زندگی کے پُرپیچ راستوں سے خوب واقف تھا۔ یہ اسی بوڑھے مزدور کے تجربات سے بھرپور فقرہ تھا جس نے اسے عام موچی سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا دیا، جس کا آج بھی شہرہ ہے۔ ٹامس نے موچی کا کام شروع کیا۔ اس کے لیے ایک دکان کھول لی اور ساتھ مزدور بھی رکھ لیے۔ یہ چند مہینے دکان چلا پایا تھا، لیکن اسے ہر قدم پر ناکامی ہو رہی تھی۔ لوگ اس کے بنائے ہوئے جوتے نہیں خریدتے تھے اور ملازمین بھی اس سے خوش نہ تھے۔ ٹامس ہمت ہار کے گھر بیٹھ گیا۔ دکان پر جانا چھوڑ دیا اور پریشان سا رہنے لگا۔ انہی دنوں ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اس کے چہرے سے پریشانی بھانپ لی اور وجہ پوچھی تو ٹامس نے ساری صورت حال بتا دی۔ بوڑھے مزدور نے کہا: ’’بیٹا! ہمیشہ تم یہ خیال کیا کرو کہ میری پروڈکٹ مہنگی ہے اور مزدوروں کو ان کی محنت سے کم تنخواہ دے رہا ہوں، اس طرح آپ یہ کوشش کرتے رہیں گے کہ کس طرح میری پروڈکٹ سستی ہو اور میرے مزدوروں کو زیادہ تنخواہ ملے۔‘‘ یہ بات تیر کی طرح ٹامس کے دل کو لگی اور اس نے ہمیشہ کے لیے اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ ٹامس باٹا ’’باٹا شوز کمپنی‘‘ کا بانی ہے۔ اس نے کمپنی اپنے خاندان کے نام پر بنائی۔ اس کا خاندان ابتداء میں چیکوسلواکیا میں رہتا تھا۔ جفت سازی ان کا آبائی پیشہ ہے جو 1620ء سے ان کے ہاں چلا آ رہا ہے۔ ٹامس نے 24 اگست 1894ء میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ لگایا۔ یہی کارخانہ بڑھتے بڑھتے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی صورت اختیار کر گیا۔ جس کا کاروبار 114 ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ جفت سازی آبائی پیشہ ہونے کی وجہ سے ٹامس کے لیے آسان تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے اسی کو اپنایا۔ تقریباً 3 سو سال سے یہ کام ان کے خاندان میں چلا آ رہا تھا لیکن کسی نے اس میں ترقی کی طرف توجہ نہ دی اور اس کاروبار کو پھیلانے کی کوشش بھی نہ کی جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ باپ دادا سے ایک دکان چلی آ رہی ہے۔ اولاد میں وراثت کے طور پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ وہ دکان بڑی ہونے کے بجائے مزید ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے، لیکن کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کاروبار کو پھیلایا اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ ٹامس نے خاندانی روایت کو توڑنے کے لیے کارخانے کی بنیاد رکھی اور اپنے ساتھ 10ملازمین بھی رکھ لیے۔ ایک سال یہ کام چلا ہو گا کہ ٹامس قرض کے بوجھ تلے دبنے لگا اور مالی پریشانیوں نے اسے آگھیرا۔ اس دوران ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی، جس نے اس کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل کر دی۔ ٹامس نے چمڑے کے جوتے بنانے کے ساتھ موٹے کپڑے سے جوتے تیار کرنے لگا جو سستے پڑتے تھے اور لوگوں نے بھی انہیں بہت پسند کیا۔ ان جوتوں کی مقبولیت اور مانگ بڑھنے سے ملازمین کی تعداد 10 سے 50 ہو گئی۔ ٹامس نے اپنی پروڈکٹ کے سستے ہونے کی طرف توجہ دی۔ اس طرح ملازمین کی بھی اجرت کا خیال رکھا۔ٹامس نے باٹا پرائس بھی متعارف کروائی۔ ان کی پروڈکٹ کی قیمت 9 کے ہندسے پر ختم ہوتی ہے۔ کسی چیز کی قیمت 99 یا 19.99 روپے ہو گی، جو دیکھنے میں 100 اور 20 سے اچھی لگتی ہے حالانکہ ایک عدد کا فرق پڑتا ہے۔ چار سال میں باٹا شوز کمپنی کا کام اس حد تک بڑھ گیا کہ اب مشینوں کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اس کے علاوہ ڈیمانڈ پوری نہیں کی جا سکتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب آٹومیشن کا دور آگیا ہے۔ مشینوں اور ٹیکنالوجی سے آپ کم وقت اور قلیل خرچ سے زیادہ پروڈکٹ بنا سکتے اور منافع کما سکتے ہیں۔ ٹامس باٹا ہمیشہ ایک تاجر کی طرح سوچتا رہتا تھا کہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔ وہ کاروباری حضرات سے مشاورت بھی کرتا۔ 1904ء میں اس نے اپنی کمپنی میں مکینکل پروڈکٹ تکنیک متعارف کروائی۔ اس طرح جلد ہی باٹا شوز کمپنی یورپ کی پہلی بڑی جفت ساز کمپنی بن گئی۔ 1912ء میں اس کی کمپنی کے ملازمین 600 ہو چکے تھے جو اس کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔یہ ٹامس کے لیے قرعہ فال ثابت ہوئی۔ اس کے پاس جرمن فوج کے جوتے بنانے کے آرڈر آنے لگے۔ 1914ء سے لے کر 1918ء تک اسے پہلے سے دس گنا زیادہ ملازمین رکھنے پڑگئے۔ کاروباری دنیا میں کامیابی کے ساتھ پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کے بعد اس کا کاروبار بہت مندا ہو گیا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ 1925ء میں پھر سے بزنس عروج کی طرف بڑھنے لگا۔ ٹامس کی باٹا کمپنی زلین میں تھی۔ اب یہ ایک شہر کی صورت اختیار کر گیا ۔ کمپنی بھی کئی ایکڑ زمین پر پھیل چکی تھی۔ ٹامس باٹا 1932 ء میں 56 سال کی عمر میں جہاز کے ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔ وہ خود تو اس دنیا سے چلا گیا، لیکن آج بھی اس کے لگائے ہوئے درخت سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔
  23. کہتے ہیں محنت کبھی ضائع نہیں ہوتی ۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں ۔مگر محنت کے ساتھ ساتھ مستقل مزاجی کی بھی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ایسی ہی کچھ کمپنیوں اور انسانوں کی داستاں اس تھریڈ میں شیئر کی جائے گی۔جنہوں نے ہر قسم کی مشکلات کے باوجود محنت سے کامیابی کا سفر طے کیا۔
  24. اس نوجوان نے ایک مسافر کو ریلوے اسٹیشن پر دیکھا جو بنچ پر بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار صاف پڑھے جا سکتے تھے۔ کافی وقت گزر گیا تھا لیکن وہ ایک حالت پر بے حس وحرکت بیٹھا رہا جیسے اس میں جان نہ ہو۔ اس کی یہ حالت اس نوجوان سے برداشت نہ ہوئی۔ اس نے مسافر کے پاس جا کر پریشانی کی وجہ پوچھی۔ وہ اس کے چہرے کو سرخ اور سوجھی آنکھوں سے تکنے لگا۔ وہ اسے اپنی پریشانی اور تکلیف بتانے سے گریز کر رہا تھا لیکن اس کے بار بار اصرار پر وہ اپنی بپتا سنانے لگا۔ وہ اپنے شہر سے یہاں گھڑیاں (Watches) فروخت کرنے لایا تھا لیکن وہ بِک نہ پائیں اور اب اس کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ان کو بیچ کر جائے۔ اگر ان کو واپس گھر لے جاتا ہے تو اس کا نقصان ہو گا۔ اس لیے پریشان اور غمگین بیٹھا تھا۔ اس نوجوان نے لمحہ بھر کے لیے تاخیر نہ کی اور اس غمزدہ مسافر سے ہمدردی کے طور پر وہ گھڑیاں وغیرہ خرید لیں۔ یہ ’’ہمدردی‘‘ اس نوجوان کی زندگی بدلنے کے لیے کافی ہوگئی۔ یہ نوجوان رچرڈ ویرن سیئرز تھا، جو بعد میں ایک بہترین منیجر، بزنس مین اور سیئرز کمپنی کا بانی بنا۔ یہ امریکا کی چوتھی بڑی ڈیپارٹمنٹ اسٹور کمپنی ہے، جو ریٹیل سیلز کا کام کرتی ہے۔ 2013ء میں اس نے اپنے سب سے بڑیحریف کمپنی کو آمدنی کے میدان میں مات دی۔ 1973ء میں اس کمپنی نے ایک نیا ہیڈ کوارٹر میں کھولا۔ یہ ٹاور 108 اسٹوری پر مشتمل ہے، جس کی بلندی 1451 فٹ ہے۔ 1998ء تک یہ دنیا کی بلند ترین عمارت تھی۔ رچرڈ ویرین سیئرز 7 دسمبر 1863ء میں منسوٹا میں پیدا ہوا۔ اس کا والد جیمر ویرن ایک لوہار تھا، جو چھکڑے اور وینگنیں بناتا تھا۔ رچرڈ کو اپنے باپ کے کام سے لگاؤ نہ تھا۔ اس نے اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دی اور یہ پڑھائی کو ترجیح اور اہمیت دیتا تھا۔ اس کے باپ نے کئی بار کوشش بھی کی کہ وہ اس کا پیشہ سیکھے، تاکہ وہ اپنی روزی کمانے کے قابل ہو، لیکن اس کی ساری تگ ودو رچرڈ میں کوئی تبدیلی نہ لا سکی۔ 1870ء میں رچرڈ کا والد جیمز نے اپنی فیملی کے ساتھ اسپرنگ ویلی منسوٹا میں رہائش اختیار کرلی۔ بڑھتی مصروفیت اور بیٹے کی بزنس میں عدم دلچسپی نے 1975ء میں جیمز کو مجبور کیا اور اس نے اپنی دکان بیچ ڈالی۔ کچھ عرصہ تو ان پیسوں سے گھر کا چولھا جلتا رہا، لیکن وہ اس سے کب تک ٹھنڈا نہ ہوتا۔ گھر میں فاقے ہونے لگے۔ رچرڈ بھی پریشان اور فکرمند رہنے لگا کہ اس کی وجہ سے ابو نے دکان فروخت کردی ہے۔ اس نے گھر کا چولھا جلتے رکھنے کے لیے روزگار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اس عرصے میں یہ اپنی تعلیم مکمل کر چکا تھا۔ اس نے روزی کے لیے ہاتھ پاؤں مارے تو آخر کار اسے ایک ریلوے دفتر میں بطور ٹیلی گراف آپریٹر کے ملازمت مل گئی۔ یہ 1880ء کی بات ہے جب رچرڈ کی عمر صرف 17 تھی اور اس پر ذمے داری کا بار ڈال دیا گیا۔ جب آپ کے ناتواں کندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے تو آپ کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ آپ کی سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ لڑکپن کی شرارتیں اور بے فکری چھوٹ جاتی ہے۔ ایک دم انسان بڑوں کی طرح سمجھدار اور عقل مند نظر آنے لگتا ہے۔ چہرے پر سنجیدگی آجاتی ہے۔ گفتار اور کردار دونوں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سوچنے کا زاویہ مختلف ہو جاتا ہے۔ 1986ء میں ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ہمیشہ کے لیے رچرڈ کا راستہ بدل کے رکھ دیا۔ ایسا ہوا کہ ایک گھڑیوں کی شپمنٹ جو شکاگو سے آئی تھی۔ اسے ایک مقامی ریٹیلر ایڈوارڈ نے لینے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے وہ تا جر مسافر پریشان تھا۔ رچرڈ نے اس کی پریشانی دور کرنے کی ٹھان لی تھی۔ اتنی بڑی شپمنٹ خریدنا دل گردے کا کام تھا، کیونکہ رچرڈ کو اس کا ذرا برابر تجربہ نہ تھا۔ رچرڈ نے اس شپمنٹ کو خرید کر ایک دوسرے ریلوے ملازم کو بیچ دیا۔ اس سے معقول نفع حاصل ہوا۔ یہ کام رچرڈ کو بہت اچھا لگا۔ اس نے ریلوے ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنا بزنس شروع کر دیا۔ گھڑیوں کا کاروبار خوب چل نکلا۔ رچرڈ نے دوسرے ریلوے ملازمین کو بھی اپنے اس بزنس میں شامل کر لیا۔ ریلوے کا مزید جال بچھنے سے مسافر بھی بڑھتے گئے۔ اب انہیں سفر کرتے ہوئے وقت کے بارے میں مشکل ہوتی تھی۔ انہوں نے اس کے حل کے لیے گھڑیاں خریدنی شروع کر دیں۔ اس طرح دیہات سے آنے والے کسان بھی اسے شوق سے خریدتے۔ اس طرح ریلوے ملازمین کو راہ گیروں اور مسافروں کا گھڑیاں بیچنے میں کوئی مشکل پیش نہ آتی تھی۔ صرف چھ ماہ میں رچرڈ 5 ہزار ڈالر کمانے میں کامیا ب ہوا۔ اس سے اس کا اعتماد مزید بڑھا اور اس نے آر ڈبلیو سیئرز واچ کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس نے اپنے بزنس کی ایڈورٹائزنگ شروع کر دی۔ اس نے ایسے گاہکوں کو ہدف بنایا جو اس کی گھڑیاں خرید سکتے تھے۔ انہیں یہ خط لکھتا۔ اس کے ساتھ مختلف دیہاتوں میں جاکر لوگوں کو اس کے فوائد گنواتا اور انہیں گھڑیاں خریدنے کا کہتا۔ رچرڈ ایک اچھا لکھنے والا اور بولنے والا تھا۔ یہ خود اشتہار کے لیے الفاظ کا چناؤ کرتا۔ بھرے مجمع میں تقریریں کرتا اور انہیں ڈاک کے ذریعے گھڑیاں منگوانے کا کہتا۔ 1887ء میں رچرڈ نے شکاگو کا رخ کیا اور یہیں اپنی کمپنی لے آیا۔ یہاں آکر اس نے ایک شخص ملازم رکھا جو گھڑیوں وغیرہ کی رپیئرنگ کرتا تھا۔ رچرڈ کا کہنا ہے کہ جب آپ اپنی پروڈکٹ بیچتے ہیں تو کسٹمر کو پروڈکٹ میں کسی خرابی یا مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس کے حل کا انتظام ہونا چاہیے۔ میں نے اس لیے ملازم رکھا کہ میرے گاہک کو جب میری پروڈکٹ میں کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو وہ مجھ سے رابطہ کرتا ہے۔ میں اس کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر تا ہوں۔ اس طرح وہ کسٹمر میرا گرویدہ ہو جاتا ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.