Everything posted by Administrator
-
مشہور ہیکرز کے بارے میں جانیں
ہیکنگ پر بنی ایک فلم دیکھتے دیکھتے خیال آیا کیوں کہ دنیا کے بہترین ہیکرز کے بارے تھوڑی ریسرچ کی جائے دنیا کے پانچ بہترین ہیکرز کے بارے انفارمیشن پڑھیں۔ جوناتھن جیمز جوناتھن جیمز کو انٹرنیٹ کی دنیا میں "کامریڈ" کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔بہت چھوٹی عمر میں ہی جوناتھن کے امریکہ کے سرکاری اداروں کے سیکورٹی سسٹم کو ہیک کر کے تہلکہ مچا دیا تھا۔۔کیا آپ جانتے ہیں امریکہ جیسی سپر پاور کے سیکورٹی سسٹمز کو ہیک کرتے وقت جوناتھن کی عمر کتنی تھی؟ محض "پندرہ سال۔" جی ہاں پندرہ سال کی عمر میں جوناتھن نے میامی ڈیڈ، ساوتھ بیلز امریکی وزارت دفاع اور حتی کہ ناسا کے سسٹم کو ہیک کر لیا تھا۔جوناتھن نے ناسا کے سسٹم کی سیکیورٹی توڑ کر وہاں سے سارے کوڈز ڈاون لوڈ کر لیے تھے جن سے علم ہو سکے کہ اسپیس اسٹیشن کیسے کام کرتے ہیں۔۔ان سارے کوڈز اور سیکرٹ کی قیمت اس وقت سولہ لاکھ امریکہ ڈالرز لگائی گئی تھی۔صرف جوناتھن کی وجہ سے ناسا کو اپنے سارے پراجیکٹس اور اپنے سارے دفتری کام پندرہ دن کے لیے روکنے پڑ گئے تھے۔اور یہ سارا نقصان اس دور میں ناسا کو اکتالیس ہزار ڈالرز کی صورت سہنا پڑا۔ دو ہزار سات میں امریکہ بڑی بڑی کمپنیوں پر ہیکرز کے حملوں سے ہوئے سب کا الزام بھی جوناتھن جیمز پر لگا۔۔گو کہ جوناتھن نے ان کمپینز پر حملوں سے انکار کیا۔۔۔ اس بہترین اور شاطر ترین دماغ والے انسان کا انجام بہت افسوس ناک تھا۔۔دو ہزار آٹھ میں جوناتھن جیمز نے جیل میں خود کشی کر لی وجہ صرف یہی تھی جوناتھن پر وہ الزام بھی لگائے جا رہے تھے جو جرائم اس نے کیے ہی نہیں وہ ان ناکردہ جرائم کا الزام نہ سہہ سکا اور موت کو گلے لگا لیا۔ کیون مٹنک ایک دور میں امریکہ کے انصاف کے محکمے (ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس ) نے کیون کو امریکہ کی تاریخ کا سب سے موسٹ وانٹڈ ہیکر کا خطاب دیا تھا۔کیون کے ہیکنگ کارناموں پر ایک ہالی وڈ فلم بھی بنائی جا چکی ہے۔ ڈیجیٹل آلات بنانے والی ایک کمپنی کے سسٹم کو ہیک کرنے کے جرم میں کیون کو تین سال کی جیل ہوئی اور پھر تین سال بعد اس شرط پر رہا کیا گیا کہ اگلے تین سال حکومت اس پر مسلسل نظر رکھے گی۔۔جب اس پر نظر بند کی پابندی ختم ہو کو تھی اور محض پانچ ماہ باقی تھے ٹھیک اس وقت کیون نے امریکہ کے نیشنل ڈیفینس سسٹم کو ہیک کیا اور تمام کاروباری کمپنیوں کے ریکارڈز حاصل کر لیے۔ کیون پھر پکڑا گیا اور پانچ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔۔پانچ سال بعد کیون نے رہا ہو کر کمپیوٹر سیکیورٹی کنسلٹنٹ کمپنی بنا لی ہے۔۔اس کے علاوہ وہ اب بڑی بڑی کمپنیوں کو اپنی سائبر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے لیکچر بھی دیتے ہیں۔ البرٹ گونزالز البرٹ کو دنیا بھر کی توجہ اس وقت ملی جب دنیا کو پتا چلا کہ البرٹ گونزالز نامی ایک شخص نے دو سال کے عرصے میں سترہ کروڑ کریڈٹ کارڈ اور اے ٹی ایم کارڈز کے پن نمبر چرائے ہیں۔یعنی آپ کہہ سکتے ہیں امریکہ کی آدھی آبادی کے اے ٹی ایم کارڈز اور کریڈٹ کارڈز کے پن نمبر اور ان کی معلومات البرٹ چرا چکا تھا وہ بھی محض دو سال کے عرصے میں۔البرٹ نے ہیکرز کا ایک گروپ بھی بنایا ہوا تھا جس کا نام "شیڈو کریو " تھا۔یہ لوگ کریڈٹ کارڈ کے نمبر اور ساری معلومات چرا کر آن لائن ان معلومات کو بیچتے تھے۔اس کے علاوہ یہ لوگ جعلی پاسپورٹس، ہیلتھ انشورنس کارڈ، برتھ سرٹیفیکٹس بنانے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔۔ان کے بنائے ان جعلی ڈاکومینٹس سے ہونے والے نقصان کا اندزاہ چار ملین ڈالرز سے اوپر کا لگایا گیا ہے۔ ٹی جے ایکس کمپینز کے سسٹم سے کریڈٹ کارڈ کی انفارمیش چراتے ہوئے البرٹ کو شناخت کر لیا گیا اور اب البرٹ جیل میں بیس سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ کیون پولسین کیون پولیسن کو پندرہ منٹ کی شہرت نے آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔۔۔یہ شخص ٹیلی فون سسٹم کو ہیک کرنے میں مہارت رکھتا تھا۔کیون پولسین کو شہرت اس وقت ملی جب اس نے ایک ریڈیو اسٹیشن کی ٹیلی فون لائنز ہیک کر کے پورش گاڑی کے لیے ہوئے مقابلوں کے لیے اپنے آپ کو ونر کالر (فاتح کالر) فکس کر دیا اور بالکل نئی پورش گاڑی حاصل کر لی۔اس کے علاوہ ایف بی آئی کے سسٹم ہیک کر کے ان کی ساری انفارمیشن ڈاون لوڈ کر لی خاص کر وہ انفارمیشن جو ایف بی آئی نے لوگوں کے فون ٹیپ کر کے حاصل کر رکھی تھی۔کیون کو ایک سپر مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا۔اسے اکیاون مہینوں کی جیل کے ساتھ ساتھ چھپن ہزار امریکی ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد کیون نے اپنا پیشہ بدل لیا اور ایک صحافی کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا اب وہ ایک نیوز ایڈیٹر بن چکا ہے۔ امریکی ادارے آج بھی مختلف جرائم کے کیس حل کرنے میں کیون کی مدد لیتی ہے۔ گیری میکانن گیری نے اپنے انٹرنیٹ نام "سولو" سے شہرت حاصل کی۔۔وہ امریکی کی ملکی تاریخ کا سب سے مہلک ہیکر تھا جس نے امریکی ملٹری کے سائبر سسٹم کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔فروری دو ہزار سے مارچ دو ہزار دو تک گیری مکانن نے ملٹری اور ناسا کے ستانوے کمپیوٹرز ہیک کیے۔گیری نے بعد ازاں حکومت کو بتایا کہ ان کمپیوٹرز سے وہ تو انرجی سپرپیشن سے متعلق معلومات تلاش کر رہا تھا لیکن امریکی تحقیقاتی اداروں کے مطابق گیری نے ان ستانوے کمپیوٹرز سے سات لاکھ کے قریب فائلز کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔گیری نے لمبے عرصے تک امریکی تحقیقاتی اداروں کو گھمائے رکھا ان کے ہاتھ نہیں آیا۔ آج کل گیری اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد مختلف جرائم کے خلاف امریکی تحقیقاتی اداروں کو اپنی کمپیوٹر سیکیورٹی کی خدمات مہیا کرتا ہے۔ ضرور بتائیے گا کہ آپ کو ان پانچوں میں سے کس کی کارنامے سب سے زیادہ حیران کن اور متاثر کن لگے۔
-
آدھی روٹی کا قرض
بیوی بار بار ماں پر الزام لگائے جا رہی تھی اورشوہر بار بار اسکو اپنی حد میںرہنے کی کہہ رہا تھا۔لیکن بیوی چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔بار بار زور زور سے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی۔کہ"اس نے انگوٹھی ٹیبل پر ہی رکھی تھی۔اور تمهارےاور میرے علاوہ اس کمرے میں کوئینہیں آیا۔انگوٹھی ہو نا ہو ماں جی نے ہی اٹھائی ہے۔بات جب شوہر کی برداشت سے باہر ہوگئی۔ تواس نے بیوی کے گال پر ایک زور دار طمانچہ دےمارا ابتین ماہ پہلے ہی تو شادی ہوئیتھی۔بیوی سے طمانچہ برداشت نہیں ہوا وہ گھر چھوڑ کر جانے لگی۔اور جاتے جاتے شوہر سے ایک سوال پوچھا۔کہ تمھیں اپنی ماں پر اتنا یقین کیوں ہے .. ؟؟۔۔تب شوہر نے جو جوابدیا۔اس جواب کو سن کردروازے کے پیچھے کھڑی ماں نے سنا۔تو اس کا دل بھر آیا۔شوہرنے بیوی کو بتایا کہ"جب وہ چھوٹا تھا تب اس کے والد گزر گئے۔ماں محلے کے گھروںمیںجھاڑو پوچھا لگا کر جو کما پاتی تھی۔اس سے ایک وقت کا کھانا آتا تھا۔ماں ایک پلیٹمیں مجھے روٹی دیتی تھیاورخالی ٹوکری ڈھک كر رکھ دیتی تھیاورکہتی تھی۔میری روٹیاں اسٹوکری میں ہے بیٹا تو کھا لے۔میں نے بھی ہمیشہ آدھی روٹی کھا کر کہہ دیتا تھا۔کہ ماں میراپیٹ بھر گیا ہے۔مجھے اور نہیں کھانا ہے۔ماں نے مجھے میری جھوٹی آدھی روٹی کھا کر مجھےپالا پوسا اور بڑا کیا ہے۔آج میں نے دو روٹی کمانے کے قابل ہوا ہوں۔لیکن یہ کیسے بھولسکتا ہوں کہ ماں نے عمر کے اس حصے پر اپنی خواہشات کو مارا ہے۔وہ ماں آج عمر کے اسحصے پر کیسے انگوٹھی کی بھوکی ہو گی ۔یہ میں سوچ بھی نہیں سکتا۔آپ تو تین ماہ سے میرےساتھ ہو۔میں نے تو ماں کی تپسیا کو گزشتہ پچیس سالوں سے دیکھا ہے ۔یہ سن کر ماں کیآنکھوں سے آنسو چھلک اٹھے۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ بیٹا اس کی آدھی روٹی کا قرض چکا رہا ہے یا وہ بیٹے کی آدھی روٹی کا قرض۔۔۔۔ نوٹ!یہ تحریر انٹر نیٹ سے لی گئی ہے
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
خوبصورت کاغذی آرٹ امیزنگ
- مختصر ترین حقائق اور قصے
۔14 نومبر 1914، آج کے دن قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) میں ترکی کے شیخ الاسلام نے حکومت کی جانب سے پہلی جنگِ عظیم میں برطانیہ، روس، سربیا اور مونٹینیگرو کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔- مشہور محاورات اور ان کے سچے مطلب
خود کی جان خطرے میں ڈالنا شادی کرنا آ بیل مجھے مار بیوی سے پنگا لینا دیوار سے سر ٹکرانا بیوی کو کچھ سمجھانا چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات بیوی کا مائیکے سے واپس آنا خود کشی پر ابھارنا شادی کی رائے دینا دشمنی نبھانا دوستوں کی شادی کروانا خود کو اسمارٹ سمجھنا شادی نہ کرنا گناہوں کی سزا ملنا شادی شدہ ہوجانا لو میریج کرنا خود سے لڑنے کے لیے کوئی لڑاکا ڈھونڈنا زندگی کے مزے لینا کنوارے رہنا اوکھلی میں سر دینا شادی کے لیے ہاں کہنا دو پاٹوں میں پسنا دوسری شادی کرنا خود کو لٹتے ہوئے دیکھنا بیوی کی فرمائشیں پوری کرنا غلطی پر پچھتاوا کرنا شادی کی تصویریں دیکھنا اپنے پیر پر کلھاڑی مارنا بیوی کو گھمانے لے جانا خود سے جیل جانا شادی کے لیے ہاں کرنا بنا جرم کے سزا پانا شادی کرنا بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ دوسروں کے دکھ دیکھ کر خوش ہونا سالی آدھی گھر والی وہ اسکیم جو دولہے کو بتائی تو جاتی ہے لیکن دی نہیں جاتی....!۔- Zindagi ka Safar زندگی کا سفر
- اف یہ بیویاں
ادھ پکی کھچڑی ہے نوش فرمائیں گے کیا توبہ خالی پیٹ ہی دفتر چلے جائیں گے کیاچائے میں لہسن کی بو آگئی ہے تو کیا ہوااللہ اللہ آپ ماں بہن پر اتر آئیں گے کیادودھ میں مکھی تھی چوہا تو نہیں تھا حضورہاتھ دھو کر پیچھے ہی پڑ جائیں گے کیاجل گئی ہیں ساری روٹیاں تو کیا ہواآپ ایک نوالہ تک منہ میں نہ لے جائیں گے کیانیم کے پتوں کی چٹنی توس پر کیا مل کے دوںیہ بھی اگر کھاتے نہیں تو اور پھر کھائیں گے کیاگھر میں آٹے کی سویاں تھی وہ بھی بکری کھاگئیبُھٹے کی داڑھی سویاں جان کے کھائیں گے کیاپیاز کا حلوہ بنادوں ذرا رک جائیےبھوکے رہ کر میری ناک کٹوائیں گے کیابدمزاجی حد سے گذری بندہ پرور کب تکہم کہیں گے کھائیے اور آپ کہیں کھائیں گے کیا- S M Here!
میسج کا آپشن انیبل ہے۔اسے یوز کریں۔ http://urdufunclub.win/messenger/ http://urdufunclub.win/messenger/compose/- S M Here!
انفارمشن کے لیئے پرائیویٹ میسج کا استعمال کریں۔- پابندی وقت کا مختلف ممالک میں کیا مطلب ہے؟
ویسے تو وقت کی پابندی کو اچھی عادت سمجھا جاتا ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اس کی کیا اہمیت ہے؟ درحقیقت ہر ملک اس حوالے سے مختلف سوچ رکھتا ہے جیسے جاپان میں ایک منٹ پہلے پہنچ جانا بھی تاخیر کہلاتا ہے جبکہ مراکش میں ایک گھنٹے سے 24 گھنٹے تاخیر بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ جرمنی، پاکستان یا سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں جگہ پابندی وقت کے حوالے سے کیا خیال کیا جاتا ہے، یہ جاننا آپ کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ جنوبی کوریا جنوبی کوریا میں پابندی وقت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور تاخیر کو 'عدم احترام' کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ملائیشیا اس ملک میں اگر آپ پانچ منٹ تاخیر سے پہنچنے کا کہیں تو عام طور پر اس کا مطلب ایک گھنٹہ لیا جاتا ہے جبکہ یہاں دیر سے پہنچنے کی عادت کو خاص نہیں سمجھا جاتا اور اس پر معذرت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ چین اگر آپ مقررہ وقت کی بجائے 10 منٹ تاخیر سے بھی پہنچیں تو چین میں اسے بروقت پہنچنا ہی سمجھا جاتا ہے۔ جاپان جاپان میں تو مقررہ وقت سے ایک منٹ پہنچنے کو بھی تاخیر سمجھ کر بہت برا منایا جاتا ہے۔ میکسیکو اس ملک میں لوگوں کا تیس منٹ سے ایک گھنٹے تاخیر کو معمول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جرمنی جرمنی ایسا ملک ہے جہاں مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے پہنچنے کی توقع کی جاتی ہے یا جلد پہنچنا ہی پابندی وقت کہلاتا ہے۔ نائیجریا اس افریقی ملک میں اگر کسی ملاقات کا وقت دوپہر ایک بجے رکھا گیا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ ایک سے دو بجے کے درمیان کسی وقت ہوگی۔ سعودی عرب سعودی عرب میں وقت کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور یہاں ملاقاتوں کے دوران لوگ اکثر ایک گھنٹے تک تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، اسی طرح تقریبات میں گھڑی کو دیکھنا بھی بداخلاقی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان پابندی وقت کو پاکستان میں کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے، لوگ اس عادت کو سراہتے تو ہیں مگر اس پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ مراکش مراکشی ٹائم کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ کسی ملاقات میں ایک گھنٹے سے لے کر 24 گھنٹے کی تاخیر ہوسکتی ہے۔ یونان یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں پابندی وقت کو اہم نہیں سمجھا جاتا مگر غیرملکیوں سے توقع ضرور کی جاتی ہے کہ وہ طے شدہ ملاقات میں وقت پر پہنچیں گے۔ روس روس میں تحمل کو بہت اہم خوبی سمجھا جاتا ہے مگر پابندی وقت کو نہیں، تاہم غیر ملکی افراد سے بروقت پہنچنے کی توقع کی جاتی ہے جبکہ روسی عوام تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کرنا اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۔- S M Here!
http://urdufunclub.win/chat/- جنگ کیا ہوتی ہے؟
پورے ملک میں توپوں کی دھنا دھن‘ جنگی طیاروں کی چنگھاڑ اور ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ تھی‘ سڑکوں پر دور دور تک لاشیں پڑی تھیں‘ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی تھیں‘ سڑکیں ختم ہو چکی تھیں‘ بجلی اور پانی بند تھا‘پبلک ٹرانسپورٹ دم توڑ چکی تھی‘ خوراک سپلائی ٹوٹ چکی تھی اور ہر گلی‘ ہر محلے سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور زخمیوں کی دہائیوں کے سوا کوئی آواز نہیں آتی تھی‘ پندرہ لاکھ زخمیوں کا علاج ممکن نہیں تھا چنانچہ ملک میں محب وطن شہریوں کے دو اسکواڈ بن گئے‘ ایک اسکواڈ شہر میں نکلتا تھا‘ اسے جہاں کوئی معمولی زخمی ملتا تھا‘ وہ زخم پر مرہم پٹی کے بجائے زخمی کی آنکھیں بند کرتا تھا اور اس کا پورا عضو کاٹ کر پھینک دیتا تھا‘ دوسرا اسکواڈ سنگین زخمی تلاش کرتا تھا اور انھیں گولی مار کر زندگی کے عذاب سے رہائی دے دیتا تھا‘ یہ پولینڈ کی صورتحال تھی‘ جرمن فوج نے یکم ستمبر 1939ء کو پولینڈ پر حملہ کیا‘ یہ دوسری جنگ عظیم کا آغاز تھا‘ یہ حملہ ستمبر کمپیئن کہلاتا ہے۔ یہ کمپیئن ایک مہینہ چھ دن چلی‘ پولش فوج کی تعداد ساڑھے نو لاکھ تھی‘ جرمنی‘ سلواکیہ اور سوویت یونین کی بیس لاکھ فوج نے پولینڈ پر حملہ کر دیا‘ جارح فوج کو 4959توپوں‘ 4736 ٹینکوں اور 3300 جنگی طیاروں کی سپورٹ حاصل تھی‘ یہ آئے اور پولینڈ میں مہینے میں ایک لاکھ 99 ہزار 700 لاشیں بچھا دیں اور یوں آرٹ‘ کلچر اور موسیقی کا مرکز پولینڈ ایک مہینے میں راکھ کا ڈھیر بن گیا‘ ملک میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک لاشیں ہی لاشیں تھیں اور انھیں اٹھانے والا کوئی نہیں تھا‘ میں چھ بار پولینڈ گیا‘ میں جس شہر میں بھی گیا مجھے وہ وار میوزیم لگا‘ اس کی دیواروں پر 75 سال بعد بھی جنگ کے زخم تھے‘ آپ کو آج بھی وارسا اور کراکوف شہر کی گلیوں‘ بازاروں اور محلوں سے خون کی بو آتی ہے۔ جنگ کیا ہوتی ہے آپ پولینڈ کے لوگوں سے پوچھیں‘ یہ آپ کو بتائیں گے جنگیں ہوتی کیا ہیں اور انسان کو ان سے کیوں نفرت کرنی چاہیے‘ آپ پولینڈ نہیں جا سکتے تو آپ یورپ کے کسی شخص‘ کسی خاندان سے پوچھ لیں ’’جنگ کیا ہے؟‘‘ آپ اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھیں گے‘یورپ نے یکم ستمبر 1939ء سے دو ستمبر 1945ء تک مسلسل چھ سال جنگ بھگتی‘ ان چھ برسوں میں یورپ‘ امریکا اور جاپان کے 6 کروڑ لوگ ہلاک ہو گئے‘ امریکا نے آخر میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر دو ایٹم بم گرائے‘ ہیرو شیما میں دو منٹ میں ایک لاکھ 40 ہزار لوگ جب کہ ناگاساکی میں 75 ہزار لوگ ہلاک ہوئے اور جو زندہ بچے وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے‘ جنگ عظیم دوم میں یورپ کا کوئی شہر سلامت نہیں رہا تھا‘ بجلی‘ پانی‘ سڑکیں‘ ریل کا نظام‘ اسکول‘ کالج اور خوراک ہر چیز مفقود ہو گئی تھی۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی یورپ میں عالمی جنگوں سے قبل سور نہیں کھایا جاتا تھا‘ لوگ پورک سے نفرت کرتے تھے لیکن جب جنگوں کے دوران خوراک کی قلت ہو گئی تو لوگوں نے سور کھانے شروع کر دیے اور وہ دن ہے اور آج کا دن ہے پورک اب پورے یورپ کی خوراک بن چکا ہے‘ جنگ کے بعد یورپ سے مرد ختم ہو گئے تھے چنانچہ یورپ شادی کا سسٹم ختم کرنے پر مجبور ہوگیا‘ عورت صرف عورت اور مرد صرف مرد بن کر رہ گیا‘ آپ جنگوں کے دوران یہودیوں کی داستانیں پڑھیں‘ آپ اندر سے دکھی ہو جائیں گے‘ سیکڑوں ہزاروں یہودی خاندان دو دو برس گٹڑوں میں رہے‘ ان کی ایک پوری نسل گٹڑوں میں پیدا ہوئی اور اس نے سیوریج کا پانی پی کر کھڑا ہونا سیکھا‘ آپ یورپ کی پہلی جنگ عظیم بھی دیکھئے‘ یہ جنگ 28 جولائی 1914ء سے 11 نومبر 1918ء تک چار سال تین ماہ چلی‘ یورپ نے ان سوا چار برسوں میں ساڑھے چار کروڑ لوگوں کی قربانی دی۔ یہ جنگ آسٹریلیا اور نیوزی کی ہر ماں کی گود اجاڑ گئی‘ ترکی کا جزیرہ گیلی پولی قبرستان بن گیا‘ آپ آج بھی جزیرے کے کسی کونے سے مٹی کی مٹھی بھریں‘ آپ کو اس میں انسان کے جسم کی باقیات ملیں گی‘ آپ ان باقیات سے پوچھیں‘ جنگ کیا ہوتی ہے؟ یہ آپ کو جنگ کا مطلب سمجھائیں گی اور آپ کو پھر بھی پتہ نہ چلے تو آپ ویتنام‘ افغانستان اور افریقہ کے جنگ زدہ ملکوں سے پوچھ لیں‘ ویتنام کے لوگوں نے ساڑھے 19 سال جنگ بھگتی‘ افغانستان پچھلے 35 برسوں سے لاشیں اٹھا رہا ہے جب کہ افریقہ کے ملکوں نائیجیریا‘ لائبیریا‘ سیرالیون‘ایتھوپیا‘ صومالیہ‘ یوگنڈا ‘ گنی اورسوڈان میں جنگ نے قحط کو جنم دیا اور یہ قحط اب افریقہ کے ہر شخص کی آنکھوں میں لکھا ہے‘ آپ ان آنکھوں سے پوچھ لیں جنگ کیا ہوتی ہے؟ یہ آپ کو بتائیں گی انسان جب اپنے والد‘ اپنے بچے اور اپنی بیوی کا گوشت ابال کر کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے یا یہ جب اپنے لخت جگر کو زخموں سے رہائی دلانے کے لیے گولی مارتا ہے تو اس کا دل‘ اس کی روح کہاں کہاں سے زخمی ہوتی ہے‘ یہ باقی زندگی کیسے زندہ رہتا ہے؟ یہ لوگ آپ کو بتائیں گے! ہم برصغیر پاک و ہند کے لوگوں نے بدقسمتی سے اصلی اور مکمل جنگ نہیں دیکھی‘ ہندوستان کی تمام جنگیں محدود تھیں‘ ہم پنجابی سینٹرل ایشیا کے ہر حملہ آور کا اٹک کے پل پر استقبال کرتے تھے‘ اسے ہار پہناتے‘ سپاہیوں کو خوراک اور گھوڑوں کو چارا دیتے تھے اور سیدھا پانی پت چھوڑ کر آتے تھے‘ یہ ہماری تاریخ تھی‘ تاریخ نے ایک بار پلٹا کھایا اور انگریز پانی پت سے لاہور آ گیا‘ ہم نے اسے بھی ہار پہنائے اور سیدھا جلال آباد جھوڑ کر آئے‘ انگریز باقی زندگی افغانوں سے لڑتے رہے اور ہم ان کے سہولت کار بنے رہے‘ ہم 1857ء کی جنگ آزادی کو ہندوستان کی عظیم جنگ کہتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے‘ یہ جنگ دہلی سے 75 کلو میٹر کے فاصلے پر میرٹھ میں شر وع ہوئی اور دہلی پہنچ کر ختم ہو گئی۔ یہ پوری جنگ دہلی کے مضافات میں لڑی گئی تھی اور پنجاب‘ سندھ‘ ممبئی‘ کولکتہ اور ڈھاکا کے لوگوں کو جنگ کی خبر اس وقت ہوئی جب ملبہ تک سمیٹا جا چکا تھا اور بہادر شاہ ظفر رنگون میں ’’ کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں‘‘ لکھ رہا تھا‘ ہم اگر 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کا تجزیہ بھی کریں تو یہ جنگیں ہمیں جنگیں کم اور جھڑپیں زیادہ محسوس ہوں گی‘ 1965ء کی جنگ چھ ستمبر کو شروع ہوئی اور 23 ستمبر کو ختم ہو گئی‘ پاکستان اور بھارت 17 دن کی اس جنگ کو جنگ کہتے ہیں‘ یہ دونوں ملک ہر سال اس جنگ کی سالگرہ مناتے ہیں‘ 65ء کی جنگ میں چار ہزار پاکستانی شہید اور تین ہزار بھارتی ہلاک ہوئے تھے‘ یہ جنگ بھی صرف کشمیر‘ پنجاب اور راجستھان کے بارڈر تک محدود رہی تھی‘ ہندوستان اور پاکستان کے دور دراز علاقوں کے عوام کو صرف ریڈیو پر جنگ کی اطلاع ملی جب کہ 1971ء کی جنگ تین دسمبر کو شروع ہوئی اور 16 دسمبر کو ختم ہو گئی۔ اس جنگ میں میں 9 ہزار پاکستانی شہید ہوئے اور 26 ہزار بھارتی اور بنگالی ہلاک ہوئے‘ آپ کسی دن ٹھنڈے دل کے ساتھ 13 اور 17 دنوں کی ان جنگوں کو یورپ کی چار اور چھ سال لمبی جنگوں اور ان تین ہزار‘ چار ہزار‘ 9 ہزار اور 26 ہزار لاشوں کو یورپ کی ساڑھے چار کروڑ اور چھ کروڑ لاشوں کے سامنے رکھ کر دیکھیں‘ آپ لاہور اور ڈھاکا پر حملے کو دیکھیں‘ آپ 1965ء کے پٹھان کوٹ اور چونڈا کے حملوں کو دیکھیں اور پھر ہیرو شیما‘ ناگا ساکی‘ پرل ہاربر‘ نارمنڈی‘ ایمسٹرڈیم‘ برسلز‘ پیرس‘ لندن‘ وارسا‘ برلن اور ماسکو پر حملے دیکھیں اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں ’’جنگ کیا ہوتی ہے؟‘‘ آپ کے جسم کا ایک ایک خلیہ آپ کو جنگ کی ماہیت بتائے گا‘ ہم دونوں ملک جنگ سے ناواقف ہیں‘ ہم جانتے ہی نہیں ’’جنگ کیا ہوتی ہے؟‘‘ چنانچہ ہم ہر سال چھ ماہ بعد ایٹم بم نکال کر دھوپ میں بیٹھ جاتے ہیں‘ بھارت ممبئی کے حملوں‘ پارلیمنٹ پر دہشت گردی‘ پٹھان کوٹ اور اڑی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد جنگ کی دھمکی دیتا ہے اور پاکستان معمولی واقعات پر ’’ہم نے یہ ایٹم بم شب برات پر چلانے کے لیے نہیں بنائے‘‘ کا اعلان کر دیتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ دونوں نہیں جانتے جنگ کیا ہوتی ہے‘ ایٹم بم کیا ہے اور یہ جب پھٹتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟۔ میں بعض اوقات سوچتا ہوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑی جنگ ہو جانی چاہیے‘ یہ دونوں ملک جی بھر کر اپنے جنگی ارمان پورے کر لیں‘ یہ اپنے سارے ایٹم بم چلا لیں تا کہ یہ ایک بار برصغیر کے 110 شہروں کو موہن جو داڑو بنا دیکھ لیں‘ یہ خیر پور سے گوا تک پانچ دس کروڑ لاشیں بھی دیکھ لیں‘ یہ عوام کو دوا اور خوراک کے بغیر بلکتا بھی دیکھ لیں‘ یہ زندگی کو ایک بار بجلی‘ ٹیلی فون‘ پانی‘ سڑک‘ اسپتال اور اسکول کے بغیر بھی دیکھ لیں اور یہ پچاس سال تک معذور بچے پیدا ہوتے بھی دیکھیں‘ یہ تب جنگ کو سمجھیں گے‘یہ اس کے بعد جاپان اور یورپ کے لوگوں کی طرح جنگ کا نام نہیں لیں گے‘ یہ اس وقت یورپ کی طرح اپنی سرحدیں کھولیں گے اور بھائی بھائی بن کر زندگی گزاریں گے اور یہ اس وقت اڑی اور کوئٹہ کو امن کے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیں گے‘ راوی اس وقت چین ہی چین لکھے گا‘ اس سے پہلے ان بے چین لوگوں کو چین نہیں آئے گا‘ یہ ہیرو شیما اور وارسا بننے تک جنگ جنگ کرتے رہیں گے۔- S M Here!
Welcome dear- عورت اور اس کے روپ
عورت اپنے فہم میں بالکل سادہ اور مزاج میں رنگین ہے، آپ اسے رنگ مہیا کرتے رہیں جسے وہ اپنی زندگی میں بھرتی رہے آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئیگی، مسئلہ صرف اس وقت پیش آتاہے جب آپ اسکی رنگینی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ جہاں سے میں نے دیکھا ہے، عورت اپنی مختلف حیثیتوں میں کچھ اسطرح دکھتی ہے۔ عورت سے معشوقہ کی حیثیت سے واسطہ پڑے تو بہت سی گفتگو اور بہت سی آؤٹنگ اسکی کل ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ عورت سے بیوی کی حیثیت سے واسطہ پڑے تو محض کھانے کی تعریف پر قابو آجاتی ہے مگر اسکے فوراََ بعد کوئی ایک مطالبہ ضرور کرتی ہے، اسکے لئے تیار رہیں۔ عورت سے بہو کی حیثیت سے واسطہ پڑے تو وہ گھر کا کنٹرول چاہتی ہے تاکہ گلدانوں سے لیکر برتنوں تک اور کچن سے لے کر ڈرائینگ روم تک ہر چیز اپنی مرضی سے سیٹ کرسکے، رنگ بھرنا، سیٹنگز بدلنا اسکا سب سے بڑا شوق ہے، اگر آپ اسے گھر کا کنٹرول دیدیں تو ٹھیک ورنہ وہ آپکے بیٹے کا کنٹرول حاصل کرکے صوبائی خود مختاری کا علم بلند کر دیتی ہے، سو اسے اپنے گھر کی سیٹنگز بدل لینے دیں ورنہ وہ آپکے لاڈلے کی سیٹنگز بدل کر رکھدیگی۔ عورت بطور بیٹی آپ کا لاڈ اور تھوڑا سا اضافی جیب خرچ چاہتی ہے، بدلے میں وہ عین اس وقت آپکے سرھانے کھڑی ملتی ہے جب آپ کے لاڈلے آپ کے قریب بھی نہیں آتے، آپکا سردرد تک اسکا چین و سکون چھین لیتا ہے ۔ عورت سے ماں کی حیثیت سے واسطہ سب سے انمول واسطہ ہے، وہ کتنی ہی ناراض کیوں نہ ہو، اسکے بیٹھنے کا انتظار کریں، جب وہ بیٹھ جائے تو جاکر اسکے قدموں میں بیٹھ جائیں اور اپنا سر اسکے گھٹنوں پر رکھدیں، زبان سے ایک لفظ نہ بولیں، تیس سے چالیس سیکنڈز کے میں اسکا ہاتھ آپکے سر پر آجائیگا، سر پر ہاتھ رکھنے کے بعد وہ آپکی کچھ تازہ اور کچھ خاصی پرانی فائلیں کھول دیگی، تب وہ جو بھی کہے آپ کا جواب ایک ہی ہونا چاہئے "جی امی ! آپ درست کہہ رہی ہیں، میری ان برائیوں کا تقاضا یہ ہے کہ میرے لئے دعاؤں میں اضافہ کردیں تاکہ میں ویسا ہو سکوں جیسا آپ کو مطلوب ہوں" یاد رکھئے ماں جب کھڑی ہو تو اسے راضی کرنے کی کوشش مت کیجئے، وہ کھڑی حالت میں مشکل سے راضی ہوتی ہے، الٹا آپکو ایک کمرے سے دوسرے کمرے کا طواف کراتی رہتی ہے، جب وہ بیٹھ جائے تو پھر ٹائم ضائع مت کیجئے، ایک منٹ میں قصہ ختم ہوجاتا ہے۔- رازدار گواہ
وکیل استغاثہ نے گواہ پر جرح شروع کی۔ گواہ قصبے کی سب سے قدیمی مائی تھی۔وکیل بھرپور اعتماد سے مائی کی طرف بڑھا اور اس سے پوچھا: مائی بشیراں، کیا تم مجھے جانتی ہو؟مائی بشیراں: ہاں قدوس۔ میں تمہیں اس وقت سے اچھِی طرح جانتی ہوں جب تم ایک بچے تھے۔ اور سچ پوچھو تو تم نے مجھے شدید مایوس کیا ہے۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہو۔ تم لوگوں کو استعمال کر کے پھینک دیتے ہو۔ اور پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے۔ تمہارا خیال ہے کہ تم بہت ذہین ہو حالانکہ تمہاری کھوپڑی میں مینڈک جتنا دماغ بھی نہیں ہے۔ ہاں میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔وکیل ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا پوچھے۔ گھبراہٹ میں اس نے وکیل دفاع کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا: مائی بشیراں تم اس شخص کو جانتی ہو؟مائی بشیراں: اور نہیں تو کیا عبدالغفور کو نہیں جانتی؟ اسے اس وقت سے جانتی ہوں جب یہ ڈائپر میں گھومتا تھا اور سارا محلہ ناک پر ہاتھ رکھ کر اس سے دور بھاگتا تھا۔ یہ یہاں کا سست ترین بندہ ہے اور ہر ایک کی برائی ہی کرتا ہے۔ اوپر سے یہ ہیروئنچی بھی ہے۔ کسی بندے سے یہ تعلقات نہیں بنا کر رکھ سکتا۔ اور شہر کا سب سے نکما اور ناکام وکیل یہی ہے۔ چار بندیوں سے اس کا افئیر چل رہا ہے۔ جن میں سے ایک تمہاری بیوی بھی ہے۔ ہاں اس بندے کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔جج نے دونوں وکیلوں کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے بولا: اگر تم دونوں احمقوں میں سے کسی نے مائی بشیراں سے یہ پوچھا کہ وہ مجھے جانتی ہے تو دونوں کو پھانسی دے دوں گا۔- خدا ،،، از اردو فن کلب
آذر کی نگاہوں نے نور کے چہرے کا طواف کیا اور سونے کے کنگن اس کی نازک کلائیوں میں پہنا دئیے ،۔ "محبت کا دیوتا اپنی داسی کے جسم کی پور پور پر حاکم ہے اور اس کی تمنا ہے یہ داسی اسے ایسے چاہے کہ اس کے جسم سے پہلے اس کی روح اسے سجدہ کرے"۔ "میں تمہیں کبھی سجدہ نہیں کروں گی کیونکہ یہ صرف خدا کا حق ہے اور نہ میں تمہیں ایسے چاہ سکتی ہوں جیسا تم چاہتے ہو"۔ نور مزاحمت کرناچاہتی تھی مگر تھم گئی اور اپنے آنسو پی گئی۔ سبھی کچھ بدل گیا ، زمین پر محبت کی ایک رات نے ان دونوں کو اس طرح ایک دوسرے سے متعارف کروایا کہ سمندر میں ڈوب کر وہ پھر موج اور کنارہ ہو گئے۔ " اب تم گھر سنبھالو ، میں روزگار دیکھتا ہوں"، آذر نے تقسیم کر دی۔ نور نے سر جُھکا دیا۔ مرد کی دسترس میں اگر تقدیر کا قلم ہوتا تو اس کی تقسیم سدا یونہی رہتی۔ آذر کے بنائے ہوئے اصول اس کے خواہشوں کے عنوان ٹھہرے ، وہ کیا تھی اور کیا بن گئی ۔ اس کے وجود پر ہر رشتے کی کھال تھی مگر ہر روپ میں ڈھل کر وہ اب نور نہیں تھی۔ عیش و آرام اس کی دہلیز پر دربان تھا اور وہ داسی ہی تھی جس نے اس عرصہ میں سینکڑوں بار سب سے زیادہ "جی" لفظ اپنے ہونٹوں سے ادا کیا تھا۔ پہلی ایک رات کے سوا وہ کبھی اس کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں سویا تھا۔ محل نما گھر میں دیواریں تھیں اور ان دیواروں پر آویزاں تصویروں کے آسیب تھے۔ جب بھی اس نے خود کو شمار کرنا چاہا آذر کا سایا اسے اس طرح جمع کرتا کہ حلق کے کانٹے پاؤں میں چبھنے لگتے اور وہ اس حصار سے باہر ایک قدم بھی نہ رکھ پاتی۔محبت پرات میں رکھا آٹا نہیں تھا جسے وہ اپنے گداز ہاتھوں سے گوندھ کر تسکین کی آنچ پر پکا کر اسے شکم سیر کر دیتی۔ اسے کیا معلوم تھا چاہت کے پل صراط پر اپنی جسم کی ہر آنکھ کو اندھا کرنا پڑتا ہےاور روح کی موت سے یہ راستے گلاب ہوتے ہیں۔ سمجھوتوں کے کانٹوں کی چبھن سے ایک دن اس کی چیخ نکل گئی"، "آذر مجھے آزاد کر دو"۔ " یہ شاہانہ زندگی اور دولت کی فروانی اسے تم قید کہتی ہو"، "نہیں میں تمہاری بند مٹھی کی بات کر رہی ہوں ، اسے کھول دو"، "سنو نور..."، آذر نے اس کی ٹھوڑی کو اپنے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے اونچا کیا اور اپنے ہونٹوں سے نکلنے والی سرسراتی ہوا سے اس کی پلکوں کو چھوا ، " ایسا کبھی پہلے اس خاندان میں نہیں ہوا لیکن چونکہ تم ایک اعلٰی تعلیم یافتہ ہستی ہو تو جاؤ ، تمہارے پَروں پر طلاق کی مہر لگا کر تمہیں چھوڑ دوں گا ، اپنی قابلیت جا کر دفتروں میں منواؤ ، آخر تم نے مقابلے کے امتحان میں پہلی پوزیشین لی تھی"۔ اس ستم گر کی وجاہت میں غرور اور لاتعلقی اسے دیوتا کے مقام تک لے گئی تھی۔ اس سے آگے نور کے پَر کٹے ہوئے تھے اس نے اس کے بچوں کو چھین لینا تھا_ اس نے کب طلاق چاہی تھی۔ آذر کی بند مٹھی میں اس کی آزادی کے ساتھ ممتا کا دانہ بھی پڑا تھا اور ممتا کے قحط میں اشکوں کے دریا تھے اور سانسوں کی ٹوٹی کشتیاں تھیں۔ اس کا جب جی چاہتا اسے علیحدہ اپنے کمرے میں بلا لیتا اور جب الارم دل دہلاتا وہ اپنا آپ سمیٹ کر بچوں کے پاس آ کر لیٹ جاتی۔ آذر سے محبت میں پہل اور اس کے ساتھ نبھاہ کی ضد نے اسے تنہا کر دیا تھا۔آذر کی دولت اور وجاہت نور جیسی قبول صورت لڑکی کی ذہانت پر بھاری تھی۔ محبوب کا پلڑا والدین کے جوڑے ہوئے ہاتھوں سے بہت اوپر تھا۔ اب ماں بن کر اس کے اندر کے درد نے اسے تڑپایا تھا۔ " ماں...."، اسی نام کی تسبیح پر اب آنسو کا ہر قطرہ اس کے بدن پر ٹپکتا تھا۔ پچھتاوا اس کے حال کو اٹھا کر پیچھے پٹخ رہا تھا اور اس کا وجود موجودہ وقت کی سوئیوں میں گھٹ رہا تھا۔ اس کے دونوں بیٹے اب اس کے قد کے برابر آ گئے تھے۔آذر کی جان اور مان تھے وہ دونوں آذر کی وجاہت اور نور کی تربیت ان کے روپ وکردار میں ڈھل کر گھر کو منور کئے تھی۔ دیواروں پراب ان کے دونوں بیٹوں کی بھی قدآور تصاویر تھیں۔داخلی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی بلکل سامنےاس کے ساس سسر کی سنہرے فریم والی تصویر تھی۔آذر اور اس کی شادی کی تصویر ہال کمرے کی شمالی دیوار پر لگی تھی اور یہ واحد تصویر تھی جس میں وہ ایک ساتھ تھے۔اسے کبھی ہنسی آتی اس ایک ساتھ کے عکس پر جس میں دلہن بنی وہ آذر کے سینے سے لگی کھڑی تھی۔بھاری زیورات اور سرخ عروسی جوڑا نہ جانے کہاں رکھا تھا۔ کنگن ابھی تک اس کے ہاتھوں میں تھے اور اس پہلی رات کا متکبرانہ آذر کا لمس اسے اپنے دیوتا کی داسی بنا کر سرنگوں کئے تھا۔ دو راتوں سے آذر کھانے کی میز پر نہیں آیا۔ اس کے لئے یہ نئی بات نہیں تھی مگر بچے مضطرب تھے باپ سے نئی فرمائش کرنے کو ، مگر وہ جانتے تھے کہ انہیں باپ کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں، " ماما پاپا کو کال کریں"، بڑے بیٹے سے پہلے ہی چھوٹے بیٹے نے کال کر کے پتہ کر لیا کہ وہ ملک سے باہر ہیں، " اوہ یار ہمیشہ کی طرح پاپا کبھی کچھ نہیں بتاتے ، ماما آپ بھی نہیں پوچھتیں ان سے کچھ"، ملازم میز پر کھانا لگا رہے تھے اور بڑے بیٹے کی بات پر وہ چپ رہی۔ اس نے اب سوچنا چھوڑ دیا تھا اور خود کو اس طرح الجھا لیا تھا کہ کتنے ڈھیر سارے سوال ڈائری میں لکھ کر آگے سوالیہ نشان لگا کر مطمئن ہو جاتی۔ اگلے دن صبح کے اخبارات میں ایک خوبصورت ماڈل گرل نے سوال اٹھایا تھا ، "آخر یہ دولت کے نشے میں بہکے ہوئے رئیس اپنے بستر کی چادر کی طرح کب تک ہمیں استعمال کرکے بدلتے رہیں گے ، جو مرد اور عورت ایک ساتھ رہیں انہیں میاں بیوی کا درجہ دیا جائے کیونکہ نکاح میں لائی ہوئی عورت کو تو یہ پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں"۔ نور نے اخبار ناشتے کی میز پر اسی طرح چھوڑ دیا ، جانتی تھی بچے نیٹ پر بھی یہ خبر دیکھ سکتے ہیں۔ اسے اپنے والدین کو ڈھونڈنا تھا جنہیں یہ شہر چھوڑے برسوں بیت گئے تھے ۔ وہ کیوں بھلا بیٹھی تھی کہ جہاں خدا نے اپنے شرک سے منع فرمایا ہے وہیں ساتھ ہی والدین کی اطاعت کا حکم لگایا ہے۔ بچے اپنے باپ کے بارے میں اخبارات کی خبروں سے پریشان اور سراپا احتجاج تھے اور وہ انہیں اپنی گود میں چھپا کر ایسے بہلا رہی تھی ۔جیسے وہ انہیں بچپن سے مطمئن کرتی آرہی تھی۔ اس نے کبھی حساب ہی نہیں رکھا تھا کہ کون سی ماڈل گرل کب تک اس گھر کی دیواروں کی تصویروں کے پیچھے چھپکلی بن کر چھپی رہی۔ لمحہ بھر میں نور نے فیصلہ کر لیا۔جب بچے اعلٰی تعلیم کے لئے بیرون ملک جائیں گے تو وہ بھی ان کے ساتھ جائے گی اور شادی کی تصویر میں سدا اسی طرح آذر کے ساتھ رہے گی کہ دل مجبور ہے اور ممتا زنجیر ہے۔ یہ ہے محبت کوئی چاہ کر اپنی ہستی کو خاک بنا کر اڑاتا ہے اور کوئی چاہے جانے کی تمنا میں خدا بن جاتا ہے۔ " آذر دیوتا نہیں نور داسی نہیں" آج اس نے ڈائری میں سوال نہیں جواب لکھے تھے۔- آم از سعادت حسن منٹو
خزانے کے تمام کلرک جانتے تھے کہ منشی کریم بخش کی رسائی بڑے صاحب تک بھی ہے۔ چنانچہ وہ سب اس کی عزت کرتے تھے۔ ہر مہینے پنشن کے کاغذ بھرنے اور روپیہ لینے کے لیے جب وہ خزانے میں آتا تو اس کا کام اسی وجہ سے جلد جلد کردیا جاتا تھا۔ پچاس روپے اس کو اپنی تیس سالہ خدمات کے عوض ہر مہینے سرکار کی طرف سے ملتے تھے۔ ہر مہینے دس دس کے پانچ نوٹ وہ اپنے خفیف طور پر کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پکڑتا اور اپنے پرانے وضع کے لمبے کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھ لیتا۔ چشمے میں خزانچی کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھتا اور یہ کہہ کر ’’اگر زندگی ہوئی تو اگلے مہینے پھر سلام کرنے کے لیے حاضر ہوں گا‘‘ بڑے صاحب کے کمرے کی طرف چلا جاتا۔ آٹھ برس سے اس کا یہی دستور تھا۔ خزانے کے قریب قریب ہر کلرک کو معلوم تھا کہ منشی کریم بخش جو مطالبات خفیفہ کی کچہری میں کبھی محافظ دفتر ہوا کرتا تھا بے حد وضعدار، شریف الطبع اور حلیم آدمی ہے۔ منشی کریم بخش واقعی ان صفات کا مالک تھا۔ کچہری میں اپنی طویل ملازمت کے دوران میں افسران بالا نے ہمیشہ اس کی تعریف کی ہے۔ بعض منصفوں کو تو منشی کریم بخش سے محبت ہو گئی تھی۔ اس کے خلوص کا ہر شخص قائل تھا۔ اس وقت منشی کریم بخش کی عمر پینسٹھ سے کچھ اوپر تھی۔ بڑھاپے میں آدمی عموماً کم گو اور حلیم ہو جاتا ہے مگر وہ جوانی میں بھی ایسی ہی طبیعت کا مالک تھا۔ دوسروں کی خدمت کرنے کا شوق اس عمر میں بھی ویسے کا ویسا ہی قائم تھا۔ خزانے کا بڑا افسر منشی کریم بخش کے ایک مربی اور مہربان جج کا لڑکا تھا۔ جج صاحب کی وفات پر اسے بہت صدمہ ہوا تھا اب وہ ہر مہینے ان کے لڑکے کو سلام کرنے کی غرض سے ضرور ملتا تھا۔ اس سے اُسے بہت تسکین ہوتی تھی۔ منشی کریم بخش انھیں چھوٹے جج صاحب کہا کرتا تھا۔ پنشن کے پچاس روپے جیب میں ڈال کروہ برآمدہ طے کرتا اور چق لگے کمرے کے پاس جا کر اپنی آمد کی اطلاع کراتا۔ چھوٹے جج صاحب اس کو زیادہ دیر تک باہر کھڑا نہ رکھتے، فوراً اندر بلا لیتے اور سب کام چھوڑ کر اس سے باتیں شروع کردیتے۔ ’’تشریف رکھیے منشی صاحب۔ فرمائیے مزاج کیسا ہے۔ ‘‘ ’’اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ آپکی دعا سے بڑے مزے میں گزررہی ہے، میرے لائق کوئی خدمت؟‘‘ ’’آپ مجھے کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو فرمائیے۔ خدمت گزاری تو بندے کا کام ہے۔ ‘‘ ’’آپ کی بڑی نوازش ہے۔ ‘‘ اس قسم کی رسمی گفتگو کے بعد منشی کریم جج صاحب کی مہربانیوں کا ذکر چھیڑ دیتا۔ ان کے بلند کردار کی وضاحت بڑے فدویانہ انداز میں کرتا اور بار بار کہتا۔ ’’اللہ بخشے مرحوم فرشتہ خصلت انسان تھے۔ خدا ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ‘‘ منشی کریم بخش کے لہجے میں خوشامد وغیرہ کی ذرّہ بھر ملاوٹ نہیں ہوتی تھی۔ وہ جو کچھ کہتا تھا۔ محسوس کرکے کہتا تھا۔ اس کے متعلق جج صاحب کے لڑکے کوجو اب خزانے کے بڑے افسر تھے اچھی طرح معلوم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو عزت کے ساتھ اپنے پاس بٹھاتے تھے اور دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہتے تھے۔ ہر مہینے دوسری باتوں کے علاوہ منشی کریم بخش کے آم کے باغوں کا ذکر بھی آتا تھا۔ موسم آنے پر جج صاحب کے لڑکے کی کوٹھی پر آموں کا ایک ٹوکرا پہنچ جاتا تھا۔ منشی کریم بخش کو خوش کرنے کے لیے وہ ہر مہینے اس کو یاد دہانی کرا دیتے تھے۔ ’’منشی صاحب، دیکھے اس موسم پر آموں کا ٹوکرا بھیجنا نہ بھولیے گا۔ پچھلی بار آپ نے جو آم بھیجے تھے اس میں تو صرف دو میرے حصے میں آئے تھے۔ ‘‘ کبھی یہ تین ہوجاتے تھے، کبھی چار اور کبھی صرف ایک ہی رہ جاتا تھا۔ منشی کریم بخش یہ سُن کر بہت خوش ہوتاتھا۔ ’’حضور ایسا کبھی ہو سکتا ہے۔ جونہی فصل تیار ہوئی میں فوراً ہی آپ کی خدمت میں ٹوکرا لے کر حاضر ہو جاؤں گا۔ دو کہیے دو حاضر کردوں۔ یہ باغ کس کے ہیں۔ آپ ہی کے تو ہیں۔ ‘‘ کبھی کبھی چھوٹے جج صاحب پوچھ لیا کرتے تھے۔ ’’منشی جی آپ کے باغ کہاں ہیں؟‘‘ دنیا نگر میں حضور۔ زیادہ نہیں ہیں صرف دو ہیں۔ اس میں سے ایک تو میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو دے رکھا ہے جو ان دونوں کا انتظام وغیرہ کرتا ہے۔ مئی کی پنشن لینے کے لیے منشی کریم بخش جون کی دوسری تاریخ کو خزانے گیا دس دس کے پانچ نوٹ اپنے خفیف طور پر کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھ کر اس نے چھوٹے جج صاحب کے کمرہ کا رخ کیا۔ حسبِ معمول ان دونوں میں وہی رسمی باتیں ہُوئیں۔ آخر میں آموں کا ذکر بھی آیا۔ جس پر منشی کریم بخش نے کہا۔ ’’دنیا نگر سے چٹھی آئی ہے کہ ابھی آموں کے منہ پر چیپ نہیں آیا۔ جونہی چیپ آگیا اور فصل پک کر تیار ہو گئی میں فوراً پہلا ٹوکرا لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا۔ چھوٹے جج صاحب! اس دفعہ ایسے تحفہ آم ہوں گے کہ آپ کی طبیعت خوش ہو جائے گی۔ ملائی اور شہد کے گھونٹ نہ ہُوئے تو میرا ذمہ۔ میں نے لکھ دیا ہے کہ چھوٹے جج صاحب کے لیے ایک ٹوکرا خاص طور پر بھروا دیا جائے اور سواری گاڑی سے بھیجا جائے تاکہ جلدی اور احتیاط سے پہنچے۔ دس پندرہ روز آپ کو اور انتظار کرنا پڑے گا۔ ‘‘ چھوٹے جج صاحب نے شکریہ ادا کیا۔ منشی کریم بخش نے اپنی چھتری اُٹھائی اور خوش خوش گھر واپس آگیا۔ گھر میں اس کی بیوی اور بڑی لڑکی تھی۔ بیاہ کے دوسرے سال جس کا خاوند مر گیا تھا۔ منشی کریم بخش کی اور کوئی اولاد نہیں تھی مگر اس مختصر سے کنبے کے باوجود پچاس روپوں میں اس کا گزر بہت ہی مشکل سے ہوتا تھا۔ اسی تنگی کے باعث اس کی بیوی کے تمام زیور ان آٹھ برسوں میں آہستہ آہستہ بِک گئے تھے۔ منشی کریم بخش فضول خرچ نہیں تھا۔ اس کی بیوی اور وہ بڑے کفایت شعار تھے مگر اس کفایت شعاری کے باوصف تنخواہ میں سے ایک پیسہ بھی ان کے پاس نہ بچتا تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ منشی کریم بخش چند آدمیوں کی خدمت کرنے میں بے حد مسرت محسوس کرتا تھا ان چند خاص الخاص آدمیوں کی خدمت گزاری میں جن سے اسے دلی عقیدت تھی۔ ان خاص آدمیوں میں سے ایک تو جج صاحب کے لڑکے تھے۔ دوسرے ایک اور افسر تھے جوریٹائر ہو کر اپنی زندگی کا بقایا حصہ ایک بہت بڑی کوٹھی میں گزار رہے تھے۔ ان سے منشی کریم بخش کی ملاقات ہر روز صبح سویرے کمپنی باغ میں ہوتی تھی۔ باغ کی سیر کے دوران میں منشی کریم بخش ان سے ہر روز پچھلے دن کی خبریں سنتا تھا۔ کبھی کبھی جب وہ بیتے ہوئے دنوں کے تار چھیڑ دیتا تو ڈپٹی سپریٹنڈنٹ صاحب اپنی بہادری کے قصّے سنانا شروع کردیتے تھے کہ کس طرح انھوں نے لائل پور کے جنگلی علاقے میں ایک خونخوار قاتل کو پستول، خنجر دکھائے بغیر گرفتار کیا اور کس طرح ان کے رعب سے ایک ڈاکو سارا مال چھوڑ کر بھاگ گیا۔ کبھی کبھی منشی کریم بخش کے آم کے باغوں کا بھی ذکر آجاتا تھا۔ منشی صاحب کہیے۔ اب کی دفعہ فضل کیسی رہے گی۔ ’’پھر چلتے چلتے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ صاحب یہ بھی کہتے۔ پچھلے سال آپ نے جو آم بھجوائے تھے بہت ہی اچھے تھے بے حد لذیذ تھے۔ ‘‘ ’’انشاء اللہ خدا کے حکم سے اب کی دفعہ بھی ایسے ہی آم حاضر کروں گا۔ ایک ہی بوٹے کے ہوں گے۔ ویسے ہی لذیذ، بلکہ پہلے سے کچھ بڑھ چڑھ کر ہی ہوں گے۔ ‘‘ اس آدمی کو بھی منشی کریم بخش ہر سال موسم پر ایک ٹوکرا بھیجتا تھا۔ کوٹھی میں ٹوکرا نوکروں کے حوالے کرکے جب وہ ڈپٹی صاحب سے ملتا اور وہ اس کا شکریہ ادا کرتے تو منشی کریم بخش نہایت انکساری سے کام لیتے ہوئے کہتا ’’ڈپٹی صاحب آپ کیوں مجھے شرمندہ کرتے ہیں۔ اپنے باغ ہیں۔ اگر ایک ٹوکرا یہاں لے آیا تو کیا ہو گیا۔ بازار سے آپ ایک چھوڑ کئی ٹوکرے منگوا سکتے ہیں۔ یہ آم چونکہ اپنے باغ کے ہیں اور باغ میں صرف ایک بوٹا ہے جس کے سب د انے گھلاوٹ خوشبو اور مٹھاس میں ایک جیسے ہیں اس لیے یہ چند تحفے کے طور پر لے آیا۔ ‘‘ آم دینے کے بعد جب وہ کوٹھی سے باہر نکلتا تو اس کے چہرے پر تمتماہٹ ہوتی تھی ایک عجیب قسم کی روحانی تسکین اسے محسوس ہوتی تھی جو کئی دنوں تک اس کو مسرور رکھتی تھی۔ منشی کریم بخش اکہرے جسم کا آدمی تھا۔ بڑھاپے نے اس کے بدن کو ڈھیلا کردیا تھا۔ مگر یہ ڈھیلا پن بدصورت معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اس کے پتلے پتلے ہاتھوں کی پھولی ہوئی رگیں سر کا خفیف سا ارتعاش اور چہرے کی گہری لکیریں اس کی متانت و سنجیدگی میں اضافہ کرتی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بڑھاپے نے اس کو نکھار دیا ہے۔ کپڑے بھی وہ صاف ستھرے پہنتا تھا جس سے یہ نکھار ابھر آتا تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ سفیدی مائل زرد تھا۔ پتلے پتلے ہونٹ جو دانت نکل جانے کے بعد اندر کی طرف سمٹے رہتے تھے، ہلکے سرخ تھے، خون کی اس کمی کے باعث اس کے چہرے پر ایسی صفائی پیدا ہو گئی تھی جو اچھی طرح منہ دھونے کے بعد تھوڑی دیر تک قائم رہا کرتی ہے۔ وہ کمزور ضرور تھا، پینسٹھ برس کی عمر میں کون کمزور نہیں ہو جاتا مگر اس کمزوری کے باوجود اس میں کئی کئی میل پیدل چلنے کی ہمت تھی۔ خاص طور پر جب آموں کا موسم آتا تو وہ ڈپٹی صاحب اور چھوٹے جج صاحب کو آموں کے ٹوکرے بھیجنے کے لیے اتنی دوڑ دھوپ کرتا تھا کہ بیس پچیس برس کے جوان آدمی بھی کیا کریں گے۔ بڑے اہتمام سے ٹوکرے کھولے جاتے تھے۔ ان کا گھاس پھوس الگ کیا جاتا تھا۔ داغی یا گلے سڑے دانے الگ کیے جاتے تھے۔ اور صاف ستھرے آم نئے ٹوکروں میں گن کر ڈالے جاتے تھے۔ منشی کریم بخش ایک بار پھر اطمینان کرنے کی خاطر ان کو گن لیتا تھا تاکہ بعد میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ آم نکالتے اور ٹوکروں میں ڈالتے وقت منشی کریم بخش کی بہن اور اسکی بیوی کے منہ میں پانی بھر آتا۔ مگر وہ دونوں خاموش رہتیں۔ بڑے بڑے رس بھرے خوبصورت آموں کا ڈھیر دیکھ کر جب ان میں سے کوئی یہ کہے بغیر نہ رہ سکتی۔ ’’کیا ہرج ہے اگر اس ٹوکرے میں سے دو آم نکال لیے جائیں۔ ‘‘ تو منشی کریم بخش سے یہ جواب ملتا۔ ’’اور آجائیں گے اتنا بیتاب ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ ‘‘ یہ سن کر وہ دونوں چپ ہو جاتیں اور اپنا کام کرتی رہتیں۔ جب منشی کریم بخش کے گھر میں آموں کے ٹوکرے آتے تھے تو گلی کے سارے آدمیوں کو اس کی خبر لگ جاتی تھی۔ عبداللہ نیچہ بند کا لڑکا جو کبوتر پالنے کا شوقین تھا دوسرے روز ہی آدھمکتا تھا اور منشی کریم بخش کی بیوی سے کہتا تھا۔ ’’خالہ میں گھاس لینے کے لیے آیا ہوں۔ کل خالو جان آموں کے دو ٹوکرے لائے تھے ان میں سے جتنی گھاس نکلی ہو مجھے دے دیجیے۔ ہمسائی نوراں جس نے کئی مرغیاں پال رکھی تھیں، اسی روز شام کو ملنے آجاتی تھی اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد کہا کرتی تھی۔ پچھلے برس جو تم نے مجھے ایک ٹوکرہ دیا تھا بالکل ٹوٹ گیا ہے۔ اب کے بھی ایک ٹوکرہ دیدو تو بڑی مہربانی ہو گی۔ ‘‘ دونوں ٹوکرے اور ان کی گھاس یوں چلی جاتی۔ حسب معمول اس دفعہ بھی آموں کے دو ٹوکرے آئے گلے سڑنے دانے الگ کیے گئے جو اچھے تھے ان کو منشی کریم بخش نے اپنی نگرانی میں گنوا کر نئے ٹوکروں میں رکھوایا۔ بارہ بجے پہلے پہل یہ کام ختم ہو گیا۔ چنانچہ دونوں ٹوکرے غسل خانے میں ٹھنڈی جگہ رکھ دیے گئے تاکہ آم خراب نہ ہو جائیں۔ ادھرسے مطمئن ہو کر دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد منشی کریم بخش کمرے میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ جون کے آخری دن تھے۔ اس قدر گرمی تھی کہ دیواریں توے کی طرح تپ رہی تھیں۔ وہ گرمیوں میں عام طور پر غسل خانے کے اندر ٹھنڈے فرش پر چٹائی بچھا کر لیٹا کرتا تھا۔ یہاں موری کے رستے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بھی آجاتی تھی لیکن اب کے اس میں دو بڑے بڑے ٹوکرے پڑے تھے۔ اس کو گرم کمرے ہی میں جو بالکل تنور بنا ہوا تھا چھ بجے تک وقت گزارنا تھا۔ ہر سال گرمیوں کے موسم میں جب آموں کے یہ ٹوکرے آتے اسے ایک دن آگ کے بستر پر گزارنا پڑتا تھا مگر وہ اس تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرلیتا تھا۔ قریباً پانچ گھنٹے تک چھوٹا سا پنکھا بار بار پانی میں تر کرکے جھلتا رہتا۔ انتہائی کوشش کرتا کہ نیند آجائے مگر ایک پل کے لیے بھی اسے آرام نصیب نہ ہوتا۔ جون کی گرمی اور ضدی قسم کی مکھیاں کسے سونے دیتی ہیں۔ آموں کے ٹوکرے غسل خانے میں رکھوا کر جب وہ گرم کمرے میں لیٹا تو پنکھا جھلتے جھلتے ایک دم اس کا سر چکرایا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔ پھر اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کا سانس اکھڑ رہا ہے اور وہ سارے کا سارا گہرائیوں میں اتر رہا ہے اس قسم کے دورے اسے کئی بار پڑ چکے تھے اس لیے کہ اس کا دل کمزور تھا مگر ایسا زبردست دورہ پہلے کبھی نہیں پڑا تھا۔ سانس لینے میں اس کو بڑی دقت محسوس ہونے لگی، سر بہت زور سے چکرانے لگا۔ گھبرا کر اس نے آواز دی اور اپنی بیوی کو بلایا۔ یہ آواز سن کر اس کی بیوی اور بہن دونوں دوڑی دوڑی اندر آئیں دونوں جانتی تھیں کہ اسے اس قسم کے دورے کیوں پڑتے ہیں۔ فوراً ہی اس کی بہن نے عبداللہ نیچہ بند کے لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا کہ ڈاکٹر کو بلا لائے تاکہ وہ طاقت کی سوئی لگا دے۔ لیکن چند منٹوں ہی میں منشی کریم بخش کی حالت بہت زیادہ بگڑ گئی۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ بیقراری اس قدر بڑھ گئی کہ وہ چارپائی پر مچھلی کی طرح تڑپنے لگا۔ اس کی بیوی اور بہن نے یہ دیکھ کرشور برپا کردیا۔ جس کے باعث اس کے پاس کئی آدمی جمع ہو گئے۔ بہت کوشش کی گئی، اس کی حالت ٹھیک ہو جائے لیکن کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ ڈاکٹر بلانے کے لیے تین چار آدمی دوڑائے گئے تھے لیکن اس سے پہلے کہ ان میں سے کوئی واپس آئے منشی کریم بخش زندگی کے آخری سانس لینے لگا۔ بڑی مشکل سے کروٹ بدل کر اس نے عبداللہ نیچہ بند کو جو اس کے پاس ہی بیٹھا تھا اپنی طرف متوجہ کیا اور ڈُوبتی ہُوئی آواز میں کہا۔ تم سب لوگ باہر چلے جاؤ۔ ’’میں اپنی بیوی سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ‘‘ سب لوگ باہر چلے گئے اس کی بیوی اور لڑکی دونوں اندر داخل ہوئیں رو رو کر ان کا بُرا حال ہو رہا تھا۔ منشی کریم بخش نے اشارے سے اپنی بیوی کو پاس بُلایا اور کہا۔ ’’دونوں ٹوکرے آج شام ہی ڈپٹی صاحب اور چھوٹے جج صاحب کی کوٹھی پر ضرور پہنچ جانے چاہئیں۔ پڑے پڑے خراب ہو جائیں گے۔ ‘‘ اِدھر اُدھر دیکھ کر اس نے بڑے دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’دیکھو تمہیں میری قسم ہے میری موت کے بعد بھی کسی کو آموں کا راز معلوم نہ ہو۔ کسی سے نہ کہنا کہ یہ آم ہم بازارسے خرید کر لوگوں کو بھیجتے تھے۔ کوئی پوچھے تو یہی کہنا کہ دنیا نگر میں ہمارے باغ ہیں۔ بس۔ اور دیکھو جب میں مر جاؤں تو چھوٹے جج صاحب اور ڈپٹی صاحب کو ضرور اطلاع بھیج دینا۔ ‘‘ چند لمحات کے بعد مشنی کریم بخش مر گیا، اس کی موت سے ڈپٹی صاحب اور چھوٹے صاحب کو لوگوں نے مطلع کردیا۔ مگر دونوں چند ناگزیر مجبوریوں کے باعث جنازے میں شامل نہ ہوسکے۔- فانی انسان اور موت
اس نے امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت‘ جلد‘ نقوش اور حرکات و سکنات بدل گئیں۔ سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اورنسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔ اس نے 1987ء میں بیڈ کے نام سے اپنی تیسری البم جاری کی‘ یہ گورے مائیکل جیکسن کی پہلی البم تھی‘ یہ البم بھی کامیاب ہوئی اور اس کی تین کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس البم کے بعد اس نے اپنا پہلا سولو ٹور شروع کیا۔ وہ ملکوں ملکوں ‘ شہر شہرگیا ‘ موسیقی کے شو کئے اوران شوز سے کروڑوں ڈالر کمائے۔ یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی۔ اس کے بعد ماضی کی باری آئی ‘ مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کر دیا‘ اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے‘ اس نے کرائے پر گورے ماںباپ بھی حاصل کر لئے اور اس نے اپنے تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔ اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی بھی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔ ڈیبی رو کے بطن سے اس کی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوگئی‘ اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی لہٰذا اب اس کی آخری نفرت یا خواہش کی باری تھی۔ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔ مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئے دلچسپ حرکتیں کرتاتھا‘ مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا‘ وہ جراثیم‘ وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا۔ وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔ یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے‘ اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا‘ اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں‘ گردوں‘ آنکھوں‘ دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا‘ یہ ڈونر تھے جن کے تمام اخراجات وہ اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے چنانچہ اسے یقین تھا وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہے گا لیکن پھر 25جون کی رات آئی ‘ اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی‘ اس کے ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئرڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا‘یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو یہ اسے ہسپتال لے گئے اور وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی‘ جو ننگےپاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا‘ جو کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا‘ جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا تھا۔ وہ شخص 50سال کی عمر میں صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔ اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی۔ مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی‘ یہ گوگل کی تاریخ کا ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔ مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا‘ وہ سر سے گنجا تھا‘ اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ اس کے کولہے‘ کندھے‘ پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔ وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز‘ یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اُس جہان شفٹ ہو گیا جس میں ہر زندہ شخص نے پہنچنا ہے اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔ مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے‘ انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا کوئی فرعون وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔ وہ قبر کو شکست نہیں دے سکتا لیکن حیرت ہے ہم مائیکل جیکسن کے انجام کے بعد بھی خود کو فولاد کا انسان سمجھ رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہم موت کو دھوکہ دے دیں گے‘ ہم ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہیں گے۔- رشتوں کا تقدس
ایک غریب کسان کی شادی نہایت حسین و جمیل عورت سے ہو گئی۔ اُس عورت کے حُسن کی سب سے بڑی وجہ لمبے گھنے سیاہ بال تھے، جن کی فکر صرف اُسے ہی نہیں بلکہ اُن دونوں کو رہتی تھی۔ایک دِن کسان کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا کہ، "کل واپسی پر آتے ہوئے راستے میں دُکان سے ایک کنگھی تو لیتے آنا، کیونکہ بالوں کو لمبے اور گھنے رکھنے کیلئے اُنہیں بنانا سنوارنا بہت ضروری ہے۔ اور پھر میں کتنے دِن ہمسائیوں سے کنگھی منگواتی رہونگی۔۔۔؟" غریب کسان نے اپنی بیوی سے معذرت کر لی اور بولا، "بیگم! میری تو اپنی گھڑی کا سٹرایپ کافی دِنوں سے ٹوٹا ہوا ہے، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ اُسے ٹھیک کروا سکوں، تو میں بھلا کنگھی کیسے لا سکتا ہوں۔ تم کچھ دِن مزید ہمسائیوں کی کنگھی سے گزارا کرو، جب پیسے ہونگے تو لے آونگا۔۔۔!" بیوی اپنے شوہر کی مجبوری کو سمجھ رہی تھی اِس لیے زیادہ تکرار نہیں کیا۔ کسان نے اُس وقت تو بیوی کو چپ کروا دیا، لیکن پھر اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوسنے لگا کہ، میں بھی کتنا بدبخت ہوں کہ اپنی بیگم کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا۔ دوسرے دِن کھیتوں سے واپسی پر کسان ایک گھڑیوں کی دُکان پر گیا اور اپنی ٹوٹی ہوئی گھڑی اونے پونے داموں بیچی اور اُس سے ملنے والے پیسوں سے ایک اچھی سی کنگھی خریدی اور بڑی راز داری سے چھپا کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ اُس نے سوچا گھر جا کر بیوی کو سرپرائز دونگا تو وہ بہت خوش ہوگی۔ جب وہ گھر گیا تو کیا دیکھا اُسکی بیوی نے اپنے لمبے بال کٹوا دئیے تھے۔ اور مسکراتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ رہی تھی۔ کسان نے حیرت سے پوچھا، "بیگم! یہ کیا کیا تم نے اپنے بال کیوں کٹوا دئیے، پتہ ہے وہ تمہارے اُوپر کتنے خوبصورت لگتے تھے۔۔۔؟" بیگم بولی، "میرے سرتاج! کل جب آپ نے کہا کہ آپکے پاس گھڑی ٹھیک کروانے کے پیسے بھی نہیں ہیں تو میں بہت افسردہ ہو گئی۔ چنانچہ آج میں قریب کے بیوٹی پارلر پر گئی تھی، وہاں اپنے بال بیچ کر آپکے لیے یہ ایک گھڑی لائی ہوں۔۔۔!" جب کسان نے اُسے کنگھی دیکھائی تو فرطِ جذبات میں دونوں کی آنکھیں نم ہو گئیں. محبت صرف کچھ دینے اور لینے کو ہی نہیں کہتے، بلکہ محبت ایک قربانی اور ایثار کا نام ہے جس میں اکثر اپنی خواہشات اور جذبات کو صرف اِس لیے قربان کر دیا جاتا ہے تاکہ رشتوں کا تقدس اور احترام برقرار رہے- عبدالستار ایدھی صاحب جو آج جہاں فانی سے کوچ کر گئے
گجرات کے گاؤں بانٹوا کا نوجوان عبدالستار گھریلو خالات خراب ہونے پر کراچی جا کر کپڑے کا کاروبار شروع کرتا ہے کپڑا خریدنے مارکیٹ گیا وہاں کس شخض نے کس شخض کو چاقو مار دیا زخمی زمین پر گر کر تڑپنے لگا لوگ زخمی شخض کے گرد گھیرا ڈال کر تماشہ دیکھتے رہے وہ شخض تڑپ تڑپ کر مر گیا نوجوان عبدالستار کے دل پر داغ پڑ گیا سوچا معاشرے میں تین قسم کے لوگ ہیں دوسروں کو مارنے والے مرنے والوں کا تماشہ دیکھنے والے اور زخمیوں کی مدد کرنے والے نوجوان عبدالستار نے فیصلہ کیا وہ مدد کرنے والوں میں شامل ہو گا اور پھر کپڑے کا کاروبار چهوڑا ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام لکها نیچے ٹیلی فون نمبر لکھا اور کراچی شہر میں زخمیوں اور بیماروں کی مدد شروع کر دی وہ اپنے ادارے کے ڈرائیور بهی تهے آفس بوائے بهی ٹیلی فون آپریٹر بهی سویپر بهی اور مالک بهی وہ ٹیلی فون سرہانے رکھ کر سوتے فون کی گھنٹی بجتی یہ ایڈریس لکهتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچاتے سلام کرتے اور واپس آ جاتے عبدالستار نے سینٹر کے سامنے لوہے کا گلا رکھ دیا لوگ گزرتے وقت اپنی فالتو ریزگاری اس میں ڈال دیتے تھے یہ سینکڑوں سکے اور چند نوٹ اس ادارے کا کل اثاثہ تهے یہ فجر کی نماز پڑھنے مسجد گئے وہاں مسجد کی دہلیز پر کوئی نوزائیدہ بچہ چهوڑ گیا مولوی صاحب نے بچے کو ناجائز قرار دے کر قتل کرنے کا اعلان کیا لوگ بچے کو مارنے کے لیے لے جا رہے تھے یہ پتهر اٹها کر ان کے سامنے کهڑے ہو گئے ان سے بچہ لیا بچے کی پرورش کی اج وہ بچہ بنک میں بڑا افسر ہے یہ نعشیں اٹهانے بهی جاتے تھے پتا چلا گندے نالے میں نعش پڑی ہے یہ وہاں پہنچے دیکھا لواحقین بهی نالے میں اتر کر نعش نکالنے کے لیے تیار نہیں عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گئے نعش نکالی گهر لائے غسل دیا کفن پہنایا جنازہ پڑهایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کهود کر نعش دفن کر دی بازاروں میں نکلے تو بے بس بوڑھے دیکهے پاگلوں کو کاغذ چنتے دیکھا آوارہ بچوں کو فٹ پاتهوں پر کتوں کے ساتھ سوتے دیکها تو اولڈ پیپل ہوم بنا دیا پاگل خانے بنا لیے چلڈرن ہوم بنا دیا دستر خوان بنا دیئے عورتوں کو مشکل میں دیکھا تو میٹرنٹی ہوم بنا دیا لوگ ان کے جنون کو دیکھتے رہے ان کی مدد کرتے رہے یہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ایدهی فاؤنڈیشن ملک میں ویلفیئر کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا یہ ادارہ 2000 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی آ گیا ایدھی صاحب نے دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بنا دی عبدالستار ایدھی ملک میں بلا خوف پهرتے تهے یہ وہاں بهی جاتے جہاں پولیس مقابلہ ہوتا تھا یا فسادات ہو رہے ہوتے تھے پولیس ڈاکو اور متحارب گروپ انہیں دیکھ کر فائرنگ بند کر دیا کرتے تھے ملک کا بچہ بچہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے بعد عبدالستار ایدھی کو جانتا ہے ایدھی صاحب نے 2003 تک گندے نالوں سے 8 ہزار نعشیں نکالی 16 ہزار نوزائیدہ بچے پالے انہوں نے ہزاروں بچیوں کی شادیاں کرائی یہ اس وقت تک ویلفیئر کے درجنوں ادارے چلا رہے تھے لوگ ان کے ہاتھ چومتے تهے عورتیں زیورات اتار کر ان کی جهولی میں ڈال دیتی تهیی نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں سڑکوں پر انہیں دے کر خود وین میں بیٹھ جاتے تهے تو جناب یہ تهے عبدالستار ایدھی صاحب جو آج جہاں فانی سے کوچ کر گئے ہیں اور پوری قوم کو سوگوار چھوڑ گئے- انداز بیان ہمارے ،، از گل نوخیز اختر
ہماری ایک معروف افسانہ نگارکی شادی کی عمر گذرتی جارہی تھی، موصوفہ تقریباًکسی سے بھی شادی کرنے پر راضی تھیں لیکن دوسری طرف سے کوئی بھی قانونی اقرارکرنے کو تیار نہیں تھا۔ بالآخر 35 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی۔ انہوں نے شادی میں کسی کو انوائٹ نہیں کیا، ایک دن ایک تقریب میں مل گئیں تو میں نے شکوہ کیا کہ آپ نے چپکے سے شادی کرلی اور بلایا بھی نہیں۔ خوشی سے شرمندہ ہوکر بولیں ’’اصل میں سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ کئی رشتہ داروں کو بھی نہیں بلاسکی‘‘۔ میں نے پوچھا’’ماشاء اللہ دولہا بھائی کرتے کیا ہیں‘‘۔ یہ سنتے ہی اٹھلا کر بولیں’’ان کی روٹیوں کی فیکٹری ہے‘‘ میری آنکھیں پھیل گئیں، بعد میں پتا چلا کہ دولہا بھائی کا ذاتی تنور ہے۔ ہمارے ہاں اپنی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا رواج اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا ذکر کرنا بھی اپنی توہین سمجھنے لگے ہیں۔اوپر سے اللہ بھلا کرے انگریزی کا جس نے بہت سے کاموں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی تو سب نے پوچھا کہ سُسر صاحب کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے’’بزنس مین ہیں اور بائیو گیس کے لیے رامیٹریل فراہم کرتے ہیں‘‘۔ ہم سب بے حد متاثر ہوئے کیونکہ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کچھ عرصے بعد ایک آرٹیکل پڑھتے ہوئے بائیو گیس اور اس کے ’’میٹریل‘‘ کے بارے میں پڑھا اور تب سمجھ میں آیا کہ اگر انگلش ایک سائیڈ پر رکھ دی جائے تو اس کا ترجمہ ’’گوبر‘‘ بنتا ہے۔ کچھ لوگ بڑے آرام سے ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ جب تک تفصیل کا نہ پتا چلے یہ جھوٹ بالکل سچ معلوم ہوتاہے۔ مثلاً میری ایک ’’سگی کلاس فیلو‘‘ کی منگنی ہوئی تو اس کی سادہ اور معصوم سی والدہ نے بتایا کہ لڑکا پہلے سٹیٹ بینک میں لگا تھا ، اب پان سگریٹ کا کھوکھا لگاتاہے۔میں نے اپنے کان کھجائے’’سٹیٹ بینک اور پان سگریٹ کے کھوکھے‘‘ کا تقابلی جائزہ لیااور بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔کلاس فیلو سے پوچھا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ بالآخر لڑکے والوں سے پوچھا گیاکہ لڑکا کب سٹیٹ بینک میں لگا تھا۔ جواب ملا’’پچیس اگست 1998ء کو رات پونے ایک بجے‘‘۔ یہ سنتے ہی لڑکی والے بوکھلا گئے کہ رات پونے ایک بجے سٹیٹ بینک میں کون سی جوائننگ ہوتی ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ لڑکے والوں نے جھوٹ نہیں بولا تھا، لڑکا اصل میں پہلے رکشہ چلا تا تھا، پچیس اگست کو اس کے رکشے کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ سیدھا ’’سٹیٹ بینک میں جالگا‘‘۔ اصل میں ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے بارے میں کچھ سچ بولا تو لوگ ہمیں کم تر سمجھیں گے، یہی خوف ہم سے پے درپے جھوٹ بلواتا چلا جاتا ہے اور بالآخر بیڑا غرق کروا کے چھوڑتاہے۔کیا حرج ہے اگر ہم بتادیں کہ ہمیں کافی کا ٹیسٹ پسند نہیں، کوئی زبردستی تو ہمارے حلق میں کافی نہیں انڈیل دے گا۔اپنی مثال اس لیے نہیں دوں گا کیونکہ مجھے کافی بہت پسند ہے۔ میں جب بھی کافی منگواتا ہوں سب سے پہلے ختم کرتا ہوں، میرے دوستوں کو یقین ہے کہ میں کافی کا دیوانہ ہوں، یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ چائے اور کافی میں وہی فرق ہے جو تاش اور شطرنج میں ہے۔ لیکن میراکافی پینے کا اپنا ہی سٹائل ہے۔۔۔میں صرف ایسی جگہ پر کافی پینا پسند کرتا ہوں جہاں واش بیسن قریب ہو۔ ہول آتا ہے یہ سوچ کر کہ اب گھروں میں مسی روٹیاں نہیں بنتیں،سوجی کی پنجیری نہیں تیار کی جاتی۔۔۔اپنے ایمان سے بتائیے گا کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو السی اور چاول کی پنیاں کھائے ہوئے؟ سونف اور گری باداموں والاگڑ کب کھایا تھا؟ گنے کے رس کی کھیر کب حلق میں اتاری تھی؟ گھی میں بنائی ہوئی مونگ اور چنے کی دال کا ’’دابڑا‘‘ کب چکھا تھا؟ بھینس کی ’’بوہلی‘‘ کھائے کتنا عرصہ بیت گیا ہے؟ پتا نہیں قارئین میں سے کتنے لوگ ’’بوہلی‘‘ کے نام سے واقف ہیں؟ یہ اُس بھینس کا پہلے دو تین دن کا دودھ ہوتاہے جو تازہ تازہ ماں بنتی ہے۔ یہ غذائیں ہمیں اس لیے بھی یاد نہیں کہ ان کے ذکر سے ہی پینڈو پن جھلکتا ہے۔ شہری لگنے کے لیے پیزا، برگر، شوارما، سینڈوچ، سلائس، اورنگٹس کھانا اور ان کے نام آنا بہت ضروری ہے۔ پرانی چیزوں پر بھی انگریزی کا رنگ روغن اشد ضروری ہوگیا ہے، اب چوکیدار نہیں واچ مین ہوتاہے۔ منشی اب اکاؤنٹنٹ کہلاتاہے، پہرے دار کے لیے سیکورٹی گارڈ کا لفظ استعمال ہوتاہے، البتہ ایک’’وٹنری ڈاکٹر‘‘ ایسا نام ہے جسے بیرونی دنیا میں تو بہت عزت حاصل ہے لیکن ہمارے ہاں ابھی تک اس کے لیے ’’وہی ‘‘ لفظ استعمال کیا جاتاہے۔۔انگلش کی ہی بدولت اب کم پڑھا لکھا مریض بھی ڈاکٹر کو اپنے مرض کی تفصیلات شریفانہ انداز میں بتانے کے قابل ہوگیا ہے ورنہ جب تک انگلش کے الفاظ مقبول نہیں ہوئے تھے مریض ڈاکٹر کے سامنے اپنی جملہ تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے ایسے ایسے ’ ’ان بیان ایبل‘‘ الفاظ استعمال کیا کرتا تھا جنہیں اب دہرایا جائے تو باقاعدہ بیہودگی کے زمرے میں آتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت دوسرے کو متاثر کرنے کا جنون ہوگیا ہے اور یہی جنون ہم سے اصل زندگی چھینتا چلا جارہا ہے۔ کیامونگ مسور کی تڑکے والی دال کے آگے ’’پران‘‘ کی کوئی حیثیت ہے؟ کیا کوئی پیزا آلو کے پراٹھوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ کیا چلی ساس، پودینے کی چٹنی سے بہتر ہے؟گڑ کی ڈلی سے بہتر کس کینڈی کا ذائقہ ہے؟ مٹی کی ہانڈی میں پکے کھانے کا سواد کس فائیو سٹار ہوٹل کے شیف کے ہاتھ میں ہے؟ سرسوں کے تیل سے زیادہ دماغ کو سکون کون سا لوشن دے سکتا ہے؟ کیا چاٹی کی لسی اور پینا کلاڈا کا کوئی جوڑ بنتا ہے؟ مکی کی روٹی اور ساگ کے برابر میں جیم اور سلائس رکھ کر دیکھیں خود ہی فرق معلوم ہوجائے گا۔ لیکن ہمیں یہ چیزیں اس لیے پسند نہیں کیونکہ جن لوگوں میں ہم رہتے ہیں اُنہیں یہ پسند نہیں۔ دوسروں کی پسند کا خیال رکھنے کی دوڑ میں ہمیں ہر وہ چیز بھولتی جارہی ہے جس کے ہم کبھی دیوانے ہوا کرتے تھے۔ اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں اپنا آپ مارنا پڑرہا ہے۔ہم نے کتنی محنت سے اپنے ذائقے تبدیل کر لیے، اپنے حلئے تبدیل کر لیے، اپنے رویے تبدیل کرلیے ۔۔۔اب ہم معمولی سی بات کو تھوڑا سا گھما کر بیان کرتے ہیں ، نہ جھوٹ بولتے ہیں نہ سچ۔۔۔لیکن معاشرے میں ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔اب بے شک ہماری قمیض کی بغلیں پھٹی ہوئی ہوں، پیروں میں قینچی چپل ہو، بال الجھے ہوئے ہوں لیکن ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہم ’’رائل فیملی‘‘ سے بلانگ کرتے ہیں۔ہر کسی نے اپنے دو چار پڑھے لکھے اور امیر رشتے دار ایسے ضرور سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں جن کے نام وہ اکثر استعمال کرتے ہے تاکہ انہیں اپنے اِن رشتہ داروں کے طفیل اس معاشرے کے اہم ترین افراد میں شمار کیا جائے۔خود وہ کیاہیں۔۔۔ یہ اُنہیں بتانے کی ہمت ہے نہ سکت۔۔۔!!!۔۔۔از گل نوخیزاختر- رمضان ایڈیشن میں کون سی سیئریل آن لائن کی جائے ؟
بیس ممبرز میں سے صرف چار ممبرز کے رپلائی آئے۔ایک بار تو سوچا کہ رمضان میں عید تک فورم بند کر دیا جائے۔مگر پھر سوچا کہ یہ سب ممبرز سے زیادتی ہو جائے گی۔ الہذا حسب معمول رمضان میں مکمل سیکس سیکشن بند کیئے جا رہئے ہیں۔ رمضان ایڈیشن میں پردیس اور مٹھو میاں سیئریل کو ایڈ کیا گیا ہے۔ پردیس کی اپڈیٹ یکم رمضان سے چاند رات تک کے لیئے اسپیشل سیکشن میں رمضان ایڈیشن میں کی جائے گی۔اور چاند رات کو اسے پردیس کے وی آئی پی سیکشن میں موجود تھریڈ میں مرج کر دیا جائے گا۔ ڈاکٹر خان کو وقت نے اجازت دی ۔ تو ہماری کوشش یہی ہو گی۔کہ مٹھو میاں کی اپڈیٹ بھی دی جا سکے۔ رمضان اسپیشل سیکشن ایک اچھی خبر یہ ہے۔کہ رمضان ایڈیشن کو مکمل رمضان وی آئی پی ممبرز کے ساتھ ساتھ فری ممبرز بھی پڑھ سکیں گے۔جو کہ فورم کی طرف سے فری ممبرز کے لیئے کسی گفٹ سے کم نہ ہو گا۔- فیس بک کی رنگ بازیاں - گل نوخیز اختر
اگر آپ نے بہترین ڈرامے دیکھنے ہوں تو ٹی وی بند کرکے فیس بک کھول لیں‘ ماشاء اللہ ایسا ایسا ڈرامہ ملے گا کہ دل عش عش کر اٹھے گا۔ پچھلے دنوں فادرز ڈے پر بھی فیس بک پر محبت اورشفقت بھرے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ میرے ایک جاننے والے جو عرصہ تین سال پہلے اپنے والد صاحب کو گھر سے نکال کر ایدھی سنٹر میں پھینک چکے ہیں انہوں نے بھی والد صاحب کے ساتھ خصوصی طور پر تصویر بنوائی اور اوپر کیپشن دیا’’میرے پیارے ابا جی! جن کے بغیرمیں کچھ بھی نہیں‘‘۔اس پوسٹ پر ڈھیروں کمنٹس آئے اور چاہنے والوں نے بھی اس عظیم بیٹے کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔میرے ایک اور جاننے والے کو شکایت تھی کہ اس کی پوسٹ پر کبھی تین سے زیادہ کمنٹس اور چار سے زیادہ لائکس نہیں ملتے‘ اِن میں سے بھی ایک لائک اُس کا اپنا ہوتاہے۔ اب اس نے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے اور اپنی ہر پوسٹ میں پہلے سے وفات شدہ رشتہ داروں کو دردناک طریقے سے دوبارہ مارنے کا سلسلہ شروع کیا ہے‘ اس کی نئی پوسٹس کے مطابق اس کی ماں جیسی داد ی موٹر کے پٹے میں پھنس کر جاں بحق ہوئی‘ ہر دل عزیز خالو ایک مرغی کو بچاتے بچاتے موٹر سائیکل گندے نالے میں جاگرے‘ باپ سے بھی زیادہ پیارے پھوپھا چھ سال تک کینسر سے لڑتے لڑتے نمونیا سے جاں بحق ہوئے اور زندگی کا آخری سہارا‘بڑی خالہ چکن کھاتے کھاتے ’’چکن پاکس‘‘ میں مبتلا ہوکر خالق حقیقی سے جاملیں۔موصوف کو سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے کا ایسا جنون ہے کہ جب حقیقت میں ان کے والد صاحب نے رحلت فرمائی تو کفن دفن کے انتظامات میں شریک ہونے کی بجائے لمحہ بہ لمحہ سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا اور جنازے کی رننگ کمنٹری فرمائی۔ کئی ایسے بھی ہیں جنہیں فیس بک پراسلام کی حیرت انگیز خبریں پھیلانے کا بڑا شوق ہے‘ یہ بیٹھے بٹھائے کسی کو بھی مشرف بہ اسلام کر دیتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں اب تک مسٹر بین‘ آرنلڈ‘ ٹام کروز‘ کلنٹن‘ٹونی بلیئر‘ڈیمی مور‘ شکیرا‘ سونیا گاندھی اور اسی نوح کی دیگر اہم شخصیات دائرہ اسلام میں داخل ہوچکی ہیں۔ان کو یہ بھی بڑا شوق ہے کہ یہ کوئی ایسی پوسٹ لگائیں جس میں ان کی تحقیقی صلاحیتوں کے سبھی قائل ہوجائیں لہذا یہ کسی بھی بڑی مونچھوں والے بندے کی مبہم سی تصویر لگاتے ہیں اور اس کے گرد سرخ دائرہ کھینچ کر اوپر لکھ دیتے ہیں’’گلوبٹ اسرائیلی وزیر اعظم کوچرس والا سگریٹ بھر کر دے رہا ہے‘‘۔کئی لوگ فیس بک کو محض اپنا چاند سا مکھڑا دکھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘ یہ ہر روز الٹے بلیڈ سے شیو کرکے اپنی تصویر بناتے ہیں اور پھر 6 کے سائز میں وال پر جڑ دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو خواتین کی پوسٹ کی بو سونگھتے پھرتے ہیں۔ خاتون اگر شاعرہ ہو تو سونے پہ سہاگہ ثابت ہوتی ہے‘ لہذا جس جس کو بھی اِن پیج اور کورل ڈرا کا تھوڑا سا بھی استعمال آتاہے وہ رنگ برنگی ڈیزائننگ کرکے خاتون کوان الفاظ میں بھیج دیتاہے’’اپنی پیاری‘ خوبصورت‘ دلکش‘ جاذب نظر ‘ سمارٹ اورحسین آپی کی نذر‘‘۔۔۔آپی بھی اس کا مان نہیں ٹوٹنے دیتیں اور پورے خلوص کے ساتھ نہ صرف اس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہیں بلکہ یہ 48 رنگوں سے سجا شعر اپنی وال پر بھی آویزاں کرتی ہیں۔ایسی ’’آپیوں‘‘کے شعر کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں’’نہ جانے کس کا انتظار ہے مجھ کو۔۔۔میں کافی دیر سے بیٹھی ہوں لیکن سمجھ نہیں آرہا‘‘۔ چونکہ شعر کے ساتھ آپی کی تازہ ’’پروفائل پکچر‘‘ بھی ہوتی ہے لہذا جونہی یہ شعر ’’آن ایئر‘‘ ہوتاہے ‘ چیتے کی رفتار سے لائکس اور کمنٹس آنا شروع ہوجاتے ہیں‘ کئی ایک تو جوش جذبات میں یہاں تک لکھ جاتے ہیں’’آپی!آپ کا شعر آپ ہی کی طرح دل موہ لینے والا ہے‘‘۔ کئی لوگوں نے فیس بک پردنیا کو سدھارنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے‘ یہ ہر وقت نیکی کی تلقین میں لگے رہتے ہیں ‘ قیامت کی نشانیاں بتاتے ہیں‘ غیر عورتوں سے باتیں کرنے کی علتیں بیان کرتے ہیں اور برائی کے خاتمے کے لیے دن رات پوسٹیں بھیجتے ہیں تاہم خود ان کا خاتمہ کو ئی فیک آئی ڈی والی عورت کرتی ہے۔ایسے لوگوں کی اکثریت ایک دن میں چھ بالغوں کے لطیفے اور بیس احادیث پوسٹ کرکے سوتی ہے۔ جس طرح سمارٹ فون استعمال کرنے والے کوئی بھی اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے اس کے ڈاؤن لوڈز چیک کرتے ہیں اسی طرح فیس بک پر بھی کسی پوسٹ کی اہمیت کا معیار اس کے شیئرز‘ لائیکس اور کمنٹس بن چکے ہیں‘ جن لوگوں کو یہ تینوں نعمتیں نصیب نہیں ہوتیں وہ اپنی پوسٹ کے نیچے دھمکی لگا دیتے ہیں کہ’’اگر آپ مسلمان نہیں تو اس کو شیئر مت کریں‘‘۔ کئی لوگ عجیب و غریب قسم کا سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہیں مثلاً’’میں اپنا فیس بک اکاؤنٹ بند کر رہا ہوں‘ آپ دوستوں کے ساتھ بہت اچھا وقت گذرا‘ کوئی غلطی کوتاہی ہوگئی ہو تو معاف کردیجئے گا‘‘۔اس قسم کے سٹیٹس کا ایک فائدہ ضرور ہوتاہے کہ دس پندرہ جاننے والوں کے کمنٹس آجاتے ہیں ‘ ان میں سے کئی قریبی دوست یہ بھی کہہ دیتے ہیں’’بڑی مہربانی اب واپس نہ آنا‘‘۔کئی لوگ اتنے فارغ ہوتے ہیں کہ فیس بک پر بیٹھے بیٹھے پندرہ بیس لوگوں کو گروپ چیٹ کا میسج بھیج دیتے ہیں تاہم اگر یہ بیس لوگوں کو میسج بھیجتے ہیں تو اگلے دس سیکنڈ میں پچیس لوگ اس ’’کھپ خانے ‘‘ سے لیوو کرجاتے ہیں۔فیس بک استعمال کرنے والوں کی اکثریت اپنا سافٹ امیج بنانے کی کوشش میں لگی رہتی ہے‘ یہ اپنی ماں کے ہاتھ کے بنے ہوئے سالن کی تصویریں تو پوسٹ کرتے ہیں لیکن کبھی ان کی ماؤں سے پوچھیں تو پتا چلے کہ وہ بیچاری دن رات کڑھتی رہتی ہیں کہ کم بخت ہر وقت بیوی کے پاس گھسا رہتاہے۔ وہ لوگ بھی فیس بک پر بھرے ہوئے ہیں جنہیں دوسروں کی پوسٹس کے کمنٹس پڑھنے کی بجائے دیکھنے کی بیماری ہے‘ جن کمنٹس کے ساتھ انہیں مستورات کی تصاویر نظر آتی ہیں یہ جھٹ سے انہیں فرینڈز ریکوئسٹ بھیج دیتے ہیں‘ یہ ایک دن میں بیس بیس لوگوں کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجتے ہیں اور پھر ایک دن وہ بھی آتا ہے جب ان کے سٹیٹس پر یہ جملہ پڑھنے کو ملتاہے’’الحمد للہ! آج میرے فرینڈز کی تعداد پانچ ہزار ہوگئی ہے‘‘۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن کی فرینڈز لسٹ میں وہ’’کالی کلوٹی‘‘ انگریز خواتین بھی شامل ہوتی ہیں جو آج کل ہر ’’فیس بکئے‘‘ کو اِن باکس میں میسج بھیجتی ہیں کہ ’’مجھے تمہارے پروفائل نے بہت متاثر کیا ہے مجھ سے میرے ای میل ایڈریس پررابطہ کرو میں تمہیں اپنے بارے میں بہت کچھ بتانا اور دکھانا چاہتی ہوں‘‘۔ایسی ہی خواتین کے روزانہ تین چار میسجز مجھے بھی موصول ہوتے ہیں اور دل خوش ہوجاتاہے کہ کتنی مشکل سے یہ نیک بیبیاں ٹائم نکال کر ‘ ڈکشنری کی مدد سے میرے اُردو کالمز پڑھتی اور سر دھنتی ہوں گی۔فیس بک پر گروپس بنانے کا بھی بہت رجحان ہے‘ کئی ایسے بھی گروپ ہیں جن میں صرف گروپ بنانے والا ہی ممبر ہے‘ جن گروپس میں پچاس سے زیادہ ممبرز ہیں ان میں سے اکثر ’’ہتھوڑا گروپ‘‘ کا روپ دھا رچکے ہیں۔بہرحال کچھ بھی ہو‘ فیس بک کسی بھی قسم کی رنگ بازی کے لیے بہترین جگہ ہے‘ مہنگائی کی وجہ سے ہم اپنا معاشی سٹیٹس تو اپ گریڈ نہیں کرسکتے ‘فیس بک کا سٹیٹس تو اپ ڈیٹ کرسکتے ہیں ناں۔۔۔!!! تحریر :گل نوخیز اختر- نیوٹن کے وہ قوانین جو وہ لکھنا بھول گیا تھا
نیوٹن کے وہ قوانین جو نیوٹن کسی وجہ سے لکھنا بھول گیا انتظاری قطاروں کا قانون اگر کسی جگہ ایک سے زیادہ انتظاری قطاریں ہونے کی صورت میں آپ ایک قطار چھوڑ کر دوسری میں جا کر کھڑے ہوں تو پہلے والی قطار تیزی سے چلنا شروع ہوجاتی ہے۔ مکینکی قانون کوئی مشین مرمت کرتے ہوئے جب آپکے ہاتھ تیل یا گریس سے بھر جائیں تو آپکی ناک پر کھجلی ہونا شروع ہوجاتی ہے ٹیلیفون کا قانون جب کبھی بھی رانگ نمبر ڈائل ملتا ہے تو کبھی مصروف نہیں ملتا ۔ ورکشاپ کا قانون اگر آپ نے ایک سے زیادہ چیزیں ہاتھ میں اٹھا رکھی ہیں تو ہمیشہ قیمتی اور نازک چیز زمین پر پہلے گرے گی دفتری قانون اگر آپ دفتر دیر سے پہنچنے پر اپنے باس کو " ٹائر پنکچر " ہوجانے کا بہانہ بنا کر مطمئن کریں تو اگلے دو سے تین دن کے اندر لازمی ٹائر پنکچر ہوتا ہے باتھ روم کا قانون جب آپ ٹائیلٹ میں ہوں یا نہانے کے دوران صابن لگا چکے ہوں تو بیٹھک میں ٹیلیفون بجنا شروع ہوجاتا ہے خفیہ ملاقاتی قانون جب آپ کسی خفیہ ملاقات میں ہیں تو کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی جاننے والا ضرور آپکو دیکھ لیتا ہے۔ سینما قانون راہداری سے دور نشستوں کی بکنگ والے افراد ہمیشہ دیر سے ہال میں پہنچتے ہیں اور پھر راہداری سے قریب بیٹھے افراد کی ٹانگوں کو مسلتے ہوئے اپنی نشست پر پہنچتے ہیں کافی/چائے کا قانون دوران کام اگر آپکا دل گرم گرم چائے یا کافی کو چاہ رہا ہے اور گرم گرم کافی /چائے آپکی ٹیبل پرپڑی ہو تو آپکا باس عین اسی وقت آپکو بلائے گا یا ٹیلفون کرے گا تاوقتیکہ کافی / چائے ٹھنڈی ہوجائے۔ امتحانی قانون دیانتداری اور محنت سے حل کیے گئے سوال کے نمبر ہمیشہ نقل شدہ جواب سے کم آتے ہیں۔ - مختصر ترین حقائق اور قصے