Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 27/02/23 in all areas

  1. توجہ فرمائیں!۔ کہاوت ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کرتی ہے ۔ اور یہ کہاوت فورم کے موجودہ حالات پر فٹ ہوتی ہے ۔اردو فن کلب 2008 سے 2023 تقریبا 15 سال سے اپنے ممبرز کو بلا تعطل اپنی سروس فراہم کرتا آیا ہے ۔ اور مزید بھی پر عزم ہے۔ ہماری اب تک کی فورم پالیسی میں ہماری اولین ترجیع ممبر کی پرائیویسی کو محفوظ رکھنا تھا ۔ جس وجہ سے ہم نے آج تک کسی بھی ممبر کا ریکارڈ نہیں رکھا تھا ۔ یہاں تک کہ ممبرز کے لاگ ان لاگز اور آئی پیز بھی ایک مخصوص وقت کے بعد سسٹم سے آٹو ختم کر دیئے جاتے تھے ۔ تاکہ فورم ممبرز کو فول پروف پرائیویسی میسر رہے ۔ اس بات کا فائیدہ بہت سی گندی مچھلیوں نے اٹھایا ۔ اور اب تک وہ اسی بات کا فائیدہ اٹھاتے آ رہے ہیں ۔ کیونکہ ہم نے خود ہی ہر قسم کے لاگز وغیرہ کو سسٹم سے ڈیلیٹ کرنے کا سسٹم رکھا تھا ۔ جس وجہ سے یہ چور ممبرز بچتے رہے ۔ اور اگر ان کو کسی طر ح ٹریک کر کے بین کر دیا جاتا ۔تو یہ نیو آئی ڈی سے دوبارہ رجسٹرڈ ہوتے ۔ اور ہماری پرائیویسی فیور کا پھر سے فائیدہ اٹھانے لگتے ۔ کسی بھی سائیٹ کا ایندھن اس کا ڈیٹا ہوتا ہے ۔ جس وجہ سے وہ چلتی ہے ۔ اور ہمارے فورم کا ایندھن رائٹرز ہیں ۔ وہ جتنا کچھ یہاں لکھتے ہیں اس سے ہم اس سائیٹ کو بھی مینج کرتے ہیں اور آپ ممبران کی تفریح بھی ہوتی ہے ۔ اور سابقہ کچھ سالوں سے مسلسل اس سائیٹ کا ڈیٹا مختلف گروپس میں سیل ہونے لگا ہے ۔ جس پر کافی رائٹرز دل برداشتہ ہو کر لکھنا ہی چھوڑ گئے ۔ رائٹرز کی مسلسل یہی شکایت رہی کہ ہم صرف اس سائیٹ پر لکھتے ہیں اور ہمارا ڈیٹا مختلف گروپس اور فیس بک پر دوسرے ممبرز کے نام سے پوسٹ ہوتا رہتا ہے ۔ محنت ہم کرتے ہیں نام کسی اور کا ہوتا ہے ۔ وہ یہاں فری لکھتے ہیں اور یہاں کے ممبرز ان کی کہانیوں کو چوری کر کے پیسے کما رہے ہیں ۔ الہذا وہ اب مزید نہیں لکھیں گے ۔ اور اس طرح ایک کے بعد ایک رائٹرز ہمارا فورم چھوڑتے گئے ۔ یا پھر انہوں نے لکھنا ہی چھوڑ دیا۔ ہم نے وقت کے ساتھ ساتھ کچھ سختیاں بھی کیں ۔ ممبرشپ سسٹم میں بھی تبدیلی کی ۔ کچھ رولز بھی تبدیل کیئے ۔ اور بہت سے پریمیم ڈیٹا چور ممبرز کو بین بھی کیا ۔ جس سے پریمیم ڈیٹا کی چوری میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ۔ مگرجو رائٹرز اپنے ناولز فری سیکشن میں پوسٹ کرتے ہیں اور ہمارے جتنے بھی ناولز فری سیکشن میں پوسٹ ہیں اس کی چوری مسلسل جاری ہے ۔اور کچھ ممبرز نے تو یہاں سے ڈیٹا چوری کر کے فورمز تک بنا لیئے ہیں ۔ جن پر موجود تمام ڈیٹا یہاں سے کاپی شدہ ہے۔ اس وقت ہمارے فورم پر 4 سے 5 رائٹرز موجود ہیں ۔ جن میں مرزا صاحب اور دوسرے کچھ رائٹرز دوست شامل ہیں ۔ کچھ دن پہلے مرزا صاحب نے بھی لکھنے سے معذرت کر لی ۔ اور اس کی مین وجہ بھی یہی تھی جو کہ اوپر بیان کی جا چکی ہے ۔ جیسے سائیٹ کا ایندھن رائٹرز ہیں۔ ویسے ہی رائٹرز کا ایندھن تعریف اور کمنٹس ہیں ۔ کوئی بھی رائٹر یا تو پیسوں کے لیئے یا پھر تعریف اور ستائش کے لیئے لکھتا ہے۔اور ابھی تک یہ سب رائٹرز بلا معاوضہ اپنی خدمات فورم پر ادا کر رہے ہیں ۔ اور ان کی شکایت بالکل جائز ہے ۔ نہ ان کو یہاں سراہا جا رہا ہے ۔ بلکہ ان کی محنت کو چوری کر کے مختلف گروپس پیسے کما رہے ہیں ۔ جس سے ان رائٹر زکی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے ۔اور سائیٹ کو نقصان کے ساتھ ساتھ فورم کے ممبرز کو بھی ان رائٹرز سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ ان سب معاملات کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنے رولز مزید سخت کرنے پڑ رہے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ چند ممبران کی وجہ سے ہمارے ہزاروں ممبرز مشکل کا شکار ہیں اور ان کو ان سخت رولز سے بہت مشکلات کا سامنا ہے ۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے ڈیٹا کو سو فیصد چوری سے محفوظ نہیں کیا جا سکتا ۔ مگر اس کے لیئے کوشش ضرور کی جا سکتی ہے ۔اور اس کے لیئے ہم اپنی پرائیویسی پالیسی میں مزید چند تبدیلیاں کر رہے ہیں ۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ ان تبدیلیوں کے باوجود بھی تمام ممبرز کی انفارمیشن صرف اور صرف ایڈمن تک محدود رہے گی ۔ اور فورم پر صرف اسی ممبر کو شو ہو گی جس نے اسے درج کیا ہو گا ۔اس بات کا تجربہ اس طرح سے کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی ممبر کسی بھی دوسرے ممبر کی پروفائل وزٹ کر کے دیکھ سکتا ہے ۔ جو انفارمیشن اس ممبر کی اسے شو ہو گی ۔ اس کی پروفائل کی بھی وہی انفارمیشن دوسرے ممبرز دیکھ سکیں گے۔ فی الحال ہم نے تمام اکاؤنٹس پر درست موبائل نمبر ، وٹس اپ نمبر اور درست فیس بک لنک کی پابندی لگائی ہے ۔اگر ہمیں مزید کسی انفارمیشن کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم وہ بھی ضرور ایڈ کروائیں گے ۔ اور اس رولز کے لاگو کرنے پر تقریبا 80 پرسنٹ ممبرز نے اپنی انفارمیشن ایڈ کر دی ہے ۔ جس کو ویری فائی بھی کیا جائے گا ۔ 15 پرسنٹ ممبرز ابھی فورم وزٹ نہیں کر سکے ۔ اور 5 پرسنٹ ممبرز نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے ۔اور مختلف بہانے شو کیئے ہیں ۔ ہم نے ان 5 پرسنٹ ممبرز کو نوٹ کر لیا ہے ۔ جو اپنی انفارمیشن ایڈ کرنے میں حیل حجت کر رہے ہیں ۔ کچھ نے آج تک فیس بک اکاؤنٹ رکھا ہی نہیں اور کچھ کو فیس بک اکاؤنٹ بنانا ہی نہیں آتا ۔ کچھ ایسے ہی گھسےپٹے بہانے ہمیں سننے کو مل رہے ہیں۔1 مارچ تک سب ممبرز اپنی انفارمیشن ایڈ کر سکیں گے اس کے بعدکسی بھی ممبرکے پاس یہ آپشن نہ ہو گی۔ کچھ ممبرز پرائیویسی کو لے کر بہت ایموشنل بحث کرتے ہیں ۔ میرا ان سے سوال ہے کہ ان کے موبائل میں موجود کون سی ایپ ہے جو اس ممبر کی لوکیشن ،سرچ ہسٹری ،فون بک، اور گیلری ، کو دیکھنے کی اجازت نہیں رکھتی ۔ اور بہت سی ایپ ان ممبرز کا ڈیٹا اسکین بھی کرتی ہیں اور ان کو استعمال بھی کرتی ہیں ۔ اور اس بات کی اجازت ان کو ڈاؤنلوڈ کرنے والے ممبرز خود دیتے ہیں ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے بغیر ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ۔ اور ایسے ممبرز صرف تجربات اور نئی غیرمعروف ایپ کی ٹیسٹنگ میں ہی اپنا بہت سا قیمتی ڈیٹا ان ایپ سرور کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ جبکہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ۔ اور صرف اور صرف فورم کے ڈیٹا اور ماحول کی حفاظت کے لیئے کچھ انفارمیشن کو ضروری کیا گیا ہے۔ بہت سے ممبرز کا یہ سوال ہو گا کہ اس سے کیا فائیدہ ہو سکتا ہے ۔یا کچھ ممبرز اب بھی غلط انفارمیشن یا کسی بھی دوسرے ممبر کی فیس بک پروفائل کا لنک ایڈ کر سکتے ہیں ۔وغیرہ وغیرہ۔ ہم فورم کے تمام اکاؤنٹس کو موبائل نمبر سے لنک کرنے جا رہے ہیں ۔ ممبر کے موبائل نمبر کی تصدیق ۔او ٹی پی۔میسج سے کی جائے گی ۔ اور ممبرز کی فیس بک پروفائل کی تصدیق ان کے تصدیقی موبائل نمبر کو ان کی پروفائل میں چیک کر کے کی جائے گی۔اورتصدیقی موبائل نمبر کو بھی دوبارہ رینڈملی کچھ عرصہ میں چیک کیا جاتا رہے گا ۔پاسورڈ بھولنے پر صرف اسی نمبر پر پاسورڈ مہیا کیا جائے گا۔اور مزید بھی کچھ سسٹم کے معاملات ممبرز کے موبائل نمبر سے لنک ہوں گے۔ جوجو ممبرز ابھی بھی درست انفارمیشن درج نہیں کریں گے ۔ یا پروفائل بائے پاس کریں گے۔ان کے اکاؤنٹ کو لمیٹڈ کر دیا جائے گا ۔ ہم ویری فائیڈ ممبرز کے لیئے ایک اسپیشل سیکشن بھی بنا رہے ہیں ۔ جس میں کوالٹی ان پیج کی سٹوریز ہوں گی ۔ اور اس کی کوئی فیس نہیں ہو گی ۔اور صرف ویری فائیڈ ممبرز اس سیکشن کو وزٹ کر سکیں گے ۔جو پریمیم ممبرز اپنی پروفائل ویری فائیڈ نہیں کروائیں گے ۔ ہم ان کی ممبرشپ کی ایکسپائری ڈیٹ تک ان کے اکاؤنٹ کو بحال رکھیں گے ۔ اور ممبرشپ ایکسپائری کے بعد ان کی ممبرشپ کی تجدید اپروول نہیں کی جائے گی۔ بہت سے ممبرز اکثر اس بات کا شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ کوئی کہانی مکمل نہیں کی جاتی ۔اور لکھنے والے اسے بیچ میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ اس بارے میں ہم کچھ ورکنگ کر رہے ہیں جس کے بعد ہر مکمل کہانی لکھنے والے رائٹر کو کہانی مکمل ہونے پر فورم کی طرف سے باقاعدہ ادائیگی بھی کی جائے گی ۔ اور اسے ایوارڈز اور پوائنٹس بھی دیئے جائیں گے ۔ جو فورم پر اس کے بہت کام آئیں گے۔اور نئے لکھنے والوں کو بھی لکھنے کا حوصلہ ہو گا۔اور مالی فائیدہ بھی حاصل ہو گا۔ مزید انفارمیشن اسی تھریڈ میں اپڈیٹ کی جاتی رہیں گی ۔کسی بھی تجویز کے لیئے رپلائی کریں اور تھریڈ لائک ضرور کریں ۔ شکریہ
  2. مجھے ڈائریکٹ میسج میں آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے۔
  3. قسط نمبر 2 میں نے راحت سے کہا اب تم سے کیا چھپانا تم سب کچھ دیکھ بھی چکے ہو اور جان بھی چکے ہو مگر یہ بات بس اپنے تک رکھنا بتانا کسی کو نہیں سمجھ گئے راحت نے کہا مجھے پاگل سمجھا ہے کیا میں کسی کو نہیں بتاتا ۔ مجھے بھی بہت مزہ آتا ہے تم دونوں کو یہ سب کرتے دیکھ کر ۔اچھا جی بڑے مزے لے رہے ہو چھپ چھپ کر ۔راحت نے کہا ایک بات کہوں برا تو نہیں مانو گے میں نے کہا ہاں ہاں کہو اس نے کہا مجھے بھی تمہارے ساتھ وہ سب کرنا ہے میں حیران رہ گیا کیونکہ مجھے توقع نہیں تھی کہ راحت مجھ سے یہ بات کہےگا میں ہنسنے لگا کہا تمہارا کیا مطلب ہے تم میری گانڈ مارنا چاہتے ہو ؟راحت بھی شرماتے ہوئے ہنسنے لگا اور کہنے لگا نہیں بلکہ میں تو تم سے مروانا چاہتا ہوں۔ میں حیران ہوا کہ یہ اچانک اسے کیا ہو گیا ہے میں نے کہا میرے ساتھ ایسا مذاق نہیں کرو اس نے کہا میں مذاق نہیں کر رہا میرا بھی دل کرتا ہے مزہ لینے کا عروسہ کی طرح پھر ایک آنکھ دبا کر کہنے لگا اگر مارنے بھی دو گے تو مزہ ہی آجائے گا میں نے کہا تو تو جان ہے اپنی تیرے لیے تو یہ قربانی بھی دینے کیلئے تیار ہوں مگر مجھے نہیں لگتا عروسہ کے ہوتے ہوئے مجھے یہ قربانی دینی پڑے گی میری بات سن کر خوشی سے چہکتے ہوئے کہنے لگا کیا سچ میں عروسہ مجھے بھی کرنے دے گی میں نے کہا کیوں نہیں وہ تم سے تو مجھ سے بھی زیادہ پیار کرتی ہےاگر مجھے کرنے دے سکتی ہے تو تمہیں کیوں نہیں اچھا وہ بھی دیکھ لیں گے مگر ہمارا پروگرام کب ہے پھر ؟ میں نے کہا جب کہو میری جان اس نے کہا ٹھیک ہے آج میں سٹڈی روم میں عروسہ سے جلدی آجاؤں گا تو ہم کر لیں گے میں نے کہا ٹھیک ہے ۔یہ باتیں کرتے ہوئے میرا لن کھڑا ہونے لگا تھا اور میری شلوار میں تمبو بننے لگا تھا کہ میں نے جلدی سے واشروم کا رخ کیا اور جا کر پیشاب کیا تو لن کا تناؤ ختم ہوا( یہاں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ پیشاب کرنے سے لن کا تناؤ ختم ہو جاتا ہے) اب مجھے سٹڈی ٹائم کا انتظار تھا۔ آخر کار وقت ہوا اور راحت میرے گھر آگیا اور کہنے لگا چلو اوپر سٹڈی روم میں چلتے ہیں ہم دونوں اوپر آگئے عروسہ کے آنے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھاہم روم میں آگئے اور آتے ہی اندر سے دروازہ بند کر لیا اور میں راحت کے پاس چلا گیا ہم بیڈ پر بیٹھ گئے مگر راحت کچھ نہیں کر رہا تھا شرما رہا تھا میں نے کہا اب کیوں شرما رہے ہو پہلے کہتے ہوئے تو ایسے نہیں شرمائے اس نے کہا وہ بات نہیں ہے دراصل مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے شروع کریں میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھتے ہوئے کہا ایسے۔ اسے اور مجھے بھی ایک کرنٹ سا لگا کیونکہ وہ پہلی بار کوئی لن ہاتھ میں پکڑ رہا تھا اور میرے لن کو بھی پہلی بار پکڑ رہا تھا مجھے بھی عجیب سا مزہ آیا تھا وہ میرے لن کی لمبائی موٹائی چیک کر رہا تھا ہاتھ میں لیکر اور کہنے لگا یہ تو کافی بڑا ہے مجھے تو بہت درد دے گامیں نے اس کے لن کو پکڑ لیا اور کہا یہ کونسا چھوٹا ہے یہ بھی میرے جتنا تو ہے اور کہا شروع میں تو کچھ درد ہوتا ہی ہے مزے کیلئے کچھ درد تکلیف تو برداشت کرنی ہی پڑتی ہے فکر مت کرو کچھ نہیں ہوگا اگر عروسہ برداشت کر سکتی ہے تو تم بھی کر لو گے راحت کے بارے بتا دوں اسکے ہاتھوں میں بہت ملائمت تھی جیسے کسی لڑکی کے ہاتھ ہوں گورا رنگ تھا گلابی درمیانے ہونٹ تھے اس کے قد میرے برابر تھا یعنی پانچ فٹ کے لگ بھگ اور سمارٹ جسم تھا میں نے کہا دیر نہیں کرتے چلو کپڑے اتارو اس نےکہا سارے میں نے کہا ہاں اس نے کہا نہیں سارے نہیں کوئی آسکتا ہے مجھے اسکی بات ٹھیک لگی میں نے کہا چلو ٹھیک ہے صرف شلوار نیچے کر لو اتنے میں میں اپنی پینٹ کی زپ کھول کر لن باہر نکال چکا تھا انڈرویئر تو پہنتے نہیں تھے ابھی تک ہم لوگ جیسے ہی اس نے شلوار نیچے کی میں نے کہا بیڈ کی طرف منہ کرو جیسے ہی اس نے بیڈ کی طرف منہ کیا میں نے اسے کھڑے کھڑے ہی بیڈ پر جھکا دیا اب اسکا اگلا دھڑ بیڈ پر لیٹا تھا اور ٹانگیں نیچے تھیں اور اسکی گاند میرے لن کے سامنے ۔ دوستو آپ یقین نہیں کریں گے بالکل سفید اور ملائم سی گانڈ تھی سوراخ کے گرد تھوڑی گلابی نظر آرہی تھی بالکل جیسے گلابی ہونٹ تھے اس کے آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو دنیا جہان بھول جاتا ہوں کیونکہ ایسی گانڈ تو ہر کسی کا ڈریم ہوتی ہے اگر اسے ڈریم گانڈ کہا جائے تو بے جا نا ہوگا اس حوالے سے میں بہت لکی تھا ایک لڑکی کی اتنی پیاری گانڈ مل رہی تھی اور اب یہ گانڈ جس نے لڑکیوں لڑکوں سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا مجھ سے رہا نا گیا اور میں اپنا انگوٹھاآرام سے اس کے ملائم سوراخ پر پھیرنے لگا میں تو پاگل ہو نے لگا تھا ساتھ راحت کو بھی مزہ آرہا تھا کیونکہ وہ جھٹکے لینے لگتا اور ساتھ سی سی کی آوازیں بھی نکالنے لگتا خیر میں نے ہوش سنبھالا اور اصل کام کی طرف بڑھنے لگا۔ میں نے تھوک ہاتھ پر ڈال کر سوراخ پر ملا اور پھر اور تھوک اپنے ٹوپے سے لے کر لن کے اینڈ تک سارے لن پر لگایا اور ٹھوپا سوراخ پر رکھ کر آہستہ آہستہ مساج کرنے لگا اور کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد دباؤ بڑھانے لگا ٹائیٹ سوراخ کھلنے لگا اور میرے ٹوپے کو اندر آنے کی جگہ دینے لگا ٹوپے سے کچھ آگے تک اندر جا چکا تھا جب راحت کی بس ہو گئی اور مجھے روکنے لگا کہ بس درد بہت ہو رہا ہے میں ایک لمحہ وہیں رکا اور پھر لن تنگ گانڈ سے کھینچ کر نکال لیااور پھر بہت سارا تھوک سوراخ میں ڈالا اور ایک بار پھر گانڈ کا سفر شروع کیا اس بار کچھ زیادہ کامیابی ملی اور آدھا اند پہنچانے میں کامیاب رہا اور وہیں رک کر راحت کا لن ہاتھ میں لیا اور دبانے لگا اور پھر باہر نکال لیا اور ایک بار پھر تھوک گانڈ اور لن کو لگا کر چکنا کیا اور لن کع اپنی منزل کی طرف روانہ کیا اور اس بار راحت کی تکلیف کی پروا کیے بغیر پورا اندر پہنچا کر دم لیا اور پھر سے اس کے لن کو پکر کر اسکے اوپر لیٹ گیا ۔ انسان اپنا پہلا مزہ نہیں بھولتا کیونکہ اس جیسا مزہ انسان کو پھر کبھی نہیں ملتا جو مجھے عروسہ سے ملا تھا مگر راحت والا مزہ تنگ نرم سوراخ اور اتنی خوبصورت گانڈ یہ بھی کوئی بھولنے والی چیز نہیں تھی۔ کچھ دیر ایسے راحت کے لن کو ہاتھ میں دبانے اور اوپر لیٹے رہنے کے بعد میں پیچھے ہٹا اور لن ایک بار پھر کھینچ کر باہر نکال لیا اور گانڈ اور لن تھوک سے اچھی طرح تر کرنے کے بعد ایک بار پھر لن کو اندر کا راستہ دکھایا جو کہ اب کسی حد تک آرام سے اندر چلا گیا مگر میں اب رکنے کے موڈ میں نہیں تھا ایک تو وقت بہت ہو گیا تھا اور دوسرااب مجھ سے اور برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا اور میں اندر باہر کرنے لگا مگر آرام سے دومنٹ تک ایسے کرنے کے بعد راحت کی گانڈ کی پہلی آبپاشی ہونے کا وقت ہوا اور اس بنجر زمین کو میں کے سیراب کر دیا میرا لن جھٹکے کھاتے ہوئے مجھے مزے کی وادیوں میں لے جا رہا تھا اور میری چنگھاڑ کے ساتھ ساتھ میری آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں۔اور میں اس کے اوپر گر گیا اور ایک منٹ بعد پیچھے ہٹ گیا اور اپنا مرجھایا ہوا لن کاغذ سے صاف کیا اور اسے زپ سے اندر کر کے زپ بند کر لی اور راحت نے بھی اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے۔اب عروسہ کے آنے کا ٹائم ہونے والا تھا اس لیے ہم نے جلدی سے دروازہ کھولا اور پڑھنے والا ماحول بنا لیا ۔ اب مجھے عروسہ کے بجائے راحت کا انتظار ہوتااور میرا دل کرتا میں روز اسکی پیاری گانڈ ماروں یہ بات نہیں تھی کہ عروسہ کی گانڈ میں کوئی کمی تھی نہیں بلکہ نئی چیر انسان کو کچھ دن زیادہ بھاتی ہے اس سے اگلے دن بھی راحت جلدی آگیا تھا اور ہم بیڈ پر برابر میں بیٹھ گئے تھے اور ایک دوسرے کے لن سے کھیل رہے تھے راحت کا لن بھی جسامت میں میرے لن جتنا تھا اور بہت زیادہ خوبصورت تھا بالکل سفید رنگ کا اور اسکا ٹوپا گلابی تھا اور اس کے لن کے ارد گرد بالوں کا نشان تک نہ تھا جبکہ میرے لن پر اب ہلکے سے بال آنے لگے تھے لن سے کھیلتے کھیلتے میں نے راحت کو کہا کیا تمہیں اس میں مزہ آرہا ہےاس نے کہا ہاں تھوڑا آرہا ہے میں نے اپنے ہاتھ کی حرکت تیز کر دی کیونکہ مجھے پتا تھا اس طرح کرنے سے مزہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ میں مٹھ مارنے کا تجربہ بھی کر چکا تھا۔ اور پھر ویسے ہی ہوا کچھ ہی دیر میں راحت آپے سے باہر ہونے لگا اور میرا ہاتھ پکڑنے لگا اور مجھے روکنے لگا اور کہنے لگا رک جاؤ مجھے کچھ ہو رہا ہےمگر میں رکا نہیں ، راحت نے میرا ہاتھ پکڑ کر ہٹا دیا میں نے کہا یہ کیا راحت اصل مزہ تو اب شروع ہی ہوا تھا اور تم نے مجھے روک دیا اس نے کہا یہ کیسا مزہ ہے پاگل مجھے کچھ ہو رہا تھا میری جان نکلنے لگی تھی ۔میں نے کہا ایک دن سمجھ جاؤ گے خیر اب جلدی سے کپڑے اتارو میں نے جلدی سے اپنی شلوار اتار کر پھینک دی تھی اس نے بھی اتار دی اور بیڈ پر لیٹتے ہوئے گانڈ میری طرف کر دی کل والی پوزیشن میں مجھے اس پر بہت پیار آرہا تھا میں اسکی گانڈ کو چومنے لگا اسکی کمر پر پیار کیا اسکے چوتڑوں پر پیار کیا اس نے بعد تھوک اسکی گانڈ کے سوراخ پر ڈالی اور پھر اپنے لن کو تھوک سے تر کرنے لگا پھر ٹوپا سوراخ پر رکھا تنگ سوراخ پر اور جھٹکا دیا راحت کی ہلکی چیخ نے میری کامیابی کا علان کیا اور آدھا لن تنگ گانڈ میں جا چکا تھا جو کہ بری طرح سے تنگ سوراخ میں جکڑا ہوا تھا جیسے میرے لن کو درمیان سے کاٹ دے گامیں نے اسے واپس کھینچا پھنس کر باہر آرہا تھا میں اور بہت سارا تھوک اسکے سوراخ اور اپنے لن پر لگایا اور تنگ سوراخ پر رکھ کر ایک دھکا لگایا اب آدھے سے زیادہ اندر جا چکا تھا راحت نے کہا آرام سے درد ہوتا ہے میں نے اسکی نہیں سنی اور ایک اور دھکا لگایا اور سارا لن اسکے تنگ سوراخ میں غائب کر دیا مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرا لن کسی گرم شکنجے میں جکڑا گیا ہو مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ایک منٹ ایسے ہی رکا رہا اس کے لن کی مٹھ مارتا رہا اس کے بعد اندر باہر کرنا شروع کیا میرا لن مشکل سے آجا رہا تھا ابھی مجھے ایک منٹ ہی ہوا تھا میرے لیے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔ دوستو جب بندہ نیا نیا جوان ہوتا ہے اور اس کام میں پڑتا ہے تو اسے کوئی تجربہ نہیں ہوتا نیا نیا مزے سے آشنا ہوتا ہے تو اس منزل کو بھی جلد پہنچنا چاہتا ہے ٹائمنگ کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی بس جلد سے جلد وہ منی نکال کر مزے کی انتہا کو پہنچنا چاہتا ہے اسی طرح مجھے بھی جب لگا میں اور برداشت نہیں کر پاؤں گا تو اپنی سپیڈ بڑھا دی اور تیز تیز کرنے لگا اور پھر آخر کار میں مزے کی اس انتہا کو پہنچ گیا جس کا خواہاں تھااور میرا لن راحت کی گاند کو راحت پہنچانے لگا اور تین چار پچکاریوں میں اپنی ساری منی اسکی تنگ اور خوبصورت گانڈ میں انڈیل دی اور میں راحت کے اوپر گر کر چنگھاڑتے ہوئے ہانپنے لگا کچھ دیر ایسے ہی پڑا رہا جب حواس بحال ہوئے تو اٹھا اور لن باہر کھینچا اور نکال کر صاف کیا اور اپنی شلوار اٹھائی اور پہن لی اور اسکے ساتھ ہی راحت نے بھی اپنی شلوار پہن لی اور ہم سٹڈی کرنے لگے راحت نے پوچھا مزہ آیا میں نے کہا ہاں بہت زیادہ اور تمہیں ؟ اس نے کہا پہلے تو درد ہوتا تھا مگر اب درد نہیں ہوا تھوڑا مزہ آیا ہے۔ پھر عروسہ بھی آگئی اور ہم سٹڈی کرنے لگے سٹڈی کرنے کے بعد راحت تو چلا گیا مگر عروسہ بیٹھی رہی راحت کے جانے کے بعد کہنے لگی یہ راحت آجکل کچھ جلدی نہیں آنے لگ گیا کتنے دن سے ہمیں موقع بھی نہیں مل رہا ،کیا خیال ہے مزہ کریں یہ کہہ کر اسنے میرا لن پکڑ لیا اور دبانے لگی میرا لن بھی اسکے ہاتھ کا لمس پاتے ہی آدھ کھڑا ہوچکا تھا مگر میں نے کہا آج نہیں یار کافی ٹائم ہوگیا ہے کوئی آبھی سکتا ہے عروسہ نے کہا تو پھر کب میں نے کہا کل دیکھتے ہیں۔ اگلے دن میں سکول چلا گیا اور آدھی چھٹی کے ٹائم میں فیاض کے پاس چلا گیا جو میرے ان چند دوستوں میں سے تھا جن سے مجھے سیکس کے بارے جاننے اور سیکھنے کو ملتا تھا ہم آٹھویں جماعت میں تھے وہ ہم سے ایک جماعت آگے یعنی نہویں یا جماعت نہم میں تھا اسکا قد میرے جتنا تھا مگر وہ کافی عمر کا لگتا تھا کیونکہ اسکی داڑھی اور مونچھ بہت حد تک آچکی تھی اور وہ سیکس کے معاملے میں کافی تجربہ کار تھا۔ میں نے اس سے کہا کیسے ہو دوست سناؤ آج کل کس لڑکی کی گانڈ مار رہے ہو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا تم پاگل ہو کیا لڑکیوں کی تو چوت مارتے ہیں گانڈ تیرے جیسے لونڈوں کی ماری جاتی ہے مجھے برا لگا کہ اس نے میرے بارے یہ بات کیوں کی میں اٹھ کر آنے لگا تو اس نے کہا ناراض کیوں ہو رہے ہو میں سچ بتا رہا ہوں اور میں نے ایک مثال دی ہے تیری مار نہیں رہا میں چل بیٹھ جا مذاق کر رہا ہوں میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا لڑکیوں کی چوت مارتے ہیں گانڈ نہیں پاگل مگر ایک بات یاد رکھ چوت صرف اس لڑکی کی مارتے ہیں جو جوان ہو جوابھی جوان نہ ہو اسکی چوت نہیں مارنی چاہیے۔ میں نے کیا یہ کیسے پتا چلے گا کونسی جوان ہے کونسی نہیں ؟ اس نے کہا تم بالکل بدھو ہو دیکھو جو لڑکی جوان ہوتی ہے اسکی چھاتیاں اگ آتی ہیں اور اسکو ماہواری آنے لگتی ہے میں نےحیران ہو کر پوچھا یہ ماہواری کیا ہوتی ہے اس نے مجھے جو بتایا اس نے میرے چودہ طبق روشن کر دیے اس نے کیا ہر مہینے لڑکیوں کی چوت سے خون جیسا کچھ نکلتا ہے اس کو ماہواری یا مینسز کہتے ہیں میں حیران ہوا اور پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے اس نے کہا اس کا مطلب ہوتا ہے لڑکی جوان ہے اور اس میں اب بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت آگئی ہے میں نے کہا تو کیا ہر لڑکی کو ماہواری آتی ہے اس نے کہا ہاں ہر جون لڑکی کو آتی ہے مگر جب بچہ پیٹ میں بنتا ہے تو ماہواری رک جاتی ہے ۔یہ سب باتیں میرے لیے نئی اور حیران کن تھیں آدھی چھٹی کو چند منٹ رہ گئے تھے اس لیے میں انہیں سوچوں میں گم واپس آگیا اور سوچ رہا تھا کیا عروسہ کو بھی ماہواری آتی ہوگی پھر سوچا آج پوچھ لوں گااور پھر چھٹی تک میں انہیں باتوں کی ادھیڑ بن میں لگا رہا۔ چھٹی کے بعد ہم گھر آگئے اور پھر مجھے انتظار تھا کہ کب عروسہ آئے اور میں اس سے پوچھوں اور پھر عروسہ اور راحت ایک ساتھ آگئے اور مجھے کچھ کرنے اور پوچھنے کا موقع ہی نا ملا سٹڈی کرتے ہوئے میں نے عروسہ کے کان میں کہا رات کو میں تمہارے چھت والے کمرے میں آؤں گا نو بجے اور پھر رات کو میں اپنی چھت سے راحت کی چھت پر اور پھر وہاں سے عروسہ کی چھت والے کمرے میں چلا گیا ابھی وہاں گیا ہی تھا کہ عروسہ بھی آگئی ہم کمرے میں چلے گئے اور لائٹ بند کر دی مگر کمرے میں پھر بھی دیکھنے لائق روشنی تھی کیونکہ باہر سے محلہ روشن تھا اور باہر کی روشنی کمرے کو بھی کچھ نہ کچھ روشن کر رہی تھی میں جاتے ہی اسے بانہوں میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا اسکے چھوٹے چھوٹے بوبز دبانے لگا اور پھر ہاتھ نیچے لے جا کر نرم اور موٹی گاند دبانے لگا اسکی گانڈ پہلے سے زیادہ موٹی لگ رہی تھی مطلب کمر سے کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی میں نے جلدی سے اسکی شلوار نیچے کردی اور اسکی گانڈ کی دراڑ میں ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر آگے چوت پر لے آیا اور اس پر ہاتھ پھیرنے اور سوراخ چیک کرنے لگا عروسہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگی خیر تو ہے آج یہاں کیا کرنے لگے ہو میں نے کہا ایک بات تو بتاؤ تمہیں ماہواری آتی ہے ؟ وہ حیران ہوئی اور کہنے لگی تمہیں کیسے پتا چلا ابھی کچھ دن پہلے آئی ہے پہلی دفعہ میں نے کہا تو ٹھیک ہے پھر آج میں یہاں لن ڈالوں گا میں نے چوت میں انگلی گھساتے ہوئے کہا وہ گھبرا گئی اور میرا ہاتھ پکڑ کیا کہنے لگی نہیں نہیں یہاں نہیں میں نے بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانی میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں اب اپنی قمیض بھی اتار دو اس نے کہا نہیں شلوار اتاری ہوئی ہے ایسے کر لو جیسے پہلے کرتے ہو میں نے کہا نہیں سارے اتارو آج اور میں نے اسکی قمیض پکر کر اوپر کرنی چاہی تو اس نے بھی ساتھ دیا اور اتار دی پھر میں اسکے بدن کو چومنے لگا اور وہاں سے اسکے بوبز پر آگیا اور بوبز چوسنے اور چومنے لگا ساتھ ساتھ اسکی گانڈ میں بھی ہاتھ پھیر رہا تھا پھر کچھ دیر بوبز چوسنے کے بعد اسے کہا جھک جاؤ وہ ڈوگی سٹائل میں آگئی تو میں اسکی گاند کا اور کمر کو چومنے لگا اور پھر اپنا منہ سوراخ کے قریب لا کر اس پر تھوک پھینکا اور انگلی سے اچھے سے لگا دیا اور پھر تھوک سے اپنے لن کو چکنا کیا اور گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا اور پھر ایک ہلکا سا جھٹکا مارا ٹوپے سے کچھ زیادہ اندر تھا پھر لن نکال کر اور تھوک لگایا اور پھر سارا ہی اندر کر دیا نرم اور گرم گانڈ میں اور پھر سارا اندر کر کے وہیں رک گیا اور پھر اسکی پیٹھ چومنے لگا اور نیچے ہاتھ لے جا کر اسکے بوبز دبانے لگا کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد لن کو حرکت دینی شروع کر دی اور پھر درمیانی سپیڈ سے اندر باہر کرنے لگا ساتھ ہی ساتھ اسکے بوبز بھی دبا رہا تھا ایک دو منٹ اندر باہر کرنے کے بعد لن باہر نکالتا اور تھوک لگا کر پھر ڈال دیتا آج مجھے پانچ منٹ ہو چکے تھے اندر باہر کرتے ہوئے اور اب میں لذت کی انتہا کو جلد سے جلد پہنچنا چاہتا تھا اور کچھ دیر بعد مجھے ایسے لگا جیسے میری جان لن سے نکلنے لگی ہے اور میرا لن اور سخت ہو کر پھول گیا اور میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی اور پھر لن کو گانڈ کی گہرائی میں روک کر فارغ ہونے لگا میرا لن جھٹکے کھا کھا کر منی کی پچکاریاں مار ریا تھا اور میں چنگھاڑتے ہوئے اسکے اوپر پڑا تیز سانسیں لے رہا تھا اور لگ رہا تھا آج عروسہ کو بھی بہت مزہ آیا ہے کیونکہ وہ اپنی گانڈ کو بھی لن کے گرد مزید کس رہی تھی دبا رہی تھی بھینچ رہی تھی نچوڑ رہی تھی ۔ ساری منی نکل جانے اور حواس بحال ہونے کے بعد میں اس کے اوپر سے اترا اور وہاں پڑے پرانے کپڑے سے اپنا لن صاف کرنے لگا اور اتنے میں عروسہ نے بھی اپنے کپڑے پہن لیے اور پھر وہ نیچے چلی گئی اور میں واپس اپنے گھر آگیا ۔ تو دوستو وقت گزر رہا تھا اور میں کبھی عروسہ کی اور کبھی راحت کی گانڈ مار رہا تھا یہ سب کرتے مجھے اب دو تین مہینے ہو چکے تھے اب میرا لن بھی لمبائی اور موٹائی میں کچھ بڑھ چکا تھا اور اب راحت کی گانڈ بھی کچھ موٹی ہوکر مٹکنے لگی تھی اور اسکے بوبز بھی کچھ بڑھ رہے تھے مگر اتنے نہیں تھے کہ کپڑوں میں واضع نظر آتے مجھے اس کے بوبز کا اندازہ تب ہوا جب میں نے ایک رات اسے چودتے ہوئے سارے کپڑے اتارنے کا کہا میں اسکے بوبز دیکھ کر حیران ہوا اسکے بوبز عروسہ جتنے بڑے تو نہیں تھے مگر کافی ہوگئے تھے اس نے اپنا حلیہ چونکہ لڑکوں والا رکھا تھا اس لیے دیکھنے والوں کو زیادہ محسوس نہیں ہوتے تھے اور اسکا لن بھی میرے لن کی طرح بڑھ رہا تھا ۔ اور میں سکول میں اپنے اس کمینے دوست فیاض سے بہت کچھ سیکھ رہا تھا جان رہا تھا اور وہ سب کچھ راحت اور عروسہ پر آزما رہا تھا ایسے سمجھ لو کہ میں پڑھنے اور سیکھنے کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل بھی کر رہا تھا اور پھر ایک دن عروسہ نے بھی مجھے راحت کو چودتے ہوئے دیکھ لیا۔شاید وہ ہمیں کب سے دیکھ رہی تھی جب میں فارغ ہو گیا اور لن راحت کی گانڈ سے نکال لیا وہ ایک دم سے کھڑکی سے ظاہر ہوئی کھڑکی ایسے بند تھی کنڈی کرنا ہم بھول گئے تھے ، اس نے کہا یہ کیا ہو رہا ہے ۔ہم دونوں چونک گئے کھڑکی کی طرف دیکھاتو عروسہ کھڑی مسکرا رہی تھی میرا لن مرجھا چکا تھا مگر راحت کا لن اب بھی نیم کھڑا تھا وہ کبھی مجھے دیکھتی تو کبھی راحت کو اور اس کے لن کو میں نے جلدی سے کپڑے پہنے اور جا کر دروازہ کھولا تو وہ اندر آگئی ۔کہنے لگی کب سے چل رہا ہے یہ سب زیادہ ٹائم نہیں ہوا زیادہ ٹائم نہیں ہواعروسہ نے مسکرا کر راحت کی طرف دیکھا راحت شرما رہا تھا اس سے عروسہ نے راحت سے کہا تم کب سے گانڈو بن گئے ہو میں تو تمہیں معصوم اور شرمیلا سمجھتی تھی راحت نےفٹ سے کہا جب سے تمہیں گانڈ مروتے ہوئے دیکھا تب سے میں بھی بن گیا عروسہ کو نہیں پتا تھا کہ راحت سب جانتا ہے وہ یہ سن کر چونک پڑی اور گھبرا گئی میں نے اسے تسلی دی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں راحت شروع سے سب جانتا ہے اور ہمارا ہم راز ہے کسی کو نہیں بتائے گاتب عروسہ نارمل ہوئی اور پھر ہم سٹڈی کرنے لگے ۔ اب ہمیں ایک دوسرے کا کوئی ڈر یا پردہ نہیں تھا ہم جو چاہتے کھل کر کر سکتے تھے اب ہم تینوں ایک دوسرے کے ہم راز بن چکے تھے۔ اب میں جب چاہتا راحت کی موجودگی میں عروسہ کو چود سکتا تھا یا عروسہ کی موجودگی میں راحت کی لے سکتا تھا اب سٹڈی کرتے کرتے عروسہ راحت کی موجودگی میں میرا لن بھی پکڑ لیتی تھی اور اس سے کھیل لیتی تھی اور میں اسکے بوبز دبا لیتا تھا یا میں اور راحت ایک دوسرے سے لن بھی لڑا لیتے تھے یا ایک دوسرے کی مٹھ لگا لیتے تھے یا ایک دوسرے سے لن کا مقابلہ بھی کر لیتے تھے کہ کس کا خوبصورت سے یا کس کا بڑا ہے کس کا زیادہ موٹا ہے ۔میں نے ایک بات محسوس کی کہ جب عروسہ میرا لن پکڑتی دباتی یا اس سے کھیلتی تو راحت کو برا محسوس ہوتا یا وہ جیلس ہوتا تھا پتا نہیں ۔ ایک دن جب عروسہ میرے لن کو باہر نکال کر اس سے کھیل رہی تھی تو اچانک ہی راحت نے بھی اپنا لن باہر نکال لیا اور ہمارے پاس آکر کہنے لگا یہ کیا تم بس ایک لن سے ہی چمٹی رہتی ہو یہ دیکھو میرا اس سے زیادہ خوبصورت ہے یہ لو اسے پکڑو عروسہ نے اسکا لن بھی پکڑ لیا اب پوزیشن یہ تھی کہ درمیان میں عروسہ بیٹھی تھی ایک طرف راحت اپنا سانپ نکالے بیٹھا تھا اور اس کے دوسری طرف میں اور عروسہ کا ایک ہاتھ ا سکے ناگ پر تھا اور ایک ہاتھ میرے۔اسی وقت مجھے ایک شرارت سوجھی میں نے راحت سے کیا تم اصل مزہ لینا چاہتے ہو؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا تو پھر میری طرف آجاؤوہ دوسری طرف آگیا اب میں درمیان میں تھا ایک طرف راحت تھا اور دوسری طرف عروسہ تھی میں نے راحت کو لن سے پکڑ کر کہا بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا تو میں نے تھوک اپنی ہتھیلی پر ڈالا اور اسے راحت کے لن پر مل دیا اور اسکی مٹھ لگانے لگا میں بار بار ہاتھ کو گیلا کرتا جاتا اور اپنے ہاتھ کی حرکت کو تیز کرتا جاتا دوتین منٹ ہی ہوئے تھے ہی راحت کی حالت خراب ہونے لگی اس نے کہا بس کر مجھے کچھ ہو رہا ہے مگر میں لگا رہا عروسہ ہنس رہی تھی اسے پتا تھا کہ راحت کو کیا ہو رہا ہے میں نے راحت سے کہا یہی تو اصل مزہ ہوتا ہے یہ کہہ کر میں نے اپنے ہاتھ کی حرکت بڑھا دی ابھی چند بار ہی ہاتھ کو حرکت دی تھی کہ راحت کا لن جھٹکے کھاتے ہوئے اپنا پانی چھوڑنے لگا اسکا پانی آج پہلی بار نکلا تھا وہ حیران ہو رہا تھا بانی نکلنے کے بعد اسے سکون سا آگیا میں نے کہا کیوں آیا نہ مزہ اس نے کہا ہاں یار بہت زیادہ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ اصل مزہ کیا ہوتا ہے۔
  4. 1 like
    Saba ny apna mobile uthaya or Peeno ko call krny lagi......... bell jaany lagi........... bell kaafi dair tak hoti rahi magar kisi ny phone na uthaya........ Saba ny socha............ lagta hai ky kisi ky ghar pr kaam main lagi ho gi to silent kia ho ga mobile........... phir us ny Deenu ka number milaaya..... magar uska mobiel off tha........ Saba muskraa uthi....... uski umeed ky mutabiq Deenu apna cell band kr ky is waqat apny kamry main so raha ho ga....... abhi jagaati hon jaa kr usy bhi or usky mooty lund ko bhi............ usy umeed thi ky Ashraf ky wapis aany sy pahly woh apny flat pr wapis aa jay gi....... Saba ny apni chaadar apny jisam par lapaiti or apny flat sy nikal kr neechy utar aai............ neechy pohnchi to Deenu ki seat khaali thi.......... Saba muskraai........... ky yaqeenan apny kamry main ho ga...... soya hua...... Saba ny idhar udhar dekha or phir Deenu ky flat ki traf barh gai.......... agly hi lamhy Saba Deenu ky flat ky darwazy pr khari thi............ itni baar Deenu sy chudwaa chuki hoi thi magar phir bhi ...... usy thori ghabrahat ho rahi thi........ dil ki dharkan taiz ho rahi thi...... or saanson ki raftaar bhi........... himmat kr ky us ny darwazy ky handle pr haath rakha or ahista sy usy ghumaa dya........... or darwaza khol kr andar dekha........ andar aaty hi uski nazar saamny bed pr pari.......... bed pr....... Peeno thi........... or usky saath............. Ashraf tha........ dono bilkul nangy thy.......... Ashraf Peeno ky ooper laita hoa tha........ or uska lund Peeno ki choot main tha............. Peeno ny apni dono tagain uski kamar ky gird kasi hoi thin...... or woh Ashraf ko apni traf kheench ti hoi usky lund ko apny andar tak ly jaany ki koshish kr rahi thi....... Saba ky chehry pr muskrahat phail gai........us ny jaldi sy darwaza band kr ky wapis jaany ka iraada kia....... magar darwazy ky khulny ki awaaz pr dono chounk pary....... or mur kr darwazy ki traf dekhny lagy......... Peeno ny to kya ghabraana tha...... magar darwaazy ki traf dekhty saath hi Ashraf to jaisy uchal hi para jub uski nazar darwazy pr khari hoi Saba pr pari.......... uski to jaisy jaan hi nikal gai............ uski bhi or usky lund ki bhi......... woh foran hi Peeno ky ooper sy uth khara hoa....... or paas para hoa Peeno ka dopatta uthaa kr apny nangy lund ko chupaany laga........... chuppa bhi kis sy raha tha........ apni hi biwi sy.............. Saba ko pata to sub kuch tha jo bhi Peeno or Ashraf ky darmyaan chal raha tha magar ab jo soorat e haal achanak saamny aagai thi to us main usi ky mutabiq behave krny ky lye Saba ny apny ooper gussa taari kr lya or kamary main daakhil ho kar darwaza band kr lya........... yeh kya ho raha hai yahan pr.......... Saba chillaai...... Ashraf ky to chehry ka hi rang ud chuka hoa tha...... woh is trah sy rangy haathon balky nangy jisamoon pakary jaany sy kaanmp raha tha........ usy to kuch bhi bolny ki samjh nahi aa rahi thi............ Ashraf: SSssssssssssssssss......bbbbbbbbbbbbb...............wwwwwwwwwww.ooooo Saba: bakwaas band kro apni......... yehi zaroori kaam tha jis ky lye nikly thy gahr sy tum............. mujhy to tum pr pahly sy hi shaq tha ky kuch na kuch zaroor gulchaarry udaa rahy ho tum.......... or aaj apni aankhon sy bhi dekh lya hai tum ko............ Saba Ashraf ki traf barhi....... kub sy chal raha hai yeh sub kuch........... jawaab do... Ashraf phir ghiggyaya....... nnnnnahhhhhhhiiiiiiii......... plllllllllzzzzzzzzzzzzzzz mujhyyyyy maaf kr dooooooooooo............ i am sorryyyyyyyyyyyyyyy plzzzzzzzzzzzzz Saba: maaf kr doon.............. kyun maaf kr doon.......... harkat aisi ki hai tum ny kya jo maaf krny wali ho........... bolo.......... Ashraf: plzzzzzzzzzzzzzzzzzzz Saba: agar mujhy tum aisy hi kisi ky saath dekh laity to kya mujhy bhi maaf krty tum............ tum... tum to mujy bhary bazaar main nanga kr daity........... sub ky saamny mujhy zaleel krty............ or ghar sy nikaal daity.......... bolo krty na aisa hi........... Ashraf ny sharmindgi sy apna sir jhukaa lya.......... Saba: ab dekhna main kya krti hoon tumhaary saath........ Ashraf: nahi...... plzzzzzzzzzzz Saba naheeeeeeeeeeeeee aisa mat bolo....... Saba: you shut up............. and fuck your bitch............ yeh kah kr Saba kamry sy nikal gai............ or oper apny flat main wapis aagai.............. gussa to sub uska naqli tha.......... magar aik baat ki wajah sy uska gussa such much ka ho raha tha ky Ashraf ny uski apni chudaai ka prograame kharab kr dya hua tha............... gai to woh apni pyaas bujhaany ky lye thi....... magar aagy yeh sub kuch ho gya.......... or usy phir sy pyaasa hi wapis aana para............ apny flat main aa kar Saba ny apny kapry utaary or bathroom main ghuss gai nahaany ky lye.......... or jaati hoi saath main apny bed ki side draw sy apni candle bhi nikaal kr ly gai.......... ab to apni choot ki pyaas bujhaany ka bus aik hi raasta rah gya tha........ ky candle sy hi apni choot ki pyaas bujhaati............ uska paani nikaalti........ or thandi ho jaati............ koi aik ghanty tak khud ko thanda krny or nahaany ky baad saba apny jisam ko towel sy saaf krti hoi bahir nikli ....... or aainy ky saamny khari ho gai......... apny baloon ko saaf krti hoi apny nangy jisam ko dekhny lagi...... apny khoobsorat boobs or neechy baloon sy bilkul be nyaaz choot ko dekh kr khud pr hi usy pyaar aany laga......... apny hath ay apny boobs ko sahlaany lagi........ khud ko dekhty hoy usy Molvi sb ki pyaasi nazrain yaad aain....... ky kaisy woh bhooki or nangi nazron sy usky jisam ko dekh rahy thy.......... or phir hansi aa gai....... ky buhat jald hi....... shayad aaj raat ko yaqeenan........ woh Molvi sb ky hatthy charah jaay gi....... usy pata tha ky ab woh ziada dair ky lye khud ko Molvi sb ny bachaa paay gi...... jis qadar Molvi sb ko us ny garam kr dya tha.... or jitna unko open signal dy dya tha ab unka khud ko qaboo main rakhna naa mumkin tha...... Saba ny aik or towel uthaya...... or apny baloon ko us towel main lapait kr towel apny sir pr lapait lya...... uska sexy jisam ab or bhi sexy lagny laga tha is style main........ phir Saba apny wardrobe ki traf barrhi......or kapry select krny lagi....... jub kuch bhi samjh main nahi aaya to apni aik nighty nikaal li...... or usy pehn ny lagi........ Nighty pehan kr dobara sy aainy ky saamny aagai........... khud ky jisam ko us nighty main dekhny lagi........... nighty pink color ki silky kapry ki thi...... transparent to nahi thi...... magar sleeveless zaroor thi..... shoulders pr sirf do patly patly straps thy..........jo ky neechy usky boobs tak aaty thy.......... or qareeb half boobs ko naanga chorny ky baad hi nighty shuru hoti thi.......... yaani us sy ooper sirf or sirf woh patly straps thy or Saba ka goora goora nanga jisam........... or poory ky poory bazoo bhi nangy thy........ Saba ny apni routine ky mutabiq halka phulka sa make up bhi kia........ make up kya krna tha... bus apny honton pr lipstick lagaai.......... or apny bedroom sy bahir aagai........... Bahir aa kar Saba ko hairat hoi ky Ashraf abhi tak wapis nahi aaya tha....... Saba muskraai.......... lagta hai ky kahin or chala gya hai...... sharmindgi ky maary........ Saba hans pari or kitchen ki traf barh gai.......... 12 baj rahy thy......... Saba ny jaldi sy naashta banana shuru kr dya........... itny main bell baji........ Saba ny socha yeh koun aa gya hai ab........... phir khyal aaya ky Ashraf hi ho ga or yaa phir Peeno aai ho gi......... Ashraf ki halat ky mazzy lainy ky lye.......... ky kaisy chooha bana hoa tha woh........ Saba usi nighty or sir pr bandhy hoy towel main hi ......... apny half nangy hoty hoy boobs ky saath darwazy ki traf barhi......... or darwaza khol kr darwazy ki peechy ko chup kr bahir jhaanka to....... to uska dil hi uchal kr halaq main aagya......... bahir Molvi sb khary thy..........
  5. جناب ! میرا تو خیال ہے کہ میں سب سے تیز رفتار اور کم مدت میں اپ ڈیٹ کرتا ہوں۔ دن میں جتنی بار جتنی بھی مہلت میسر آتی ہے اسی میں چاہے بیس سطریں ہی کیوں نہ لکھی ہوں اپ ڈیٹ کر دیتا ہوں۔ میرے قارئین دوست یقیناً اس بات سے واقف ہوں گے میں اپنی پیشہ وارنہ ذمہ داریوں سے بامشکل وقت نکال کر لکھتا ہوں۔ میری بھرپور کوشش رہتی ہے کہ کسی کو انتظار کی بےتابی سے نہ گزرنا پڑے۔ یہ دوستوں کا پیار اور پسندیدگی کا اظہار ہی ہے کہ وہ اپ ڈیٹ کا بےصبری سے انتظار کرتے ہیں۔ اپ ڈیٹ کے لیے گلہ دراصل ایک قسم کا خراج ِ تحسین ہی ہوتا ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.