Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 04/10/22 in all areas

  1. واو بہت ہی اچھی کہانی شروع کی ہے جو حقیقی بھی لگ رہی ہے۔ اسی طرح لکھتے رہو اور ہمارا من و رنجن کا سامان کرتے رہو
  2. غصہ کی وجہ سے سو بھی نہی پا رہا تھا ۔ لیکن ایک بار میں ہی سب ارمان مٹی میں ملا دیے۔ کچھ وقت ایسے ہی پڑا رھا۔ پھر میں اٹھ کر انیلہ کے پاس آ گیا۔ اس کے بعد میں نے انیلہ کو اٹھایا۔ اس سے بات کی کہ کیاوجہ ھے۔ مجھ اپنے پاس کیوں نہی آنے دیتی۔ مجھ وجہ بول دو ۔ اور کچھ بھی نہی چھاۓ۔ انیلہ بولی۔ دیکھو تم بہت اچھے لڑکے ھو اور تم مزہ بھی بہت دیتے ھو ۔ لیکن میری کچھ مجبوری ھے ۔ میں بھی تم کو بہت پسند کرتی ھوں۔ بس کچھ بات ایسی ھے۔ ابھی سو جاو۔ وقت انے پر سب کچھ ھو گا ابھی نہی۔ جاری ھے
  3. رات کو جب میں انیلہ کے گھر سونے کے لیے گیا۔ دل کر رھا تھا کہ آج کی رات کچھ ایسا کرنا ھے کہ انیلہ میری لن کی غلام بن جاۓ۔ لیکن یہ اتناایزی نہیں تھا۔ پھر بھی امید تو تھی۔ کچھ وقت تو صرف ھم دونوں کے درمیان باتوں کے علاوہ کچھ نہی ھوا۔ مجھ میں بھی اتنی ہمت نہی تھی۔ جب انیلہ نے لایٹا اوف کروا دی۔ اس کہ بعد مجھے کچھ امید تو تھی۔ لیکن آ ج بھی انیلہ کوئ لفٹ نہی کروا رہی تھی۔ کچھ وقت تو میں نے انتظار کیا۔ اس کہ بعد میں اٹھا اور انیلہ کہ پاس چلا گیا۔ انیلہ سونے کی تیاری کر رہی تھی۔ مجھ دیکھ کر بولی پلیز مجھ کچھ مت کہنا۔ میری کچھ مجبوری ھے اس لیے ۔ میں کچھ بھی کر نہی سکتی۔ مجھ آج غصہ تو آیا لیکن میں نے کوئ بات نہی کی اور میں اپنی چارپائ پر جا کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔اور آخر مجھ سوناہی پڑا۔
  4. جب تک آپ ساتھ والے کو نہیں سمجھو گے۔ سکس کا مزہ نہیں اتا۔ انیلہ سب کے سامنے بہت ہی اہتیات کرتی تھی انیلہ نے ایف۔اے کیا ھوا تھا۔ پھدی کے ساتھ ساتھ مجھ پڑھائی میں بھی کافی سہولت ھو گی۔ ایک بار کرنے کے بعد ایک ماہ تک مجھ اپنے قریب نہی آنے دیا۔ وجہ کوئی بھی نہیں تھی۔ بس انیلہ کی مرضی نہی تھی۔ ایک دن میں سبق یاد کر رہا تھا۔ انیلہ کاشوھر گھر آیا۔ کیوں کہ میں روز ہی آتا تھا اس لیے میراعلم تھا ان کہ میں گھر ٹیوشن کہ لیا آتا ھوں۔ مختصر یہ کہ ان کی کسی رشتہ دار کے ھاں فوتگی ھو گی تھی ۔ وہ ادھر جا رہے تھے۔ مجھ انیلہ نے اپنے شوھر کے سامنے بولا۔ بھائ۔ آپ آج کی رات ادھر رک جانے میرے شوھر کس دوسرے شہر جا رہے ھیں۔
  5. فارغ ھونے کے بعد کچھ وقت تو مجھ کو حوش ہی نا رہی میں کچھ دیر کے لیے سو ہی گیا تھا۔ اس کہ بعد مجھ انیلہ نے اٹھایا کہ اب تم اپنے گھر جاؤ۔ میں بھی جلدی سے اٹھا اور فریش ھو کر جانے کو تیار ھو گیا۔ جانے سے پہلے انیلہ سے بات کی۔ جی مزہ آیا کہ نہی۔ انیلہ۔۔۔جی بہت مزہ آیا مجھ اتنی ذیادہ کی توقو نہی تھی۔ پھر بھی بہت مزہ آیا۔ ایک بات یاد رکھنا ۔ میں نے اپنا جسم تم کو دیا مجھ غلط نا سمجھنامیں کوئی بھی ایسی لڑکی نہی ھوں اور میرے شوہر کے بعد تم دوسرے مرد ھو۔ بس اس دن ھم ایک دوسرے کے قریب آ گے۔ ھے تو غلط لیکن تم مجھ اچھے لگے ھو اس لیے میں نے یہ سب کر لیا۔ اب میری عزت کو کبھی بھی کسی کے سامنے نا کھولنا۔ اور جب دل کر میرے گھر آ جانا ۔ یہ ایسا کرو تم ڈویشن کا کہوں گھر پر اور اس طرح تم روز میرے گھر آ سکوں گے۔ اس طرح کی کچھ اور باتوں کرنے کے بعد میں اپنے گھر آ گیا۔ گھر پر بات کی اور مجھ اجازات بھی مل گی۔ اب میں ھر روز انیلہ کہ گھر جاتا۔ مستی تو روز کرتے تھے لیکن پھدی نہی مل رہی تھی۔ انیلہ نے یہ بات پہلے ہی کلیر کر دی تھی کہ ھر روز نہی کبھی کبھی کیا کرنے گے۔ مجھ اچھا تو نہی لگا لیکن بات مانے لی۔
  6. اچانک انیلہ میرے اوپر آئی اور میرے پیٹ پر بیٹھ گی۔ کچھ وقت تو انیلہ اوپر بیٹھی رہی اور اپنی پھدی کو میرے پیٹ پر رگڑتی رہی۔ اس کے بعد انیلہ نے لن کو ھاتھ سے پکڑ کر چیک کیا۔ کیوں کہ میری ابھی اتنی عمر نہی تھی اس لیے لن کا سایز نرمل ہی تھا۔ ۵ انچ تو ھو گا ۔ انیلہ کو شاید لن اچھا نہیں لگا کیوں کہ انیلہ کا کچھ چہرہ اتر گیا تھا ۔ لکن پھر اس نے کچھ بھی ایسا شو نہیں کروایا۔ لن پر تھوک لگا کر لن کے اوپر اپنی پھدی رگڑنی شروع کر دی۔ پھدی کے اوپر ہلکے ہلکے بال تھے ۔ جو کہ لن کی ٹوپی پر چوب رہے تھے۔ لیکن سواد بھی بہت آ رھا تھا۔ انیلہ بولی اب سکون ھے۔ یا کچھ اور بھی مزہ کرنا ھے۔ جی آج تو فل مزہ کرنا ھے۔ پھدی بھی لینی ھے اور تمھارے ممے بھی چوسنے ھیں۔ میری بات سن کر انیلہ مسکرا دی۔ اچھا جی پھدی لے لو گے؟ مجھ تو لگتا ھے کہ تم پھدی کے اوپر رکھتے ہی فارغ ھو جاو گے۔ انیلہ کی بات سے مجھ بھی اچھا تو نہیں لگی ۔ میں نے اس کا جواب کچھ ایسا دیا کہ پھدی پر جو لن رکھا کر مجھ تنگ کر رہی تھی۔۔ ایک ہی جھٹکے میں سارا لن پھدی کے اندر کر دیا۔ انیلہ بھی اس حملے کہ لیے تیار نہیں تھی۔ اس کی کافی ذور سے ایک اہ ہ ہ۔ نکلی ۔اور میرے لن اوپر ہی بیٹھ گی۔ اب مجھ فل جوش چڑا ھوا تھا۔ کیوں کہ انیلہ نے بات غلط کی تھی۔ اب وہ مجھ ھلنے بھی نہیں دے رہی تھی۔ کچھ وقت تو تڑپتی رہی اس کے بعد جب لن اور پھدی نے ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کر لیا۔ انیلہ لن کے اوپر نیچے ھونا شروع کر دیا۔پہلے آہستہ سے پھر کچھ ٹائم کے بعد فل سپیڈ سے شروع ھو گی۔ کافی وقت اس پوزیشن میں کرنے کہ بعد انیلہ کا پانی نکل گیا۔ اور ساتھ لیٹ کر اپنی سانس درست کرنے لگی۔ انیلہ تو فارغ ھو گی تھی۔ لیکن میں ابھی تک فارغ نہیں ھوا تھا۔ میں بھی انیلہ کے اوپر چڑھا گیا۔ ابھی لن پھدی پر رکھا ہی تھا کہ انیلہ نے پھدی پرھاتھ رکھا دیا۔ اور بولی مجھ تھوڑا سا گرم تو کر لو بس پھدی وچ لن پین دی جلدی اے۔ میں نے ایک طرف کا مما منہ میں لیا۔ چوسنا شروع کر دیا۔ سایز ۳۴کے ممے کافی نرم تھے۔ کافی وقت انیلہ کو گرم کرنے میں لگا۔ انیلہ کی پھدی کافی صاف تھی۔ گوری چٹی ۔ بال تھے لیکن پھر بھی کافی پیاری تھی۔ جب گرمی چڑ ھی گی۔ تو انیلہ نے اوپر انے کا اشارہ کیا۔ میں بھی اس انتظار میں تھا۔ پھدی پر اور لن پر تھوک لگا کر اندر کر دیا ۔ اور ارام سے جھٹکے لگنے شروع کر دیے۔ میری بھی بس ھو چکی تھی ۔ لن بھی اب کسی بھی وقت ہار مان سکتا تھا ۔ اس لیے میں نے بھی فل ذور لگاناشروع کر دیا اور پھدی کے اندر ہی فارغ ھو گیا۔
  7. اس نے مجھ گھر ملنا کا وقت بتایا۔ پہلے تو میرا دل کیا کے ان کے گھر نا جانا ہی بہتر ھے ۔ کیوں کہ وہ ملتی تو ھے نہی۔ پھر سوچا ایک بار دیکھ لیتاھوں ۔ شاید کچھ بات بن جاۓ۔ وقت پر انیلہ کے گھر گیا۔ اج انیلہ نے ہی دروازہ کھولا۔ مجھ اندر جانے کا بولا اور باہر کا دروازہ کو لاک لگا دیا۔ مجھ کو لے کر وہ اپنے کمرے میں أئ۔ اس کے بعد میرا حال پوچھا۔ اور اس بات کا شکوہ کیا کہ اتنے دن سے تم کدھر گے تھے۔ میں نے چھت پر بہت چکر لگاۓ۔ لیکن تم نہی أتے تھے چھت پر ۔ میں نے جواب دیا ۔ میں ادھر نہیں تھا۔ اپنے ماموں کی طرف گیا ھوا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی واپسی ہوئ ھے۔ اچھا یہ بات تھی میں سمجھی کہ شاید أپ ڈر کے میرے سامنے نہی أ رہے ہو۔ انیلہ کی بات سن کر میرے چہرہ پر مسکراہٹ آ گی۔ میں نے انیلہ کو جواب دیا ۔ دیکھ لو آپ کی بات سے میری ہنسی نہی روک رہی۔ انیلہ آپ سے ایک بات کرنی تھی اگر آپ کی اجازات ھو تو۔ جی بولوں اجازات ھے۔ میں آپ سے کیوں ڈرو گا اس بات کی سمجھ نہی آ رہی۔ انیلہ۔۔۔بس اتنے دن نظر نہی آۓ۔ میں سمجھی کہ مجھ سے ڈر رھا ھے اس لیے میرے سامنے نہی آ رھا۔ اور تو کوئی بات نہی۔ ہاہا ۔۔۔۔ انیلہ کی بات سن کر میں پھر سے ھنس پڑا۔ انیلہ کو مجھ پر غوثا چڑ گیا۔ اور انیلہ نے مجھ پکڑ کر گرا لیا۔ روکوں ابھی تمھارا حساب کرتی ھوں۔ اس دن والا بھی حساب رہتا ھے۔ انیلہ نے کچھ دیر تو مجھ پکڑے رکھا پھر میرے لن کو پکڑ لیا۔ آج تمھاری خبر لیتی ھوں۔ اور لن کو اور کس کے پکڑ لیا۔ اتنی ذور سے لن کو دبا کہ ایک بار میری جان ہی نکال دی۔ میں نے کچھ دیر تو برداشت کیا پھر میں نے بھی انیلہ پر حملہ کر دیا۔ اور ذور سے رایٹ والا مما پکڑ لیا اب انیلہ کی اہ اہ نکلی رہی تھی۔ اب لن کو کچھ سکون ھوا تھا۔ کیوں کہ میرے جوابی حملہ سے انیلہ کا ھاتھ کچھ سکون دینے لگا گیا۔ اور کچھ ھاتھ ہلکا کر دیا تھا۔ اب ہم ایک دوسرے کو مزہ بھی دے رھے تھے۔ کچھ دیر بعد میں نے ھاتھ قمیض کہ اندر کر لیا۔ برا کو بھی اوپر کر دیا۔ اور ممے باہر نکال لیے۔ ہلکے ھاتھ سے ممے دبنے شروع کر دیے۔ آج بھی انیلہ میرے سامنے کمزور ہی تھی۔ یا شاید وہ بھی لن کو اپنی پھدی میں لینا چاہتی تھی۔ اس لیے تو ھاتھ ڈالا ہی لن کو تھا۔ میں نے انیلہ کو نیچے گرا دیا اور ایک مما اپنے منہ میں لے لیا۔ اب انیلہ میرے لن کو مسل رہی تھی ۔ میں ممے چوس رھا تھا کبھی ایک کبھی دوسرا انیلہ گرم ھو گی ۔ میں نے ایک ھاتھ سے پھدی کو سہلنا شروع کر دیا۔ انیلہ کی پھدی فل گلٔی تھی شلوار کے اوپر سے کچھ دیر مسلنے کہ پعد شلوار اتار دی ۔ آج شلوار اتارنے میں میری مدد اپنی ہپ اٹھا کر کی۔ جب انیلہ کی شلوار اتر گی اس نے میری شلوار پہی اتارنی شروغ کر دی۔ جلد ہی ایک ایک کر کہ ہم دونوں کہ کپڑے اتر گے۔۔ اور ہم دونوں فل نگے ھو گے۔ ابھی ھم رومنس ھی کر رہے تھے کہ اچانک سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ھے۔۔۔۔
  8. اب میں اس س زیادہ کیا کہوں کہانی کی اپڈیٹ واقعی اچھی لگی
  9. kmaaaaal he kmaaal he , ye jo entry dali he sabiha durrani.. hmmmm es ki next updates mein lene ka plan ho ga. q k abi tak koi aysi bachi nahin ai jis ka nam to aya ho lekin chudi naho . wah wah wah
  10. v nice. story is getting more interesting. good effort. and especially with pics.. wow. aalaa
  11. فیصل بھائی سلیم ٹھیک کہ رھا ہے ،،ندا کے ریپ کا انتظار رہے گا :stomp:
  12. typical story ha asa laghta haa ka mard ko larkii sa sirf ak yahi cheez chaiaa.i think love is dead in this selfish world.
  13. اس کہانی کی جتنی تعریف کی جاءے کم ھے بہت خوب جناب

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.