Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 21/05/22 in all areas

  1. قسط نمبر4 اسکے دو دن بعد میں عروسہ سے ملا تو اس سے پوچھا کہ اب چوت دینے کا کیا سوچا ہے اس نے کہا ہاں وہ بھی دوں گی لیکن سنا ہے پہلی بار بہت درد ہوتا ہے اور خون بھی نکلتا ہے اسطرح تو میں کنواری بھی نہیں رہوں گی اور جب میری شادی ہوگی تو میرے شوہر کو بھی تو پتا چل جائے گا نا جب خون نہیں نکلے گا۔میں نے کہا اسکی تم فکر مت کرو کیونکہ تم سے شادی تو میں ہی کروں گا اور بات رہی درد والی تو وہ ایک بار ہوگا جیسے گانڈ میں ہوا تھا برداشت کر لینا ایک بار ویسے بھی کبھی نا کبھی تو یہ کرنا ہی ہوگا تمہیں تو اب کیوں نہیں تو اس نے کہا اچھا ٹھیک ہے رات کو ملتی ہوں میرے کھر پر چھت والے کمرے میں رات گیارہ بجے آجانا۔ اس کے بعد میں گھر چلا آیا لن صاحب کی تیل سے مالش کی اور رات کیلئےتیار کیا اور پھر رات ہونے کا انتظار کرنے لگا مگر وقت کو پتا نہیں آج کیا ہوگیا تھا گزرنے میں ہی نہیں آرہا تھاپھر کسی نا کسی طرح وہ وقت بھی آہی گیا رات گیارہ بجے میں عروسہ کی بتائی ہوئی جگہ پر کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا کمرے کا دروازہ آج پہلے سے ہی کھلا تھا شاید عروسہ پہلے ہی کھول گئی تھی کمرے کا جائزہ لیا تو پرانے بیڈ پر پہلے سے ہی ایک پرانا سا گدا اور تکیا موجود تھا یہ سارے انتظام آج پہلے سے ہی عروسہ کر گئی تھی شاید وہ بھی میری طرح ایک نیا تجربہ کرنے کیلئے کچھ زیادہ اکسائیٹڈ تھی یا پھر میرے اس سے شادی والی بات کی وجہ سے مجھے اپنا شوہر مان لیا تھا پتا نہیں۔ ابھی میں کھڑا ہی تھا کہ مجھے سیڑھیوں سے کسی کے اوپر آنے کی قدموں کی مخصوص آواز آئی میں سمجھ گیا کہ یہ ضرور عروسہ ہی ہوگی یہ سوچتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی کیونکہ آج میں پہلی بار ایک چوت کنواری چوت چودنے جا رہا تھا ۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہوگا جب آپ پہلی بار ایسا کچھ کر رہے ہوتے ہیں تو دل کی دھڑکنیں بھی کچھ الجھی ہوئی ہوتی ہیں اور بندہ کچھ کنفیوز سا بھی ہوتا ہے مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نارمل اور روٹیں کی ایک چیز بن جاتی ہےکچھ لوگ تو پہلی بار کچھ خوف بھی محسوس کرتے ہیں اور یہی خوف ان کی ناکامی کا سبب بھی بنتا ہے وہ ایسے کہ جناب ملنے یار بھی آیا کچھ کرنا بھی چاہا مگر یہ کیا لن صاحب تو کھڑے ہی نہیں ہو رہے بعد میں پھر یہی پہلی ملاقات والی ناکامی شرمندگی اور خوف اگلی ملاقاتوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے بہر حال بعض لوگوں میں کچھ نفسیاتی الجھنیں اور ضرورت سے ذیادہ خوف پایا جاتا ہے بعض لوگ تو لڑکی کو دیکھتے ہی کانپنے لگتے ہیں اور ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پاتے ۔ ہم شاید کہیں اور نکل گئے ہیں کہانی کی طرف واپس آتے ہیں عروسہ اور میں آمنے سامنے کھڑے تھے اس نے آتے ہی دروازہ اندر سے لاک کر دیا تھا پھر ہم ایک دوسرے کے قریب آئے اور پھر ایک دوسرے کو بانہوں میں بھر لیا اور ایک دوسرے کی بے ترتیب ہوتے ہوئی دھڑکنوں کو محسوس کرنے لگےدونوں طرف ایک ہی حال تھا ۔پھر میں نے اسے کس کرنا شروع کیا ماتھے پر بوسا دیا نرم اور گول گالوں کو چوما اور پھر اپنے ہونٹ اسکے گلابی اور نازک ہونٹوں میں ڈال دیے کبھی اس کا نیچے والا ہونٹ چوستا اور کبھی اوپر والا اب وہ بھی میرے ہونٹ چوسنے لگی تھی اور ہم ہر قسم کا خوف اور الجھنیں بھول کر ایک دوسرے میں کھوچکے تھے اور ہماری دھڑکنیں بھی اب نارمل ہو چکی تھیں میرے ہاتھ اسکی اٹھتی جوانیوں تک کب پہنچے پتا ہی نہیں چلا اور اب وہ اپنے ہوش وحواس سے بیگانا ہوتی جا رہی تھی مجھے کس کرنا بھی بند کر چکی تھی اور میں اسکی رس بھریاں دبانے کے ساتھ ساتھ اسکی گردن پر بھی زبان پھر رہا تھا اورایک ہاتھ اس کی گانڈ کی نرمی اور گولائی ناپ رہاتھا اس ننھی کلی کو اپنے ہوش سے بیگانا کرنے کیلئے اتنا بہت تھا میں نے اسکا ہاتھ پکرا اور اپنے پھن پھیلائے ناگ پر رکھ دیا جو اپنی پوری مستی سے جھوم رہا تھا۔عروسہ کے ہاتھ کا پیار بھرا لمس پاتے ہی وہ خوشی سے اور پھولنے لگا تھا ۔ میرا ہاتھ جوکہ اسکی گانڈ پر تھا اب اسکی الاسٹک والی شلوار کے اندر جا چکا تھا اور اسکی گانڈ کی مکھن جیسی نرماہٹ کو محسوس کررہا تھا اور پھر اپنی انگلی سے اسکی گانڈ کے چھید کع چھیڑنے لگا اور عروسہ سسکاریاں نکالنے لگی کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد میں نیچے جھکا اور اسکی شلوار اسکی ٹانگوں سے نکال دی اور اسے بیڈ پر بٹھا دیااور پھر اسکی قمیض بھی پکڑ کر اوپر اٹھا دی جسے اس نے اپنی بانہیں اوپر اٹھا کر اتارنے میں مدد دی نیچے دیکھا تو اسکی چھاتیوں کی اٹھان بہت ہی پیاری لگ رہی تھی اس سے پہلے کہ میں ان پر کسی پیاسے کی طرح ٹوٹ پڑتا ایک کام کرنا باقی تھا اور وہ تھا خود کو بے لباس کرنا۔ میں نے جلدی سے اپنی قمیض اتاری اور بیڈ پر پھینک دی اور پھر عروسہ کے سامنے میرے لن کا ابھار تھا وہ بیڈ پر بیٹھی تھی اور میں اسکے سامنے کھڑا تھا اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی ٹراؤزر پر رکھا اور اسے کہا اب سے تم باہر نکالو اور وہ اپنے نازک ہاتھوں سے میرا ٹراؤزر اتارنے لگی جیسے ہی اسنے ٹراؤزر نیچے کیا میرا لن ایک جھٹکے سے باہر آیا اور اسکے سامنے جھومنے لگا اسنے دیکھ کر حیرت سے کہا یہ تو آج پہلے سے کافی بڑا لگ رہا ہے کیا یہ اتنا بڑا میری نازک سی چوت میں چلا جائے گا؟یہ کہتے ہوئے وہ میرے لن کو اپنے نازک ہاتھ میں لے کر بہت ہی پیار بھرے انداز میں سہلانے لگی۔مجھ سے اب اور برداشت نہیں ہو رہا تھا میں نے اسے جلدی ہے بیڈ پر لٹایا اور اس کی رس پھریوں سے رس کشید کرنے لگا اور پھر میں دس منٹ تک انہیں ہی چوستا رہا میری پیاس تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی عروسہ نیچے سے میرے لن کی مٹھ لگا رہی تھی سہلا رہی تھی ۔ اب میں نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بوبز سے نیچے کا سفر شروع کیا اور اسکی ناف کو چومتے ہوئے اسکی چوت تک آیا جہاں ابھی بال اپنی جڑیں ہی ڈال رہے تھے وہاں تھوڑی دیر چومنے کے بعد میں نے اسکی چوت کے لب جدا کیے اور اندر کا منظر دیکھنے لگا چوت گیلی ہو چکی تھی بالکل چھوٹی سی چوت تھی اب میں نے اپنے لن کو تھوک سے اچھے سے چکنا کیا اور پھر کچھ تھوک چوت میں بھی ڈال دیا اور لن کو چوت کے سوراخ پر رکھا دباؤ ڈال دیا لن پھسل کر اوپر نکل گیا تھا میں نے لن کو ایک بار پھر سے سوراخ پر رکھا اور جھٹکا دیا ٹوپا اندر جا گھسا تھا اور ساتھ میں عروسہ کی ہلکی سی چیخ بھی نکل گئی تھی عروسہ کی سیل ٹوٹ چکی تھی وہ درد سے بلبلا اٹھی تھی اور مجھے پیچھے دھکیلتے ہوئے نکالنے کا کہہ رہی تھی مگر اب جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا میں نے ایک جھٹکا اور مارا اور لن تنگ چوت کو چیرتا ہوا آدھے سے زیادہ اندر جا چکا تھا اور میں عروسہ کے اوپر لیٹ گیا وہ نیچے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی اور میں اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ بس ہوگیا جو درد ہونا تھا ہو گیا لن اندر جا چکا ہے اب سب ٹھیک ہوجائے گا جیسے ہی اس نے مزاحمت کرنی بند کی میں نے لن کو حرکت دینی شروع کر دی اس سے وہ ایک بار پھر سے درد محسوس کرنے لگی تھی مگر اب مجھے رکنا نہیں تھا میرا لن خون سے سرخ اندر باہر ہو رہا تھا ابھی چار پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ مجھے اپنے جسم میں ہلچل محسوس ہونے لگی میں نے رفتار بڑھا دی اور پھر میرا لاوا لن کو چیرتا ہوا اسکی چوت میں جانے لگا تو میں نے لن کو گہرائی میں پہنچا کر روک دیا اور عروسہ کو شدت جذبات سے چومنے لگا دومنٹ تک میں عروسہ کے اوپر ہی پڑا رہا اس کے بعد اسنے مجھے دھکا دے کر ایک طرف پھینکا اور مجھے تھپڑ مارنے لگی کتنے بے رحم ہوتم میں درد سے تڑپ رہی تھی اور تم پھر بھی لگے رہے میں کہیں بھاگی تو نہیں جا رہی تھی ،میں نے کہا اچھا سوری اب تو ہو گیا نا اب سب ٹھیک ہو جائے گا ۔کیا ٹھیک ہو جائے گا اب اور تم نے اپنا لاوا بھی میری چوت میں ڈال دیا اور کہہ رہے ہو سب ٹھیک ہو جائے گا کچھ ہوگیا تو پھر ؟؟؟سوری یار کنٹرول ہی نہیں ہوا اچھا فکر مت کرو کچھ نہیں ہوگاپھر اندر نہیں ڈالوں گا اپنی منی اب معاف کردو اسکے بعد وہ مشکل سے مانی اور پھر ہم کافی دیر تک وہاں لیٹ کر ایک دوسرے کے جسموں سے کھیلتے ہوئے باتیں کرتے رہے اور پھر چار بجے میں گھر آگیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا مگر آج نیند کا نام ونشان تک نہ تھا وہی لمحے بار بار میری آنکھوں کے آگے کسی فلم کی طرح چلنے لگتے اور کبھی لگتا میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ پھر پتا نہیں کب مجھے نیند آگئی اور پھر میری آنکھ راحت کے جگانے سے کھلی وہ مجھے جھنجھوڑ کر جگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کیا ہوا اب تک کیوں سو رہے ہو دن کے گیارہ بج رہے ہیں تمہاری امی بھی تمہیں دوبار جگا چکی ہیں مگر تم جاگ ہی نہیں رہے میں نے کہا کچھ نہیں یار رات نیند نہیں آرہی تھی صبح جا کر آنکھ لگی ہے راحت بھی معاملہ کچھ کچھ سمجھ چکا تھا کہنے لگا نیند نہیں آرہی تھی یا ساری رات عروسہ کی بجاتے رہے ہو میں مسکرانے لگا اور وہ غصے ہونے لگا اور کہنے لگا اکیلے ہی چلے گئے رات مجھے بھی ساتھ لے جاتے پھر میرا لن پکڑ کر دباتے ہوئے کہنے لگا میرا حصہ بھی تم اسی پر لٹا آئے ہو یہ دیکھو اس میں تو زرا بھی جان نہیں ہے بالکل ہی خالی کر آئے ہو میں نے مسکراتے ہوئے کہا ارے بدھو یہ بھی بھلا کبھی خالی ہوتا ہے اپنی چکنی گانڈ کے درشن کروا پھر دیکھ کیسے اس میں جان آتی ہے ۔ایسے ہی باتیں کرتے میں اٹھا اور واشروم میں چلا گیا اور فریش ہو کر باہر آگیا میرے باہر آتے ہی راحت پھر سے شروع ہو گیا کہنے لگا اچھا یہ بتا کتنی باری گانڈ ماری رات عروسہ کی میں نے کہا اس بار گانڈ نہیں ماری اسکی چوت کا افتتاح کر آیا ہوں وہ اور ناراض ہونے لگا کہنے لگا اسکی گانڈ بھی تم نے مجھ سے پہلے مار لی تھی اور اب چوت بھی مجھ سے پہلے لے لی اسکی میرے لیے کچھ نہیں چھوڑتے تم اور پہلے میں نے تم دونوں کو کرتے دیکھ لیا تھا تو بتایا ورنہ اکیلے ہی مزے کرتے رہتے تم مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتے اور نا وہ عروسہ کرتی ہے وہ سچ میں اکھڑنے لگا تھا میں نے اسے گلے سے لگا لیا اور کہا ایسے مت کہو تم اچھے سے جانتے ہو تم جان ہو ہم دونوں کی اسلیے تو تمہیں بھی سارے مزے ساتھ کرواتے ہیں کبھی منع نہیں کرتے ہو کچھ ٹھنڈا ہو گیا تھا میں نے کہا چلو اب ناشتہ کر لوں تو عروسہ کے پاس چلتے ہیں ۔ کچھ دیر بعد ہم عروسہ کے پاس بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے راحت اسے چھیڑ رہا تھا کہہ رہا تھا سنا ہے رات کسی ظالم نے تمہاری پھاڑ کر رکھ دی ہے عروسہ مسکرا رہی تھی اور کہنے لگی ہاں اب تک دکھ رہی ہے میری اور سوجی ہوئی ہے راحت کہنے لگا ویسے ٹھیک ہوا ہے تمہارے ساتھ تم بھی تو انہیں ظالموں کے ساتھ ہی خوش رہتی ہو انہی کو موقع دیتی ہوعروسہ نے کہا کیا تمہیں نہیں دیتی تو پھر راحت کچھ شرمندہ ہو گیا اور خاموش ہو گیا اب میں نے عروسہ سے کہا اب آگے کب کا پراگرام ہے اب اس(راحت) کا بھی منہ بند کرنا پڑے گا اسے بھی دینی پڑے گی عروسہ کہنے لگی میری جو حالت تم نے کی ہے اب ایک ہفتہ تو سوچنا بھی مت میں نے کہا یار ایک ہفتہ؟ ایک ہفتہ کیسے گزاروں گا میں ایک ہفتہ تو بہت ہوتا ہے اور ایک ہفتے تک ہمارے رزلٹ بھی آنے والے ہیں اس نے کہا اچھا رزلٹ کے بعد سیلیبریٹ کرتے ہیں پھر اس کے بعد ہمارا پروگرام رزلٹ کے بعد کا پکا ہو گیا اور ہم واپس آگئے مگر یہ پروگرام عروسہ کے ساتھ طے ہوا تھا راحت کے ساتھ تو نہیں مجھے یہ ایک ہفتہ راحت کی بجا کر گزارنا تھا۔میں نے واپسی پر راحت سے کہا ایک ہفتہ تک عروسہ ہمارے ساتھ شامل نہیں ہو سکے گی اس نے میری طرف دیکھا اور کہا کیا مطلب میں نے کہا اگر ایک ہفتہ ہم اکیلے ہی انجوائے کریں؟راحت نے کہا ہاں یار یہ ٹھیک رہے گا مجھ سے بھی اب اتنے دن صبر نہیں ہوتا تو میں نے اس سے پوچھا تو پھر کیا پروگرام ہے اس نے کہا کل رات آجانا میرے گھر چھت پر جب نو بجے ایک گھنٹہ بجلی جاتی ہے میں نے کہا چلو ڈن ہو گیا۔ پروگرام کے مطابق اگلے دن میں راحت کے گھر پر تھا وہ میرے آگے جھکا کھڑا تھا اور میں اسکے پیچھے کھڑا تھا ہم دونوں کا نچلا دھڑ ننگا تھا مگر ہم نے سارے کپڑے نہیں اتارے تھے میں نے تھوک اسکی گانڈ پر لگائی اور پھر اپنے لن کو بھی تھوک سے چکنا کیا اور اندھیرے میں اپنا لن اسکی گانڈ کی دراڑ سے گزارتا ہوا اپنا ٹوپا اسکے نرم سوراخ پر رکھا اور دباؤ بڑھا دیا راحت کی گانڈ کی گرمی نے مجھےآدھا لن اندر ہونے کا احساس دلایامگر میرا آدھا لن اسکی گانڈ کی دراڑ میں ہی چھپ جاتا تھا اور اسکے چوتڑ میرے جسم سے ٹکرا جاتے تھے پورا لن اندر نہیں جا رہا تھا میں اتنا ہی اندر باہر کرنے لگا اسکی موٹی اور نرم گانڈ میں میرا لن بہت مزے میں تھا مگر میں سارا اندر کرنا چاہتا تھا میں نے راحت سے مزید جھکنے کو کہا وہ اپنے گھٹنوں پر آگیا اور اسکی گانڈ پوری طرح کھل کر سامنے آگئی اور پھر کیا تھا لن سارا اندر جا گھسا تھا میں وہیں ٹھہر گیا پورا اندر کر کے اور اسکی گانڈ کی گرمی اور نرمی کو محسوس کرنے لگا راحت بار بار گانڈ کو لن کے گرد دبا رہا تھا میں ایک ہاتھ آگے لے گر گیا اور اسکے ممے دبانے لگا اور دوسرے ہاتھ سے اسکی مٹھ مارنے لگا راحت ڈبل مزے میں تھا کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد میں اپنے لن کو اسکی گانڈ میں حرکت دینی شروع کی اور ایک ردھم کے ساتھ اسکی گانڈ بجانے لگا میرا اگلا حصہ اسکی گانڈ سے ٹکرانے سے ایک خاص آواز آنے لگی تھی جیسے جیسے میرے دھکے اسکی گانڈ میں جاری تھے ویسے ویسے ہی میرے ہاتھ کی حرکت اسکے لن پر بڑھ رہی تھی پانچ منٹ بعد ہی میرے لن میں بھونچال سا آنے لگا اور میرے دھکے راحت کی گانڈ میں تیز ہوگئے اور اسکے لن پر میرے ہاتھ کی حرکت بھی اور پھر چند دھکوں کے بعد ہی میری منی راحت کی گانڈ کو راحت پہنچانے لگی اور ادھر میں نے راحت کا لن اپنے ہاتھ میں پوری قوت سے دبایا اسکے ساتھ ہی راحت گا لن بھی خوشی سے پھولنے لگا اور منی کا سیلاب میرے ہاتھ میں بہنے لگا راحت ڈبل مزے سے چنگھاڑنے لگا اور زور زور سے ہانپتے ہوئے نیچے لیٹتا چلا گیا اور سکے ساتھ میں بھی اسکے اوپر لیٹتا چلا گیا اور ہم دونوں اس وقت تک ایسے ہی پڑے رہے جب تک میرا لن سکڑ کر راحت کی گانڈ سے باہر نہیں نکل آیا تھا لن باہر آنے کے بعد میں اٹھا اور اپنا لن اور ہاتھ صاف کرنے کیلئے کوئی چیز دیکھنے لگا تو راحت نے کہا کیا ہوا کیا تلاش کر رہے ہو میں نے کہا یہ سب صاف کرنے کیلئے کچھ تلاش کر رہا ہوں تو راحت نے اپنا رومال نکالا اور کہنے لگا آؤ میں صاف کر دیتا ہوں اور پھر وہ میرے ہاتھ پر لگی اپنی منی صاف کرنے لگا اور اس کے بعد میرا لن بھی صاف کر دیا اور پھر میں واپس گھر آگیا گھر آنے کے بعد سیدھا واشروم گیا نہایا خود کو صاف کیا اور پھر سو گیا اور سوتے ہی نیند آگئی تھی کیونکہ میں سکون میں تھا اور تھک بھی گیا تھا ۔ پھر اسکے بعد کافی دن ہمیں کچھ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا اور پھر ہمارے رزلٹ کا دن بھی آگیا جس میں ہم تینوں اچھے نمبروں سے پاس ہوگئے تھے عروسہ نے کلاس میں ٹاپ کیا تھا اسکے بعد راحت کے اور میرے نمبر تھے اور اب ہم گھر والوں وعدہ کے مطابق اپنے لیے سمارٹ فون کا مطالبہ کر سکتے تھے آپ تو جانتے ہی ہیں فون کا سیکس کا بہت گہرا تعلق بن چکا ہے موبائل فون ہوتا ہے تو انٹرنیٹ ہوتا ہے اور انٹرنیٹ ہوتا ہے تو پورن موویز ہوتی ہیں دیکھنے کو بہت سی سیکسی سٹوریز کی ویب سائیٹ پہنچ میں ہوتی ہیں جیسے اردو فن کلب ہے جس سے بہت ذیادہ سیکس کو جاننے اور سیکھنے کا موقع ملتا ہے اب تک تو ہم سادہ سا سیکس اور چدائی ہی کر رہے تھے مگر اب موبائل فون ملنے کے بعد ہمارے سیکس میں بہت کچھ نیا اور مزیدار آنے والا تھا۔ اور پھراگلے دن ہی ہمارے امتحان میں اچھے نمبروں میں پاس ہونے کے تحفے کے طور پر ہمیں فون دلا دیے گئے اور اب ہم بہت خوش تھے یہاں سے ہمارا سیکس اصل سیکس یا پورن جیسا سیکس بننے والا تھا ۔ دوستو یہ ایک چھوٹی سی اپڈیٹ تھی امید ہے پسند آئے گی اپڈیٹ لیٹ ہونے کیلئے معذرت کرتا ہوں اب کوشش ہوگی کہ جیسے تیسے بھی تھوڑا بہت اپڈیٹ دیتا رہوں۔
  2. End bohat khob kiya bhai.... Bohat hi acha end tha....
  3. 1 like
    Major hansa.......... ku nahi pata chala kya........... Saba ny apna sir inkaar main hilaa dya.......... Major hansa..... or is baar apny haath main apna lund pakr ky uska rukh........ Saba ky chehry ki traf kya...... sirf chand inches ky faasly pr hi to tha Saba ka khoobsorat chehra.......... or ab jo us ny zoor lagaya to usky lund sy paani ki aik dhaar nikli................. or seedhi Saba ky chehry pr........... haan............... paani ki nahi....... Major ky peeshab ki dhaar............. agly hi lamhy Major ky lund sy nikalny waly paani ko Saba samjh chuki thi ky kya hai.............. woh chounk kr peechy hati........ lakin buhat dair ho chuki thi....... Major to apna moot Saba ky chehry pr giraa chuka tha........ hansty hoy...... qahqahy lagaaty hoy......... Saba bed sy peechy hati....... or neechy farsh pr thookny lagi.......... bura sa monh banaati hoi............. or Major hansta jaa raha tha........ Saba thora naraaz hoti hoi....... thora gussy sy boli........... yeh kya badtameezi hai............ aisa bhi krty hain kya............ mery monh ky andar hi kr dya peeshab.......... kitny gandy ho tum............. yeh kahti hoi Saba Major ky wash room main doudi...... or jaa ky paani monh mai ly ky kulli krny algi...... apna chehra dhoony lagi............ achy sy ragad ragad ky....... sabun sy.............. or dil hi dil main Major ko gaalyan daiti hoi............. aakir yeh kameena kis had tak ganda ho sakta hai koi nahi samjh sakta isko................ Saba wapis aai to Majro muskraaty hoy sharab pee raha tha............. Saba dobara sy bed pr bethny lagi to Major ny apny pair sy usy thookar maari............. Major: saali....... kameeni........... mujhy ganda bol rahi thi na........ ja chali jaa nahi chodta tujhy main............. ja kisi achy saaf suthry sy chudwaa ly ja ky....... balky chali ja us molvi ky paas ittar main daboo daboo ky apna lund teri choot main daalay ga saala............. phir khush ho jaana us sy chudwaa ky........ Saba hairan ho kr Major ko dekhr rahi thi.......... ky isy phir sy kya ho gya hai............. Major: kutti ki bachi ........... mujh sy chudwana hai na to mai to aisa hi hoon.............. bol chudwaana hai mujh sy........ aik taraf sehmi khari hoi Saba ny haan main sir hilaa dya........ Major: chudwaana hai to chal phir pehly yeh jo neechy thooka hai na yeh farsh saaf kr............ Saba neechy dekha........ neechy marble ky farsh pr teen jaga pr us ny thooka hoa tha....... phir Saba idhar udhar dekhny lagi ky koi safaaika kapra mil jaay usy.............. usy idhar udhar dekhty hoy bola....... saali kya dhoond rahi hai......... Saba: kapra......... Major: behnchod....... choot main laina hai kya tu ny kapra........... kapry sy nahi apni zubaan sy chaat ky saaf kr.......... nahi to daffa ho ja yaha sy............. Saba hairan ho kr Major ki traf dkehny lagi........... woh kabhi bhi is bandy ko nahi samjh sakti thi............. Major: aisy kya dekh rahi hai....... tera hi thook hai na........... to chaat ly....... nahi to daffa ho............. Saba be basi sy Major ko dekhti hoi neechy beth gai farsh pr........... or phir ghutno ky bal jhukny lagi.......... or farsh pr giry hoy apny thook ky bilkul qareeb ho gai........ apni zubaan nikaali or .......... or phir apny hi thook ko chaat lya farsh pr sy........... thook to chaat lya farsh pr sy......... lakin aik ajeeb si halat hony lagi usky andar ki............ yeh kameena bary achy sy jaanta tha ky woh us sy chudway bina nahi jaay gi........ or us sy chudwaany ky lye kuch bhi kr sakti hai............ yehi soch Saba ky andar halchal paida kr rahi thi...... uski choot ko geeli krny lagi thi...... ky kameena jaisa bhi aurat ko excite krna achy sy jaanta hai............ apni geeli hoti hoi choot ky saath Saba aagy doosri jaga ki traf barhi...... or doosri jaga sy bhi thook chaat lya............... Major bhi bed pr sy khara ho gya....... Major: dekha ab lag rahi hai na asli kuttya........ farsh ko chaat ti hoi........... Saba ny bina kuch kahy ....... apna chehra neechy kye hoy........ muskraa kr teesri jaga sy bhi apna thook chaat lya........... or ab bina oper uthy hoy usi halat main hi neechy bethy hoy ....... apna sir uthaa kr Major ki traf dekhny lagi........... Major ny faatehaana andaaz main Saba ki traf dekha....... or is baar khud sy neechy farsh pr thook giraa dia....... or apni aankon sy hi uski tarf ishaara kia........... Saba apni muskrahat ko control na kr saki........ or Major ko muskra kr dekhti hoi....... dobara sy neechy jhuk kr ....... ab ki baar Major ky thook ko chaat lya............. Major hansta hoa Saba ky peechy aa gya..... woh uthny lagi ...... to Major ny peechy sy dhaka dya halka sa...... to Saba bed ki side pr haath rakh kr jhuk gai.............. Major dhaara.......... ruk ja yahin............. Saba usi position main ruk gai.......... Major ny bed pr jhuki hoi Saba ky peechy aa kar apna lund apny haath main pakra or usy neechy sy uski choot ky soorakh pr ragadny laga........ jo ky panty samait geeli ho rahi thi................ aik hi jhatky sy us ny Saba ki panty neechy utaar di..... or apna lund uski choot ky soorakh pr rakh kr aik hi dhaaky main poora Saba ki choot main utaar dya........... Major ky power full dhakky sy Saba aagy ko girny wali hoi magar Major ny Saba ki kamar ko pakar kr usy sanmbhaal lya ............ aagy girny sy rok lya............. or ab uski kamar ko pakar kr usky peechy hilta hoa apna lund uski choot main andar bahir krny laga............. Saba ko chodny laga............. Saba bhi ab sanmbhal chuki thi....... or Major ky dhakkon ko bardahst krti hoi us sy apni choot marwaa rahi thi.......... Major neechy jhukka or apna haath aagy barhaa kr Saba ky boobs ko uski bra ky ooper sy pakar lya........ or apni muthi mai ly kar dhana dhan dhaakky lagaany laga........... Saba ko bhi maza aany laga tha.......... aakhir uski choot ko wohi lund mil gya tha jis ka itny din us ny intezaar kia tha........ or jisy apni choot main lainy ky lye us ny aaj is qadar zillat sahi thi........ lakin ab jub Major ka lund uski choot main utar chuka tha to woh sub kuch bhool chuki hoi thi........ bus apni aankhain band kye hoy....... aagy peechy ko hoti hoi ..... Major ka lund apni choot main andar bahir ly rahi thi........ uski apni choot behad garam ho rahi thi........ buhat hi geeli ho rahi thi........... paani chor rahi thi...... Saba tezi ky saath apni manzil ki traf barh rahi thi........... jaisy jaisy uska orgasm qareeb aata jaa raha tha waisy waisy hi Saba ki peechy ki traf apni gaand ko dhaaky lagaany ki raftaar taiz hoti jaa rahi thi.......... or aakhri chand dhakkon ky baad hi ........... Saba ny poori peechy ko jaa ky apni gaand Major ky pait sy chipka di.... uska lund poora apni choot main laity hoy........... or saath hi uski choot ny paani chor dya...........taiz jhatky laity hoy........ Major ky lund ko dabaaty hoy........ Saba ki aankhain band thin...... gaand Major ky pait sy chipki hoi thi...... or choot Major ky lund ko dabaa rahi thi............. kitny din baad to is qadar powerful orgasm mila tha usy........... itni powerful chudaai ky baad........... abhi Saba apny hi mazy main hi thi ky Major ny Saba ki gaand pr aik zoor ka thappar maara......... Major: saali........ aagya maza............ bujh gai teri choot ki pyaas........ Saba na peechy mur kr nidhaal halat main Major ki traf dekha or muskraa di....... Major ny apna lund Saba ki choot mai daaly daaly hi haath barhaa kr sharab ki bottle uthaai ...... or usy Saba ki gaand ky crack main giraany laga...... sharab behti hoi neechy ko jaany lagi........ or jaisy hi Major ka lund Saba ki choot sy bahir aata to usi sharaab ko ly kar Saba ki choot main jaata........... Saba ko bhi is cheez sy maza aa raha tha....... woh bih sisakti hoi...... apni choot ko aagy peechy krny lagi thi........ Major ny apni aik ungli Saba ki gaand ky soorakh pr rakhi..... or ahista ahista uski gaand ky soorakh ko sahlaany laga........... Saba samjh gai ky aaj Major uski gaand bhi maary ga........... or woh Major ko naraaz na krny ka faisla kr ky aai thi......... uski har baat maan ny ka........... to is lye us ny khud ko Major ka lund apni gaand main lainy ky lye bhi tyaar kr lya tha................... kuch hi dair ky baad woh lamha aagya...... jiski Saba ko umeed thi...... or shayad thora dar bhi tha............. Major ny apna lund Saba ki choot sy nikaala...... or usy Saba ki gaand ky soorakh pr rakh dya...........
  4. nice update guru ji! lekin abhi aur baqi hay! woh kab la rahay ho

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.