Leaderboard
Popular Content
Showing most liked content on 31/05/20 in all areas
-
اتار چڑھاو
3 likes
-
New Member & Writer
2 likesاسلام و علیکم دوستوں. میں اس فورم پہ نیا ہوں اور ایک پارٹ ٹائم لکھاری بھی ہوں. پارٹ ٹائم اس لیۓ کیونکہ آج سے بہت سالوں پہلےمیں کچھ فورمز کے لیۓ لکھا بھی کرتا جو بعد میں بند ہوگۓتھے.زریعہ معاش کے لیۓ نوکری شروع کر دی تو شوق سب رل گۓ. کافی سالوں بعد جب دوبارہ موقع ملا تو بہت فورمز سرچ کیۓ پر جو بات یہاں نظر آئ وہ کہیں نہیں تھی. اس کی وجہ ڈاکٹر خان صاحب تھے. اب میں چاہتا ہوں کہ یہاں اپنی کوئ داستاں قلم بند کروں اور ساتھ ہی ساتھ پیڈ ممبر بھی بن جاؤں. اس سلسلے میں اگر کوئ ساتھی رہنمائ کر دے تو غنیمت ہوگئ.. نوازش2 likes
-
*`~`*اردو فن کلب فورم رولز*`~`*
*`~`*اردو فن کلب فورم رولز*`~`* اردو فن کلب میں ایک وقت میں ایک سے زیادہ آئی ڈیز بنانے کی قطعی اجازت نہیں۔ ایک سے زیادہ اکاؤنٹ ہونے پر تمام اکاؤنٹ کو بین کر دیا جائے گا۔ اور نئے اکاؤنٹ پر فیس چارج کی جائے گی۔اگر اپنے یوزر نیم میں تبدیلی چاہتے ہیں یا پاسورڈ بھول گئے ہیں۔تو نیو اکاؤنٹ بنانا اس کا حل نہیں۔آپ کسی بھی وقت نیچے دیئے گئے ای میل پر ایڈمن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ admin@urdufunclub.org فورم میں آنے والے تمام نئے ممبرز کو خوش آمدید کہتے ہوئے، ان کی توجہ فورم سےمتعلقہ چند چیدہ چیدہ اہم نقاط کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ اگرچہ جو بھی ممبر فورم میں رجسٹر ہوتا ہے، اس نے فورم کی تمام شرائط کوپہلے ہی تسلیم کیا ہوتا ہے۔ ان کی یاد دہانی کے لیے میں فورم رولز کو یہاں پھر سے لکھ رہا ہوں۔ ٭ چونکہ یہ ایک بنیادی طور پر اردو فورم ہے، اس لیے یہاں صرف اردو میں کی گئی پوسٹ ہی اپروول ہو گی ۔کسی بھی کہانی یا کمنٹ کا اردو میں ہونا لازمی ہے ۔رومن یا انگلش میں کیا جانے والا کمنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ ٭ فورم میں ہمیشہ نئی اور میعاری پوسٹنگ کو ہی اپروو کیا جائے گا۔ غیر میعاری اورفورم میں پہلے سے موجود مواد /تھریڈ کوپوسٹ کرنا منع ہے۔ایسے تمام تھریڈ کو فوری کچرے کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے گا۔ ٭ اس فورم میں اسلام/مذہب اور سیاست پرکسی بھی طریقے سے بات نہیں ہو سکتی۔ ایسا کرنے والے ممبر کو بھی لائف ٹائم کے لیئے بین کر دیا جائے گا۔ ٭فورم میں کسی بھی کہانی میں مخصوص مقدس نام کوکسی کردار سے منسلک کرنا منع ہے۔ایسا کرنے والے ممبر کی کہانی اور آئی ڈی دونوں کو فورم سے ہٹا دیا جائے گا۔تمام ممبرز سے گزارش ہے کہ ایسی کسی بھی کہانی یا کمنٹ کو اگر فورم میں دیکھا جائے تو اسے فوری رپورٹ کیا جائے تاکہ فورم انتظامیہ اسے فورم سے ہٹا سکے۔ ٭فورم میں کسی ایسی پوسٹ کی ہرگز اجازت نہیں جس سے کسی بھی قسم کے اختلاف کا پہلو نکلتا ہو یا وہ کسی مخصوص فرقے کے عقائد یا نشر و نشاعت پر مبنی ہوفرقہ ورانہ تھیرڈز یا مواد سے پرہیز کریں۔ تمام کمنٹس ممبرز کی ذاتی رائے پر مشتمل ہوتے ہیں ۔فورم ایسے کسی معاملات کا ذمہ دار نہیں ہے۔ ٭ اس فورم میں (INCEST) سیکس (ماں ،بیٹا،بہن بھائی وغیرہ) کی قطعی اجازت نہیں ،الہذا ایسے کسی ٹاپک پر مشتمل تھریڈ کو پوسٹ مت کیا جائے،بصورت دیگر اس تھریڈ کو ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ ٭ فورم میں کسی دوسری سائیٹ /فورم / بلاگ / گروپ /موبائل نمبر / ای میل کی تشہیر ممنوع ہے۔چاہے وہ کسی تھریڈ میں ہو، رپلائی پوسٹ میں ہو یا ممبر کے اپنے سائن میں ہو۔ یا پرائیویٹ میسج میں ہو۔ ایسا کرنے والے ممبر کو بغیر کسی وارننگ کےفوری طور پر لائف ٹائم بین کر دیا جائے گا۔کسی ممبر کو پرسنل میسیج / پرائیویٹ میسج کے ذریعے کسی دوسرے سائٹ یا گروپ کی طرف راغب کرنا بھی فوری لائف ٹائم بین کا باعث بنے گا۔ اگر کسی ممبر کو ذاتی میسج میں کسی دوسری سائیٹ کی طرف راغب کیا جائے تو اس ممبر پر لازم ہے کہ وہ فوری فورم انتظامیہ کو اس ممبر کی نشان دہی کرے بصورت دیگر اسے بھی اسپیمنگ میں شامل سمجھا جائے گا۔ اور اس کو بھی بین کیا جا سکتا ہے پریمیم ممبران کو پرائیویٹ میسج کی سہولت حاصل ہے۔ مگر اس کا استعمال ذاتی گپ شپ کے لیئے کیا جا سکتا ہے۔مگر پرائیویٹ میسج میں بھی ذاتی موبائل نمبر اور ای میل یا کسی دوسری سائیٹ اور گروپ کی تشہیر کرنا منع ہے ۔ ایسا کرنے والے ممبر کا پریمیم اکاؤنٹ معطل کر دیا جائے گا۔ اور کسی قسم کا ری فنڈ نہیں کیا جائے گا۔ ٭ اگر کسی تصویر یا دوسرے مواد پر کسی دوسرے فورم کا لوگو نمایاں ہو گا۔یا کسی پی ڈی ایف فائل میں دوسری سائیٹ کا واٹر مارک موجود ہو گا۔اس تصویر یا فائل کو بھی اس فورم میں پوسٹ نہیں کیا جا سکتا۔البتہ ان لوگو / واٹر مارک کو ریموو کر کے پھر پوسٹ کر سکتے ہیں۔اگر ہو سکے تو فائل پر فورم کا واٹر مارک اور اپنا یوزر آئی ڈی بھی ضرور ایڈ کریں۔تاکہ آپ کی پوسٹ کو چوری نہ کیا جا سکے۔ ٭ فورم کےتمام سیکشن میں کوئی بھی نئی تھریڈ / رپلائی موڈریٹ کیے جاتے ہیں۔اور وہ اس وقت تک ممبر کو آن لائن نظر نہیں آتے۔ جب تک متعلقہ سیکشن موڈیریٹر، اسے اپروو نہیں کر دیتا۔جس کی وجہ سے کچھ دیر کی تاخیرکے بعد ہی نیو تھریڈ یا پوسٹ فورم میں نظر آتی ہے۔اگر نیو تھریڈ یا پوسٹ فورم کی پالیسی / رولز کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی، تو وہ لازمی اپروو ہو جائے گی۔ اور جو فورم کے رولز کے مطابق نہیں ہو گی،اسے فورم سے ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ ٭ فورم انتظامیہ اس بات کی پابند نہیں ہے۔ کہ ہر ایک ممبر کو اسکی ہر ایک منسوخ شدہ تھریڈ کی وجہ بھی بتلائے۔ ہاں اگر کسی کو یہ شک ہو۔ کہ اس کی میعاری ،فورم کے اصولوں پربنائی گئی تھریڈ بھی فورم میں اپروو نہیں ہوئی ہے، تو وہ اپنی تھریڈ کا نام، اور سیکشن کا نام، جہاں تھریڈ پوسٹ کی گئی تھی، لکھ کر مجھے ای میل کے ذریعے مطلع کر سکتا ہے۔مگر ایسا تھریڈ پوسٹ ہونے کے چوبیس گھنٹے بعد ہی کیا جا سکتا ہے، پہلے نہیں۔اس پر نظر ثانی کر کے ممبر کو ریپلائی کر دیا جائے گا۔ ٭ فورم کے دوستوں سے یہ بھی درخواست ہے، کہ وہ کسی بھی تھریڈ میں رپلائی پوسٹ کرتے وقت اس بات کا خاص دھیان رکھیں، کہ ان کا رپلائی صرف اور صرف تھریڈ سے متعلقہ ہی ہو۔کسی ممبر کی تھریڈ کو اپنی ذاتی تشہیر کا ذریعہ نہ بنائیں۔ اور نہ ہی اسے گپ شپ کے لیے استعمال کریں۔ ایسی تمام پوسٹ کو آئیندہ سے فورم سے ڈیلیٹ کریا جائے گا۔ اور کوئی عذر نہیں سنا جائے گا۔ ٭ فورم میں قسط وار کہانیاں لکھنے والوں سے عرض ہے۔ کہ وہ اپنی کہانی کی اگلی قسط ایک ہفتے کے اندر اندر ضرور پوسٹ کردیں ۔ بصورت دیگر، ایسی پوسٹ /تھریڈ کو اس وقت تک کے لیے ان کمپلیٹ کے سیکشن میں بھیج دیا جائے گا۔جب تک اگلی قسط پوسٹ نہیں ہو گی۔ ٭ کوئی بھی ممبر کسی دوسرے ممبر سے کسی بھی وجہ سےگالی گلوچ نہیں کرے گا، اور نہ ہی ایسی گھٹیا زبان استعمال کرے گا۔ جو متعلقہ ممبر کی دل آزاری کا سبب بنتی ہو ۔ ایسا کرنے والے ممبر کوبھی کسی وارننگ کے بغیر فوری طور پر فورم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بین کر دیا جائے گا۔ ٭فورم میں کسی قسم کی ذاتی معلومات اور ای میل / موبائل نمبر ۔ فیس بک یا سوشل میڈیا کے لنکس اور کسی بھی قسم کے گروپس کو شیئر کرنا یا کسی بھی سے کوئی لنک یا کنٹکٹ انفارمیشن طلب کرنا سختی سے منع ہے۔فورم کا سٹاف آپ کو ہدایات کرتا ہے کہ براہ کرم اپنی کسی قسم کی ذاتی معلومات جیسے کہ اپنا پتا/ ای میل یا فون نمبر کسی بھی ممبر سے شیئر مت کریں۔ جس سے تمام لوگوں کی اس تک رسائی ممکن ہو سکے۔ان معلومات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہر ممکن طور پر احتیاط کریں۔ اگر کوئی ممبر آپ پر ذاتی معلومات کے لیے دباؤ ڈالے۔ تو فورا کو-ایڈمنسٹریٹر یا پھر مجھ سے رابطہ کریں۔ ٭ فورم کے سٹاف (کو-ایڈمنسٹریٹر اور موڈریٹرز) کو کسی پیغام میں ردوبدل اور اسے ڈیلیٹ کرنے کا پورا پورا اختیار ہے۔ اور اس بارے میں وہ کسی کو جوابدہ نہیں سوائے ایڈمنسٹریٹر کے۔ اگر آپ محسوس کریں کہ کسی موڈریٹر نے آپ سے زیادتی کی ہے تو آپ مجھے اس سے آگاہ کریں۔آپ کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ ہو سکتا ہے۔ابھی آپ کو یہ اصول بہت سخت محسوس ہوں۔مگر ان کی پاسداری ضروری ہے۔اور ان کا خوشگوار اثر آپ کو بہت جلد محسوس ہو گا۔اور اس فورم میں آپ خود کو بہت محفوظ محسوس کریں گے۔ مزید مدد یا معلومات کے لیے مجھ سے رابطہ کیجیے۔ شکریہ1 like
-
پیڈ فائل کیا ہے ؟ ۔ مکمل معلومات
**پیڈ فائلز کیا ہیں؟** فورم پر پیڈ فائلز کا ایک نیا فیچر متعارف کروایا گیا ہے، جو کہ ہمارے فورم کے ڈاؤن لوڈ اور کلاؤڈ سرور کے ساتھ مربوط ہے۔ عموماً انٹرنیٹ پر صارفین مفت ڈاؤن لوڈ کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن جہاں فری مواد دستیاب ہوتا ہے وہاں عموماً کاپی پیسٹ کیا ہوا کم معیار کا مواد ہوتا ہے۔ پیڈ فائلز فیچر کا مقصد فورم کے ممبرز کو اعلیٰ معیار کا منفرد مواد فراہم کرنا ہے، جس میں ہائی کلاس کہانیاں اور دیگر ملٹی میڈیا شامل ہیں۔ ان کہانیوں کے لیے ہمارے پاس اپنے رائٹرز موجود ہیں، اور وقت کے ساتھ مزید رائٹرز کو شامل کیا جائے گا۔ فورم ان سے کہانیاں خرید کر اپلوڈ کرے گا، کیونکہ اس مواد کی فراہمی کے لیے ہمیں مستقل طور پر رائٹرز کو ماہانہ ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ فیچر پیڈ فائلز کی صورت میں رکھا گیا ہے۔ **پیڈ فائلز کی ادائیگی کا طریقہ** فورم پر پیڈ فائلز کی ادائیگی کے لیے پے پال کا آٹومیٹک آپشن شامل کیا گیا ہے۔ تاہم چونکہ ہر ممبر کے پاس پے پال کا اکاؤنٹ نہیں ہوتا، اس کا متبادل نظام "اکاؤنٹ بیلنس" کی صورت میں بھی دیا گیا ہے۔ اس سسٹم میں آپ اپنے اکاؤنٹ میں پہلے سے بیلنس جمع کر سکتے ہیں جو کہ آپ کی پیڈ فائلز کی ادائیگی میں استعمال ہوگا۔ مثال کے طور پر جس طرح آپ موبائل بیلنس کال کرنے پر استعمال کرتے ہیں، اسی طرح یہاں فورم پر بھی آپ کے اکاؤنٹ بیلنس سے ادائیگی ہو سکے گی۔ **اکاؤنٹ بیلنس کیسے حاصل کیا جائے** اکاؤنٹ میں بیلنس جمع کرنے کا پہلا طریقہ پے پال کے ذریعے ہے جس سے آپ خودکار طریقے سے کریڈٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسرا طریقہ مینول ہے، جس میں آپ ایڈمن کو ادائیگی کر کے اپنے اکاؤنٹ میں بیلنس ایڈ کروا سکتے ہیں۔ تمام کرنسیز کو امریکی ڈالر میں تبدیل کر کے کریڈٹ آپ کے اکاؤنٹ میں ظاہر کیا جائے گا۔ آپ موبائل کارڈ، بینک ٹرانسفر، اور دیگر دستیاب ذرائع سے کریڈٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ **اکاؤنٹ بیلنس ٹرانسفر کی سہولت** آپ اپنے موجودہ کریڈٹ کو کسی بھی دوسرے ممبر کو منتقل یا بطور تحفہ دے سکتے ہیں، اور اس پر کوئی اضافی چارجز نہیں ہوں گے۔ مزید معلومات اور اپڈیٹس اسی تھریڈ میں شیئر کی جائیں گی۔ ممبران کسی بھی سوال یا وضاحت کے لیے اسی تھریڈ میں پوچھ سکتے ہیں یا براہ راست ایڈمن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔1 like
-
New meber from Multan
1 likeHello everyone My name is Asad and i am from Multan Mujhy sex stories read kerna bohat pasand hai1 like
-
ارمان ایک طویل داستان
1 like" تُم اپنا رجسٹر لیکر ادھر آؤ . . . " سحرش میم نے مجھے سامنے بلایا . . . . دِل کی دھڑکنیں بڑھنے لگی اور یہی خیال آتا رہا کہ سحرش میم کہی کچھ پُوچھ نہ لے ، کیوںکہ ابھی تک نہ تو میں نے کچھ لکھا تھا اور نہ ہی کچھ پڑھا تھا ، ابھی تک میرا دھیان صرف اور صرف اس کی جوانی پر تھا . . . . " یہاں میں مذاق کر رہی ہوں کیا . . . . " " نو میم . . . " اپنا سَر جھکائے میں کسی بچے کی طرح سامنے کھڑا تھا ، اور اس وقت کا انتظار کر رہا تھا ، جب وہ غصے سے چلاتے ہوے میرا رجسٹر پھینک دے اور میں پھر اپنا رجسٹر اُٹھا کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤں . . . . . " نام کیا ہے تمہارا . . . " " ارمان . . . . " " کیا ارمان ہے تمھارے ، . . . ذرا سب کو بتاؤ . . . " " سوری میم ، دوبارہ کچھ نہیں کروں گا . . . . " یہ تو میں نے میم سے کہا ، لیکن میں اسے کچھ اور بھی بول سکتا تھا اور وہ یہ تھا " کہ میرے ارمان یہ ہے کہ تجھے پٹخ پٹخ کر چودوں ، کبھی آگے سے تو کبھی پیچھے سے . . . . " " سٹ ڈاؤن ، اور دوبارہ میری کلاس میں کوئی حرکت کرنے سے پہلے سوچ لینا . . . " اپنا منہ لٹکاے ، میں وآپس اپنی جگہ پر آیا ، جہاں اظہر بیٹھا مزے لے رہا تھا . . . . " اب چُپ ہو جا . . . " غصے میں میں نے کہا اور میری آواز ذرا تیز ہو گئی ، جسے وہ 5 ’ 8 " ہائیٹ والی پھر غصہ ہوگئی اور مجھے ایک بار پھر سے کھڑا کیا . . . . " وہ میم اس سے میں کچھ پُوچھ رہا تھا . . . " سحرش میم ، میرا گلا دباتی اس سے پہلے ہی میں نے بول دیا . . . . " تُم بھی کھڑے ہو . . . " اب کے بار اشارہ اظہر کی طرف تھا ، اور جب میم نے اسے کھڑے ہونے كے لیے کہا تو اس کے چہرے کا رنگ بھی بَدَل گیا ، . . . " کیا پُوچھ رہا تھا یہ تم سے . . . " " وہ میم ، بائنری کو کنورٹ کرنے کا میتھڈ ، پُوچھ رہا تھا . . . " جھوٹ بولتے ہوئے اظہر نے میری طرف دیکھا اور ساری کلاس نے ہم دونوں کی طرف نگاہیں ڈالی . . . " گیٹ آؤٹ . . . . " " کیا . . . " " میری کلاس سے باہر جاؤ اور آج کی تمہارا حاضری کٹ ، اور اگلی کلاس میں آؤ ، تو ذرا خیال سے ، کیونکہ نیکسٹ کلاس میں تم نے کوئی حرکت کی تو اسائنمنٹ ڈبل ہو جائیگا . . . . . اِس آس میں کہ میم کا دِل تھوڑا نرم ہو جاۓ اور وہ مجھے وآپس بیٹھا دے ، اس لئے میں تھوڑی دیر اپنی جگہ پر کھڑا رہا ، . . . لیکن وہ اِس دوران ہزاروں بار مجھے باہر جانے كے لیے بول چکی تھی ، اور پھر اس نے آخری بار پرنسپل كے پاس لے جانے کی دھمکی دی . . . پوری کلاس كے سامنے میری عزت میں چار چاند لگ چکے تھے ، لیکن جب سحرش میم نے پرنسپل کا نام لیا تو میں کسی بھیگی بلی کی طرح کلاس سے باہر آ گیا . . . . . . . مجھے اب بھی یاد ہے اس دن میں پورے چالیس منٹ کلاس كے باہر کھڑے رہا ، اور پھر جب سحرش میڈم کا پیریڈ ختم ہوا اور وہ باہر نکلی . . . لیکن میری طرف غصے سے اپنی ناک چڑاتی ہوئی وہاں سے آگے چلی گئی ، اور جب میں کلاس میں گیا تو تب سبھی کی نظریں مُجھ پر ہی ٹکی ہوئی تھی . . . . . " آؤ بیٹا ارمان ، کیا پورے ہوئے آپ کے دِل كے ارمان . . . " " چُپ ہوجا کمینے ، ورنہ یہی مار دونگا ، دماغ مت خراب کر . . . " " او تیری ، سوری یار . . . تجھے برا لگا ہو تو . . . " اظہر بولا . . . اس دن اس کلاس میں دو لوگ ایسے تھے ، جنہیں میں چاہ کر بھی نہیں بھلا سکتا ہوں ، ایک تو میرا خاص دوست بنا اور ایک لڑکا ایسا تھا، جسے دیکھ کر ہی میرے منہ سے گالیوں کی لمبی دھار نکلنے لگتی تھی . . . . " شوکت . . . " اس نے پہلے اظہر کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر میری طرف . . . . شوکت مائننگ سبجیکٹ کا تھا ، اور وہ بھی تھوڑا سانولا تھا ، شوکت کو دیکھ کر ایک بار پھر میں نے خود سے کہا کہ " میں تو اس سے زیادہ ہینڈسم ہوں . . . . " " بھائی ، اگلی کلاس میں تھوڑا سنبھل کر . . . " مجھے نصیحت دینے لگا وہ . دوسری کلاس تو شروع ہو چکی تھی ، لیکن ٹیچر ابھی تک نہیں آیا تھا ، لڑکے ہو یا لڑکیاں سبھی سبزی منڈی کی طرح چیخ رہے تھے ، اور اسی دوران ایک لڑکی سامنے آئی اور ہم سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا . . . . لیکن حالت پہلے جیسے ہی رہے . . . وہ لڑکی سامنے والے بینچ پر بیٹھے لڑکوں سے کچھ بولی ، اور سامنے بینچ پر بیٹھے لڑکیوں میں سب کو خاموش رہنے كے لیے کہا ، کچھ دیر لگا سب کو خاموش کرنے میں . . . . " گڈ مارننگ فرینڈ . . . مائی نیم اِس صائمہ . . . . " " تو کیا چوسنا ہے سب کا . . . " اظہر نے ایک پل بنا گنوائیں جواب میں بولا ، سن تو سب نے لیا تھا ، لیکن سب ری ایکشن ایسے کر رہے تھے ، جیسے کانوں میں روئی ڈال كے آئے ہو ، سامنے کھڑی اس لڑکی نے بھی سن لیا تھا ، لیکن وہ بھی ایسے ری ایکٹ کر رہی تھی ، جیسے اس نے سنا نہ ہو . . . . . " یہ تو چودے گی ، کمینی چپ . . . " " گانڈ پر لات مار کر بٹھاؤ اس کو . . . " پہلے اظہر اور پھر اس کے سر کے ساتھ سر ملاتا ہوا شوکت بولا ، میں بھی جوش میں آ گیا اور بولا " اِس انٹرودکشن دینے والی لڑکی کو ننگا کرکے پورے کالج میں بھگانا چاہیے . . . . " اُدھر صائمہ كے بَعْد باقی لڑکیوں نے بھی اپنا انٹرودکشن دیا ، یہ سلسلہ اور بھی آگے چلتا لیکن اگر بی ایم آئی كے سَر وہاں نہ آئے ہوتے تو . . . . اصل میں ہمارا سبجیکٹ تھا ، بیسک مکینیکل انجینیئرنگ ، ( بی ایم آئی ) ، لیکن جو سر ہمیں پڑھانے آئے تھے ، ان کا خود کا بی ایم آئی کلیئر نہیں تھا ، پوری کلاس كے دوران اس نے کیا پڑھایا کچھ سمجھ نہیں آیا ، پیریڈ بوا بھی کس لینگویج میں تھا ، یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا . . . . پڑھائی کی طرف سے میں تھوڑا سنجیدہ تھا ، اور اپنا پورا دماغ بی ایم آئی كے پیریڈ میں لگانے كے باوجود بھی جب ، کچھ سمجھ نہیں آیا تو ، ایک دَر دِل میں اٹھنے لگا کہ ایگزام میں کیا ھوگا . . . . " کیا ہوا ، . . . " " یار کچھ سمجھ نہیں آ رہا . . . " " تو ٹینشن کس بات کی یہ ٹاپک ہی چھوڑ دے . . . کون سا تجھے ٹاپ مرنا ہے " " مجھے ٹاپ ہی مرنا ہے . . . " اس وَقت تو اظہر سے میں نے یہ کہہ دیا ، لیکن یہ جنون میرے سَر سے بہت جلد اترنے والا تھا ، یہ میں نہیں جانتا تھا جاری ہے . . . . اس کو دیکھ ، خود کو حور سمجھ رہی ہے . . . " اظہر نے اسی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ، جو کچھ دیر پہلے سامنے آکر انٹرودکشن دے رہی تھی . . . . " میرا بس چلے تو اس کا ٹی۔سی ہی اس کے ہاتھ میں دے دوں . . . " صائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے کہا ، کچھ دیر پہلے جب وہ سامنے آکر بول رہی تھی تو اس کی آواز نیچرل نہیں تھی ، وہ اپنی الگ ہی ٹون میں بات کر رہی تھی ، جو کی اکثر لڑکیاں کرتی ہے . . . . . شوکت اس وقت اسٹڈی میں لگا ہوا تھا ، اور میں اور اظہر اس لڑکی کو دیکھ کر دِل ہی دِل میں برا بھلا کہہ رہے تھے ، . . . تبھی اس کی نظر ہم پر پڑی ، اور میں نے جلدی اپنی نظریں اس کی طرف سے ہٹا کر اپنے رجسٹر کی طرف کر لی . . . . . " کہی یہ نہ سوچ لے کہ ہم دونوں اسے لائن مار رہے ہے . . . " میں نے پین پکڑا اور ٹیچر جو لکھا رہا تھا اسے لکھتے ہوئے بولا . . . . "میرا لنڈ لائن ، اتنے بڑے کالج میں یہ ایک ہی ہے کیا ، جو اسے لائن ماریں گے . . . اسے دیکھ کر تو سحرش میڈم كی کلاس میں کھڑا لنڈ بھی بیٹھ جاتا ہے . . . . " ہمارے ٹیچر کہ پریڈ ختم ہوگیا تھا " بھوک لگی ہے یار ، چل کینٹین سے آتے ہے . . . " اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوے میں نے بولا . . . " چل آجا ، کینٹین اُدھر ہے . . . " ویسے تو سینیرز کی کلاس لگی ہوئی تھی اس وقت ، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہے ، جو کلاس بند کرکے کینٹین آ جاتے ہیں ، جب ہم کینٹین كے اندر گئے تو وہاں لڑکیاں تو تھی ، لیکن ساتھ میں ہمارے سینیرز بھی تھے اور وہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے کالج ان کے باپ کا ہو . . . . " چُپ چاپ ، ایک کرسی پکڑ لے ، ورنہ مسلہ ہو جائیگا . . . " میں اس وقت کچھ نہیں بولا ، اور ہم دونوں نے سائڈ کی کرسی پکڑ لی . . . . " اس کو دیکھ . . . " اظہر کا اشارہ کینٹین میں ایک طرف بیٹھے ہوئے سیئنر لڑکے کی طرف تھا ، جو کہ کچھ اسٹوڈنٹ كے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا . . . . " کیا ہوا . . . " میں نے بھی اسی طرف دیکھا . . . " اسکا نام کاشف ہے ، کمینہ سات سال سے اِس کالج میں پڑھ رہا ہے ، لیکن آج تک فورتھ ایئر میں ہی لٹکا ہوا ہے . . . " جب اظہر نے مجھ سے کہا تب میں نے اس کی طرف غور سے دیکھا ، وہ اپنے ساتھ بیٹھے اسٹوڈنٹ میں سے زیادہ عمر کا لگ رہا تھا ، اور اپنے پیر سے ٹیبل كے نیچے سے دوسری طرف بیٹھی ہوئی لڑکی كے پیر کو سہلا رہا تھا . . . . " یہ لڑکیاں بھی نا جانے کیسے کیسے لڑکوں سے سیٹ ہوجاتی ہے . . . " اس لڑکی كے لیے جھوٹی اپنایت دکھاتے ہوئے میں نے اظہر سے پوچھا " یہ سات سال والا ہے کس برانچ کا . . . " " اپنی ہی برانچ کا ہے کمینہ اور کچھ لوگ کہتے ہے کہ یہ بہت ٹائٹ تنظیم سازی کرتا ہے . . . " تنظیم سازی کا سن کر گلا خشک ہو گیا ، اس وقت یہی ایک چیز تھی جو مجھ پر حاوی تھی ، جب سے میں کالج کیمپس كے اندر داخل ہوا تھا ، یہی چیز مجھے ڈرا رہی تھی . . . . " بہن چود ، یہ تنظیم سازی بند کر دینا چاہئے . . . " پانی پیتے ہوئے میں نے بولا ، پانی كے پورا ایک گلاس خالی کرنے كے بَعْد تھوڑا سکون آیا ، " بند ہے میری جان ، تنظیم سازی تو سالوں سے بند ہے لیکن یہ لوگ کر ہی لیتے ہے . . . " " یہ بہن چود کینٹین والا کہا مر گیا ہے. . . " ہائپر ہوتے ہوئے میں نے بولا اور میری آواز پوری کینٹین میں گونج اٹھی ، میرا اتنا کہنا تھا کہ سب کی نظر ایک بار پھر میری طرف ہوئی ، مجھے دیکھ کر کچھ اپنے کام میں لگ گئے ، کچھ ایسے بھی تھے ، جو میری طرف ہی دیکھ رہے تھے ، ان کی شکل سے لگ رہا تھا کہ ، وہ مجھے دل ہی دل میں گلیاں دے رہے ہے . . . . . تبھی وہ سات سال سے کالج میں پڑھنے والا اُٹھ کر ہماری طرف آیا ، اس کے ساتھ کچھ لڑکے بھی تھے اور وہ لڑکی بھی ، جو اس کے سامنے بیٹھی تھی . . . . . " کس سبجیکٹ کا ہے . . . " میرے سامنے والی کرسی کو دھکیل کر کاشف نے مجھ سے پوچھا . . . دِل کیا کہ اس کرسی کو ایک لات مارکر دور کر دو ، لیکن پھر اس کے بَعْد ہونے والے اپنے حال کا اندازہ لگا کر میں روک گیا . . . . " مکینیکل ، فرسٹ ایئر . . . " وہ میرے سامنے والی کرسی پر پورا کا پورا سماں گیا تھا ، " مجھے جانتا ہے . . . " " ہ. . ہ . . ہاں . . " گلا ایک بار پھر خشک ہونے لگا اور جیسے ہی میں نے پانی والے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور زور سے دبانے لگا ، دَرْد تو کر رہا تھا ، لیکن میں نے اپنے منہ سے ایک آواز تک نہیں نکالی اور نہ ہی اسے بولا کہ میرا ہاتھ چھوڑ دے ، ، . . " پانی بَعْد میں پینا ، پہلے میرے سوالوں کا جواب دے . . . " وہ میرے ہاتھوں کو اب بھی پکڑے ہوئے تھا اور اپنا پورا زور لگا کر دبائے جا رہا تھا . . . " ابے بول ، چھوڑ میرے ہاتھ کو ورنہ یہی پٹخ پٹخ کر گانڈ ماروں گا . . . . " اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈالتے ہوئے میں نے صرف آنکھوں سے کہا. . . . " آنکھیں نیچے کر . . . " کاشف كے ساتھ جو لڑکے آئے تھے ، اُن میں سے ایک نے میرے سَر پکڑا اور نیچے جھکا دیا . . گیم شروع ہو چکا تھا ، اور مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب کچھ نہ کچھ برا ہی ھوگا . . . . میرے الٹے ہاتھ کی ہڈیوں کا کچومبر بنا کر اس نے میرا ہاتھ چھوڑا اور پھر میرے گریبان کو پکڑ کر بولا " بیٹا ، اوقات میں رہنا سیکھو اور سینیرز کو ریسپیکٹ دو . . . " کاشف کی بچی نے اپنے ٹیبل سے ایک سموسہ اُٹھا کر لائی اور اس کا آدھا ٹکڑا کھا کر باقی میرے چہرے پر تھوپ دیا ، اس وقت شاید میں بہت غصے میں تھا ، دِل کر رہا تھا ، کہ اس لڑکی کو کھینچ کر ایسا ٹھپر ماروں کہ اس کا سَر ہی دھڑ سے الگ ہو جائے ، لیکن غصے کو پینا پڑا ، میں انہیں دیکھنے كے سوا اور کچھ نہیں کر سکا . . . . . وہ سبھی مجھ پر کچھ دیر ہنسے اور چلے گئے . . . تبھی کاشف كے ساتھ والی لڑکی ، جس نے میرے چہرے کی یہ حالت کی تھی ، میری نظر اس کے گانڈ پر پڑی اور میں نے دل ہی دل میں یہ ارادہ کر لیا کہ ، " اس کو تو ایسا چودوں گا کہ اس کے چوت اور گانڈ كے ساتھ ساتھ منہ سے بھی خون نکل جائے . . . . " اپنا نام میری بیتی زندگی میں سن کر میرے خاص دوست کاشف نے مجھے میری کالج لائف سے باہر نکالا . . . . " یار ، یہ سات سال سے لگاتار فیل ہونے والے لڑکے کا نام کاشف کیسے ہے . . . " " اب تو یہ اس کے باپ سے پُوچھ ، کہ اس نے اس کا نام کاشف کیوں رکھا . . . " " لے یار ایک اور گلاس بنا . . . " اظہر نے اپنا خالی گلاس میری طرف بڑھایا ، اور میں نے کاشف کی طرف . . . . " رات ہو گئی کیا . . . " میں نے اٹھنے کی کوشش کی ، لیکن سَر گھوم رہا تھا ، اس لئے وآپس بیٹھ گیا . . . " ابھی دن ہے . . . دوپہر كے 12 بج رہے ہے . . . " کاشف نے پیگ بنا کر گلاس میری طرف بڑھایا اور بولا " آگے بتا ، کینٹین كے بَعْد کیا ہوا . . . " " کینٹین كے بَعْد . . . " جاری ہے . . . . . مجھ سے اس وقت کوئی کچھ اور پوچھتا تو شاید میں نہیں بتا پتہ ، لیکن میرے کالج میں بیتے لمحات مجھے اِس طرح یاد تھے کہ رات بارہ بجے بھی کوئی اٹھا كے پوچھے تو میں اسے بتا دوں . . . . اس دن کینٹین کی حرکت نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ، اظہر بھی چُپ بیٹھا ہوا تھا ، میں بری طرح غصے میں تھا ، اور جب کینٹین والا ہمارا آرڈر لیکر آیا تو میں نے بولا . . . " اب تو ہی کھا اسے . . . " میں وہاں سے غصے میں اٹھا اور کینٹین سے باہر آ گیا ، اظہر بھی پیچھے پیچھے تھا . . . " ارمان ، رک نہ یار ، . . . " اظہر بھاگ کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور مجھے روک کر بولا " بھول جا . . . " " اس لڑکی کا کیا نام ہے ، بتا کمینی کو چود كر آتا ہوں . . . " " اس کا نام تو مجھے بھی نہیں معلوم . . . " یہ بولتے بولتے اظہر نے مجھے گلے لگا لیا ، پتہ نہیں کمینے میں کیا جادو تھا کہ میرا غصہ ٹھنڈہ ہونے لگا . . . . " دور ہٹ ، میں لونڈے باز نہیں ہوں . . . " جب میرا غصہ پوری طرح ٹھنڈا ہوگیا تو میں نے کہا . . . " ایک بات بتا ، تجھے کاشف كے ساتھ والی لڑکی اچھی لگی نہ . . . " مجھ سے الگ ہوتے ہوئے اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . " اچھی تو ہے ، اس لیے تو اس کا نام پوچھا " " تو بھائی ، اسے بھول جا ، ورنہ کاشف ننگا کرکے بھگائے گا. . . " " وہ اتنی بھی خوبصورت نہیں ہے کہ میں اس کے لیے پورے کالج میں ننگا بھاگوں. . . ابھی صرف سحرش میڈم کی طرف اپنی توجہ دینی ہے " اس کے بَعْد ہم دونوں اپنی کلاس کی طرف آئے ، فرسٹ ایئر کی ساری کلاسس آس پاس ہی تھی ، اس لئے بریک ٹائم میں ہر سبجیکٹ کی لڑکیوں کو لائن مارا جا سکتا تھا . . . . ہم دونوں اپنی کلاس كے باہر کھڑے اسٹوڈنٹ كے پاس جا کر کھڑے ہو گئے ، جہاں گروپ بنا کر کچھ لڑکے باتیں کر رہے تھے اور جیسا کہ میں نے سوچا تھا ٹاپک لڑکیوں پر ہی تھا . . . . . " کہاں گئے تھے یار . . . " شوکت نے ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور پوچھا . . . " کینٹین . . . " اظہر نے جواب دیا . . . " کینٹین " اس کی آنکھیں نا جانے کتنی بڑی ہوگئی یہ جان کر جب اس نے سنا کہ ہم دونوں کینٹین سے ہو کر آئے ہے . . . . " کیا ہوا . . . " اس کی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھ کر میں نے پوچھا . . . " تنظیم سازی ہوئی ، تم دونوں کی . . . " تنظیم سازی . . . . یہ سن کر میں اور اظہر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھاکنے لگے اور سوچنے لگے کہ اسے کیا بولا جائے . . . " نہیں . . . کسی نے تنظیم سازی نہیں کی . . . " " آج تو بچ گئے ، لیکن کل سے اُدھر مت جانا ، سینیرز ڈیرہ ڈال كے رہتے ہے اُدھر . . . . " " تو کیا ہوا ، پھٹتی ہے کیا . . . " یہ لفظ میں نے ایسے کہا ، جیسے کچھ دیر پہلے کاشف کی اس بچی نے نہیں بلکہ میں نے اس کے چہرے پر سموسہ ڈَلا ہو . . . . . " دیکھو بھائی ، مشورہ دینا میرا کام تھا . . . " شوکت بولا " ویسے اور کہاں کہاں یہ سینیرز ڈھوندتے ہے ہمیں . . . " " تِین جگہ پکی ہے ، پہلی کینٹین ، دوسری بس اسٹاپ اور تیسرا ہاسٹل . . . . " ہم اِس مسئلے پر کچھ دیر اور بھی بات کرتے لیکن اس سے پہلے ہی وہاں کھڑے لڑکوں میں سے کسی ایک نے ٹاپک کو چینج کرکے ، اپنے کالج کی حسیناؤں پر ٹاپک شروع کر دیا . . . . . اور اِس معاملے میں سب سے پہلا نام جو آیا وہ تھا سحرش میڈم ، . . . سب یہی چاہ رہے تھے کہ سحرش میڈم ان سے سیٹ ہو جائے ، کچھ ٹھرکیوں نے تو یہ تک بول دیا تھا کہ. . . " آج کالج سے جانے كے بَعْد سحرش میڈم کی نام کی مٹھ بھی ماریں گیں " تو بھی بول لے کچھ . . . " کاشف نے مجھے کونی ماری . . . . " میں تو اس وقت کاشف کی بچی کو چودونگا ، وہ بھی گھوڑی بنا کر . . . " " کاشف. . . " یہ نام سن کر سب چُپ ہوکر میری طرف دیکھنے لگے ، . . وہ سب مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ میں نے کسی کا قتل کرنے کا سرعام اعلان کر دیا ہو . . . . " میں نے تو ایسے ہی بول دیا . . . " میں نے بات وہی ختم کرنی چاہی . . . " یار ، ایسے مت بولا کر ، کہی سے کاشف کو پتا چل گیا تو پھر پنگا ہو جائیگا . . . " شوکت کی باتیں سن کر میں نے چاروں طرف دیکھا اور جب کنفرم ہو گیا کہ ، ہمارے گپ شپ کو کسی نے نہیں سنا تو میں نے بولا . . . " ڈرتا ہوں کیا ، " " دیکھ ، زیادہ شیر مت بن، ورنہ پول کھل جاے گا . . . " اظہر نے میرے کان میں سرگوشی کی. . . . کچھ دیر اور کالج کی لڑکیوں كے بارے میں باتیں کرتے ہوئے ، ہم نے اپنا وقت برباد کیا اور اسی دوران مجھے اور بھی بہت ساری باتیں معلوم ہوئی جو کہ ہمارے کالج میں برسوں سے چلی آ رہی تھی . . . . 1 . جب تم فرسٹ ایئر میں ہو ، تب ہی کوئی بچی پٹا لو ، ورنہ پورے چار سال خالی ہاتھ سے کام چلانا پڑیگا اور ہونٹ پر لڑکی كے ہونٹ کی جگہ ٹیپ سولیشن لگا کر رہنا پڑیگا . . . . " 2 . ہمارا کالج گورنمنٹ تھا ، اس لئے کالج كے پِرِنْسِپل اور ٹیچرز کو بھلے ہی ریسپیکٹ نہ دو ، لیکن وہاں کام کرنے والے ورکر اور پوئن کو سر کہہ کر بُلانا پڑیگا ، تاکہ وقت آنے پر وہ ہمیں لمبی لائن سے بچا سکے . . . . اس دن ایک اور ضروری بات جو پتا چلی وہ یہ تھی کہ . . . . . جب بھی کوئی لڑکی پٹاؤ تو اسے جلدی چود دو ، ہمارے کالج میں پڑھنے والوں کو منع تھا کہ گرل فرینڈ کو چودنے كے بَعْد لڑکیاں ، لڑکوں سے کسی لمبے عرصے کے لئے باندھ جاتی ہے ویسے ہرگز نہیں کرنا . . . . اس دن اور بھی کچھ پتا چلتا لیکن میتھ میٹکس والی میم نہ آتی تو . . . . " کتنی باتیں کرتے ہو تم لوگ ، پورے ہال میں تم لوگوں کی آوازیں آ رہی ہے . . . " سامنے والی بینچ پر اپنا بیگ رکھ کر میتھس والی میم نے بولا. . . . میتھس والی میم کا نام راحیلہ تھا ، جو بَعْد میں ہمارے یہاں " راحیلہ رانی " كے نام سے مشہور ہوئی کالج کا پہلا دن کسی بھی حساب سے میرے لیے ٹھیک نہیں رہا ، پہلے پہل تو سی ایس والی سحرش میڈم نے مجھے باہر بھاگا دیا اور بَعْد میں کینٹین والا مسلہ . . . . . کالج كے پورے پیریڈز اٹینڈ کرنے كے بَعْد ایسا لگ رہا تھا ، جیسے کسی نے ساری طاقت چوس لی ہو ، . . . " تھک گیا یار . . . " روم میں گھوستے ہی میں نے اپنا بیگ ایک طرف پھیکا اور بستر پر لیٹ گیا ، " چل گراؤنڈ چلتے ہے ، شام كے وقت ہاسٹل میں رہنے والی گرلز آتی ہے اُدھر . . . . . " گانڈ مروائے لڑکیاں . . . مجھے تو نیند آ رہی ہے . . . " " ٹھیک ہے تو سو ، میں آتا ہوں . . . " میں زیادہ تھکا ہوا تھا ، اس لئے جلدی نیند آ گئی ، اور جب میری آنکھ کھلی تو اظہر مجھے اٹھا رہا تھا . . . . " کیا ہوا بے . . . " " یار رات كے آٹھ بج گئے . . . " " تو . . . " میں نے سوچا کچھ کام ھوگا . " تو کیا . . . . . رات كے آٹھ بجے کوئی سوتا ہے کیا . . . " " اب تو یہ فیصلہ کرے گا کہ مجھے کتنے بجے کیا کرنا ہے . . . " " ٹائم پاس نہیں ہو رہا تھا ، تو سوچا تجھے اُٹھا کر گپ شپ مار لوں . . . ." " ٹائم پاس نہیں ہو رہا ہے تو جا کر مٹھ مار لے . . . " اور میں پھر سے چادر اورھے گہری نیند میں چلا گیا . . . . . پرانی عادت اتنی جلدی نہیں بدلتی ، جب میں اسکول میں تھا تب اکثر صبح چار بجے اُٹھ کر پڑھائی شروع کر دیتا تھا ، اور اسی کی بدولت مجھے بہت ہی اچھا کالج ملا تھا . . . اس دن بھی میں نے چار بجے کا آلارم سیٹ کیا اور جیسا کہ پہلے ہوتا تھا ، دوسرے دن میری آنکھ آلارم کی وجہ سے صبح چار بجے کھل گئی ، لائٹ آن کی اور کاشف کی طرف دیکھا . . . کاشف آدھا بستر پر تھا اور آدھا بستر كے باہر ہی جھول رہا تھا . . . . " کیا خاک پڑھوں . . . کل تو سب سَر كے اوپر سے گزر گیا تھا . . . " بکس اور نوٹ بک کھول کر میں نے ڈھیر ساری گالیاں دی . . . . کچھ دیر تک ٹرائی کرنے كے بَعْد بھی جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو ، میں نے لائٹس اوف کی اور چادر اوڑھ کر لیٹ گیا . . . . میری پرانی عادت كے بدولت نیند تو آنے سے رہی ، اس لئے میں کچھ سوچنے لگا . . . جیسے کہ کس ٹائم پر کس سبجیکٹ کو پڑھنا ہے تاکہ دماغ میں سہی طرح سے بیٹھ جاۓ ، پھر جیسے ہی میرے دماغ میں سی ایس سبجیکٹ کا خیال آیا تو سب سے پہلے میری بند آنکھوں كے سامنے سحرش میڈم کا حَسِین چہرہ اور اس کا حَسِین جسم لہرا گیا . . . . وہ میرے سامنے نہیں تھی ، لیکن میں انہیں پورا دیکھ سکتا تھا ، . . . اور اِسی خیالات میں ڈوبتے ہوئے میرا ہاتھ میرے پینٹ کی طرف بڑھا اور پینٹ کی زپ کھول کر میرا ہاتھ نہ چاہتے ہوے بھی میرے کھڑے لنڈ پر چلنا شروع ہوگیا صبح صبح ہی کام ہو گیا ، اس کے بَعْد جو آنکھ لگی تو وہ سیدھے صبح كےآٹھ بجے کھلی . . . . آج كے دن کالج میں کوئی ایسی آنے والی تھی ، جسے نہیں آنا چاہئے تھا ، اس دن بھی میں اور اظہر کالج كے پیچھے والے گیٹ سے اندر گئے اور سیدھے اپنی کلاس كے اندر دستک دی . . . . شوکت پہلے سے ہی آ چکا تھا . . . " چل باہر سے آتے ہے . . . " میں اپنی سیٹ پر بیٹھا ہی تھا کہ شوکت نے اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے مجھ سے بولا . . . . " کیوں . . . . کیا ہوا ؟ " " لگتا ہے ، بائیک کی چابی بائیک میں ہی لگی رہ گئی ہے . . . " اس نے گھبراہٹ میں جواب دیا . . . میں نے سوچا ، اظہر کو اس کے ساتھ بھیج دوں، لیکن اظہر تو پیچھے کسی سے جان پہچان بنا رہا تھا اس لئے مجھے ہی اس کے ساتھ جانا پڑا . . . . " بائیک میں لگی ہے چابی . . . " بائیک میں چابی لگی دیکھ کر شوکت نے سکھ کا سانس لیا. . . ہم دونوں ابھی بائیک اسٹینڈ پر ہی کھڑے تھے کہ تیز رفتاری سے آتی ہوئی ایک کار نے وہاں کھڑے سبھی لوگوں کا دھیان اپنی طرف متوجہ کیا. . . . کار دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اندر بیٹھا ہوا شخص کی حیثیت کتنی زیادہ ہے . . . . " کوئی وڈیرے کا لڑکا ھوگا. . . " میں نے سوچا ، لیکن میری سوچ مجھے تب دھوکہ دے گئی ، جب اس چم چماتی کار سے لڑکے کی جگہ ایک لڑکی باہر آئی ، . . . لڑکی کیا پوری ماڈرن قسم کی ہیروئن تھی وہ ، سر سے لیکر اس کے سینڈل تک اس کی دولت اور اس کی ماڈرن زمانے كے رنگ میں رنگی اس کی شخصیت کی پہچان کرا رہی تھی . . . . پہلے تو میں نے اس لڑکی کو پورا اوپر سے لیکر نیچے تک دیکھا اور بَعْد میں میرے نظر اپنے آپ اس جگہ پر اٹک سی گئی ، جو ایک لڑکی میں مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ، . . . اور ایسی حَرْکَت کرنے والا میں وہاں اکیلا نہیں تھا ، وہاں کھڑے تقریباً سبھی لڑکوں کا یہی حال تھا ، سب اپنی پسندیدہ جگہ دیکھ کر لالچا رہے تھے . . . . . " یہ کون ہے . . . " میں نے شوکت سے پوچھا تو اس نے جواب میں کاندھے اچکا کر نہ کر دیا . . . . ویسے تو اس کالج میں بہت ساری خوبصورت لڑکیاں تھی ، لیکن وہ لڑکی جو ابھی ابھی کار سے باہر آئی تھی ، وہ اُن میں سے سب سے الگ لگی مجھے . . . ایسا مجھے کیوں لگا اس کا وجہ آج تک میں نہیں جان پایا . . . . . . اسے دیکھ کر میں اور شوکت وہی کھڑے رہ گئے ، ہمارے قدم زمین پر اور آنکھیں اس لڑکی پر ہی جمی ہوئی تھی . . . . اس کے ساتھ کار سے ایک اور بھی لڑکی باہر نکلی ، جو اس کی قریبی فرینڈ ھوگی ، ایسا میں نے سوچا . . . . " سارہ. . . . " اس لڑکی کی فرینڈ نے پہلی بار اس ماڈرن لڑکی کا نام پکارا . . . . . " سارہ . . . . " میں نے بھی دِل ہی دِل میں یہ نام لیا ، اور بہت خوش بھی ہوا اور میرے ارمان اسے دیکھ کر باہر آئے " اس کو تو پٹانا پڑیگا . . . " " کیا . . . ؟ " شوکت بولا . . . " کچھ نہیں ، چل کلاس شروع ہوگئی ھوگی . . . " برسوں سے کچھ لفظ ، کچھ الفاظ بڑی مشکل اور شدت سے لکھ رکھے تھے میں نے کسی كے لیے ، جو میرے لیے خاص ہو اور آج سارہ کو دیکھ کر وہ الفاظ میرے دِل سے باہر آنے كے لیے مچل رہے تھے . . . . . . "میں اکثر کبھی اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں ، بہت سے چہرے مجھے دکھائی دیتے ہے لیکن ایک چہرہ ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتا ہے ، میرے دل میں رہتا ہے. . . . . . " وہ چہرہ میری محبّت ہے . . . . . . . . جاری ہے . . . . " باہر . . . باہر ، بلکل باہر . . . " راحیلہ میڈم نے مجھ سے کہا ، جب میں نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو " یہ کیا تمہارا گھر ہے . . . " " سوری میم . . . " نظریں جھکا کر معصوم بننے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میں نے بولا . . . لیکن میری اس معصومیت کا راحیلہ رانی پر کوئی اثر نہیں ہوا ، اور اوپر سے اس نے دھمکی بھی دے دی کہ میں نے اسے بحث کی تو وہ آنے والے تین دن تک حاضری نہیں لگاۓ گی . . . کل سے یہ سب کچھ میرے ساتھ پہلی بار ہو رہا تھا ، پہلے کبھی بھی کسی نے کلاس سے باہر نہیں بھیجا تھا ، اس لئے مجھے معلوم تک نہیں تھا کہ ، ٹائم پاس کیسے کروں ، اس وقت کالج میں گھوم بھی نہیں سکتا تھا ، کیا پتہ کوئی سینیر پکڑ کر تنظیم سازی نہ کر لے . . . . دِل کر رہا تھا کہ راحیلہ میم کے بال پکڑوں اور گھسیٹ کر اسے کلاس سے باہر کر دوں. . . . " اندر آ جاؤ ، اور اگلی بار وقت کا خیال رکھنا . . . " راحیلہ رانی نے میری طرف دیکھا ، شاید میری جھوٹی معصومیت اور بھولے پن کو انہوں نے اصلی سمجھ لیا تھا . . . . جب کلاس كے اندر آیا تو ایک بار پھر پوری کلاس مجھے گھور رہی تھی ، کچھ مجھ پر ہنس بھی رہے تھے اور کلیجہ تب جل گیا تب دیکھا کہ اظہر بھی ہنس رہا ہے . . . . " اور بیٹا ، کہاں گھوم رہا تھے تم دونوں . . . " میں اظہر كے لیفٹ سائڈ میں بیٹھا اور شوکت رائٹ سائڈ میں بیٹھ گیا . . . " کہی نہیں یار ، بائیک اسٹینڈ تک گئے تھے . . . " شوکت بولا " ٹائم سے واپس بھی آ جاتے اگر وہ لڑکی نہیں دکھی ہوتی تو . . . . " " کون سی لڑکی ، جلدی بتا . . . " میم کو شک نہ ہو اس لئے ہم تینوں اپنے رجسٹر میں سامنے بورڈ پر لکھا ہوا سب کچھ چھاپ رہے تھے ، اور دھیمی آواز میں گپیں بھی لڑا رہے تھے . . . . . " پتا نہیں کون ہے ، لیکن ہے ایکدم پٹاخہ . . . . اس کے سامنے تو سحرش میڈم بھی کچھ نہیں ہے . . . " سامنے بورڈ کی طرف دیکھ کر میں نے بولا ، . . . ایک دو بار راحیلہ رانی سے میری نظر بھی ملی ، تب میں نے اپنا سَر اوپر نیچے کرکے اسے احساس کروایا کہ مجھے سب کچھ سمجھ آ رہا ہے ، جب کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ، میں تو اس وقت صرف اور صرف سارہ كے بارے میں سوچ رہا تھا ، اس وقت میں صرف اور صرف سارہ كے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا . . . . " کتنا اچھا ہوتا ، یار اِس راحیلہ کی جگہ وہ سارہ ہمیں میتھس پڑھاتی . . . . " دِل كے ارمانوں نے اک بار پھر گھنٹیاں بجانا شروع کر دی ، اور ان گھنٹیوں کو کسی نے بہت زور سے بجایا . . . . " میم . . . " کلاس كے دروازے کی طرف سے کسی کی آواز آئی . . . . اور جب نظریں اس طرف گھومائی تو بس وہی جم کر رہ گئی ، دروازے پر سارہ کھڑی تھی . . . " یس . . . " میتھ والی میم نے سارہ سے کہا . . . " یہ بھی اسی کلاس میں پڑھے گی ، " خوش تو بہت ہوا تھا ، بینچ پر کود کود کر ڈانس کرنا چاہتا تھا ، اظہر اور شوکت سے کہنا چاہتا تھا کہ " تم لوگ یہاں سے اَٹھ جاؤ کمینوں ، وہ یہاں بیٹھے گی . . . " لیکن افسوس تب ہوا جب وہ بولی کہ . . . . " میم سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کون سی ہے . . . " کوری ڈور میں سب سے پہلی کلاس ہماری ہی تھی ، اس لئے وہ شاید ہمارے کلاس میں اپنی کلاس پوچھنے آئی تھی ، سوچا کے رَو رَو کر اسے اِس بات کا احساس ڈالاؤں کہ میں کتنا دُکھی ہوں ، اس کے یوں جانے سے ، اظہر میرے اندر کی بے چینی کو سمجھ گیا اور بولا . . . " اوئے ، یہ ڈرامہ بند کر ، اور اپنی توجہ کا مرکز صرف سحرش میڈم کو بنا " سارہ تو اپنی کلاس میں چلی گئی ، لیکن اس کا عکس میرے دِل پر رہ گیا تھا ، اور سارہ کا عکس صرف مجھ پر ہی نہیں پڑا تھا ، اور بہت سے لوگ تھے ، جن کا دِل سارہ كے اِس طرح سے جانے كی وجہ سے اُداس تھا . . . . اظہر اور شوکت بھی اسی لسٹ میں تھے . . . . . " وہ میری بچی ہے ، اس کو دیکھنا بھی مت . . . " سارہ كے جانے كے بَعْد میں نے پھر سے بورڈ پر نظریں گاڑ دی اور جو کچھ بھی راحیلہ رانی لکھ رہی تھی ، میں اسے اپنی نوٹ بک میں چھاپتے ہوئے ان دونوں سے بولا . . . . " سیٹ تو مجھ سے ہی ھوگی . . . " شوکت نے کہا . . . " گانڈ مروا لو سب لڑکیوں سے ، سحرش کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ یہ میری بچی ہے ، سارہ کو دیکھو گے تب بھی یہی بولو گے کہ یہ میری بچی ہے ، کسی اور لڑکی کو بھی دیکھو گے تو وہ بھی تم دونوں کی ہی بچی ہوگی ، میں یہاں صرف ہلانے آیا ہوں ہے نہ " میں اور شوکت ہنس پڑے ، اور ایک بار پھر راحیلہ میم نے اپنی ظالمانہ نظروں سے ہم دونوں کو گھورنے لگی ، راحیلہ میم كے اِس طرح سے دیکھنے كی وجہ سے میں اور شوکت چُپ ہو گئے اور ایکدم سریس اسٹوڈنٹ بن کر سامنے ڈیسک پر رکھی بکس كے صفحات الٹنے لگے . . . . . " چل آجا کینٹین سے آتے ہے . . . " بریک میں اظہر نے مجھ سے کینٹین چلنے كے لیے کہا ، اور میری آنکھوں كے سامنے وہ نظارہ چاہ گیا جب کاشف کی بچی نے میرے چہرے سے پیار کر رہی تھی . . . . میں نے اظہر کو صاف منع کر دیا کہ میں کینٹین کی طرف نہیں جاؤنگا ، اور پھر میں اپنے ہی کلاس كے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ، جہاں کچھ لڑکے کھڑے ہوکر بات کر رہے تھے ، میں کھڑا تو اپنے کلاس میں تھا لیکن آنکھیں سی ایس سبجیکٹ کی کلاس کی طرف ٹکی ہوئی تھی ، . . . میں اس وقت وہاں کھڑا اس وقت کا انتظار کر رہا تھا کہ کب وہ خوبصورت سارہ اپنی کلاس سے باہر نکل کر آئے اور میری آنکھوں کو سکون ملے . . . . خدا نے جیسے میری دل کی بات سن لی ہو ، سارہ اپنے اسی فرینڈ كے ساتھ کلاس سے باہر نکلی اور باہر کھڑے سب لوگ مچل اٹھے ، سب لوگ سارہ کو دیکھ رہے تھے . . . . . ہماری کلاسز فرسٹ فلور پہ تھی اور کوری ڈور كے دونوں طرف سے نیچے جانے كے لیے سیڑھیاں بنی ہوئی تھی . . . . سارہ اپنے فرینڈ كے ساتھ ہماری طرف آنے لگی ، . . . میں یہ جانتا تھا کہ وہ میرے لیے تو اِس طرف نہیں آ رہی ہے ، لیکن پھر بھی دھڑکنیں تیز ہو گئی ، اور وہ جب میرے سامنے سے گزری تو میری زبان لڑکھڑائی " آئی . . . . . " بس اتنا ہی بول سکا میں سارہ کو دیکھ کر ، اور آواز بھی اتنی دھیمی تھی کہ میرے ساتھ کھڑے میری کلاس والے بھی اس آواز کا نہ سن سکے . . . . میں پہلے بھی حیران ہوا کرتا تھا اور اب بھی حیران ہوا کرتا ہوں ، کہ اظہر کیسے جان جاتا ہے کہ دوسرا شخص کیا سوچ رہا ہے . . . . " مطلب . . . . " زمین پر لیٹے کاشف نے سگریٹ كا دھواں اڑاتے ہوئے مجھ سے پوچھا . . . " مطلب کہ. . " میں نے اظہر کی طرف دیکھا ، کمینہ شراب کی بوتل لیے باتھ روم سے باہر آ رہا تھا " اظہر کی ایک خاصیت ہے ، وہ کسی کی بھی شکل دیکھ کر یہ بتا دیتا ہے کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہے ، وہ شخص کس سوچ میں ڈوبا ہوا ہے . . . . " " ایسا ہے کیا . . . " جاری ہے . . . . . " ہاں یار ، . . " " پھر تو . . . " یہ بولتے ہوئے کاشف زمین پر بیٹھ گیا اور اظہر کی طرف دیکھا . . . . " یہ کمینہ باتھ روم میں بوتل لے کر کیوں گیا تھا ؟ " " میری عادت ہے . . . " میرے پاس بیٹھتے ہوئے کاشف کی طرف دیکھ کر اظہر نے جواب دیا . . . " بڑی عجیب عادت ہے یار ، اچھا ہوا کھانے کی پلیٹ لیکر باتھ روم جانے کی عادت نہیں ہے ، ورنہ ایک طرف سے مٹیریل باہر نکلتا تو دوسری طرف سے اندر جاتا . . . . " کاشف زور زور سے ہنسنے لگانے لگا اور مجھ سے بولا " تو کیوں روک گیا بے ، آگے بتا کیا ہوا . . . . " اُس دن بریک ٹائم میں جب میں نے دھیمی آواز میں " آئی " بولا تھا ، تب اظہر میرے برابر میں ہی کھڑا تھا ، اور جب سارہ ہماری آنکھوں كے سامنے سے گزری تو وہاں ایک اظہر ہی ایسا لڑکا تھا جو سارہ کی جگہ مجھے دیکھ رہا تھا اور میرے چہرے كے بدلتے رنگ کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا تھا کہ میرے اندر ابھی کیا چل رہا ہے . . . . . . " چل آجا . . . " میرا ہاتھ پکڑ کر اظہر بولا . . . " کہاں آجا یار. . . " " چل سارہ سے تیری بات کراتا ہوں . . . " یہ سنتے ہی میں نے جلدی اس کا ہاتھ دور کیا اور بولا " تجھے ایسا کیوں لگا کہ میں سارہ سے بات کرنا چاہتا ہوں ؟ " " اب بیٹا ہم کو گنتی گننا نہ سکھاؤ . . . جب سے تو نے اسے دیکھا ہے ، تیرے چہرے پر لالی چھائی ہوئی ہے . . . " " ہٹ یار . . . . ایسی درجنوں لڑکیوں کو میں روز دیکھتا ہوں ، تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں ان سے بات کروں . . . . " " ابھی ان درجنوں لڑکیوں کو چھوڑ اور اس طرف دیکھ . . . " دوسری طرف سے سارہ اپنی زلف لہراتی ہوئے وآپس آ رہی تھی ، اُس وقت دِل میں ارمان اٹھا کہ کاش سارہ سیدھے میرے پاس آئے اور مجھے بولے کہ " ہیلو ہینڈسم ، تمہارا نام کیا ہے . . . " دِل میں ارمان جاگے کہ وہ مجھے دیکھے اور مجھے دیکھتے ہی اسے مجھ سے محبّت ہو جائے ، وہ قریب آتی گئی اور میرے منہ سے " آئی . . . . . . " لفظ اک بار پھر باہر آیا ، لیکن جب وہ اپنے کلاس کی طرف گئی تو یہ " آئی . . . . " لفظ وآپس اندر چلا گیا . . . . " دِل توڑ دیا اس نے اُس طرف جا کر . . . " اپنے سینے میں ہاتھ رکھ کر سہلاتے ہوئے مزاخیہ اندازِ میں میں نے بولا . . . . " یار ، اظہر کچھ جوگار کرنا . . . . اسے ایک بار دل بھر کر دیکھنا چاہتا ہوں . . . . " " چل آجا پھر . . . " اظہر نے ایک بار پھر میرا ہاتھ پکڑا . . . " کمینے ہاتھ چھوڑ ، چھوٹا بچہ ہوں کیا ، جو بات بات پر ہاتھ پکڑ لیتا ہے . . . " " پیار ہے پگلے . . . " " اِس پیار کو تھوڑا کم کر " سی ایس سبجیکٹ میں اظہر کا ایک دوست تھا ، جس کے پاس جا کر میں اور اظہر بیٹھ گئے . . . . جہاں اظہر اپنے دوست سے بات کرنے لگا وہی میں چپکے سے سارہ کو تکنے لگا . . . . ایسا نہیں تھا کہ میں نے سارہ سے پہلے کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی ، لیکن جو کشش اس میں تھی وہ آج تک مجھے کسی بھی لڑکی میں محسوس نہیں ہوئی تھی ، اُس وقت اس کی مقناطیسی کشش مجھ پر غالب آ رہی تھی ، جو مجھے مدہوش کرنے کے لئے کافی تھی. . . . . اسی دوران پہلی بار اس نے مجھے دیکھا لیکن میری نظری یکایک دوسری طرف ہو گئی ، دِل کی دھڑکنوں نے اک بار پھر سے بھرنے لگی . . . . . " کیا ہوا بے . . . " مجھے دوسری طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر اظہر نے پوچھا . . . " کچھ نہیں ، بس اس نے مجھے دیکھ لیا . . . . " " تو ، یہی تو موقع تھا ، آنْکھ مار دیتا اسے اسی وقت . . . " " پھٹتی ہے میری ان سب کاموں سے . . . " " لو تب تو وہ سیٹ ہوگئی تیرے سے . . . . " اظہر نے سارہ کی طرف دیکھا . . . " سن ارمان ، سارہ تجھے ہی دیکھ رہی ہے . . . . " " کیا . . . . " دِل ایک بار پھر زور سے دھڑکا . . . اور میں نے سارہ کی طرف دیکھا ، اظہر سچ بول رہا تھا وہ میرے طرف ہی دیکھ رہی تھی . . . اُس وقت مجھے ایسا لگا جیسے کہ وقت ٹھہر گیا ہو ، اُس وقت مجھے ایسا لگا کہ وہاں اُس کلاس روم میں میرے اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے . . . . " تم دونوں تو ایک دوسرے آنکھیں چار کر رہے ہو لیکن . . . . . " اظہر بولا اور بولنے كے فوراً بَعْد میرے کاندھے کو پکڑ کر زور سے ہلایا " بریک ٹائم ختم ہوا میرے لال ، اب اپنی کلاس کی طرف چلے یا اِس بار بھی یہی ارادہ ہے کہ اگلا پیریڈ کا ٹیچر تجھے باہر نکال دے . . . . " "بریک ختم ہو گیا . . . " " بلکل اور تو پچھلے بیس منٹ سے اس کو گھورے جا رہا ہے بنا پلکیں جھپکائے. . . . " اظہر اور میں سارہ کی کلاس سے باہر آئے ، کلاس تو شروع ہوچکی تھی لیکن ٹیچر ابھی تک لاپتا تھا . . . . . اپنی سیٹ پر بیٹھ کر میں کچھ دیر پہلے جو کچھ بھی ہوا ، اس کو یاد کرنے لگا اور ہاتھوں میں پین پکڑ کر ڈیسک پر اسکا نام لکھنے لگا . . . . . " سارہ . . . . . " اِس نام کو سامنے والی ڈیسک پر پین سے لکھنے كے بَعْد میں اسے اپنے ہاتھوں سے سہلانے لگا ، وہ نام میں نے نارمل پین سے لکھا تھا ، اُس نارمل پین كے نارمل سیاحی سے لکھا تھا ، لیکن جو چار الفاظ وہاں ابھرے تھے ، وہ میرے لیے نارمل نہیں تھا ، . . . ان چار الفاظوں سے ایک لگائو سا ہوگیا تھا . . . . لیکن اُس وقت میں یہ بھول گیا تھا کہ میری ساتھ میرا سب سے کمینہ اور خاص دوست اظہر بیٹھا ہے ، جو مجھے ایک پل كے لیے بھی چین سے سانس لینے نہیں دیگا . . . . میری اِس حرکت وہ مجھ پر چلایا . . . " ابے یہ کیا کر رہا ہے . . . " اس کے اِس طرح سے اچانک بولنے سے میرا دھیان ٹوٹا اور جن چار الفاظوں سے مجھے لگاؤ تھا ، انہیں میں مٹانے کی کوشش کرنے لگا . . . . لیکن سیاحی سُوکھ چکی تھی ، اس لئے نام مٹنا تھوڑا مشکل تھا . . . . . . " ہاتھ ہٹا . . . " " نہیں . . . " میں نے سارہ كے نام كے آگے ایسے ہاتھ رکھ کر کھڑا تھا جیسے کی میرا ہاتھ ہٹاتے ہی میری عزت لٹنے والی ہو . . . . " دیکھ ارمان ، مجھے دیکھا دے کہ کیا لکھا ہے ڈیسک پر تو نے ، ورنہ پوری کلاس کو بتا دوں گا . . . . " " تیری تو " کیا کرتا ، مجبوری مجھے ہاتھ ہٹانا ہی پڑا . . . " تیری رائٹنگ تو بہت اچھی ہے . . . " یہ بول کر اظہر پیچھے موڑا تو میں نے وآپس سارہ كے نام کو اپنے ہاتھوں سے ڈھک لیا . . . " بوتل ہے . . . " اظہر نے پیچھے بیٹھے کسی لڑکے سے بولا . . . جاری ہے . . . . " پانی کی بوتل" نہیں شراب کی بوتل . . . . یار کلاس میں ہو تو پانی کی بوتل ہی مانگوں گا نہ. . . . " " تو سہی سے بول نہ . . . . " اظہر نے جس سے پانی کا بوتل مانگا تھا وہ بولا . . . " ابے گھونچو اس طرح تو کیا خاک انجینئر بنے گا ، کمینے نے میٹرک کا ایگزام پکا نقل سے پاس کیا ھوگا . . . اب لا دے بوتل " اس کے ہاتھ سے بوتل لیکر اظہر نے پانی کی کچھ بوندے ڈیسک پر ڈالی اور سارہ کا نام مٹا کر مجھ سے بولا . . . " یہ عاشقی کا جو بھوت سوار ہے نہ، اس کو سنبھل کر رکھ ورنہ لینے كے دینے پڑ جائینگے . . . . " " کمینے تو مجھے ڈرا رہا ہے . . . " " یہی تو پیار ہے پگلے " ہفتے میں تین دن ہمارا لیب کا ہوتا تھا ، اور ہر ایک لیب دو دو پیریڈز كے برابر تھا ، ہم سب اپنے باقی كے کام لیب کلاس میں ہی نپٹا لیتے تھے ، شروع كے آدھے گھنٹے میں لیب والے سر آ کر ہمیں ایکسپیریمینٹ اور اکوپمنٹ کو کیسے یوز کرنا ہے ، یہ بتا کر اپنی سیٹ پر برجمان ہو جاتے اور اس کے بَعْد کا پورا وقت ہم ایس ایم ایس بھیجنے میں ، اسائنمنٹ کمپلیٹ کرنے میں استمعال کرتے تھے ، ہمارے کالج كے ٹیچرز کی ایک بہت ہی خراب عادت یہ تھی کہ وہ چھوٹی سی چھوٹی بات پر یا تو حاضری کٹ کر دیتے تھے ، یا پھر سیدھے کلاس سے باہر ہی بھاگا دیتے تھے . . . اس دن فیزکس کا لیب تھا اور لیب میں، میں سی ایس کا اسائنمنٹ کر رہا تھا اور اِس کام میں اظہر بھی باخوبی میرا ساتھ دے رہا تھا کہ اچانک صدیقی سر کی آواز پوری لیبارٹری میں گونجی . . . . " جو اسٹوڈنٹ ریڈنگ اور فائنل رزلٹ دکھائیں گا ، میں اسی کو آج کا حاضری دوں گا . . . . " " لگ گئے لوڑے . . . . " ایک دَرْد بھری غصے سے بھرپور آواز میں اظہر نے دھیمی سی آواز میں بولا . . . . " اب کیا کرے . . . " " پتا نہیں . . . " اس وقت مجھے اپنے اسکول كے دنوں کی یاد آ گئی ، جب میں لیب سے اکثر پاس آؤٹ ہوچکے اسٹوڈنٹ کی کاپی چھپا کر چھاپ دیا کرتا تھا . . . . . " ہم دونوں کو پریکٹیکل کا مینول نہیں ملا ہے نہ . . . " میں نے اظہر سے پوچھا . . . . ہم دونوں کا رول نمبر آگے پیچھے تھا ، اس لئے ایکسپیریمینٹ بھی سیم تھا . . . . " صدیقی دے رہا تھا ، لیکن میں نے لیا ہی نہیں . . . . اور ویسے بھی اس کو ریڈنگ دکھانی ہے . . . ." " تو روک میں کچھ کرتا ہوں . . . " یہ کام میں پہلے بھی بہت بار کر چکا تھا ، اس لئے دَر تو نہیں لگ رہا تھا لیکن پھر بھی تھوڑی سی گھبراہٹ ہو رہی تھی . . . . " سر ، ہمارے پاس مینول نہیں ہے . . . " لیب والے سر كے پاس کھڑے ہوکر میں نے معصومیت سے بولا . . . اس کے بَعْد صدیقی نے کئی باتیں کی ، ہمارا رول نمبر پوچھا ، اور اس کے بَعْد اس نے ایکسپیریمنٹس كے بارے میں مجھ سے پوچھا . . . . اس وقت تو ایکسپیریمینٹ کا اوبجیکٹ کیا ہے مجھے یہ تک نہیں معلوم تھا تو پھر اسکا پرنسپل کیسے بتاتا . . . . . . " سر ، یہاں کوئی پرانا رجسٹر مل جاتا تو تھوڑا آئیڈیا مل جاتا . . . . " اپنے منصوبے کے تحت میں نے سر سے کہا. . . جہاں صدیقی بیٹھا ہوا تھا ، وہاں سے بائیں طرف ایک چھوٹا سا روم تھا . . . اس نے پہلے پانچ منٹ تک میری شکل دیکھی اور پھر مجھے اندر جانے كے لیے کہا . . . . " وہ اندر بیٹھی ہوئی ہے ، ان سے مانگ لو . . . . " " تھینک یو سر . . . . " آدھا کام تو کر لیا تھا ، بس آدھا کام اور باقی تھا ، پہلے میں نے سوچا کہ اندر جس روم میں میں جا رہا تھا وہاں کوئی صدیقی کی عمر کا ہی ٹیچر ھوگا ، یعنی کہ 40 سے 45 تک کی عمر کا ، لیکن جیسے ہی میں نے اندر قدم رکھا میری آنکھیں باہر آ گئی یہ دیکھ کر کہ اندر سحرش میڈم بیٹھی ہوئی ہے . . . . . . " میم ، وہ پرانے پریکٹیکل رجسٹر چاہئے تھے . . . . " اس روم كو چاروں طرف سے دیکھتے ہوئے میں نے بولا . . . . " سر سے پوچھا ہے . . . " وہ ٹیبل پر ایسے بیٹھی تھی ، جیسے کہ وہ اِس کالج کی پرنسپل ہو . . . . " جی میم ، انہوں نے ہی کہا ہے کہ میں اندر جا کر اپنا کام کر سکتا ہوں . . . " میں نے جان بوجھ کر ایسا کہا . . . . " کیسا کام . . . " کرسی پر سیدھے ہوتے ہوئے انہوں نے میری طرف نگاہ ڈالی . . . . " وہی والا . . . . . " میں نے بولا ، فلرٹ کرنا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ، میں اکثر موقع ملنے پر یہ سب کر دیا کرتا تھا پر افسوس کہ آج تک کسی لڑکی نے میرے ارمانوں کو ٹھنڈا نہیں کیا تھا . . . . . . " میکنیکل فرسٹ ایئر رائٹ . . . . " میں نے ہاں میں سَر ہلایا تو سحرش میڈم نے ایک طرف اشارہ کر دیا . . . جہاں پاس آؤٹ اسٹوڈنٹ کے پریکٹیکل رجسٹر جمع کیے ہوئے تھے ، میں وہاں پہنچھا ایک دو رجسٹرز کو کھول کر پڑھنے کا ڈرامہ کرنے لگا ، لیکن اِس دوران میرا دھیان صرف اور صرف سحرش میم پر تھا کہ وہ مجھے دیکھ تو نہیں رہی ہے . . . . سحرش میم اِس وقت اپنے موبائل میں مصروف تھی ، اور یہی میرے لیے سنہری موقع تھا . . . میں نے چپکے سے ایک پریکٹیکل رجسٹر کو اپنے شرٹ كے نیچے پیٹ كے پاس پھنسا لیا اور اس کے بعد کچھ دیر تک میں وہی کھڑا رہا . . . . " ٹھیک ہے میم ، میں چلتا ہوں . . . . " مجھے پوری امید تھی کہ سحرش میڈم نے مجھے نہیں دیکھا تھا ، اور میں اپنے اس کارنامے پر خود کو داد دیتا ہوا وہاں سے جا ہی رہا تھا کہ سحرش میڈم نے پیچھی سے آواز دی . . . " رکو . . . " " جی میم . . . " دِل میں گھبراہٹ ایک بار پھر پیدا ہونا شروع ہوگئی . . . . " تم کیا سمجھتے ہو کہ کالج کا اسٹاف بیوقوف ہے . . . " " مطلب . . . ؟ " " مطلب یہ کہ . . . " وہ اپنی کرسی سے اُٹھ کر میرے پاس آئی اور سیدھا میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی " یہ تمھارے سکس پیکس اتنے مضبوط ہے یا لیب کا رجسٹر چوڑی کرکے لے جا رہے ہو . . . ." اس کے بعد بولنے کی میری ہمت نہیں ہوئی ، میں کسی مجرم کی طرح وہاں کھڑا سحرش میڈم كے اگلے ایکشن کا انتظار کر رہا تھا . . . . " تمہاری اطلاع كے لیے عرض کر دوں کہ میں یہی سے پاس آؤٹ ہوں اور مجھے معلوم ہے یہ معملات . . . اس لئے میرے سامنے ہوشیار بننے کی کوشش مت کرنا . . . " یہ بولتے ہوئے انہوں نے پریکٹیکل رجسٹر نکال لیا اور بولی " تمھارے جانے كے بَعْد صدیقی سر یہاں آئینگے اور وہ مجھ سے پوچھے گے کہ اس لڑکے نے کہی کچھ اٹھا تو نہیں لیا ، اور پھر جب تم باہر جاؤ گے تو تمہاری چیکنگ بھی ھوگی . . . . " " بہن چودوں نے ہیرا چھپا رکھا ہے کیا یہاں . . . " " تم نے کچھ بولا . . . " " سوری میم ، . . . " " اب جاؤ . . . " اس کے بعد چند ہی لمحوں میں سحرش میڈم نے وہ حرکت کی جس کی وجہ سے میرا دِل لیفٹ سائڈ سے رائٹ سائڈ میں شفٹ ہونے لگا تھا ، ہزار واٹ کا جھٹکا لگا جب سحرش میڈم نے مجھے . . . . انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیدھا اپنی پھدی سے ٹچ کر دیا اور بولی " پسند آیا ہو تو دوبارہ بتانا . . . . . جاری ہے . . . . میں ، اس روم سے باہر نکلا ، وہاں سے آنے كے بَعْد میری سیٹی گم ہوگئی تھی ، ایسا لگنے لگا تھا جیسے کہ کسی نے میرے ہاتھ میں کچھ دیر پہلے بجلی کا ننگا تار پکڑا دیا ہو . . . . . . . " کیا ہوا ؟ لے آیا پریکٹیکل رجسٹر ؟ " مجھے اپنے ساتھ چپ چاپ بیٹھا دیکھ کر اظہر نے مجھ سے پوچھا . . . . " ابھی کچھ دیر بات مت کر ، صدمے میں ہوں . . . . " " کیا ہوا . . . . کسی نے چوڑی کرتے ہوئے دیکھ لیا کیا ؟ " " میری چوڑی پکڑی بھی گئی اور اس کی سزا بھی دے دی گئی . . . " میں اب بھی صدمے میں تھا . . . . . " آخر ہوا کیا . . . " " کچھ نہیں ، اب میں ٹھیک ہوں . . . " میرے دِل دماغ میں ، میرے خیالوں میں جی ہاں صرف وہی نظارہ گھوم رہا تھا ، جب سحرش میم نے میرا ہاتھ پکڑا اور میرے ہاتھ کو اپنی چوت سے ٹچ کر دیا تھا . . . . " کاش میں وہاں کچھ دیر مزید روک جاتا . . ." میں بڑبڑایا . . . " ایسا کیا دیکھ لیا تو نے . . . " " کچھ نہیں . . . " سحرش میڈم نے جو کیا اس پر مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا ، کوئی بھی عورت بنا جان پہچان كے ایسے کیسے کر سکتی ہے ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کی شکایت کر سکتا ہوں ، شاید میں نے ہی سحرش میڈم کو حوصلہ دیا تھا ایسا کرنے كے لیے . . . نہ میں ڈبل میننگ میں ان سے بات کرتا اور نہ ہی وہ میرا ہاتھ پکڑتی اور نہ ہی . . . ابھی تک جو کچھ بھی میرے ساتھ ہوا تھا وہ سب ناقابل یقین تھا ، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ایک عورت كے پیچھے پاگل ہو جاؤںگا اور نہ ہی میں نے یہ سوچا تھا کہ شروعات كے کچھ دنوں میں ہی مجھے وہ چودنے کو مل جائیگی . . . . . . اس دن كے بَعْد سحرش میڈم سے جیسے میں نظر ہی نہیں ملا پا رہا تھا ، وہ جب تک کلاس میں رہتی میں اپنا سَر جھکائے رہتا اور چپکے سے ان کی طرف دیکھتا تو وہ دھیمی دھیمی مسکراتی نظر آتی . . . . " میں کتنا شرمیلا ہوں . . . " مجھے زندگی كے اٹھارہ سال بیت جانے كے بَعْد یہ پتہ چلا کہ ، میں بھی ان لڑکوں میں سے ہوں ، جن کی لڑکیوں کو دیکھ کر کچھ بولنے کی ہمت نہیں ہوتی . . . . . سارہ کچھ دنوں سے کالج نہیں آئی تھی ، میں جب بھی اس کے کلاس میں جا کر اظہر كے دوست سے پوچھتا تو وہ نہ میں سَر ہلا دیتا ، . . . دِل بےچین رہتا تھا اس کے بغیر ، روزانہ بریک ٹائم میں میں اظہر کو لیکر اس کی کلاس میں اس کے دوست كے پاس جاتا تھا اور جہاں وہ بیٹھا کرتی تھی ، اس جگہ کو اِس آس میں دیکھتا تھا کہ شاید وہ لیٹ آئی ہو ، لیکن ہر دن اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہی وہاں بیٹھی ہوئی ملتی اور ہر دن میں اس کے کلاس سے اداس ہی چلا آتا تھا . . . . ابھی تک تو میں بہت سی ناقابل یقین واقعیات کو برداشت کر چکا تھا ، لیکن ان سب کے علاوہ بھی کچھ اور تھا جو کہ میری زندگی میں پہلی بار ہونے والا تھا اور سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ مجھے اِس بات کی بھنک تک نہیں تھی . . . . کچھ دن گزرنے كے بَعْد میری کچھ اور لڑکوں سے دوستی ہوگئی اور روزانہ کی طرح ہم آج بھی بریک کے اوقات میں اپنی کلاس كے باہر کھڑے آس پاس سے گزرنے والی لڑکیوں کا مزہ لے رہے تھے . . . . . سارہ كے لیے میری دلچسپی کم ہوتی جا رہی تھی، میں اب ہر خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اسی خیال میں ڈوب جاتا کہ میں اسے اپنے ہاسٹل كے روم میں چود رہا ہوں ، ایک عجیب سی تبدیلی آ رہی تھی مجھ میں سحرش میڈم کی اس حرکت سے . . . . " سب لائن میں کھڑے ہو . . . " کسی نے گلا پھاڑ کر کہا ، اور جب میری نظر اس طرف پڑی تو دیکھا کہ دو سینیرز ہمیں لائن میں کھڑے ہونے كے لیے کہہ رہے تھے . . . . . ان کا کہنا تھا کہ ہم سب لائن میں کھڑے ہو گیں . . . . " آنکھ نیچے کر بھڑوے. . . اپنے باپ سے آنکھ ملاتا ہے . . . " کسی ایک کو اس نے تھپر مارا . . . . " کیا ہے بیٹا ، سلام نہیں کرتے تم لوگ سینیرز کو . . . گانڈ میں ڈنڈا ڈال كے یاد دلانا پڑیگا کیا . . . ." ان دونوں میں سے ایک نے بیگ تانگ رکھا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ بریک كے بَعْد وہ بینک لوٹنے كے پروگرام میں تھے اور دوسرا اپنے ہتھلیوں کو رگڑ رہا تھا . . . . " چلو ادھر آ جاؤ اور کلاس میں جتنے لڑکے ہے انہیں بھی بلاؤ . . . " جس نے بیگ تانگ رکھا تھا وہ بولا . . . کلاس میں جتنے لڑکے تھے ان سب کو بلا لیا گیا ، میں دِل ہی دِل میں یہ دعا کر رہا تھا کہ کہی سے کوئی ٹیچر آ جائے . . . . لیکن کوئی نہیں آیا ، سب اپنا پیٹ پوجا کرنے میں لگے ہوئے تھے . . . . . " تیرا نام کیا ہے . . . . " مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے وہ بولا . . . . " جی . . جی . . جی . . . " میں ہکلایا . . . سچ تو یہ تھا کہ وہاں کھڑے ہر لڑکے کی بری طرح سے پھٹ چکی تھی . . . " نام کیا ہے انجینئر صاحب آپ کا . . . " " ارمان . . . " میں نے ایک پل كے لیے اس کی طرف دیکھا اور جواب دے کر وآپس اپنی گردن نیچے کر لی . . . . " دِل كے ارمان آنسوں میں بہہ گئے . . . . " وہ گانا گاتے ہوئے میرے پاس آیا اور بیلٹ كے قریب سے پینٹ کو پکڑ کر زور سے ہلاتا ہوا بولا " یہاں کیا کرنے آتا ہے . . . " " پڑھنے . . . " " تو پھر کل سے فورمل ڈریس میں آیا کر ، ورنہ یہی سے نیچے پھینک دوں گا . . . سمجھا " " جی . . . جی . . . جی سر . . . " ( تیرا باپ دیگا پیسہ فورمل ڈریس خریدنے کا ، سالے چوتیے . . . ) " چل ریلکس ہو جا . . . " بیلٹ چھوڑ کر میرا کندھا سہلاتے ہوئے وہ بولا " میرا نام جانتا ہے . . . . " " نہیں . . . . " " میں ہوں سلطان میرانی. . . . سمجھا ، کل سے اسٹوڈنٹ کی طرح دیکھنا . . . " ان دو چوتیوں کو میں اکیلا ہی نظر آیا تھا کیا جو میری عزت کی ماں بہن ایک کر کے چلے گئے ، ان کے جانے كے بَعْد پتہ چلا کہ وہ دونوں مائننگ سبجیکٹ كے تھے . . . . . " یہ تو مائننگ كے تھے ، اس کا مطلب مکینیکل والے بھی کچھ دنوں میں اپنا دیدار کا شرف دینگے . . . " ہر کالج میں الگ الگ قانون چلتا ہے ، ہمارے یہاں تنظیم سازی تب ہوتی تھی ، جب کچھ ہفتے نکل جاتے تھے . . . شہر میں رہنے والے تو پھر بھی بچ جاتے تھے ، لیکن ہاسٹل والوں کی ایسی تیسی ہو جاتی تھی . . . . اس دن بریک كے بَعْد ہم سب کے من میں یہی سوال گھوم رہا تھا کہ ان سب سے کیسے بچا جائے ، اور اس دن كے باقی كے پیریڈز اسی خوف میں نکل گئے ، . . . میں اور اظہر کالج کی چُھٹّی كے بَعْد ہاسٹل کی طرف ہی جا رہے تھے کہ ہاسٹل سے تھوڑی دور پر ایک ہجوم دیکھائی دیا . . . . . " سن وہ دیکھ ، وہی لوگ ہوں گے . . . " اظہر وہی روک گیا اور مجھ سے بولا " اِس رستے سے مت جا ، سامنے سینیرز کھڑے ہے . . . . " ہم دونوں دوسرے رستے سے جانے كے لیے پیچھے مڑے ہی تھے کہ کسی سینیر نے ہمیں دیکھ لیا اور اُدھر آنے كے لیے کہا ، جہاں ہجوم جمع تھا . . . . " واپس کہاں جا رہے تھے سر . . . " میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا کر ایک نے بولا . . . " وہ موبائل رہ گیا ہے ، کلاس میں . . . " " اچھا . . . " اس نے میرا بیگ ایک جھٹکے سے کھینچا اور بیگ کی چین کھول کر پورا سامان راستے میں ہی الٹا کر بیگ میرے ہاتھ میں تھما دیا . . . . " اپنا سامان اٹھا اور دفع ہوجا یہاں سے . . . " میں نے ایک ہاتھ میں اپنا بیگ پکڑ کر اپنی بکس اور رجسٹر کو اٹھانے كے لیے جھکا ہی تھا کی اس سینیر نے میری گانڈ پر زور سے ایک لات ماری اور میں وہی منہ كے بَل گرا . . . . " بیوقوف سمجھ كر رکھا ہے . . . " پیچھے سے اس کی آواز آئی ، میری ہاتھوں کی مٹھیاں بند ہوچکی تھی ، اور اس وقت وہ وہاں اکیلے ہوتا تو اس کو اتنا مارتا کہ تنظیم کا نام لکھنا تک بھول جاتا وہ ، لیکن میں اٹھتا اس سے پہلے ہی اس کے کچھ اور دوست آ گئے ، اور اس کو پکڑ کر بولے کہ . . . " ابھی نہیں ، بَعْد میں دیکھ لینگے ان دونوں کو . . . " جس کے جواب میں وہ چلایا کہ " کمینہ جھوٹ بولتا ہے ، تو روک آج رات تیری دھولائی کرتے ہے ، بھاگ کمینے. . . "1 like
-
New Member & Writer
1 like
-
ہوس از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
1 like
-
ہوس از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
قسط نمبر ۵ گرو جی ابھی تو کہانی کی ابتدا ہے۔ابھی تو سکندر سیکھنے کے مراحل میں ہے۔لڑکیوں بہت اور ایک سے بڑھ کر ایک ملیں گی۔ یہ گارنٹی ہے جناب۔ جناب مزید انتظار ترک کیجیے اور انجوائے کیجیے۔1 like
-
ہوس از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
1 like
-
ہوس از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
1 like
-
ہوس از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
1 like
-
Main , meri family aur mera gaon (Writer 123fuckeravi)
Update 65 Main ne choti chachi ke sar par ek halki kiss kar di. chachi ke sharir me ek lahar doud gayi. main chachi ke gallo ko choom ne laga. Chachi muze dek rahi thi ki main kya karta hu. Main ne choti chachi ke honto pe kiss kiya. kiss karne ke bad main ne chachi ke ankhoin me deka . Chachi ki ankhoin lal ho rahi thi. Main ne pir se chachi ke honto pe apne hont rak kar kiss karne laga. Kiss karate karate chachi ke honto ko choosne laga .ab chachi bi mera sath dene lagi. Chachi ke sath kiss karne me alag hi khushi mil rahi thi. Ek alag anubhav mil raha tha.. Chachi ne thoda muh khola hi tha ki main ne apni jibh chachi ke muh me dal di. Chachi mere jibh ko choos ne lagi. Ab chachi ne apni jibh ko mere muh me dal diya main bhi chachi ki jibh ko choosne laga. ek dusare ke jibh ko chhu kar khelne lage. 10 minute tak hamara kiss chalata raha. Pir kiss thod diya. Chachi lambi lambi sanse lene lagi . Saanse lene se Sadi ka pallu niche gir gaya tha. Chachi ke doodh blouse me se dik rahe the. Chachi ke blouse ke undar bra nahi thi. Shayad chachi puri tayyari ke sath aayi thi. Main ne chachi ke doodh ko blouse ke upar se muh me le kar choos ne laga. Dusare doodh ko hanto se masal ne laga. Chachi ka blouse mere thuk se gila ho gaya. Thodi der doodh choos ne ke bad main ne chachi ke chahare ki aur deka . Chachi ne Apne honto ko dabakar raka tha. Chacha ko to neend ki goliya khila di . Aur dono chachi ko to pata hoga ki main chudai kar raha hu. Pir ye sab kya hai. Choti chachi ke dimag me kab kya chalata hai .wo BHAGVAN ko hi pata hoga Main ne chachi ka blouse nikhal diya. Chachi ke doodh mast lag rahe the. Main ne chachi ko khada kiya aur chachi ki sadi aur peticoat nikaal diya. Ab chachi mere samane nangi khadi thi. Main ne bi apne kapde nikaal diye Chaddi ko chod ke . Chachi khud kuch nahi kar rahi thi.lekin main jo bhi kar raha tha usme sath de rahi thi. Main ne chachi ko bed pe lita diya.aur Chachi ke honto ko choos ne laga. Dire dire niche aane laga. Ab gardan ko chumne laga. Chachi halke halke aahe bar rahi thi. Ab main nipal ko jibh se chatne laga. Kabi ek nipal ko to kabi dusre nipal ko chatne laga. Pir Main ne doodh ko muh me lekar choosne laga. Dusre doodh ko hanto se masalne laga.kabi left doodh ko choosta to kabi right doodh ko . Chachi puri garam ho gayi. Lagata hai chacha ne chachi ke sath aisa kabi nahi kiya . Main ne doodh ko choosna band kar diya. Aur chachi ke tango ke bich me apna sar rakh kar choot pe kiss liya. Chachi itni garam ho gayi thi ki Kiss karne se hi chachi ne pani chod diya. Main ne sara pani pi liya. Chachi ki ankhoin band thi . Unke chahare pe khusi dik rahi thi. Main ne jibh ko chachi ki choot me dal kar chatne laga .kabi dane ko honto me lekar khich leta to kabi jibh se chat leta .2 minute ke bad chachi ne pir pani chod diya.is bar bhi main ne chachi ka sara pani pi liya. Pir main khada ho gaya aur apni chaddi nikaal di .meri himmat nahi huyi ki main chachi ke muh me lund dal saku. Main ne lund ko choot pe rakh diya. Avi-chachi dal du C chachi-hmmm main ne ek zatka mara lund ka topa undar gaya. chachi ne abi chacha ke sath chudai kar li thi. isi liye chachi ki choot dili thi. main dusara zataka mara ki lund 5 inch tak undar gaya. chachi ke muh se halki dabi huyi chikh nikali. chachi ke honto se khoon nikal raha tha. shayad chachi ne chikh rokne ke liye honto ko dantto me daba diya hoga. main ne chachi ke peticoat se unke honto ko saf kiya. thodi der me khoon nikalna band ho gaya. pahali bar chudai karte wakt choot ki jaga muh se khoon nikal raha tha. main ne apne honto ko chachi ke honto par rak diya . Jis se chachi ko ab apne honto ko dabana nahi padega. Pir main ne aakari zataka mara ki mera pura lund chachi ki choot me gayab ho gaya. chachi ki chikh mere muh me dab gayi. Main thodi der lund ko bina hilaye aise hi lund ko choot me rahane diya.pir main thodi der chachi ke honto ko choosta raha .chachi ka dard kam karne ke liye hanto se dondh ko masalne laga. chachi thodi der me normal ho gayi. main ne lund ko 2 inch tak bahar nikaal kar undar dalne laga . Jis se chachi ko jada dard nahi ho raha tha. 1 minute tak aaram aaram se dhakke marne laga. jaise hi chachi ko maza aane laga vaise hi main ne dhakke marne ki gati bada di . Kamare me patch patch ki aawaz aa rahi thi. chachi shishkariya le rahi thi. chachi har dhakke ke sath apne chutad uchhal uchhal kar muzse chudwa rahi thi. Pura bed jor jor se hil raha tha. Kamare mein dhap dhap ki aawaz ho rahi thi. mere dhakke marne se chachi ki choot se bhi chap chap ki aawaz nikal rahi thi. Main ab pure josh me dhakke mar raha tha. 5 minute ki chudai ke bad chachi pir se jad gayi lekin main ruka nahi. Main jor jor se dhakke lagate huye chachi ki chudai karata raha ab main bhi jadne vala tha .main ne dhakke marne ki gati bada di aur apna veerye chachi ki choot me dal diya. hamari chudai lagbag 30 minute tak chali .main 30 minute tak chachi ki choot marta raha. main ne apna veerye chachi ki choot me dal diya aur chudai ka safar khatam kar diya. Chachi ne is chudai me 4 bar pani chod diya .har bar pani chodate wakt chachi muze kas ke pakad leti. Pani chodane se mera lund aaram se undar chaka jata.jis se hamari chudai 30 minute tak chalati rahi. Chachi ki choot me apna veerye dal ne ke bad main chachi ke upar gir gaya. Is lambi chudai ke bad main aur chachi hafne lage. Update 66 Main chachi ke upar gir gaya. Main aur chachi lambi lambi sanse lene lage. Pir thodi der bad ham normal ho gaye. Main chachi ke upar se ut gaya. Muze laga ki chachi ab bathroom jayegi. Par chachi bed par letti rahi. C Chachi-Avi Avi- main chachi ki yor dekne laga. C Chachi-ye sab kaha se sikha tumne Avi- wo madam ne sikhaya C Chachi-madam ne to tume asali mard bana diya hai Avi- main samaja nahi. C Chachi-tum ne jis tara se meri chudai agar tumne vaisa kisi ke sath bi kiya to wo tumari gulam ban jayegi. Avi- aur aap C Chachi-main to tumari patni ban gayi hu. Avi- patni C Chachi-tum muze maa bana donge to tum bache ke bap banoge. is hisab se tum mere pati ban jaoge. samaj Avi- main ye sunte hi chachi ke gale lag gaya. C Chachi-ab chodo bhi muze . aaj ke liye itna tik hai. Avi- ek bar karte hai na chachi C Chachi-aaj nahi ,kal se do bar karna. Avi- par aaj kyu nahi. C Chachi-main nahi chahati ki maa baneke liye tum apni shehat kharab karo Avi- main to tik ttak hu C Chachi-chudai karne se aadmi tak jata hai. aur tum me to har raat ko chudai karni hai.karib 1 mahine tak. Avi- lekin kal aap aisa kya karegi jis se meri shehat achi rahegi. C Chachi-ab suno. kal se tume roj subha aur raat ko ek glass dood jo main tume banakar dungi wo pina padega Avi- dood ,main nahi pine vala C Chachi-are usme main dry fruits ,keshar kuch jadibuti dal dungi. jis pine se tumari shehat achi rahegi. dry fruits se tume dood pine me maza aayega. Avi- dry fruits khane se main to mota ho jaunga C Chachi-pahale meri puri bat to suno Avi- ji C Chachi-subha utkar kasarat karna chalu kar do kamse kam 1 ganta kasarat karna. Avi- ji chachi C Chachi-aur haa, tum ghar me rahkar padai kar rah hona Avi- haa C Chachi-tumari exam 11/2 mahine bad haina Avi- haa C Chachi-tum din bhar apne kamre se bahar nahi aayonge Avi- kyu C Chachi-tum din bhar kamre me rahakar padai karna . thode der so bi lena. Avi- muze komal ke pass bhi to jana hai C Chachi-kuch soch kar. subha utkar tum kasarat karna . uske bad 2 baje tak padai karna. pir 2 gante so lena kyu ki raat ko tumari neend puri nahi hongi. pir 4 baje komal ke pass jakar padai karna. vaha se 6 baje vapas aakar pir padai karna. raat ko main 11 baje tumare kamre me aaya karungi . 2 ya dai gante ke bad chali jaungi. uske bad tum so lena. subha tum 6 baje ki jaga 8 baje uta karo. ye tumara 1 mahine ka time table hai. 1 mahine ke bad ham chudai karna band kar denge. uske bad tum exam ki tayyari karna. Avi- chachi aap ka dimag hai ya kohi computer . kya time table set kiya hai. maana padega aap ko C Chachi-mazak mat karo. apni padai karte rahana hai tume Avi- ji chachi. C Chachi-ye jo ham kar rahe hai wo chacha ya kisi yor ko pata nahi chalana chaiye. Avi- main samaj gaya. C Chachi-suman didi aur seema didi ko bhi pata nahi chalana chaiye. Update 67 Avi- muze unke sath bhi to karna hai.pir unse kyu darna hai C Chachi-main kah rahi bas utna karo Avi- lekin C Chachi-deko seema didi tumse chudai karne ke liye tayyar ho jayegi. Avi- suman chachi ka kya? C Chachi-suman didi ko tumse bahot jada lagav hai. wo tum apna beta manti hai. wo kabi tumse chudai karne ko tayyar nahi hogi. Avi- pir suman chachi maa kaise banegi. kya wo kisi yor ke sath chudai karegi C Chachi-nahi .kisi yor ke sath nahi balki tumare sath hi karegi. uske liye main ne kuch soch raka hai Avi- kya socha hai. C Chachi-wo wakt aane par bata dungi. Avi- tik hai ab main so jata hu. C Chachi-so jav. main ne jo bataya hai wo yaad rakhana pir chachi kapde pahan kar chali gayi. main sochne laga ki isi liye chachi chudai ke wakt aawaze nahi nikal rahi thi. Choti chachi ke sath chudai karne me maza aa gaya. Par choti chachi ne mera sath nahi diya jis tara pooja bua chudai ke wakt mera sath deti hai. Shayad chachi soch rahi hogi ki agar wo kuch jada utejit ho gayi to main unke bareme kya sochuga. Haa yahi bat hogi. shayad kal chudai me mera sath dengi. Thoda time to lagega choti chachi ko mere sath khul kar chudai karne me . Main ek mahine me ho rahi bato ko sochne laga. Kaise madam ne muze chudai karna sikha. Kis tara mona meri diwani ho gayi. Mona ke pass do lund hote huye bhi muzse chud gayi. Aur mere lund ki diwani ho gayi. Pir pyassi bua ki pyass buza di. Rati to meri randi ban gayi . Jab chahu uske sath chudai kar sakta hu. Wo muze manaa nahi kar payegi. Mala ke sath jarur main jald bazi ki par wo bhi kaha jayegi. Ab choti chachi ne bhi mere sath chudai kar li . Aur jaladi hi seema chachi ko bhi maa bana dunga. Choti chachi suman chachi ko manaa hi legi... Pata nahi aur kitne choot me mera lund jayega.ye to wakt hi batayega. Aur Main sochte sochte so gaya . Main subha ut gaya. Chachi ke kahne ke mutabik main utkar kasarat karne laga. Choti chachi mere liye ek glass me dood lekar aayi .main ne mushkil se dood ka ek sip pi liya. Dood sach me acha tha. Pir Main ne ek hi ghut me sara dood pi liya. Kasarat karne laga ke bad main nahane chala gaya. Nasta karne ke bad main padai karne laga . Padai karne ke bad ek choti neend lene ke bad main komal ke ghar chala gaya. Komal ko ab meri madat ki jarurat nahi thi pir bi komal aur main sath me milkar padai karate rahe. Hame ab aadat ho gayi thi. Ham haste huye, bate karte huye padai karne lage. Padai karne ke bad main ghar chala gaya. Ghar jakar thodi der TV dekne laga . Pir khana khane ke bad main kamare me chala gaya. Aaj padai karate wakt meri najar gate ki yor thi. Thodi aahat hote hi muze lagata chachi aa gayi. Main gate ki yor dekta par waha kohi nahi hota. Pir Main ne padai karna band kiya. Bed pe let kar choti chachi ka intazar karne laga. Intazar karte karte muze neend aa gayi. Thodi der bad kisike hilane pe meri neend khul gayi. Main ne ankhoin khol ke deka samne choti chachi nangi khadi thi. Shayad kamre me aane ke bad muze sote huye dek kar choti chachi ne kapde nikal diye hoge .uske bad muze jagaya. Update 68 Main ut gaya .choti chachi mere chahare ko chumne lagi. Aaj chachi ne khud khel ki suravat ki . Main bhi choti chachi ka sath dene laga. Chachi ne mere honto ko choos na suru kiya. Main bhi chachi ke honto ko choos na suru kiya. Kal ke mukabale aaj jada maza aur josh tha. Ye josh dono taraf ek jaisa tha. Chachi ka sharir garam tha .chachi ki sanse bhi garam ho rahi thi. Chachi ne kiss thod diya. Kiss ke thut the hi chachi ne mere kapde nikal diye. chachi mere lund ko dek kar pagal ho gayi, kal bate karane me main to ise dekna bhul hi gayi .ye to bahot mota hai . Roj malish karata hai kya is ki .isi liye kal meri choot ko fad diya tha . chachi ne lund ko muh me bhar liya aur pagalo ki tara choos ne lagi. kaha chupaya tha is itane dino se.ummmmmmmmmm,ahhhhhh thodi der tak chachi lund ko choos thi rahi. pir choosna band kar diya. Main chachi ko dekata raha. Chachi ne kaha kal to tumne muze lund choosvaya nahi.main bola ki muze laga aap ko shayad pasand nahi aayega is liye main ne kal nahi kiya aur aaj pucha nahi. chachi ne pir se mere lund ko apne muh me le liya .aur lund ko choosne lagi. chachi ke lund choosne se meri ankhoin apne aap band ho gayi. Meri ankhoin ho khulane ko tayyar nahi thi. mere muh se aawaze nikalane lagi. Aaaaaaaaaaaaaahhhhh aaaaaahhhhhhh ki mere muh se aawaze nikal rahi thi. shayad chachi ko lund choosne me maza aata hai. thodi der chachi mere lund ko choosti rahi. pir main ne chachi ko lita diya.pir main chachi ke tango ke bich aa gaya. aur chachi ki choot dekane laga. chachi ki choot muze apne taraf bula rahi thi. chachi ne chacha ke sath chudai ki thi pir bhi chachi ki choot aise lag rahi thi ki jaise 6 7 bar chudi ho. chachi ki choot par ek bhi baal nahi tha. puri chikani thi. kal chachi ki choot pe halke baal the par lagata hai chachi ne mere liye apni choot chikani kar di. main ne ungliyo se choot ke honto ko khol diya.aur choot ki ghaharayi ko dekne laga.choot ke undar dekne se mere muh pani aa gaya.aur main chachi ki choot ko chatne laga .apni jibh ko chachi ki choot me dal kar chatne laga. chachi shishkariya lene lagi aur mere sar ko choot par daba rahi thi. chachi ke muh se shisakariya nikal rahi thi. aaj chachi ki choot kal ke mukabale jada garam thi. main jor jor se choot ko jibh se chatne laga. chachi ko ab bardast nahi ho raha tha. aur chachi ne mere sar ko choot par daba diya. jis se chachi ne apna sara pani mere muh dal diya. chachi ka pani madam aur bua se acha tha. main ne sara pani pi liya. chachi ne kaha ki ab lund ko meri choot me dal do. main ne lund ko choot pe rakh diya. ek zataka mara ki aada lund choot me chala gaya. main ne chachi ke chahare ko dek kar dusara zataka mara . isi ke sath pura lund chachi ki choot me chala gaya. chachi ke muh se aahh nikal gayi. chachi abi chacha ke sath chudai kar ke aayi thi. isi liye chachi ko jada dard nahi hua.par jo dard hua tha use kam karne ke liye main chachi ke doodh ko dabane laga. pir main ne dhakke marana chalu kiya. har dhakke ke sath chachi bhi gand ko upar uta deti. aaj ki chudai kamal ki thi. main jor jor se dhakke marne laga. chachi masti me aane lagi. chachi ko itni masti chadi ki use control nahi ho raha tha .aur chachi ne pani chod diya. chachi ke pani chodane se lund aasani se undar jane laga. har dhakke ke sath patch patch ki aawaze aa rahi thi. Sath me chachi ke muh se dabi huyi aawaze aa rahi thi.aaaaaaaaaaaaaaaaaaaaah. hhhhhhhhhhhhhhhhhh..................... aaaaaaaaaaaaaaahhhhhhh hhhhhhhhhhhhhhhhhhhh hhhhhhhh.........................aaaaaaa aaaaaaaaaahhhhhhhhhh hhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhhh chachi ki madhosh aawaze sunkar main ne apni gati bada di .main jor jor se dhakke marne laga.chachi me har dhakke ke sath apni gand upar kar deti. to muze aisa lagata ki mera lund yor jada undar chala gaya hai. lagbag 30 minute tak hamari chudai chalati rahi. is chudai me chachi ne teen bar pani choda . main ne bhi apna sara veerye chachi ki choot me dal diya.apna veerye chachi ke undar dalne ke bad main chachi ke upar gir gaya. main aur chachi hafne lage. muze laga ki aaj ki chudai ho gayi hai. ab chachi chali jayengi .par aisa nahi hua jab thodi der ke bad ham normal ho gaye. normal hote hi, chachi mere lund ko muh me lekar saf karne lagi. saf karne ke bad choosne lagi. chachi ne lund ko chooskar pir khada kiya.matlab chachi ek yor bar chudai karna chahati thi. jaise chachi muze dusari chudai ke liye tayyar kar rahi thi. vaise main bhi chachi ko garam karne laga. main chachi ke doodh ko dabane laga. aur udar chachi ke choos ne se mera lund khada ho gaya. chachi ne muze lita diya. pir mere lund ke upar baitne lagi. hanto me lund pakad kar choot pe rak kar baitne lagi. chachi aaram aaram se mere lund par baitne lagi. mera pura lund choot me chala gaya. chachi ne apne hant mere chest par rakh kar upar niche hone lagi. chachi ke upar niche hone se chachi ke doodh hil rahe the. main chachi ke hilate huye doodh ko dekane laga. pir main ne doodh ko apne hanto me pakad kar dabane laga. 10 minute tak chachi upar niche hoti rahi.pir chachi ki gati badh gayi.aur Chachi ne pir pani choda .pani chodne ke bad chachi thandi pad gayi. chachi ke upar niche hone se chachi puri taraf se thak gayi thi. main ne chachi ko palat diya .ab chachi niche aur main upar tha. chachi niche aate hi main jor dar dakke marna chalu kiya. Chachi ne apne honto ko daba diya tha. Pir bhi chachi ke muh se shishariya nikalne lagi. aaaaaahhhhhh aaaaaahhhhhh aaaahhhhh hhhhheeeee aaj pir meri choot fad di . main apne dhakke lagata gaya chachi aawaze nikaalne lagi. main dhakke ke marta gaya chachi apna pani chodati gayi. is dhakke aur pani chodane ke khelme ham dono puri tara se dub gaye the. lagbag 40 minute ke bad hamari dusari chudai khatam ho gayi. main ne veerye chachi ki choot me dal diya. veerye chachi ki choot me jate hi chachi chehare pe chamak aa gayi. chachi ke chehare pe khushi zalak rahi thi. 15 minute tak ek dusare ko dekate rahe pir chachi ne kapde pahane liye .aur jane lagi. jate wakt ek bar chachi ne meri tararf dek kar mushkura diya aur chali gayi .main bhi kapde pahankar so gaya Update 69 Main kal ki tara aaj bhi Ut kar kasarat karne laga. Kasarat karte samay Choti chachi doodh lekar aa gayi.Choti chachi ke sath seema chachi bhi aa gayi. M Chachi-Kya bat hai .badi body shodi bana rahe ho Avi-main chachi ki taraf dek kar mushkuraya M Chachi-tera sharir itna acha to hai. pir ye kasarat kyu kar raha hai Avi-wo baite baite padai karne se pit me dard hota hai to main ne socha kasarat karake thoda aaram milega M Chachi-Tu Padai to bachpan se kar raha hai. tab tume kasarat ka khayal nahi aaya Avi-vaisa nahi hai chachi. pahale khelne se thodi kasarat ho jati thi.ab main ne khel na band kar diya hai .isi liye kasarat kar raha hu. C Chachi-ye lo Avi ,dood pi lo. main ne choti chachi ke hant se dood le liya. aur pine laga M Chachi-muze to lagata hai. tu ladki patane ke liye kasarat kar raha hai Avi-nahi aisa kuch nahi hai. aur vaise bhi muze ladki patane ki kya jarurat hai mere pass to pahale se ek ladki hai M Chachi-kya ?khon hai wo?muze tune abi tak bataya kyu nahi? Avi-bata dunga . M Chachi-abi bata khon hai wo ladki Avi-ek nahi teen hai M Chachi-kya ? teen ladki ko pataya tune. aur to yor tuze sharam bhi nahi aa rahi.dek meena ise kaise maze le raha hai C Chachi-main kya deku aap hi deko tumare ladale bete ko M Chachi-bata khon hai wo nahi to tu aaj mere hanto se mar khayega Avi-haste huye aap teeno ko janti ho M Chachi-main janti hu .kya isi gaon ki hai. bata khon hai wo C Chachi-has rahi thi Avi-haste huye wo teen meri pyari chachiya hai.ye kahate hi main bhagne laga M Chachi-haste huye tu to aaj mere hanto se pitne vala hai ye kahate hi chachi mere piche bhagni lagi. muze pakad kar gale laga liya. M Chachi-apni chachi ke sath badmasi karta hai. Avi-main to mazak kar raha tha. Pir thodi der ham aise hi bate karne lage.uske bad main padai karne ke liye kamre me chala gaya. ab to mera time table tayyar tha .kab kya karna hai. wo sab choti chachi ne bata diya. aaj bhi usi time table ke jaisa hi kiya. raat me padai karne ke bad choti chachi ka intazar karne laga. Update 70 Kal chachi ne pahale kapde nikal kar khel chalu kiya tha. Aaj meri bari thi khel chalu karne ki. main kapde nikal kar chachi ka intazar karne laga. Thodi der bad choti chachi kamre me aa gayi. Main chachi ke samane nanga khada ho gaya. Chachi muze nanga dek kar mushkurayi. Chachi ne bhi der na karte huye apne kapde nikal diye. Chachi ne panty pahana to jaise band hi kar diya ho. Chachi ki choot chamak rahi thi. Lagata hai chachi ne chacha se chudvane ke bad choot ko ache se saf kiya. Chachi kapde nikaalne ke bad mere pass aa gayi. Main ne chachi ko bed par lita diya.aur chachi ke upar aakar kiss karne laga. Thodi der kiss karne ke bad main ne kiss thod diya. Main chachi ko jaisa samaj raha tha chachi vaisi nahi thi. Chachi ko sex ke bareme sab pata tha. Chachi ne muze 69 position me aane ko kaha. Pahale to main shocked ho gaya . pir ham jaldi se 69 position me aa gaye. Chachi jor jor se lund ko choos ne lagi... Chachi ki choot khul gayi thi. Kyu ki chachi do din se chacha aur mere sath chudai kar rahi thi.main chachi ki choot ko choos ne laga. Thodi der ham aise hi ek dusare ko maza dene lage. Ab Muze bardast nahi ho raha tha. Main ne chachi ko kaha ki ab main aapki choot marna chahata hu.. Ye sunte hi Chachi ne lund choosna band kiya. Aur Chachi ghodi ban gayi. Main chachi ke piche aa gaya. Chachi ki gand ko dek muze gand marne ki icha huyi. Par main chachi ko kaise kahu ki muze aapki gand marni hai. Main ne gand ka khayal apne dimag se nikaal diya.lund ko choot par rakh kar ek hi zatke me pura undar dal diya.. Chachi ke muh se chikh nikal gayi. Main thodi der rukane ke bad dhakke lagana chalu kiya. Thodi der bad chachi apni gand ko har dhakke ke sath piche karti jise muze dhakke marne me maza aane laga. 10 minute tak chachi ki ghodi banakar chudai karta raha. Chachi ko ab is position me dard hone laga tha. Main ne ye dek kar chachi ko bed par lita diya. Pir se lund ko choot me dalkar chudai karne laga. Aur lagbag 20 minute tak chudai karne ke bad main ne apna veerye chachi ki choot me dal diya.aur chachi ke upar gir gaya. 15 minute tak main aur chachi bed par lete rahe. Jaise hi chachi ko laga ki dusari bar chudai karna chaiye to chachi ne muze apne upar se alag kar diya aur mere lund ko muh me le kar choosne lagi. Chachi ke undar aisa khonsa jadu tha ki muh me lund jate hi pir khada ho gaya. Lund khada hote hi chachi ne choos na band kar diya. Chachi ne lund ko hanto me pakad kar choot par rakh diya. Main ne lund ko dhakka nahi mara. Lund vaisa hi choot par tha. Chachi intazar kar rahi thi ki kab lund ko undar jayega . Lekin main ne lund ko undar nahi dala. Chachi ne lund ko chod diya. Aur meri yor dek ne lagi. C Chachi-kya hua Avi Avi- kuch nahi C Chachi-pir tum chudai kyu nahi kar rahe ho. thak gaye kya. ya pir muzse kuch galati ho gayi Avi-aisa kuch nahi hai. aapse kohi galati nahi hui C Chachi-to pir tum ruk kyu gaye Avi-wo ... C Chachi-bolo na kya bola chahate ho. muzse daro mat Avi-wo aap yaha aane se pahale chacha ke sath chudai ki hai C Chachi-haa, tumare chacha ke sath to karna padega .nahi to tumare chacha ko shak ho jayega. Avi-ab chacha kya kar rahe hai C Chachi-unko main ne neend ki goli dek kar sula diya hai. lekin tum ye kyu puch rahe ho. Avi-wo aap ne chacha ke sath bhi chudai ki hai. aur abi mere sath bhi kiya hai C Chachi-aur ek bar main tumse chudai karungi Avi-main bhi aapke sath aur ek bar chudai karna chahata hu C Chachi-to pir tum ruk kyu gaye Avi-wo aap abi do bar apni chudai karva chuki hai. aapki choot dhili pad chuki hai. aapki choot me mera pani hai. jisse maza nahi aayega. C Chachi-to kya tum meri chudai nahi karoge. kya tum muze maa nahi banayoge Avi-aisa nahi hai. main aapki chudai karunga par aage se nahi pichese. main aapki gand marana chahata hu C Chachi-kya. tum gand marna chahate ho. tumare chacha ne kabi bi meri gand nahi mari. aur gand marne se main maa nahi ban sakti. ye to tume pata hai.pir kyu meri gand marna chahate ho. ek bar main maa ban gayi tab mar lena main mana nahi karungi Avi-muze pata hai gand marne se aap maa nahi banongi(pani gand me dalne se). main to ye kah raha hu ki aapki choot ki ye tisari chudai hogi jisme maza nahi aayega.muze wo josh nahi aayega jo abi kuch der pahale aaya tha. main aapki gand marana chahata hu. aapki gand jarur marunga par main veerye aapki choot me daluga. jis se aap bhi khush ho jayegi aur muze bhi maza aayega. ye sunte hi chachi bina kuch bole vaise hi nangi mere kamre se bahar chali gayi. main to bas dekta raha. main soch ne laga shayad chachi ko muz par guass aa gaya. itna guass aaya ki nangi hi bahar chali gayi. muze khud par guass aa gayaa. Muze laga main ne chachi ko duk pochaya. Main bed par let kar sar pe hant rak kar sochne laga. Update 71 Main bed par leta tha ki thodi der bad muze kisike aane ki aahat hui. Main ne gate ki yor deka ,gate par choti chachi khadi thi. Choti chachi ko dek kar muze thodi rahat mili. Choti chachi ke hanto me ek safed kapda aur ek katori thi.chachi ne gate band kiya. aur mere pass aa gayi. Katori ko mere hanto me de di. Katori me tel tha. Tel ko dek kar main samaj gaya ki chachi rashoi ghar me jakar gand marne ke liye tel lekar aai. Chachi ne katori me se tel nikaal kar mere lund par lagane lagi. Tel lagane se mera lund pir khada hua jo chachi ke jane ke bad baite gaya tha. Tel lagane se lund chamak raha tha. C Chachi-ye lo tel .apni ungli me lagakar pahale meri gand ki malish karo. pir ungli se gand ki chudai karke lund ke liye jaga bana do. yad rakhana tumare chacha ne abi tak meri gand nahi mari. Avi-chachi ki bate sune ke bad main ne pucha aap muze pe guass to nahi ho C Chachi-main kabi tum pe guass ho sakati hu kya. ab jaladi meri gand maro nahi to main apna irada badal dungi. aur ha apna pani meri choot me dalna. agar tumne pani choot me nahi dala to agali bar gand marne nahi dungi main ne ungli par ache se tel laga liya. chachi palat kar ghodi ban gayi. main ne chachi ki gand ki ched pe ungli ghumane laga. chachi ki gand tight thi. main ne ungli pe jor laga diya. meri ungli chachi ki tight gand me chali gayi. chachi ki halki chik nikal gayi. main ungli ko aage piche karne laga. chachi ki gand meri ungli ke hisab se khulne lagi. jaise hi chachi ko maza aane laga main ne tel ki katori ko utakar tel chachi ki gand me dalne laga. meri ungli pir se tel me bhig gayi. ab main ne apni dusari ungli bi undar dalkar chachi ki gand ,do ungli se marne laga. Jab muze laga ki chachi ki gand khul gayi tab main ne ungli ko gand se bahar nikala. Main ne chachi ko kaha ki main ab lund gand me dal ne ja raha hu. Chachi -dal do par aaram se karna. Aur chachi ne wo safed kapda utakar muh me dal diya. Jise unki aawaz badi chachi ko na sunai de. Ye dek main aur josh me aa gaya. Par main ne ye bhi yad raka ki wo meri chachi hai. Main ne pir se lund par tel laga liya. Baki ka tel gand par dal diya. Lund ko gand ke ched par rak kar ek zataka mara ki mera lund ka topa chachi ki gand me chala gaya. Chachi ki dabi hui halki chik nikali. Mera topa chachi ki gand me chala gaya. Chachi ki dabi huyi chikh sunkar main ne thodi rukane ka faisala kiya. Main thodi der ruk kar chachi ke boobs ko dabane laga. 2 minute tak aise hi rahane ke bad chachi ka dard kam hua. Pir main ne ek yor zataka mara ki lund 4 inch tak undar gaya. Chachi ko dard hone laga. Chachi ki ankhoin se pani aane laga. Chachi ke muh me kapda hone se kuch bol nahi pa rahi Thi. Par main samaj gaya ki chachi muze rokane ko kah rahi hai. Muze pooja bua ki yaad aa gayi. Kaise main ne jald bazi me gand mari thi. Gand marne ke bad bua ne aaj tak muze dubara gand marne nahi di. Main chachi ki gand ko khona nahi chahata tha. Main thodi der ruk ne ke bad aade lund ko aage piche karne laga. chachi ko dard ho raha tha par utna nahi jitna kisiko pahali barme hota hai. Thodi der dire dire gand marne se aur choot me ungli karne se chachi ko kuch rahat mili.Ab Chachi ko bhi maza aa raha tha. Ye dek kar main ne lund ko ek zatake me pura undar dal diya . Chachi pir chikh padi par muh me kapda hone se unki chikh dab gayi. chachi ne mere taraf deka ,chachi ke ankhoin me pani tha. Chachi ke chehare pe dard dik raha tha. Chachi ka piche dekane ka matlab main samaj gaya. Main thodi der aise bina lund hilaya ruk gaya .chachi muh me se kapda nikaal kar muze rukane ko bol sakati thi. Par chachi ne aisa nahi kiya. Chachi ke dimag me kya chal raha hai muze pata nahi chal raha tha. Main ne ungli ko choot me aage piche karne laga. Jor jor se ungli ko choot me dal kar chachi ka dard kam karne ki khosish kar raha tha. Meri mehanat rang lane lagi. Chachi ki choot se pani nikal gaya. Pani nikalne se chachi ko thodi rahat mili. Chachi ka dard kam ho gaya. Pir Main lund ko dire dire aage piche karne laga. chachi me bada dam tha. Wo jaldi hi maza lene lagi. Main ne bhi dire dire gati badane laga. Main dhakke laga raha tha. Chachi ke muh se gun gun ki aawaz nikal rahi thi. Pir main ne apni gati yor bada di. Chachi bhi thodi der me mere rang me ghul gayi. Chachi bhi mere dhakke ke sath piche aa jati jis se mera lund aaram se undar chala jata. Main dhakke mar raha tha aur chachi bhi dhakke mar rahi. Main lund se gand mar raha tha aur chachi gand se lund mar rahi thi.matlab main piche se dhakke marta to chachi apni gand piche kar deti. Idar meri takat aur udar chachi ki. Par Chachi ki tight gand ke aage muze zukana pada . 20 minute me hi muze laga mera pani nikal jayega. Main ne lund ko gand se bahar nikala. Aur chachi ki choot me dal diya. Choot me 10 dhakke marne par mera veerye chachi ki choot me gir gaya. Veerye nikal ne ke bad main ne lund bahar nikaal liya.aur bed par gir gaya. Main ne chachi ke chehare ko deka unki chehare par dard nahi dik raha tha. Chachi ne muh me se kapda nikaal liya. Aur Ek lambi saans li. Chachi thodi der bed par leti rahi. Pir utkar kapde pahane lagi. Kapde pahane ke bad wo safed kapda uta liya sath hi tel ki katori bhi uta li. Mere sar pe kiss de kar apne kamare se chali. Chachi ke kiss me muze bata diya ki wo muz par guass nahi hai. Une bhi gand marava kar maza aaya. Chachi ke jane ke bad main chachi ki chudai ke bareme sochate huye nanga hi so gaya Update 72 Kal chachi ki gand markar maza aa gaya. Pir Main subha utkar kasarat karne laga. Choti chachi mere liye doodh lekar aai. Choti chachi ki chal badal gayi thi. Avi-kya hua chachi, aise kyu chal rahi hu. C Chachi-mushkhura kar ek kide ne kat liya tha. aur sar par halka thappad mar diya. main apne pure din ka kam khatam karke raat ko choti chachi ki chudai karne laga. roj raat ko ek bar choot mar deta aur pir ek bar gand mar deta .aise hi din katne lage. choti chachi bhi mere sath khulkar chudai karne lagi. sath hi gand marne me bhi maza lene lagi. karib 6 din tak main choti chachi ke sath har raat ko chudai karta raha. is 6 din me muze padai aur chudai ye do hi chize pata thi. pooja bua ke pass jake 9 din ho chuke the. muze pata tha ki pooja bua muze yaad kar rahi hogi. par main choti chachi ko kaise kahu ki ek bar bua se milkar aata hu. agar jaldi hi main pooja bua ke pass nahi gaya to mera jo haal pooja bua karegi ye main soch bhi nahi sakta. main ne choti chachi ko mere kamre me bula liya. choti chachi ne kaha tha ki din me nahi karege. choti chachi ko laga ki main chudai karne ko bula raha hu. kamre me aate hi. choti chachi muz par guass ho gayi. C Chachi-main ne tume kaha tha ki din me sirf padai karo chudai nahi. Pir kyu bulaya muze tum ne. Avi-wo aapse bat karni thi. C Chachi-(meri bat sunte hi chachi santh ho gayi) sorry ,bina bat ko samaje tum par guass ho gayi. Avi-kohi bat nahi. C Chachi-kaho kya bat karna chahate ho Avi-wo pooja bua ke bareme C Chachi-kaho Avi-main ne pooja bua ko kaha tha ki hafte me ek bar unke sath chudai karunga.lekin ek hafte se jada time ho gaya ,main bua ke pass nahi gaya. C Chachi-kuch sochte huye. agar tum bua ke sath chudai karoge to raat me ache se chudai nahi kar payoge Avi-lekin bua kya hoga C Chachi-pir kuch sochte huye aaj dopehar me bua ke pass chale jav. lekin bas ek bar karna aur bua se kahana ki ab unki chudai exam ke bad karunga . Avi-tik hai. C Chachi-aur haa aaj raat ko mere sath ek hi bar chudai karana. Avi-aapke sath ek bar kyu. C Chachi-kal ke liye tume aaram karna chaiye. Avi-kal kya hai. C Chachi-kal tume suman chachi ya pir seema chachi ke sath karna padega. Avi-aur aap nahi karengi. ham sab sath me karenge. C Chachi-nahi. ham sath me nahi kar sakte. abi to bilkul nahi. aur haa kal jo bhi tumare kamre me chudai karne aayegi. use chod kar baki dusari chachi ko pata nahi chalana chaiye Avi-ji samaj gaya .ab main bua ke pass chala jata hu. C Chachi-haa, chale jav. aur aaj komal ke pass mat jana .pooja bua ke ghar chale jana aur jate huye komal ko bata dena ki tume pooja bua ke ghar kuch kaam hai. Is liye aaj padai karne nahi aa paunga Avi-ji samaj gaya.lekin komal ke ghar na jane ki kohi khas vaja C Chachi-tum aaj bua ke ghar ja rahe ho. vaha se aane ke bad thoda aaram karna .kal ke liye jaruri hai Avi-samaj gaya .ab main pooja bua ke ghar chala jau . C chachi-haa jav. Par main kaha hai use ache se samaj kar bua ko bata dena Avi-main bua ko kah dunga ki ab jo hoga wo exam ke bad. Pir thodi der choti chachi ke sath bate karne ke bad main pooja bua ke ghar chala gaya. Update 73 Main pooja bua ke ghar ki yor chala gaya. Raste me main ne komal ko bata diya ki aaj main padai karne nahi aa raha. Pooja bua ne muze dekate hi mere gaal par thappad mar diya. Main, gaal ko hanto se sahalane laga. Thappad marne ke bad Bua mere gale lag gayi. Main bas bua ko dekata raha pahale thappad mara aur ab muze gale laga liya. Gale lagne se bua ke doodh mere chest me dab gaye.main bua ke doodh ko mahsus kar raha tha. Thodi der ham aise hi khade rahe. Pir main ne bua ko alag kiya. Avi-raj kaha hai pooja bua-wo school me gaya hai Avi-muze thappad kyu mara aapne pooja bua-tume itne dino ke bad meri yaad aayi. agar aaj tum nahi aate to kal main tumare ghar aa jati. Avi-itni aag achi nahi hai pooja bua-aag bhi to tum ne lagai hai. 3 4 din mere sat roj chudai karke achanak band kar donge to mera kya haal hoga ye tum ne socha nahi. aur tum ne to kaha to ki hafte me ek bar meri chudai karoge .uska kya hua. Avi-ab to aa gaya hu na. ab kya sirf bate hi karegi ya... mere itne kahate hi bua mere upar tut padi . main bhi aaj bua ki aag puri tarase buzane ke irade se aaya tha. Main janwaro ki tara bua ke hanto ko choos ne laga. Bua ko mera is tara se pyar karana pasand aaya.wo bhi pure josh ke sath mere honto ko nichodane lagi. bua jada jor se kiss kar rahi thi. Kabi me hont choosti to kabi meri jibh ya kabi apni jibh mere muh me dal deti. main bhi pure josh me aakar bua ko kiss kar raha tha. main bhi bua ki tara Kabi bua ke hont choosta to kabi main bua ki jibh ko choos leta. ham dono aise hi kiss karte rahe. mera pass samay kam tha raj kabi bhi school se vapas aa sakata tha.aur muze bua ki aag bhi bhuzani thi. 10 minute tak main bua ke honto ko choosta raha pir main ne kiss thod diya. is jordar kiss ki vajase ham dono hafne lage. Muze raat me chachi ke sath bhi karna tha par muze bua se 2 mahine alag rahana hai . Main bua ki 2 mahine ki puri pyass aaj hi buzane ke mood me tha. kiss ke bad bua lambi lambi saanse lene lagi. Main ne bua ko normal hone se pahale hi ghod me utakar bedroom le gaya. Bedroom me jate hi main ne bua ke kapde nikaal diye. Pir main ne bua ko bed pe lita diya.bua ko apni choot ki choosai achi lagati hai.agar kohi bua ki choot choos le to bua uski gulam ho jaye. main aaj bua ki choot choos kar bua ko puri tarase khush karna chahata tha. main ne apna sar bua ke tango ke bich le gaya .aur Bua ki choot par halke halke kiss karne laga. bua ko jaise yahi chaiye tha.bua mere kiss karne se hi shishkariya lene lagi. ........aaaaaaaahhhhhhhhh...............aaaaaaaahh hhhhhhh...............aaaaaaaahhhhhhhhh....... pir main bua ki choot ko chatne laga. pir jibh choot me dal kar bua ko maza dene laga.kabi jibh se choot ko chat leta to kabi dane ko jibh sahala deta. Jis se bua shishkariya lene lagi.....aaaaaaaahhhhhhhhhhhhhhh................ma zzzzaaaaaaaaaaaaaaaaa aa raha haiii.............uffffffffffff.........choos aur jor se choos.......... bua ki shishkariyo se jaise mera josh badh raha tha.main bua ki choot jor se choos ne laga.main bua ki choot ko choos choos kar lal kar dena chahata tha.aaj mere undar jaise janwar ghus gaya ho vaise main bua ki choot ko chatne laga.bua ko ye baradast nahi hua. Aur bua ne pani chod diya . bua ke pani chod ne ke bad bhi main ne choot ko choosna band nahi kiya. jis ka natija ye nikala ki Bua ne ek aur bar pani chod diya. pir main ne bua ka pani pine ke bad bua ke upar se ut gaya. Main ne apne kapde nikaal kar lund ko bua ki choot par rak kar ek hi zatake me pura undar dal diya . ye sab main ne itni jaladi kiya ki bua apne choot choosne ke maze se bahar aane se pahale hi mera lund bua ki choot me chala gaya tha. lund choot ne jate hi bua ko ek zataka laga. aur Bua ki chikh nikal gayi. mmmmmmmmmmaaaaaaaaaaaaaaaaaaaa..............rrrrre eeeeeeeeeeeeee..........maaarrrrrrrrrrrr gayiiiiiiiiiiiiiiiiiii....................oooooooo ooooooooeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeeee..................m eri choot fat gayi bua ki chikh sunkar main ruka nahi balki dhakke marne laga. main rajdhani express ke tara lund ko bua ki choot me pelate raha. Bua chilla rahi thi. muze bua ki chikhe jaise sunai nahi de rahi thi. Main to apne dhakke marta gaya. mere dhakke se Bua ki choot pani pe pani chod rahi thi.pani chodane ke bad bhi main dhakke pe dhakke marne laga. Bua ka bura haal ho raha tha. Sath hi maze le rahi thi. ........aaaaaaaahhhhhhhhh...............aaaaaaaahh hhhhhhh...............aaaaaaaahhhhhhhhh....... aise hi. aur jor se mar ...fad dal meri choot ko. bua ki bat sunkar main jor se dhakke marne laga. Aakir kaar mera veerye bua ke choot me gir gaya. bua ne bhi apna pani chod diya. ham dono ne ek sath pani chod diya.pani chodate hi main bua ke upar gir gaya aur Bua ke sath hafne laga. Update 74 pooja bua-tune aaj to meri jan hi nikaal di. Avi-main to aapki aag buzane ke liye kuch bi kar sakta hu pooja bua-itna pyar karte ho muzse Avi-meri chudai se to pata chal gaya hoga pooja bua-aaj ki chudai ke bad main 1 saal tak bina chude rah sakti hu. Avi-1 saal nahi.sirf 2 mahine rukana hai pooja bua- main kuch samaji nahi Avi-meri exam tak aap ko rukna padega pooja bua-main ne to mazak kiya tha. tu to sach me muze dur rahane ke liye kah raha hai Avi-kya karu bua majburi hai .agar meri exam na hoti to roj aap ki leta pooja bua-lekin Avi-main bhi aapase dur nahi rah sakata .agar exam me ache mark nahi mile to ye jo hafte me ek bar chudai kar rahe hai wo bhi band ho jayegi pooja bua-udas man se tik hai par exam ke bad tu sida mere ghar aana hoga Avi-jo hukum mere aakka pooja bua hasne lagi. main utkar kapde pahane laga. pooja bua-aur ek bar karte hai. Avi-nahi pooja bua-kyu Avi-aap ki choot ka pani khatam ho gaya hai. aap ne itna pani choda ki muze nahi lagata ki aapki choot me pani bacha hoga Pooja bua-tum karo to pani apne aap nikal jayenga Avi-muze nahi lagata aapki choot se pani nikalenga. Pooja bua-main kah rahi hu na .tum bas jaladi se dal do Avi-aapko dard hoga agar jaladi pani nikla to Pooja bua-hone do main sambal lungi Avi-(bua to piche hi pad gayi) dusari bar karunga to jada time lag jayenga.tab tak raj aa jayenga . raj ka naam sunte hi bua ne apna irada badal diya. pooja bua-tik hai. Avi-main chalata hu. pooja bua-udas hote hai.kamse kam tea to pi lo Avi-tea se achi chiz pita hu pooja bua-khonsi chiz bua ke kahate hi main ne bua ke honto pe kabaza kar liya. pir kiss karne ke bad main bua ko bye bol ke nikal gaya. Update 75 Main pooja bua ke ghar jane ke bad ,ghar par- C Chachi-didi muze aap se kuch bat karni hai B Chachi-haa bolo C Chachi-Main kah rahi thi ki kal se Avi ke chacha ke sath aap so jaya kijiye. B Chachi-ye achanak tuze kya ho gaya. ye tu kya bol rahi hai.tuze to pata hai na Avi ke chacha ko tumare sath sona pasand hai. C Chachi-agar har din Avi ke chacha mere sath rahenge to aap maa kaise banengi. B Chachi-lekin Avi ke chacha maan jayenge C Chachi-main ne unse puch liya hai. unno ne haa kar di . B Chachi-muze lagata hai muzase pahale seema ko Avi ke chacha ke pass sone bhej do. seema ke bad main chali jaungi C Chachi-lekin aap badi hai. B Chachi-main ne kah di to kah di. pahale seema bad main. C Chachi-tik hai, jaisa aap tik samaje seema didi ko kal se unke sath sona hoga ek hafte ke liye .uske bad aap .pir se main . aur aisa hi chalata rahega. B Chachi-tik hai. are ha wo ladke ka kya hua .tune to kaha tha ki uske barme bat mat karna. ab bata ki wo maan gaya ki nahi. C Chachi-agale hafte maan jayega .aur sab se pahale aap uske sath chudai karengi.(badi chachi kabi bi nahi manengi Avi ke sath chudai karne ke liye.isi liye choti chachi ne ek plan banaya). B Chachi- main kaise pahale uske sath karungi. C Chachi-aap ko karana padega B Chachi-Kuch sochte huye thk hai. ja ab seema ko bata de ki kal se use Avi ke chacha ke sath sona hai. Badi chachi bahar chali gayi. Ab ghar me seema chachi aur choti chachi thi. C Chachi-Didi kal se aap ko Avi ke chacha ke sath sona hai M Chachi-unke sath.agar main Avi ke chacha ke sath so jaungi tum kaha par sone vali ho C Chachi-main suman didi ke sath so jaungi. M Chachi-tumne didi ko pucha ki wo unke sath pahale sona chahati hai kya C Chachi-main ne didi se pucha hai. par suman didi ne kaha ki pahale aap sojana agale hafte didi so jayegi. M Chachi-ek bat puchu C Chachi-haa puchiyd M Chachi-ye achanak muze unke sath sone bhejane ke kohi khas vaja C Chachi-didi agar main unke sath soti rahi to aap maa kab banogi. M Chachi-tune to kaha tha ki Avi ke chacha hame maa nahi bana sakate pir mere unke sath sone se kya faiyada C Chachi-didi agar aap bina unke sath soye kisi yor se maa ban gayi to unko shak ho jayega. M Chachi-ye to tune sahi socha hai C Chachi-main to hamesha dimag ka isatmal karti hu M Chachi-are haa ,us ladke ka kya hua C Chachi-serious hote huye ,deko didi,meri bat dyan se suno. Update 76 C Chachi-deko meri bat dyan se suno. main us ladke ke sath ek hafte se chudai kar rahi hu. M Chachi-kya ? ek hafte se. kaha? kaise? tum ye bat ab bata rahi ho C Chachi-pahale meri puri bat to suno pir main aapke sawalo ke jawab dungi. M Chachi-kaho C Chachi-main ek hafte se us ladke ke sath chudai kar rahi hu. us ladke ka lund Avi ke chacha se lamba aur mota hai. wo 30 se 40 minute tak chudai karta hi. chudai karne se pahale choot bhi chat tha hai. Aap ko kya batau us ke bareme...jitna bhi batau utna kam ha M Chachi-Kya sach me uska lund Avi ke chacha se lamba aur mota hai C Chachi-haa,itna ki hant me pakad bhi nahi sakate M Chachi-aur wo 30 se 40 minute tak karta hai. C Chachi-haa,kabi kabi to 50 minutd bhi lagate hai. M Chachi-apni choot ko khujate huye choot bhi choosta hai. C Chachi-aisa choosta hai ki jitana pani Avi ke chacha nikalte hai us se kahi jada wo sirf choot choos kar nikaalta hai. M Chachi-aur kya kya karta hai. C Chachi-pure badan ko chat tha hai.doodh aise masalta hai ki lagata doodh me dood nikal jaye. M Chachi-apni choot ko jor se masalte huye aur bata uske bareme C Chachi-uska lund agar ek bar muh me lekar choosna suru kiya to lund ko bahar nikaal ne ka man nahi karta M Chachi-aur C Chachi-uska lund Avi ke chacha ki tara kala nahi hai. pura gora lund hai aur topa to pura lal hai. jab main ne jibh se chat to itna maza aaya ki pucho mat. M Chachi-choot se pani nikal gaya.ab muzse yor ruka nahi jayega. muze jaladi se us ke sath chudai karni...meena kaise bhi kar muze jaladi se usse chudava de C Chachi-(tir nishane pe laga. muze pata tha ki didi ko chudai ke bareme bata kar manaa sakati hu) aapko pata hai main kaha chudai karti thi M Chachi-kaha C Chachi-isi ghar me M Chachi-kya bol rahi hai tu .... isi ghar me ...kya sach me C Chachi-main avi ke chacha ko neend ki goliya khilakar sula deti thi. pir us ladke ke sath ek raat me do bar chudai karti M Chachi-do bar ..... muze mila dena us ladke se...vaise hai khon wo ladka C Chachi-aap use janti ho M Chachi-main janti hu use .ab paheliya mat buza .bata jaldi khon hai wo C Chachi- wo aur kohi nahi balki Avi hai M Chachi-kya... nahi ye nahi ho sakta..,Avi aisa kabi nahi karega....tu zut bol rahi hai. C Chachi-nahi main sach kah rahi hu M Chachi-lekin use to ham hamara beta mante hai tune uske sath .... main ye soch bhi nahi sakti C Chachi-ham use beta mante hai to kya hua. ab pati maan lenge.. M Chachi-tu kya kah rahi hai tume pata to hai na C Chachi-muze Avi se jada bharose ka aur hamari madat karne ke liye vahi tik laga... M Chachi-kya tuze aur kohi nahi mila C Chachi-milenge to hazzar par Avi jitna barose ka aadmi milna muskil hai. M Chachi-lekin Avi to bacha hai C Chachi-aap use bacha samajti hai. Avi to asali mard ban gaya hai. M Chachi-asali mard matlab C Chachi-wo jis tara se chudai karta hai us tara se is gaon me kohi bhi nahi karata hoga M Chachi-lekin pir bhi C Chachi-ye lekin wekin chod dijiye. deko main ek hafte se uske sath chudai kar rahi hu .main jaldi hi maa ban jaungi. ab aap ko sochana hai kya aap ko maa ban na hai ki nahi M Chachi-kuch sochte huye....tum ne didi ko bataya C Chachi-nahi bataya. aur tum bhi mat batana .jaise sahi time par main ne aapko bataya hai vaise hi aapki chudai ke bad didi ko bata dungi. M Chachi-tik hai agar tum Avi ke sath chudai kar sakati ho to main bhi Avi ke sath chudai karungi.aur didi ko bhi nahi bataungi. par C Chachi-par kya M Chachi-muze tumari aur Avi ki chudai dekni hai. C Chachi-tik hai aaj raat ko 11 baje Avi ke kamare me dek lena. aur haa undar mat aana. aur kayal rakana didi ko pata nahi chalana chaiye M Chachi-didi ki chinta mat karo. didi ek bar so gayi to subha se pahale unki neend nahi khulti. C Chachi-pir kal se Avi ke sath chudai karne ke liye tayyar ho jav M Chachi-main tayyar hu. C Chachi-(main ne jaisa socha tha bilkul vaisa hi hua. seema didi to maan gayi. lekin ye suman didi kabi nahi manengi. suman didi ke liye kuch sochna padega) Update 77 Main pooja bua ke pass se sida ghar aa gaya. Main bua ke sath chudai karke thak gaya tha. Ghar aakar main sida kamare me ja kar so gaya. So ne ke bad padai karke huye choti chachi intezar karne laga... Mera intezar thode hi der me khatam ho gaya. Choti chachi mere kamare me aa gayi. Chachi aaj 20 minute pahale aa gayi. C Chachi- Avi kal se tum seema didi ke sath chudai karna. Kal seema didi ko itna khush karna ki wo tumare bina na rah sake. Avi-ji ,main seema chachi ko kuch bolne ka mokka hi nahi dunga. C Chachi-seema chachi ko, tumne jo madam, pooja bua, mona aur rati ke sath jo chudai ki hai uske bareme mat batana . Avi-main unne kuch nahi bataunga. C Chachi-aaj meri tumare sath aakari chudai hai. Avi-aap pir mere sath chudai nahi karegi C Chachi-tum kya chahate ho Avi-main to aap ko chahata hu C Chachi-tik kal se didi ke sath chudai karo uske bad pir se mere sath chudai karna Avi-khush hote aap meri pyari chachi ho. C Chachi-wo tik hai,par aaj tum apni marji se jaisa chaho vaisa mere sath karo Avi-matlab C Chachi-aaj tum muze chachi ki tara nahi apni GF ki tara pyar karo Avi-meri to ab tak kohi GF nahi bani .pir muze kaise pata hoga GF ko kaise pyar karte ho. C Chachi-tum puri tara se chudai ke nashe me dub jav .uske bad meri chudai karo Avi-agar main ne kuch jada hi kar diya to C Chachi-kohi bat nahi. jaisa chaho vaisa karo main kuch nahi kahungi. bas muze chachi ki tara pyar mat karo ek biwi ki tara jo kuwari ho aur tume use pyar ke sath dard bhi dena hai. jaisa suhagraat me hota hai. Avi-is tara kiya to aapko dard hoga C Chachi-uski chinta mat karo C Chachi-chalo ab jaladi chudai suru karo . main ne aaj jis tara pooja bua ki chudai ki us se bua kitni khush ho gayi. choti chachi ke sath bhi vaise hi chudai karta hu.ya use bhi jada josh se jis se chachi khaish puri ho Main choti chachi pe tut pada .chachi bhi mera sath dene lagi. Aaj chachi ki kohi tension nahi tha ki ghar me kohi hame sun lega. main chachi ke sath chudai ka barpur maza lene laga.chachi aur main chudai me puri tarase dub chuke the. Muze to pata bhi nahi chala ki kab mere kapde mere badan ko chod kar zameen par gir gaye. Chachi ka bhi yahi haal tha. Main ne chachi yor deka wo gate ki taraf de rahi thi. Muze laga wo dek rahi hai ki kohi undar aa na jaye aur hame chudai karate huye dek na le..par asal me choti chachi seema chachi ko dek rahi thi. Jo ungli se choot ki khujali mita rahi thi. Main choti chachi ki chudai me kohi kasar nahi chodna chahata tha.hamari chudai aaj kitne der tak chali muze pata bhi nahi chala. Is chudai me choti chachi ne pani ki barish kar di thi. Bed pura gila ho gaya tha. Chudai me main ne apni puri jijaan laga di thi. Chudai ke bad muze normal hone me kafi time laga. Jab main ne chachi ki halat deki, us se pata chal raha tha ki main ne kya kiya hai.chachi ki halat kisi mar huye murgi ki laga rahi thi. Choti chachi ki choot pe khoon laga hua tha. Chachi ki gand ka ched puri tara se khula huya tha. Matlab main ne chachi ki gand bi mari.gand par bhi khoon laga hua tha. Main ne apne lund ki halat deki tho main shocked ho gaya. Mera lund par bhi khoon chachi ka pani aur mera veerye laga hua tha.Main ne lund ko saf kiya. Main ne himmat karke choti chachi ke chehare ke taraf deka. Unke chehare par dard nahi dik raha tha. Par ankhoin se pani nikala tha jo ab sukh chuka tha. Chachi ke muh ke pass safed kapda tha shayad chudai ke wakt chachi ne chiko ko rokne ke liye muh me dala hoga. Main ne chachi ko pani pila diya.chachi pani pine ke bad normal ho gayi. Muze laga ki ab meri to lag gayi. Par chachi ne mere sar pe kiss kiya. Chachi ke chehare pe khusi zalak rahi thi. Main sochne laga chachi ko main itna dard diya unke choot aur gand se khoon nikala pir bhi chachi ne muze kuch nahi kaha ulata muze kiss kiya. C Chachi-meri suhagraat me bhi mera itna khoon nahi nikala tha .jo aaj tune ek hi chudai me mere choot aur gand se nikaala hai. Avi-sorry chachi, muze nahi pata ki muze kya ho gaya tha. C Chachi-sorry kyu bol raha hai. muze to maza aa gaya. Avi- aapka khoon nikal gaya pir bhi aapko maza aaya .main kuch samaja nahi C Chachi-tuze kuch samaje ki jarurat nahi hai. tu sirf kal ki chudai ke bar me soch . (ye main ne kya kiya .sab gadbad ho gayi. main ne aaj Avi ko aisa karne ko kyu kaha .kuch dino ke bad bhi to aisa kar sakati thi.agar seema didi ne meri aisi chudai deki hogi to wo Avi ke sath karne se manaa bhi kar sakati hai. par muze kya pata tha ki Avi choot aur gand se khoon nikalne tak chudai karta rahega.par galati to meri hai.ye main ne kya kiya. ) seema didi ke sath pahali bar hi aisi chudai mat karna. thoda pyar se karna Avi-ji ,main pure pyar ke sath karunga C Chachi-ab tu so ja .main bhi apne kamre main jati hu. Avi-good night C Chachi-mushkhurate huye kamre se bahar chali gayi. Update 78 Main subha ut to kamjori mahasus ho rahi thi. Kal ki bua ki damdar chudai aur chachi ki rajdhani express jo bana di thi. Kamjori to aani thi. Main uta hi tha ki seema chachi mere liye dood lekar aai. Main wo dood table par rak kar fresh hone chala gaya. Fresh hone ke bad dood pite hi muze jaisa meri khohi huye takat vapas mil gayi. Pata nahi chachi ne dood me kya dala tha. Pir main kasarat karne laga. Kasarat karne ke bad bhi seema chachi ne muze dood diya. Aaj choti chachi ke jaga seema chachi dood lekar aai thi. Jab chachi ne dood diya to meri taraf dek kar mushkura diya. Kasarat karne ke bad fresh ho gaya. Pir khana kha kar padai karne laga. Ghar ke dusare kamare me C Chachi-Didi kal chudai deki M Chachi-haa, kya chudai karta hai Avi C Chachi-gabarahate huye kya aap ne puri chudai deki M Chachi-puri chudai kaise dekati C Chachi-kyu nahi deki M Chachi-kal dopehar me tune Avi ke bareme batakar choot ki khujali bada di thi. pir raat me Avi jis tara teri choot chat raha tha wo dek kar main yor garam ho gayi. C Chachi-to pir aapne chudai nahi deki M Chachi-nahi re,teri choot jis tara chat raha tha wo dek kar main itani garam ho gayi ki rashoi ghar me ja kar muli ko choot me dal kar choot ki khujali mita di. C Chachi-aap ka to pani jaladi nikal gaya hoga . M Chachi-haa 2 minute me nikal gaya tha C Chachi-uske bad to aap ne chudai deki hogi. M Chachi-uske bad to main kamare me jakar so gayi. C Chachi-dek leti ham to kafi der tak chudai karte rahe M Chachi-agar pir se chudai dekti to pir muli se pani nikaalna padata. pir chudai dekati pir pani nikaalna padata.aur tune to kaha tha ki Avi 50 minute tak chudai karata hai is bich mera kitna pani nikal jata. C Chachi-nikalne deti M Chachi-agar kal raat me pura pani nikaal deti to aaj Avi ko mere sath chudai karne me maza nahi aata.is liye main ne so jana tik samaja C Chachi-(acha hua didi ne puri chudai nahi deki ,nahi to muze kuch yor sochana padata.) to didi aap aaj raat ke liye tayyar ho M Chachi-haa, C Chachi-aapne rashoi ghar me jakar muli se choot ka pani nikaal diya. aap to muli lekar chudai dekate huye bhi pani nikaal sakati thi. M Chachi-tune to kaha tha ki suman didi ko pata nahi chalana chaiye. agar main Avi ke kamare ke samane karti to meri aawaz sunkar didi ki neend khul jati . vaise didi ki kabi raat me neend nahi khulati. par didi ut jati to aaj meri jaga didi Avi ke sath chudai karti. pir mera kya hota .is liye main ne rashoi ghar me pani nikaal C Chachi-ye acha kiya aapne C Chachi-(agar suman didi ut jati to suman didi avi ke sath chudai nahi karti balki muze ghar se nikaal deti.aur Avi ko bhi ) kaisa laga Avi ka lund M Chachi-uska lamba aur mota hai. maza aayega us ke sath chudai karne me C Chachi-to aap tayyar hai M Chachi-kohi pagal hi hogi jo lambe lund se chudvane ke liye manaa karegi C Chachi- tik hai raat me aap Avi ke sath chudai kar lena par pahale meri bat dyan se suno. M Chachi-haa bol , main sun rahi hu C Chachi-aaj se aap Avi ke chacha ke sath sona M Chachi-wo to tune kal bataya tha C Chachi-unke sath ek bar chudai karna M Chachi-udass hote huye bas ek bar C Chachi-haa bas ek bar. unko chudai se pahale dood pila dena. M Chachi-dood pine ke bad to wo meri raat bhar chudai karenge C Chachi-dood pura mat pilana pahale aada glass pilana . pir chudai karna. chudai karne ke bad wo bathroom jate hai. tab baki ke dood me neend ki goli dal dena.ye lo neend ki goli. M Chachi-pir kya karna hai C Chachi-jaise hi wo bathroom se kamre me aayenge unko baki ka dood pila dena .dyan rakana ki wo dood tumare samne pi le. M Chachi-aur kuch C Chachi-dood pilane ke bad tum bathroom me jane ka bol dena M Chachi-aur main Avi ke kamre me aa jau C Chachi-meri bat puri suno. bathroom me choot ko ache se saf karna. jaise lagana chaiye ki do teen pahale chudai hui ho. bathroom me 20 minute tak rahana. uske bad kamare me jakar ache se unko hila kar dek lena ki wo jhag to nahi rahe hai. M Chachi-uske bad Avi ke pass C Chachi-guasse me aapko bahot jaldi hai Avi ke pass jane ki. M Chachi-bolo kab jana hai Avi ke pass C Chachi-20 minute tak dek na kahi wo so rahe hai ki nahi. pir Avi ke pass chali jana. isme kohi gadbad na ho M Chachi-tum tension mat lo main samaj gayi.ki muze kya karna hai. C Chachi-(muze bhi raat me ek bar jakar dekana padega) aap tik 11 baje Avi ke pass jana. aur din me Avi se dur rahana. M Chachi-Avi kitne bar karega mere sath C Chachi-teen din wo aapke sath 2 bar karega. baki ke teen din 1 bar karega M Chachi-aisa kyu C Chachi-tab wo ek bar suman didi ke sath karega M Chachi-udass hote huye tik hai aur kuch baki hai. C Chachi-nahi. sab ho gaya. aap apna kaam ache se karana.kohi gadbad mat karna. M Chachi-kohi gadbad nahi hogi. C Chachi-tik hai .(muze bhi suman didi aur Avi ke chacha pe najar rakani padegi. jab tak didi Avi ke sath chudai karengi tab tak muze jagate rahana padega.) Update 79 Seema chachi raat me mere kamare me aa gayi. M Chachi-kya kar raho Avi Avi- (maza lene ke mood me) padai kar raha hu M Chachi- kaisi chal rahi hai padai Avi-achi chal rahi.vaise ye bat to aap din me bhi puch sakti hai. itni raat me aane ki vaja M Chachi-kya tume pata nahi main yaha kyu aai hu Avi-muze kyu pata hoga . M Chachi-kya tume sach me nahi pata(kya meena ne ise bataya nahi) Avi-kyu kuch jaruri kaam tha kya? M Chachi-mere liye to jaruri tha par jane de kal bata dungi .tu padai kar(meena ne kya Avi ko bataya nahi ki mere sath chudai karni hai. kya wo chahati thi ki pahale main suru karu. par main kaise. muze to samaj hi nahi aa raha ki main kya karu. aaj chali jati hu kal meena ko kah kar bata dungi ki Avi ko sab samaja de) Avi-main to padai hi kar raha hu seema Chachi kamre se jane ke liye bed par se khadi ho jati hai. kuch kadam chalene ke bad main ne chachi ka hant pakad kar bed par baita diya. chachi kuch samaj pati us se pahale main ne apne honto ko chachi ke honto par rak kar ek kiss karne laga chachi bhi jaladi hosh me aakar mera sath dene lagi. main chachi ke honto ko choos ne laga . chachi ke hont choti chachi ke honto ki tara naram the. choti chachi ne kaha tha ki chacha kabi kiss nahi karte . uska fayada utakar main chachi ke honto ko choosta raha thodi der bad main ne apni jibh ko chachi ke muh me dal diya. muze aisa karte hi chachi ne apna muh khol diya aur meri jibh ko choosne lagi. Main to shocked chachi ko is tara jibh chooste huye dek kar. Choti chachi ne meri jibh choosi thi. Choti chachi ko ye sab pata hai ki kiss karte huye jibh ko chooste hai. Par seema chachi kaise... Chacha to kabi kiss nahi karte pir seema chachi ne ye sab kaha se sikha. Abi kiss kar leta hu pir chachi ko puch lunga. chachi thodi der meri jibh choosti rahi pir chachi ne apni jibh mere muh me dal di. main ne bhi chachi ke jibh ko choos na suru kiya. chachi aur main ek dusare ke jibh aur honto ko choos ne lage. thodi der aise hi kiss karne ke bad hamne kiss thod diya Avi-chachi aapne aisa kiss karna kaha se sika C Chachi-tere chacha ke sath karti thi.pir dire dire sikh liya Avi-aap zut bol rahi hai M Chachi-main zut kyu bolu tumse Avi-choti chachi ne bataya ki chacha kabi kiss nahi karate.pir aap zut kyu bol rahi hai. M Chachi-jan kar kya karoge Avi-bas aise jan na chahata hu. agar aap batana chahati ho to bata sakati ho M Chachi-agar tu kisi ko bhi nahi batane ka vada karte ho to main bata sakati hu Avi-aap muz par barosa kar sakati ho M Chachi-tume to pata haina ki main kaha tak padi hu. Avi-haa M Chachi-class me mera ek friend tha. jis ne muze pahali bar kiss kiya tha aur kiss karna sikhya Avi-to aapne uske sath chudai bhi ki thi M Chachi-nahi. sirf uske sath kiss karati thi. meri seal to tere chacha ne thodi hai. Avi-vaise aapko mera kiss kaisa laga. M Chachi-tum bhi ache se kiss karte ho. ruko kiss se yaad aaya.kiss karne se pahale tum mera mazak uda rahe the Avi-haste huye. aap ko to pata tha na pir aap aise puch rahi thi jaise kuch janti nahi. M Chachi-tume to kal dekungi. Avi-kal kyu aaj kyu nahi M Chachi-aaj to maza lena hai. Avi-aur kal aap meri lengi pir to main kuch nahi karne vala M Chachi-kyu dar gaye Avi-haa M Chachi-haste huye main to mazak kar rahi thi. jaise tune kiya tha ham dono hasne lage1 like
-
Maria
1 like