Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

گوریلا

Previous Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by گوریلا

  1. انجان راہیوں کی محبت کے دیپ. اھر زندہ رہا تو یہ مکمل کر دوں گا ورنہ معزرت. احباب سے. ایڈمن سے گزارش ہے یہ لازمی ریمو کردیں
  2. محترم آپ نے کیا نہیں کوئی حل؟؟؟
  3. مجھے نہیں علم کیسے لنک نکلتا ہے آپ رہنمائی کر دیں
  4. سر آپ نے ریمو نہیں کی میری سابقہ سٹوری؟؟؟
  5. کیا مطلب؟؟ کھل کے بات کریں محترمہ
  6. محترمہ آپ کی نہیں ریمو؟؟
  7. احباب نے اگر تعاون کیا تو کرائے کا سانڈ دوسرا حصہ بھی لکھوں گا اگر موقع ملا وہ بھی ایک حقیقی کہانی ہے وہ ایک پاکستانی اور مصری جوڑے پر مبنی ہے.
  8. محترمہ مجھے اس کا علم نہیں لیکن نام انجان راہیوں کی محبت کے دیپ ہے.
  9. ریاض کی سعودیا عرب کے شہر جدہ میں 5 ورکشاپس ہیں اور مختلف دوکانیں ہیں ریاض کی عمر 39 سال ہے اور اس کی بیوی نسرین کی عنر 31 سال ہے اور ان کی ایک بیٹی ہے 2 سال کی ریاض کے پاکستان میں 3 چکر لگے شادی سے اب تک 3 چکر پاکستان لگے تھے ریاض کی ایک بہن اور بہنوئی ان کے مکان میں ہی رہتے ہیں ریاض ہی ان کا ہر طرح کا خرچا برداشت کرتا ہے کیونکہ ریاض کا بہنوئی کچھ نہیں کرتا نسرین ایک وفادار بیوی تھی جو ریاض کی جدائی اور اپنی نند کی جلی کٹی باتیں برداشت کرتی تھی ریاض کی بہن پہلے بھی نسرین کی شکایتیں لگاتی تھی لیکن ریاض بس ڈانٹ دیتا نسرین کو اور نسرین کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع نہیں ملتا تھا ریاض نے اپنی شادی کی سالگرپر ایک سونے کا ہار بھیجا جو بہت خوبصورت تھا نسرین نے یہ ریاض کی بہن کو نا دیکھایا کچھ دن بعد ریاض نے اپنی بہن کو فون کیا جس میں اس نے اس ہار کا ذکر کیا تو اس کو بہت غصہ آیا ہے اگلے دن نسرین کے پاس جب ریاض کے چچا زاد بھائی کی بیوی بیٹھی تھی ریاض کی بہن نے آتے ہی بہانے سے لڑنا شروع کر دیا اور جب ریاض کی چچا زاد بھائی کی بیوی نے لڑائی ختم کروا دی لیکن ریاض کی بہن کا غصہ ٹھنڈا نا یوا اس نے اپنے بھائی جو فون پر نسرین کے بارے میں غلط باتیں بتائی جس پر ریاض کو شدید غصہ آیا اور رہی سہی کثر اس کے بہنوئی نے نکلا دی ریاض نے نسرین کو فون کیا اور فون پر طلاق دیدی اور کہا کے گھر چھوڑ دو. میرا نام عمر ہے میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں ابوکا ہاڈوئیر کی دوکان ہے اچھا خاصہ کاروبار ہےمیں سکول میں 9 کلاس میں ہوں سکول کے بعد وڈیو گیمز اور موویز کا شوق ہے دو دن ہوگے ہیں چاچی نسرین ہمارے گھر رہ رہی ہیں بہت پریشان ہے ہر وقت ماما اُن کو دلاسے دیتی ہے. طلاق دکے بعد نسرین ریاض کے چچا زاد بھائی کے گھر آئی اِن کو ساری بات بتائی پہلے بھی یہ سب جانتے تھے وقار ریاض کے چچا زاد نے ریاض فون کیا اور اس کو پاکستان بلایا ریاض پاکستان آگیا اور یہاں آنے کے بعد اس کا ساری صورتحال جب بتائی تو اس نے اپنا سر پیٹ لیا کے اپنی بہن کے کہنے پر اس نے اپنا گھر برباد کر لیا آخر کار مولوی سے فتوی لیا طلاق ہوگی ہے اب لڑکی دوسری جگہ شادی کرے اور اس مرد سے ملاپ ہو پھر طلاق ہو مطلب حلالہ کروانا پڑھے گا ریاض نے پہلے بھی حلالہ کا سنا تھا کے بعض افراد نکاح حلالہ تو کر لیتے ہیں پر طلاق نہیں دیتے ریاض نے وقار سے سارا مشورہ کیا تو وقار نے اس کو کہا توبتاؤں کیا کرنا ہے ریاض نے کہا کوئی ایسا ہو جو قابلِ اعتماد ہو وقار نے ریاض کو کہا کے میرا بیٹا ہی ہے معصوم ہے جیسا کہو گے مان لے گا اور وہ بالغ بھی ہونے والا ہے اس سے حمل ہونے کا بھی خطرہ نہیں ہے ریاض کو یہ بات پسند آگی. چاچی نسرین کے آنے کے کچھ دن بعد چاچو ریاض بھی ہمارے گھر آگے وہ ابو کے ساتھ دو تین دن گھومتے رہے آج صبح ابو نے مجھے بلایا اور کہا عمر تمہاری شادی ہونی ہے چاچی نسرین کے ساتھ کچھ دن کے لیے اس کے بعد تم نے اِن کو طلاق دیدینی ہے میں نے پوچھا ابو یہ سب کیا ہے چاچی تو چاچو ریاض کی بیوی ہیں تو ابو نے بتایا کے اُن کی طلاق ہوگی ہے اور دوبارہ شادی کے لیے لازم ہے نسرین سے کوئی اور شادی کرے میں میں اب کیا بولتا ابو نے مجھے کہا کے شام کو ابو کے دوست جاوید چاچو کے پاس جاؤں میں انہوں نے مجھ سے کچھ باتیں کرنی ہیں اور ابھی میں چاچو جاوید کے گھر گیا چاچو کا ایک بیٹا مجھ سے بڑا ہے اور ایک میرا ہم عمر ہے ہم دوست ہیں آپس میں چاچو کے گھر پہنچا تو چاچو مجھے اپنے کمرے میں لے گے اور بیٹھا دیا پھر انہوں نے کہا بیٹا شادی کا پتہ ہے کیا میں نے کہا نکاح ہوتا ہے بس اور لڑکی لڑکے کے ساتھ چلی جاتی ہے تو انکل نے کہا نہیں بلکہ عورت اور مرد ایک اپنے جسم کے مخصوص حصے ملتے ہیں اور یہ سب لازمی ہوتا ہے اور تمہاری شادی ہے تم نے بھی کرنا ہے اس کے بعد وہاں چاچو جاوید کا بیٹا ارسلان میرا دوست آگیا اس سے باتیں کی اور وہاں سے گھر آگیا شام کو کھانا کھایا اور باہر گھومنے نکل آیا ارسلان کے ساتھ ارسلان کا ایک ہمسایا تھا وہ کچھ دن قبل ایک لڑکی کے ساتھ پکڑا گیا ہم نے اس کا خوب مذاق اُڑایا کافی دیر باتیں کرنے کے بعد ہم نے اس سے پوچھا کی ہوا تو اس نے کہا کے یار گولی کھائی تھی جس کا اثر نہیں اُتر رہا تھا اور دیر ہوگی لڑکی کے گھر والے جاگ گے اور پکڑا گیا ہم ہنسنے لگ گے گولی کا سن کے میں نے اس کو کہا مجھ بھی دو گولی تو اس نے کہا کیا کرنی ہے تو میں نے کہا تو دے تم کو اس سے کیا اس نے مجھے کہا وہ گھر ہیں اور کل لےلینا میں ارسلان کے ساتھ وڈیو گیمیں کھیلنے چلا گیا رات میں واپس آیا تو ماما نے مجھے دود دیا اور کہا سارا ختم کرو میں نے دودھ پیا کافی کچھ مکس تھا لیکن پی کے سو گیا اگلے دن اُٹھا تو ناشتہ کیا اور ارسلان کے پاس چلا گیا وہاں اس کے ساتھ بیڈمنٹن کھیلنے لگ گیا تین گھنٹے کھیلنے کے بعد ارسلان کو تین گیم ہارائی اور گھر آگیا پسینے سے شرابور تھا ابو نے مجھے بلایا اور اپنے ساتھ لے گے بیرونی کمرے میں وہاں مولوی اور کچھ افراد بیٹھے تھے مجھے بیٹھایا اور ابو نے مولوی صاحب سے کہا شروع کریں مولوی نے نکاح شروع کیا نکاح کے بعد جو چند افراد تھے انہوں نے کہانا کھایا اور چلے گے میں اندر آیا اور امی کو کپڑو کا بولا تو امی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کہا کے نسرین اب تمہاری چاچی نہیں تمہاری بیوی ہے اس کو کہو میں نے مما کو کہا ماما وہ مجھ سے اتنی بڑھی ہیں اب تک ان کو چاچی کہتا آیا ہوں اب ایک دم سے یہ سب مجھ سے نہیں ہوگا ماما میری بات سن کے خاموش ہوگی پھر بولی چلو کوئی بات نہیں لیکن وہ اب تمہاری بیوی ہے میں کمرے میں گیا تو دیکھا نسرین اپنے کپڑے بیگ سے نکال رہی تھی میں نے اپنی نیکر شرٹ لی اور نہانے چلا گیا نہا کر واپس آیا تو امی نے نسرین کو کچھ کہا اور واپس چلی گی میں صوفے پر لیٹ گیا تھکا تھا نسرین میرے پاس آئی اور پہلے تو اپنی انگلیاں مروڑتی رہی پھر بولی کے عمر آپ کو پتہ ہی ہے جو بھی ہوا اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں لیکن ہم بڑوں کی غلطیوں کی سزا آپ کو مل رہی ہے غلطی تو میری بھی نہیں اور میں اپنی صفائی دینا بھی نہیں چاہتی یہ بڑوں کا معاملہ تھا لیکن آپ کو اس معاملے میں گھسیٹنا بہت غلط ہے اس لیے جیسے بھی ہے ہمیں یہ سب برداشت کرنا پڑھے گا. میں نے جواب دیا آپ کو کیا یہ سب بہت آسان لگتا ہے؟؟ مجھ سے یہ سب نہیں ہوگا اور ہوتا بھی کیسے یہ مجھ سے بڑھی تھی سنجیدہ خاتون تھی خاندان میں میں بس سلام دعا کی حد تک تھا اور اب یہ سب بہت مشکل لگتا تھا. نسرین بولی چلو آپ وہ سب نا کریں لیکن دوست تو بن کے رہ سکتے ہیں؟؟
  10. پیج ایڈمن سےگزارش ہے میرے سابقہ کہانی ریمو کر دے تاکے یہ کہانی جاری رکھ سکوں میں.
  11. انکل ہم بھی نوۓ نوۓ ہی ہیں آپ کی کہانی سے کچھ دن قبل شروع کی تھی کہانی انجان راہیوں کی محبت کے دیپ وہ مکمل کی اب یہ شروع کی ہے. ہم تو جنگلوں کی خاک ہیں جناب.
  12. میری پہلی کہانی مکمل ہوگی ہے وہ ایک الگ نوعیت کی تھی اور یہ الگ نوعیت کی ہے. کوشش کروں گا پہلی سے اچھی لکھنے کی. باقی فورم کے ایڈیٹر سے گزارش ہے کے اگر میں مسلسل 3 ماہ تک ایکٹو نا ہوا تو میری کہانیاں ختم کر دی جائیں اگر زندہ رہا تو لوٹوں گا ورنہ ہزاروں گمنام قبروں میں ایک قبر ہماری بھی ہوگی. اگر کوئی اس کہانی کے نام کو جانتا ہے تو سمجھ گیا ہوگا کس حوالے سے ہے کہانی یہ ایک حقیقی آپبیتی ہے. کوشش یہی ہے یہ بھی جانے سے پہلے مکمل کر دوں یاں عید پر دو........؟
  13. جنگ نظریات پرلڑی جاتی ہے جب تقسیم ہو تب کہاں تھے یہ دانشور؟ جب 87 میں سکھوں کو مارا گیا تب کہا تھے یہ دانشور؟ جب بنگال سے لٹی پٹی مسلم عورتیں آئی تب کہاں تھے یہ دانشور؟ جب جموں میں 10 سالہ مسلم بچی عاصمہ کو زنا کے بعد قتل کیا تب کہا تھے یہ دانشور؟؟ جن لوگوں نے سو سال مسلمانوں کی غلامی کی کیا وہ اب تمام مسلمانوں کو بخش دیں گے؟؟
  14. کچھ عرصہ پہلے ایک کہانی پڑھی تھی جس میں ہمارے تعارف میں بہت کم تھی لکھنے والے نے بہت بڑے بڑے شاپر چھوڑے تھے امید ہے میں اپنی کہانی سے اپنا تعارف ٹھیک کروا جاؤں.
  15. آج 14 تاریخ ہے فروری کی 1997 کا سال رات کے 3 بج گے ہیں گائیڈ نے گروپ کراس کروا دیا اور ہم 4 افراد کا قافلہ جموں کشمیر میں داخل تھے یہ انڈیا کے قبضہ کا کشمیر تھا میں اِن میں سب سے چھوٹا تھا ایک افغانی عسکر تھا اور ایک پاکستانی پختون اور ایک پنجابی عسکر تھا مجھے اس گروپ کا کمانڈر بنایا گیا مجھے نہیں علم مجھ میں ایسا کیا خاص ہے لیکن بنا دیا انڈین آرمی کی پوسٹوں کے پاس سے خاموشی سے گزر گے آگے ہندو آبادی تھی بارڈر کے پاس تمام ہند آباد ہیں ہمارے پاس کھانا 2 دن کا تھا میں نے سب کو کہا کے ہم نے دن میں آرام کرنا ہے اور رات میں چلنا ہے ہم کو جموں کے راجوری ضلع میں جانا تھا یہاں مسلم کافی تعداد میں ہیں خہر چلتے چلتے ہم سورج کے نکلنے سے پہلے آبادی سے کچھ دور پہنچ گے نمازیں پڑ کے میں نے سب کو کہا کے آرام کرو میں پہرا دیتا ہوں ہم نے دو دو گھنٹوں کا پہرا لگالیا خیر پہرا دیا دن گزرا رات کھانا کھا کے نکل پڑے ہم آج رات مسلسل چلتے رہیں تو ہم اپنے رسیونگی پوائنٹ پر پہنچا جائیں گے خیر مالک کو یاد کرتے کرتے ہم بنا رکے پہنچ گے ادھر ہمیں ایک کشمیری تھا جو ہم سے پہلے عسکرین کے ساتھ کام کرتا تھا خیر کھانا کھایا کھانے کے بعد میں نے پہرے کا لگایا اور سو گے دن 12 بجے اُٹھے کھانا کھایا نمازیں پڑی اور کشمیر کے بیٹے کو بلا لیا یہ میٹرک میں تھا اس کی دو بیٹیاں تھی جو ابھی بمامشکل بالغ ہوئی تھی کے اس نے ان کی منگنیاں کردی. خیر ہم نے اس سے یہاں کے حالات اور لوگوں کا پوچھا اس کو جو علم تھ سب بتا دیا کشمیری کی بیوی بہت خوش تھی وہ بار بار ہمارے ہاتھ چومتی ماتھا چومتی کافی عرصہ بعد یہاں کوئی گروپ آیا تھا جس علاقے میں عسکر ہو وہاں آرمی بہت کم آتی ہے خیر ہم تھکاوٹ اُترنے تک آرام کیا اس کے بعد ہم نے آرمی کے بارے میں جاسوسی کروانی شروع کر دی یہاں ایک میجر ارجن تھا اُس نے اپنے ہی مخبر کی بیٹی کے ساتھ زیاتی کی تھی خیر ہم نے اس کو اپنا پہلا ٹارگٹ بنایا یہ رات کو اپنے دوستوں کے ساتھ واک کرنے پارک میں آتا تھا اس کی نفری میں اس کے ساتھ 8 سپاہی ہوتے تھے خیر ہم نے دن میں وہ علاقہ دیکھ لیا وہ ایک ہی راستے سے آتا جاتا تھا یہاں چھوٹی چھوٹی خوبصورت جھاڑیاں تھی جن میں گھات لگا کر بیٹھ سکتے تھے میں نے 8 گرنیڈ 7 میگزینز رکھ لیں ایک گن کے ساتھے تھی گن میرے گلے میں بھاگتی تھی اور میرے بھی مجھے مزاح سے کہتے تھے کے پتہ نہیں یہ گن کو سنبھالتا ہے یاں گن اس کو خیر میں نے ان سب کو ان کی جگہ سمجھا دی نمازیں اکٹھی کی اور تیاری کرکے نکلنے لگے تو اس کشمیری کے سارے گھر والے رونے لگ گے خیر ہم نے سمجھایا اور چل پڑے میں اپنے ساتھیوں کولے کے 30 منٹ پہلے ہی پہنچ گیا اپنی اپنی جگہ پے جاکے بیٹھ گے ابھی ہم کو بیٹھے کچھ دیر ہی گزری تھی کے کے ایک دم 50 کے قریب آرمی والے آگے یہ کیا یہ تو ایسا لگتا ہے جیسے مخبری ہوگی ہے وہ سب کھڑے ہوگے سر چنگ نہیں کی بس کھڑے تھے میں دل میں سوچ رہا تھا کے مخبری ہوگی لیکن ایسا کچھ نہیں تھا 20 منٹ گزرے تو دو آدمی سول کپڑوں میں آتے نظر آۓ جیسے ہی وہ ہماری رینج میں آۓ تو میں نے فائر کر دیا میرے اسالٹ ڈبل ٹیپ فائرسے دونوں کے سروں میں گولیاں لگی وہ دنوں موقع پر ڈھیر ہوگے اس کے ساتھ ہی فائرنگ شروع ہوگی آرمی کی فائرنگ سے افغان زخمی ہوا اس نے آخری وقت میں بھی چار فوجی ماردیے آرمی کے فوجی حواس باختہ ہوگے انھوں نے ہیڈکوارٹر میں اطلاع دیدی میں وہاں سے نکلتے ہوۓ افغانی کا گن پوچ اُٹھا کے نکل گیا رات کا وقت تھا راستوں کا کچھ علم نہیں تھا ہم لوگ پارک سے جیسے نکل ہم پر شدید فائرنگ ہونا شروع ہوگی باقی دنوں کی روح بھی موقع پر اپنا اجسام چھوڑ گی میرے کندھے میں فائر لگیا ہے میں نے گرتے ہی قمیض کا کپڑا پھاڑ کے کندھے پر باندھ دیا اب میرے پاس دو گنے دو پوچ تھے اور 10 میگزینز 11 گرینڈ تھے خیر میں وہاں سے نکلا کرالنگ کر کے نکلتا نکلتا ایک باغ میں آگیا یہ سیبوں کا باغ تھا میں نے گرتے پڑتے ایک چشمہ سے پانی پیا اور وہاں ہی لیٹ گیا لیٹے لیٹے مجھے نیند آگی سوتے میں مجھے ایسے لگا جیسے کوئی مجھے اُٹھا رہا ہو.

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.