ہممم ڈاکٹر صاحب بالکل ٹھیک کہا, آپ کا ہر کردار کو مختلف انداز میں پیش کرنا آپ کی باریک بینی کا پتا دیتی ہے. ہر شخص الگ ہے مزاج میں جسامت میں طاقت میں تو اسی طرح سیکس میں بھی الگ ہوگا .
ہا ہا آپ نے یاسر کا حوالہ بالکل ٹھیک دیا شروع میں تو جس کی چوت میں بھی لنڈ گیا وہ درد سے بلک اٹھی چاہے وہ بڑی عمر کی عورت ہی کیوں نہ ہو. آپ نے جب سے لکھنا شروع کیا تو آپ نے ایک الگ انداز میں کہانی پر گرفت رکھی.
ڈاکٹر صاحب آپ نے اس ناول میں ایک جگہ لکھا کہ لمبا موٹا لنڈ. اسی طرح اور ناولوں میں بھی کہیں لکھا ہوگا. ہوس میں نے ابھی پڑھنا شروع نہیں کی ہوسکتا ہے اس میں جا بجا ہو. تو کیا وجہ ہے ہم عضو تناسل کے سائز کو اتنا فینٹسی کے طور پر بیان کیوں کرتے ہیں. کیا اس کا اصل میں حقیقی زندگی میں عمل دخل ہے. بہت پڑھا سنا دیکھا بھی ہے. ایک عام تصور ہے کہ زیادہ بڑا ہو تو اندر بچہ دانی پر لگتا ہے.میں نے ایک کال گرل کو کیا تھا تو وہ بھی بتارہی تھی کہ ایک نے کیا تو بہت درد ہوا یہ وہ وغیرہ کچھ کہتے ہیں کہ موٹا ہو سختی ہو تو مزہ ہے . عام محاورتًا مرد جب جوانی پر ہوتے ہیں تو فخریہ کہتے ہیں کہ ابے جا تیرہ تو چھوٹی سی ہے میرا دیکھ , تو تومرد ہی نہیں ہے تیری تو للی ہے. جب کہ اس میں انسان کا کوئ عمل دخل نہیں قدرت نے جیسا بنادیا .
آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں مموں کا شاید تقابل کرنا صحیح نہیں ہوگا ایک حد سے بڑھ جائیں جو لٹکنے پر آجائیں تو مزہ خراب. یا پھر ایسا ہی ہے کہ جس طرح ہر مرد کی خواہش الگ ہے اسی طرح ہر عورت لڑکی کی خواہش الگ ہے.
کیا کہتے ہیں آپ ؟