July 23, 201213 yr کس قدر آگ برستی ہے یہاں کس قدر آگ برستی ہے یہاں خلق شبنم کو ترستی ہے یہاں صرف اندیشۂ افعی ہی نہیں پھول کی شاخ بھی ڈستی ہے یہاں رُخ کدھر موڑ گیا ہے دریا اب نہ وہ لوگ نہ بستی ہے یہاں زندہ درگور ہُوئے اہلِ نظر کس قدر مُردہ پرستی ہے یہاں زیست وہ جنسِ گراں ہے کہ فراز موت کے مول بھی سَستی ہے یہاں
September 7, 201213 yr مرے ہمدم، مرے دوست گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی شکن تیری آنکھوں کی اُداسی، ترے سینے کی جلن میری دلجوئی، مرے پیار سے مٹ جائے گی گر مرا حرفِ تسّلی وہ دوا ہو جس سے جی اُٹھے پھر سے ترا اُجڑا ہوا بےنور دماغ تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ تری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست! روز وشب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں آبشاروں کے، بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت تجھ سے میں حُسن و محّبت کی حکایات کہوں کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم گرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیں کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ہے کیسے گلچیں کے لئے جھلکتی ہے خود شاخِ گلاب کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر گیت بناتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطر یہ مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں نغمہِ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزاد سہی ترے آزاد کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا اور یہ سفاک مسیحا میرے قبضے میں نہیں اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا
Create an account or sign in to comment