Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا

Featured Replies

بہت خوب بلھے شاہ جیسے کلام ہم کیا تعریف کریں بے مثال ہے یہ

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 146
  • Views 32.6k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • میری موت ہے میری ہمسفر، میری زندگی بھی عجیب ہے میرے چاروں طرف ہے جلوہ گر، تیری بے رُخی بھی عجیب ہے میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے ج

  • مجھے اپنے ضبط پے ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا میری آنکھ کیسے چھلک گئی یہ دکھ ہے کہ بُرا ہوا میری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں ابھی تیرگی ہے ابھی روشنی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہو ا مجھے

  • ہم ہی وفا شکن سہی اور ہم ہی بے وفا تم تو وفا شعار تھے، تم کیوں بدل گئے؟ Posted from Xperia Smartphone using Tapatalk

  • 3 weeks later...

کس قدر آگ برستی ہے یہاں

کس قدر آگ برستی ہے یہاں

خلق شبنم کو ترستی ہے یہاں

صرف اندیشۂ افعی ہی نہیں

پھول کی شاخ بھی ڈستی ہے یہاں

رُخ کدھر موڑ گیا ہے دریا

اب نہ وہ لوگ نہ بستی ہے یہاں

زندہ درگور ہُوئے اہلِ نظر

کس قدر مُردہ پرستی ہے یہاں

زیست وہ جنسِ گراں ہے کہ فراز

موت کے مول بھی سَستی ہے یہاں

  • 1 month later...

مرے ہمدم، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی شکن

تیری آنکھوں کی اُداسی، ترے سینے کی جلن

میری دلجوئی، مرے پیار سے مٹ جائے گی

گر مرا حرفِ تسّلی وہ دوا ہو جس سے

جی اُٹھے پھر سے ترا اُجڑا ہوا بےنور دماغ

تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ

تری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے

گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم، مرے دوست!

روز وشب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں

میں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے، شیریں

آبشاروں کے، بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت

آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت

تجھ سے میں حُسن و محّبت کی حکایات کہوں

کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم

گرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیں

کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش

دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں

کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور

یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ہے

کیسے گلچیں کے لئے جھلکتی ہے خود شاخِ گلاب

کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے

یونہی گاتا رہوں، گاتا رہوں تیری خاطر

گیت بناتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطر

یہ مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں

نغمہِ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی

گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزاد سہی

ترے آزاد کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا

اور یہ سفاک مسیحا میرے قبضے میں نہیں

اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں

ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا

📢 Post Your Ad Here
  • 3 weeks later...
  • 3 weeks later...
📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.