November 14, 201114 yr پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے ایسے زندہ تھے کہ جینے کی علامت ہم تھے سب خرد مند بنے پھرتے ہیں ہر محفل میں اس ترے شہر میں اک صاحبِ وحشت ہم تھے نام بخشا ہے تجھے کس کے دفورِ غم نے گر کوئی تھا تو ترے مجرم شہرت ہم تھے اب کسی اور کے ہاتھوں میں ترا ہاتھ سہی یہ الگ بات کبھی اہلِ رفاقت ہم تھے رتجگوں میں تری یاد آئی تو احساس ہوا تیری راتوں کا سکوں نیند کی راحت ہم تھے اب تو خود اپنی ضرورت بھی نہیں ہے ہم کو وہ بھی دن تھے کہ کبھی تیری ضرورت ہم تھے دُھوپ کے دشت میں کتنا وہ ہمیں ڈھونڈتا تھا اعتبار اس کے لئے اَبر کی صورت ہم تھے
November 15, 201114 yr Wah Wah Wah Wah..... Buhat Ache Waniya Dear..... Very Nice Potery... Thanks For Sharing
November 16, 201114 yr عہد طفلي تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے تھي ہر اک جنبش نشان لطف جاں ميرے ليے حرف بے مطلب تھي خود ميري زباں ميرے ليے درد ، طفلي ميں اگر کوئي رلاتا تھا مجھے شورش زنجير در ميں لطف آتا تھا مجھے تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر وہ پھٹے بادل ميں بے آواز پا اس کا سفر پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کي خبر اور وہ حيرت دروغ مصلحت آميز پر آنکھ وقف ديد تھي ، لب مائل گفتار تھا دل نہ تھا ميرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
November 21, 201114 yr ملیں پھر آکے اسی موڑ پر دعا کرنا کڑا ہے اب کے ہمارا سفر دعا کرنا دیارِ خواب کی گلیوں کا جو بھی نقشہ ہو مکینِ شہر نہ بدلیں نظر دعا کرنا چراغ جاں پہ اس آندھی میں خیریت گزرے کوئی امید نہیں ہے مگر دعا کرنا تمہارے بعد مرے زخمِ نارسائی کو نہ ہو نصیب کوئی چارہ گر دعا کرنا مسافتوں میں نہ آزار جی کو لگ جائے مزاج داں نہ ملیں ہم سفر دعا کرنا دکھوں کی دھوپ میں دامن کشا ملیں سائے ہر ے رہیں یہ طب کے شجر دعا کرنا نشاطِ قرب میں آئی ہے ایسی نیند مجھے کھلے نہ آنکھ میری عمر بھر دعا کرنا
November 29, 201114 yr نم ہیں پلکیں تیری اے موجِ ہَوا رات کے ساتھ کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ رُوٹھنے اور منانے کی حدیں ملنے لگیں چشم پوشی کے سلیقے تھے شکایات کے ساتھ تجھ کو کھو کر بھی رہوں خلوتِ جاں میں تیری جیت پائی ہے محبت نے عجب مات کے ساتھ کبھی تنہائی سے محروم نہ رکھّا مُجھ کو دوست ہمدرد ہیں کتنے میری ذات کے ساتھ
December 18, 201114 yr خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی خبرِ تحیرِ عشق سن، نہ جنوں رہا، نہ پری رہی نہ تو تُو رہا، نہ تو میں رہا، جو رہی سو بے خبری رہی شۂ بے خودی نے عطا کیا، مجھے اب لباسِ برہنگی نہ خرد کی بخیہ گری رہی، نہ جنوں کی پردہ دری رہی چلی سمتِ غیب سے اک ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا مگر ایک شاخِ نہالِ غم جسے دل کہیں سو ہری رہی نظرِ تغافلِ یار کا گلہ کس زباں سے کروں بیاں کہ شرابِ حسرت و آرزو، خمِ دل میں تھی سو بھری رہی وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا کہ کتاب عقل کی طاق پر جو دھری تھی سو وہ دھری رہی ترے جوشِ حیرتِ حسن کا اثر اس قدر ہے یہاں ہوا کہ نہ آئینے میں جِلا رہی، نہ پری میں جلوہ گری رہی کیا خاک آتشِ عشق نے دلِ بے نوائے سراج کو نہ خطر رہا، نہ حذر رہا، جو رہی سو بے خطری رہی
Create an account or sign in to comment