September 13, 201114 yr Author ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں میں تیرے سامنے انبار لگا دوں لیکن کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا سُرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہو گی جس پہ حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے اِک وہ پتھر ہے جسے کہتے ہیں تہذیبِ سفید اس کے مر مر میں سیہ خون جھلک جاتا ہے ایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں جتنے افکار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا بھی پتھر میرا الہام تیرا ذہن رسا بھی پتھر اس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتھر ہے ہاتھ پتھر ہیں تیرے میری زباں پتھر ہے ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار
September 13, 201114 yr Author نئی کونپل علامت زندگی کی.... نیا دن ھے عجب تحفہ خدا کا.... نیا سورج جواں ھونے سے پھلے... علامت ھے اثر جیسے دعا کا.... نئی صبح کی شوخی اور سرخی... ھو جیسے عکس سا اک دلربا کا... سال نو نے اک امید بھر دی... دلوں میں بھر دیا اک حوصلہ سا... گزشتہ سال تھا طوفان میں ڈوبی... اندھیری رات میں اک قمقمہ سا.... طلسم بڑھ رھا ھے صبح نو کا.. رھے سایہ محمد مصطفی کا...
October 12, 201114 yr مجھے اپنے ضبط پے ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا میری آنکھ کیسے چھلک گئی یہ دکھ ہے کہ بُرا ہوا میری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں ابھی تیرگی ہے ابھی روشنی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہو ا مجھے کیوں نہ سمجھ سکے یہ اپنے دل سے ہی پوچھیے میری داستانِ حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملا نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا وار خطا ہوا مجھے راستے میں پڑا ہوا کسی بد نصیب کا خط ملا کہیں خونِ دل سے لکھا ہوا کہیں آنسؤوں سے مٹا ہوا جو نظر بچا کے گذر گئے میرے سامنے سے ابھی ابھی یہ میرے شہر کے لوگ ہیں میرےگھر سےگھر ہے مِلا ہوا مجھے ہمسفر بھی ملا تو ستم طریف میری طرح کئی منزلوں کا تھکا ہوا کہیں راستوں کا لُٹا ہوا میرے اِک گوشہ فِکر میں میری زندگی سے عزیز تر میرا اک ایسا بھی دوست ہے جو مِلا کبھی نہ جدا ہوا
October 30, 201114 yr سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے وہ آگ دل میں لگی ہے جس میں، تپش ہے لیکن دھواں نہیں ہے تمہارے غم نے سکھا دیا ہے مجھے ہر اِک غم سے پیار کرنا غمِ جہاں بھی ، یقین جانو، مزاجِ دل پر گراں نہیں ہے خدا کی بستی میں ہر قدم پر، کوئی ہے گریاں کسی کے غم پر یہ درد تو درد مشترک ہے، یہ آنکھ پرنم کہاں نہیں ہے متاع عمر عزیز ساری، گنوا چکے پر سفر ہے جاری عجیب سودا ہے عاشقی کا کہ فکر سود و زیاں نہیں ہے
Create an account or sign in to comment