February 26, 201214 yr دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟ روئیں گے ہم ہزار بار ،کوئی ہمیں ستائے کیوں؟ دَیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟ جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں؟ دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہ تیرا ہی عکس رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں؟ قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟ حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرم اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں؟ واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضع راہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟ ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟ غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہائے ہائے کیوں؟
March 1, 201214 yr شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگي يہ بستيوں کي فضا کيوں دھواں اگلنے لگي اسي لئيے تو ہوا رو پڑی درختوں ميں ابھي ميں کھل نہ سکا تھا کہ رت بدلنے لگي اتر کے نائو سے بھي کب سفر تمام ہوا زميں پہ پائو دھرا تو زمين چلنے لگي کسي کا جسم اگر چھو ليا خيال ميں بھي تو پور پور مري مثل شمع جلنے لگي مري نگاہ ميں خواہش کا شائبہ بھي نہ تھا يہ برف سي ترے چہرے پہ کيوں پگھلنے لگي
March 1, 201214 yr پاس رہ کر بھي بہت دور ہيں دوست اپنے حالات سے مجبور ہيں دوست ترک الفت بھي نہيں کر سکتے ساتھ دينے سے بھي معذور ہيں دوست گفتگو کے لئے عنواں بھي نہيں بات کرنے پہ بھي مجبور ہيں دوست يہ چراغ اپنے لئيے رہنے دو تير راتيں بھي تو بے نور ہيں دوست سبھي پثرمردہ ہيں محفل ميں شکيب ميں پريشان ہوں رنجور ہيں دوست
Create an account or sign in to comment