Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 146
  • Views 32.7k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • میری موت ہے میری ہمسفر، میری زندگی بھی عجیب ہے میرے چاروں طرف ہے جلوہ گر، تیری بے رُخی بھی عجیب ہے میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے ج

  • مجھے اپنے ضبط پے ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا میری آنکھ کیسے چھلک گئی یہ دکھ ہے کہ بُرا ہوا میری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں ابھی تیرگی ہے ابھی روشنی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہو ا مجھے

  • ہم ہی وفا شکن سہی اور ہم ہی بے وفا تم تو وفا شعار تھے، تم کیوں بدل گئے؟ Posted from Xperia Smartphone using Tapatalk

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟

روئیں گے ہم ہزار بار ،کوئی ہمیں ستائے کیوں؟

دَیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں

بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں؟

جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز

آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں؟

دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہ

تیرا ہی عکس رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں؟

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرم

اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں؟

واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضع

راہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟

ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی

جس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟

غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں

روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہائے ہائے کیوں؟

شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگي

يہ بستيوں کي فضا کيوں دھواں اگلنے لگي

اسي لئيے تو ہوا رو پڑی درختوں ميں

ابھي ميں کھل نہ سکا تھا کہ رت بدلنے لگي

اتر کے نائو سے بھي کب سفر تمام ہوا

زميں پہ پائو دھرا تو زمين چلنے لگي

کسي کا جسم اگر چھو ليا خيال ميں بھي

تو پور پور مري مثل شمع جلنے لگي

مري نگاہ ميں خواہش کا شائبہ بھي نہ تھا

يہ برف سي ترے چہرے پہ کيوں پگھلنے لگي

📢 Post Your Ad Here

پاس رہ کر بھي بہت دور ہيں دوست

اپنے حالات سے مجبور ہيں دوست

ترک الفت بھي نہيں کر سکتے

ساتھ دينے سے بھي معذور ہيں دوست

گفتگو کے لئے عنواں بھي نہيں

بات کرنے پہ بھي مجبور ہيں دوست

يہ چراغ اپنے لئيے رہنے دو

تير راتيں بھي تو بے نور ہيں دوست

سبھي پثرمردہ ہيں محفل ميں شکيب

ميں پريشان ہوں رنجور ہيں دوست

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.