Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

11ajw5u.jpg

شکوہ کریں تو کس سے شکایت کریں تو کیا

اک رائیگاں عمل کی ریاضت کریں تو کیا

جس شے نے ختم ہونا ہے آخر کو ایک دن

اس شے کی اتنے دکھ سے حفاظت کریں تو کیا

11ajw5u.jpg

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 301.6k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق

اے مرگِ ناگہاں تیرا آنا بہت ہوا

ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا

اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا

اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی

اس سے زرا ربط بڑھانا بہت ہوا

اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں

اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا

اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا

مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا

کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل

اے یادِ یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا

کہتا تھا ناصحوں سے میرے منہ نہ آئیو

پھر کیا تھا ایک ہُو کا بہانہ بہت ہو

لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر

احمد فراز تجھ سے کہا نا بہت ہوا

مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امّی کہتی تھیں

جب میرے بچپن کے دِن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں

ایک یہ دِن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناتہ توڑ لیا

ایک وہ دِن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں

ایک یہ دِن جب ساری سڑکیں رُوٹھی رُوٹھی لگتی ہیں

ایک وہ دِن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں

ایک یہ دِن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں

ایک وہ دِن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں

ایک یہ دِن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا

ایک وہ دِن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیا بہتی تھیں

مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امّی کہتی تھیں

جب میرے بچپن کے دِن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں

یہ واقعہ بھی عجب میری زندگی کا تھا

میں چاہتا تھا اسے اور وہ کسی کا تھا

کسی نے توڑ دیا میرا آشیان خواب

مجھے بھی زعم بہت اپنی عاشقی کا تھا

تب اپنی وحشتِ جاں پر ہوا بہت افسوس

جو یہ سنا کہ اسے شوق دل لگی کا تھا

نہ میری ذات سے مطلب نہ میرے درد سے کام

وہ معترف تو فقط میری شاعری کا تھا

بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے

گرميوں ميں جب سب گھر والے سو جاتےتھے

دھوپ کي اُنگلي تھام کے ہم چل پڑتے تھے

ہميں پرندے کتنے پيار سے تکتے تھے

ھم جب ان کے سامنے پاني رکھتے تھے

موت ہميں اپني اّ غوش ميں چھپاتي تھي

قبرستان ميں جا کر کھيلا کرتے تھے

رستے ميں اِک ان پڑھ دريا پڑتا تھا

جس سے گزر کر پڑھنے جايا کرتے تھے

جيسے سورج اّ کر پياس بجھائے گا

صبح سويرے ايسے پاني بھرتے تھے

اُڑنا ھم کو اتنا اچھا لگتا تھا

چڑياں پکڑ کر اُن کو چوما کرتے تھے

تتلياں ہم پر بيٹھا کرتيں تھيں

ھم پھولوں سے اتنے ملتے جلتے تھے

ملي تھي يہ جواني ھم کو رستے ميں

ھم تو گھر سے بچپن اوڑھ کے نکلے تھے

بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے

تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے

وہ خوشياں بھي جانے کيسي خوشياں تھيں

تتلي کے پر نُوچ کے اُچھلا کرتے تھے

مار کے پاؤں ہم بارش کے پاني ميں

اپني ناؤ آپ ڈبويا کرتے تھے

چھوٹے تھے تو مِکرو فريب بھي چھوٹے تھے

دانہ ڈال کے چڑيا پکڑا کرتے تھے

اب تو اِک آنسو بھي رُسوا کر جائے

بچپن ميں جي بھر کے رُويا کرتے تھے

خُوشبو کے اُڑتے ہي کيوں مرجھايا پھول

کتنے بھولے پن سے پوچھا کرتے تھے

کھيل کود کے دن بھر اپني ٹولي ميں

رات کو ماں کي گُود ميں سويا کرتے تھے

📢 Post Your Ad Here

؟پتا نہیں وہ کون تھا

پتا نہیں وہ کون تھا ؟

پتا نہیں وہ کون تھا جو میرے ہاتھ

موتئے کی ڈال ، پنکھ مور کا تھما کے چل دیا

پتا نہیں وہ کون تھا

ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا

نظر کو رنگ ، دل کو دکھ کی نکہتوں سے بھر گیا

میں کون ہوں ؟ گزرنے والا کون تھا ؟

یہ پھول ، پنکھ کیا ہیں ، کیوں ملے ؟

یہ سوچتے ہی سوچتے ، تمام رنگ ایک رنگ میں اتر گئے

۔۔۔ سیاہ رنگ

تمام نکہتیں ۔۔۔ اِدھر اُدھر بکھر گئیں ، خلاؤں میں

یقین ہے ۔۔۔

نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ گمان ہے

وہ کوئی میرا دشمنِ قدیم تھا

دِکھا کے جو سراب ، میری پیاس اور بھی بڑھا گیا

میں بے حساب آرزوؤں کا شکار

انتہائے شوق میں فریب اس کا کھا گیا

گمان ہے ۔۔۔

نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ یقین ہے

وہ کوئی میرا دوست تھا ، جو دو گھڑی کے واسطے ہی کیوں نہ ہو

نظر کو رنگ ، دل کو نکہتوں سے بھر گیا

پتا نہیں کدھر گیا

میں اس کو ڈھوندتا ہوا تمام کائینات میں

اِدھر اُدھر بکھر گیا !

کوئی تو ھو جو مری وحشتوں کا ساتھی ھو

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ھو

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے

میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ھو

میں اس کے ھاتھ نہ آؤں وہ میرا ھوکر رھے

میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ھو

وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے

گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ھو

کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں

میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ھو

وہ خواب دیکھے تو میرے حوالے سے

میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ھو

ایک نظم حسب حال

کچھ تنگی اوقات ہے ،

کچھ تلخی حالات ہے ،

کچھ لوگ بھی مہرباں نہیں،

کچھ شجر تو ہیں اماں نہیں،

کچھ بے وطنی بھی چھائی ہے ،

کچھ دل نے آگ لگائی ہے،

کچھ خود بھی اپنا پتہ نہیں،

کچھ اہل شہر میں وفا نہیں،

کچھ اپنے بھی بیگانے ہیں،

کچھ دوست ہیں ، انجانے ہیں،

کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں،

کچھ ہم بھی کہتے ڈرتے ہیں،

کچھ پاس کبھی کچھ دور بھلے ،

کچھ ہم بھی یوں مجبور بھلے،

کچھ وقت ملا تو بولیں گے ،

کچھ لفظ جنوں کے تولیں گے،

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو

کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے

مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہے

میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ہو

کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں

میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو

میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائے

وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو

وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے

مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو

مسـکـــراتـی حـیـات مـانـگــی تـھـی

غـم سـے نـجـات مـانـگـی تـھـی

دیـنـے والــے یـہ بــرہــمـی کیــسی

میـں نـے کـونــسی کـائـنـات مـانـگـی تـھی

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.