August 17, 201114 yr شکوہ کریں تو کس سے شکایت کریں تو کیا اک رائیگاں عمل کی ریاضت کریں تو کیا جس شے نے ختم ہونا ہے آخر کو ایک دن اس شے کی اتنے دکھ سے حفاظت کریں تو کیا
August 17, 201114 yr اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق اے مرگِ ناگہاں تیرا آنا بہت ہوا ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی اس سے زرا ربط بڑھانا بہت ہوا اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل اے یادِ یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا کہتا تھا ناصحوں سے میرے منہ نہ آئیو پھر کیا تھا ایک ہُو کا بہانہ بہت ہو لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر احمد فراز تجھ سے کہا نا بہت ہوا
August 17, 201114 yr مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امّی کہتی تھیں جب میرے بچپن کے دِن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں ایک یہ دِن جب اپنوں نے بھی ہم سے ناتہ توڑ لیا ایک وہ دِن جب پیڑ کی شاخیں بوجھ ہمارا سہتی تھیں ایک یہ دِن جب ساری سڑکیں رُوٹھی رُوٹھی لگتی ہیں ایک وہ دِن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں ایک یہ دِن جب جاگی راتیں دیواروں کو تکتی ہیں ایک وہ دِن جب شاموں کی بھی پلکیں بوجھل رہتی تھیں ایک یہ دِن جب لاکھوں غم اور کال پڑا ہے آنسو کا ایک وہ دِن جب ایک ذرا سی بات پہ ندیا بہتی تھیں مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امّی کہتی تھیں جب میرے بچپن کے دِن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیں
August 17, 201114 yr یہ واقعہ بھی عجب میری زندگی کا تھا میں چاہتا تھا اسے اور وہ کسی کا تھا کسی نے توڑ دیا میرا آشیان خواب مجھے بھی زعم بہت اپنی عاشقی کا تھا تب اپنی وحشتِ جاں پر ہوا بہت افسوس جو یہ سنا کہ اسے شوق دل لگی کا تھا نہ میری ذات سے مطلب نہ میرے درد سے کام وہ معترف تو فقط میری شاعری کا تھا
August 17, 201114 yr بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے گرميوں ميں جب سب گھر والے سو جاتےتھے دھوپ کي اُنگلي تھام کے ہم چل پڑتے تھے ہميں پرندے کتنے پيار سے تکتے تھے ھم جب ان کے سامنے پاني رکھتے تھے موت ہميں اپني اّ غوش ميں چھپاتي تھي قبرستان ميں جا کر کھيلا کرتے تھے رستے ميں اِک ان پڑھ دريا پڑتا تھا جس سے گزر کر پڑھنے جايا کرتے تھے جيسے سورج اّ کر پياس بجھائے گا صبح سويرے ايسے پاني بھرتے تھے اُڑنا ھم کو اتنا اچھا لگتا تھا چڑياں پکڑ کر اُن کو چوما کرتے تھے تتلياں ہم پر بيٹھا کرتيں تھيں ھم پھولوں سے اتنے ملتے جلتے تھے ملي تھي يہ جواني ھم کو رستے ميں ھم تو گھر سے بچپن اوڑھ کے نکلے تھے بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے وہ خوشياں بھي جانے کيسي خوشياں تھيں تتلي کے پر نُوچ کے اُچھلا کرتے تھے مار کے پاؤں ہم بارش کے پاني ميں اپني ناؤ آپ ڈبويا کرتے تھے چھوٹے تھے تو مِکرو فريب بھي چھوٹے تھے دانہ ڈال کے چڑيا پکڑا کرتے تھے اب تو اِک آنسو بھي رُسوا کر جائے بچپن ميں جي بھر کے رُويا کرتے تھے خُوشبو کے اُڑتے ہي کيوں مرجھايا پھول کتنے بھولے پن سے پوچھا کرتے تھے کھيل کود کے دن بھر اپني ٹولي ميں رات کو ماں کي گُود ميں سويا کرتے تھے
August 17, 201114 yr ؟پتا نہیں وہ کون تھا پتا نہیں وہ کون تھا ؟ پتا نہیں وہ کون تھا جو میرے ہاتھ موتئے کی ڈال ، پنکھ مور کا تھما کے چل دیا پتا نہیں وہ کون تھا ہوا کے جھونکے کی طرح جو آیا اور گزر گیا نظر کو رنگ ، دل کو دکھ کی نکہتوں سے بھر گیا میں کون ہوں ؟ گزرنے والا کون تھا ؟ یہ پھول ، پنکھ کیا ہیں ، کیوں ملے ؟ یہ سوچتے ہی سوچتے ، تمام رنگ ایک رنگ میں اتر گئے ۔۔۔ سیاہ رنگ تمام نکہتیں ۔۔۔ اِدھر اُدھر بکھر گئیں ، خلاؤں میں یقین ہے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ گمان ہے وہ کوئی میرا دشمنِ قدیم تھا دِکھا کے جو سراب ، میری پیاس اور بھی بڑھا گیا میں بے حساب آرزوؤں کا شکار انتہائے شوق میں فریب اس کا کھا گیا گمان ہے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ یقین ہے وہ کوئی میرا دوست تھا ، جو دو گھڑی کے واسطے ہی کیوں نہ ہو نظر کو رنگ ، دل کو نکہتوں سے بھر گیا پتا نہیں کدھر گیا میں اس کو ڈھوندتا ہوا تمام کائینات میں اِدھر اُدھر بکھر گیا !
August 17, 201114 yr کوئی تو ھو جو مری وحشتوں کا ساتھی ھو دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ھو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ھو میں اس کے ھاتھ نہ آؤں وہ میرا ھوکر رھے میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ھو وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ھو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ھو وہ خواب دیکھے تو میرے حوالے سے میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ھو
August 17, 201114 yr ایک نظم حسب حال کچھ تنگی اوقات ہے ، کچھ تلخی حالات ہے ، کچھ لوگ بھی مہرباں نہیں، کچھ شجر تو ہیں اماں نہیں، کچھ بے وطنی بھی چھائی ہے ، کچھ دل نے آگ لگائی ہے، کچھ خود بھی اپنا پتہ نہیں، کچھ اہل شہر میں وفا نہیں، کچھ اپنے بھی بیگانے ہیں، کچھ دوست ہیں ، انجانے ہیں، کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں، کچھ ہم بھی کہتے ڈرتے ہیں، کچھ پاس کبھی کچھ دور بھلے ، کچھ ہم بھی یوں مجبور بھلے، کچھ وقت ملا تو بولیں گے ، کچھ لفظ جنوں کے تولیں گے،
August 17, 201114 yr دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو میں اس کے ہاتھ نہ آؤں وہ میرا ہو کے رہے میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ہو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ہو میں اپنے آپ کو دیکھوں وہ مجھ کو دیکھے جائے وہ میرے نفس کی گمراہیوں کا ساتھی ہو وہ خواب دیکھے تو دیکھے مرے حوالے سے مرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ہو
August 17, 201114 yr مسـکـــراتـی حـیـات مـانـگــی تـھـی غـم سـے نـجـات مـانـگـی تـھـی دیـنـے والــے یـہ بــرہــمـی کیــسی میـں نـے کـونــسی کـائـنـات مـانـگـی تـھی
Create an account or sign in to comment