Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے

ویرانیء دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے

ہاں تلخیء ایام ابھی اور بڑھے گی

ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے

منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا

دم ہے تو مُداوائے الم کرتے رہیں گے

مئےخانہ سلامت ہے تو ہم سرخیء مے سے

تزئیںِ دروبامِ حرم کرتے رہیں گے

باقی ہے لہو دل میں*تو ہر اشک سےپیدا

رنگِ لب و رخسارِ صنم کرتے رہیں گے

اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 303.5k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

خلا میں* غور سے دیکھوں

تو اک تصویر بنتی ہے

اور اس تصویر کا چہرہ

ترے چہرے سے ملتا ہے

وہی آنکھیں‘ وہی رنگت

وہی ہیں* خال و خد سارے

مری آنکھوں سے دیکھو تو

تجھے اس عکس کے چہرے پہ

اک تل بھی دکھائی دے

جو بالکل تیرے چہرے پہ

سجے اُس تل کے جیسا ہے

جو گہرا ہے

بہت گہرا

سمندر سے بھی گہرا ہے

کہ اس گہرائی میں اکثر

شناور ڈوب جاتا ہے

  • Author

خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے

بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے

وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے

مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے

اک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے

اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے

مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی

رہبر ہو تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے

کیا بیت گئی اب کے فراز اہلِ چمن پر

یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے

  • Author

ماں کی ممتا، چھاؤں گھنیری ،ٹھاٹھیں مارتی رحمت

ماں اک ایسی ہستی جس کے پاؤں تلے ہے جنت

ماں کی نظر میں چمکے ہر دم چاہت کا اک نور

خوش قسمت انسان وہی ہے ملی یہ جس کو راحت

ماں کی دعا سے ٹل جائے ہر ایک بلا ئے جان

ہاتھ دعا کو اٹھ جائیں تو مٹ جائے ہر وحشت

دنیا بھر کی خوِشیوں سے بھر جائے اس کا دامن

جس نے دل سے کی ہو اپنی پیاری ماں کی خدمت

ماں زندہ تو قدم قدم پر اس کی دعائیں ساتھ

اس کے دم سے گھر کے کونے کونے میں اک برکت

بعد خدا کے ہستی یہ وہ جو ٹھہری رحمن

انسانی رشتوں میں سب سے بڑھ کر ماں کی عظمت

ماں کا سایہ رہے سلامت مجھ پر اے عاطف

روز نظر یہ دیکھنا چاہے ماں کی پیاری صورت

  • Author

رات لمبی بھی ہے اور تاریک بھی

شب گزاری کا ساماں کرو دوستوں

جانے پھر کب یہ ملنا مقدر میں ہوں

اپنی اپنی کہانی کرو دوستوں

مجھ کو معلوم ہے تم بھی میری طرح

جان و دل کوہِ الفت میں ہار آئے ہو

اب یہ بازی سر سے ممکن نہیں

اپنا انجام خود سوچ لو دوستوں

  • Author

اک بار ہی چاہت کی سزا کیوں نہیں دیتے

زندہ ہوں تو مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتا

اک آگ جو بجھتی نہ بھڑکتی ہے زیادہ

اس آگ کو دامن کی ہوا کیوں نہیں دیتے

بچھڑے ہوئے لمحے بھی کبھی لوٹ کے آئے

بچھڑے ہوئے لمحوں کو بھلا کیوں نہیں دیتے

دریا میں پکارے چلے جاتے ہو ہمیشہ

صحراؤں میں ساون کو صدا کیوں نہیں دیتے

دیکھو نہ کئی یار بہت خوفزدہ ہیں

پل بھر کو چراغوں کو بجھا کیوں نہیں دیتے

  • Author

ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے

کہ ہم کو دستِ زمانہ کے زخم کاری لگے

اُداسیاں ہوں مسلسل، تو دِل نہیں روتا

کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے

بظاہر ایک ہی شب ہے، فراقِ یار مگر

کوئی گُزارنے بیٹھے تو عُمر ساری لگے

علاج، اِس دلِ درد آشنا کا کیا کیجئے؟

کہ تِیر بن کے جِسے حرفِ غمگُساری لگے

ہمارے پاس بھی بیٹھو، بس اِتنا چاہتے ہیں

ہمارے ساتھ طبیعت اگر تمہاری لگے

فراز تیرے جنُوں کا خیال ہے ورنہ

یہ کیا ضرور وہ صُورت سبھی کو پیاری لگے

  • Author

گزشتہ شب کی سیاہی بڑی گہری تھی

ہوائیں سرد، بے رحم، تند و تیز

بے ڈھب، بے ہنگم، بےترتتیب الفاظ پر مشتمل ایک پلندہ لئے

میں رات سے جھگڑنے والی

ان تند مزاج اکھڑ ہواؤں کے سامنے جا نکلا

کاغذوں لا وہ ڈھیر لئے، جن پر بیتے موسموں کے نقش کندہ تھے

درختوں پہ جھومتے پتے چونکے

پھر تالیاں بجا کر خیر مقدم کیا

شوخ ہواؤں نے سیٹیاں بجا کر حسبَ سابق مضحکہ اڑایا

جب میں نے

برسوں پرانی رات کی سسکیوں، سوکھے گلابوں اور خوابوں کو آگ دکھائی

شبَ تاریک کی سیاہی کو سرخ شعلوں سے منور کرنے کا عزم لے کر

یہ شعلے میرے خوابوں کی تعبیر تھے

ان کی حدت بڑی جان لیوا تھی

گزشتہ رات کی ٹھنڈک شدید تھی پھر بھی

ناتمام آرزوؤں، پچھتاووں اور پشیمانیوں کو جلا کر

میں گہری نیند سو گیا تھا

آنکھ کھلنے پر دیکھا

طوفانی ہوائیں

میرے گزرے برسوں کی راکھ لے کر جا چکی تھیں

میری گزشتہ رات کی دیوانگی سے بے خبر

مسکراتی شرماتی،اک نئی نویلی صبح میری منتظر تھی

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.