September 13, 201114 yr Author ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے جو دل پہ گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے ویرانیء دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے ہاں تلخیء ایام ابھی اور بڑھے گی ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا دم ہے تو مُداوائے الم کرتے رہیں گے مئےخانہ سلامت ہے تو ہم سرخیء مے سے تزئیںِ دروبامِ حرم کرتے رہیں گے باقی ہے لہو دل میں*تو ہر اشک سےپیدا رنگِ لب و رخسارِ صنم کرتے رہیں گے اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
September 13, 201114 yr Author خلا میں* غور سے دیکھوں تو اک تصویر بنتی ہے اور اس تصویر کا چہرہ ترے چہرے سے ملتا ہے وہی آنکھیں‘ وہی رنگت وہی ہیں* خال و خد سارے مری آنکھوں سے دیکھو تو تجھے اس عکس کے چہرے پہ اک تل بھی دکھائی دے جو بالکل تیرے چہرے پہ سجے اُس تل کے جیسا ہے جو گہرا ہے بہت گہرا سمندر سے بھی گہرا ہے کہ اس گہرائی میں اکثر شناور ڈوب جاتا ہے
September 13, 201114 yr Author خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے اک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی رہبر ہو تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے کیا بیت گئی اب کے فراز اہلِ چمن پر یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
September 13, 201114 yr Author ماں کی ممتا، چھاؤں گھنیری ،ٹھاٹھیں مارتی رحمت ماں اک ایسی ہستی جس کے پاؤں تلے ہے جنت ماں کی نظر میں چمکے ہر دم چاہت کا اک نور خوش قسمت انسان وہی ہے ملی یہ جس کو راحت ماں کی دعا سے ٹل جائے ہر ایک بلا ئے جان ہاتھ دعا کو اٹھ جائیں تو مٹ جائے ہر وحشت دنیا بھر کی خوِشیوں سے بھر جائے اس کا دامن جس نے دل سے کی ہو اپنی پیاری ماں کی خدمت ماں زندہ تو قدم قدم پر اس کی دعائیں ساتھ اس کے دم سے گھر کے کونے کونے میں اک برکت بعد خدا کے ہستی یہ وہ جو ٹھہری رحمن انسانی رشتوں میں سب سے بڑھ کر ماں کی عظمت ماں کا سایہ رہے سلامت مجھ پر اے عاطف روز نظر یہ دیکھنا چاہے ماں کی پیاری صورت
September 13, 201114 yr Author رات لمبی بھی ہے اور تاریک بھی شب گزاری کا ساماں کرو دوستوں جانے پھر کب یہ ملنا مقدر میں ہوں اپنی اپنی کہانی کرو دوستوں مجھ کو معلوم ہے تم بھی میری طرح جان و دل کوہِ الفت میں ہار آئے ہو اب یہ بازی سر سے ممکن نہیں اپنا انجام خود سوچ لو دوستوں
September 13, 201114 yr Author اک بار ہی چاہت کی سزا کیوں نہیں دیتے زندہ ہوں تو مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتا اک آگ جو بجھتی نہ بھڑکتی ہے زیادہ اس آگ کو دامن کی ہوا کیوں نہیں دیتے بچھڑے ہوئے لمحے بھی کبھی لوٹ کے آئے بچھڑے ہوئے لمحوں کو بھلا کیوں نہیں دیتے دریا میں پکارے چلے جاتے ہو ہمیشہ صحراؤں میں ساون کو صدا کیوں نہیں دیتے دیکھو نہ کئی یار بہت خوفزدہ ہیں پل بھر کو چراغوں کو بجھا کیوں نہیں دیتے
September 13, 201114 yr Author ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے کہ ہم کو دستِ زمانہ کے زخم کاری لگے اُداسیاں ہوں مسلسل، تو دِل نہیں روتا کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے بظاہر ایک ہی شب ہے، فراقِ یار مگر کوئی گُزارنے بیٹھے تو عُمر ساری لگے علاج، اِس دلِ درد آشنا کا کیا کیجئے؟ کہ تِیر بن کے جِسے حرفِ غمگُساری لگے ہمارے پاس بھی بیٹھو، بس اِتنا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ طبیعت اگر تمہاری لگے فراز تیرے جنُوں کا خیال ہے ورنہ یہ کیا ضرور وہ صُورت سبھی کو پیاری لگے
September 13, 201114 yr Author گزشتہ شب کی سیاہی بڑی گہری تھی ہوائیں سرد، بے رحم، تند و تیز بے ڈھب، بے ہنگم، بےترتتیب الفاظ پر مشتمل ایک پلندہ لئے میں رات سے جھگڑنے والی ان تند مزاج اکھڑ ہواؤں کے سامنے جا نکلا کاغذوں لا وہ ڈھیر لئے، جن پر بیتے موسموں کے نقش کندہ تھے درختوں پہ جھومتے پتے چونکے پھر تالیاں بجا کر خیر مقدم کیا شوخ ہواؤں نے سیٹیاں بجا کر حسبَ سابق مضحکہ اڑایا جب میں نے برسوں پرانی رات کی سسکیوں، سوکھے گلابوں اور خوابوں کو آگ دکھائی شبَ تاریک کی سیاہی کو سرخ شعلوں سے منور کرنے کا عزم لے کر یہ شعلے میرے خوابوں کی تعبیر تھے ان کی حدت بڑی جان لیوا تھی گزشتہ رات کی ٹھنڈک شدید تھی پھر بھی ناتمام آرزوؤں، پچھتاووں اور پشیمانیوں کو جلا کر میں گہری نیند سو گیا تھا آنکھ کھلنے پر دیکھا طوفانی ہوائیں میرے گزرے برسوں کی راکھ لے کر جا چکی تھیں میری گزشتہ رات کی دیوانگی سے بے خبر مسکراتی شرماتی،اک نئی نویلی صبح میری منتظر تھی
Create an account or sign in to comment