Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

My Poetry Collection

Featured Replies

  • Author

کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سے
مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی
کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشمِ حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی
نہیں جاتی متاعِ لعل و گوہر کی گراں یابی
متاعِ غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی
مری چشمِ تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
سرِ خسرو سے نازِ کجکلاہی چھن بھی جاتا ہے
کلاہِ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی
بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے؟
جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی
(فیض احمد فیض)

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 142
  • Views 17.8k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Story Maker
    Story Maker

    اب گناہ و ثواب بکتے ہیں مان لیجیے جناب بکتےہیں پہلے پہلے غریب بکتےتھے اب توعزت مآب بکتے ہیں بے ضمیروں کی راج نیتی میں جاہ و منصب،خطاب بکتےہیں شیخ،واعظ،وزیر اور شاعر سب یہاں پر جناب بکتے

  • Story Maker
    Story Maker

    Poet: جون ایلیا جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی سو گئی ہوگی وہ شفق اندام سبز قندیل جل رہی ہوگی سرخ اور سبز وادیوںک

  • Story Maker
    Story Maker

    اب کے سفر ھی اور تھا ، اور ھی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا ، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ ، شہر کے بام و دَر میں تھا نگلے ھوئے سوال تھے ، اُگلے ھوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی ,

  • Author

لب خاموش سے افشا ہوگا
راز ہر رنگ میں رسوا ہوگا
دل کے صحرا میں چلی سرد ہوا
ابر گلزار پہ برسا ہوگا
تم نہیں تھے تو سر بام خیال
یاد کا کوئی ستارہ ہوگا
کس توقع پہ کسی کو دیکھیں
کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا
زینت حلقۂ آغوش بنو
دور بیٹھوگے تو چرچا ہوگا
جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم
اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا
آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی
آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا
کس قدر کرب سے چٹکی ہے کلی
شاخ سے گل کوئی ٹوٹا ہوگا
عمر بھر روئے فقط اس دن
رات بھیگی تو اجالا ہوگا
ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے
کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا

  • Author

‏ہم ہی تھے جو تیرے آنے تلک جلے ـــــ ورنہ
سبھی چراغ ـــــــــ سرِ رہگزر نہ تھے ایسے
انتخاب :جاسم نور

  • Author

جانے اس کی جدائی کیا ہو گی 
جس کا ملنا ہی حادثہ ہے مجهے

  • Author

کتنا دشوار ھے فطرت کا بدلنا....
لوگ کعبە گئے پر دل سے برائی نە گئ...

📢 Post Your Ad Here
  • Author

Fursat ma yad kArna hova tu kbi na karna yad hum ko.
<Usman $>
hum tanha zoror hen magar fazool ne.......

  • Author

حسابِ عشق دیکھا عجب دیکھا غضب دیکھا
سب نفی، تجھے واحد خود کو صفر دیکھا

  • Author

تیز تھی اتنی کہ سارا شہر سُونا کر گئی
دیر تک بیٹھا رہا میں اُس ہوا کے سامنے
رات اِک اُجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی
گونج اُٹھّے بام و دَر میری صدا کے سامنے
یاد بھی ہیں اے منیر اُس شام کی تنہائیاں
ایک میداں، اکِ درخت اور تُو خُدا کے سامنے
منیر نیازی

  • Author

ﻭﮦ ﺟﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ
ﺑﺲ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻡ ﻧﮧ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﮮ ﺗﮭﮯ
ﺗﮭﮯ ﮔﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩ ﺑﺎﺩ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ
ﺁﺝ ﮨﻢ ﺭﻧﮓ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ
ﺻﺮﻑ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻃﻨﺰ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﻢ ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺍﺭﮮ ، ﺳﻨﻮﺍﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ
ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﻣﮕﺮ
ﮨﻢ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ

  • Author

اقبال ؒ! ترے دیس کا کیا حال سناﺅں
دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاﺅں
ملتا ہے کہاں خوشہءگندم کہ جلاﺅں
شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا
کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاﺅں
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہر اک آنکھ میں شہتیر
مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں
اب ذوقِ یقیں سے کٹتی نہیں کوئی زنجیر
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
شاہیں کا جہاں آج کرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی مُلّا سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
مر مر کی سلوں سے کوئی بیزار نہیں ہے
رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے، لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے
اس بندہ مومن کو میں اب لاﺅں کہاں سے
!وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو
اک بار تھا ہم چھٹ گئے اس بارِ گراں سے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے
اگتے ہیں تہِ سایہ گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تنِ خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے
جمہور سے سلطانی جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا
مر مر کے جئے ہے کبھی جی، جی کے مرے ہے
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
دیکھو تو ذرا محلوں کے پردوں کو اٹھا کر
شمشیر و سناں رکھی ہے طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ رنگیلے
تقدیرِ امم سو گئی طاﺅس پہ آ کر
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
مکاری و عیاری و غداری و ہیجان
اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو!
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں
(امیر الاسلام ہاشمی)

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.