December 25, 20169 yr Author کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسنِ دو عالم سے مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا مگر یہ چشمِ حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی نہیں جاتی متاعِ لعل و گوہر کی گراں یابی متاعِ غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی مری چشمِ تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی سرِ خسرو سے نازِ کجکلاہی چھن بھی جاتا ہے کلاہِ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے؟ جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی (فیض احمد فیض)
December 25, 20169 yr Author لب خاموش سے افشا ہوگا راز ہر رنگ میں رسوا ہوگا دل کے صحرا میں چلی سرد ہوا ابر گلزار پہ برسا ہوگا تم نہیں تھے تو سر بام خیال یاد کا کوئی ستارہ ہوگا کس توقع پہ کسی کو دیکھیں کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا زینت حلقۂ آغوش بنو دور بیٹھوگے تو چرچا ہوگا جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا کس قدر کرب سے چٹکی ہے کلی شاخ سے گل کوئی ٹوٹا ہوگا عمر بھر روئے فقط اس دن رات بھیگی تو اجالا ہوگا ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا
December 25, 20169 yr Author ہم ہی تھے جو تیرے آنے تلک جلے ـــــ ورنہ سبھی چراغ ـــــــــ سرِ رہگزر نہ تھے ایسے انتخاب :جاسم نور
December 25, 20169 yr Author Fursat ma yad kArna hova tu kbi na karna yad hum ko. <Usman $> hum tanha zoror hen magar fazool ne.......
December 25, 20169 yr Author تیز تھی اتنی کہ سارا شہر سُونا کر گئی دیر تک بیٹھا رہا میں اُس ہوا کے سامنے رات اِک اُجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی گونج اُٹھّے بام و دَر میری صدا کے سامنے یاد بھی ہیں اے منیر اُس شام کی تنہائیاں ایک میداں، اکِ درخت اور تُو خُدا کے سامنے منیر نیازی
December 25, 20169 yr Author ﻭﮦ ﺟﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﺲ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻡ ﻧﮧ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﮮ ﺗﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﮔﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﺩ ﺑﺎﺩ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺑﮑﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﮨﻢ ﺭﻧﮓ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻃﻨﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮧ ﺳﻨﻮﺍﺭﮮ ، ﺳﻨﻮﺍﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﮐﺌﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ
December 25, 20169 yr Author اقبال ؒ! ترے دیس کا کیا حال سناﺅں دہقان تو مر کھپ گیا اب کس کو جگاﺅں ملتا ہے کہاں خوشہءگندم کہ جلاﺅں شاہین کا ہے گنبدِ شاہی پہ بسیرا کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاﺅں اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں ہر داڑھی میں تنکا ہے، ہر اک آنکھ میں شہتیر مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر توحید کی تلوار سے خالی ہیں نیامیں اب ذوقِ یقیں سے کٹتی نہیں کوئی زنجیر اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں شاہیں کا جہاں آج کرگس کا جہاں ہے ملتی ہوئی مُلّا سے مجاہد کی اذاں ہے مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور شاہیں میں مگر طاقتِ پرواز کہاں ہے اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں مر مر کی سلوں سے کوئی بیزار نہیں ہے رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے، لیکن دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے اس بندہ مومن کو میں اب لاﺅں کہاں سے !وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو اک بار تھا ہم چھٹ گئے اس بارِ گراں سے اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے اگتے ہیں تہِ سایہ گل خار غضب کے یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی اس کے تنِ خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے جمہور سے سلطانی جمہور ڈرے ہے تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا مر مر کے جئے ہے کبھی جی، جی کے مرے ہے اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں دیکھو تو ذرا محلوں کے پردوں کو اٹھا کر شمشیر و سناں رکھی ہے طاقوں پہ سجا کر آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ رنگیلے تقدیرِ امم سو گئی طاﺅس پہ آ کر اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں مکاری و عیاری و غداری و ہیجان اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو! اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا مومن سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن اقبالؒ! تیرے دیس کا کیا حال سناﺅں (امیر الاسلام ہاشمی)
Create an account or sign in to comment