December 25, 20169 yr Author عشق کیا چیز ہے یہ پوچھئیے پروانے سے زندگی جس کو میسر ہوئی جل جانے سے موت کا خوف ہو کیا عشق کے دیوانے کو موت خود کانپتی ہے عشق کے دیوانے سے
December 25, 20169 yr Author تمہاری صبح حسین ہو رخ ِ سحر کی طرح تمہاری رات ہو روشن شبِ قمر کی طرح کوئی پوچھے جو جنت کا تو یہ کہہ سکو ہنس کر وہ بھی خوب جگہ ہے ہمارے گھر کی طرح
December 25, 20169 yr Author میں تنہائی کا حاصل ہو گیا ہوں بھری دنیا میں شامل ہو گیا ہوں اُسے آساں سمجھ لینے کی دُھن میں میں اپنے آپ مشکل ہو گیا ہوں بہت پتھر بنا ہوں ٹوٹنے کو مگر اک چوٹ سے دل ہو گیا ہوں
December 25, 20169 yr Author شامِ غم جب بکھر گئی ہو گی جانے کس کس کے گھر گئی ہو گی؟ اِتنی لرزاں نہ تھی چراغ کی لَو اپنے سائے سے ڈر گئی ہو گی چاندنی ایک شب کی مہماں تھی صبح ہوتے ہی مَر گئی ہو گی دیر تک وہ خفا رہے مجھ سے دُور تک یہ خبر گئی ہو گی ایک دریا کے رُخ بدلتے ہی اِک ندی پھر اُتر گئی ہو گی جس طرف وہ سفر پہ نکلا تھا ساری رونق اُدھر گئی ہو گی رات سورج کو دھونڈنے کے لیے تا بہ حدِّ سحر گئی ہو گی میری یادوں کی دھوپ چھاؤں میں اُس کی صورت نکھر گئی ہو گی یا تعلّق نہ نبھ سکا اس سے یا طبیعت ہی بھر گئی ہو گی تیری پل بھر کی دوستی محسنؔ اُس کو بدنام کر گئی ہو گی (محسن نقوی)
December 25, 20169 yr Author تُو نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے.... تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے فیض
December 25, 20169 yr Author ہم کافروں کی مشقِ سخن ہائے گُفتَنی اُس مرحلے پہ آئی کہ اِلہام ہو گئی دُنیا کی بےاُصول عداوت تو دیکھیے ہم بُوالہوس بنے تو وفا عام ہو گئی کل رات، اُس کے اَور مِرے ہونٹوں میں تیرا عکس اَیسے پڑا کہ رات تِرے نام ہو گئی (مصطفیٰ زیدی از قبائے سَاز )
December 25, 20169 yr Author محبتوں میں خسارہ عجیب لگتا ہے ہمیں " دُعــــا "کا سہارا عجیب لگتا ہے شعورِ موسمِ ہجر و وصال رکھتے ہیں سو عِشق سارے کا سارا عجیب لگتا ہے کبھی تمہاری طلب بےقرار رکھتی تھی اور اب تو زکر تمہارا عجیب لگتا ہے ہمارے دل نے ارادہ تو کر لیا لیکن ابھی سفر کا ستارہ عجیب لگتا ہے کبھی چراغ جلائے تھے جس کے پانی پہ وہ جھیل اور وہ کنارہ عجیب لگتا ہے نوشی گیلانی
December 25, 20169 yr Author دل میں کوئی چراغ جلایا نہیں گیا خود کو بھی حالِ دل سنایا نہیں گیا تو خواب تھا سو دل میں سماتا بھی کسطرح آنکھوں میں آ گیا پھر چھپایا نہیں گیا ،، آواز دے کے تجھ کو چاہا تھا روک لوں لب ہل سکے نہ ،،، مجھ سے بلایا نہیں گیا ، تو بھی بچھڑ کے مجھ سے کیسے بدل گیا مجھ سے بھی اپنی ذات میں آیا نہیں گیا تو نے بھلا دیا ہے مگر یار دیکھ لے مجھ سے تو تیرا غم بھی بھلایا نہیں گیا ،، اک دشت میرے پیر سے لپٹا رہا سدا ،، اک میں تھا دشت میں بھی سمایا نہیں گیا گھبرا گیا تھا راستے کی تلخیوں سے وہ ،، میں اسکو چھوڑ کر یوں خدایا نہیں گیا ،،
December 25, 20169 yr Author محبت کا ارادہ بدل جانا بھی مشکل ہے.... تمھیں کھونا بھی مشکل ہے تمھیں پانا بھی مشکل ہے.... اداسی تیرے چہرے کی گوارہ بھی نہیں لیکن.... تیری خاطر ستارے توڑ کے لانا بھی مشکل ہے.... ذرا سی بات پر آنکھیں بھگو کے بیٹھ جاتے ہو.... تمھیں تو اپنے دل کا حال بتانا بھی مشکل ہے....
December 25, 20169 yr Author ﺟﻮ "ﮨﻢ ﭘﮧ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﮭﮯ ﺭﻧﺞ ﺳﺎﺭﮮ" ﻭﮦ "ﺧﻮﺩ ﭘﮧ ﮔﺰﺭﮮ" ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺟﺐ "ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ" کے"ﻋﺬﺍﺏ ﺟﮭﯿﻠﮯ" ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺟﻦ "ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺅﮞ" ﻣﯿﮟ ﺳﮯ "ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎ ﺩﯾﺎ" ﺗﮭﺎ ﺍﻧﮩﯽ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﺳﮯ "ﺍﮔﻠﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﺟﻮ ﭘﮭﻞ ﻧﮧ ﺍﺗﺮﮮ" ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﻭﮦ "ﮔﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﮎ ﺿﻌﯿﻒ ﺩﮨﻘﺎﮞ" "ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺑﻨﻨﮯ" ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺧﻔﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ "ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ" ﺟﻮ ﺷﮩﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ "ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﻟﻮﭨﮯ" ﺗﻮ لوگ سمجھے
Create an account or sign in to comment