Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

My Poetry Collection

Featured Replies

  • Author


ﻓُﻀﻮﻝ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﮯ ﺻﻔﺤﺎﺕ ﺑﮭﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺍَﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺍِﻟﮩﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﺍَﮔﺮ ، ﻣﮕﺮ ، ﻧﮩﯿﮟ ، ﮨﺮﮔﺰ ﮐﯽ ﮐﻨﺪ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﺳﮯ
ﺍَﻧﻮﮐﮭﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﭘَﺮ ، ﺷَﺮ ﮐﺘﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻧﮕﺮﯼ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺎﻟﯽ ﮨُﻮﮞ
ﻟﮕﺎﺋﮯ ﭘﻮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﮈَﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺍُﮌﺍ ﺩﯼ ﮐﮧ ’’ ﺩِﻥ ﻣﻌﯿﻦ ﮨﮯ ‘‘
ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯ ﻣﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﻣﺮﮮ ﻭُﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﺍَﺷﮑﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﻧﺪﮪ ﺭَﮐﮭﺎ ﮨﮯ
ﺫِﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺧﺸﮏ ﺭَﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﮑﮭﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﺩُﻋﺎ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺍُﭨﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﭘﮧ ﺣﺮﻑ ﺍٓﺗﺎ
ﺍَﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺳﺴﺘﯽ ﭘﮧ ﺍِﻟﺰﺍﻡ ﺩَﮬﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺣُﺴﻦ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺭُﻋﺐ ﺍِﺱ ﻗَﺪَﺭ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺷﻌﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺍٓﮔﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ’’ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ‘‘
ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﮑﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﺍُﺩﮬﻮﺭﮮ ﻗﺼﮯ ﮐﺌﯽ ﮐﺎﻧﺪﮬﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﺍ
ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻨﮉﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍَﮐﺜﺮ ﭨﮭﮩﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﺍ ﺍٓﺋﯿﻨﮧ ﮨﯿﮟ ، ﺍُﻥ ﮐﮯ ﻃﻔﯿﻞ
ﻣﯿﮟ ﺍَﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍَﻧﺪﺭ ﺍُﺗﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨُﻮﮞ ﻗﯿﺲؔ
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﮩﮧ ﮐﮯ ’’ ﺳﺪﮬﺮ ﺟﺎ ‘‘ ، ﺳﺪﮬﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨُﻮﮞ
(ﺷﮩﺰﺍﺩ ﻗﯿﺲ)

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 142
  • Views 17.7k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Story Maker
    Story Maker

    اب گناہ و ثواب بکتے ہیں مان لیجیے جناب بکتےہیں پہلے پہلے غریب بکتےتھے اب توعزت مآب بکتے ہیں بے ضمیروں کی راج نیتی میں جاہ و منصب،خطاب بکتےہیں شیخ،واعظ،وزیر اور شاعر سب یہاں پر جناب بکتے

  • Story Maker
    Story Maker

    Poet: جون ایلیا جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی سو گئی ہوگی وہ شفق اندام سبز قندیل جل رہی ہوگی سرخ اور سبز وادیوںک

  • Story Maker
    Story Maker

    اب کے سفر ھی اور تھا ، اور ھی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا ، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ ، شہر کے بام و دَر میں تھا نگلے ھوئے سوال تھے ، اُگلے ھوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی ,

  • Author

اُس نے مجھے سلام کِیا لام کے بغیر
یہ بد دعا تھی مجھ کو مِرے نام کے بغیر
ھر روز ماں کے چہرے کو تکتا ھوں پیار سے‫
ھر روز حج میں کرتا ھوں احرام کے بغیر‫
مَیں ھوں کہ میری آنکھ میں آنسو ہیں صبح صبح
دنیا دِئیے جلاتی نہیں شام کے بغیر
ساقی یہ تیری مست نگاہی کا فیض ھے
پِیتا‫ ھوں میں شراب کسی جام کے بغیر
گیلانی ایسے دوست کا بے دام ہوں غلام
مجھ سے جو ملنے آئے کسی کام کے بغیر
(سید سلمان گیلانی)

  • Author

کیسے کہہ دوں کہ بدلتے ہوئے موسم تم ہو
بے وفا وقت بھی اتنا نہیں جتنے تم ہو
آو اِس بار کسی شخص کو ضامِن کر لیں
میرے نزدیک تو ہر بار بدلتے تم ہو

  • Author

Kaha Tha Na K Yon Sote Hue Mat Chor K Jana
Mujhe Beshak Jaga Dena Bata Dena 

Tumhain Rasta Badlna Hai Meri Had Se Nikalna Hai 
To Tumhain Kis Bat Ka Dar Tha 

Main Tumhain Jane Nahi Deta Kahin Pe Qaid Kar Leta 
Ary Pagal Mohabbt ki Tabiyat Me Zabrdasti Nahi Hoti 

Jise Rasta Badlna Ho Usy Rasta Badlne Se 
Jise Had Se Nikalna Ho Usy Had Se Nikalne Se 
Na Koi Rok PAaya Hai 
Na Koi Rok PAaye Ga

To Tumhain Kis Bat Ka Dar Tha
Muje Beshak Jaga Dete 
Main Tumhain Dekh Hi Leta 

Tumhain Koi Dua Deta Kam Iz Kam Yon To Na Hota 
Mere Sathi Ye Haqiqat Hai Tumhare Bad Khone K Liye Kuch Bhi Nahi Baki

Mgr Main Khone Se Darta Hon
Main Ab Sone Se Darta Hon

  • Author

کس کس کی چاہ کیجیے کس کس کی آرزو
اک دل ہزا ر غم میں گرفتار ہو گیا _____!!

داغ دہلوی

📢 Post Your Ad Here
  • Author

دل کیا ملاؤ گے کہ ہمیں ہو گیا یقین
تم سے تو خاک میں بھی ملایا نہ جائے گا _____!!

داغ دہلوی

  • Author

میر تقی میر 

جُھوٹے بھی، پُوچھتے نہیں ٹُک حال آن کر
انجان اِتنے کیوں ہُوئے جاتے ہو ، جان کر

وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دِئے
پیدا کِیے تھے چرخ نے، جو خاک چھان کر

جُھمکے دِکھا کے باعثِ ہنگامہ ہی رہے !
پر گھر سے در پہ آئے نہ تم، بات مان کر

کہتے نہ تھے کہ جان سے جاتے رہیں گے ہم 
اچھّا نہیں ہے, آ نہ ہمیں اِمتحان کر 

کم گو جو ہم ہُوئے، تو سِتم کُچھ نہ ہوگیا 
اچھّی نہیں یہ بات ، مت اِتنی زبان کر 

ہم وے ہیں، جن کے خُوں سے تِری راہ سب ہے گُل
مت کر خراب ہم کو تُو اوروں میں سان کر 

تا، کُشتۂ وَفا مجھے جانے تمام خلق
تُربت پہ میری، خُون سے میرے نِشان کر

ناز و عِتاب و خَشْم کہاں تک اُٹھائیے 
یا رب! کبھو تو ہم پہ اُسے مہربان کر 

افسانے ما و مَن کے سُنیں میر، کب تلک
چل اب کہ سوویں, منہ پہ دوپٹّے کو تان کر

میر تقی میر 
..................

  • Author

کسی حال میں نہیں ہوں کوئی حال اب نہیں ہے
جو گئی پلک تلک تھا وہ خیال اب نہیں ہے

میں سکون پا سکوں گا یہ گماں بھی کیوں کیا تھا
ہے یہی ملال کیا کم کہ ملال اب نہیں ہے

نہ رہے اب اس کے دل میں خلشِ شکستِ وعدہ
کہ یہاں کوئی حسابِ مہ و سال اب نہیں ہے

یہ دیارِ دید کیا ہے گئے دشتِ دل سے بھی ہم
کہ ختن زمین میں بھی وہ غزال اب نہیں ہے

جو لیے لیے پھری ہے تجھے روز اک نگر میں
مرے دل ترے نگر میں وہ مثال اب نہیں ہے

لبِ پُر سوال لے کے ہمیں کُو بہ کُو ہے پھِرنا
ہو کوئی جواب بر لب یہ سوال اب نہیں ہے

  • Author

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے 
اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
تجکو رسوا نہ کیا اور خود بھی پشیماں نہ ہوئے 
عشق کی رسم کو اس طرح نبھایا ہم نے
کب ملی تھی کہاں بچھڑی تھی ہمیں یاد نہیں 
زندگی تجھکو تو بس خواب دیکھا ہم نے
اے ادا اور سنائیں بھی تو کیا حال اپنا 
عمر کا لمبا سفر طے کیا تنہا ہم نے

  • Author

پیار سے بڑھ کر نہیں دنیا میں کوئی روشنی
پی گئے یہ روشنی تو آئینہ ہو جاؤ گے
گفتگو میٹھی کرو، ہرشخص سے جھک کر ملو
دشمنوں کے واسطے بھی دِلربا ہو جاؤ گے

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.