Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

My Poetry Collection

Featured Replies

  • Author

ھم تم ھوں گے بادل ھو گا
رقص میں سارا جنگل ھو گا
وصل کی شب اور اتنی کالی
ان آنکھوں میں کاجل ھو گا
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﮐﯽ ھﮯ
ﺩﺷﺖ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺟﻞ ﺗﮭﻞ ھﻮ ﮔﺎ
ﺗﯿﻎِ ﻧﻈﺮ ﺳﮯ ﮈﺭﻧﺎ ﮐﯿﺴﺎ ؟
ﺩﻝ ﭘﮧ ﻭﺍﺭ ﻣﺴﻠﺴﻞ ھﻮ ﮔﺎ
کس نے کیا مہمیز ھوا کو ؟؟
شاید ان کا آنچل ھو گا
پیار کی راہ پہ چلنے والو
رستہ سارا دلدل ھو گا
ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ھﻮ ﮔﯽ
ﺑﮭﻮﻻ ﺑﮭﺎﻻ ﺳﺎﻧﻮﻝ ھﻮ ﮔﺎ
کیا ملنا فاروق سے لوگو
ھو گا کوئی پاگل ھو گا
(فاروق روکھڑی)

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 142
  • Views 17.7k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Story Maker
    Story Maker

    اب گناہ و ثواب بکتے ہیں مان لیجیے جناب بکتےہیں پہلے پہلے غریب بکتےتھے اب توعزت مآب بکتے ہیں بے ضمیروں کی راج نیتی میں جاہ و منصب،خطاب بکتےہیں شیخ،واعظ،وزیر اور شاعر سب یہاں پر جناب بکتے

  • Story Maker
    Story Maker

    Poet: جون ایلیا جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی سو گئی ہوگی وہ شفق اندام سبز قندیل جل رہی ہوگی سرخ اور سبز وادیوںک

  • Story Maker
    Story Maker

    اب کے سفر ھی اور تھا ، اور ھی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا ، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ ، شہر کے بام و دَر میں تھا نگلے ھوئے سوال تھے ، اُگلے ھوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی ,

  • Author

???????????
دعاؤں میں یا رب اثر چاہتا ہوں
میں تیری ہی سیدھی ڈگر چاہتا ہوں
نہ شہرت کی خواہش نہ زر چاہتا ہوں
میں جنت کے لعل و گہر چاہتا ہوں
یہ دنیا سفر ہے مسلسل سفر ہے
مسافر ہوں زادِ سفر چاہتا ہوں
ملے جس کا ثمرہ مجھے آخرت میں
الہی میں ایسا شجر چاہتا ہوں
میں ظلمت میں بھٹکا ہوا اک پرندہ
بہت تھک گیا ہوں سحر چاہتا ہوں
ترے دین کی سر بلندی کی خاطر
میں حضرت عمر کا جگر چاہتا ہوں
ترے در پہ جھک کر جو اٹھے نہ ہرگز
میں ایسی جبیں ایسا سَر چاہتا ہوں
???????????. محمدعمران

  • Author

ﮐﺮﺏ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ مہ ﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﮬﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﺁﺝ ﻓُﺮﺻﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﻈﻢ ﮐﯽ ﺗﻤﮩﯿﺪ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ
ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﺟِﺴﻢ ﮐﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮨﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺳﺮﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ
ﮔﺮﻡ ﺳُﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮈﺑﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﺑﺞ ﮔﺌﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺩﻭ، ﺍﺏ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﺭﮨﮯ
ﺁﺝ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﻥ ﺍﻭﮌﮪ ﮐﮯ ﺳﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﻧﺮﻡ ﺩﮬﺎﮔﮯ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﭩﮑﯽ ﻣﯿﮟ
ﺳﺨﺖ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﻮﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﭘُﺮﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍِﺗﻨﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺗﻮ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﭼﮩﺮﮮ
ﮔﺮﺩﺁﻟﻮُﺩ ﮨﮯ ﺁﺋِﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ
ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﺯﺩﮦ ﺟِﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮨﯿﮟ ﻟﻮﮒ
ﺍِﺱ ﺍَﻟﻤﯿﮯ ﭘﮧ ﮨﻨْﺴﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ
(ﺷﺎﮨﺪ ﮐﺒﯿﺮ)

  • Author

دل ناداں کو دھڑکنے کا بہانہ دیدے
میرے مولا کوئ موسم تو سہانہ دیدے
انکو تہزیب کے ورثوں سے کہاں دلچسپی
نئ نسلوں کو کوئ خواب پرانا دیدے
یہ ہوس زادوں کی بستی ہے الہی سن لے
ادھ کھلی کلیوں کو محفوظ ٹھکانا دیدے
جس طرف دیکھے اک عالم مایوسی ہے
فتح کا تو میرے ہونٹوں کو ترانا دیدے
مجھکو درکار نہیں درہم و دینار خدا
علم و عرفان کا تو مجھکو خزانا دیدے
اب بھی موجود گھررں میں ہیں بتان آزر
اپنے بنذوں کو تو وحدت کا ترانہ دیدے
افق فریدی دہلی

  • Author

یوں بہت ہنس کے ملا تھا لیکن
دل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسے

📢 Post Your Ad Here
  • Author

چنگاریاں نہ ڈال میرے دل کے گھاؤ میں
میں خود ہی جل رہا هوں دکھوں کے الاؤ میں
ھے کوئی اہلِ دل جو خریدے میرا مزاج
میں زخم بیچتا ھـوں محبّت کے بھاؤ میں

  • Author

ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
چال جیسے کڑی کمان کا تیر
دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
نہ سنو اگر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
کس کی حاجت روا کرے کوئی
کیا کِیا خضر نے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

  • Author

??????????
*تُو کُجا مَن کُجا*
تو امیرِ حرم، میں فقیرِعجم
تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
تو ابد آفریں، میں ہوں دو چار پل
تو یقیں میں گماں، میں سخن تُو عمل
تو ہے معصومیت میں نری معصیت
تو کرم میں خطا، تو کجا من کجا
تو ہے احرامِ انوار باندھے ہوئے
میں درودوں کی دستار باندھے ہوئے
کعبۂ عشق تو، میں ترے چار سو
تو اثر میں دعا، تو کجا من کجا
تو حقیقت ہے میں صرف احساس ہوں
تو سمندر، میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں
میرا گھر خاک پر اور تری رہگزر
سدرۃ المنتہیٰ، تو کجا من کجا
میرا ہر سانس تو خوں نچوڑے مرا
تیری رحمت مگر دل نہ توڑے مرا
کاسۂ ذات ہوں، تیری خیرات ہوں
تو سخی میں گدا، تو کجا من کجا
ڈگمگاٰؤں جو حالات کے سامنے
آئے تیرا تصور مجھے تھامنے
میری خوش قسمتی، میں ترا اُمتی
تو جزا میں رضا، تو کجا من کجا
میرا ملبوس ہے پردہ پوشی تری
مجھ کو تابِ سخن دے خموشی تری
تو جلی میں خفی، تو اٹل میں نفی
تو صلہ میں گلہ، تو کجا من کجا
دوریاں سامنے سے جو ہٹنے لگیں
جالیوں سے نگاہیں لپٹنے لگیں
آنسوؤں کی زباں ہو میری ترجماں
دل سے نکلے سدا، تو کجا من کجا
تو امیر ِحرم، میں فقیرِعجم
تیرے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا، میں خطا ہی خطا
تو کجا من کجا،تو کجا من کجا
*شاعر مظفر وارثی*
??????????

  • Author

شام کا دلفریب منظر هے
ہاں..پر عالم تری جدائی کا 
کوئی آہٹ کہیں سنائی دے 
دل میں کوئی گمان تو گزرے
ذندگی مختصر سفر میں هے.

  • Author

میں نے لمحوں میں صدیوں کی اذیّت پائی۔۔۔
اپنے احساس کو چند رشتوں کے حوالے کر کے

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.