Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

My Poetry Collection

Featured Replies

  • Author

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
بے باقی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن
مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن 
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو
وہ رزق بڑے شوق سے کھاتا ہے مومن 
کردار کا گفتار کا عمل کا مومن
قائل نہیں ایسے کسی خنجال کا مومن 
سرحد کا ہے مومن کوئی پنجاب کا مومن
ڈھونڈنے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن 
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤ

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 142
  • Views 17.7k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Story Maker
    Story Maker

    اب گناہ و ثواب بکتے ہیں مان لیجیے جناب بکتےہیں پہلے پہلے غریب بکتےتھے اب توعزت مآب بکتے ہیں بے ضمیروں کی راج نیتی میں جاہ و منصب،خطاب بکتےہیں شیخ،واعظ،وزیر اور شاعر سب یہاں پر جناب بکتے

  • Story Maker
    Story Maker

    Poet: جون ایلیا جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی سو گئی ہوگی وہ شفق اندام سبز قندیل جل رہی ہوگی سرخ اور سبز وادیوںک

  • Story Maker
    Story Maker

    اب کے سفر ھی اور تھا ، اور ھی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا ، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ ، شہر کے بام و دَر میں تھا نگلے ھوئے سوال تھے ، اُگلے ھوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی ,

  • Author

ﻧﮧ ﻭﮦ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ، ﻧﮧ ﻭﮦ ﺣﺴﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﯿﮟ ﺷﻮﺧﯿﺎﮞ
ﻧﮧ ﻭﮦ ﻏﺰﻧﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭖ ﺭﮨﯽ، ﻧﮧ ﻭﮦ ﺧﻢ ﮨﮯ ﺯﻟﻒِ ﺍﯾﺎﺯ ﻣﯿﮟ
ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﺑﮧ ﺳﺠﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﺒﮭﯽ، ﺗﻮ ﺯﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺻﺪﺍ
ﺗﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﻮ ﮨﮯ ﺻﻨﻢ ﺁشنا،..... ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ
________________
(علامہ محمد اقبال)

  • Author

بہت امید رکھنا بھی، اور پھر بے آس ہونا بھی
بشر کو مار دیتا ہے بہت حسّاس ہونا بھی
بہت سے قلب رک جاتے ہیں خوشیوں کی خبر پا کر
ہمیں تو خوب جچتا ہے غموں کا راس ہونا بھى!

  • Author

ہارٹ اٹیک
درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے
ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بُنِ مُو سے ٹپکنا چاہا
اور کہیں دور ترے صحن میں گویا
پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کر
حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا
میرے ویرانہء تن میں گویا
سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کُھل کر
سلسلہ وار پتا دینے لگیں
رخصتِ فاصلہء شوق کی تّیاری کا
اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی ، مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا
فیض احمد فیض

  • Author

تُم جَو ہَنستی ہَو تَو پُھولُوں کی اَدا لَگتی ہَو،
اَور چَلتی ہَو تَو اِک بادِ صَبا لَگتی ہَو،
دَونُوں ہاتُھوں میں چُھپا لَیتی ہَو اَپنا چَہرہ،
مَشرِقی حُور ہَو دُلہَن کی حَیا لَگتی ہَو،
کُچھ نہ کَہنا مَیرے کَندھے پہ جُھکا کَر سَر کَو،
کِتنی مَعصُوم ہَو،تَصوِیرِ وَفا لَگتی ہَو،
بات کَرتی ہَو تَو ساگَر سے کَھنَک جاتے ہیں،
لَہَر کا گِیت ہَو،کَوئل کی صَدا لَگتی ہَو،
کِس طَرف جاؤ گی زُلفُوں کے یہ بادَل لے کَر،
آج مَچلی ہُوئی ساوَن کی گَھٹا لَگتی ہَو،
تُم جِسے دَیکھ لَو،اُسے پِینے کی ضَرُورَت کَیا ہے...؟
زِندگی بَھر جَو رَہے،اَیسا نَشہ لَگتی ہَو،
مَیں نے مَحسُوس کِیا تُم سے یہ باتَیں کَر کے،
تَم زَمانے میں زَمانے سے جُدا لَگتی ہَو...!
♻??♻

📢 Post Your Ad Here
  • Author

ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻓﻌﻞِ ﺣﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﮈﻭ، ﮈﺯ ﮐﯽ ﺑﻮﻝ ﭼﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﻭﮦ ﺳﺎﮌﮬﯽ، ﺟﯿﻮﻟﺮﯼ ﮐﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﭘﮧ ﺗﮭﯽ‎ ‎ﺑﻀﺪ
ﮨﻢ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﺷﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﺌﯽ
ﺟﻮ "ﻧﺮﺱ ﻭ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ "ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﮐﻮﺩﮮ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺷﯿﺮ‎ ‎ﺩﻝ
ﮨﻢ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﯽ ﻭﺍﻝ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﻧﻘﺎﺩ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺎﺑﺠﺎ
ﺟﻮ "ﺭﯾﻨﭻ ﻭ ﺭﯾﮕﻤﺎﻝ" ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﻓﺮﮨﺎﺩ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﭘﭩﻮﺍﺭﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﮯ
ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﺳﮯ ﺁ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﺩﯾﻮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﻭﮦ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺧﻮﺍﺹ
ﺟﻮ ﮐﯿﮑﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﻝ ﺳﮯ ﺁ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﻏﯿﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻓﻮﻥ ﭘﮧ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﻟﮕﺎﺋﯽ‎ ‎ﮔﭗ
ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﮉ ﮐﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
ﻣﺮﻏﮯ ﮐﯽ ﺭﭦ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻋﺰﯾﺰ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﺩﺍﻝ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ
(عزیز فیصل)

  • Author

نوشی گیلانی کی خوبصورت غزل ...
کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے
مرے بازو ، مری آنکھیں، مرا چہرہ لا دے
ایسا دریا جو کسی اور سمندر میں گرے
اس سے بہتر ہے کہ مجھ کو مرا صحرا لا دے
کچھ نہیں چاہئے تجھ سے اے مری عمرِ رواں
مرا بچپن، مرے جگنو، مری گڑیا لا دے
جس کی آنکھیں مجھے اندر سے بھی پڑھ سکتی ہوں
کوئی چہرہ تو مرے شہر میں ایسا لا دے
کشتئ جاں تو بھنور میں ہے کئی برسوں سے
اے خدا اب تو ڈبو دے یا کنارا لا دے

  • Author

"بیادِ فیض"
قلم بدست ہوں حیران ہوں کہ کیا لکھوں
میں تیری بات کے دنیا کا تذکرہ لکھوں
لکھوں کہ تُو نے محبت کی روشنی لکھی
ترے سخن کو ستاروں کا قافلہ لکھوں
جہاں یزید بہت ہوں، حسین اکیلا ہو
تو کیوں نہ اپنی زمیں کو بھی کربلا لکھوں
ترے بغیر ہے ہر نقش "نقشِ فریادی"
تو پھول "دستِ صبا" پر ہے آبلہ لکھوں
مثالِ "دستِ تہہِ سنگ" تھی وفا ان کی
سو کس طرح انہیں یارانِ با صفا لکھوں
حدیثِ کوچۂ قاتل ہے نامۂ زنداں
سو اس کو قصۂ تعزیرِ ناروا لکھوں
جگہ جگہ ہیں "صلیبیں مرے دریچے میں"
سو اسمِ عیسیٰ و منصور جا بجا لکھوں
گرفتہ دل ہے بہت "شامِ شہر یاراں" آج
کہاں ہے تُو کہ تجھے حالِ دلبرا لکھوں
کہاں گیا ہے "مرے دل مرے مسافر" تُو
کہ میں تجھے رہ و منزل کا ماجرا لکھوں
تو مجھ کو چھوڑ گیا لکھ کے "نسخہ ہائے وفا"
میں کس طرح تجھے اے دوست بے وفا لکھوں
"شہید جسم سلامت اٹھائے جاتے ہیں"
خدا نکردہ کہ میں تیرا مرثیہ لکھوں
احمد فراز

  • Author

ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﻓﺮﺍﻕ ﻣﯿﮟ 
ﻣﯿﮟ ﺍﺟﮍﮔﯿﺎ ﯾﺎ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ... 
ﮨﺎﮞ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺟﻮ ﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ،

  • Author

دوست بن کر لوگ زندگی میں آتے ہیں

خواب بن کر آنکھوں میں سما جاتے ہیں.

پہلے یقین دلاتے ہیں وہ اپنے ہیں.

پھر نہ جانے کیوں تنہا چھوڑ جاتے ہیں.

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.