Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

My Poetry Collection

Featured Replies

  • Author

میں تیرے ناز یوں اٹھاوں گا۔۔۔
جیسے۔۔ بچے قسم اٹھاتے ہیں۔۔

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 142
  • Views 17.7k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Story Maker
    Story Maker

    اب گناہ و ثواب بکتے ہیں مان لیجیے جناب بکتےہیں پہلے پہلے غریب بکتےتھے اب توعزت مآب بکتے ہیں بے ضمیروں کی راج نیتی میں جاہ و منصب،خطاب بکتےہیں شیخ،واعظ،وزیر اور شاعر سب یہاں پر جناب بکتے

  • Story Maker
    Story Maker

    Poet: جون ایلیا جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی سو گئی ہوگی وہ شفق اندام سبز قندیل جل رہی ہوگی سرخ اور سبز وادیوںک

  • Story Maker
    Story Maker

    اب کے سفر ھی اور تھا ، اور ھی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا ، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ ، شہر کے بام و دَر میں تھا نگلے ھوئے سوال تھے ، اُگلے ھوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی ,

  • Author

یہ کام عین عبادت ھے موسم گل میں 
ہمیں گلے سے لگاؤ بہار کے دن ہیں

  • Author

رنگین ساغروں کا تکلف چھوڑ دو


مخمور آنکھوں سے پلانے کی رات ہے

  • Author

اس کا رخ ماہتاب اس کے ہاتھ چوم لوں
جو بس چلے تو اس کی ہراک بات چوم لوں
چھو جاۓ اس کی زلف کو بارش کی کوئی بوند
وہ بوند کیا، وہ بارش کیا برسات چوم لوں
آ جاۓ خواب میں جو کبھی بھول کر مرے
وہ خواب کیا، وہ نیند کیا، وہ رات چوم لوں
کچھ بھی نہیں چاہیے بس خالی ہاتھ پہ میرے
رکھ دے وہ اپنا ہاتھ، میں وہ ہاتھ چوم لوں
وہ روتا ہوا لگ جاۓ میرے سینے سے کبھی
میں اس کے ہونٹ، اس کی ساری ذات چوم لوں

  • Author

Harf-E-Ranjsih Pe Koi Baat Bhi Ho Sakti Hai...
Ain Mumkin Hai Mulakat BHi Ho Sakti Hai...
Zindagi Phool Hai Khushboo Hai Magar Yaad Rahey...
Zindagi Gardash-E-Halaat Bhi Ho Sakti Hai...
Hum Ne Ye Soch J Rakha Tha Qadam Gulshan Main..
Lala-O-Gul Main Tari Zaat bhi Ho Sakti Hai...
Cha'al Chaltey Huwe Shatranj Ki Baazi k Asool...
Bhool Jao Gay To Phir Maat Bhi Ho Sakti Hai...
Aik To Chatt K Bina Ghar Hai Hamara ''Mohsin''..
Us Pe Ye Khaof K Barsaat Bhi Ho Sakti Hai....

📢 Post Your Ad Here
  • Author

ہجر کرتے یا کوئی وصل گوارا کرتے
ہم بہرحال بسر خواب تمھارا کرتے
ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم
خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارا کرتے
اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمھاری خاطر
اتنی دُور آگئے دُنیا سے کنارا کرتے
محوِ آرائشِ رُخ ہے وہ قیامت سرِ بام
آنکھ اگر آئینہ ہوتی تو نظاراکرتے
ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے
کس سے کرتے جو کوئی عشق دوباراکرتے
جب ہے یہ خانۂ دل آپ کی خلوت کے لئے
پھر کوئی آئے یہاں کیسے گوارا کرتے
کون رکھتا ہے اندھیرے میں دیا، آنکھ میں خواب
تیری جانب ہی ترے لوگ اشارا کرتے
ظرفِ آئینہ کہاں اور ترا حُسن کہاں
ہم ترے چہرے سے آئینہ سنوارا کرتے
1986ء
عبید اللہ علیم

  • 3 weeks later...
  • Author

Capt(R) Syed Ahmad Mobeen Zaidi shaheed, DIG 's Own Poetry ; He posted it on 23 january 2017. 


کافر ھُوں، سر پھرا ھُوں، مجھے مار دیجیے
میں سوچنے لگا ھُوں ، مجھے مار دیجیے


ھے احترام ِحضرت ِانسان میرا دین
بے دین ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے


میں پوچھنے لگا ھُوں سبب اپنے قتل کا
میں حد سے بڑھ گیا ہوں، مجھے مار دیجیے


کرتا ھُوں اہل جبہ ودستار سے سوال
گستاخ ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے


خوشبو سے میرا ربط ھے جگنو سے میرا کام
کتنا بھٹک گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے


معلوم ھے مجھے کہ بڑا جرم ھے یہ کام
میں خواب دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے


زاہد یہ زہد و تقویٰ و پرہیز کی روش
میں خوب جانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے


بے دین ھُوں مگر ھیں زمانے میں جتنے دین
میں سب کو مانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے


پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ھُو کا شور
میں آخری صدا ھُوں، مجھے مار دیجیے


میں ٹھیک سوچتا ھُوں، کوئی حد میرے لیے ؟
میں صاف دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے


یہ ظلم ھے کہ ظلم کو کہتا ھُوں صاف ظلم
کیا ظلم کر رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے


میں عشق و امن ھون، میں علم ھُوں، میں خواب
اک دردِ لادوا ھُوں ، مجھے مار دیجیے


زندہ رھا تو کرتا رھُوں گا ھمیشہ پیار
میں صاف کہہ رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے


جو زخم بانٹتے ھیں انہیں زیست پہ ھے حق
میں پھول بانٹتا ھُوں، مجھے مار دیجیے


ہے امن شریعت تو محبت مرا جہاد
باغی بہت بڑا ھُوں، مجھے مار دیجیے


بارود کا نہیں مرا مسلک درود ھے
میں خیر مانگتا ھُوں، مجھے مار دیجیے

  • Author

Hum Apnay Dard Ka Shikwa Tum Se Kaisay Karein,
Mohabbat To Hum Ne Ki Hai Tum To Be Qasoor Ho..!!

ہم اپنے درد کا شکوہ تم سے کیسے کریں

 

محبت تو ہم نے کی ہے تم تو بے قصور ہو۔۔۔۔

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.