January 29, 20179 yr Author اس کا رخ ماہتاب اس کے ہاتھ چوم لوں جو بس چلے تو اس کی ہراک بات چوم لوں چھو جاۓ اس کی زلف کو بارش کی کوئی بوند وہ بوند کیا، وہ بارش کیا برسات چوم لوں آ جاۓ خواب میں جو کبھی بھول کر مرے وہ خواب کیا، وہ نیند کیا، وہ رات چوم لوں کچھ بھی نہیں چاہیے بس خالی ہاتھ پہ میرے رکھ دے وہ اپنا ہاتھ، میں وہ ہاتھ چوم لوں وہ روتا ہوا لگ جاۓ میرے سینے سے کبھی میں اس کے ہونٹ، اس کی ساری ذات چوم لوں
January 29, 20179 yr Author Harf-E-Ranjsih Pe Koi Baat Bhi Ho Sakti Hai... Ain Mumkin Hai Mulakat BHi Ho Sakti Hai... Zindagi Phool Hai Khushboo Hai Magar Yaad Rahey... Zindagi Gardash-E-Halaat Bhi Ho Sakti Hai... Hum Ne Ye Soch J Rakha Tha Qadam Gulshan Main.. Lala-O-Gul Main Tari Zaat bhi Ho Sakti Hai... Cha'al Chaltey Huwe Shatranj Ki Baazi k Asool... Bhool Jao Gay To Phir Maat Bhi Ho Sakti Hai... Aik To Chatt K Bina Ghar Hai Hamara ''Mohsin''.. Us Pe Ye Khaof K Barsaat Bhi Ho Sakti Hai....
January 29, 20179 yr Author ہجر کرتے یا کوئی وصل گوارا کرتے ہم بہرحال بسر خواب تمھارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارا کرتے اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمھاری خاطر اتنی دُور آگئے دُنیا سے کنارا کرتے محوِ آرائشِ رُخ ہے وہ قیامت سرِ بام آنکھ اگر آئینہ ہوتی تو نظاراکرتے ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے کس سے کرتے جو کوئی عشق دوباراکرتے جب ہے یہ خانۂ دل آپ کی خلوت کے لئے پھر کوئی آئے یہاں کیسے گوارا کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے میں دیا، آنکھ میں خواب تیری جانب ہی ترے لوگ اشارا کرتے ظرفِ آئینہ کہاں اور ترا حُسن کہاں ہم ترے چہرے سے آئینہ سنوارا کرتے 1986ء عبید اللہ علیم
February 14, 20179 yr Author Capt(R) Syed Ahmad Mobeen Zaidi shaheed, DIG 's Own Poetry ; He posted it on 23 january 2017. کافر ھُوں، سر پھرا ھُوں، مجھے مار دیجیے میں سوچنے لگا ھُوں ، مجھے مار دیجیے ھے احترام ِحضرت ِانسان میرا دین بے دین ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے میں پوچھنے لگا ھُوں سبب اپنے قتل کا میں حد سے بڑھ گیا ہوں، مجھے مار دیجیے کرتا ھُوں اہل جبہ ودستار سے سوال گستاخ ھو گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے خوشبو سے میرا ربط ھے جگنو سے میرا کام کتنا بھٹک گیا ھُوں، مجھے مار دیجیے معلوم ھے مجھے کہ بڑا جرم ھے یہ کام میں خواب دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے زاہد یہ زہد و تقویٰ و پرہیز کی روش میں خوب جانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے بے دین ھُوں مگر ھیں زمانے میں جتنے دین میں سب کو مانتا ھُوں، مجھے مار دیجیے پھر اس کے بعد شہر میں ناچے گا ھُو کا شور میں آخری صدا ھُوں، مجھے مار دیجیے میں ٹھیک سوچتا ھُوں، کوئی حد میرے لیے ؟ میں صاف دیکھتا ھُوں، مجھے مار دیجیے یہ ظلم ھے کہ ظلم کو کہتا ھُوں صاف ظلم کیا ظلم کر رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے میں عشق و امن ھون، میں علم ھُوں، میں خواب اک دردِ لادوا ھُوں ، مجھے مار دیجیے زندہ رھا تو کرتا رھُوں گا ھمیشہ پیار میں صاف کہہ رھا ھُوں، مجھے مار دیجیے جو زخم بانٹتے ھیں انہیں زیست پہ ھے حق میں پھول بانٹتا ھُوں، مجھے مار دیجیے ہے امن شریعت تو محبت مرا جہاد باغی بہت بڑا ھُوں، مجھے مار دیجیے بارود کا نہیں مرا مسلک درود ھے میں خیر مانگتا ھُوں، مجھے مار دیجیے
February 16, 20179 yr Author Hum Apnay Dard Ka Shikwa Tum Se Kaisay Karein, Mohabbat To Hum Ne Ki Hai Tum To Be Qasoor Ho..!! ہم اپنے درد کا شکوہ تم سے کیسے کریں محبت تو ہم نے کی ہے تم تو بے قصور ہو۔۔۔۔
Create an account or sign in to comment