December 25, 20169 yr Author اس شوخ سے جو میں نے کہا، جانِ من سنو، حج کر کے آیا ہوں، مجھے حاجی کہا کرو، وہ بولی حج کا اب یہ تقاضا ہے حاجی جی، اب جانِ من نہیں مجھے باجی کہا کرو. (سید سلمان گیلانی)
December 25, 20169 yr Author مل ہی جائے گا کبھی، دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے اے مکاں بول، کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اِک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جُگ بیت گئے عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن عمر بھر کون جواں، کون حسیں رہتا ہے (احمد مشتاق)
December 25, 20169 yr Author جب تری جان ہو گئی ہو گی جان حیران ہو گئی ہوگی شب تھا مری نگہ کا بوجھ اس پر وہ تو ہلکان ہو گئی ہوگی اس کی خاطر ہوا میں خوار بہت وہ مری آن ہو گئی ہو گی ہو کے دشوار زندگی اپنی اتنی آسان ہو گئی ہوگی بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے وہ پریشان ہو گئی ہوگی اک حویلی تھی دل محلے میں اب وہ ویران ہو گئی ہوگی اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں اس کی دربان ہو گئی ہوگی کمسنی میں بہت شریر تھی وہ اب تو شیطان ہو گئی ہوگی (جون ایلیا)
December 25, 20169 yr Author ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لیے ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئنے ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لیے میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے ہر حُرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر ماؤں نے اپنی گود میں بچّے چھپا لیے (سبطِ علی صبا)
December 25, 20169 yr Author ﻣﺸﺎﻕ ﺩﺭﺩ ﻋﺸﻖ ﺟﮕﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ، ﺩﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮭﺎؤں ﮐﺪﮬﺮ ﮐﯽ ﭼﻮﭦ، ﺑﭽﺎؤں کدھر کی چوٹ ﺁﺗﺶ
December 25, 20169 yr Author غزل سننے والوں کی ہووے خلاصی اکاسی، بیاسی، تراسی، چوراسی پچاسی، چھاسی، ستاسی، اٹھاسی ریاضی پڑھانے کی کوشش نہ کرنا نہ بابا یہ میری سمجھ میں نہ آسی اگر شوق سے علم حاصل کرے گا خدا تجھ کو بندے کا پتر بناسی اب اک دوسرے کو نصیحت نہ کرئیے نہ تُو میرا ماما، نہ میں تیری ماسی زباں خامشی کی ہی کام آگئی ہے نہ سننا پڑا تھا نہ دسنا پیاسی وزارت میں اس کو فلو ہو گیا تو وہ سرکاری خرچے پہ امریکہ جاسی گرانی اگر یونہی بڑھتی رہے گی تو خود سوچ پھر قوم کھسماں تو کھاسی؟ اگر تو گیا کوچہء دلبراں میں تو دلبر کے "ویروں" سے پاسے پھنیاسی یہی سوچ کر میں بھی سونے لگی ہوں ۔"خراٹا" میرا قوم کو اب جگاسی چلو ناز مقطع ہی اب عرض کردو غزل سننے والوں کی ہووے خلاصی
December 25, 20169 yr Author اُٹھ شیرِ مجاہد ہوش میں آ تعمیرِ خلافت پیدا کر کیوں فرقے فرقے ہوتا ہے اب ایک جماعت پیدا کر کر تو بھی ترقی دنیاں میں اسبابِ تجارت پیدا کر قارون کی دولت ٹھکرا دے عثمان کی دولت پیدا کر اسلام کا دم بھرتا ہے کفر سے پھر کیوں ڈرتا ہے یا تو اسلام کا نام نہ لے یا شوقِ شہادت پیدا کر ?خلیل الرحمان
December 25, 20169 yr Author Watan naseeb Kahan apni qismatain hon gi Jahan bhi jain gai ham sath hijratain hon gi Kabhi ti sahaib e dewar o Dar banain gai hum Kabhi to sar pr hamaray nai chattain hon gi Abhi to qaid hai jazbon ki andhiyan dil main Hamara saber jo tota qayamataìn hon gi
December 25, 20169 yr Author ﻋﺠﺐ ﺍِﮎ ﺟﺸﻦ ﺳﺠﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﺮﯼ ﺳﻨﺴﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﮧ ﻣﺤﻮِ ﺭﻗﺺ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻣﯿﺮ ﺷﮩﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﻧﭩﯽ ﯾﺘﯿﻤﯽ ﮐﺲ ﻟﯿﮯ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﻟﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ ﺑﭽﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﻣِﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﺩﻻﺅﮞ ﮔﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﯿﺪ ﭘﺮ ﮐﭙﮍﮮ ﻟﮩﻮ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮﺍ ﻣﮕﺮ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﻣﻮﺕ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﮔﻮﺭ ﻻﺷﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺭﻣﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮐﮭﺘﺎ ﺁُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﻟﻮﮞ ﺳﮕﺎﻥ ِ ﺯﺭ ﻣﭽﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮭﯽ ﻃﻮﻓﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ ﯾُﻮﮞ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ، ﻣِﺮﮮ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺑﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻋﺎﺑﯽ ﻣﮑﮭﻨﻮﯼ
December 25, 20169 yr Author سڑک مسافت کی عجلتوں میں گھرے ہوئے سب مسافروں کو بغور فرصت سے دیکھتی ہے کسی کے چہرے پہ سرخ وحشت چمک رہی ہے کسی کے چہرے سے زرد حیرت چھلک رہی ہے کسی کی آنکھیں ہری بھری ہیں کبیر حد سے ابھر رہا ہے صغیر قد سے گزر رہا ہے کسی کا ٹائر کسی کے پہیے کو کھا رہا ہے کسی کا جوتا کسی کی چپل چبا رہا ہے کسی کے پیروں میں آرہا ہے کسی کا بچہ کسی کا بچہ کسی کے شانے پہ جارہا ہے کوئی ٹھکانے پہ کوئی کھانے پہ جارہا ہے حبیب دستِ رقیب تھامے غریب خانے پہ جارہا ہے امیر پنجرہ بنا رہا ہے غلام کرتب دکھا رہا ہے اوراپنے بیٹے کے ساتھ چھت پر امین کنڈا لگا رہا ہے نظام تانگا چلا رہا ہے کسی کلائی پہ جگمگاتی ہوئی گھڑی ہے مگر ابھی وہ رکی ہوئی ہے کسی کے چہرے پہ بارہ بجنے میں پانچ سیکنڈ رہ گئے ہیں کسی کی ہاتھی نما پراڈو سڑک سے ایسے گزر رہی ہے سوائے اس کے کہیں بھی جیسے کوئی نہیں ہو کسی کی مونچھیں جھکی ہوئی ہیں کسی کی بانچھیں کھلی ہوئی ہیں کسی کی ٹیکسی کسی کی فوکسی ملی ہوئی ہیں کسی کے لب اور کسی کی آنکھیں سلی ہوئی ہیں کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں کسی کی پگڑی چمک رہی ہے کسی کی رنگت کسی کی ٹوپی اڑی ہوئی ہے شریف نظریں اٹھا اٹھا کر کمان جسموں پہ اپنی وحشت کے تیر کب سے چلا رہا ہے نظیر نظریں چرا رہا ہے نفیس اپنے کلف کی شکنوں کو رو رہا ہے حکیم اپنے مطب کے شیشوں کو دھو رہا ہے کسی کی آنکھوں کے دھندلے شیشوں میں اس کے ماضی کی جھلکیاں ہیں کسی کی آنکھوں میں آنے والے حسین لمحوں کی مستیاں ہیں کسی کی آنکھوں میں رت جگوں کی کچھ ارغوانی سی ڈوریاں ہیں کسی کے کاندھے پہ اس کے خوابوں کی بوریاں ہیں کباڑخانے پہ باسی ٹکڑوں کی اور کتابوں کی بوریاں ہیں بزرگ برگد کے نیچے بوڑھا کھڑا ہوا ہے اور اس کے ہاتھوں میں ٹیپ لپٹی ہوئی چھڑی ہے پولیس کی گاڑی پکٹ لگا کر سڑک پہ ترچھی کھڑی ہوئی ہے اور ایک مزدورر اپنا دامن اٹھائے بے بس کھڑا ہوا ہے اور اک سپاہی کہ اس کے نیفے میں انگلیوں کو گھما رہا ہے وہیں پہ شاہد سیاہ چشمہ لگاکے خود کو چھپا رہا ہے نیوز چینل کی چھوٹی گاڑی بڑی خبر کی تلاش میں ہے دوسبزی والے بھی اپنی پھیری لگا رہے ہیں توپھول والے کے سرپہ پھولوں کی ٹوکری ہے کسی کی آنکھوں میں نوکری ہے کسی کی آنکھوں میں چھوکری ہے وقار سر کو جھکا رہا ہے فراز کھائی میں جارہا ہے تو گیلی سگریٹ کے کش لگا کر نواب رکشہ چلا رہا ہے سلیم کنی گھما رہا ہے وکیل وردی میں جارہا ہے ضمیر بغلیں بجا رہا ہے اورایک واعظ بتا رہا ہے خدا کو ناراض کرنے والے جہنمی ہیں خدا کو راضی کرو خدارا خدا کو راضی کرو خدارا اوراس کے آگے نصیر ، اکمل ، کمال ، شادا، غلام سارے نظر جھکائے کھڑے ہوئے ہیں کہ چشمِ بینا اگر کہیں ہے تو سمجھو پاتال تک گڑی ہے کسی کو اے سی خریدنا ہے کسی کو پی سی خریدنا ہے کسی کی بس اور کسی کی بی سی نکل رہی ہے عقیلہ خالہ کے دونوں ہاتھوں میں آٹھ تھیلے لٹک رہے ہیں اور آتے جاتے سبھی مسافر انہیں مسلسل کھٹک رہے ہیں ضیاءاندھیرے میں جارہا ہے گلاب کچرا جلا رہا ہے عظیم مکھی اڑا رہا ہے کلیم گٹکا چبا رہا ہے توگھنٹہ پیکج پہ جانے کب سے فہیم گپیں لڑا رہا ہے سبق مساوات کا سکھانے وزیر گاڑی میں جارہا ہے ثناءندا کو نئے لطیفے سنا رہی ہے حنا ہتھیلی کو تکتے تکتے پرانے رستے سے آرہی ہے اور اپنی بھاوج کا ہاتھ تھامے زبیدہ چیک اپ کو جارہی ہے وہ اپنی نظریں کبھی ادھر کو کبھی ادھر کو گھما رہی ہے مگر کوئی شے اسے مسلسل بلا رہی رہی ہے عجیب عجلت عجیب وحشت عجیب غفلت کا ماجرا ہے کہوں میں کس سے مرے خدایا یہ کیسی خلقت کا ماجراہے کہ اپنی مستی میں مست ہوکر یہ سب مسافر گزر رہے ہیں نئے مسافر ابھر رہے ہیں سڑک جہاں تھی وہیں کھڑی ہے مگر حقیقت بہت بڑی ہے سڑک پر بلّی مری پڑی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاعر۔۔۔ عمران شمشاد
Create an account or sign in to comment